Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tere Ishq Sy Meri Zaat Tak (Last Episode)

Tere Ishq Sy Meri Zaat Tak by Ayesha Mughal

“ذیان صبر کرو بےشک اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔۔۔۔”عائشے نے آگے بڑھ کر بمشکل اسے زویا سے الگ کیا تھا۔۔۔وہ کہاں راضی تھا اس کو چھوڑنے کے لئے۔۔۔

“کیسے صبر کروں بھابھی۔۔۔؟؟ آج اتنے سالوں بعد وہ مجھے ملی بھی تو پھر سے بچھڑنے کے لئے۔۔۔کیسے رہوں گا میں اس کے بغیر۔۔۔۔؟؟”ذیان نے بچوں کی طرح روتے ہوئے پوچھا۔۔۔اتنے میں ھیشم اور زریاب خان آئی سی یو کا دروازہ کھولتے آگے پیچھے اندر داخل ہوئے تھے۔۔۔۔

“کیا کیا تو نے میری بیٹی کے ساتھ کمینے۔۔۔؟میں تجھے زندہ نہیں چھوڑوں گا۔۔۔۔”زریاب خان نے ذیان کو گریبان سے پکڑ کے کھڑا کر کے غصے سے چلاتے ہوئے کہا۔۔۔۔ذیان تواس اچانک افتاد پر گڑبڑا کر رہ گیا۔۔۔چونکہ وہ اس وقت اس حملے کے لئے تیار نہیں تھا۔۔۔

“چھوڑو اسے زریاب خان ۔۔۔مجھے مجبور مت کرو کہ میں بھول جاؤں کہ تم زویا کے باپ اور عائشے کے چچا ہو۔۔۔۔”ھیشم خان نے زریاب خان کے ہاتھوں کی گرفت سے ذیان کا گریبان چھڑواتے دھاڑتے ہوئےکہا۔۔۔زریاب خان نے اپنے بازو پر رکھے ھیشم خان کے ہاتھ کو بری طرح جھٹکا تھا۔۔۔اس کی اس حرکت پر ھیشم خان کا خون کھول اٹھا تھا۔۔۔اس کا دل کر رہا تھا کہ زریاب خان کے ٹکڑے ٹکڑے کر دے۔۔۔

“میرا اس لڑکی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔۔۔۔”زریاب خان نے نفرت سے عائشے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔

“ایکسیوز می۔۔۔۔یہ آپ لوگوں نے اتنا شور کیوں مچا رکھا ہے۔۔۔؟؟ہوسپٹل میں اس طرح شورشرابہ کرنا بلکل الاؤ نہیں ہے۔۔۔۔آپ باڈی کو گھر لے جاسکتے ہیں۔۔۔۔پلیز کام ڈاؤن۔۔۔”آئی سی یو سے زورزور سے بولنے کی آوازیں سن کر ڈاکٹر بھاگتا ہوا آیا تھا۔۔۔اور اب انہیں ہاسپٹل کے رولز سے آگاہ کر رہا تھا اور ہاسپٹل میں اس طرح چیخنے چلانے سے منع کر رہا تھا۔۔۔

“باڈی ۔۔۔کیا ہوا میری بیٹی کو۔۔؟؟”زریاب خان چونک کر کہا۔۔وہ تو غصے میں یہ تک نہیں دیکھ پایا تھا کہ پاس پڑا زویا کا وجود بلکل بےجان ہے ۔۔۔

“زویا کی ڈیتھ ہو چکی ہے چچا جان۔۔۔”عائشے نے بھیگے لہجے میں کہا۔۔۔ذیان کیا کہتا اسے تو خبر بھی نہیں تھی کہ آس پاس کیا ہو رہا ہے وہ تو بس ٹکٹکی باندھے سامنے بیڈ پر بےسدھ پڑے زویا کے وجود کو دیکھ رہا تھا۔۔۔۔

“ایسا نہیں ہو سکتا۔۔۔۔تم سب قاتل ہو تم سب نے مل کر مارا ہے میری بیٹی کو۔۔۔تم سب کو کتے کی موت ماروں گا۔۔۔۔”زریاب خان غصے سے دھاڑا تھا۔۔اور بے ساختہ زویا کے بیڈ پر پڑے بے سدھ وجود کی جانب بڑھا تھا۔۔۔۔اور اب بےیقین نظروں سے اس کی جانب دیکھ رہا تھا۔۔۔۔

“زریاب خان ہم جانتے ہیں کہ زویا کی موت تمہارے لیے بہت بڑا دھچکا ہے۔۔۔لیکن تمہارا یہ رویہ بہت غلط ہے۔۔۔”ھیشم اب ضبط کی آخری حد پر تھا اس نے بمشکل خود کو نارمل کرتے ہوئے دھیمے لہجے میں کہا۔۔۔اور زریاب خان کو پیچھے کرتا زویا کی باڈی کو ایمبولینس میں رکھوایا تھا۔۔اور ذیان اور عائشے کو ساتھ لئے گاڑی حویلی کی جانب موڑ دی۔۔۔ھیشم خان کو اس طرح اپنی مرضی کرتا دیکھ کر زریاب خان کا خون کھول رہا تھا۔۔اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ ھیشم خان کی ہڈیاں توڑ دے۔۔۔۔لیکن موقع کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے اس نے چپ رہنا مناسب سمجھا تھا اور ویسے بھی اس کے مقابلے میں ھیشم خان ذیادہ طاقتور تھا۔۔۔۔۔اس لئے خاموشی سے اپنی گاڑی میں بیٹھتا خان حویلی کی جانب بڑھ گیا۔۔۔۔اور حازم٬ رباب٬رحاب اور دانیال بھی بچوں سمیت اپنی اپنی گاڑی میں ان کے تعاقب میں چل پڑے۔۔۔

🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹

کل تک جس حویلی میں شادیانے بج رہے تھے آج وہاں زویا کی میت سامنے رکھے سب رو رہے تھے۔۔۔وہاں موجود ہر انسان کی آنکھ اشکبار تھی۔۔۔رحاب نازک دل کی مالک اس کا تو رو رو کر برا حال تھا۔۔۔۔عادل کو بھی فون کر کے یہ خبر سنادی گئی تھی۔۔۔وہ اور حورم شادی ختم ہوتے ہی بزنس کے سلسلے میں یورپ چلے گئے تھے۔۔۔اور اب یہ خبر سن کر پہلی فلائٹ پکڑ کر پاکستان پہنچے تھے۔۔۔نسرین بیگم تو بلکل ٹوٹ چکی تھیں۔۔۔زریاب خان کا ڈرائیور انہیں خان حویلی لے آیا تھا۔۔۔زویا کے سامنے پڑے بےجان وجود کو دیکھ کر ان کا دل خون کے آنسو رو رہا تھا۔۔۔ان کا دل کررہا تھا کہ جھنجھوڑ کر اسے اٹھا دیں۔۔۔جو بھی تھا وہ اس وقت ایک بیٹی کی ماں تھیں اور جوان بیٹی کی موت کا دکھ کیا ہوتا ہے وہ اچھے سے جان چکی تھیں۔۔۔

“تم سب کھا گئے میری معصوم بچی کو۔۔۔کیا بگاڑا تھا اس نے تم سب کا۔۔۔۔؟؟”نسرین بیگم زور زور سے رو رہی تھیں۔۔۔۔نوحہ کر رہی تھیں۔۔۔انہیں یوں دیکھ کر عائشے کا دل پھٹا جارہا تھا۔۔۔وہ جلدی سے ان کی جانب بڑھی تھی۔۔۔

“چاچی اس طرح مت روئیں ایسے زویا کو تکلیف ہو رہی ہے ۔۔ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی کی میت پر اس طرح نوحہ اور بین کرنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے۔۔۔۔اس طرح آپ کو بھی گناہ مل رہا ہے۔۔۔اور زویا کو بھی عذاب ہو رہا۔۔پلیز صبر کریں۔۔۔صبر کرنے والوں کے لئے اللہ نے بہت اجر رکھا ہے۔۔۔۔”عائشے نے انکے شانوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے نرمی سے کہا۔۔۔نسرین بیگم نے زور سے اسے دھکا دے کر خود سے دور کیا تھا۔۔۔اور کھا جانے والی نظروں سے عائشے کو دیکھا تھا۔۔۔

“پیچھے ہٹ جا منحوس۔۔۔۔تمہاری وجہ سے میری بیٹی ہمیں چھوڑ کر گئی ہے۔۔۔تمہارا منحوس سایہ میری بچی پر پڑا اس وجہ سے میری بیٹی کی زندگی تباہ ہو گئی۔۔۔۔دفعہ ہو جاؤ یہاں سے۔۔۔۔”نسرین بیگم نے چلاتے ہوئے کہا۔۔۔۔آس پاس بیٹھی عورتیں حیران و پریشان سی سب کچھ دیکھ رہی تھیں۔۔۔۔تمام مرد مردان خانے میں تھے۔۔۔

