Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tere Ishq Sy Meri Zaat Tak (Episode 09)

Tere Ishq Sy Meri Zaat Tak by Ayesha Mughal

بلیک کلر کی مرسڈیز جسکے آگے پیچھے اور بھی بہت سی گاڑیاں تھیں ۔۔ساری گاڑیاں ایک دوسرے کے پیچھے تیز رفتار سے اس کشادہ سڑک پر دوڑ رہی تھیں۔۔جس میں بہت سے باڈی گارڈز الرٹ بیٹھے تھے ۔۔۔گاؤں سے نکل کر شہر کی حدود میں داخل ہوئیں ۔۔۔ جو بھی دیکھتا دنگ رہ جاتا تھا ۔۔۔تمام گاڑیاں ایک سے بڑھ کر ایک ماڈل کی تھیں۔۔۔۔اور ھیشم کے شان شایان شہر کی مہنگی ترین گاڑیاں تھیں۔۔۔

شہر کے مشہور و مہنگے ترین مال کے سامنے گاڑیوں کے چرچرائے ۔۔۔اور گارڈز ایک لمحے سے بھی پہلے گاڑیوں سے نکلے ۔۔۔اور جلدی سے ھیشم خان کی گاڑی کا دروازہ کھولا تھا۔۔۔

ھیشم خان اپنی شاندار پرسنلٹی لئے پوری شان سے گاڑی سے باہر نکلا۔۔۔بلیک تھری پیس سوٹ میں ملبوس آنکھوں پر بلیک گلاسز لگائے وہ بہت ہینڈسم لگ رہا تھا۔۔آج عائشے کے لاکھ منع کرنے کے باوجود ھیشم اسے شاپنگ پر لایا تھا۔۔۔وہ جانتا تھا عائشے کبھی خود سے نہیں بتائے گی کہ اسے کس چیز کی ضرورت ہے۔۔۔۔۔

وہ اپنی مخصوص چال چلتا ہوا گاڑی کی دوسری جانب آیا تھا۔۔۔اور گارڈ جو عائشے گل کی جانب کا دروازہ کھولنے کے لیے بڑھا ہی تھا ھیشم خان کی آواز پر اس کا بڑھتا ہوا ہاتھ وہیں رکا۔۔۔۔

“رک جاؤ۔۔۔ہم خود ہی کر لیں گے۔۔۔”اتنا کہہ کر ھیشم نے دروازہ کھولا تھا۔۔۔اور عائشے کا ہاتھ تھام کر اسے نکلنے میں مدد دی تھی ۔۔ھیشم کوگارڈ کا عائشے کےلئے دروازہ کھولنا ناگوار گزرا تھا۔۔عائشے کو تو اس وقت ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ کہیں کی شہزادی ہو اورھیشم اسکا شہزادہ۔۔۔

گارڈز خاموش کھڑے حیرانگی سے ھیشم کو یہ سب کرتے ہوئے دیکھ رہے تھے ۔۔۔۔وہ انسان جسنے آج تک اپنا کوئی کام خود نہیں کیا تھا وہ اپنی بیوی کے لئے یہ سب کر سکتا ہے یہ کہاں کسی نے سوچا تھا۔۔۔۔۔

“چلئے عائشے گل۔۔۔۔”ھیشم خان عائشے کو مخاطب کرتے ہوئے کہا جو ادھر ادھر دیکھنے میں مصروف تھی جبکہ چہرے پر خوف واضح تھا۔پیشانی پسینےسےتر تھی۔۔اس کا جسم ہولے ہوے کانپ رہا تھا۔۔ھیشم خان کی آواز پر ایک دم ہڑبڑا کر اس کی طرف دیکھا۔۔

“ہ۔۔ہا۔۔۔ہاں'”عائشے کی جانب سے ٹوٹا پھوٹا جواب آیا۔۔۔لہجے میں گھبراہٹ واضح تھی۔۔۔آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔۔۔

“کیا ہوا عائشے۔۔۔۔؟طبیعت تو ٹھیک ہے نا آپکی ۔۔۔؟؟”ھیشم نے فکر مندی سے پوچھا کیونکہ وہ اسے کہیں سے بھی نارمل نہیں لگ رہی تھی ۔۔۔

“وہ۔۔وہ۔۔مج۔۔مجھ۔۔مجھے بہت۔ڈ۔ڈر لگ رہا ہے ۔۔۔”اس کی نظریں اب بھی اردگرد کا جائزہ لے رہی تھیں۔۔۔

“کس بات کا ڈر عائشے گل۔۔۔؟؟”ھیشم نے پاس آتے ہوئے پوچھا۔۔۔

“و۔۔وہ اگ۔۔اگر پھ۔۔پھر سے کوئی م۔مجھے ۔۔۔”ابھی اس کی بات پوری بھی نہیں ہوئی تھی ھیشم نے اسے ٹوکا۔۔۔

“ایسا کبھی نہیں ہو گا عائشے گل۔۔۔اور ھیشم کے ہوتے ہوئے اگر کسی نے اس کی عائشے کو نظر اٹھا کر بھی دیکھا تو پھر وہ آنکھیں کبھی کچھ دیکھنے کے قابل نہیں رہیں گی ۔۔۔۔۔”ھیشم نے اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے کہا۔۔ اور اسے لئیے مال کے اندرونی دروازے کی جانب بڑھ گیا ۔۔۔ھیشم کے ہاتھ تھامنے سے عائشے کو کافی حوصلہ ہو ا تھا کیونکہ وہ جانتی تھی ھیشم اسکا ہاتھ کبھی نہیں چھوڑے گا ۔۔۔وہ دل ہی دل میں اللّٰہ کا شکر ادا کرتی ھیشم کے سنگ چل پڑی۔۔۔ھیشم کو دیکھتے ہی واچ مین جلدی سے مؤدب انداز میں کھڑا ہوا۔۔۔اور کانچ کا وہ بھاری دروازہ آگے بڑھ کر کھولا۔۔۔

ھیشم خان کے مال میں داخل ہوتے ہی مینیجر نے آگے بڑھ کر سلام کیا۔۔۔جس کا جواب ھیشم نے بہت عمدہ انداز میں دیا۔۔۔جہاں سب کی نظریں ھیشم کے آنے پر اٹھی تھیں وہیں اس کے ساتھ عائشے کو دیکھ کر سب نظریں جھکا چکے تھے کیونکہ وہ جانتے تھے ھیشم خان کے گھر کی عورت پر نظر ڈالنے کا کیا نتیجہ ہو سکتا ہے۔۔۔۔

ھیشم نے اپنی ہی پسند سے عائشے کو سب لے کر دیا تھا وہ تو بس کسی روبوٹ کی مانند اس کے ساتھ چل رہی تھی ۔۔۔۔ھیشم خان اسے لئے ایک جیولری شاپ میں داخل ہوا۔۔۔تب ہی اس کی نظر ایک بہت ہی حسین لاکٹ پر پڑی تھی ۔۔۔۔

“عائشے ۔۔۔کیسا لگ رہا ہے یہ ۔۔؟؟”ھیشم نے لاکٹ اس کے سامنے کرتے ہوئے کہا ۔۔۔

“ہممم۔۔بہت خوبصورت ہے۔۔۔”عائشے نے اس نازک سے لاکٹ کو ہاتھ میں تھامتے ہوئے کہا۔۔اتنا کہہ کر اس نے نظر اٹھا کر ھیشم کی طرف دیکھا کہ اس کی نظر سامنے لگے شیشیے میں نظر آتے چہرے پر پڑی اور تب ہی سامنے نظر آتے وجود کی نظریں بھی اس کی نظروں سے ٹکرائی تھیں ۔۔۔۔اسی پل عائشے کے ہاتھوں سے لاکٹ گر کر زمین کی نظر ہوا تھا۔۔۔اس کے چہرے پر ایک رنگ آ رہا تھا تو دوسرا رنگ جا رہا تھا ۔۔۔۔ھیشم خان نے ایک نظر ساتھ کھڑی عائشے کو دیکھا اور لاکٹ اٹھانے کے لیے جھکا لیکن جب واپس نظر اٹھائی تو عائشے کو نہ پا کر ھیشم کو اپنا دل ڈوبتا ہوا محسوس ہوا۔۔۔۔عائشے کو کھونے کا سوچ کر ہی ھیشم کو اپنے اندر زندگی ختم ہوتی ہوئی محسوس ہوئی تھی ۔۔۔۔ایک لمحے کی بھی دیر کئے بنا وہ عائشے کی تلاش میں شاپ سے فورا نکلا اور اب اس کی نظریں عائشے کوڈھونڈ رہی تھیں ۔اتنا تو اسے پتا تھا مال سے باہر نہیں جا سکتی وہ کیونکہ باہر اس کے گارڈز کی پوری فوج نگرانی کے لئے موجود تھی۔۔۔

🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹

آج روحی کالج نہیں آئی تھی اس لئے رباب اکیلی ہی کالج کے لان میں بیٹھے آس پاس سے بے خبر کتاب پڑھنے میں مصروف تھی۔۔۔وہ ایسی ہی تھی جب بھی کوئی کتاب پڑھنے بیٹھتی تو اس میں کھو سی جاتی تھی ۔۔۔اب بھی اسے نہیں پتا تھا اس کے ارد گرد کیا ہو رہا ہے ۔۔۔۔

“السلام علیکم ۔۔۔۔”حازم کی آواز پر اس نے چونک کر اس کی طرف دیکھا ۔۔۔۔

“وعلیکم السلام ۔۔۔۔”رباب نے جواب دیا ۔۔۔

“کیسی ہیں آپ۔۔۔۔”حازم نے اس کے برابر بیٹھتے ہوئے پوچھا ۔۔۔

“بہت بری ۔۔۔”رباب نے منہ بسورتے ہوئے کہا ۔۔

“وہ تو مجھے پتا ہے۔۔۔۔۔طبیعت کا پوچھا ہے میں نے ۔۔۔”سامنے بھی پھر حازم تھا ڈھیٹوں کا سردار ۔۔۔

“میں آپکو بتانا ضروری نہیں سمجھتی ۔۔۔”رباب نے تڑخ کر کہا۔۔۔۔

“خیر کچھ پوچھنا تھا آپ سے ۔۔۔۔”حازم نے اس کی بات کو اگنور کرتے ہوئے کہا ۔۔۔

“پر مجھے آپکو کچھ نہیں بتانا ۔۔۔سمجھے آپ۔۔؟؟اب جا سکتے ہیں آپ۔۔۔۔”رباب نے رخ موڑ کر کہا۔۔۔

“میں آج اپنی بات کا جواب لیے بنا نہیں جاؤں گا۔۔۔۔”حازم نے بھی ڈٹ کر مقابلہ کیا تھا۔۔۔

“تو ٹھیک ہے مت جائیے ۔۔میں ہی چلی جاتی ہوں ۔۔۔”رباب اتنا کہہ کر اٹھ کر جانے ہی لگی تھی کہ حازم نے آگے بڑھ کر اس کا راستہ روکا۔۔

“صرف اتنا بتا دو ۔۔۔۔کہ اگنور کیوں کر رہی ہو مجھے ۔۔۔جب بھی کوئی بات کرتا ہوں چلی جاتی ہو وہاں سے۔۔۔کیوں ۔۔؟؟”حازم نے بے بس لہجے میں کہا۔۔

“میں آپکو بتانے کی پابند نہیں ہوں ۔۔راستہ چھوڑیں میرا ۔۔ورنہ میں آپکی کمپلین کردوں گی پرنسپل سے۔۔۔”رباب نے اسے دھمکاتے ہوئے کہا ۔۔۔۔

“نہیں چھوڑوں گا راستہ ۔۔۔جس سے کہنا ہے کہہ دو ۔۔۔محبت کی ہے تم سے کوئی جرم نہیں کیا میں نے ۔۔۔”حازم نے مضبوط لہجے میں کہا۔۔

“جرم کیا ہے آپ نے حازم۔۔۔کس نے کہا تھا مجھ سے محبت کرنے کو۔۔۔کسی نے مجبور کیا تھا۔۔۔؟؟”رباب نے سوالیہ نظروں سے دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔۔

“کوئی جرم نہیں کیا میں نے ۔۔اور میرے دل نے محبت کی ہے تم سے اور ہمیشہ کرتا رہے گا۔۔۔”حازم نے دل پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا ۔۔۔

“بس کر دیں حازم۔۔۔یہ محبت وحبت کچھ نہیں ہوتی ۔ یہ سب ایک جھوٹ ہے۔ہے۔۔۔اور اگر کہیں غلطی سے سچی محبت ہو جائے نا تو اسے منزل کبھی نہیں ملتی۔۔۔اور یہ جو جدائی ہے نا اس کا محبت سے بہت پرانا یارانہ ہے جہاں یہ دیکھتی ہے محبت نے بسیرا کرلیا ہے وہاں یہ محبت کہ گلے آ لگتی ہے اور اتنی زور سے گلے لگتی ہے نا حازم کے محبت وہیں اپنا دم توڑ دیتی ہے وہ چاہ کر بھی سانس نہیں لے پاتی ۔۔۔۔کیوں آپ خود کو مشکل میں پھنسانا چاہتے ہیں ۔۔میرے پاس کچھ نہیں ہے آپکو دینے کے لیے ۔۔تو بہتر یہی ہے کہ بھول جائیں مجھے ۔۔۔۔”رباب نے اپنے لہجے کو مضبوط کرتے ہوئے کہا جبکہ دل چیخ چیخ کر حازم کی محبت کا طلبگار تھا۔۔۔اسے لگا کہ کوئی نمکین گولا اس کے گلے میں پھنس گیا ہے وہ حازم کے سامنے کمزور نہیں پڑنا چاہتی تھی ۔۔لیکن اب اس کی برداشت جواب دیتی جا رہی تھی ۔۔۔اسے لگ رہا تھا کہ اگر وہ تھوڑی دیر اور کھڑی رہی تو وہ رو دے گی اس لئے وہ جلد سے جلد یہاں سے چلی جانا چاہتی تھی ۔۔۔

“تم ایک دفعہ میری محبت کو قبول تو کرو رباب۔۔پھر دیکھنا ہم اپنی محبت کو وہاں لے جا کر بسائیں گے۔۔۔ جہاں جدائی اسے کبھی ڈھونڈ ہی نہیں پائے گی۔۔اور مجھے تم سے کچھ نہیں چائہیے بس تمہاری محبت چائہیے۔”حازم نے التجائیہ لہجے میں استفسار کیا۔۔۔

“حازم پلیز میں ریکوئسٹ کر رہی ہوں ۔۔پلیز میرا راستہ چھوڑ دو تمہیں اللّٰہ کا واسطہ ہے۔۔۔”رباب نے منت کرتے ہوئے کہا ۔۔۔کیونکہ اب وہ بے بس ہوتی جا رہی تھی حازم کے سامنے اور یہ غلطی وہ کب نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔۔۔

“ٹھیک ہے جانا چاہتی ہو نا جاؤ۔۔پر دیکھنا ایک دن میری محبت کی شدت تمہیں مجبور کردے گی میری محبت کو قبول کرنے پر ۔۔۔یہ وعدہ ہے میرا تم سے رباب ملک۔۔۔۔”حازم نے اس کا راستہ چھوڑتے ہوئے کہا۔۔۔جبکہ الفاظ کی مضبوطی سے تو رباب بھی خائف ہو گئی تھی ۔۔۔۔نا جانے کیا ہو گا۔۔۔۔یا اللّٰہ پلیز ۔۔۔”حازم کے دل سے میری محبت مٹادے”

۔۔۔وہ دل میں دعا کرتی جلدی سے آگے بڑھ گئی ۔۔۔۔حازم کی نظروں نے دور تک اس کا پیچھا کیا تھا۔۔۔۔آج پھر ناکامی کو فخر سے اپنے کندھوں پر اٹھائے وہ اپنے آشیانے کی طرف لوٹا تھا۔۔۔پر ارادوں میں پختگی مزید بڑھ گئی تھی ۔۔۔۔

🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹

عادل خان کی بےچینی دن بدن بڑھتی جا رہی تھی ۔۔وہ چاہ کر بھی کچھ نہیں کر پا رہا تھا۔۔۔۔اب بھی وہ پریشانی کے عالم میں کمرے میں یہاں سے وہاں ٹہل رہا تھا ۔۔۔۔جب نسرین بیگم اس کے کمرے میں آئی تھیں ۔۔۔۔اور اسے یوں پریشان دیکھ کر فکر مند لہجے میں گویا ہوئیں ۔۔۔

“کیا ہوا بیٹا ۔۔۔اتنا پریشان کیوں ہے۔۔۔؟؟”

“یہ بات آپ لوگ مجھ سے نہ ہی پوچھیں تو اچھا ہے۔۔۔۔آپ اچھے سے جانتی ہیں میری اس حالت کے ذمے دار آپ لوگ ہی ہیں ۔۔۔۔”عادل خان نے انہیں باور ک

