53.8K
30

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tere Sitam (Episode 29)

Tere Sitam By Fatima

آج کتنے مہینوں بعد وہ اس کے سامنے تھا وہ مسلسل اپنے وجود پر روحان کی چبھتی نگاہیں محسوس کر رہی تھی خود اس کی اپنی نگاہیں اپنی گود میں رکھے اپنے ہاتھوں پر تھیں

جبکہ روحان نے سر سے لے کر پاؤں تک اسے گہری نگاہوں سے دیکھا سیاہ چادر خود پر لپیٹے وہ نگاہیں جھکائے بیٹھی تھی چہرے پر زمانوں کی تھکن تھی آنکھوں میں ویرانی تھی چہرے کا سرد پن بھی اس کی معصومیت کو کم نہیں کر پا رہا تھا بلکہ آج عروہ اسے پہلے سے کئی زیادہ سنجیدہ لگی تھی

کئی لمحے وہ دونوں ساتھ گزارے اذیت بھرے چند ماہ کو یاد کرتے کھو سے گئے تھے

روحان نے ذرا آگے کی جانب جھکتے ہوئے ٹیبل پر دونوں بازو جمائے

” لگتا ہے میری بیوی نے میری قربت کو بہت یاد کیا ہے ۔۔ !”

وہ اس کی اجڑی بکھری حالت پر چوٹ کرتا گویا ہوا جبکہ عروہ کے چہرے پر اذیت کے کئی تاثر ابھرے وہ تکلیف دہ لمحے اس کی آنکھوں میں سرخی کا باعث بنے

” لیکن مجھے تم کیوں یاد کرو گی ۔۔ “

وہ دوبارہ بولتے ہوئے طنزیہ مسکرایا

” جب سے میری زندگی میں آئی ہو ۔۔ اپنے عاشق کا ہجر کاٹ رہی ہو ۔۔ “

وہ بولا تو لہجہ اتنا گہرا تھا کہ عروہ نے تڑپ کر اس کے چہرے کی جانب دیکھا اس کے الفاظ نے اس کے زخم پھر سے ہرے کر دیے تھے

” چھوڑوں گا تو نہیں میں تمہیں ۔۔ چاہے تمہارا بھائی کچھ بھی کر لے ۔۔ آزاد نہیں کروں گا میں تمہیں ۔۔ “

وہ اس کی آنکھوں میں اترتی سرخی سے محظوظ ہوتا پھر مسکرایا

” بائی دا وے ۔۔ کسی خوش فہمی میں مت رہنا ۔۔ کہ یہاں تمہیں میں نے شرمندہ ہو کر معافی مانگنے کے لیے بلایا ہے ۔۔ بلکہ تم جیسی لڑکی کو تو میں زندہ دفنا دوں ۔۔ مگر اتنی آسان سزا نہیں ہونی چاہیے تمہاری ۔۔ “

وہ اپنے الفاظ سے اس کی روح کو گھائل کر رہا تھا جیسے وہ ہمیشہ کرتا تھا عروہ نے اپنے آنسوؤں کو جانے کس طرح اس کے سامنے بہنے سے روکا تھا

” کاش عروہ تم ایسی لڑکی نہ ہوتی ۔۔ تو شاید میں بھی دل سے تمہیں معاف کر دیتا ۔۔ “

وہ عروہ کے سپاٹ چہرے کو دیکھتا نحوت سے بولا

” بہرحال یہ تو اب ساری زندگی کاش ہی رہے گا ۔۔ کیونکہ تمہارے جیسے لڑکی کے لیے میرے دل میں اب کبھی گنجائش نہیں بنے گی ۔۔ تمہاری وجہ سے میں نے اپنے بچے کو مار دیا ۔۔ کیونکہ تمہارے جیسی لڑکی سے اولاد نہیں چاہتا میں ۔۔ جب تمہارا بھائی دوسری شادی کر سکتا ہے تو میں کیوں نہیں ۔۔ لیکن تمہیں کسی صورت میں طلاق نہیں دوں گا ۔۔ “

وہ دبے دبے غصے میں بولا تھا عروہ تلخی سے مسکرائی

” یہاں میں نے تمہیں اس لیے بلایا ہے کہ اپنے بھائی سے کہو نکالے مجھے یہاں سے ۔۔ “

وہ اس کی خاموشی پر بیزار ہوتا اصل مدعے کی سمت آیا

” مسٹر روحان شاہ صاحب ۔۔ میں نے آپ جیسا گھٹیا مرد اپنی زندگی میں نہیں دیکھا ۔۔ میرے کردار کی پاکیزگی خدا جانتا ہے ۔۔ اور دوسری بات میں نے اپنے کردار کی پاکیزگی کی بہت صفائیاں دیں ہیں آپ کو ۔۔ اب اور نہیں ۔۔ اور رہی بات آپ کے ساتھ رہنے کی تو اتنا ارزاں سمجھا ہوا ہے مجھے ۔۔ کہ جو شخص میری عزت نہیں کرتا میرے کردار پر شک کرتا ہے ۔۔ اس کے ساتھ مزید رہوں ۔۔ کبھی نہیں ۔۔ ہمارا ساتھ اب رہنا ممکن نہیں ۔۔ “

” مزید آپ سے ہمکلام ہونا اپنی ذات کی توہین سمجھتی ہوں میں ۔۔ “

وہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے بے خوف ہو کر بول رہی تھی جب روحان نے اس کی بات کاٹنی چاہی تو وہ ہاتھ سے روکتی کرسی سے اٹھی

” یہ کیا بکواس کر رہی ہو ۔۔ عروہ تم ایسا کچھ نہیں کروگی ۔۔ “

وہ بلند آواز میں بولا

” میں نے کہا نہ ۔۔ روحان شاہ تمہارے جیسے گھٹیا آدمی کے ساتھ مزید بات نہیں کرنا چاہتی میں ۔۔ “

وہ کہتی ہوئی مڑی

” تم ایسا نہیں کر سکتی ۔۔ تم عرش سے کہو کہ مجھے نکالے یہاں سے ۔۔ عروہ میں تمہیں کبھی نہیں چھوڑوں گا ۔۔ اچھا میں تمہیں معاف کر دوں گا ۔۔”

اس کی دھاڑتی آواز سن کر کمرے سے باہر کھڑا عرش شاہ اور تین چار سپاہی اندر کی جانب لپکے

” تم کون ہوتے ہو مجھے معاف کرنے والے ۔۔ تمہاری معافی چاہیے ہی کسے ؟؟ تم اس قابل ہی نہیں ہو روحان شاہ کہ تمہارے ساتھ رہا جائے ۔۔ “

وہ روحان کو دیکھتی حقارت سے بولی کہ عرش شاہ نے سنجیدگی سے دونوں کو دیکھا

” تم مجھے نہیں چھوڑو گی ۔۔ عرش شاہ بولو اپنی بہن کو ۔۔ یہ ایسا نہیں کر سکتی ۔۔ عروہ میں شوہر ہوں تمہارا ۔۔ “

وہ باہر نکلتی عروہ کی پشت کو دیکھتا چیخا اور اس کی جانب لپکا جب سپاہیوں نے اسے قابو کیا

” عروہ نے بلکل ٹھیک فیصلہ کیا ہے ۔۔ تم اس کے قابل ہی نہیں ہو ۔۔ اور رہی بات یہاں سے نکلنے کی تو بیوی پر شدید تشدد اور اپنے بچے کو مارنے کی سزا تم اسی جیل میں کاٹو گے ۔۔ جلد ہی خلع کے پیپرز مل جائیں گے تمہیں ۔۔ “

عرش شاہ روحان کے اڑے ہوئے رنگ کو دیکھتا بولا اور عروہ کے پیچھے باہر نکل گیا جبکہ روحان کی چنگھاڑتی آوازیں اسے باہر تک سنائی دے رہی تھیں

” میری گڑیا میں تمہارے ساتھ ہوں ۔۔ تم نے بلکل ٹھیک فیصلہ کیا ۔۔ “

گاڑی میں بیٹھ کر اس نے عروہ کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا تو عروہ کا ضبط ٹوٹ گیا اور وہ عرش شاہ کے سینے سے لگ کر سسک پڑی

” بس بیٹا اب نہیں رونا ۔۔ وہ گھٹیا آدمی تمہارے آنسوؤں کے بھی قابل نہیں ہے ۔۔ “

عرش نے اس کے سر کو تھپتھپاتے ہوئے کہا

” بھائی کاش ۔۔ انہیں ذرا سا بھی احساس ہوتا ۔۔ کاش وہ شک نہ کرتے مجھ پہ ۔۔ سچی بھائی ۔۔ میں بدکردار نہیں ہوں ۔۔”

وہ عرش کے سینے میں سر دیے سسک سسک کر بول رہی تھی

” مجھے اپنی بہن پر پورا یقین ہے ۔۔ تمہیں صفائی دینے کی ضرورت نہیں بچے۔۔ “

عرش نے پر یقین انداز میں کہا تو عروہ کے رونے میں مزید شدت آئی

/////////////////////

عروہ کے ڈیوارس کی وجہ سے گھر کا ماحول بہت سوگوار تھا ہر کوئی ایک دوسرے سے نظریں چرائے پھر رہا تھا پھوپھو علی اور رامین کے گھر رہنے گئی ہوئی تھیں حورین اور ضامن نے اس کے فیصلے پر اعتراض نہیں کیا تھا مگر اس سب میں مریم کو مزید تکلیف ہوئی تھی اسے اس قدر شدید فیصلے پر دکھ پہنچا تھا کہ اس کے بھائی نے اپنی غلطیوں کی وجہ سے اتنی اچھی لڑکی کھو دی تھی اسے اس بات کا ملال تھا

” اشعل تم یہاں ۔۔ ؟”

امل اپنے کمرے سے نکل کر کچن میں جا رہی تھی جب اشعل اسے اندر آتا دیکھائی دیا

” ہاں ۔۔ کیسی ہو تم ۔۔ ؟؟”

” میں ٹھیک ہوں تم کیسے ہو ۔۔اور یہ کیا حالت بنائی ہوئی ہے تم نے ۔۔ “

وہ اس کے بکھرا بکھرا حلیہ دیکھ کر فکر مندی سے پوچھنے لگی

” نہیں بس ہاسٹل سے سیدھا یہی آیا ہوں اس لیے ۔۔ “

اشعل نے تلاشتی نگاہوں سے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے کہا تو امل نے دلچسپی سے اسے دیکھا

” عروہ کو ڈھونڈ رہے ہو ۔۔ ؟”

امل کے اچانک سوال پر اشعل نے سٹپٹا کر اسے دیکھا

” ہہ ہاں ۔۔ نن نہیں نہیں ۔۔ “

اس کی زبان لڑکھرائی تو امل کو یقین ہو گیا

” وہ عدت میں ہے ۔۔ “

امل نے اسے آگاہ کیا

” ہممم ۔۔ ماما بتا رہی تھیں ۔۔ اس کی طبیعت خراب ہے ۔۔ “

اشعل نے آنکھوں میں بے چینی لیے پوچھا

” ہاں ظاہر ہے اتنے بڑے ٹراما سے گزر رہی ہے وہ ۔۔ بہت صدمے میں ہے ۔۔ اس کی حالت دیکھی نہیں جاتی ۔۔ ایک کے بعد ایک قیامت گزری ہے اس پہ ۔۔”

امل کے لہجے میں دکھ تھا اشعل تو سن کے مزید تڑپ گیا

” امل تم اس کا خیال رکھا کرو ۔۔ اسے سمجھاؤ۔۔ زندگی میں آگے بڑھے ۔۔ اپنے آپ کو ضائع مت کرے ۔۔ وہ بہت قیمتی ہے “

وہ بے خودی میں بولا تھا

” تمہارے لیے ۔۔ ؟”

” ہاں ۔۔ میرا مطلب ہے ہم سب کے لیے ۔۔ “

اپنی بے خودی پر قابو پاتا وہ بات بدل گیا جبکہ امل کے لب مسکرائے

” پیار کرتے ہو نا عروہ سے ۔۔ “

اشعل کے چہرے پر عروہ کے لیے فکر دیکھتی ہوئی وہ پوچھنے لگی تو اشعل نے چونک کر اسے دیکھا

” انکار مت کرنا کیونکہ ۔۔ تمہارے چہرے پر صاف لکھا ہے ۔۔ “

اشعل کے کچھ کہنے سے پہلے وہ مزید بولی تو اشعل نے سر جھکا لیا جیسے اقرار کر رہا ہو

” اتنا سب اس کے ساتھ ہونے کے باوجود بھی پیار کرتے ہو ۔۔ ؟”

امل نے اسے کھوجتی نگاہوں سے تکتے ہوئے سوال داغا

” ہاں ۔۔ “

اشعل نے یک لفظی جواب دیا مگر اس کے چہرے پر سچائی مقیم تھی

” اپنانا چاہتے ہو اسے ۔۔ ؟”

دوسرے سوال پر جیسے اشعل کا دل زور سے دھڑکا اس کا دل چاہا وہ چیخ چیخ کر اپنی محبت کا اظہار کرے مگر بات عروہ کی عزت کی تھی وہ پہلے بھی با اصول طریقے سے ماں باپ کے ذریعے رشتہ قائم کرنا چاہتا تھا اور اب بھی اس کی یہی خواہش تھی

” بچپن سے محبت کرتا ہوں اس سے ۔۔ “

وہ دھیرے سے بولا تھا

” کیا ہو رہا ہے یہاں ۔۔ “

دونوں نے چونک کر عرش شاہ کر دیکھا جو پولیس یونیفارم میں ملبوس شاید ابھی ہی حویلی پہنچا تھا اور اس کے چہرے کے تاثرات سے لگ رہا تھا کہ وہ ان کی ساری گفتگو سن چکا ہے

” تم دونوں بہن بھائی کی زبان سے اب میں عروہ کا نام بھی نہ سنوں ۔۔ “

ایک نظر اشعل اور امل کو دیکھتے عرش نے درشتی سے کہا

” عرش بھائی وہ ۔۔ میں ع ۔۔ “

” اشعل میری بہن کا نام مت لینا ۔۔چلے جاؤ یہاں سے ۔۔ “

عرش شاہ نے ہاتھ کے اشارے سے اسے مزید بولنے سے روکا اور سختی سے کہا

” آپ ایک بار اس کی بات تو سن لیں ۔۔ “

امل نے عرش کے سرد پن کو محسوس کرتے ہوئے کہا

” جسٹ شٹ اپ ۔۔ تم جاؤ اپنے کمرے میں ۔۔ “

عرش نے اسے درشتگی سے کہا اور ایک نظر اشعل کو دیکھا جو التجائی نگاہوں سے اسے ہی دیکھ رہا تھا

” کسی سے محبت کرنا جرم نہیں ہے عرش شاہ ۔۔ “

امل نے سنجیدگی سے کہا

” ہاں مگر ۔۔ عروہ اس وقت عدت میں ہے ۔۔ اس طرح کی باتیں کرنا مناسب نہیں ۔۔ تم جاؤ اشعل یہاں سے ۔۔ “

امل کی بات پر عرش نے ایک سنجیدہ نظر اس پر ڈالی اور گویا ہوا جبکہ اشعل اس کی بات سمجھتا سر ہلاتا حویلی سے نکل گیا وہ کسی بھی قسم کا کوئی تماشہ نہیں کرنا چاہتا تھا جس کا اثر عروہ پر پڑے

جبکہ امل نے غصے میں عرش کو دیکھا اور اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئی اور عرش شاہ سر جھٹکتا آگے بڑھ گیا

وہ کمرے میں داخل ہوا تو امل کمرے میں چکر کاٹ رہی تھی دروازہ بند کرتے ہوئے اس نے اسے نظر انداز کیا

” آپ ایک بار اشعل کی بات تو سن لیتے ۔۔ “

وہ دبے دبے غصے میں بولی تھی

” دیکھو امل ہر بات میں مجھ سے مت الجھا کرو ۔۔ جب تمہیں ایک بار سمجھا دیا ہے تو سمجھ کیوں نہیں جاتی ۔۔ “

اس نے اپنا لہجہ اس مرتبہ دھیما رکھا تھا

” الجھ نہیں رہی ۔۔ بات کر رہی ہوں ۔۔ کیا میرا اس گھر کے معاملے میں بولنے کا حق نہیں ہے ۔۔ شاہ جی بیوی ہوں میں آپ کی ۔۔ کچھ ویلیو مجھے بھی دے دیں ۔۔ “

وہ بے بسی سے بولی تھی

” بات کو کہاں سے کہاں لے کر جا رہی ہو ۔۔ ؟”

اس کے ماتھے پر شکن ابھرے تھے

” اصل بات تو یہی ہے نا ۔۔ میری کوئی اوقات نہیں آپ کی نظر میں ۔۔ “

بولتے ہوئے امل کی آنکھوں میں نمی اتری تھی

” امل مجھے بحث کرنے والی لڑکی زہر لگتی ہے ۔۔ “

عرش نے اسے باور کرایا

” نہیں عرش شاہ ۔۔ بلکہ آپ کو میں زہر لگتی ہوں ۔۔ “

وہ تڑخ کر بولی تو عرش شاہ کے ماتھے پر بلوں میں اضافہ ہوا

” جو تمہیں سمجھنا ہے سمجھو ۔۔ مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔۔ “

” ہاں میں جیوں یا مروں آپ کو کیا فرق پڑے گا ۔۔ ایسا کریں ایک بار ہی گلا گھونٹ کر جان لے لیں ۔۔ پہلے آپ کی تلخ باتیں برداشت کرتی تھی اب رویہ روکھا سوکھا رکھا ہوا ہے ۔۔ اس طرح نہ کریں پلیز ۔۔”

وہ بولتے ہوئے سسک پڑی تو عرش تھوڑا نرم پڑا

” اچھا رونا بند کرو ۔۔ “

اس مرتبہ اس کے لہجے میں نرمی تھی

” کیوں آپ کو میرے رونے سے کیا فرق پڑتا ۔۔ “

وہ روتے ہوئے غصے میں بولی

” پلیز امل مجھے زچ مت کرو ۔۔ کہہ رہا ہوں نا کہہ رونا بند کرو ۔۔ “

وہ بیزار ہوتا درشتگی سے بولا

” میرے آنسو آپ کے رویے کی وجہ سے ہیں ۔۔ آپ اپنا رویہ ٹھیک کر لیں ۔۔ میرا رونا بند ہو جائے گا ۔۔ “

وہ ہاتھ کی پشت سے آنسو سختی سے پونچھتی بولی ہاتھوں کی سختی سے اس نے اپنے گال لال کر لیے جبکہ عرش شاہ اس کا جنونی پن دیکھتا مضطرب ہوا

” اب کیا کہا ہے میں نے تمہیں ۔۔ کیا نقص ہیں میرے رویے میں ۔۔ ؟”

لہجے میں نرمی مگر جھنجھلاہٹ تھی

” میرے ساتھ کبھی پیار سے بات کرنا تو دور ۔۔ آپ نے پیار کی نظر سے بھی نہیں دیکھا ۔۔ “

وہ اس کا ہاتھ تھامتی شکوہ کناں تھی جبکہ عرش نے سنجیدہ نگاہوں سے اسے دیکھا

” اپنی حد میں رہو ۔۔ “

اس کا ہاتھ جھٹکتے ہوئے عرش شاہ دبے دبے غصے میں بولا تھا

” میاں بیوی میں کوئی حد نہیں ہوتی شاہ صاحب ۔۔ “

وہ اس کی آنکھوں میں سرخی دیکھتی جتاتے ہوئے بولی

” تم نہ قابل ہی نہیں ہو میری نرمی کے ۔۔ “

عرش غصے میں کہتا ہوا پلٹا اور کمرے سے نکل گیا جبکہ امل نے دکھ سے زور سے بند ہوتے دروازے کو دیکھا تھا

” یا اللہ میں ایسا کیا کروں کہ سب ٹھیک ہو جائے ۔۔ “

عرش کے جانے کے بعد وہ سر کو ہاتھوں میں گرائے بیٹھ گئی اور سسک کر بے بسی سے بڑبڑائی

//////////////////

” مریم پلیز چائے بنا دیں ۔۔ “

کمرے میں داخل ہو کر مریم کے سلام کا جواب دے کر اس نے کہا اور صوفے پر براجمان ہو گیا وہ امل کے کمرے سے نکل کر سیدھا مریم کے پاس آیا تھا

” کیا بات ہے ۔۔ کچھ پریشان ہیں ۔۔ ؟”

مریم اس کے چہرے کو دیکھتی پوچھنے لگی

” نہیں ۔۔ بس آپ چائے بنا دیں ۔۔”

اب وہ قدرے مسکرا کر بولا تھا جبکہ مریم اثبات میں سر ہلاتی کمرے سے نکل گئی

” آج تو انہیں امل کے روم میں جانا تھا ۔۔ پھر یہاں ۔۔ “

وہ سوچتی ہوئی زینے اترنے لگی

جبکہ عرش شاہ کو امل کی باتیں بے چین کر رہی تھی

” کیا کروں ۔۔ کیسے قبول کر لوں اسے ۔۔ “

وہ بند ہوتے دروازے کو دیکھتا بولا

” پہلے ہی مریم کے ساتھ بہت زیادتی کر چکا ہوں ۔۔ اب امل کو قبول کروں گا تو مریم کو دکھ ہوگا ۔۔

مگر امل کے حقوق بھی فرق ہیں مجھ پر ۔۔ “

وہ امل کی باتوں پر غور کرتا اپنے آپ سے گویا ہوا

” ہر طرف سے مشکل ہے ۔۔ کون سا راستہ چنوں ۔۔ امل کو چھوڑ بھی نہیں سکتا اب ۔۔ “

” برابری کرنا بہت مشکل ہے ۔۔

یا اللہ میرے دل میں امل کے لیے کچھ گنجائش پیدا کر دے ۔۔ ورنہ بہت مشکل ہے اس کے ساتھ زندگی گزارنا ۔۔ “

” یا اللہ مجھے دونوں میں برابری کرنے کی ہمت دے ۔۔ میں دونوں کو ہی دکھ نہیں دینا چاہتا ۔۔ “

//////////////////////

” شاہ جی ۔۔ !”

مریم کی پکار پر سوچ میں گم عرش شاہ نے چونک کر اسے دیکھا

” جی ۔۔ “

” یہ چائے ۔۔ “

مریم نے چائے کا کپ اسے تھمایا

” شکریہ بیگم ۔۔ “

وہ اب ہلکا سا مسکرا کر بولا تھا مریم کو دیکھ کر اس کی پریشانیاں ویسے ہی زائل ہو جاتی تھیں

” آج آپ یہاں ۔۔ میرا مطلب ہے آج آپ کو امل کے روم میں جانا تھا ۔۔ “

وہ نگاہیں دوسری طرف کرتی الجھ کر بولی تو عرش شاہ کو اس کی معصومیت پر جی بھر کر پیار آیا

” بھئی موڑ بدل بھی تو سکتا ہے ۔۔ اب آپ مام اور ڈیڈ کی طرح برابری پر لیکچر مت دینے لگ جائیے گا مریم ۔۔ “

وہ چائے کے کپ کو لبوں سے لگاتا بولا

” لیکن اصول تو اصول ہے ۔۔ “

وہ دھیمی آواز میں سنجیدگی سے گویا ہوئی

” آپ کی اچھائی اور فراغ دلی کا دن بہ دن اسیر ہوتا جا رہا ہوں میں ۔۔ آپ اتنی پیاری ۔۔ اتنی اچھی کیسے ہیں مریم ۔۔ ؟”

وہ اس کے ہاتھوں کو لبوں سے لگاتا تشکرانہ انداز میں گویا ہوا

” نہیں اتنی بھی اچھی نہیں ہوں ۔۔ مجھے بہت دکھ ہوتا ہے آپ کو بانٹنے سے ۔۔ لیکن پتہ نہیں کیسے صبر آ جاتا ہے ۔۔ “

وہ لہجے میں دکھ لیے بولی

” مریم آپ نا میری زندگی میں فرشتہ بن کے آئی ہیں ۔۔ آپ کو دیکھ کر میری ساری الجھنیں ختم ہو جاتی ہیں ہر مشکل آسان ہو جاتی ہے اور چہرے کی پریشانی ، اطمینان میں بدل جاتی ہے ۔۔ “

وہ سرشاری سے گویا ہوا تو اس کی باتوں پر مریم کے لب مسکرائے

” آپ نے مجھے معاف کر دیا نا ۔۔ ؟”

وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتا یک دم پوچھ بیٹھا

” کیسی باتیں کر رہے ہیں آپ ۔۔ پلیز بھول جائیں ان باتوں کو جو اذیت دیں ۔۔ “

وہ دھیرے سے بولی تو عرش شاہ نے اسے تشکرانہ نگاہوں سے دیکھا

” میری خوش بختی ہیں آپ مریم ۔۔ میں نے بہت نوٹ کیا ہے آپ کی دعائیں بہت قبول ہوتی ہیں ۔۔ آپ کو پتہ ہے ایک ہفتے سے میں جس کیس کے لیے پریشان تھا اور صبح آپ کو اس کے لیے دعا کے لیے کہا اور دیکھیں وہ خطرناک مجرم پکڑے گئے ۔۔ “

وہ اسے پر یقین انداز میں بتا رہا تھا

” پتہ نہیں آپ کو ہی ایسا لگتا ہے ۔۔ ورنہ جتنی دعائیں میں اولاد کے لیے مانگتی ہوں ابھی تک قبول نہیں ہوئیں ۔۔ “

اس کے انداز میں درد تھا

” ایسے ناامید نہیں ہوتے میری جان ۔۔ خدا کے ہر کام میں مصلحت ہوتی ہے ۔۔ “

وہ اس کے اداس چہرے کو دیکھتا گویا ہوا

” اچھا اب جلدی سے پاس آئیں ۔۔ اور میری تھکاوٹ اتاریں ۔۔ “

کہتے ہوئے اس نے اسے اپنی جانب کھینچا

” لیکن شاہ جی ۔۔ “

وہ اس کے سینے سے ٹکڑا کر اس کی گود میں گرتی منمنائی تھی مگر عرش شاہ مدھوش ہونے لگا تھا

///////////////////////