“یہ آپ کیا کر رہی ہیں۔۔۔میلی مما کو آپ نے گرایا کیوں۔۔۔؟؟آپ گندی آنٹی ہیں۔۔۔چلی جائیں یہاں سے۔۔۔۔”حوزان جو چپ بیٹھا سب دیکھ رہا تھا نسرین بیگم کے عائشے کو دھکا دینے پر غصے سے آگے بڑھا تھا۔۔۔۔

“او بچے ماروں گی تجھے ۔۔۔۔۔تمیز نہیں سکھائی تجھے کسی نے۔۔۔”نسرین بیگم نے حوزان کا بازو دبوچتے ہوئے کہا۔۔۔۔

“چھوڑیں اش کا ہاتھ۔۔۔۔۔”لیزہ نےنسرین بیگم کے ہاتھ پر زور سے کاٹا تھا۔۔۔۔

“دیکھو دیکھو۔۔۔کتنی جاہل عورت ہے سامنے بیٹی کی میت پڑی ہے۔۔اور کیسے بچوں سے لڑ رہی ہے ۔۔۔ذرا شرم نہیں آرہی اسے۔۔۔۔”وہاں موجود عورتوں میں سے کسی ایک نے تیز آواز سے کہا۔۔۔نسرین بیگم نے نخوت سے اس کی طرف دیکھا تھا اور پھر ایک طائرانہ نگاہ سب پر ڈال کر پھر سے نوحہ کرنے لگیں۔۔۔عائشے نے انہیں پھر سے روکنا چاہا لیکن رحاب نے اسے روک لیا۔۔۔۔

اچانک ہر طرف میت کو لے جانے کی آواز گونجی تھی۔۔۔ہر طرف شور ہی شور تھا۔۔۔اور پھر حازم ،ذیان، ھیشم اور عادل خان ہال میں داخل ہوئے تھے۔۔۔زویا کو ان کے آنے سے پہلے ہی نہلا کے کفن پہنا دیا گیا۔۔۔ذیان کی آنکھیں رو رو کر سوج چکی تھیں۔۔۔اب وہ رو نہیں رہا تھا۔۔۔اور اسکے پیچھے بھی زویا کے وہ الفاظ تھے۔۔۔”کہ ذیان تمہارے رونے سے مجھے تکلیف ہوگی۔۔”اور وہ ایسا کیسے کر سکتا تھا۔۔۔۔؟؟ابھی انہوں نے زویا کی میت کو اٹھایا ہی تھا۔۔۔جب ننھی لیزہ زور سے چلائی تھی۔۔۔

“پاپا۔۔آپ مما تو تہاں لے کر جارہے ہیں۔۔؟؟مما شو رہی ہیں۔۔۔نیچے رکھیں مما کو۔۔۔۔۔”ذیان نے بھیگی آنکھوں سے اس کی طرف دیکھا تھا۔۔۔کتنی معصوم تھی وہ۔۔کون اسے بتاتا کہ اس کی ماں ہمیشہ کے لئے سو چکی ہے۔۔۔لیکن اب کیا ہوسکتا تھا۔۔۔؟؟سب نے ترحم بھری نظروں سے اسکی طرف دیکھا تھا۔۔۔۔اور پھر وہ چاروں زویا کی میت کو اٹھاتے وہاں سے نکل گئے۔۔۔نسرین بیگم تو دروازے تک اس کے پیچھے گئیں تھیں عورتوں نے بمشکل انہیں روکا تھا۔۔۔۔رحاب اور عائشے ایک دوسرے کے گلے لگی سسک رہیں تھیں۔۔۔۔رباب بچوں کو سنبھالنے میں مصروف تھی۔۔۔۔لیزہ مما مما کہتی رہ گئی لیکن زویا نے نہ رکنا تھا نہ وہ رکی۔۔۔۔

“مت رو لیزہ۔۔۔میری جان مما اللہ کے پاس گئیں ہیں وہاں بہت پیارا گھر رکھا ہے اللہ نے انکے لئے۔۔۔۔انہیں روکو نہیں۔۔۔اگرآپ روؤ گی تو مما بھی روئیں گی۔۔۔”رباب نے اسے اس کے ننھے دماغ کے مطابق سمجھایا۔۔۔لیزہ نے جلدی سے اپنے آنسو پونچھے تھے۔۔۔

“اوکے چاچی اب میں نہیں روؤں گی۔۔۔۔”لیزہ نے معصومیت سے کہا۔۔۔۔پاس کھڑی حورم نے ترس کھاتی نگاہوں سے اسے دیکھا تھا۔۔۔۔شام ڈھلنے لگی تھی۔۔۔آہستہ آہستہ سب لوگ اپنے اپنے گھروں کو چلے گئے۔۔۔سب لوگ جا چکے تھے۔۔۔جب گھر کے تمام مرد واپس لوٹے تھے ۔۔۔اور آتے ہی ذیان اپنے کمرے میں چلا گیا۔۔۔عائشے جلدی سے اس کے پیچھے بھاگی تھی ۔۔۔وہ جانتی تھی کہ اس وقت اسے جذباتی سہارے کی ضرورت ہے۔۔۔۔کمرے کا دروازہ لاک تھا۔۔۔عائشے نے دھیمے سے دروازے پر دستک دی تھی۔۔۔تیسری دستک پر ذیان نے دروازہ کھولا تھا۔۔۔۔اور سامنے کھڑی عائشے کو دیکھ کر زبردستی مسکرایا تھا۔۔

“بھابھی آپ ۔۔آئیے نا۔۔”ذیان نے دروازہ کھول کر سائیڈ پر ہوتے ہوئے اسے اندر آنے کی جگہ دی تھی۔۔۔۔

“جھوٹی ہنسی مت ہنسو ذیان۔۔۔شاید تم بھول رہے ہو کہ آج ہی زویا کو دفنایا گیا ہگ۔۔اور ایسے وقت پر کوئی بیوقوف ہی ہنس سکتا ہے۔۔”عائشے نے اس کے زبردستی مسکرانے پر چوٹ کی تھی۔۔۔اور اس کے پھیلے لب فورا سمٹے تھے۔۔۔اس نے چونک کر عائشے کی جانب دیکھا تھا۔۔۔عائشے بغور اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔ذیان کی آنکھوں سے آنسوں لڑھک کر گال پر پھسلے تھے۔۔۔

“رو لو ذیان ایک دفعہ۔۔۔اپنے اندر اتنا غبار مت بھرو۔۔۔۔”عائشے نے فکرمندی سے کہا۔۔۔

“نہیں بھابھی میں رو کر اسے تکلیف نہیں دے سکتا۔۔۔۔وہ دنیا کے لئے ضرور مری ہے لیکن ذیان اسماعیل خان کے دل میں اس کی زویا ہمیشہ زندہ رہے گی۔۔۔۔ذیان اسماعیل خان اس سے عشق کرتا ہے ۔۔اور وہ کبھی نہیں چاہے گا کہ اس کی زویا کو تکلیف ہو۔۔۔رویا تو ان کے لئے جاتا ہے جو بچھڑ جائیں جو ہمیشہ کے لئے ہم میں بس جائیں ان کے لئے کہاں رویا جاتا ہے بھابھی۔۔۔۔؟؟”ذیان نے کھوئے کھوئے انداز میں کہا۔۔۔

“کھانا کھالو ذیان۔۔۔۔”عائشے نے اس کی طرف جانچتی نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔

“بھابھی جانتی ہیں سب سے مشکل اور تکلیف دہ وقت کونسا ہوتا ہے ۔۔۔؟؟جب ہم اپنی جان سے پیارے اپنوں کے چہروں پر مٹی ڈالتے ہیں۔۔۔انہیں ہمیشہ کے لئے اس مٹی کے سپرد کرتے ہیں۔۔۔دل پھٹنے لگتا ہے بھابھی۔۔۔آج میرا زویا کے چہرے پر مٹی ڈالنے کا بلکل دل نہیں تھا۔۔۔۔لیکن میں نے صبر کیا۔۔۔۔میں نہیں رویا بھابھی۔۔۔میں نہیں رویا۔۔۔میں زویا کو اذیت کیسے دے سکتا تھا۔۔۔؟میں نہیں رویا بھابھی۔۔۔”اب کمرے میں ذیان کی ہچکیوں کی آواز گونجنے لگی تھی۔۔۔

“ذیان جو ہوتا اچھے کے لئے ہوتا ہے ہر کام میں اللہ کی مصلحت ہوتی ہے ۔۔۔بس یہ بات ہم سمجھ نہیں پاتے۔۔۔بے شک زویا نے تمہیں معاف کر دیا تھا۔۔تمہاری ہر ایک خطا دل سے نکال دی تھی۔۔لیکن ذیان یہ رشتے ایک کانچ کی طرح ہوتے ہیں اگر اس میں ایک دفعہ دراڑ آجائے تو زندگی میں کبھی اس دراڑ کو بھرا نہیں جا سکتا۔۔۔۔ وہ تمہیں معاف تو کر چکی تھی لیکن شاید اب وہ تمہارے ساتھ خوشی اور محبت سے نہ چل پاتی۔۔۔شاید اب یہ رشتہ اس کے لئے مجبوری بن جاتا۔۔۔۔ذیان رشتے اگر مجبوری کی چادر اوڑھ لیں تو ایک نا ایک دن بدگمانی کی تیز ہوائیں اس چادر کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے رکھ دیتی ہیں اور وہ رشتہ پھر بے آسرا رہ جاتا ہے۔۔۔بدگمانیاں پھر سے اس رشتے کو کاٹنے لگتی ہیں۔۔رشتے مجبوریوں سے نہیں محبتوں سے نبھائے جاتے ہیں۔۔۔محبت وہ بیج ہے جو رشتوں کی جڑوں کو مضبوط کر کے رکھ دیتاہے۔۔مجبوریاں ہمیشہ رشتوں کو توڑنے کا باعث بنتی ہیں۔۔۔زبان سے کہنا بہت آسان ہوتا ہے لیکن دل سے نکالنا بہت مشکل ہوتا ہے ذیان۔۔۔۔”عائشے نے تحمل سے اسے سمجھایا۔۔۔ذیان مسلسل ہچکیوں سے رو رہا تھا۔۔۔وہ اپنی ہچکیوں کو جتنا روکنے کی کوشش کرتا آواز پہلے سے بھی ذیادہ تیز ہوجاتی۔۔۔جب اچانک کسی نے زور سے اس کے بازو کو دبوچا۔۔۔اور اب وہ پوری قوت سے اسے کھینچتے ہوئے ہال کی جانب لے کر جارہا تھا۔۔۔ذیان کیونکہ اس اچانک حملے کے لئے تیار نہیں تھا اس لئے اس کے ساتھ گھسیٹتا چلا گیا۔۔۔۔زریاب خان نے ہال میں آکر جھٹکے سے اس کا بازو اپنی مضبوط گرفت سے آزاد کیا تھا۔۔۔ہال میں پہلے سے موجود حویلی کے تمام لوگ فورا زریاب خان کی طرف بڑھے تھے۔۔۔۔

“اب یہ کیا تماشہ لگا رکھا ہے زریاب خان۔۔۔۔؟؟”ھیشم خان زور سے گرجا تھا۔۔۔

“تماشا تو تم لوگوں نے اب تک لگا رکھا تھا۔۔۔اب دیکھو میں کرتا کیا ہوں۔۔۔میں اس گھٹیا انسان کو اتنی بری موت دوں گا کہ اس کی آنے والی نسلیں یاد رکھیں گی۔۔۔اور آئیندہ زریاب خان سے پنگا لینے سے پہلے کوئی سو دفعہ سوچے گا۔۔۔۔پتا نہیں کس گندے باپ کی اولاد ہو تم۔۔۔۔؟؟”زریاب خان نے خباثت سے کہا۔۔۔۔اور تب ہی ھیشم خان خود پر قابو نہیں رکھ پایا اور اس کا ہاتھ ہوا میں لہرایا تھا اور پھر زریاب خان کے چہرے پر نشان چھوڑتا چلا گیا۔۔۔۔وہاں کھڑی سب عورتوں کی روح تک کانپ اٹھی تھی۔۔۔

“میرے باپ کے بارے میں ایک لفظ بھی کہا تو میں تمہاری زبان کاٹ کر رکھ دوں گا۔۔۔۔تم بھول چکے ہو کہ ھیشم خان کون ہے۔۔۔؟؟لگتا ہے تمہیں یاد دلانا پڑے گا۔۔۔۔”ھیشم خان زور سے دھاڑا تھا۔۔۔۔۔

“ہاہاہاہاہاہا۔۔۔۔۔تم ایک نہایت گھٹیا انسان ہو۔۔۔۔ایک گندے نالے سے نکلے ہوئے کیڑے۔۔۔۔جس نے لوگوں کو ڈس دس کر ان پر اپنی دہشت پھیلا رکھی ہے۔۔۔۔اور جو یہ تھپڑ تم نے مجھے مارا ہے اس کا حساب تو تمہیں چکانا پڑے گا۔۔تمہاری اس حویلی کو قبرستان نہ بنادیا تو میرا نام بھی زریاب خان نہیں۔۔۔۔”زریاب خان نے نفرت سے کہا تھا۔۔۔خباثت اس کے ایک ایک نقش سے جھلک رہی تھی۔۔۔۔اس نے جلدی سے پسٹل نکالی تھی۔۔اور پسٹل کا رخ اب ذیان کی جانب تھا۔۔۔۔کمینی مسکراہٹ زریاب خان کے لبوں پر مسلسل رقص کر رہی تھی۔۔۔

“چاچا جان ۔۔۔یہ آپ کیا کر رہے ہیں۔۔۔۔؟؟”عائشے نے گھبراتے ہوئے کہا۔۔۔۔

“نظر نہیں آرہا تجھے۔۔۔تیری بھی باری آئے گی۔۔۔۔ایک ایک کر کے سب کو ماروں گا۔۔۔۔”زریاب خان نے مکروہ ہنسی ہنستے ہوئے کہا۔۔۔

“زریاب خان اپنی موت کو مت پکارو۔۔۔اگر میرا ضبط ٹوٹا نا تو تمہیں ایسے ماروں گا کہ ٹکڑے تک نہیں ملیں گے تمہارے۔۔۔۔۔”ھیشم خان مٹھیاں بھینچتا غصے سے چلایا۔۔۔وہ چاہتا تو ابھی زریاب خان کا قتل کر دیتا ۔۔لیکن ابھی زریاب خان ذیان پر گن تانے کھڑا تھا۔۔۔اور وہ لوڈ بھی تھی۔۔۔اور ھیشم نہیں چاہتا تھا کہ وہ جلدبازی میں کوئی نقصان کر بیٹھے۔۔۔۔۔وہ تحمل اور عقل مندی سے پوری سچویشن کو ہینڈل کرنا چاہتا تھا۔۔۔۔

“ابھی تو موت تیرے بھائی کے سر پر کھڑی ہے۔۔۔۔”زریاب خان نے کمینگی سے کہا۔۔۔گن پر اس کی گرفت سخت ہوئی تھی اور تب ہی ہال میں گولی چلنے کی ایک زور دار آواز گونجی تھی۔۔۔سب اپنے کانوں پر ہاتھ رکھے آنکھیں موندے کھڑے تھےزریاب خان بھی زوردار آواز پر آنکھیں موند گیا تھا۔۔۔لیکن آنکھیں کھولتے ہی سامنے نظر آتے منظر کو دیکھ کر سب ساکت رہ گئے تھے۔۔۔۔سب کی آنکھیں تحیر کے مارے پھیل چکی تھیں۔۔۔۔نسرین بیگم کے چہرے پر ایک رنگ آرہا تھا تو دوسرا جارہا تھا۔۔۔زریاب خان کے ہاتھوں سے پسٹل چھوٹ کر زمین بوس ہوئی تھی۔۔۔۔گولی بائیں جانب لگی تھی۔۔۔خون کی چھینٹیں ہال کے صاف شفاف فرش کو رنگین کر گئی تھیں۔۔۔۔خون کا فوارہ اس کے جسم سے پھوٹا تھا۔۔۔اور زریاب خان کا چہرہ سرخ کر گیا۔۔۔وہ وجود کسی اور کا نہیں بلکہ منہل زریاب خان کا تھا۔۔۔زریاب خان کی دوسری بیٹی۔۔جو مسز بخاری سے پتا پوچھ کر ھیشم خان کی حویلی آئی تھی۔۔۔۔اس سے پہلے وہ گرتی ذیان نے اسے اپنے بازوؤں میں تھاما تھا۔۔وہاں موجود سب نفوس منہل کی جانب بڑھے تھے۔۔۔۔۔زریاب خان کواپنا دماغ گھومتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔۔۔اسے اپنا سر چکراتا ہوا محسوس ہو تھا۔۔۔

“ن۔۔نہ۔۔نہیں م۔۔ممیں ن۔۔نے ن۔۔نہیں مارا۔۔۔میں ا۔۔اپنی بب۔بیٹی کو کیسے مار سکتا ہوں۔۔۔؟؟ن۔۔نہیں۔۔۔۔”زریاب خان نے اپنی کنپٹیوں پر ہاتھ رکھے عجیب سے لہجے میں کہا۔۔۔کوئی خوف کوئی ڈر کچھ کھو دینے کا درد۔۔۔۔ کیا کیا نہیں تھا اس کے چہرے پر ۔۔۔۔

“آپ نے اپنے ہاتھوں سے اپنی دوسری بیٹی کو مار دیا۔۔۔۔۔کیسے باپ ہیں آپ۔۔۔؟؟”اب عادل خان غرایا تھا۔۔۔۔

“م۔مم۔۔می۔۔میری بیٹی ک۔۔کو مار دیا میں نے۔۔۔۔آآاااااا۔۔۔”زریاب خان عجیب جنونی حالت میں کہہ کر زور سے چلایا تھا۔۔۔۔

“ہاں آپ نے ہی مارا ہے منہل کو ۔۔۔آپ قاتل ہیں۔۔۔اپنی دونوں بیٹیوں کی موت کے ذمےدار آپ ہیں۔۔۔۔آپ کے توجہ نہ دینے سے ہی زویا بگڑی تھی۔۔۔۔اور اس کی یہی خامی اسے یہاں تک لانے کی وجہ بنی۔۔۔ایک بیٹی کو جذباتی طریقے سے مارا آپ نے ۔۔اور آج ایک بیٹی کو خود ہی قتل کر دیا۔۔۔۔”عادل خان نے انہیں بہت کچھ باور کروایا تھا۔۔۔آج اس نے انہیں آئینہ دکھانا ضروری سمجھا تھا۔۔۔

“ہ۔۔ہاں م۔میں قاتل ہوں۔۔میں مجرم ہوں۔۔۔۔م۔۔میں اپنی اولاد کا قاتل ہوں۔۔۔۔”زریاب خان اب اپنا منہ اور اپنے بال نوچ رہا تھا۔۔۔عجیب جنونی سی کیفیت تھی اس کی سب کو اس کی ذہنی حالت پر شبہ ہوا تھا۔۔۔۔

“اب یہ کون سا نیا ناٹک ہے تمہارا۔۔۔۔؟؟تم جیسے انسان قانون کی قید میں رہنے کے لائق ہو۔۔۔یہ آزادی تم لوگ ڈزرو نہیں کرتے۔۔۔”عادل خان نے نخوت سے کہتے پولیس کو کال کی تھی۔۔۔۔اور کچھ ہی دیر میں پولیس زریاب خان کو ہتھکڑیاں پہناتی وہاں سے لے گئی۔۔۔منہل کو ہوسپٹل لے جایا جا چکا تھا۔۔زریاب خان کے جانے کے بعد حورم رباب رحاب اور دانیال کے علاوہ سب ہاسپٹل کے لئے نکل چکے تھے۔۔بچے فائر کی آواز سن کر ہی سہمے ہوئے تھے۔۔۔رباب اور رحاب انہیں بہلانے میں مصروف تھیں۔۔۔۔کسے معلوم تھا کہ ان کی آزمائشیں ختم ہو چکی تھیں یا ابھی باقی تھیں۔۔۔۔خان حویلی کا تو نظام درہم برہم ہوچکا تھا۔۔۔

🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹

“عادل میری بچی۔۔۔کچھ ہوگا تو نہیں نا اسے ۔۔؟؟میں مرجاؤں گی اگر منہل کو کچھ ہوگیا تو۔۔۔۔”نسرین بیگم نے روتے ہوئے کہا۔۔۔۔

“یہ سب آپ لوگوں کا ہی کیا دھرا ہے اب رونے سے کیا ہوگا۔۔۔۔؟”عادل نے نخوت سے کہا۔۔۔

“بیٹا یہ کیا کہہ رہا ہے تو۔۔۔۔میں تیری ماں ہوں یہ بات کیسے بھول سکتا ہے تو۔۔؟؟”انہوں نے شاکڈ ہوتے ہوئے کہا۔۔۔

“یہ بات آپ کو آج یاد آرہی ہے۔۔۔۔۔واہ بھئی واہ۔۔۔سلام ہے آپ کی مامتا کو ۔۔۔”عادل نے مضحکہ خیز لہجے میں کہا۔۔۔

“عادل میرے بیٹے۔۔۔ایسے تو مت کہو۔۔۔۔”انہوں نے تڑپ کر کہا۔۔۔۔

“پلیز اسٹاپ اٹ۔۔۔۔”عادل چلایا تھا۔۔۔۔اور وہاں سے ہٹ کر دوسری طرف جاکر کھڑا ہوگیا۔۔آپریشن تھیٹر میں آپریشن چل رہا تھا۔۔۔سب دل تھامے آپریشن ختم ہونے کا انتظار کر رہے تھے۔۔۔کچھ ہی دیر میں ذیان روم سے باہر آیا تھا۔۔۔سب جلدی سے اس کی جانب بڑھے تھے۔۔۔۔

“کیا ہوا۔۔۔میری بیٹی ٹھیک ہے نا۔۔۔۔”نسرین بیگم نے جلدی سے کہا۔۔۔۔

“جی۔۔۔الحمدللہ آپریشن کامیاب رہا ہے۔۔۔منہل اب خطرے سے باہر ہیں۔۔۔ہوش آتے ہی ان کو دوسرے روم میں شفٹ کر دیا جائے گا۔۔۔پھر آپ سب ان سے مل سکتے ہیں۔۔۔۔”ذیان نے پروفیشنل انداز میں بتایا تھا۔۔۔۔اور پھر سب پر ایک اجنبی نظر ڈالتا وہاں سے نکلتا چلا گیا۔۔۔۔سب نے اطمینان کا سانس لیا تھا۔۔۔۔

🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹

ذیان اپنے کیبن میں گم صُم سا چیئر پر بیٹھا کسی غیر مرئی نقطے پر نظریں مرکوز کئے گم صُم سا زویا کے بارے میں ہی سوچ رہا تھا۔۔زویا کے خیالوں میں گم اسے محسوس ہی نہیں ہوا کہ کب آنسو اس کی آنکھوں سے نکل کر گال پر پھسلے تھے۔۔۔۔ھیشم کے پکارنے پر بھی وہ خیالوں سے باہر نہیں نکلا تھا۔۔۔جب ھیشم کے اسے کندھے سے پکڑ کر جھنجھوڑنے پر وہ ہوش میں آیا تھا۔۔۔۔

“ج۔۔جی بھائی۔۔۔۔کیا آپ نے مجھے بلایا۔۔۔؟؟”ذیان نے چونکتے ہوئے کہا۔۔۔

“کیا سوچ رہے ہو ذیان۔۔۔؟؟”آج اتنے عرصے بعد ھیشم خان نے اتنی محبت سے اس کا حال پوچھا تھا۔۔۔۔یہ ذیان کے لئے کسی جھٹکے سے کم نہیں تھا۔۔۔وہ فورا چیئر سے اٹھ کر ھیشم خان کے گلے لگا تھا۔۔۔۔اور اب ہچکیوں سے رو رہا تھا۔۔۔اسے اس طرح دیکھ کر ھیشم خان کی آنکھیں بھی نم ہو چکی تھیں۔۔آج ھیشم خان نے ذیان کو خود سے الگ نہیں کیا تھا بلکہ آج اس کے بازوؤں کا حصار بھی ذیان کے گرد کافی مضبوط تھا۔۔۔۔کافی دیر رونے کے بعد ذیان دھیرے سے اس سے الگ ہوئے تھا۔۔۔

“سوری بھائی۔۔۔۔”ذیان نے جھجھکتے ہوئے کہا۔۔۔

“کس بات کے لئے۔۔۔۔؟؟”ھیشم خان کا لہجہ اب بھی دھیما تھا۔۔۔۔

“کہ ۔۔وہ۔۔۔میں۔۔۔آپ۔۔۔۔”ذیان کو سمجھ ہی نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کہے۔۔۔

“ذیان ادھر دیکھو میری طرف۔۔۔۔”ھیشم خان نے اس کا جھکا ہوا چہرہ تھوڑی سے پکڑ کر اونچا کیا تھا۔۔۔

“جی بھائی۔۔۔۔”ذیان ایک نظر ھیشم خان کو دیکھ کر نظریں دوبارہ جھکا گیا۔۔۔۔

“ذیان میں نے کہا میری طرف دیکھو۔۔۔۔۔”اب ھیشم خان نے مصنوعی سختی سے کہا۔۔۔۔اس کے سخت لہجے میں کہنے پر ذیان نے نظریں اٹھا کر اس کی طرف دیکھا تھا۔۔۔۔

“بھائی آپ خفا ہیں نا مجھ سے۔۔۔؟؟”ذیان نے ڈرتے ڈرتے پوچھا۔۔۔

“نہیں ذیان میں تم سے خفا نہیں ہوں۔۔۔بلکہ وہ میری غلطی تھی کہ میں نے تم پر بھروسہ نہیں کیا۔۔۔میرے اصولوں نے مجھے اندھا کردیا۔۔اگر میں اس دن تم پر بھروسہ کر لیتا تو شاید آج یہ دن نہ دیکھنا پڑتا ۔۔۔۔۔”ھیشم خان نے افسردگی سے کہا۔۔۔۔

“ایسا مت کہیں بھائی۔۔۔یہ سب میری اپنی وجہ سے ہوا ہے۔۔۔اگر وہ غلط تھی تو میں نے کونسا صحیح کیا تھا۔۔۔اس نے بھلے میرا کیریئر خراب کیا تھا لیکن سچ بتا کر سب ٹھیک بھی تو کر دیا تھا لیکن میں نے۔۔میں نے اس کی لائف کے پانچ سال برباد کر کے رکھ دئیے جو میں کبھی نہیں لوٹا سکتا۔۔میں وہ گزرا کبھی واپس نہیں لا سکتا۔۔۔کبھی نہیں۔۔۔۔”ذیان کی آواز رندھ گئی تھی۔۔۔اس سے بولنا مشکل ہو رہا تھا۔۔۔ھیشم نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے تسلی دی تھی۔۔۔۔

“ذیان تم نے جو کھو دیا تم اس پر رورہے ہو تم وہ کیوں نہیں دیکھتے جو اللہ نے تمہیں دیا عطا کیا۔۔۔تم اللہ کا شکر کرو اللہ نے تمہیں پچھتاوے سے بچالیا۔۔۔زویا نے تمہیں معاف کر دیا۔۔۔اگر تم اب بھی نہ لوٹتے یا زویا سے تمہاری ملاقات اب بھی نہ ہوتی تو تم کیا کرتے ذیان۔۔۔؟؟یہ گلٹ تمہارا جینا دوبھر کر دیتا۔۔۔اللہ نے تمہیں اتنی پیاری بیٹی دی۔۔۔ اور سب سے بڑی بات تم نے اللہ کو پالیا ۔۔تمہیں موقع ملا اللہ کو جاننے کا اس سے ملاقات کا تو رونے کا کیا فائدہ ذیان۔۔۔۔۔؟؟”ھیشم خان نے بڑے بھائی ہونے کے ناطے شفیق لہجے میں سمجھایا۔۔۔۔

“جانتا ہوں بھائی۔۔۔اور کوشش کرتا ہوں اپنے آنسو روکنے کی ۔۔۔لیکن درد اتنا زیادہ ہے کہ روک ہی نہیں پاتا اشک۔۔۔”ذیان نے آنسو پونچھتے ہوئے کہا۔۔۔

“ذیان جب ہم کسی انسان سے شدید محبت کرتے ہیں نا تو اس پر ہر چیز قربان کر دیتے ہیں۔۔یہاں تک کہ جان دینے سے بھی گریز نہیں کرتے ۔۔۔اپنی محبوب سے محبوب چیز بھی اسے دینے کو تیار ہوجاتے ہیں۔۔تو سوچو اللہ سے ہمیں کتنی محبت ہے۔۔۔؟؟اس نے تو ہمیں اتنا کچھ دیا ہے کہ ہم چاہ کر بھی نہیں گن سکتے۔۔۔اور یہ انسان ۔۔۔یہ تو ہمیں کچھ دے بھی نہیں سکتے۔۔۔پھر بھی اس سے اتنی محبت کیوں۔۔۔؟؟زویا کیا ۔۔۔۔ہم سب اللہ کی امانت ہیں ہم سب کو ایک نا ایک دن اس کے پاس لوٹنا ہے۔۔۔تمہیں اللہ سے محبت ہے نا تو اس کو بھی اپنے اللہ سے عشق تھا۔۔تو وہ تو تم دونوں کے محبوب کے پاس گئی ہے۔۔۔۔اس کے پاس جس سے تم دونوں محبت کرتے ہو۔۔۔تو غم کیسا۔۔؟؟بس تم اللہ سے اس کے لئے دعا کرو۔۔۔۔۔بےشک اللہ سب کی دعاؤں کو سننے والا اور قبول کرنے والا ہے۔۔۔۔۔”ھیشم خان نے نرم لہجے میں استفسار کیا۔۔۔

“جی بھائی۔۔۔ویسے ایک بات بتائیں۔۔؟؟”ذیان نے آنسو پونچھتے ہوئے شرارتی مسکراہٹ لبوں پر سجاتے ہوئے کہا۔۔۔ھیشم کے سمجھانے پر اب وہ کافی حد تک نارمل ہو چکا تھا۔۔۔

“ہاں بولو۔۔۔۔”ھیشم نے اچانک اس کے مسکرانے پر ناسمجھی سے پوچھا۔۔۔۔

“یہ اتنی تبدیلی کیسے۔۔۔؟؟”ذیان نے بھنویں اچکاتے ہوئے کہا۔۔۔

“ک۔۔کیسی تبدیلی۔۔۔؟؟”ھیشم اس کی بات سمجھ تو گیا تھا پھر بھی انجان بنتے ہوئے پوچھا۔۔۔

“عائشے بھابھی کا رنگ چڑھ چکا ہے بھائی۔۔۔۔۔”ذیان نے شرارتی لہجے میں کہا۔۔۔۔ھیشم خان نے اس کی بات پر مسکراتے ہوئے اس کی کمر پر ایک مکا مارا تھا۔۔۔۔

“ہئیییی بھائی کتنے ظالم ہیں آپ ۔۔۔۔”ذیان نے کراہتے ہوئے کہا ۔۔جب حازم اچانک آکر زور سے اس کے گلے لگا تھا۔۔۔۔

“اوئے کیا کر رہا ہے ہٹ۔۔میں ذیان ہوں۔۔۔۔ہوش میں تو ہے۔۔۔۔؟؟”جب وہ کافی دیر تک پیچھے نہ ہوا تو ذیان نے معنی خیزی سے کہا۔۔۔

“جانتا ہوں ۔۔تو ایک کمینہ بھائی ہے۔۔۔۔کتنا یاد کیا میں نے تجھے۔۔۔اور تو کتنے آرام سے چلا گیا۔۔۔جانتا ہے نا تو کہ حازم اور ذیان ایک دوسرے کے بغیر ادھورے ہیں۔۔۔”حازم تھوڑا پیچھے ہو کر اسے شکایتی نظروں سے دیکھ کر پھر سے اس کے گلے لگا تھا۔۔۔

“ہاں جانتا ہوں اور یہ بھی جان چکا ہوں کہ میرا بھائی اب غصہ کرنا بھی جان چکا ہے۔۔۔۔”ذیان نے مال والی بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے کہا۔۔۔

“تیری وجہ سے ہوا تھا یہ بھی۔۔۔ورنہ مجھ جیسا ہنس مکھ بندہ کہاں غصہ کر سکتا ہے۔۔۔”حازم نے اسے دھکا دیتے ہوئے مصنوعی خفگی سے کہتے فرضی کالرجھاڑا تھا۔۔۔۔

“اچھا چل چھوڑ سب گلے شکوے آجا ادھر ۔۔۔”ذیان نے فرط محبت سے کہتے بانہیں پھیلائی تھیں۔۔۔اور حازم جھٹکے سے اس کے گلے لگا تھا۔۔۔

“میری ہڈیاں توڑ دے تو۔۔۔.”ذیان نے مصنوعی خفگی سے کہا۔۔۔

“جیسی تیری حرکتیں ہیں نا بندہ تیرے ہاتھ پاؤں دانت سب توڑ دے۔۔۔۔”حازم نے بھی تڑخ کر جواب دیا۔۔۔ذیان کا دوسرا بازو اب بھی خالی تھا۔۔ذیان نے ھیشم کو پاس آنے کا اشارہ کیا تھا۔۔۔۔اور ھیشم خان نے قدم آگے بڑھ کر اپنے اور اس کے درمیان کا فیصلہ کم کیا تھا۔۔۔اور ذیان کے گلے لگا تھا۔۔۔۔آج وہ تینوں پھر سے ایک ہو چکے تھے۔۔۔ان کےدل تو کبھی ایک دوسرے سے الگ ہوئے ہی نہیں تھے۔۔بس حالات نے انہیں بچھڑنے پر مجبور کر دیا تھا۔۔۔لیکن آج وقت نے ہی انہیں پھر سے ایک کر دیا تھا۔۔۔کیبن کے گلاس ڈور سے دیکھتی سارا منظر عائشے نے ان کے ملنے پر اللہ کا شکر ادا کیا تھا اور اللہ سے ان کے ہمیشہ ایک رہنے کی دعا مانگی تھی۔۔۔۔۔

🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹

(ایک مہینے بعد)

🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹

ہر طرف خوشیوں کا سماں تھا۔۔۔زریاب خان کی پوری حویلی لائٹس سے سجی ہوئی تھی۔۔۔اس رات کے اندھیرے میں بھی ہر سو روشنی پھیلی ہوئی تھی۔۔پوری حویلی کو اندر سے پھولوں سے سجایا گیا تھا۔۔۔آج عادل خان اپنے کمرے میں آئینے کے سامنے کھڑا خود پر پرفیوم چھڑک رہا تھا۔۔۔۔آج وہ اتنے عرصے بعد پورے دل سے تیار ہوا تھا۔۔ابھی وہ آئینے کے سامنے کھڑا ہی تھا جب منہل اپنا غرارہ سنبھالتی کمرے میں داخل ہوئی تھی۔۔۔۔

“بھائی بس کردیں کتنا تیار ہونگے آپ۔۔۔۔؟؟”منہل نے بیزاری سے کہا۔۔۔وہ سب بارات لے جانے کو تیار کھڑے تھے لیکن عادل کی تیاری ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی۔۔۔۔

“تم کیا چاہتی ہو اب میں اپنی شادی پر بھی ٹھیک سے تیار نہ ہوں۔۔۔؟؟خود تو اپنی انگیجمنٹ پر بھی دلہن بنی بیٹھی تھی۔۔۔۔”عادل نے بھنویں اچکاتے ہوئے کہا۔۔۔

“نہیں نہیں۔۔ہو جائیں آپ تیار۔۔۔۔۔کہتے ہیں تو لپ اسٹک پاؤڈر بھی لا دیتی ہوں۔۔۔۔دنیا میں صرف آپ کی ہی تو شادی ہو رہی ہے۔۔۔۔۔”منہل نے چڑتے ہوئے کہا۔۔۔

“ویسے آئیڈیا برا نہیں ہے منہل۔۔۔۔”عادل نے اپنی مسکراہٹ دباتے ہوئے کہا۔۔۔۔

“بس بھائی چلیں اب۔۔۔۔”منہل اس کا بازو کھینچتے ہوئے باہر کی جانب بڑھ گئی۔۔۔اور وہ اس کی اس حرکت پر صرف مسکرا کر رہ گیا۔۔۔۔۔

🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹

زریاب خان کو چند دن جیل میں رکھنے کے بعد مینٹل ہاسپٹل بھیج دیا گیا تھا۔۔۔۔منہل پر گولی چلنے کی وجہ سے اس کے دماغ پر بہت گہرا اثر پڑا تھا۔جسکی وجہ سے اس کا دماغی توازن بگڑ چکا تھا۔۔۔۔۔اب وہ ہر وقت اقرار جرم کرتا رہتا۔۔۔اس کا ٹریٹمنٹ جاری تھا۔۔۔۔اب تو اسے روز الیکٹرک شاکڈ دئیے جاتے لیکن کسی بھی طرح اس کی حالت نہیں سنبھل رہی تھی۔۔۔اب بھی وہ ہاسپٹل کے کونے میں بیٹھا اپنے بال نوچ رہا تھا۔۔۔۔جب وہاں موجود کسی ملازم نے اس کا ہاتھ زور سے پکڑا تھا۔۔۔

“اوئے پاگل کیا کر رہا ہے۔۔۔۔؟؟درد نہیں ہوتا کیا تجھے۔۔۔۔۔؟؟”ملازم نے جاہلانہ طریقے سے پوچھا۔۔۔۔

“چھوڑو ۔۔۔چھوڑو میرا ہاتھ میں خود کو ماردوں گا۔۔میں نے اپنی بیٹی کو اپنے ہاتھوں سے مارا ہے۔۔۔میری بیٹی کو مار دیا میں نے۔۔۔۔”زریاب خان نے اپنا ہاتھ چھڑواتے ہوئے جنونی انداز میں کہا۔۔۔

“تیری بیٹی زندہ ہےاور صحیح سلامت ہے۔۔”اس ملازم کا رویہ اب بھی جاہلانہ تھا۔۔۔

“نہیں تم جھوٹ بولتے ہو۔۔۔میں نے خود اپنی بیٹی کو مارا تھا۔۔۔۔۔”زریاب خان عجب پاگل پن سے بولا۔۔۔

“اچھا تو مار خود کو جو مرضی کر۔۔۔۔کتنی دفعہ تجھے سمجھایا ہے تیری بیٹی زندہ ہے۔۔۔لیکن تجھ جیسے پاگل کو یہ بات کہاں سمجھ آئے گی۔۔۔۔”ملازم نے حقیر لہجے میں کہا۔۔۔

“ابھی بتاتا ہوں تجھے۔۔۔۔”زریاب خان اس کے دوبارہ منہل کے زندہ ہونے کا کہنے پر غصے سے اس کی جانب بڑھا تھا۔۔۔اور پھر اس نے اس ملازم پر مکوں کی برسات کرنی شروع کر دی۔۔۔۔اس ملازم کے چلانے پر سب لوگ بھاگ کر اس جانب آئے تھے اور جلدی سے اس ملازم کو چھڑوا کر نظر بچا کر زریاب خان کے بازو پر بےہوشی کا انجکشن لگایا تھا۔۔۔۔۔جسکے زیر اثر زریاب خان جلد ہی بے ہوش ہوچکا تھا۔۔۔۔آس پاس کھڑے لوگوں میں کچھ کی نظروں میں اس کے لئے ترس تھا تو کچھ کی نظروں میں اس کے لئے نفرت تھی۔۔۔وہ شخص جوآج تک دولت کے لالچ میں دوسروں کا حق مارتا آیا تھا آج کیسے پاگل دیوانوں کی طرح ہاسپٹل میں پڑا تھا۔۔۔اور کیسے اس کے ساتھ جاہلانہ سلوک کیا جا رہا تھا۔۔۔۔شاید وہ بھول چکا تھا کہ کوئی رب بھی ہے جو سب دیکھ رہا ہے۔۔۔۔بے شک اللہ کی لاٹھی بے آوازہے۔۔مکافات عمل بھی کسی چیز کا نام ہے۔۔۔۔اللہ کی پکڑ آچکی تھی اور بے شک اللہ کی پکڑ بڑی سخت ہے۔۔۔۔نسرین بیگم کا بھی برا حال تھا۔۔۔عادل نے حویلی واپس جانے سے انکار کر دیا تھا۔۔۔وہ یورپ واپس لوٹ رہا تھا جب ھیشم اور عائشے کے روکنے پر وہ رکا تھا اب بھی وہ نسرین بیگم سے کم و بیش ہی بات کرتا تھا۔۔۔۔لیکن جو بھی تھا وہ اب پر سکون تھیں۔۔۔انہوں نے شکر کیا تھا کہ عادل رک گیا۔۔۔۔وہ عائشے سے اپنے برے رویے پر معافی مانگ چکی تھیں۔۔۔عائشے تو عائشے تھی۔۔۔انتہا کی اعلی ظرف اسنے انہیں شرمندہ کئے بغیر انہیں معاف کردیا تھا۔۔۔اس ایک مہینے میں سب کچھ کافی حدتک سیٹ ہوچکا تھا۔۔۔۔منہل کی منگنی مسز بخاری کے بیٹے سے ہو کی تھی۔۔۔۔انہوں نے خاص طور پر ذیان کو فون کر کے اس سے منہل کے لئے بات کی تھی۔۔۔۔اور پھر ذیان نے نسرین بیگم کو اس بات سے آگاہ کیا تھا۔۔۔اس طرح منہل بھی کسی کے نام ہو چکی تھی۔۔۔وقت نے بہت تیزی سے پلٹا کھایا تھا۔۔۔کچھ چیزیں ٹھکانے پر آگئیں تھیں تو کچھ چیزیں بلکل بدل چکی تھیں۔۔۔۔۔اب شاید خان حویلی کے مکینوں کے لئے خوشی کے دن آ کے تھے۔۔۔۔

🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹

بارات میں خان حویلی کے مکین٬نسرین بیگم٬منہل اور عادل ہی شامل تھے۔۔۔۔عادل خان کی نسبت حورم سے طے پائی تھی۔۔۔بارات کا استقبال بہت ہی شاندار طریقے سے کیا گیا تھا۔۔۔۔مسٹر اینڈ مسز لغاری رحاب اور دانیال سب نے پر جوش انداز میں بارات کا استقبال کیا تھا۔۔۔حورم آج بھرپور طریقے سے تیار ہوئی تھی۔۔۔اس کے روم روم سے خوشی ٹپک رہی تھی۔۔۔۔تمام انتظامات بہت اچھے سے کئے گئے تھے۔۔۔۔ہر جانب آج خوشی ہی خوشی ہی خوشی تھی۔۔ہر چہرے پرمسکان تھی۔۔۔۔شادی کا انتظام مسٹر لغاری کے لاہور میں موجود بنگلے میں ہی کیا گیا تھا۔۔۔نکاح ہو چکا تھا۔۔۔۔اس وقت عادل اورحورم اسٹیج پر ساتھ میں بیٹھے ایک مکمل کپل لگ رہے تھے۔۔۔ہر دیکھنے والے کی آنکھ نے انہیں سراہا تھا۔۔۔کچھ ہی دیر میں شاندار کھانے کے بعد حورم عادل کی سنگت میں رخصت ہو چکی تھی۔۔۔۔رحاب کی نم آنکھوں نے دور تک اس کا تعاقب کیا تھا۔۔آج ایک اور محبت کی اپنی منزل کو پہنچ چکی تھی۔۔۔

🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹

حورم پھولوں میں گھری روایتی دلہنوں کی طرح بیڈ پر بیٹھی تھی۔۔۔۔جب عادل کمرے میں داخل ہوا تھا۔۔۔اور گیٹ لاک کرتا حورم کی جانب بڑھا تھا۔۔۔۔اور بیڈ پر ہی اس کے پاس بیٹھ گیا۔۔۔

“بہت خوبصورت لگ رہی ہیں آپ۔۔۔۔”عادل نے حورم کو ستائشی نظروں سے دیکھ کر اس کی تعریف کی تھی۔۔۔

“تھینک یو۔۔۔۔لیکن آپ مجھے تم بول سکتے ہیں۔۔۔۔”حورم نے جھجھکتے ہوئے کہا۔۔۔۔

“تم بولوں یا آپ بولوں یہ معنی نہیں رکھتا حورم معنی رکھتی ہے تو عزت۔۔۔۔اور میں آپکی دل سے ریسپیکٹ کرتا ہوں۔۔۔اگر آپ نہیں ہوتیں تو شاید میں کبھی عائشے سے نظر نہ ملا پاتا۔۔۔۔ہمیشہ گلٹ لے کر جیتا۔۔۔مگر وہ آپ ہی ہیں جنہوں نے میری لائف کو آسان بنا دیا۔۔۔۔”عادل نے مشکور لہجے میں کہا۔۔۔۔

“میں کچھ پوچھنا چاہتی ہوں آپ سے اگر آپ اجازت دیں تو۔۔۔؟؟”حورم نے دھیمے لہجے میں کہا۔۔۔

“آپ کو اجازت کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔آپ کو میں نے پورے دل سے قبول کیا ہے اور آج سے مجھ پر میری ہر ایک چیز پر آپ کا پورا حق ہے۔۔۔۔”عادل نے اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر کہا۔۔۔۔

“وہ میں۔۔۔۔”حورم کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ اس ٹائم یہ سوال کرنا ٹھیک رہے گا یا نہیں۔۔۔۔اس لئے وہ لمحے بھر کے لئے رکی تھی۔۔۔

“وہ میں کہہ رہی تھی اس دن آپ نے عائشے بھابھی کو دیکھ کرنظریں کیوں جھکائی تھیں۔۔۔؟؟”حورم نے تحمل سے پوچھا اور منتظر نگاہوں سے اس کی جانب دیکھ رہی تھی۔۔۔عادل نے کچھ پل خاموشی سے اسے دیکھا تھا اور پھر اپنی بات شروع کی تھی۔۔۔۔

“حورم میں جھوٹ نہیں بولوں گا کیونکہ جھوٹ کی بنیاد پر بنا ہوا رشتہ کبھی قائم نہیں رہتا۔۔میں نے جب سے ہوش سنبھالا تھا عائشے کا نام ہمیشہ اپنے نام کے ساتھ سناتھا۔۔۔میں انہیں اپنی زندگی مان چکا تھا۔۔۔میں نے کبھی سوچا ہی نہیں تھا کہ وہ کبھی مجھ سے اس طرح جدا ہو جائیں گی۔۔۔مجھے کبھی اپنی محبت کی تکمیل کی راہ میں کوئی رکاوٹ نظر ہی نہیں آئی تھی۔۔۔کیونکہ ماما پاپا اس کا نام اپنی مرضی سے میرے ساتھ جوڑ۔ چکے تھے اور عائشے بھی دل سے رضامند تھی۔۔۔لیکن جب میں پڑھائی کر کے واپس لوٹا تو وقت بازی پلٹ چکا تھا۔۔۔۔عائشے ھیشم خان سے جڑچکی تھی۔۔۔اس وقت مجھے پتا چلا کہ وقت کتنا ظالم ہے۔۔۔۔اس کے بعد بھی میں اپنے دل سے عائشے کو الگ نہیں کرپایا۔۔۔تو بس جب میں نے جان لیا کہ شادی ہونا یا ایک دوسرے سے جدا ہونے سے محبت تو ختم نہیں ہوتی۔۔۔۔اور جس سے ہم محبت کریں ہمیں ہمیشہ اس کی خوشی عزیز ہوتی ہے۔۔۔اور عائشے ھیشم خان کے ساتھ خوش تھی تو بس میں نےاس کی خوشی کے لئے اپنی محبت کو قربان کردیا۔۔۔۔اس دن اسی لئے میں نے نظریں جھکائی تھیں کہ کہیں عائشے میری آنکھوں میں موجود انکے لئے محبت نہ دیکھ لیں۔۔۔دل بے ایمانی کر جاتا تھا تو بس دل کو سمجھانے کے لئے میں نے نظریں جھکا لیں۔۔۔۔آج میں انکی پورے دل سے عزت کرتا ہوں۔۔اور آپ کو بھی اپنی زندگی میں پورے دل سے شامل کیا ہے اور ان شاء اللہ پوری کوشش کروں گا آپ کو خوش رکھنے کی۔۔۔۔۔اپنے ماضی کو اپنے حال پر کبھی اثر انداز نہیں ہونے دونگا۔۔۔۔میری غیرت یہ گوارہ نہیں کرتی کہ شادی شدہ ہوتے ہوئے بھی کسی نامحرم کے بارے میں سوچوں۔۔۔۔”عادل خان نے سوچ لیا تھا کہ وہ پوری ایمانداری سے حورم کو اپنی زندگی میں شامل کرے گا۔۔۔اور آج وہ حورم کےہر سوال کا جواب دینا چاہتا تھا۔۔۔۔ہر بات اس پر واضح کر دینا چاہتا تھا۔۔۔اپنی بیوی کو اپنا ہمراز بنانا چاہتا تھا۔۔۔۔حورم نے مسکراتے ہوئے اس کی طرف دیکھا تھا۔۔۔

“تھینک یو عادل۔۔ مجھے قبول کرنے کے لئے۔۔۔”حورم نے اس کے ہاتھ پر اپنا دوسرا ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔۔۔

“مجھے شرمندہ مت کریں۔۔۔۔”دھیمے لہجے میں استفسار کیا گیا۔۔۔۔

“نہیں عادل سچ میں۔۔۔۔”حورم نے اس کے ہاتھ پر زور دے کر اسے یقین دلانا چاہا۔۔۔۔عادل نے معنی خیزی سے اس کی جانب دیکھا تھا۔۔۔۔اور حورم اس کے اس طرح دیکھنے پر شرم سے نظریں جھکا گئی ۔۔۔۔اور پھر بہت سے وعدوں اور محبت کے ساتھ اس رات کی تکمیل ہوئی تھی۔۔۔۔۔محبت اپنی منزل پا چکی تھی۔۔۔۔امیدتھی کہ آنے والی زندگی میں ان کے لئے خوشیاں ہی خوشیاں تھیں۔۔۔۔

🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹

آج سب خان حویلی میں جمع تھے۔۔۔۔ہرجوڑا مکمل تھا سوائے ذیان کے۔۔۔۔وہ آج بھی تنہا تھا لیکن دوسروں کے لئے۔۔۔۔ذیان کہاں اس بات کو مانتا تھا۔۔۔وہ تو ہر وقت زویا کو اپنے ساتھ محسوس کرتا تھا۔۔۔۔اس کے لئے تو زویا آج بھی اس کے دل میں زندہ تھی۔۔۔خان حویلی میں اس وقت اچھی خاصی محفل جمی ہوئی تھی۔۔۔۔سب اپنی اپنی نشست پر براجمان تھے۔۔۔۔جب حازم نے ذیان کو پکارا تھا۔۔۔۔

“او ذیان کیوں نا اب تیرے سر پر سہرا سجایا جائے۔۔۔تجھے سوچنا چاہیے اب شادی کے بارے میں۔۔۔۔زندگی ایسے تو نہیں گزرتی۔۔کب تک بھابھی کا غم دل سے لگائے بیٹھے رہو گے۔۔۔۔؟؟زندگی کے اس سفر میں ایک ہمسفر کی ضرورت ضرور ہوتی ہے ذیان۔۔۔۔۔”حازم نے ٹہرے ہوئے لہجے میں استفسار کیا۔۔۔۔

“ہاں حازم ضرور ہوتی ہے کسی ہمسفر کی ضرورت۔۔لیکن مجھے جینے کے لئے صرف اور صرف زویا کی یادیں ہی کافی ہیں۔۔۔محبوب کا ساتھ ہونا معنی نہیں رکھتا محبوب کا دل میں مقام ہونا معنی رکھتا ہے۔۔۔۔دل میں اس کے لئے جگہ ہونا معنی رکھتا ہے۔۔اور جو جگہ میرے دل میں زویا کے لئے ہے وہ میں کبھی کسی اور کو نہیں دے سکتا۔۔۔۔اور نہ میں یہ چاہتا ہوں کہ کوئی اور لڑکی لیزہ کی دوسری ماں بنے اور وہ اس کے ساتھ کسی بھی طرح کی نا انصافی کرے۔۔۔۔”ذیان نے سپاٹ لہجے میں کہا۔۔۔۔اور کہیں نا کہیں اس کی بات پر سب نے اتفاق کیا تھا۔۔۔آج کے دور میں کون کسی کی اولاد کو اپنی اولاد مانتا ہے ۔۔۔ماحول کو مزید سنگین ہوتا دیکھ کر رحاب جھٹ سے بولی تھی۔۔۔۔

“رباب ویسے بڑی ہمت کی بات ہے کہ تم اس نمونے کو برداشت کرتی ہو۔۔۔۔میرا بس چلے نا تو میں اس کوکسی پاگل خانے چھوڑ آؤں۔۔۔”رحاب کی توپوں کا رخ حازم کی طرف تھا۔۔۔۔

“اچھا اور میرا بس چلے تو تم جیسی چڑیل کو چڑیلستان چھوڑ آؤں۔۔۔۔”حازم نے تڑخ کر کہا اسکی بات پر سب نے زور سے قہقہ لگایا تھا۔۔۔۔

“چاچو یہ چلیلشتان (چڑیلستان) کیا ہوتا ہے۔۔؟؟”حوزان نے ناسمجھی سے پوچھا۔۔۔۔

“میری جان یہ اس چڑیل کا ٹھکانہ ہے ۔۔۔۔۔”حازم نے بمشکل اپنی ہنسی روکی تھی۔۔۔۔

“چڑیل ہو گی تمہاری دوسری بیوی۔۔۔۔”رحاب نے تڑخ کر کہا۔۔۔۔اس بات پر رباب نے گھور کر اسے دیکھا تھا۔۔

“سدھر جاؤ۔۔شادی ہو گئی ہے لیکن حرکتیں اب بھی ویسی ہی ہیں۔۔۔۔۔”حازم نے مصنوعی غصے سے کہا۔۔۔۔

“اوہ اچھا۔۔۔تم کون سا سدھر گئے ہو۔۔۔مجھے تو افسوس ہے میں نے اپنی اتنی معصوم دوست کو تم جیسے پاگل کے حوالے کر دیا۔۔۔۔۔”رحاب نے تاسف سے کہا۔۔۔۔

“اور مجھے تو فخر ہے دانیال پر جو وہ تمہیں جھیل رہا ہے۔۔۔”حازم نے پاس بیٹھے دانیال کا کندھا تھپتھپاتے ہوئے کہا۔۔۔

“چپ ہو جاؤ تم دونوں۔۔۔۔”عائشے نے بات کو آگے بڑھتے دیکھ کر ٹوکا۔۔۔۔

“بھابھی یہ ہی مجھ سے بحث کر رہا تھا۔۔۔۔۔”رحاب نے گال پھلاتے ہوئے کہا۔۔۔

“روحی جانی شب بوائز ایشے ہوتے ہیں۔۔۔آپ موڈ تھراب(خراب) نہ کریں۔۔۔۔”لیزہ نے معصومیت سے اس کے گلے میں بانہیں ڈالتے ہوئے کہا۔۔۔۔

“لذیذہ کی بچی۔۔۔گرلز دندی ہوتی ہیں۔۔۔۔”آثال نے تڑخ کر کہا۔۔۔۔۔

“اوئے خبردار میری لذیذہ کو کچھ کہا تو۔۔۔۔۔”حوزان لیزہ کے برابر کھڑا ہوتا غصے سے بولا۔۔۔اور اس کی بات پر وہاں بیٹھے سب نفوس نے زوردار قہقہ لگایا تھا۔۔۔

“حوزان۔۔۔۔”اچانک کچھ یاد آنے پر لیزہ زور سے چلائی تھی۔۔۔

“ہاں لذیذہ کان کیوں خراب کر رہی ہو۔۔۔۔؟”حوزان نے اس کے چلانے پر چڑ کر کہا۔۔۔

“حوزان شیلفی۔۔۔۔۔”لیزہ نے چہکتے ہوئے کہا۔۔۔اورپھر اس نے ہاتھ میں پکڑے ٹیبلٹ میں سب کی ہنستے ہوئے ایک ساتھ سیلفی لی تھی۔۔۔۔اب یہ سب تصویر میں نظر آتے لوگ ایک دوسرے کے بغیر ادھورے تھے۔۔۔۔سب کی ایک دوسرے میں جان تھی۔۔۔۔رحاب کی کل کی فلائٹ تھی۔۔۔۔عادل خان اور حورم اب نسرین بیگم کے ساتھ حویلی میں ہی رہتے تھے۔۔۔زریاب خان اپنے انجام کو پہنچ چکا تھا۔۔۔۔اور زندگی میں بہت سی آزمائشوں کے بعد اب وہ لوگ اپنی زندگی میں خوش تھے۔۔۔۔ہر ایک کے دل میں دوسرے کے لئے عزت اور محبت تھی۔۔۔۔

زندگی کسی کے لئے بھی خوشیاں ہی خوشیاں نہیں لاتی۔۔۔اود نہ ہی کسی کے لئے غم ہی غم لاتی ہے۔۔۔یہ کبھی اتنی خوشیاں دیتی ہے کہ انسان غم بھول جاتا ہے اور کبھی اتنا غم دیتی ہے کہ انسان کو لگتا ہے کہ اس کی زندگی میں خوشیاں کبھی آئی ہی نہیں۔۔۔۔زندگی کو خوش گوار خود بنایا جاتا ہے۔۔۔۔۔جس انسان نے جینے کا ہنر سیکھ لیا وہ انسان کامیاب ہوگیا۔۔۔۔اللہ کسی کو بھی اسکے نفس کی سکت سے زیادہ نہیں آزماتا۔۔۔۔محبت والوں کی سکت رب ہے!

کسی کے توڑنے پر جوابا اسے نہ توڑنا۔۔۔۔ کسی کے نیچا دکھانے پر اسے نیچا نہ دکھانا۔۔۔ کسی کے محروم کروانے پر اسے محروم نہ کروانا۔؟ نفس کو پار لگانے والی آزمائشیں بڑا راز بڑی قیمت رکھتی ہیں۔۔۔ رب صرف عزت دولت مال سے نہیں نوازتا (.جو از خود آزمائش ہیں)۔۔۔ رب دنیا کی ستم آمیز آزمائشوں پر صبر کی صورت اس سے بڑھ کر نوازتا ہے. اسکے بھید وہ ہی جانے۔۔۔ہمیں تو صرف صبر کر کے اپنا اللہ پر یقین ثابت کرنا ہے۔۔۔۔ وہ کس کے دنیا کے قتل کو اپنی نگاہ میں شہادت کرتا آخرت کی اپنی محبت کی سرفرازی سے نواز دے۔۔۔۔ وہ جسے آزمائش بنا کر بھیجتا تمہیں رلاتا ہے کجا خبر نہیں آنسوؤں پر صبر کی حد دیکھتے انہیں گوہر نایاب کر دے۔۔۔ تم پر رب کے سوا کوئی قابض نہیں۔۔۔ صرف اسکے قبضے میں قدرت ہے۔۔۔۔باقی جو اسکے امر میں کسی مکر سے مداخلت کرے رب اسے اسی کی اس جھوٹی خدائی میں الجھا دیتا ہے۔۔۔ تاآنکہ وہ سچا رجوع کر لے۔۔۔ سو اپنی راہ۔۔۔ اپنی نیت اپنے سچ

۔۔۔اپنی محبت سے سچے رہنا۔۔۔تم بس رب کو دیکھو رب سب دیکھ لے گا۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *