Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tere Ishq Sy Meri Zaat Tak (Episode 12)

Tere Ishq Sy Meri Zaat Tak by Ayesha Mughal

آج یونیورسٹی میں معمول سے زیادہ گہما گہمی تھی۔۔۔ سب اسٹوڈنٹس کلاس کی تلاش میں یہاں وہاں گھوم رہے تھے۔۔۔۔چونکہ ابھی نیو سیشن اسٹارٹ ہوا تھا ایڈمیشنز ہو رہے تھے تو کمو بیش ہی کلاسز ہو رہی تھیں ۔۔۔۔۔آج نیو سیمسٹر کی فرسٹ کلاس تھی ذیان یونیورسٹی کا پرانا اسٹوڈنٹ تھا تو اسے کلاس ڈھونڈ نے میں دشواری نہیں ہوئی۔۔۔۔۔۔ ابھی وہ اپنی کلاس کی طرف جا ہی رہا تھا جب کوئی لڑکی زور سے آ کر اس سے ٹکرائی اس سے پہلے کہ وہ گرتی زیان نے اسے تھام لیا۔۔۔۔۔ اور اگلے ہی پل جیسے ہی اس لڑکی نے چہرہ اٹھا کر ذیان کی طرف دیکھا۔۔۔۔ اس کی نظریں آگ برسانے لگیں۔۔۔۔۔۔ ذیان کی حالت بھی کچھ اس سے مختلف نہیں تھی اس لڑکی پر نظر پڑتے ہی ذیان نے فورا اپنا ہاتھ اس کی کمر سے ہٹایا اور تھوڑی سی بھی پرواہ کئے بغیر اسے نیچے گرا دیا۔۔۔اور ہاتھ جھاڑتے ہوئے آگے بڑھ گیا۔۔۔۔اور زویا زمین پر بیٹھے ارد گرد کھڑے اسٹوڈنٹس کو غصے سے دیکھ رہی تھی جو مضحکہ خیز نظروں سے اسے ہی دیکھ رہے تھے۔۔۔۔۔

“او مسٹر۔۔۔۔۔لسن ۔۔۔۔آریو میڈ ۔۔؟؟تمیز نام کی کوئی چیز نہیں ہے تم میں۔۔۔۔؟؟” اس سے پہلے کی زیان وہاں سے جاتا زویا نے جلدی سے اٹھ کر اس کا راستہ روکا۔۔۔

“تم تمیز کی بات تو مت ہی کرو۔۔۔اور جہاں تک میرے بدتمیز ہونے کی بات ہے تم جیسی بد تمیز ۔۔۔بگڑی ہوئی ۔۔۔بے حیا۔۔۔لڑکیوں کو سب اپنے جیسے ہی نظر آتے ہیں۔۔۔”ذیان نے تڑخ کر کہا۔۔۔۔۔

“بی ان یور لمٹ مسٹر۔۔۔اب تم حد سے بڑھ رہے ہو ۔۔۔۔میں جیسی بھی ہوں یہ میری پروبلم ہے۔۔۔اور جانتے ہو تمہاری پرابلم کیا ہے۔۔۔؟؟؟تمہاری پروبلم یہ ہے کہ تم جیسے لوگوں کے پاس بہت ٹائم ہوتا ہے دوسروں پر تنقید کرنے کا۔۔۔ان کے کریکٹر میں عیب نکالنے کا۔۔۔۔”زویا نے بدتمیزی سے کہا۔۔۔۔

“میں تو اپنی لمٹ میں ہوں مس ۔۔لمٹ کراس تو تم کر چکی ہو بے حیائی میں۔۔۔۔تھوڑا تو خیال کر لو اپنے پیرنٹس کی عزت کا۔۔۔تم جیسی ہی لڑکیاں ہوتی ہیں جو دعوت نظارہ بھی خود پیش کرتی ہیں اورپھر اگر ان کے ساتھ کچھ ہو جائے تو عزت کا رونا رونے بیٹھ جاتی ہیں۔۔۔ارے کم از کم عورت جیسے پاکیزہ لفظ پر دھبہ تو مت لگاؤ۔۔۔۔۔”ذیان نے اسے اسی کے انداز میں جواب دیا۔۔۔۔