کرواتے ہوئے کہا۔۔۔

“ہاں جانتی ہوں میں ۔۔۔تمہاری اس حالت کی ذمے دار صرف اور صرف وہ منحوس لڑکی ہے۔۔کیا حالت بنا دی ہے اس نےمیرے بیٹے کی۔۔۔۔”نسرین بیگم نے اس کے بکھرے بالوں کو ہاتھوں سے سنوارتے ہوئے نخوت سے کہا ۔۔۔

“بس کردیں امی۔۔۔۔اگر آپ یہاں عائشے کو برا بھلا کہنے آئی ہیں تو میں آپ کے آگے ہاتھ جوڑتا ہوں چلی جائیں یہاں سے کیونکہ میں نہیں چاہتا میں آپکے ساتھ بدتمیزی کروں لیکن اگر آپ نے اب عائشے کے بارے میں کچھ اور برا کہا تو پھر مجھ سے لحاظ کی امید مت رکھئیے گا۔۔۔۔”عادل خان نے بے بس لہجے میں کہا لیکن وارن کرنا نہیں بھولا تھا۔۔۔

“کتنا بدل گیا ہے تو عادل خان ۔۔۔آج اس دو کوڑی کی لڑکی کے لیے تو اپنی ماں کو آنکھیں دکھا رہا ۔۔۔کیا یہی سکھایا ہے تجھے میری تربیت نے۔۔۔۔؟؟؟”نسرین بیگم نے جذبات کا سہارا لے کر وار کیا۔۔۔۔

“دو کوڑی کی وہ نہیں بلکہ دو کوڑی کی آپ لوگوں کی سوچ ہے۔۔۔۔کیا کچھ نہیں کیا تھا آپ لوگوں نے اس کے ساتھ ۔۔۔کچھ بھی چھپا ہوا نہیں ہے مجھ سے۔۔۔۔۔کم از کم اور نہیں تو انسانیت کے ناطے ہی اچھا سلوک کر لیا ہوتا۔۔۔پر یہاں انسانیت ہے کس میں ۔۔۔؟؟؟”عادل خان نے انہیں صاف صاف آئینہ دکھا کر نخوت سے رخ موڑ لیا۔۔۔۔نسرین بیگم کو عادل خان کے الفاظ تیربن کر لگے تھے ۔۔۔۔اور اس کے رخ موڑ کر کھڑے ہونا انہیں مزید طیش دلا گیا۔۔۔

“مجھے تم سے یہ امید نہیں تھی عادل۔۔۔”اتنا کہہ کر نسرین بیگم پاؤں پٹختی جلتی کڑھتی وہاں سے نکلتی چلی گئیں جبکہ عادل خان پھر سے عائشے کو واپس حویلی لانے کے منصوبے پر غوروفکر کرنے لگا۔۔۔۔۔

🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹

وہ دونوں جیسے ہی گھر میں داخل ہوئے روحی سامنے صوفے پر منہ لٹکائے بیٹھی تھی ۔۔۔

“کیا ہوا روحی۔۔۔۔؟؟؟منہ کیوں لٹکا رکھا ہے میری گڑیا نے۔۔۔”ذیان نے اس کے پاس بیٹھتے ہوئے پیار سے پوچھا۔۔۔۔

“بھائی وہ مجھے عائشے بھابھی کی یاد آ رہی ہے پورے پانچ گھنٹے ہو گئے ہیں انہیں گئے۔۔۔۔”روحی نے معصومیت سے کہا۔۔۔

“تو اس میں اداس ہونے کی کیا بات ہے شاپنگ پر ہی تو گئی ہیں آجائیں گی شام تک۔۔۔۔” ذیان نے اسے پیار سے سمجھایا ۔۔۔

“حد ہو گئی روحی۔۔۔میں تو سمجھا ناجانے ایسا کیا ہو گیا جو ہاتھی جتنا منہ سجا رکھا ہے۔۔۔ویسے میں جانتا تھا کہ کوئی فضول ہی بات ہو گی۔۔۔چوہیا جتنا تو دل ہے تمہارا ۔۔۔۔”اس سے پہلے کہ روحی کچھ کہتی حازم جو بولنے کے لیے ہمیشہ تیار رہتا تھا اس نے بولنا لازمی سمجھا ۔۔۔۔

“اب اگر تم نے مجھے چوہیا کہا ناں تو اچھا نہیں ہو گا۔۔۔۔”روحی اب سب دکھ درد بھلا کر میدان میں آچکی تھی وہ ایسی ہی تو تھی چھوٹی چھوٹی باتوں پر خوش ہو جانے والی اور چھوٹی چھوٹی باتں پر اداس ہو جانے والی۔۔ ۔۔اور حازم یہی تو چاہتا تھا وہ اسے یوں اداس کیسے دیکھ سکتا تھا ۔۔۔اسی سے تو رونق تھی اس بڑی سی حویلی میں ۔۔۔۔اور وہ اپنے مقصد میں کافی حد تک کامیاب ہو چکا تھا ۔۔۔وہ ہمیشہ اسے ہنستے ہوئے دیکھنا چاہتا تھا۔۔۔وہ سب ہنسانا تو جانتا ہی تھا لیکن اپنے غموں کو چھپانے میں بھی اسے مہارت حاصل تھی۔۔۔۔

“ہائے اللّٰہ کیا دور آگیا ہے لوگ اپنی اصلیت ماننے سے انکاری ہیں ۔۔استغفر اللّٰہ ۔۔۔اب چوہیا کو چوہیا نہ بولے تو کیا بولے بندہ ۔۔۔؟؟”حازم نے کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے کمال کی ایکٹنگ کی ۔۔

“حازم ۔۔۔اب تم پٹو گے مجھ سے۔۔۔۔چپ ہو جاؤ۔۔۔ہاں اب زیادہ ہو رہا ہے ۔۔۔”روحی نے شہادت کی انگلی دکھاتے ہوئے کہا۔۔۔

“ہائییی۔۔۔میں تو ڈر گیا۔۔۔”حازم نے ڈرنے کا ناٹک کیا۔۔۔۔

“بس کر دے حازم ۔۔۔کیا ہر وقت تنگ کرتا رہتا ہے ۔۔۔”ذیان نے ایک مکا اس کی کمر پر رسید کرتے ہوئے کہا۔۔

“کمر توڑے گا کیا۔۔۔خود کو دیکھ اور مجھے دیکھ کھا کھا کر پتا نہیں کتنے رقبے کی زمین پر قبضہ کر چکا۔۔۔دن بدن پھیلتا جا رہا ۔۔۔پھٹ مت جانا کسی دن۔۔۔”حازم نے اسکے کھانے پر چوٹ کرتے ہوئے کہا جو اب بھی ہاتھ میں پکڑے سیب کے ساتھ انصاف کر رہا تھا ۔۔۔

“اتنا بھی موٹا نہیں ہوں میں۔۔۔سمجھا ۔۔۔اب بندہ کھائے بھی نہ ۔۔۔”زیان نے خفا ہوتے ہوئے کہا۔۔۔

“چل تونے اتنا تو مانا کہ تو موٹا ہے۔۔۔”حازم نے زوردار قہقہہ لگاتے ہوئے کہا۔۔۔اس سے پہلے کہ یہ جنگ مزید بڑھتی جینی کی آواز پر تینوں اس کی طرف متوجہ ہوئے۔۔۔۔

“آجاؤ گائز ۔۔۔کھانا بن چکی ہے ۔۔۔۔”جینی کو اردو بولنا دنیا کا مشکل ترین کام لگتا تھا۔۔۔۔اور جب بھی بولتی تو ان تینوں کا قہقہ ضرور بلند ہوتا تھا۔۔۔پر جینی نے کبھی ان کی باتوں کا برا نہیں مانا۔۔۔۔کیونکہ وہ تینوں اسکے دل کے بہت قریب تھے۔۔۔۔اور اس کا ان کے علاوہ تھا ہی کون۔۔۔۔۔۔۔

‘”آرہے ہیں جینی ڈارلنگ۔۔۔۔”حازم نے اسے اسی کے انداز میں جواب دیا۔۔۔۔اور تب ہی تینوں زور سے قہقہ لگاتے ڈائننگ ٹیبل کی جانب بڑھ گئے اور اب بھی ان میں سب سے آگے ذیان ہی تھا۔۔۔۔کھانے کا دیوانہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *