Tere Ishq Sy Meri Zaat Tak by Ayesha Mughal NovelR50552 Tere Ishq Sy Meri Zaat Tak (Episode 13)
Rate this Novel
Tere Ishq Sy Meri Zaat Tak (Episode 13)
Tere Ishq Sy Meri Zaat Tak by Ayesha Mughal
“آپ۔۔؟؟”عائشے نے سامنے کھڑے عادل کو دیکھ کر چلاتے ہوئے کہا۔۔۔۔
“ہاں میں۔۔۔عائشے تم ٹھیک تو ہو نا۔۔۔؟؟میں جانتا ہوں ابا نے تمہارے ساتھ زیادتی کی ہے۔۔میں تمہیں بچانے آیا ہوں۔۔۔اور دیکھنا میں تمہیں یہاں سے نکال کرضرور لے جاؤں گا۔۔۔۔”عادل نے ایک ہی سانس میں سب کہہ دیا ۔۔۔یہ تو وہی جانتا تھا کہ عائشےکو دیکھ کر اسے کتنا سکون ملا تھا۔۔۔اور عائشے تو بس ساکت کھڑی اس کی باتیں سن رہی تھی۔۔۔۔اسے اب تک یقین نہیں آرہا تھا کہ سامنے کھڑا انسان عادل خان ہے۔۔۔۔اسے لگا وہ کوئی خواب ہے وہ جیسے ہی آنکھ جھپکے گی وہ خواب پل بھر میں ٹوٹ جائے گا۔۔۔۔کہ تبہی عادل نےاسے کندھوں سے پکڑ کر جھنجوڑا۔۔۔
“عائشے میں جانتا ہوں تم بہت تکلیف میں ہو لیکن اب ڈرو نہیں میں آگیا ہوں اور تمہیں اپنے ساتھ لے کر ہی جاؤں گا۔۔۔۔”عادل خان نے نرم لہجے میں کہا۔۔۔جبکہ ارادوں کی پختگی لہجے میں واضح تھی۔۔۔۔
“لیکن میں آپ کے ساتھ نہیں جاؤں گی۔۔۔۔”عائشے نے اپنے کندھے پر رکھے اس کے ہاتھ ہٹاتے ہوئے کہا۔۔۔۔عائشے کی بات سن ک عادل خان کو جھٹکا لگا تھا لیکن اگلے ہی پل وہ خود کو سنبھالتے ہوئے گویا ہوا۔۔۔
“میں جانتا ہوں اس انسان نے تمہیں ڈرایا ہوا اسلئے تم ایسا کہہ رہی ہو۔۔۔۔۔”عادل خان نے پھر سے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے پر یقین لہجے میں کہا۔۔۔اب کی بار عائشے نے سختی سے اس کا ہاتھ اپنے کندھے سے ہٹایا۔۔۔
“آپ کو میری بات سمجھ نہیں آتی۔۔۔؟؟جب میں نے کہہ دیا کہ میں یہاں سے کہیں نہیں جاؤں گی تو مطلب کہیں نہیں جاؤں گی۔۔۔۔اور پلیز یوں بار بار ہمیں ہاتھ مت لگائیں کیونکہ اب میں کسی اور کی بیوی ہوں اس کی عزت ہوں۔۔۔اب میرا آپ سے کوئی رشتہ نہیں ہے۔۔۔۔”عائشے نے سخت لہجے میں کہا۔۔۔۔عائشے کے الفاظ تھے یا تیر تھے جو عادل کا سینہ چیر گئے تھے۔۔۔
“میں جانتا ہوں عائشے ھیشم خان سے تمہارا نکاح زبردستی کروایا گیا ہے۔۔۔تمہاری اس میں کوئی رضامندی نہیں تھی۔۔۔”عادل خان نے لہجے کو مضبوط کرتے ہوئے کہا وہ اتنی جلدی ہار نہیں ماننا چاہتا تھا۔۔۔۔
“اگر آپ اتنا کچھ جان ہی گئے ہیں تو یہ بھی جان لیجیئے کہ اب میں ھیشم خان کے ساتھ بہت خوش ہوں ۔۔۔۔”عائشے نے تڑخ کر کہا۔۔۔
“تم جھوٹ بول رہی ہو عائشے۔۔۔۔”عادل نے اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔۔اس کی بات پر عائشے نے اس کے اردگرد گھومتے ہوئے تالیاں بجاتے ہوئے کہا۔۔۔
“واہ عادل خان واہ۔۔۔۔ہمیشہ جو آپ لوگ بولتے ہیں وہ سچ ہوتا ہے اور اگر میں کچھ بولوں تو وہ جھوٹ۔۔۔اس دن میں آپکے ابا کو یقین دلاتی رہی اپنی پاکیزگی کا انہوں نے یقین نہیں کیا اور چونکہ انکی غیرت نے یہ گوارا نہیں کیا تو وہ مجھے یہاں کسی غیر انسان کے آسرے پر چھوڑ کر چلے گئے۔۔۔اور آج جب میں آپ سے کہہ رہی ہوں کہ میں ھیشم خان کے ساتھ خوش ہوں تو آپ کیوں میری خوشیوں کوتباہ کرنے میں لگے ہیں ۔۔۔۔کیا کوئی کھلونا ہوں میں جس کا دل کیا اٹھا لیا اور جسکا دل کیا پھینک دیا۔۔۔۔۔”عائشے نے رندھے ہوئے لہجے میں کہا۔۔۔اسکی آنکھوں میں درد ہی درد تھا۔۔۔چہرے پر پھیلا کرب عادل خان باآسانی دیکھ سکتا تھا۔۔۔۔