“یو بلڈی باسٹر ۔۔۔ایڈیٹ۔۔ڈفر تم کون ہوتے ہو میری لائف میں انٹر فیئر کرنے والے۔۔۔۔؟؟؟”زویا کا غصہ ساتویں آسمان پر تھا اس کا دل کر رہا تھا سامنے کھڑے ذیان کو گولی سے اڑا دے۔۔۔۔

“مائینڈ یور لینگویج میڈم۔۔۔۔ایسے نازیبا الفاظ استعمال کر کے آپ حقیقت نہیں بدل سکتیں۔۔۔اور میرے پاس اتنا ٹائم نہیں ہے کہ میں دوسروں کی لائف میں انٹر فئیرکرتا پھروں۔۔۔۔ اور تمہاری جیسی لڑکی کی لائف میں انٹر فیئر کرنا تو دور میں تو ان کے منہ لگنا بھی پسند نہیں کرتا۔۔۔۔”ذیان کو زویا کا اس طرح گالیاں دینا مزید تپا گیا۔۔۔

“واٹ ہیپنڈ اسٹوڈنٹس۔۔۔۔۔؟؟کیوں اس طرح تماشہ لگا رکھا ہے تم دونوں نے۔۔۔۔؟؟” سر حمزہ جو کلاس کی طرف ہی جا رہے تھے اسٹوڈنٹس کا جھرمٹ لگا دیکھ کر اسی طرف آگئے اور اس طرح ان دونوں کو لڑتا دیکھ کر غصے سے بولے۔۔۔

“نتھنگ سر ۔۔۔۔۔یہ مجھ سے بدتمیزی کر رہے تھے۔۔۔۔”اس سے پہلے کے زیان بولتا زویا جلدی سے بول پڑی۔۔۔۔ اس کی بات پر سر حمزہ نے تعجب سے ذیان کی طرف دیکھا وہ جانتے تھے زیان ایک بہت ہی لائق سٹوڈنٹ ہے۔۔ اور وہ ہر ایک سے بہت ہی ادب سے پیش آتا ہے۔۔۔۔۔

“نو سر ۔۔میں نے ان کو کچھ نہیں کہا۔۔۔یہ ہی مجھ سے بدتمیزی کر رہی تھیں۔۔۔۔”ذیان نے وضاحت دی۔۔۔۔

“ایک دوسرےکو بلیم کرنا بند کریں آپ دونوں یہ آپ لوگوں کے لئے فرسٹ اینڈ لاسٹ وارننگ ہے ۔۔۔آئندہ اگر آپ دونوں کی کمپلین آئی تو میں سیدھا آپ لوگوں کے پیرنٹس سے بات کروں گا ۔۔۔انڈر اسٹینڈ۔۔۔؟؟”سر حمزہ نے دونوں کو وااننگ دیتے ہوئے ان کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا۔۔۔

“انڈر اسٹینڈ سر ۔۔۔۔”دونوں نے ایک ساتھ کہا ۔۔۔اور سر کے اشارے پر کلاس کی طرف چل دئیے جبکہ زویا کی نظروں میں تنبیہ واضح تھی۔۔۔۔

🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹

زویا ایک نہایت ہی بدتمیز لڑکی تھی۔۔۔لڑکوں سے دوستیاں۔۔۔ کلب ۔۔۔طرح طرح کے مشروبات۔۔۔۔ آوارہ گھومنا پھرنا۔۔۔۔ لڑکوں جیسے لباس زیب تن کرنا اس کے پسندیدہ مشغلے تھے۔۔۔۔اور ہٹ دھرمی تو اس میں کوٹ کوٹ کر بھری تھی۔۔۔کچھ دولت اور حسن کا بھی غرور تھا۔۔۔زریاب خان جو اپنی تربیت پر اندھا اعتماد کئیے بیٹھا تھا اگر ایک دفعہ اپنی بیٹی کو اس طرح دیکھ لیتا تو ڈوب کر ہی مر جاتا۔۔۔۔۔لیکن کسی کو کیا معلوم تھا کہ وہ کیا کرتی پھر رہی ہے۔۔۔۔۔ اب بھی وہ اپنے کمرے میں چلے پیر کی بلی بن کر گھوم رہی تھی۔۔۔۔ذیان نے آج اس کو جس طرح بےعزت کیا تھا۔۔اسکا بدلہ وہ ہر صورت میں لینا چاہتی تھی۔۔۔

” بہت غرور ہے نہ تمہیں اپنی عزت پر۔۔۔اگر اسے دو کوڑی کا کر کے نہ رکھ دیا تو میرا نام بھی زویا زریاب خان نہیں ۔۔۔۔مجھے کریکٹر لیس کہا ہے نہ اگر تمہارا کریکٹر مشکوک کر کے نہ رکھ دیا تو کہنا۔۔۔تم نے بہت غلط جگہ پنگا لیا ہے۔۔۔اپنا وار تو تم نے کر لیا ذیان خان اب بس انتظار کرو اور دیکھو میں تمہارے ساتھ کرتی کیا ہوں۔۔۔۔؟؟”وہ اپنے آپ سے ہی مخاطب تھی۔۔۔چہرے پر کمینی ہنسی رقص کر رہی تھی۔۔۔۔اور خود ہی پلان بنا کر خود کو داد دیتی وہ زور سے ہنسی ۔۔۔۔نسرین بیگم جو کافی دیر سے دروازے پر کھڑی یہ سب دیکھ رہی تھیں اب تو انہیں اس کی ذہنی حالت پر شک ہونے لگا تھا۔۔۔

“کیا ہوا بیٹا تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے ناں۔۔۔؟انہوں نے آگے بڑھ کر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر پیار سے پوچھا۔۔۔

“میری طبیعت کو کیا ہونا ہے۔۔۔۔؟؟”اس نے ان کا ہاتھ جھٹکتے ہوئے بدتمیزی سے کہا۔۔۔

“بیٹا میں نے دیکھا تم اپنے آپ سے ہی باتیں کر کے ہنس رہی تھی خیریت تو ہے بیٹا سب ٹھیک ہے نا۔۔۔۔؟؟” انہوں نے نے اس کی بدتمیزی کو اگنور کرتے ہوئے ہوئے پوچھا۔۔۔

” آپ اپنے کام سے کام کیوں نہیں رکھتیں۔۔۔۔؟؟جب دیکھو میری زندگی میں میں انٹر فیر کرتی رہتی ہیں۔۔۔۔۔ میں کچھ بھی کروں۔۔؟؟ آپ کو اس سے کیا۔۔۔؟؟ ہنسوں روؤں آپکو اس سے فرق نہیں پڑنا چاہیے۔۔۔”زویا نے بغیر بد لحاظی سے کہا۔۔۔۔

“تمیز سے بات کرو ۔۔۔میں تمہاری ماں ہوں ۔۔۔۔تم میری ماں نہیں ہو۔۔۔اور کیوں میں دخل اندازی نہ کروں تمہاری زندگی میں۔۔۔؟؟”نسرین بیگم نے غصے سے کہا۔۔۔

” کیونکہ یہ میری لائف ہے اور میں اپنی لائف میں کچھ بھی کروں۔۔۔ کسی کو اس بات سے کوئی مطلب نہیں ہونا چاہیے۔۔۔۔سمھجھیں آپ۔۔۔؟؟”

“سدھر جاؤ۔۔اگر خان صاحب کو تمہاری حرکتوں کے بارے میں بھنک بھی پڑ گئی نہ تو تمہاری ٹانگیں توڑ کر رکھ دیں گے وہ۔۔۔۔'”نسرین بیگم نے اسے تنبیہ کی۔۔۔

“ہو گیا آپ کا یا باقی ہے۔۔؟؟اور اگر باقی ہے ابھی تو میں ابھی سننے کے موڈ میں بالکل نہیں ہوں بہت تھک چکی ہوں میں اچھا ہوگا آپ چلی جائیں۔۔۔۔”زویا نے روم کے بیرونی دروازے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔

“میں تو جا رہی ہوں ۔۔۔۔اگر تم باز نہیں آئی تو تم جانتی ہی ہو کیا ہوگا۔۔۔۔”نسرین بیگم نے اسے وارننگ دیتیں باہر کی جانب بڑھ گئیں۔۔۔۔

🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹

ھیشم خان کے قدم تیزی سے تہہ خانے کی طرف بڑھ رہے تھے۔۔۔چہرہ غصے سے سرخ ہو چکا تھا۔۔۔۔دروازے کے سامنے پہنچ کر اس نے جوتے کی نوک سے زور سے دروازے کو ٹھوکر ماری اور اندر کی طرف بڑھا۔۔۔دروازہ ٹھاہ کی آواز سے زور سے دوبارہ بند ہوا۔۔۔

سامنے ہی بوسیدہ سے کمرے میں کوئی وجود رسیوں سے بری طرح جکڑا ہوا تھا۔۔ھیشم کو آتا دیکھ کر ھیشم کا مخصوص آدمی اسکی طرف بڑھا۔۔۔۔

“سر کام ہو گیا۔۔۔۔۔اسے ابھی بےہوشی کا انجکشن لگایا گیا ہے جسکی وجہ سے ابھی یہ بےہوش ہے۔۔۔۔”اس آدمی نے اس وجود کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔۔۔

“ہاں ۔۔۔اب تم جا سکتے ہو۔۔۔۔”ھیشم نے اسے باہر جانے کا حکم دیا۔۔۔۔اور خود بھاری قدم اٹھاتے ہوئے اس وجود کی جانب بڑھا ۔۔۔اور پانی سے بھری بالٹی اٹھا کر سارا پانی اس کے اوپر انڈیل دیا۔۔۔۔جس سے وہ وجود بوکھلا کر ہوش میں آیا۔۔۔اور سامنے کھڑے ھیشم کو دیکھ کر اس کو آسمان اپنےسر پر گرتا ہوا محسوس ہوا۔۔۔چہرہ خوف سے زرد پڑ چکا تھا۔۔۔۔وہ وجود پھٹی پھٹی آنکھوں سے ھیشم خان کی طرف دیکھ رہا تھا۔۔۔۔اسے اپنا سر گھومتا ہوا محسوس ہوا۔۔۔آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا اور وہ وجود ایک دفعہ پھر ہوش و حواس سے بیگانہ ہو چکا تھا۔۔۔۔ھیشم خان نے اب کی بار ٹھنڈا یخ پانی اس وجود پر پھینکا۔۔۔جس سے وہ دوبارہ بوکھلا کر ہوش میں آیا۔۔۔۔

“تمہیں کیا لگا ۔۔۔ہم تمہیں چھوڑ دی گے۔۔۔۔۔؟؟اب تم دیکھو ہم تمہارے ساتھ کرتے کیا ہیں ۔۔۔؟؟ایسی سزا دیں گے تمہیں کہ آنے والی سات نسلیں یاد رکھیں گی۔۔۔۔”ھیشم خان نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے پتھریلے لہجے میں کہا۔۔۔۔ایشل یزدانی کے چہرے پر خوف ہی خوف تھا۔۔۔موت کا خوف ۔۔۔جسے ھیشم خان با آسانی دیکھ سکتا تھا۔۔۔۔

“نانانانا۔۔۔۔ہم تمہیں ابھی نہیں ماریں گے ۔۔۔۔ایشل یزدانی ڈرو مت۔۔۔۔ہم تمہیں اتنا مجبور کر دیں گے کہ تم خود موت مانگو گی۔۔۔۔ترسو گی موت کے لئے۔۔۔۔بہت مزہ آتا ہے نا تمہیں لڑکیوں کی زندگی کے ساتھ کھیلنے کا اب دیکھو ہم تمہارا کیا حشر کرتے ہیں۔۔۔۔۔”ھیشم خان نے نخوت سے اسے وارننگ دیتے ہوئے کہا۔۔۔ایشل نے بے بسی سے اسکی طرف دیکھا۔۔۔اور کچھ بولنے کی کوشش کی لیکن اس کے منہ پر کپڑا بندھا ہوا تھا جسکی وجہ سے وہ بول نہیں پارہی تھی۔۔۔۔ھیشم خان نے آگے بڑھ کر وہ کپڑا کھولا۔۔۔۔تب ہی ایشل نے زور زور سے سانس لیا اور پانی مانگا۔۔۔

“پانی چائہیے تمہیں۔۔۔۔یہ لو۔۔۔۔”ھیشم خان نے اس کے منہ قریب پانی کا گلاس الٹتے ہوئے کہا ۔۔۔پانی اس کے منہ سے تھوڑی ہی دور تھا لیکن بندھے ہونے کی وجہ سے کوشش کے باوجود بھی وہ ایک قطرہ تک نہیں پی پائی۔۔۔حلق میں خشک ہونے کی وجہ سے کانٹے چبھ رہے تھے۔۔۔۔۔اپنی بے بسی پر اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔۔۔۔۔جو ھیشم خان کو دلی طور پر سکون دے رہے تھے۔۔۔۔۔

“یہ تو کچھ بھی نہیں ہے ایشل یزدانی ۔۔۔۔یہ تو صرف ٹریلر تھا۔۔۔پکچر تو ابھی باقی ہے۔۔۔۔لیکن آج کے لئے اتنا ہی کافی ہے ۔۔۔۔ابھی جان ھیشم میرا انتظار کر رہی ہو گی ۔۔۔۔گڈ بائے ۔۔۔۔”ھیشم خان اس کے منہ پر دوبارہ پٹی باندھ کر مضحکہ خیز ہنسی ہنستا ہوا باہر کی جانب بڑھ گیا۔۔۔۔اوروہ اپنی بے بسی پر ماتم کناں بیٹھی رہ گئی۔۔۔۔۔

🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹

رات کافی ہو گئی تھی ۔۔۔۔ھیشم خان جب کمرے میں آیا تو عائشے سو چکی تھی چہرے پر تشنگی واضح تھی۔۔۔۔ھیشم خان مسلسل اسے ہی دیکھے جارہا تھا نظریں تھیں کہ ہٹنے سے انکاری تھیں ۔۔۔ناجانےکیا تھا شاید نظروں کی تپش تھی عائشے نے جھٹکے سے آنکھیں کھولیں اور سامنے ھیشم کو کھڑا دیکھ کر پھر سے آنکھیں موند لیں۔۔۔ھیشم اس کی نظروں میں ناراضگی دیکھ چکا تھا۔۔۔۔

“عائشے گل۔۔۔۔” ھیشم نے اسے پکارا۔۔۔۔لیکن جواب ندارد۔۔۔

“لگتا ہے سو چکی ہیں ۔۔۔۔چلو خیر یہ چاکلیٹس ہم ہی کھا لیتے ہیں۔۔۔۔۔”عائشے نے اسے کل ہی بتایا تھا کہ وہ چوکلیٹ کی کس قدر دیوانی ہے۔۔۔ اس لئے آتے ہوئےاس کے لئے بہت ساری چاکلیٹس لے آیا تھا وہ جانتا تھا ایسی ضرورت ہوگی کیوں کہ دیر کافی ہوچکی تھی اور عائشے اس سے خفا ہوگی۔۔۔۔ھیشم نے شرارت سے کہا۔۔۔۔اور چاکلیٹ کا سن کر اس نے فورا آنکھیں کھولیں اور جلدی سے بیڈ سے اترتی اس کے پاس آ کھڑی ہوئی۔۔۔

“خبردار جو آپ نے میری چاکلیٹ کو ہاتھ بھی لگایا تو۔۔۔۔”عائشے نے غصے سے کہا۔۔۔

“تو ۔۔۔؟؟”ھیشم نے مسکراتے ہوئے پوچھا جبکہ آنکھوں میں شرارت واضح تھی۔۔۔۔

“تو کیا۔۔؟؟کچھ نہیں ۔۔۔”عائشے نے اس کے ہاتھ سے چاکلیٹ جھپٹنی چاہی جسکی وجہ سے اس کا ناخن ھیشم کی کلائی کو زخمی کر گیا۔۔۔۔

“ہائییی ہماری شیرنی۔۔۔۔کیا جان لو گی ہماری ان معمولی چاکلیٹس کے لئے۔۔۔؟؟”ھیشم نے مصنوعی غصے سے کہا۔۔۔۔ورنہ ہیشم جیسے مضبوط انسان کا اتنی سی چوٹ کیا بگاڑ سکتی تھی ۔۔۔

“ہاں لے سکتی ہوں ۔۔۔اگر آپ نے مجھے یہ چاکلیٹس نہیں دیں۔۔۔۔”عائشے نے جلدی سے کہا۔۔۔۔

“ظالم لڑکی کتنی بے حس ہو۔۔۔یہ لو پکڑو اپنی چاکلیٹس۔۔۔۔”ھیشم خان خفگی سے کہتا اسے چاکلیٹ دیتا واشروم کی جانب بڑھ گیا۔۔۔۔۔اور چاکلیٹس لے کر عائشے کی جان میں جان آئی تھی۔۔۔اور وہ خوش ہوتے ہوئے جلدی جلدی کھانے لگی۔۔۔۔پھر اچانک اسے ھیشم کی ناراضگی یاد آئی۔۔۔

“اب میں کیا کروں ۔۔۔ھیشم تو ناراض ہو گئے مجھ سے ۔۔۔اب کیا کروں میں۔۔۔؟؟”اس نے معصومیت سے سوچا ۔۔۔

ھیشم خان فریش ہو کر آیا تو کمرہ خالی پڑا تھا۔۔۔

“اب کہاں چلی گئیں عائشے۔۔۔”ھیشم نے اردگرد نظریں دوڑاتے ہوئے سوچا۔۔۔۔تب ہی وہ روتی ہوئی کمرے میں داخل ہوئی۔۔اسے روتے دیکھ کر ھیشم فورا آگے بڑھا۔۔۔۔اور اسے خود میں بھینچا۔۔۔

“کیا ہوا عائشے ۔۔۔؟کیوں رو رہی ہیں آپ ۔۔۔؟؟”ھیشم نے پریشان ہوتے ہوئے پوچھا۔۔اسے لگا شاید عائشے اس کی باتوں کی وجہ سے رو رہی ہے۔۔۔

“ہاہاہاہاہا۔۔۔۔”اور تب ہی عائشے نے زور سے قہقہ لگایا۔۔۔ھیشم نے اس کے ہنسنے پر اسے خود سے الگ کرتے ہوئے اسے سوالیہ نظروں سے دیکھا ۔۔۔وہ لبوں پر مسکراہٹ سجائے آنکھوں میں شرارات لئے اسے ہی دیکھ رہی تھی۔۔۔

“تو اس کا مطلب ۔۔۔آپ ہمیں پریشان کر رہی تھیں ۔۔۔۔؟؟”ھیشم نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے مصنوعی غصے سے پوچھا۔۔۔جسکے جواب میں اس نے اثبات میں سر ہلایا۔۔۔۔

“جی ۔۔۔لیکن اگر اب آپ مجھ سے خفا ہوئے تو میں سچ میں رونے لگ جاؤں گی۔۔۔۔”عائشے نے اسے شہادت کی انگلی دکھاتے ہوئے وارن کیا کیونکہ وہ جانتی تھی ھیشم اس کی آنکھ میں ایک بھی آنسو برداشت نہیں کر سکتا۔۔۔۔

“اوکے جان ھیشم۔۔۔۔اب آپ سوجائیں۔۔کافی ٹائم ہوگیا ہے ۔۔۔اور ہیلتھ کے ساتھ کمپرو مائز ہم آپکو بلکل بھی نہیں کرنے دیں گے۔۔۔”ھیشم نے پیار سے اس کے گال کھینچتے ہوئے کہا۔۔۔

“میں کوئی بچی نہیں ہوں۔۔۔”عائشے نے جلدی سے کہا۔۔۔

“بچی تو نہیں لیکن ہماری جان تو ہیں ناں۔۔۔”ھیشم کی آنکھوں میں محبت کا ایک طوفان موجزن تھا۔۔۔

“بس بس ۔۔۔زیادہ نہ بولیں سو رہی ہوں میں۔۔۔۔”عائشے جلدی سے کہتی ہوئی بیڈ کی طرف بڑھ گئی۔اور لمحے کی بھی دیر کئے بنا آنکھیں بند کر کے سوتی بن گئی۔۔۔اور ہیشم اس کی اس حرکت پر زور سے ہنسا اور خود بھی سونے کے لئے بستر کی جانب بڑھ گیا۔۔۔۔۔

🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹

وہ دونوں لیکچر لے کر ابھی کلاس سے نکلی تھیں اور اب کینٹین کی طرف جا رہی تھیں۔۔اور اب باتوں کے ساتھ ساتھ سینڈوچز کے ساتھ انصاف کر رہی تھیں۔۔۔۔

“ایک بات پوچھوں رباب۔۔۔؟؟”روحی نے اس کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔۔

“ہاں پوچھو ۔۔۔۔تمہیں کب سے اجازت کی ضرورت پڑ گئی۔۔۔؟؟”رباب نے دھیمی مسکراہٹ لبوں پر سجاتے ہوئے کہا۔۔۔

“نہیں ایسی بات نہیں ہے وہ دراصل بات ہی کچھ ایسی ہے۔۔۔”رحاب نے الفاظ ترتیب دیتے ہوئے کہا۔۔۔

“ایسی بھی کیا بات ہے جو تم اتنا سوچ رہی ہو۔۔۔؟؟”رباب نے تجسس سے پوچھا۔۔۔ ورنہ رحاب اس سے ہر بات بلاجھجک کر لیتی تھی۔۔

“اچھا پہلے وعدہ کرو۔۔۔تم مجھ سے خفا نہیں ہوگی۔۔۔۔” رحاب نے اس کے سامنے اپنا ہاتھ کرتے ہوئے کہا کیوں کہ وہ اپنی اس پیاری سی دوست کو کھونا نہیں چاہتی تھی۔۔۔۔

“اچھا بابا بولو بھی اب۔۔۔۔”رباب نے اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر دھیمے لہجے میں کہا۔۔۔

“تم حازم سے محبت کرتی ہو ناں۔۔۔؟؟” رحاب نے ڈرتے ڈرتے پوچھا کہ کہیں وہ ناراض نہ ہو جائے۔۔۔۔اسکی بات سن کررباب اٹھ کر جانے ہی لگی تھی کہ رحاب نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔۔۔

” تم نے وعدہ کیا تھا تم ناراض نہیں ہو گی۔۔۔۔”روحی نے اسے یاد دلایا تو مجبور اسے بیٹھنا ہی پڑا۔۔۔۔

