53.8K
30

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tere Sitam (Episode 3)

Tere Sitam By Fatima

سپاٹ چہرہ لیے وہ ہاسپٹل سے نکلی تھی دل خدا سے ڈھیروں شکوے کر رہا تھا اتنی بڑی کمی ، اتنی بڑی آزمائش ، اتنی بڑی محرومی !!! وہ جیسے آسمان سے زمین پر پٹختی گئی تھی گاڑی میں بیٹھ کر اس نے کھڑکی سے باہر دیکھنا شروع کیا مگر اسے آج ہر چیز بری لگ رہی تھی وہ یہاں ایک امید لے کر آئی تھی مگر محرومی کی نوید لے کر جا رہی تھی اسے بہت سی آوازیں اپنے آس پاس سنائی دینا شروع ہوئی تھیں

” بس اب ایک دعا پوری ہونی رہ گئی ہے کہ میری بیٹی کی گود بھر جائے ۔۔ “

یہ اس کی ماں کی آواز تھی جو اسے اکثر و بیشتر یہ دعا دیا کرتی تھیں

” بس خدا جلد میرے بیٹے اور بہو کو اولاد عطا کرے ۔۔”

یہ حورین مام کی آواز تھی جو اس کو عرش کے ساتھ خوش دیکھ کر کہہ رہی تھیں

” سارہ پتہ نہیں چکر کیوں آ رہے ہیں دو دن سے مجھے ۔۔ “

یہ اس کی اپنی آواز تھی وہ چند دن پہلے سارہ سے فون پہ بات کرتے ہوئے اسے بتا رہی تھی

” ہائے کہیں گڈ نیوز تو نہیں ۔۔ “

جواباً ڈاکٹر سارہ کی کھلکھلاتی آواز سنائی دی تھی

” شاہ جی ۔۔ آپ کو بچے کیسے لگتے ہیں ۔۔ ؟”

عرش کے سینے پر سر رکھے ابھی کل ہی تو اس نے پوچھا تھا جواباً عرش شاہ کے چہرے پر زندگی سے بھرپور مسکراہٹ بکھری تھی اس پل ایک چمک مریم کو اپنی آنکھوں میں اترتی محسوس ہوئی تھی

” اپنے بچے تو جان سے عزیز ہوں گے مجھے ۔۔ “

مریم کے دونوں رخساروں پر باری باری لب رکھتے ہوئے اس نے جواب دیا تھا

” اور جانتی ہو مجھے بیٹیاں بہت پسند ہیں ۔۔ میں اپنی بیٹی کو پلکوں پہ بیٹھا کر رکھوں گا ۔۔ “

وہ مزید بولا تھا

اور یہ لمحے یاد کرتے ہوئے مریم زاروقطار رونے لگی اس کا دل کیا وہ کہیں دور جا چھپے ، جہاں اسے کوئی نہ جانتا ہو !! وہ عرش کا سامنا کیسے کرے گی ، عرش کو اتنی بڑی حقیقت کیسے بتائے گی ، اور عرش !! وہ اتنی بڑی بات جاننے کے بعد کیا ایسے ہی محبت کرے گا اس سے ؟؟

اسے اپنی زندگی بے کار لگ رہی تھی اس کا جی چاہا وہ پھوٹ پھوٹ کر روئے وہ جب بھی اداس ہوتی تھی عرش کے سینے سے لگ کر خوب روتی تھی مگر فی الوقت اسے وہ شفیق کاندھا میسر نہ تھا

گاڑی شاہ حویلی آ کر رکی تو اس نے اپنے آنسو پونچھے شکست زدہ قدموں سے چلتی وہ حویلی میں داخل ہوئی صد شکر کہ کوئی اس وقت لاؤنج میں موجود نہ تھا اپنے کمرے میں آ کر اس نے دروازہ لالڈ کیا اور رونے لگی

شاید اب یہ رونا اس کا ساری زندگی کا تھا عرش کے ساتھ گزارا ایک ایک پل اسے آج رلا رہا تھا جانے عرش شاہ یہ بات سن کر کیا ردعمل دے گا اس سے بھی زیادہ بڑا مسئلہ اسے یہ لگ رہا تھا کہ وہ عرش کو یہ بات کیسے بتائے گی

//////////////////////

” ارے حورین ۔۔ عرش کی بیوی مجھے ملنے نہیں آئی ۔۔ !”

ثناء شاہ نے ساتھ بیٹھیں حورین کو مخاطب کیا

ثناء شاہ ، زامن شاہ اور حورین شاہ کی پھوپھو تھیں جو عرصہ دراز سے بیرون ملک رہائش پذیر تھیں مگر چند ماہ پہلے اکلوتے بیٹے اور بہو کی موت کے بعد وہ اپنی پوتی منتہاء کو لے کر پاکستان شفٹ ہوئی تھیں زامن شاہ اور حورین نے انہیں اپنے ساتھ شاہ حویلی میں رہنے کا کہا مگر ثناء شاہ نے انکار کر دیا مگر وہ اکثر منتہاء کے ہمراہ شاہ حویلی میں پائی جاتیں

اس عرصے میں مریم ہمیشہ ان سے بہت خلوص سے ملتی تھی مگر آج وہ کئی مرتبہ حورین سے مریم کی غیر موجودگی کا پوچھ چکی تھیں

” دراصل پھوپھو شاید مریم کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے اسی لیے سو رہی ہے ۔۔ ورنہ آپ کو پتہ ہے وہ فوراً آتی ۔۔ “

حورین نے انہیں دیکھتے ہوئے بتایا

” طبیعت کو کیا ہوا ہے ۔۔ ؟ تم نے جا کر دیکھا اسے ۔۔ ؟”

انہوں نے کچھ پر سوچ انداز میں کہا

” نہیں پھوپھو ۔۔ میں جا کر خود دیکھتی ہوں اسے ۔۔ !”

حورین کہتے ہوئے اٹھی

” چلو میں بھی تمہارے ساتھ چلتی ہوں ۔۔ !”

وہ بھی اٹھ کھڑی ہوئی تھیں

عرش اور مریم کے کمرے کے باہر رک کر حورین نے دروازہ کھٹکھٹایا مگر بے سود

” مریم بیٹا ۔۔ دروازہ کھولو ۔۔ “

حورین کو اب پریشانی نے آن گھیرا تھا چند بار دستک کے بعد دروازہ کھل گیا

سامنے کھڑی مریم کو دیکھ کر وہ دونوں ٹھٹھکی تھیں سفید لمبی فراک پر چوڑی دار پاجامہ پہنے سر پر دوپٹہ اوڑھے وہ بکھرے بال چھپائے ہوئے تھی سوجی سرخ آنکھیں اور چہرہ جھکا ہوا تھا مریم کو دیکھ کر حورین کا دل دہلا تھا

” مریم ۔۔ کیا ہوا ہے میرا بچہ ۔۔ ؟”

حورین نے آگے بڑھ کر مریم کو سینے سے لگایا تھا اور یہیں مریم کی ہمت جواب دے گئی وہ سسک سسک کر رونے لگی کہ پھوپھو اور حورین بوکھلا گئیں

” بیٹا ہوا کیا ہے بتاؤ تو سہی ۔۔ !”

بہت دیر بعد بھی جب وہ خاموش نہ ہوئی تو حورین نے اس کے سر پر بوسہ دیتے ہوئے پوچھا

” مم مام ۔۔”

مریم نے ذرا سا سر بلند کر کے حورین کو دیکھا

” جی میری جان ۔۔ !”

مریم کے تڑپ کر پکارنے پر حورین بھی تڑپی تھی

” مم مام ۔۔ مم میں ۔۔ کک کبھی ۔۔ مم ماں ۔۔۔”

ابھی الفاظ پورے ادا نہیں ہوئے تھے کہ مریم کا سر چکرایا تھا اور وہ بیڈ پر گری تھی

حورین نے پریشانی کے عالم میں پھوپھو کو دیکھا جو خود بھی پریشان نظر آ رہی تھیں

/////////////////////////

” کیا ہوا بیٹا ۔۔؟ سب ٹھیک ہے ۔۔ ؟ مریم ٹھیک تو ہے ۔۔ “

جیسے ہی حورین نے مریم کا بی پی چیک کر لیا سب اس کی جانب متوجہ ہوئے اور پھوپھو نے استفسار کیا

تقریباً تمام گھر والے جمع ہو چکے تھے رامین بھی وہیں موجود تھی اور سب ہی مریم کے لیے فکر مند تھے

” بی پی لو ہوا ہے پھوپھو مریم کا ۔۔ اس لیے چکر آ رہے ہیں اسے ۔۔ “

حورین نے رامین کو دیکھتے ہوئے بتایا جبکہ مریم بے حس و حرکت سر جھکائے بیٹھی تھی بلکل ساکن

” اوو مجھے لگا خدا تین سال بعد مہربان ہو رہا ہے ہم پہ ۔۔ میں تو خوش خبری کے انتظار میں تھی ۔۔ “

پھوپھو کے چہرے پر افسردگی واضح تھی جبکہ ان کی بات سن کر سب اداس ہو گئے اور مریم کی آنکھ سے ایک آنسو نکل کر کپڑوں میں جذب ہوا

” اللہ خوش خبری بھی دے گا پھوپھو ۔۔ ابھی مریم اور عرش کی عمر ہی کیا ہے ۔۔ شادی جلدی کرنے کا مطلب یہ تو نہیں کہ ہم ان دونوں سے امیدیں رکھ لیں ۔۔ “

حورین نے مریم کی آنکھوں میں آنسو دیکھے تو فوراً پھوپھو کو دیکھتی بولی

” بیٹا تین سال پہلے شادی ہوئی ہے ۔۔ اور زیادہ دیر کرنے سے حقیقتاً دیر ہی ہو جاتی ہے پھر مسائل پیدا ہوتے ہیں ۔۔ تم ڈاکٹر ہو مجھ سے زیادہ بہتر سب جانتی ہو ۔۔ “

پھوپھو نے ٹھہرے ہوئے انداز میں کہا تو مریم ایک بار پھر سسکی تو وہ تینوں مریم کی جانب متوجہ ہوئیں

” ارے بیٹا ۔۔ تم رونے کیوں لگی ہو ۔۔ دل چھوٹا مت کرو ۔۔ میں تو ویسے ہی سمجھا رہی تھی ۔۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ ۔۔ یہ سارے اختیار تو خدا کے ہیں ۔۔ وہ جب مرضی ہے تمہیں نوازے گا ۔۔ “

پھوپھو مریم کی جانب بڑھی اور اس کے سر پر بوسہ دیتی ہوئی بولی تو مریم کے رونے میں روانی آئی

” مریم بیٹا ۔۔ “

مریم کو سسک کر روتا دیکھ کر رامین اس کی جانب بڑھی اور چپ کروانے لگی

پھوپھو کچھ سوچ کر کمرے سے نکل گئیں جبکہ رامین نے مریم کا چہرہ دونوں ہاتھوں میں تھاما

” آج کیوں میری بچی اتنی پریشان ہے ۔۔ ؟مجھے بتاؤ مریم ۔۔ !”

رامین نے مامتا کے سے انداز میں پوچھا

” مم ماما ۔۔ !”

” بتاؤ بھی مریم بیٹا ۔۔ جب تک کچھ بتاؤ گی نہیں ہمیں کیسے پتہ چلے گا ۔۔ “

حورین نے بھی اس کے ساتھ بیٹھتے ہوئے کہا

” بولو بیٹا ۔۔ “

رامین کو کئی وسوسوں نے آن گھیرا تھا

” عرش نے کچھ کہا ہے بیٹا ۔۔ “

انہوں نے سرسری پوچھ لیا ورنہ وہ جانتی تھی ان کا بیٹا کبھی بھی مریم کو رلا نہیں سکتا ان کی بات پر مریم نے اور شدت سے روتے ہوئے نفی میں سر ہلایا

” مریم کیوں رو رہی ہو میرا بچہ ۔۔ مجھے نہیں بتاؤ گی کیا ۔۔ ؟ کیا تم مجھے ماں نہیں سمجھتی ؟ بے شک میں نے تمہیں جنم نہیں دیا ۔۔ مگر پالا تو ہے ۔۔ اور تم تو مجھے شاید امل سے بھی زیادہ پیاری ہو ۔۔ تمہاری تکلیف کیسے مجھے تکلیف نہیں دے گی ۔۔ پلیز بتاؤ بیٹا کیا ہوا ہے ۔۔ ؟”

رامین نے مسلسل مریم کو پھوٹ پھوٹ کر روتے ہوئے دیکھا تو خود بھی روتے ہوئے پوچھا تو مریم تڑپ گئی جبکہ حورین نے رامین کے کاندھے پر ہاتھ رکھا اور اداسی سے بولی

” رامین ایسی باتیں کیوں کر رہی ہو ۔۔ وہ پہلے ہی اتنا رو رہی ہے ۔۔ “

” آپی ۔۔ مجھے پریشانی ہو رہی ہے ۔۔ ! مریم بتاؤ بیٹا ۔۔ کیوں رو رہی ہو ۔۔ “

پہلے حورین کو جواب دے کر وہ دوبارہ مریم سے مخاطب ہوئیں

” مم ماما ۔۔ مم میں ۔۔ کک کبھی ۔۔ مم ماں ۔۔ نن نہیں ۔۔ بب بن ۔۔ سس سکتی ۔۔ “

ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں وہ بمشکل بات مکمل کر پائی تھی جب کہ رامین اپنی جگہ ساکت رہ گئی اور مریم کے چہرے پر رکھے ہاتھوں کی گرفت ڈھیلی پڑی تھی جبکہ حورین بھی اپنی جگہ ساکت رہ گئی

” مم ماما ۔۔ ایسا کیوں ہوا میرے ساتھ ۔۔ ؟”

مریم نے رامین کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں تھامتے ہوئے کہا تو رامین کا سکتا ٹوٹا

” مم مریم یہ تم کیا کہہ رہی ہو بیٹا ۔۔ ؟ ہوش میں تو ہو ۔۔ ایسی فضول بات کیوں بولی تم نے ۔۔ آئیندہ یہ بات مت بولنا ۔۔ ایسے مزاق نہیں کرتے پاگل لڑکی ۔۔ “

رامین نے اسے ڈانٹنے والے انداز میں کہا تو مریم نے نفی میں سر ہلایا

” رامین صحیح کہہ رہی ہے بیٹا ۔۔ ایسے مزاق نہیں کرتے بیٹا ۔۔ “

حورین نے بھی نفی میں سر ہلاتے ہوئے کہا

” حورین ماما میں سچ کہہ رہی ہوں ۔۔ “

اور پھر اس نے سارہ سے ہوئی اپنی ملاقات سے لے کر اپنی رپورٹس کا رامین اور حورین کو بتا دیا وہ ایسی ہی حساس ، نازک تھی کہ کچھ بھی چھپا نہ سکی جبکہ حورین اور رامین کئی پل سانس لینا بھول گئی تھیں کمرے میں مریم کی دبی دبی سسکیاں گونج رہی تھیں اور رامین اور حورین بے بسی سے مریم کو دیکھ رہی تھیں اس وقت ان دونوں کو ہی سمجھ نہ آیا کہ مریم کو کیسے تسلی دیں یا کن الفاظ میں اس کی ہمت بندھائیں خود ان دونوں کے لیے بھی تو یہ حقیقت کسی بھیانک خواب کی طرح تھی مگر کمرے سے باہر کھڑے وجود کے چہرے پر یہ بات جان کر زہریلی مسکراہٹ امڑی تھی سکون جیسے اس کی رگ رگ میں سرائیت کر گیا تھا

/////////////////////////

وہ اپنے ہاتھ سے بہتے خون کو دیکھ رہا تھا گولی اس کے ہاتھ کو چھو کر گزری تھی ابھی کچھ دیر پہلے اس پر شدید حملہ ہوا تھا مگر اس نے مخالفین کو زبردست شکست دی تھی وہ نا صرف خود کو اندھا دھن ہوتی فائرنگ سے بچا کر لایا تھا بلکہ اپنے ساتھی انسپکٹرز کے ساتھ مل کر حملہ آوروںکا مقابلہ کیا اور انہیں شکست دی تھی یہ سنسنی خیز خبر ہر نیوز چینل کی زینت بنی ہوئی تھی ہر جگہ ایس پی عرش شاہ کی بہادری کی دھوم مچی ہوئی تھی

اپنے دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ کی ڈریسنگ کرنے کے بعد اب وہ اپنے کمرے میں کرسی کی پشت پر سر ٹکائے آنکھیں میچے بیٹھا تھا جب قدموں کی چاپ سنائی دی مگر عرش شاہ نے آنکھیں وا نہ کیں

” سر ۔۔ !”

انسپکٹر شمس نے سنجیدگی سے ایس پی عرش شاہ کو مخاطب کیا

” ہمممم ؟”

آنکھیں میچے ہنکار بھرا گیا

” سر ایک بار ہاسپٹل چلتے آپ ۔۔ یا پھر دوائی لے کر گھر جا کر آرام کر ۔۔ “

ابھی انسپکٹر شمس کی بات مکمل بھی نہ ہوئی تھی کہ عرش شاہ نے آنکھیں کھولیں

” انسپکٹر مدثر کی اب کنڈیشن کیا ہے ۔۔ ؟”

یک سو مختلف سوال پوچھا گیا

” سر ۔۔ انسپکٹر مدثر انڈر ابزرویشن ہیں ۔۔ لیکن ڈاکٹرز کا کہنا ہے وہ خطرے سے باہر ہیں ۔۔ “

انسپکٹر شمس کی بات پر وہ اٹھ کھڑا ہوا اور کمرے سے باہر نکلا جہاں اسے دیکھتے سب الرٹ ہو کر کھڑے ہو گئے

” گڈ ۔۔ آج ہوئے واقعے کے بعد مجھے اپنی ٹیم پر مزید فخر ہے ۔۔ حملہ پبلک پلیس پر ہوا لیکن جس بہادری سے آج مقابلہ کیا گیا اور شہریوں کو محفوظ رکھا گیا ۔۔ آئی ایپری شییٹ آل آف یو ۔۔ “

عرش شاہ کے سنجیدہ انداز مگر فخر سے کہنے سے سب کو خوشی ہوئی

” سر آپ ٹھیک کہتے ہیں اگر ہم اپنی ڈیوٹی کو ایمانداری سے سرانجام دیں تو کوئی بھی پولیس کو برا نہیں کہے گا ۔۔ “

ان میں سے ایک انسپکٹر بولا تھا

” بلکل ۔۔ “

عرش شاہ یک لفظی جواب دے کر باہر نکل گیا اور اپنی سرکاری گاڑی کی جانب بڑھا ایک سپاہی نے اس کے لیے دروازہ کھولا

اپنے گھر پہنچ کر اسے مام کی یاد آئی تھی اس ساری صورتحال میں اس کا موبائل ٹوٹ گیا اس نے اپنے ایک بندے سے دوسرا موبائل منگوایا

” مام کال کیوں نہیں پک کر رہیں ۔۔ “

حورین کو مسلسل کال کرنے پر جب اس نے کال نہ پک کی تو عرش نے مریم کو فون کیا مگر وہ بھی کال نہیں پک کر رہی تھی اتنے میں زامن شاہ کی کال آنے پر عرش نے یس کر کے فون کان سے لگایا

” السلام علیکم ڈیڈ ۔۔!”

ہاتھ میں اٹھتے درد کو پس پشت ڈال کر اس نے خود کو خاصا ہشاش بشاش ظاہر کیا

” وعلیکم السلام ۔۔ کیسا ہے میرا شیر ۔۔ ؟”

زامن شاہ کی آواز میں اپنے بیٹے کے لیے فخر ہی فخر تھا یقیناً انہیں آج ہوئے واقعے کی خبر مل چکی تھی

” الحمداللہ ڈیڈ ۔۔ بلکل ٹھیک ۔۔ “

عرش نے شائستگی سے جواب دیا

” گڈ ۔۔ میرے شیر ۔ “

” ڈیڈ ۔۔ مام اور مریم کہاں ہیں ؟ ۔۔ میری کال نہیں پک کر رہیں ۔۔ !”

عرش نے یاد آنے پر پوچھا

” بیٹا یو ڈونٹ وری ۔۔ کسی کام میں مصروف ہوں گی ۔۔ میں گھر پہنچ کر کہتا ہوں ان دونوں کو کہ تم سے بات کر لیں ۔۔ “

زامن نے مسکراتے ہوئے کہا

” تھینکس ڈیڈ ۔۔ “

” اوکے میرے شیر ۔۔ ٹیک کئیر ۔۔ “

” جی ڈیڈ ۔۔ خدا حافظ ۔۔ “

کال کاٹ کر عرش شاہ نے جیب سے سگریٹ اور لائیٹر نکالا اور سلگا کر لبوں کو لگا لیا سگریٹ کے کش لیتے ہوئے اسے جانے کیوں مریم کی شدت سے یاد آ رہی تھی

” آئی مس یو مریم ۔۔ “

تصور میں وہ مریم سے مخاطب ہوا تھا مریم کی معصوم باتیں ، چھوٹی چھوٹی شرارتیں ، فرمانبرداری کو یاد کر کے عرش کے چہرے پر دلکش مسکراہٹ بکھری تھی اس کا دل کیا وہ اڑ کر مریم کے پاس پہنچ جائے

///////////////////////////

” خیر تو ہے آج ۔۔ کس کی شامت لانا چاہتی ہو جو اتنا مسکرا رہی ہو ۔۔ “

وہ تینوں کالج گراؤنڈ میں بیٹھی تھیں جب امل کو پر سوچ انداز میں مسکراتے دیکھ کر فضہ نے پوچھا تو عزا بھی متوجہ ہوئی

” پتہ ہے فضہ ۔۔ ماما کہتی ہیں ۔۔ صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے ۔۔ لیکن کبھی بھی مجھے ان کی یہ بات پسند نہیں آئی تھی ۔۔ لیکن آج میں بھی کہتی ہوں ۔۔ واقعی صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے ۔۔ “

امل نے ہنوز پراسرار انداز میں مسکراتے ہوئے جواب دیا

” آخر تمہیں کون سا صبر کا پھل مل گیا ۔۔ بائی وا وے ۔۔ تم بر بھی کرتی ہو ۔۔ ؟ سٹرینج ۔۔ “

فضہ نے کچھ حیران کن تاثرات چہرے پر سجائے مختصر تبصرہ کیا تو عزا نے قہقہہ لگایا جبکہ امل نے جواباً ان دونوں کو گھورا

” اچھا بتاؤ کیا کہہ رہی تھی تم ۔۔ ؟”

فضہ نے امل کا موڑ بگرتے دیکھ کر فوراً پوچھا

” اچھا سوری ۔۔ بتاو بھی یار مریم ۔۔ “

امل کو ہنوز خاموش دیکھ کر فضہ نے دوبارہ پوچھا

” مریم کبھی ماں نہیں بن سکتی ۔۔ !”

سپاٹ انداز میں امل گویا ہوئی تو عزا اور فضہ اس کی بات سن کر کئی پل اسے دیکھتی رہیں

” کیا بول رہی ہو امل ۔۔ ؟”

عزا نے نہایت سنجیدگی سے پوچھا

” کل وہ ماما اور حورین خالہ کو بتا رہی تھی ۔۔ !”

اور پھر ل نے انہیں کل والا واقعہ بتایا جب وہ چھوٹی نانو سے ملنے شاہ حویلی گئی تھی اور مریم کے کمرے کے باہر کھڑی ہو کر اس نے سب باتیں سنی تھیں

” اوو خدا ۔۔ بہت دکھ ہو رہا ہے یار ۔۔ کتنی اچھی ہے نا مریم ۔۔ اتنی ہی بڑی آزمائش خدا نے لی ہے اس سے ۔۔ “

فضہ کا دل بے حد اداس ہوا وہ نم آنکھوں کو صاف کرتی بولی جبکہ عزا بھی اداس نظر آ رہی تھی ان دونوں کے بر عکس امل پرسکون تھی

” عرش شاہ یہی ڈیزرو کرتا ہے ۔۔ مریم کی محرومی مطلب عرش شاہ کی محرومی ۔۔ ! “

امل نہایت سفاک انداز میں گویا ہوئی تو اس کی سفاکیت دیکھ کر عزا اور فضہ کو شدید دھچکا لگا

” امل ۔۔ مریم تمہاری بہن ہے ۔۔ وہ اتنی اذیت میں ہے اور تمہیں یہ بے کار باتیں سوجھ رہی ہیں ۔۔ “

فضہ نے امل کو ڈانٹتے ہوئے کہا

” مریم کے لیے برا لگ رہا ہے مجھے ۔۔ عرش شاہ اور اس کے باپ کے گناہ کی لپیٹ میں مریم بھی آ گئی ہے ۔۔ “

اس بار وہ فضہ کو صفائی دے رہی تھی عزا نے افسوس سے امل کو دیکھا

” بے شک مریم تمہاری سگی بہن نہیں ہے ۔۔ پر انسان تو ہے نا ۔۔ تم دونوں کا بچپن ساتھ گزرا ہے ۔۔ ساتھ رہتے ہوئے آپس میں انسیت ہو جاتی ہے ۔۔ تمہیں ذرا بھی شرم نہیں آ رہی وہ اس وقت اذیت میں ہے اور تم عرش شاہ اور ان کے باپ کے نا کردہ گناہ لے کر بیٹھ گئی ہو ۔۔ “

فضہ نے اسے اچھا خاصا سنا دیا

” اسی لیے میں مریم کی عرش شاہ کے ساتھ شادی کے خلاف تھی ۔۔ مگر ماما اور بابا نے کر دی ۔۔ “

وہ افسوس کرتی بولی تو ان دونوں نے نفی میں سر ہلایا امل نے مزید بولنا شروع کیا

” اب میں مریم کو عرش شاہ سے دور کر دوں گی ۔۔ “

” تمہارا دماغ تو ٹھیک ہے ۔۔ یہ کیا بول رہی ہو ۔۔ “

امل کے پختہ انداز میں کہنے پر فضہ باقاعدہ چیخ پڑی

” میرا دماغ بلکل ٹھیک ہے ۔۔ میں مریم کو عرش شاہ سے بہت دور کر دوں گی ۔۔ لیکن اس سے پہلے مجھے چھوٹی نانو کو یہ بات بتانی ہے ۔۔ “

امل بہت سوچ کر بول رہی تھی

” کون سی بات ۔۔ ؟”

” یہی کہ مریم ان کے پوتے کو اولاد نہیں دے سکتی ۔۔ “

مسکرا کر کہتے آخر میں اس نے قہقہہ لگایا جبکہ فضہ اور عزا امل کی سفاکیت اور نفرت کو دیکھتی رہ گئیں جبکہ امل اب یہ سوچ رہی تھی کہ اسے کیسے جا کر ثناء شاہ کو یہ بات بتانی ہے

//////////////////////////