“عائشے۔۔۔میری بات سنو ۔۔تم مجھے غلط سمجھ رہی ہو میرا یہ مطلب ہر گز نہیں تھا۔میں بس تمہیں خوش دیکھنا چاہتا ہوں۔۔۔۔۔”عادل خان نے اپنی بات کی وضاحت دی۔۔۔
“تو میں خوش ہوں ہیشم کے ساتھ آپکے۔۔۔۔اور آپ کیوں آئے ہیں یہاں ۔۔۔بہتر ہے کہ آپ چلے جائیں۔۔۔”عائشے نے اتنا کہ کر منہ پھیر لیا۔۔اور عائشے کا یہ رویہ اسے بہت تکلیف دے رہا تھا۔۔۔۔
“تم ایسا کیسے کہہ سکتی ہو۔۔۔؟؟میں وہی عادل ہوں جس سے تم محبت کرتی تھی۔۔اتنی جلدی کیسے بھول سکتی ہو تم۔۔؟؟؟”عادل نے اسکے سامنے آتے ہوئے بے بسی سے پوچھا۔۔۔
“میں نے آپ سے کب کہا تھا کہ میں آپ سے محبت کرتی ہوں۔۔۔؟؟؟”عائشے نے غصے سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔۔۔
“میں نے خود دیکھا ہے ۔۔۔محسوس کیا ہے۔۔۔۔”عادل خان نے لہجے میں نرمی لاتے ہوئے کہا۔۔۔۔
“آپ غلط کہہ رہے ہیں ہیں عادل ۔۔۔میں آپ سے محبت نہیں آپکا احترام کرتی تھی ۔۔۔۔”عائشے نے صاف گوئی سے کام لینا مناسب سمجھا۔۔۔
“ایسے میرے جذبوں کو مت ٹھکراؤ۔۔۔بس ایک دفعہ میرےساتھ چلو واپس ۔۔۔۔ھیشم خان سے میں خود نپٹ لوں گا۔۔۔۔”عادل نے عائشے کا ہاتھ تھامتےہوئے کہا۔۔۔۔
“میں آپکےس۔۔سا۔۔۔تھ۔۔”اس سے پہلے عائشے اس سے آگے کچھ بولتی اس کی نظر دروازے پر کھڑے ھیشم خان پر پڑی جوکسی کام کے سلسے میں جلدی آیا تھا۔۔۔۔۔اس وقت عائشے کو اپنے پاؤوں سے زمین نکلتی ہوئی محسوس ہوئی۔۔۔۔عائشے کے چہرے پر غصے کی جگہ خوف پھیلا تھا کہ کہیں ھیشم خان اسے غلط نہ سمجھ لے۔۔۔عائشے کا ہاتھ اب بھی عادل کے ہاتھ میں تھا۔۔۔۔عادل خان کی ھیشم کی طرف پیٹھ تھی اس لئے وہ اسے دیکھ نہیں پایا تھا۔۔۔۔ھیشم خان شعلہ برساتی نگاہوں سے عائشے کے ہاتھ کی طرف دیکھ رہا تھا جو عادل نے اب تک نہیں چھوڑا تھا۔۔۔اور تبہی وہ غصے کے عالم میں تیزی سے آگے بڑھا تھا اور عائشے ک ہاتھ زور سے پکڑ کر عادل کی گرفت سے آزاد کیا ۔۔۔ھیشم خان کی گرفت اسکے ہاتھ پر بہت سخت تھی جسکی وجہ عائشے کے ہاتھ پر سرخ نشان پڑ چکاتھا اور وہ درد سے کراہی لیکن اسوقت ھیشم کو ہوش کہاں تھا اسے یاد تھا تو صرف عادل خان کے ہاتھ میں عائشے کاہاتھ۔۔۔۔ اس سے پہلے کہ عادل کچھ سمجھ پاتا ھیشم خان نے ایک زوردار مکا اس کے منہ پر مارا۔۔۔۔جسکی وجہ سے وہ لڑکھڑاتا ہوا زمین پر گر گیا۔۔۔۔۔ہونٹ پھٹنے کی وجہ سے خون بہنے لگا تھا۔۔۔۔
“کون ہوتم۔۔۔؟؟؟اور تمہاری ہمت کیسےہوئی عائشے گل کاہاتھ پکڑنے کی۔۔۔اب ہم تمہارا ہاتھ ہی توڑ دیں گے جس ہاتھ سے تم نے عائشے گل کا ہاتھ پکڑا تھا۔۔۔۔”ھیشم خان غصے سے غرایا۔۔۔۔اور ابھی عادل خان کو مارنے کے لئے دوبارہ آگے بڑھا ہی تھا کہ عائشے گل نے جلدی سے بازو سے پکڑ کر روکا۔۔۔۔
“رکیں۔۔۔۔مت ماریں انہیں۔۔۔۔”عائشے گل کی آنکھوں سے آنسو مسلسل بہہ رہے تھے۔۔۔اسکے جواب میں ھیشم نے غصے سے اس کی طرف دیکھا۔۔۔۔۔اور اسے نظر انداز کرتا پھر سے عادل خان کی طرف بڑھا۔۔۔۔جو زمین پر گرا اپنے پھٹے ہونٹ سے بہتے خون کو صاف کر رہا تھا۔۔۔
“پلیز مت ماریں انہیں۔۔۔۔اور اگر آپ نے انہیں مارا تو میں چلی جاؤں گی ان کے ساتھ واپس۔۔اور کبھی لوٹ کر نہیں آؤں گی۔۔۔۔۔۔۔”عائشے نے اسے دھمکی دیتے ہوئے کہا اسے اس وقت اور کوئی راستہ نظر نہیں آرہا تھا اسے روکنے کا۔۔۔عائشے کی بات پر ھیشم اچانک رکا اور عائشے کی جانب سوالیہ نظروں سے دیکھا۔۔۔۔ اورعائشے کو پتا تھا کہ وہ کیا جاننا چاہتا ہے۔۔۔۔اس لئے لمحے کی بھی دیر کئے بنا بولی ۔۔۔
“ی۔۔یہ عاا۔۔۔دل خان ہیں۔۔۔میرے چچ۔۔۔چچا کک۔کے بیٹے۔۔۔۔۔”عائشے نے ہکلاتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔رونے کی وجہ سے اس سے بولا بھی نہیں جا رہا تھا۔۔۔اور ھیشم خان کو اس کی بات سن کر جھٹکا لگا تھا۔۔۔تب ہی اس نے ایک نظر عادل پر ڈالی اور دوسری نظر عائشے پر ڈالتا لمبے لمبے ڈگ بھرتا وہاں سے نکلتا چلا گیا وہ جانتا کہ وہ اگر کچھ دیر اور ٹھہرا تو وہ عادل کا حشر بگاڑنے پر خود پر قابو نہیں رکھ پائے گا اور عائشے کو وہ کسی قیمت پر کھونا نہیں چاہتا تھا۔۔۔۔ھیشم خان کے جانے کے بعد عائشے نے غصے سے ھیشم خان کی طرف دیکھا اور ملازم کو پکارا ۔۔۔
“انہیں مہمان خانے میں لے جائیے۔۔۔۔”عائشے ملازم سے کہہ کر عادل سے گویا ہوئی۔۔۔
“آپکے لئے بہتر ہوگا کہ آپ گیسٹ روم میں ہی رہیں اور کل تک یہاں سے چلے جائیں۔۔۔۔”اتنا کہہ کر عائشے بنا اس کا جواب سنے وہاں سے نکلتی چلی گئی۔۔۔۔۔














وہ جیسے ہی کالج پہنچی سامنے کا منظر دیکھ کر اسکے قدم وہیں تھمے تھے۔۔۔۔سامنے کالج کی چھت پر کھڑے حازم کو وہ آنکھیں پھاڑے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔اسے لمحہ لگا تھا سب سمجھنے میں۔۔۔۔تب ہی حازم کی نظر اس پر پڑی تو وہ چلایا۔۔۔۔
“آئی لو یو رباب۔۔۔”رباب یوں کھلے عام اظہار پر گڑبڑا گئی۔۔۔۔روحی نے اس دن رباب والی پوری بات اسے بتائی تھی کہ رباب کسی بھی طرح نہیں مان رہی ۔۔۔۔اس کے بعد بھی حازم نے کئی بار کوشش کی تھی لیکن رباب نے تو جیسے قسم کھائی تھی نہ ماننے کی تو مجبورا حازم کو یہ قدم اٹھانا پڑا ایسی گھٹیا عاشقوں والی حرکت کرتے ہوئے اسے خود بھی اچھا نہیں لگ رہا تھا لیکن وہ مان بھی تو نہیں رہی تھی۔۔۔اگر بات صرف اس کی اپنی زندگی کی ہوتی تو وہ شاید کبھی ایسا نہ کرتا لیکن رباب اس گھٹیا انسان سے شادی کر کے اپنی خود کی زندگی داؤ پر لگا رہی تھی وہ یہ بات کیسے برداشت کر سکتا تھا۔۔۔تو مجبورا اسے یہ سب کرنا پڑا ۔۔۔اس نے رحاب سے پہلے ہی بول دیا تھا رباب کو جلدی کالج بلانے کا کیونکہ اس وقت کم ہی اسٹوڈنٹس ہوتے تھے اور ابھی ٹیچرز کے آنے میں بھی کافی ٹائم تھا۔۔۔۔۔
“میں تم سے بہت محبت کرتا ہوں رباب ۔۔۔۔اور میں جانتا ہوں تم بھی مجھ سے محبت کرتی ہو۔۔۔۔میں نے اتنی دفع کوشش کی لیکن تم کسی طور نہیں مانی جسکی وجہ سے مجبورا مجھے یہ سب کرنا پڑا ۔۔۔اور اگر آج تم نہیں مانی تو میں یہاں سے چھلانگ لگا دوں گا۔۔۔۔”حازم نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے مضبوط لہجے میں کہا۔۔۔۔
“حازم یہ پاگلوں والی حرکتیں مت کرو ۔۔نیچے آؤ۔۔”رباب نے فکر مند لہجے میں کہا۔۔۔لیکن اسے مایوسی ہوئی تھی اس نے کبھی ایکسپیکٹ نہیں کیا تھا کہ حازم ایسی حرکت بھی کر سکتا ہے۔۔۔۔
“نہیں رباب میں تب تک نہیں آؤں گا جب تک تم میری محبت کو قبول نہیں کروگی۔۔۔۔”حازم نے پختہ لہجے میں کہا ۔۔۔۔وہ آج کسی بھی طرح ہارنا نہیں چاہتا تھا۔۔۔۔
“تو ٹھیک ہے کود جاؤ۔۔۔۔مجھے فرق نہیں پڑتا۔۔۔اور اگر تمہیں لگتا ہے کہ ایسے سب کے سامنے تماشہ کر کے تم مجھ سے قبول کروا لو گے تو یہ تمہاری غلط فہمی ہے۔۔۔۔”رباب نے تڑخ کر کہا ۔۔۔۔اسے لگا کہ حازم بس اسے منانے کے لئے یہ سب کررہا ہے اسلئے بظاہر بے حسی سے بولی لیکن دل میں کہیں ڈر تھا کہ کہیں وہ سچ میں ہی چھلانگ نہ لگا دے۔۔۔حازم کو اس کے الفاظ دل پر لگے تھے ۔۔۔۔
“تو ٹھیک ہے رباب ۔۔۔گڈ بائے اپنا خیال رکھنا۔۔۔۔۔”حازم نے اتنا کہہ کر ایک قدم بڑھایا ہی تھا کہ رباب چلائی۔۔۔۔
“نہیں حازم ۔۔۔پلیز ایسا مت کرو ۔۔۔ہ۔۔۔ہا۔۔ہاں میں تمہاری محبت کو قبول کرتی ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”رباب نے روتے ہوئے کہا۔۔۔اس کے الفاظ حازم کو اندر تک پر سکون کر گئے تھے تب ہی اس کے لبوں کو مسرور مسکراہٹ نے چھوا ۔۔۔۔اس سے خوشی سنبھالے نہیں سنبھل رہی تھی۔۔۔۔
“ایک دفعہ بولو رباب کہ تم بھی مجھ سے محبت کرتی ہو۔۔۔۔”حازم نے چلاتےہوئے کہا۔۔۔۔
“ہہ۔۔ہا۔۔ہاں میں بھی تم سے محبت کرتی ہوں ۔۔۔اب پلیز آجاؤ۔۔۔۔”رباب نے ہار مانتے ہوئے کہا۔۔۔اس کے منہ سے یہ الفاظ سن کر حازم بھاگتے ہوئے نیچے آیا۔۔۔۔
“تھینک یو رباب ۔۔۔تم سوچ بھی نہیں سکتی آج تم نے مجھے کتنی بڑی خوشی دی ہے۔۔۔۔”حازم نے اس کے پاس پہنچتے ہوئے کہا۔۔۔
“لیکن حازم مجھے تم سے یہ امید نہیں تھی۔۔۔۔”رباب نے مایوس لہجے میں کہا۔۔۔
“سوری رباب میں خود ایسا نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔۔۔۔۔”حازم اپنی حرکت پر شرمندہ لہجے میں جھکی نظروں سے کہا۔۔۔
“اچھا ابھی تو بڑے بہادر بنے مجھے پرپوز کر رہے تھے اور مرنے کی دھمکیاں دے رہے تھے۔۔۔اور اب بزدلوں کی طرح نظریں جھکائے کھڑے ہو۔۔۔۔”رباب کو اس کا یوں شرمندہ ہونا بلکل اچھا نہیں لگ رہا تھا۔۔۔۔۔
“جب بھی ملو تو نظریں اٹھا کر ملا کرو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“مجھے پسند ہے تمہاری نظروں میں اپنا آپ دیکھنا۔۔”
رباب نے اسے دیکھتے ہوئے شعر عرض کیا۔۔۔اور اس کے شعر پر حازم نے اپنی جھکی نظریں اٹھا کر اسکی طرف شرارت سے دیکھا۔۔۔۔
“واہ بھئی لوگ تو اب شاعری بھی کرنے لگے ہیں۔۔۔ہمیں تو پتا ہی نہیں تھا ۔۔۔۔”حازم نے شوخی سے کہا۔۔۔۔اور اس کی بات پر رباب نے قہقہ لگایا۔۔۔۔اور حازم تو بس اس کو ہنستا ہوا دیکھ رہا تھا۔۔۔اور تب ہی روحی کی آواز پر ان دونوں نے اس کی طرف دیکھا۔۔۔
“اہہممم اہمممم۔۔۔اہہہممم۔۔۔۔بس کر دو اب تم دونوں۔۔۔ تھوڑی دیر پہلے مر رہے تھے اور اب پاگلوں کی طرح ہنس رہے ہو۔۔۔۔”روحی کی بات پر دونوں نے ٹھٹک کر اس کی طرف دیکھا۔۔۔۔اور پھر دونوں نے دوبارہ زوردار قہقہ لگایا ۔۔۔۔روحی ان کے اس طرح ہنسنے پر خفا نظروں کو دیکھنے لگی۔۔۔جب رباب نے اس کے سر پر ہلکی سی چپت لگائی۔۔۔۔
“بعد میں خفا ہونا ۔۔۔چلو اب کلاس اسٹارٹ ہونے والی ہے۔۔۔۔”رباب اس کا ہاتھ پکڑ کر جانے لگی جب حازم منہ بناتے ہوئے کہا۔۔۔
“تسی جارے او۔۔۔۔(آپ جا رہے ہیں)۔۔۔۔؟؟”رباب نے اثبات میں سر ہلایا۔۔۔
“تسی نہ جاؤ۔۔۔۔(آپ نہیں جائیں۔۔۔)؟؟”حازم نے بچوں کی طرح ایکٹنگ کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔
“او بس کردو ڈرامے کی دکان۔۔۔۔۔صبر کرو ھیشم بھائی کو بتاؤں گی کی کالج میں کیا کرتے پھر رہے ہو۔۔۔”روحی نے اسے دھمکی دی اور اس سے پہلے حازم کوئی جواب دیتا کالج کی بیل بجی تھی تو اسے اشارے سے وارن کرتا اپنی کلاس کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔وہ دونوں بھی ہلکی پھلکی گپ شپ کرتیں کلاس کی جانب بڑھ گئیں۔۔۔۔۔













کلاس کا ٹائم ہونے والا تھا۔۔۔ذیان گھڑی پر ٹائم دیکھتا کلاس روم کی طرف بڑھ گیا۔۔۔ابھی وہ سیڑھیوں سے اوپر جا ہی رہا تھا کہ سامنے سے آتی اپنے بیگ کو سنبھالتی ہاتھ میں جوس کا ڈبہ لئے زویا اس سے ٹکرائی جس کی وجہ سے ہاتھ میں پکڑا جوس ذیان کی شرٹ پر گرا۔۔۔۔
“اندھی ہو۔۔۔۔یہ آنکھیں تمہیں کس لئے دیں ہیں اللہ نے ۔۔۔۔؟؟اگر تمہیں ان کا استعمال کرنا نہیں آتا تو کسی اندھے کو ہی ڈونیٹ کر دو۔۔۔کم از کم اس کا بھلا ہوجائے گا۔۔۔۔”ذیان اپنی شرٹ پر لگے جوس کے نشان کو دیکھ کر اے کاٹ کھانے کو دوڑا۔۔۔زویا انگلی اٹھا کر کچھ بولنے ہی لگی تھی کہ رک گئی۔۔۔اسکے لئے ضبط کرنا بہت مشکل ہو رہا تھا۔۔۔۔مگر اپنا پلان سوچتے ہوئے اپنا غصہ کنٹرول کر گئی۔۔۔۔۔
“سوری۔۔۔۔میں نے جان بوجھ کر نہیں کیا۔۔۔”زویا نے معصوم بنتے ہوئے کہا۔۔۔۔جبکہ دماغ شیطانی چال چلنے میں مصروف تھا۔۔۔
ذیان حیران پریشان کھڑا اسے ساکت نظروں سے دیکھ رہا تھا اس کا بدلتا رویہ ذیان کو شش و پنج میں مبتلا کر گیا۔۔۔
“میں شرمندہ ہوں اپنے رویے پر۔۔۔مجھے اس دن آپ سے بدتمیزی نہیں کرنی چاہیے تھی۔۔مائی نیم از زویا خان۔۔۔۔”اس نے ذیان کی طرف ہاتھ بڑھایا۔۔۔
ذیان خواب کی سی کیفیت میں کھڑا اسے دیکھ رہا تھا۔۔اتنی بگڑی ہوئی لڑکی اچانک اتنا کیسے بدل سکتی ہے۔۔۔۔
“سوری میں گرلز سے دوستی نہیں کرتا۔۔۔۔”ذیان اس کے بڑھے ہوئے ہاتھ کو اگنور کر کے واشروم کی جانب بڑھ گیا تاکہ شرٹ پر لگا جوس کا نشان صاف کر سکے۔۔۔زویا نے اپنے بڑھے ہوئے ہاتھ کو غصے سے دیکھا ۔۔۔ذیان جا چکا تھا۔۔۔
“آج تک کسی نے میری بے عزتی نہیں کی۔۔۔۔”اس نے غصے سے مٹھیاں بھینچی ۔۔۔۔”اس کا بدلہ تو تمہیں چکانا ہی پڑے گا مسٹر ذیان”وہ دل ہی دل میں خود سے مخاطب تھی۔۔۔۔غصے کی شدت کی وجہ سے اس کا پورا چہرہ سرخ ہو رہا تھا۔۔۔۔۔اپنے غصے کو ضبط کرتی وہ کلاس کی جانب بڑھ گئی۔۔۔۔
















ھیشم خان غصے سے یہاں وہاں ٹہل رہا تھا غصہ تھا کہ کسی طور کم نہیں ہو رہا تھا۔۔۔۔۔عادل خان واپس آچکا تھا اور زریاب خان نے کہا تھا کہ عائشے اس سے محبت کرتی ہے اور اگر عائشے اسے چھوڑ کر چلی گئی تو وہ کیا کرے گا وہ کیسے رہے گا اس کے بغیر یہ سوچ اسے کسی طور چین لینے نہیں دے رہی تھی ۔۔۔تب ہی عائشے کمرے میں داخل ہوئی اور ھیشم خان کو غصے سے یوں ٹہلتا دیکھ کر اسے ڈر لگ رہا تھا کہ پتا نہیں اب وہ اس کے ساتھ کیا کرے گا۔۔۔پھر بھی تھوڑی ہمت مجتمع کرتے ہوئے اس نے ھیشم کو پکارا۔۔۔
“بات سنیں۔۔۔۔”ھیشم نے اس کے پکارنے پر اس کی طرف انگارہ برساتی نظروں سے دیکھا۔۔۔۔اور اس کو یوں دیکھ کر عائشے تھوڑا گھبرائی۔۔۔۔
“جی بولئے۔۔۔۔”عائشے کو یوں خود سے ڈرتا دیکھ کر ھیشم نے بمشکل اپنے غصے پر قابو کیا۔۔۔
“و۔۔وہ میں پوچھ رہی تھی کک۔کہ کیا آپ مجھ سے ناراض ہیں۔۔۔۔؟؟”عائشے نے دھیمے لہجے میں پوچھا۔۔۔
“آپ کو اس سے کیا فرق پڑتا ہے عائشے۔۔۔۔؟؟”ھیشم نےخفا نظروں سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔۔
“ایسی بات نہیں ہے ۔۔۔جیسی آپ سمجھ رہے ہیں ۔۔۔وہ سب جو آپ نے دیکھا وہ سچ نہیں تھا۔۔۔۔”عائشے نے اس کا شک دور کرنا چاہا۔۔۔۔
“ہم اس بارے میں کوئی بات نہیں کرنا چاہتے۔۔۔۔۔”ھیشم خان نے دو ٹوک لہجے میں کہا اور کمرے سے باہر جانے کے لئے قدم بڑھائے ہی تھے کہ عائشے نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے روکا۔۔۔۔جسے ھیشم خان نے جھٹک دیا۔۔۔اس کے یوں ہاتھ جھٹکنے پر عائشے درد سے کراہی۔۔۔اس کے کراہنے پر ھیشم نے فورا اس کے ہاتھ کی طرف دیکھا جس پر سرخ نشان کسی کی سنگدلی کا ثبوت دے رہا تھا۔۔۔۔
“یہ کیا ہوا عائشے گل۔۔۔؟؟”ھیشم نے اپنی ناراضگی بالائے طاق رکھتی ہوئے فکرمند لہجے میں پوچھا۔۔۔۔۔وہ غصے میں یہ بھی بھول چکا تھا کہ یہ زخم اس کا خود کا ہی دیا ہوا ہے۔۔۔
“کچھ نہیں بس ایسے ہی چوٹ لگ گئی تھی۔۔۔۔”عائشے اسے شرمندہ نہیں کرنا چاہتی تھی وہ جانتی تھی یہ سب انجانے میں ہوا ہے ورنہ ھیشم خان تو اس کو سوئی تک نہ چبھنے دے۔۔۔
“کتنی دفعہ کہا ہے اپنا خیال رکھا کریں نہیں آپکو ہماری بات سمجھ کہاں آتی ہے ۔۔۔آپ کو تو بس وہی کرنا ہے نا جو آپ کا دل کرے گا۔۔اگر اب آپ ۔۔۔۔”ھیشم ابھی اسے ڈانٹتے ڈانٹتے اچانک کچھ یاد آنے پر چپ ہوا ۔۔۔عائشے جو لبوں پر مسکان سجائے سامنے کھڑے شخص کو دیکھ رہی تھی جو کچھ دیر پہلےاس سے خفا تھا اور اب اسکی تکلیف پر کیسے تڑپ رہا تھا۔۔۔عائشے گل کو اپنی قسمت پر رشک ہوا تھا۔۔۔۔۔۔ایک دم چپ ہونے پر عائشے نے اچھنبے سے اس کی طرف دیکھا ۔۔۔
“یہ چوٹ ہم نے آپ کو دی ہے نا۔۔۔۔؟؟”ھیشم خان نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔۔
“نہیں ۔۔۔”اس سے پہلے کہ عائشے پھرسے کہانی گھڑتی ھیشم نے اس کے لبوں پر انگلی رکھ کر اسے چپ کروایا۔۔۔
“جھوٹ مت بولئے عائشے۔۔۔۔ہمیں یاد آگیا ہے۔۔۔۔ہمیں معاف کر دیجئے۔۔”ھیشم خان نے شرمندہ ہوتے ہوئے کہا ۔۔۔اسے اپنے آپ پر غصہ آرہا تھا کہ اس نے عائشے گل کو تکلیف کیوں دی۔۔۔
“ایک شرط پر معافی ملے گی۔۔۔۔”عائشے نے موقع دیکھتے ہی فورا اس کا فائدہ اٹھایا۔۔۔۔
“کیسی شرط۔۔۔؟؟”ھیشم خان نے ناسمجھی سے پوچھا۔۔۔۔
“آپ مجھ سے خفا نہیں ہونگے۔۔۔”
“ٹھیک ہے پر آپ بھی ہم سے ایک وعدہ کریں۔۔۔”ھیشم خان نے اپنا ہاتھ اس کے سامنے کرتے ہوئے کہا۔۔۔
“کیسا وعدہ۔۔۔۔؟؟” اب کی بار عائشے نے ناسمجھی سے اس کی طرف دیکھا۔۔۔
“آپ اب کبھی ہم سے دور جانے کی بات نہیں کریں گی۔۔۔۔”یہ بات کرتے ہوئے ھیشم خان کے چہرے پر کرب ہی کرب تھا۔۔۔۔
“پرامس ۔۔۔”عائشے نے اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔دونوں نے مسکراتی نظروں سے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔۔۔۔
“اچھا اب ہم جارہے ہیں ۔۔۔کچھ کام تھا اس لئے آئے تھے۔۔۔۔روحی حازم آتے ہی ہونگے ۔۔۔اپنا خیال رکھئے گا۔۔۔۔”معمول کی تاکید کرتا وہ کمرے سے نکل گیا۔۔۔۔عائشے کی ھیشم کے لئے محبت میں اور اضافہ ہوا تھا۔۔۔وہ شخص اس کی نظروں میں اور معزز ہوا تھا ۔۔۔اس نے فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ کبھی اسے چھوڑ کر نہیں جائے گی۔۔۔۔۔
















ذیان کے اسکی دوستی کے ٹھکرانے کے بعد زویا نے خود کو بدلنے کا ناٹک شروع کردیا۔۔۔اب وہ مشرقی سوٹ میں یونی آنے لگی۔۔۔آہستہ آہسته اس نے اپنا گیٹ اپ بلکل چینج کر لیا جو بھی اسے دیکھتا حیران رہ جاتا ۔۔۔ساتھ ساتھ وہ ذیان کے سامنے اچھا بننے کی ایکٹنگ کرنے لگی۔۔اب وہ اکثر ہی ذیان کے سامنے کسی کی مدد کرتی ہوئی پائی جانے لگی۔۔اب ذیان کو اپنے رویے پر افسوس ہونے لگا کہ جو بات اس نے زویا کو سخت لہجے میں سمجھائی تھی وہ آرام سے بھی سمجھا سکتا تھا۔۔۔وہ اتنی بری بھی نہیں تھی جتنا میں نے اسے سمجھ لیا تھا۔۔۔۔
اب بھی وہ کینٹین میں بیٹھی برگر کھانے میں مصروف تھی جب ذیان اس کے پاس آیا۔۔۔
“آئی ایم سوری۔۔۔۔”ذیان نے شرمندگی سے کہا لیکن زویا اس کو اگنور کرتی اپنا بیگ اٹھاتی آگے بڑھ گئی۔۔۔اسکے ہونٹوں پر فاتحانہ مسکراہٹ رقص کر رہی تھی۔۔۔
اگلے دن ذیان اسٹڈی روم میں بیٹھا کوئی کتاب پڑھنے میں مصروف تھا ۔۔جب زویا آکر اس کے سامنے والی چیئر پر بیٹھ گئی۔۔ذیان نے ٹھٹک کر اسے دیکھا اور دوبارہ خود کو کتاب پڑھنے میں مصروف ظاہر کرنے لگا۔۔۔
“مسٹر ذیان لسن می۔۔۔۔(میری بات سنو۔۔۔)۔۔۔۔”زویا کے پکارنے پر ذیان نے حیرانگی سے اس کی طرف دیکھا۔۔۔۔وائٹ اور پنک کلر کے سوٹ میں ملبوس چہرہ اسکارف کے ہالے میں قید کئےوہ بہت حسین لگ رہی تھی۔۔۔۔۔ذیان نے جلدی سے نظریں چرا کر پھر سے کتاب کھولی۔۔۔
“ذیان آئی رئیلی لو یو۔۔۔۔”زویان نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے مشرقی لڑکیوں کی طرح ایکٹنگ کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔لیکن سامنے بھی تو ذیان تھا۔۔۔
“واٹ۔۔۔؟؟”ذیان نے چلاتے ہوئے کہا۔۔۔
“میں سچ کہہ رہی ہوں میں تم سے بہت محبت کرتی ہوں میں تمہارے بغیر جینے کا تصور بھی نہیں کر سکتی۔۔۔”زویا نے ٹیبل پر رکھے اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔۔تب ہی ذیان کاہاتھ اٹھا تھا اور زویا کے منہ پر نشان چھوڑ گیا۔۔۔۔۔
“آئندہ میرے سامنے آنے کی کوشش بھی مت کرنا ورنہ اس سے بھی برا حشر کروں گا۔۔۔۔”ذیان انگلی اٹھا کر اسے وارن کرتا آگے بڑھ گیا۔۔۔اور وہاں موجود اسٹوڈنٹس سںن کھڑے یہ منظر دیکھ رہے تھے۔۔۔۔زویا نے گال پر ہاتھ رکھے ایک غصیلی نظر اردگرد کھڑے اسٹوڈنٹس پر ڈالی جو مضحکہ خیز نظروں سے اسے ہی دیکھ رہے تھے ۔۔۔۔۔اور غصے میں ٹیبل کو ٹانگ مارتی وہاں سے نکلتی چلی گئی۔۔۔۔۔















جب عائشے نے ھیشم کو ایشل یزدانی کے بارے میں بتایا تو ھیشم نے اسکی ساری انفارمیشن نکلوا لی ۔۔اور اسے پکڑنا تو ھیشم خان کے لئے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا۔۔۔ھیشم خان نے اپنے مخصوص بندوں کو اس کو تلاش کرنے کے لئے مختص کر دیا اور ایک ہفتے کے اندر اندر وہ ھیشم خان کی قید میں تھی۔۔۔۔۔۔ھیشم ڈیرے سے حویلی آیا تو عائشے کے پاس جانے کے بجائے اس نے قدم تہہ خانے کی طرف بڑھا دئیے۔۔۔اسکی پیشانی پر بل نمودار ہو چکے تھے۔۔
سامنے ہی کرسی پر ایشل یزدانی بےہوش پڑی تھی۔۔۔ھیشم اسکی حالت پر طنزیہ ہنسی ہنستے ہوئے آگے بڑھا اور آج پھر پانی کی بالٹی اٹھا کر ایک جھٹکے سے سارا پانی اس کے منہ پر پھینکا۔۔۔۔
پانی چہرے پر لگتے ہی اس نے ہڑبڑا کر چیختے ہوئے آنکھیں کھولیں۔۔۔ھیشم خان اس کے سامنے کرسی رکھ کر ٹانگ پر ٹانگ چڑھا کر بیٹھ گیا۔۔۔اور اسے دیکھ کر استہزائیہ ہنسی ہنسا۔۔۔۔پانی نہ ملنے کی وجہ سے اس کے ہونٹوں پر خشکی کی وجہ سے اس کے ہونٹوں پر پپڑی جمی تھی۔۔۔آنکھوں کے گرد سیاہ ہلکے پڑ چکے تھے آنکھیں اندر تک دھنس چکی تھیں۔۔۔۔اس کے دماغ کی تمام حسیں بند ہو چکی تھیں۔۔۔۔اسے کئی دنوں سے کھانا تک نہیں دیا گیا تھا۔۔۔۔ھیشم خان اسے روز کوئی نئی اذیت دیتا تھا جو اسے اندر سے کھوکھلا کر رہا تھا۔۔۔۔لیکن ھیشم خان کو اس پر ذرہ برابر ترس نہیں آتا تھا۔۔۔
“کیسی ہو ایشل یزدانی۔۔۔۔۔آئی ہوپ بہت مزہ آرہا ہوگا تمہیں۔۔”اتنا کہہ کر ھیشم نے زور دار قہقہ لگایا۔۔
اسکے اسطرح ہنسنے پر اس کی آنکھوں سے آنسو نکلے تھے۔۔۔اس کے آنسو دیکھ کر ھیشم اٹھ کر اس کے پاس آیا اور گھٹنوں کے بل اس کے سامنے بیٹھتے ہوئے گویا ہوا۔۔۔۔
“نا۔نا۔نا۔نا ایشل یزدانی ابھی نہیں ۔۔۔اتنی جلدی ہار نہیں ماننی ۔۔۔۔ابھی تو شروعات ہے۔۔۔۔اگر یہ آنسو تم نے ابھی بہا دئیے تو بعد میں کیا کرو گی۔۔۔۔؟؟؟”ھیشم خان نے ہنستے ہوئے کہا۔۔۔۔ایشل کا بھوک کے مارے برا حال تھا نقاہت کے مارے اس سے آنکھیں بھی نہیں کھولی جارہی تھیں۔۔۔۔
“اچھا چلو ایک کام کرتے ہیں ۔۔۔۔تمہیں مار کر تمہارا قصہ ہی ختم کر دیتے ہیں۔۔۔۔”ھیشم خان نے گن نکالتے ہوئے کہا۔۔۔اسکی بات پر ایشل نے زور زور سے اثبات میں سر ہلایا تھا۔۔۔۔آنکھوں میں چمک ابھری تھی جیسے کوئی خزانہ مل گیا ہو۔۔۔۔۔ھیشم نے گن اس کی کنپٹی پر رکھی۔۔۔اس نے آنکھیں بند کر لیں ۔۔۔جب ھیشم نے گنتی شروع کی۔۔۔۔
“ایک۔۔۔دو۔۔۔۔۔۔تین۔۔۔”تین بول کر ھیشم نے گن اس کی کنپٹی پر سے ہٹائی ۔۔۔۔ایشل جو یہ سمجھ رہی تھی کہ اب اسے اس دردناک زندگی سے نجات مل جائے گی ۔۔اس نے گن کے ہٹنے پر آنکھیں کھول کر اچھنبے سے اسکی طرف دیکھا۔۔۔
“تمہیں کیا لگا میں اتنی جلدی تمہیں ماردونگا۔۔۔۔چچ۔چچچ۔۔چچچ۔۔اتنی چھوٹی سوچ۔۔۔۔نا۔۔نا۔۔۔نا۔۔۔۔میں تو تمہیں تڑپا تڑپا کر ماروں گا۔۔۔۔”ھیشم خان نے اتنا کہہ کر فلگ شگاف قہقہ لگایا۔۔۔تب ہی اسکی آنکھیں پھر سے مانند پڑ گئیں۔۔۔اس نے بے بسی سے ھیشم خان کی طرف دیکھا ۔۔۔
“گڈ بائے ایشل یزدانی۔۔۔اپنا خیال رکھنا۔۔۔میں جا رہاہوں اپنی جان کے پاس۔۔۔۔”ھیشم خان اس پر ذرا بھی ترس کھائے بغیر لمبے لمبے ڈگ بھرتا وہاں سے نکل گیا اور وہ ایک دفعہ پھر اپنے ہوش و حواس سے بیگانہ ہو چکی تھی۔۔۔