“بتاؤ نا روبی تم محبت کرتی ہو نا اس سے۔۔۔۔؟؟”رحاب نے اپنا سوال دہرایا۔۔۔

“کیا ہم کوئی اور بات کر سکتے ہیں روحی۔۔۔؟؟”رباب نے اس کا سوال اگنور کرتے ہوئے کہا۔۔۔

“ہممممم۔۔۔”رحاب نے دوبارہ بات کرنا مناسب نہیں سمجھا اس لئے وہ دوسرے ٹاپک پر بات کرنے لگی۔۔۔

🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹

سورج اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ طلوع ہوا تھا۔۔۔لیکن آج کا سورج جہاں بہت سے لوگوں کے لئے خوشیاں لے کر آیا تھا وہیں لاہور کی اس شاہی حویلی کے مکینوں کے لئے طوفان لے کر آیا تھا۔۔۔۔اس وقت اس حویلی کے مکین اپنے اپنے کاموں مشغول معمول کے کام سر انجام دے رہے تھے۔۔۔۔۔ھیشم خان صبح جلدی ہی ڈیرے پر جا چکا تھا جبکہ باقی تینوں ابھی تیاری کر رہے تھے۔۔۔۔عائشے جینی کو دوپہر کے کھانے کا بتا رہی تھی۔۔۔جب روحی بھاگتی ہوئی عائشے کے پاس آئی۔۔۔

“کیا ہوا روحی۔۔۔؟؟”عائشے نے دھیمے لہجے میں پوچھا۔۔۔۔

“بھابھی آج بریانی بنوائیے گا لنچ میں پلیز۔۔۔۔”روحی نے اس کے گلے میں اپنی بانہیں ڈالتے ہوئے کہا۔۔۔

“اوکے میری جان ۔۔۔۔”روحی نے پیار سے اس کا گال سہلاتے ہوئے کہا۔۔۔

“بھابھی آپ دنیا کی سب سے اچھی بھابھی ہیں۔۔۔ااامممماں۔۔۔”روحی نے کو فلائنگ کس دیتے ہوئے کہا۔۔۔

“بس بس باقی بٹرنگ بعد میں کر لینا۔۔ابھی دیر ہو رہی ہے۔۔۔۔”حازم نے ان کی گفتگو سنتے ہوئے کہا۔۔۔

“بس بس ۔۔۔تم سڑتے ہی رہنا سڑیل۔۔۔۔”روحی نے جوابی کاروئی کی۔۔۔

“تم ہو گی سڑی ہوئی مرچ ۔۔۔۔۔”حازم نے چڑ کر کہا۔۔۔

“ٹھیک ہے تم دونوں لڑتے رہو میں جا رہا ہوں۔۔۔”ذیان جو کب سے باہر کھڑا ان کا ویٹ کر رہا تھا اور اب انہیں ہی دیکھنے اندر آیا تھا ان دونوں کو لڑتے دیکھ کر چلایا۔۔۔اس کی آواز سن عائشے کو الوداعی کلمات کہہ کر دونوں نے باہر کی جانب دوڑ لگا دی۔۔۔

چونکہ اب حویلی میں اس کے اور جینی کے سوا کوئی نہیں تھا تو وہ ٹائم پاس کرنے کے لئےلاؤنج میں صوفے پر بیٹھی ٹی وی دیکھنے لگی ۔۔۔۔وہ منہمک سی کوئی ہسٹوریکل مووی دیکھ رکھی تھی جب کسی نے اس کی آنکھوں پر پیچھے سے ہاتھ رکھا۔۔۔

“ھیشم آپ ۔۔۔اتنی جلدی کیسے آگئے آج۔۔۔؟؟”عائشے کو لگا کہ ھیشم ہی ہے جو اسے تنگ کر رہا ہے۔۔۔۔لیکن جب اس شخص نے اس کی آنکھوں سے ہاتھ ہٹائے تو سامنے نظر آنے والے وجود کو دیکھ کر عائشے کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *