Tere Ishq Sy Meri Zaat Tak by Ayesha Mughal NovelR50552 Tere Ishq Sy Meri Zaat Tak (Episode 05)
Rate this Novel
Tere Ishq Sy Meri Zaat Tak (Episode 05)
Tere Ishq Sy Meri Zaat Tak by Ayesha Mughal
اس وقت ھیشم خان کی شاہی حویلی میں ہر کوئی ادھر سے ادھر دوڑتا پھر رہا تھا کیونکہ آج یہاں ایک بہت بڑی تقریب منعقد ہونے والی تھی۔۔۔ آج اس حویلی کے سردار ھیشم اسماعیل خان کا عائشے گل کے ساتھ نکاح تھا۔۔ سب ہی جانتے تھے کہ آج کی تقریب اس حویلی کے لئے کیا معنی رکھتی ہے۔۔۔ تبھی تیاریوں ذرا سی بھی کمی بیشی کی گنجائش قابل قبول نہیں تھی۔۔۔ نوکروں کو پتہ تھا کہ آج کی تقریب میں کوئی بھی کمی سردار ھیشم اسماعیل خان کے عتاب کو دعوت دینے کا بہانہ بن جاتی۔۔۔ اسی لئے سب تندہی سے اپنے اپنے کام نپٹانے میں مشغول تھے۔۔۔ ھیشم کا حکم تھا کہ یہ نکاح پورے رسم و رواج اور شان و شوکت سے ہونا چاہیئے ۔۔۔ اسی لئے نا صرف پوری حویلی کو دلہن کی طرح سجایا گیا تھا بلکہ ھیشم کے روم میں بھی پھولوں کی چادریں بچھائی گئی تھیں۔۔ پوری حویلی بقعہ نور بنی ہوئی تھی ۔۔۔ سب طرف گہماگہمی تھی لیکن اسی حویلی کے مردان خانے میں موت کی سی خاموشی طاری تھی ۔۔۔ مردان خانے میں رکھے قیمتی صوفوں میں سے ایک پر زریاب خان براجمان تھے۔۔۔ وہ سرخ چہرہ لئے بہت مشکل سے اپنا غصہ ضبط کرتے ہوئے وہاں جلتے کلستے سے بیٹھے ہوئے تھے ۔۔۔۔ انھیں یہاں ھیشم خان نے ہی روکا تھا ورنہ زریاب خان کے لیے ھیشم خان کی اس حویلی میں ان حالات میں رکنا کسی ذلت سے کم نہ تھا ۔۔۔ رہ رہ کر ان کا غصہ شدت اختیار کرتا جا رہا تھا اور ان کی تیزی سے سرخ پڑتی آنکھیں اور پل پل بدلتے چہرے کے جارحانہ تاثرات ان کے غصے کی شدت کا پتا دے رہے تھے ۔۔۔۔ مگر وہ خود پر ضبط کے پہرے بیٹھائے خاموشی سے یہان بیٹھے رہنے پر مجبور تھے۔۔ کیونکہ وہ جانتے تھے ھیشم خان سے بگاڑ کر وہ صرف اور صرف گھاٹے میں ہی رہیں گے۔۔ تبھی مجبوراً چپ کی بکل اوڑھے ہوئے وہ ھیشم کی اگلی کارروائی کا انتظار کر رہے تھے اور پھر تھوڑا ہی وقت مزید گزرا تھا کہ تبھی ھیشم خان شاہانہ چال چلتا ہوا مردان خانے میں داخل ہوا اس نے اس وقت ایک بلیو کرتا پہنا ہوا تھا جس پر لگا خوبصورت بروج اپنی قیمت خود بتا رہا تھا۔۔۔ بلیو کلر کا یہ کرتا اس کی گوری بے داغ رنگت پر نہایت ہی خوبصورت لگ رہا تھا اور اوپر سے اس کے حسین چہرے پر موجود دو نیلی سحر انگیز آنکھیں جو اس وقت اس کے پہنے کرتے سے میچ کر رہی تھیں ۔۔۔۔ آج وہ ضرورت سے زیادہ ہی حسین و دلفریب لگ رہا تھا ۔۔۔ آج اس نے یہ خاص اہتمام اپنے نکاح کی تقریب کے لئے کیا تھا ۔۔۔ اس کے چہرے سے پھوٹتی روشنی اور چمک اس کی اندرونی کیفیت کا پتہ دے رہی تھی۔۔۔ نک سک سے تیار ہونے کے بعد وہ سیدھا خان مردان خانے میں چلا آیا تھا ۔۔۔ جہاں زریاب خان اسکی تیاری دیکھ کر چونک اٹھے تھے اور ان کے چہرے کی لالی میں مزید اضافہ ہوگیا تھا۔۔۔ چہرے پر کرختگی چھا گئی تھی ۔۔۔ ھیشم خان جو بغور ان کے چہرے کے تاثرات دیکھ رہا تھا وہ ان کے چہرے کے یہ بگڑے تاثرات دیکھ کر محظوظ ہوا تھا۔۔۔۔
“زریاب خان ۔۔۔ نکاح کچھ ہی دیر میں ہو جائے گا ۔۔۔اگر آپ کی شان میں فرق نہ آئے تو آپ ہمارے شاہی ہال میں تشریف لے آئیں ۔۔۔ مہمان آچکے ہیں ۔۔۔ اپنی بھتیجی کو قبول کرنا اگرچہ تمھاری شان کے خلاف ہے لیکن ہم چاہتے ہیں کہ تم اسے اپنے ہاتھوں سے ہماری زوجیت میں دو۔۔۔ ہم تمھاری انا کو نہیں توڑنا چاہتے لیکن کم از کم اپنی اتنے عرصے سے بنائی گئی عزت کا ہی کچھ خیال کر لو۔۔۔۔۔” ھیشم خان نے بظاہر نارمل لہجے میں کہا تھا مگر اس کے الفاظ کی سختی زریاب خان کو مزید غصہ دلا گئی تھی ۔۔۔ زریاب خان مٹھیاں بھینچے بغیر کچھ کہے اپنی جگہ سے اٹھ کھڑے ہوئے اور ایک غصیلی نظر ھیشم خان پر ڈالنے کے بعد مغرور انداز میں گردن اکڑاتے ہوئے لمبے لمبے ڈگ بھرتے مردان خانے سے ہال کی جانب بڑھ گئے ۔۔۔ ھیشم خان بھی شانِ بے نیازی سے چلتا ہوا کمرے سے باہر نکلا تھا اور شاہی ہال کی جانب بڑھ گیا تھا ۔۔۔ پورے ہال کو آج گلاب کے تازہ پھولوں اور برقی قمقموں سے سجایا گیا تھا ۔۔۔ ھیشم شاہانہ انداز میں اپنی مغرور چال چلتا ہوا جیسے ہی ہال میں داخل ہوا لوگوں کی نظروں میں واضح ستائش ابھرنے لگی تھی ۔۔ وہاں موجود ہر ایک فرد کی آنکھ میں اس کے لئے حسرت ہی حسرت تھی۔۔۔ دولت اگر ھیشم خان کے گھر کی باندی تھی تو وہ حسن کا شہزادہ خوبصورتی کی دولت سے بھی بے تحاشہ مالا مال تھا ۔۔۔۔ اب بھی سب لوگوں کی نظریں ھیشم پر ہی ٹکی تھیں جبکہ وہ سب کی نظروں سے بے نیاز مغرورانہ چال چلتے ہوئے اسٹیج کی جانب بڑھ گیا تھا جہاں نکاح خواں کے ساتھ حازم زیان اور اس کے کچھ دوست بھی کھڑے تھے۔۔۔ اسے اسٹیج پر آتا دیکھ کر سب اسی کی جانب متوجہ ہوگئے تھے۔۔۔۔
” ہائے بھائی کتنے اچھے لگ رہے ہیں آپ ۔۔۔۔” اس کے بھائیوں نے بے ساختہ اس کی تیاری کو سراہتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔
“تھینک یو حازم۔۔۔ پر میرا خیال ہے آج بھی ہم ایسے ہی ہے جیسے روز ہوتے ہیں۔۔۔۔” ھیشم نے لہجے کی بے نیازی آج کے دن بھی دیکھنے سے تعلق رکھتی تھی ۔۔۔۔
“جی بھائی ۔۔۔” اتنا کہہ کر حازم نظریں جھکا گیا۔۔۔ وہ جانتا تھا کہ اس نے مزید کچھ کہا تو ھیشم خان اسے سب کے سامنے بے ذریغ لتاڑنے سے بھی گریز نہیں کرے گا۔۔۔ حازم کی نسبت ذیان ذرا کم ہی ھیشم کے رعب میں آتا تھا تب ہی اس کی بات کو نظرانداز کرتے ہوئے بے ساختہ گویا ہوا تھا ۔۔۔۔
“او حازم کے بچے۔۔۔ اگر بھائی اتنے اچھے لگ رہے ہیں تو بھابھی کونسا کم ہیں۔۔۔؟؟ وہ بھی خوبصورتی میں اپنی مثال آپ ہیں ۔۔” ذیان نے بولتے ہوئے بے ساختہ بھائی کو داد طلب نظروں سے دیکھا مگر ھیشم کی غصیلی نظروں کو دیکھتے ہی اس نے زبان دانتوں تلے دبائی تھی ۔۔۔ ابھی ھیشم خان غصے سے اس سے کچھ کہنے ہی لگا تھا کہ روحی لائٹ پنک کلر کی پاؤں تک آتی میکسی پر سلور دوپٹہ لیے نازک سی جیولری پہنے اور ہلکا سا میک اپ کئے ہال میں داخل ہوتی دکھائی دی ۔۔۔ اس کے ساتھ دلہن کے جوڑے میں سجی دھجی عائشے بھی تھی۔۔۔ جس کے نازک وجود پر سجا بلڈ ریڈ کلر کا لہنگا بھی جیسے اپنی قسمت پر رشک کر رہا تھا ۔۔۔
ریڈ کلر میں ملبوس وہ مکمل دلہن کا روپ لئے کسی شہزادی سے کم نہیں لگ رہی تھی ۔۔۔ روحی اس کو تھامے اب اسٹیج تک چلی آئی تھی ۔۔۔۔ مہمانوں کی نظریں بھی گویا عائشے پر جم سی گئیں تھیں۔۔ سوائے ایک شخص کے اور وہ تھے زریاب حسین خان ۔۔۔ جن کی آنکھوں میں اس موم کی گڑیا جیسی لڑکی کے لئے نفرت صاف ظاہر تھی ۔۔۔۔ جبکہ اسٹیج پر کھڑا ھیشم تو عائشے کو دیکھ کر جیسے فریز ہو چکا تھا ۔۔۔ گو وہ اسے پہلے بھی دلہن کے روپ میں دیکھ چکا تھا مگر اس وقت وہ پہلے سے بھی بڑھ کر حسین لگ رہی تھی نظر لگ جانے کی حد تک ۔۔۔ تبھی ھیشم خان کی نظریں اس سے ہٹنے کو انکاری ہو گئیں تھیں۔۔۔ دل کسی طور نہیں مان رہا تھا ۔۔۔ وہ سب کچھ بھولے ہوئے بس عائشے پر نظریں جمائے کھڑا تھا اور دعا کر رہا تھا کہ کاش یہ لمحے یہیں تھم جائیں اور وہ اس کو یونہی دیکھتا رہے مگر اچانک روحی کی آواز سن کر وہ چونک کر ہوش میں آیا تھا۔۔۔۔
“بھائی کہاں گم ہوگئے ہیں۔۔۔۔؟؟؟ اب بھابھی آپ کی ہی ہیں پوری عمر دیکھتے رہیئے گا ۔۔۔ ابھی بھابھی کا ہاتھ پکڑ کر انہیں اسٹیج پر تو چڑھائیں ۔۔۔” روحی نے اسکے عائشے کو اسطرح دیکھنے پر چوٹ کی تھی ۔۔۔تبھی ھیشم خان بہن کے ٹوکنے پر جھینپ گیا تھا اور جھک کر عائشے کے بڑھے ہوئے ہاتھ کو تھام کر اس اوپر چڑھنے میں مدد دی تھی اور اس کے لئے اپنے پاس پڑے صوفے کی جانب بڑھا تھا۔۔۔۔
“مولوی صاحب نکاح شروع کروائیں ۔۔۔” ھیشم عائشے کے پاس والے صوفے پر بیٹھتے ہوئے اپنے مخصوص رعب دار لہجے میں بولا ۔۔۔ اس کی رعب دار آواز سنتے ہی مولوی صاحب نے فوراً نکاح کی کارروائی شروع کر دی تھی ۔۔۔
“ھیشم خان ولد اسماعیل خان ۔۔۔۔۔ حاضرین مجلس اور گواہوں کی موجودگی میں ایک کروڑ حق مہر فی الوقت ادائیگی ۔۔۔ آپ عائشے گل بنت اعتزازا خان کو اپنے نکاح میں قبول کرتے ہیں ۔۔۔؟؟” مولوی صاحب نے ھیشم خان کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا ۔۔۔
“جی ہم نے قبول کیا۔۔۔۔ ” ھیشم خان کو لمحہ لگا تھا حامی بھرنے میں ۔۔۔۔ اسی طرح مولوی صاحب نے تین دفعہ انہی الفاظ کو دہرایا تھا۔۔۔ اور ھیشم نے تینوں دفعہ یہی مخصوص جملہ دہرایا تھا۔۔۔ اب مولوی صاحب عائشے کی جانب متوجہ ہوئے تھے ۔۔۔
“عائشے بنت اعتزاز خان آپکو حاضرین مجلس ایک کروڑ حق مہر فی الوقت ادائیگی ۔۔ ھیشم خان ولد اسماعیل خان کے ساتھ یہ نکاح قبول ہے۔۔۔؟؟ ” مولوی صاحب نے عائشے گل کی جانب دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔۔۔عائشے کو اس لمحے شدت سے اپنے والدین کی کمی محسوس ہوئی تھی اور اس نے دل ہی دل میں اپنے والدین کو مخاطب کیا تھا۔۔۔
” کاش ماما بابا آج آپ زندہ ہوتے۔۔۔ ” عائشے گل کی آنکھوں سے آنسوں لڑیوں کی صورت بہنے لگے تھے ۔۔۔ اور اس کی گود میں رکھے ہاتھوں پر گرنے لگے تھے۔۔ اس کے پاس ہی بیٹھے ھیشم کے ہاتھ بھی عائشے کے ہاتھوں کے پاس ہی رکھے تھے تبھی عائشے کے بے آواز بہتے آنسوں اس کے ہاتھوں پر بھی گرے تھے۔۔۔ ھیشم کو اپنے ہاتھ پر نمی محسوس ہوئی تھی تبھی اس نے چونک کر اپنے ہاتھ کی جانب دیکھا تھا ۔۔۔۔
“عائشے گل ۔۔۔ مولوی صاحب کچھ کہہ رہے ہیں ۔۔” وہ سمجھ گیا تھا عائشے اس وقت کس کیفیت سے گزر رہی ہے ۔۔ اس کے یہ آنسوں اس کے دل کی حالت کے گواہ تھے ۔۔۔ تبھی اسے مسلسل خاموش پاکر ھیشم نے اس کان میں سرگوشی کی تھی اور اپنے ہاتھ کے پاس موجود عائشے کے ہاتھ کو اپنے ایک ہاتھ میں لے کر ہلکا سا دباؤ ڈالا تھا۔۔۔اور دوسرا ہاتھ تسلی آمیز انداز میں اس کے ہاتھ کی پشت پر رکھ دیا تھا۔۔۔ ھیشم کے اس طرح حوصلہ افزا انداز پر عائشے کی تھوڑی ہمت بندھی تھی اور پھر وہ بھی حامی بھر کے عائشے اعتزاز خان سے مسز ھیشم اسماعیل خان بن چکی تھی ۔۔۔۔اس شادی نے اس کو بے موت مرنے سے بچا لیا تھا ۔۔۔ وہ بدنامی کی اتھاہ گہرائیوں میں گرنے سے بچ گئی تھی اور اس سب کے لئے وہ اللّٰہ کے بعد اپنے برابر بیٹھے اس شخص کی سب سے بڑی شکر گزار تھی جس نے اسے ایک نئی زندگی دی تھی ۔۔۔۔







طبیعت خراب ہونے کی وجہ سے آج وہ کافی دنوں بعد یونیورسٹی آئی تھی اور اب دوسرے اسٹوڈنٹس سے نوٹس وغیرہ لے کر کاپی کرنے میں مصروف تھی ۔۔۔تب ہی ایشل یزدانی اس کے سر پر آ دھمکی تھی ۔۔۔۔
“عائشے ۔۔۔۔سنو میں کیا سوچ رہی ہوں ۔۔؟؟؟” اس نے عائشے گل کی جانب دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔
“ہاں کہو ۔۔۔ ویسے کیا تمہارے پاس سوچنے کے لئے دماغ بھی ہے ۔۔۔؟؟” عائشے نے اپنی آنکھوں میں مصنوعی حیرت سموتے ہوئے کہا جبکہ چہرے پہ شرارت واضح تھی۔۔۔
“ہاہاہاہاہاہا۔۔۔۔کیا عائشے تم بھی نا ۔۔۔ اچھا سنو تو میں کیا سوچ رہی تھی کہ چلو نا پاس میں جو نیو ریسٹورنٹ کھلا ہے وہاں سے پیزا کھا کر آتے ہیں ۔۔۔۔” ایشل نے مزے لیتے ہوئے کہا۔۔۔
“نہیں ہرگز نہیں ۔۔۔۔ پاگل ہو گئی ہو کیا۔۔۔۔؟؟؟ چچا جان مجھے گھر سے نکال دیں گے اگر انہیں پتا چل گیا اور آج مجھے بہت کام ہے ۔۔۔” عائشے نے اسے واضح طور پر منع کر دیا تھا لیکن سامنے بھی تو پکی کھلاڑی تھی ۔۔۔۔ اسے چال چلنا آتی تھی ۔۔۔ سو وہ اپنا جال پھینک چکی تھی بس اب شکار کو پھنسانا تھا۔۔۔۔
“منع مت کرو نا یار عائشے۔۔۔۔ پاس میں ہی تو ہے آجائیں گے نہ جلدی چلو نہ پلیز پلیز پلیز ۔۔۔” ایشل نے اسکے انکار کو خاطر میں نا لاتے ہوئے اس پر مزید دباؤ ڈالا تھا۔۔۔۔
“اچھا ٹھیک ہے لیکن ہم جلدی سے واپس آجائیں گے۔۔۔” عائشے نے حامی بھرتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔ چادر اوڑھ کر وہ اس کے ھمراہ چل پڑی ۔۔۔ ابھی وہ مین روڈ پر ہی تھیں کہ عائشے کو عجیب سا احساس ہوا تھا اسنے مڑ کر پیچھے دیکھا تو اسے اپنے پاؤں کے نیچے سے زمین نکلتی ہوئی محسوس ہوئی ۔۔۔ تب ہی اس نے زور سے ایشل کا ہاتھ تھاما تھا۔۔۔
“کیا ہو گیا عائشے ۔۔۔۔ ایسے ری ایکٹ کیوں کر رہی ہو ۔۔۔؟؟” ایشل نے اس کی گھبراہٹ فیل کرتے ہوئے کہا ۔۔۔۔
“وہ ۔۔۔ وہ ۔۔۔ ایشل ۔۔۔ وہ آدمی ہم ۔۔ ہمارا پیچھا کر رہا ہے ۔۔۔” عائشے نے ہکلاتے ہوئے کہا۔۔۔ ڈر کی وجہ سے اس سے بولا بھی نہیں جارہا تھا۔۔۔۔ آنسو آنکھوں سے مسلسل بہہ رہے تھے ۔۔۔ ایشل نے ایک نظر مڑ کر اس کی نظروں کے تعاقب میں دیکھاتھا۔۔۔۔
“نہیں یار ایسی کوئی بات نہیں ہے۔۔۔ وہ تو ہماری طرف دیکھ بھی نہیں رہا ۔۔۔ تم کبھی باہر نہیں نکلتی شاید اس لئے لگا ہو گا تمہیں ۔۔۔۔” ایشل نے اسے ٹالتے ہوئے کہا ۔۔۔۔
“نہیں یار ۔۔۔ ایسا نہیں ہے چلو واپس چلتے ہیں یونی مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے ۔۔۔۔” عائشے نے خود پر قابو پاتے ہوئے کہا۔۔۔ لیکن کوئی احساس تھا جو اسے کچھ غلط ہونے کا پتا دے رہا تھا ۔۔۔ ایشل نے ایک نظر رک کر عائشے کی طرف دیکھا تھا اور چپ چاپ پھر سے چلنے لگی۔۔۔
“کیا ہوا تم کچھ بول کیوں نہیں رہی ۔۔۔۔؟؟” عائشے نے ایشل کو چپ چاپ آگے بڑھتے دیکھ کر سوال کیا۔۔۔۔
“عائشے کہیں تمہارے چچا کی کسی کے ساتھ دشمنی تو نہیں چل رہی نا۔۔۔آئی مین خاندانی دشمنی وغیرہ ۔۔۔؟؟؟ ” ایشل نے اسے شک ہوتے دیکھ کر نیا پتا پھینکا تھا ۔۔۔ چونکہ اگر اسے شک ہو جاتا تو سب کئے کرائے پر پانی پھر جانا تھا۔۔۔۔ ایشل کو یہ کہاں منظور تھا۔۔۔
“کیا مطلب ۔۔۔۔؟؟؟” عائشے نے اس کی طرف نا سمجھی سے دیکھ کر سوال کیا تھا۔۔۔
“نہیں کچھ نہیں ۔۔۔۔” ایشل نے بات کو ٹالنا چاہا تھا لیکن وہ جانتی تھی وہ عائشے کی سوچوں کا رخ موڑ چکی ہے۔۔۔۔
ہماری تو کسی سے کوئی خاندانی دشمنی نہیں ہے اور نا مجھے پتہ کہ یہ کون ہے۔۔۔” عائشے اتنا تو جان چکی تھی وہ آدمی اسی کے پیچھے آرہا ہے ۔۔۔ خوف نے اسے چاروں طرف سے لپیٹ میں لے لیا تھا جبکہ ایشل بالکل نارمل تھی بے خوف اور اسی بات پر عائشے ٹھٹکی تھی۔۔۔ اب اسے احساس ہو رہا تھا کہ یونیورسٹی سے نکل کر اس نے کتنی بڑی غلطی کی ہے۔۔۔۔
“ایشل چلو نا یار۔۔۔۔ یونی چلتے ہیں واپس مجھے کچھ بھی ٹھیک نہیں لگ رہا۔۔۔۔” عائشے نے بیچارگی سے کہا جتنی وہ سادہ لوح اور راستوں سے انجان تھی اس سے زیادہ مزید کچھ کر بھی کیا سکتی تھی ۔۔۔۔
“کیا یار وہ دیکھو بس سامنے ہی تو ہے ۔۔۔ پہنچ جائیں گے ابھی ۔۔۔۔ اب ادھر تک آہی گئے ہیں تو بس پیزا کھا کر چلتے ہیں ۔۔۔” ایشل اس کا ہاتھ تھام کر جلدی جلدی چلنے لگی ۔۔۔۔
ایک بار پھر اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا تھا لیکن اب وہ آدمی پیچھے نہیں تھا یہ دیکھ کر اسے کچھ حوصلہ ہوا تھا۔۔۔ ریسٹورنٹ میں داخل ہو کر علیزے نے اپنی کب سے رکی سانس بحال کی تھی ۔۔۔۔
ایشل نے ہی پیزا آرڈر کیا تھا وہ تو بس غائب دماغی سے ادھر ادھر دیکھ کر یہی سوچ رہی تھی کہ نجانے کون تھا وہ آدمی اور ان کا پیچھا کیوں کر رہا تھا ۔۔۔؟؟؟ مجھے آج ہی جا کر چچا جان کو سب بتانا پڑے گا ۔۔۔ وہ خود ہی نمٹ لیں گے اس بندے سے ۔۔۔۔ ہاں یہی ٹھیک ہے۔۔۔۔ ؟؟؟ وہ گم صم سی بیٹھی یہی سب سوچ رہی تھی کہ ایشل نے اسے کندھوں سے پکڑ کر جھنجوڑا تھا۔۔۔
“کہاں گم ہو گئی عائشے ۔۔؟؟ پیزا آگیا ہے چلو کھاؤ جلدی ہمیں واپس بھی جانا ہے یونیورسٹی ۔۔” ایشل نے اسکے سامنے پڑے پیزے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ۔۔۔
“ہاں ہاں کہیں نہیں۔۔۔ چلو جلدی سے کھاتے ہیں اور پھر نکلتے ہیں یہاں سے ۔۔۔” اتنا کہہ کر عائشے نے پیزا کھانا شروع کر دیا اور پانچ منٹ سے بھی پہلے وہ پیزا ختم کر چکی تھی ۔۔۔۔ مجبوراً ایشل کو بھی جلدی جلدی کھانا پڑا۔۔۔۔
“چلو چلیں ۔۔۔۔” عائشے نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا ۔۔۔
“ہاں چلو۔۔۔” اتنا کہہ کر ایشل یزدانی بھی اٹھ کھڑی ہوئی اور پھر وہ دونوں ریسٹورنٹ کے بیرونی دروازے کی جانب بڑھ گئیں ۔۔
“پریشان نا ہو ۔۔۔ کچھ نہیں ہو گا۔۔۔ بس اب ہم دس منٹ میں پہنچ جائیں گے یونی۔۔۔” ایشل نے مکروہ ہنسی چہرے پر سجائے خاموشی سے چلتی عائشے سے کہا۔۔۔۔اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتی ایشل ایک دم رکی تھی ۔۔۔۔
“ہائےےےےےے ۔۔۔عائشے چینج تو لینا بھول ہی گئی میں ۔۔۔” ایشل نے ہاتھ میں پکڑے پرس کی طرف دیکھ کر ماتھے پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔
“اوہ نو۔۔۔ دھیان کہاں تھا تمہارا اب پھر سے واپس جانا پڑے گا اور اگر چچا جان کا ڈرائیور آگیا تو۔۔؟؟” عائشے نے غصے سے کہا اب اسے ایشل پر بہت غصہ آرہا تھا ۔۔۔۔
“سو سوری یار۔۔۔ بس پاس میں ہی تم رکو بس میں ایک منٹ میں آئی بس۔۔۔۔” اس سے پہلے کہ وہ اسے روکتی ایشل جلدی سے آگے بڑھ گئی ۔۔۔۔ عائشے وہیں روڈ پر کھڑی اسے دور جاتا دیکھتی رہ گئی تھی ۔۔۔ تب ہی اسے اپنے پیچھے کسی کی موجودگی کا احساس ہوا تھا اور اس نے اچانک مڑ کر پیچھے دیکھا تو وہ آدمی اس کے بلکل قریب کھڑا تھا۔۔۔ عائشے اچانک بدک کر پیچھے ہوئی تھی ۔۔۔
“ک۔۔کو۔۔کون ہو تم ۔۔؟؟؟” عائشے نے گھبراتے ہوئے بمشکل کہا اسے اپنا جسم بھی سن ہوتا محسوس ہو رہا تھا ۔۔۔
“یہ بھی پتا چل جائے گا اتنی بھی کیا جلدی ہے ۔۔؟؟” یہ کہہ کر اس آدمی نے اس کو بازو پکڑ کر پاس کھڑی گاڑی کی طرف گھسیٹا تھا ۔۔
“چھوڑو مجھے ۔۔۔۔ چھوڑو۔۔ کون ہو تم لوگ ۔۔؟؟؟ اور کہاں لے کر جا رہے ہو مجھے ۔۔؟؟” وہ غصے سے چلا رہی تھی مگر سامنے والے آدمی کے پاس ریوالور دیکھ کر اس کی زبان تالو سے جا چپکی تھی ۔۔۔۔
“اے لڑکی چپ ہوجا ورنہ ابھی کے ابھی یہ ساری کی ساری گولیاں تیرے بھیجے میں اتار دونگا۔۔۔” اس آدمی نے ریوالور اس کی کنپٹی پر رکھتے ہوئے کہا ۔۔۔۔اور پھر اس نے عائشے کو دھکا دے کر گاڑی کے اندر دھکیلا تھا اور تب ہی اسے اپنے بازو پر ہلکی سی چبھن محسوس ہوئی تھی اور اس سے پہلے کہ وہ کچھ سمجھ پاتی اسے اپنا دماغ سن ہوتا ہوا محسوس ہوا۔۔۔ کچھ ہی دیر میں وہ دنیا و مافیہا سے بیگانہ ہو چکی تھی ۔۔۔ لیکن بےہوش ہونے سے پہلے جو آخری چیز اس نے دیکھی تھی وہ تھا اس لڑکی کا چہرہ جو گاڑی میں بیٹھی جلدی جلدی اس کے ہاتھ باندھ رہی تھی ۔۔۔ ناجانے کیوں اسے وہ چہرہ مانوس سا لگا تھا ۔۔۔۔







آہ۔۔اف۔۔۔یا اللّٰہ میرا سر۔۔۔عائشے درد سے کراہ رہی تھی ۔۔اس نے زرا سی آنکھ کھول کر اپنے اردگرد دیکھا تو اسے گھپ اندھیرا دکھائی دیا عائشے نے کھڑا ہونا چاہا تو اسے محسوس ہوا کہ اس کے پاؤں بندھے ہوئے ہیں۔۔۔
” آرام سے بیٹھی رہو۔۔۔۔” ایک گرجدار آواز کے ساتھ ایک تیز روشنی عائشے کے چہرے پر پڑی تھی۔۔
اس پورے کمرے میں سوائے عائشے کے اور کچھ نظر نہیں آ رہا تھا یہ اندھیرا اسے خوفزدہ کر رہا تھا۔۔۔۔ عائشے نے ڈرتے ڈرتے پوچھا۔۔۔
“کون ہو تم لوگ ۔۔؟؟اور کیوں لائے ہو مجھے یہاں ۔۔۔؟؟”
“شششششش”۔۔چپ بلکل ۔۔ایک لفظ اور نہیں ۔۔۔”وہ عورت آہستہ سے عائشے کے قریب آئی تھی اور اس کے لبوں پر انگلی رکھی تھی ۔۔۔وہ عورت اس وقت عائشے پر طاری خوف محسوس کر سکتی تھی عائشے پوری طرح ٹھنڈی پڑ چکی تھی ۔۔۔گھپ اندھیرا ہونے کی وجہ سے عائشے اس عورت کا چہرہ نہیں دیکھ پارہی تھی ۔۔۔
“اے لڑکی ۔۔میری بات سن ۔۔اور پورے دھیان سے سن۔۔۔”وہ عورت اس کے چہرے کو سختی سے پکڑتے ہوئے بولی۔۔۔
“یہ جہاں تو اس وقت موجود ہے یہ اس شہر کا سب سے بڑا عقوبت خانہ ہے ۔۔۔”اس عورت نے اس کے سر پر بم پھوڑا تھا۔۔۔اسے لگا کہ ہر شے تھم چکی ہے اسے اپنا سر چکراتا ہوا محسوس ہو رہا تھا ۔۔۔
“نہیں ۔۔نن۔۔ننہ۔۔نہیں ۔۔یہ تم کیا کہہ رہی ہو ۔۔ایسا نہیں ہو سکتا تم جھوٹ بول رہی ہو ۔۔۔”عائشے کو ساتوں آسمان اس وقت اپنے سر پر گرتے ہوئے محسوس ہوئے تھے ۔۔۔۔
“پر ایسا ہو چکا ہے مائے ڈارلنگ ۔۔بس اب تم تیاری پکڑو اور یہ رونا دھونا بند کرو۔۔بہت جلد تمہارا بھی بندوبست کردونگی۔۔۔”اس عورت نے مکروہ ہنسی ہنستے ہوئے کہا ۔۔۔۔اتنا کہہ کر اس نے جھٹکے سے اسکا منہ چھوڑا تھا۔۔۔
اور پھر زور سے دروازہ بند کرتی کمرے سے نکل گئی ۔۔دروازہ مقفل ہو چکا تھا ۔۔۔۔سیڑھیاں اترتے اس عورت کو عائشے کی چیخیں اور زور زور سے دروازہ کھٹکھٹانے کی آوازیں سنائی دے رہ تھیں ۔۔۔۔







اس وقت شہر کے پوش ترین علاقے میں پوری شان سے کھڑی اس محل نما سفید حویلی کی شان و شوکت دیکھنے سے تعلق رکھتی تھی۔۔۔ اس حویلی کی ینگ جنریشن میں یہ پہلی شادی تھی اسی لئے حویلی کے آج شاہی ہال کی چمک دمک آنکھوں کو خیرہ کر رہی تھی۔۔۔ ہال میں موجود سبھی مہمانوں کے چہرے خوشی سے جگمگا رہے تھے ۔۔۔مولوی صاحب نکاح پڑھا چکے تھے ۔۔۔ اور وہاں موجود سارے مہمان ایک کے بعد ایک ھیشم خان کو مبارکباد دینے اسٹیج پر چلے آ رہے تھے ۔۔۔۔ انہی مہمانوں کے ساتھ ھیشم سے چھوٹا حازم بھی ایک بڑا سا گفٹ باکس لئے جھجھکتا ہوا اسٹیج پر چلا آیا تھا ۔۔۔ اس کے ہاتھ میں تھما گفٹ ایک خوبصورت سے گفٹ پیپر سے ریپڈ کیا گیا تھا ۔۔۔ وہ دھیرے دھیرے چلتا ہوا اسٹیج پر مسکرا کر سب سے مبارکباد وصول کرتے کھڑے ھیشم کی طرف بڑھا تھا ۔۔۔۔ تبھی اس کا فون بجا تھا روحی کی کال تھی جو اسے ابھی گفٹ دینے سے روک رہی تھی،،، کیونکہ وہ چاہتی تھی کہ بڑے بھائی کو وہ تینون ایک ساتھ مل کر گفٹ دیں ۔۔۔ تبھی حازم پیچھے کی طرف جاکر روحی اور ذیان کا انتظار کرنے لگا تھا۔۔۔ اور کچھ ہی دیر میں اس کی نظر سامنے سے بھاگ کر آتی روحی اور ذیان پر پڑی تھی ۔۔۔ وہ دونوں جلدی جلدی اسٹیج پر آئے تھے اور اب تینوں بہن بھائی حازم کے ساتھ ھیشم کی طرف بڑھے تھے ۔۔۔۔
“کانگریچولیشن بھائی ۔۔۔۔ شادی بہت بہت مبارک ہو آپ کو ۔۔۔ آپ دونوں کی جوڑی ماشاءاللہ چاند سورج جیسی لگ رہی ہے ۔۔۔ اللہ آپ دونوں کو نظر بد سے بچائے آمین۔۔۔” روحی نے بھائی کو گفٹ دیتے ہوئے مسکرا کر کہا۔۔ ھیشم نے بے ساختہ اپنی بیٹی جیسی بہن کو اپنے ساتھ لگایا تھا حزم اور ذیان بھی بہن کے ساتھ ساتھ ھیشم کو گفٹ اور مبارکباد دے چکے تھے۔۔
“تھینک یو میری جان ۔۔۔ بٹ اس کی کیا ضرورت تھی ۔۔۔ ہمارے لئے بس آپ لوگوں کی دعائیں ہی کافی تھیں ۔۔۔” ھیشم نے تینوں کے گفٹس تھامتے ہوئے کہا تھا ۔۔ اور اپنے سائیڈ میں کھڑے ملازم کو گفٹ تھما کر بہن بھائیوں کو محبت پاش نظروں سے دیکھنے لگا تھا۔۔۔ وہ چاہے کتنا ہی اکھڑ اور روڈ ٹائپ کا بندہ تھا مگر سچ تو یہ تھا کہ وہ تینوں بہن بھائی اس کی جان تھے ۔۔۔ وہ ان تینوں سے بے تحاشہ محبت کرتا تھا ۔۔ان تینوں کے لئے ہی تو نا چاہتے ہوئے بھی وہ آج اس مقام تک پہنچا تھا ۔۔۔
اپنی سوچوں نے ایک ساتھ ہی اس پر جیسے حملہ کیا تھا ۔۔۔ تبھی سر جھٹکتے ہوئے وہ باقی سب لوگوں کی طرف متوجہ ہوا تھا ۔۔۔ اور تبھی اس کی نظر اسٹیج سے نیچے ایک طرف کھڑے زریاب خان پر پڑی تھی ۔۔۔آج جہاں اس شاہی ہال میں سب کے چہروں پر خوشی رقصاں تھی ۔۔۔ ہر کوئی شاداں و فرحاں تھا وہیں اسٹیج سے نیچے کھڑے زریاب خان کا چہرہ غصے کی شدت سے بگڑا ہوا تھا ۔۔۔ کیا کچھ نہیں تھا ان کی آنکھوں میں غصہ ۔۔ حسد ۔۔۔ جلن۔۔۔ نفرت ۔۔ ھیشم کو اسے اس طرح دیکھ کر نجانے کیوں ایک کمینی سی خوشی ہوئی تھی۔۔۔
“روحی۔۔۔عائشے گل کو اوپر ہمارے روم میں لے جائیے ۔۔۔ اور انھیں کھانا وغیرہ یاد سے کھلا دیجیئے گا۔۔۔” ھیشم خان روحی سے مخاطب ہوا تھا جو عائشے سے باتیں کرنے میں مصروف تھی ۔۔۔
“جی بھائی ۔۔۔”روحی نے فوراََ اس کے حکم پر عمل کیا تھا۔۔
“چلئیے بھابھی ۔۔۔” روحی اس کا لہنگا پکڑتی اس کو چلنے میں مدد دیتی ہوئی عائشے کو ساتھ لے کر اسٹیج سے اترتی چلی گئی ۔۔۔
کھانا لگ چکا تھا دھیرے دھیرے سارے مہمان کھانے سے فارغ ہو کر ہال کے بیرونی دروازے کی جانب بڑھ رہے تھے
تب ہی ھیشم سہج سہج قدموں سے اترتا اسٹیج سے نیچے اترا تھا ۔۔۔ اسے اپنے پاس آتا دیکھ کر زریاب خان باہری دروازے کی طرف بڑھنے لگے تھے۔۔۔
“ارے رے رے۔۔۔۔ ایسے ہی جا رہے ہیں ۔۔۔ مبارکباد تو دیتے جائیں زریاب خان۔۔۔” ھیشم لبوں پر فاتحانہ مسکراہٹ سجاتے ہوئے گویا ہوا۔۔۔ وہ زریاب خان کو اس حالت میں دیکھ کر خاصا محظوظ ہوا تھا۔۔۔۔ مگر زریاب خان نے اپنے اندرونی تاثرات چھپاتے ہوئے کمال ہوشیاری سے چہرے پر طنزیہ مسکراہٹ سجائی تھی۔۔
“چچچچچ۔۔۔ کیسی مبارک ھیشم اسماعیل خان۔۔۔ الٹا مجھے تو آج دکھ ہو رہا ہے تمہارے لئے ۔۔۔۔ افسوس صد افسوس ۔۔ہاہ ہ ہ ہ ہ لیکن اب کیا کیا جا سکتا ہے۔۔۔؟؟؟ اسے کہتے ہیں مقدر کا کھیل ۔۔۔ اففففف بیچارہ ۔۔ ھیشم اسماعیل خان ۔۔۔۔ ” زریاب خان نے معنی خیر ہنسی ہنستے ہوئے زہر اگلا تھا۔۔۔ ان کے انداز پر مسکراتے ہوئے ھیشم کے لب اچانک ہی سمٹ گئے تھے۔۔
“تم کہنا کیا چاہتے ہو زریاب خان۔۔۔؟؟ ” ھیشم خان نے زریاب خان کو دیکھ کر غصے سے پوچھا تھا۔۔
“زیادہ کچھ نہیں زریاب خان۔۔۔۔ لیکن آج جس لڑکی سے شادی کرکے تم نے اعلیٰ ظرفی کا اعلیٰ ترین مظاہرہ کیا ہے نا۔۔۔ اصل میں وہ لڑکی تمہارے قابل ہی نہیں تھی ۔۔۔ کیونکہ بچپن سے اس لڑکی کے دل میں میرے بیٹے عادل کی محبت بسی ہوئی ہے۔۔۔۔ افسوس ھیشم خان افسوس۔۔۔۔ تمھارے حصے میں ایک ایسی لڑکی آئی ہے جو سالوں سے کسی اور کو اپنے دل میں بسائے ہوئے ہے۔۔۔۔ مگر سوچو وہ لڑکی جب اپنی بچپن کی محبت کے ساتھ مخلص نہیں ہوئی تو تمہارے ساتھ مخلص کیسے ہو گی ۔۔؟؟؟؟ کل کو اگر وہ عادل کی طرح تمہیں بھی چھوڑ کر کسی اور کے پاس چلی گئی تو کیا کرو گے تم ۔۔۔ ہاہاہاہاہا۔۔۔” زریاب خان نے زوردار قہقہہ لگایا تھا۔۔۔ اور ان کی یہ ہنسی ھیشم کے تن بدن میں آگ لگانے کو کافی تھی ان کی باتیں سن کر اس کا ازلی غصہ عود کر آیا تھا۔۔۔
“خاموشششششش۔۔۔۔ زریاب خان خاموششششش۔۔۔۔ اگر ایک بھی لفظ تم نے اپنی اس غلیظ زبان سے نکالا تو ہم سے برا کوئی نہیں ہوگا۔۔۔” ھیشم خان نے گرجتے ہوئے کہا ۔۔۔ مگر زریاب ذرا بھی اس کی دھاڑ سے خائف نہیں ہوئے تھے ۔۔۔۔
“اففففففففف۔۔۔۔ یہ غصہ یہ جاہ و جلال ۔۔۔ سردار ھیشم اسماعیل خان مجھ پر چینخ چلا کر تم سچ کو نہیں دبا سکتے ۔۔۔ لیکن مجھے آج تمھاری بے بسی پر ہنسی آ رہی ہے۔۔۔ اور حیرت ہو رہی اس بات پر کہ اب کہا گئی تمھاری غیرت ۔۔۔؟؟؟ کیونکہ آج تمھاری غیرت زندہ ہوتی تو تم کبھی ایسی لڑکی سے شادی نہ کرتے جو ایک ہفتہ گھر سے باہر گزار کر آئی ہے۔۔۔۔ ناجانے کس کس کے ساتھ گل چھڑے اڑائے ہونگے اس نے پورے ہفتے ۔۔۔۔؟؟ ” زریاب خان نے عائشے کے خلاف زہر اگلنا شروع کر دیا تھاجبکہ ھیشم خان اب ضبط کی آخری حدوں پر تھا۔۔۔ شدت ضبط سے اس کا پورا چہرہ سرخ ہو چکا تھا۔۔۔۔
“زریاب خان شاید تم بھول رہے ہو وہ لڑکی جس کے بارے میں تم اتنے گھٹیا الفاظ اپنی غلیظ زبان سے نکال رہے ہو وہ اب ہماری بیوی بن چکی ہے۔۔۔ ھیشم اسماعیل خان کی بیوی اور اگر کوئی ہماری عزت پر انگلی اٹھائے گا تو ہم اس کا ہاتھ توڑ کر رکھ دیں گے۔۔۔اور نا ہی تمہاری بکواس برداشت کریں گے ۔۔ آج تو ہمارے سامنے اپنی اس غلیظ زبان سے عائشے گل کے لئے زہر اگلا ہے مگر آئندہ ایسا کچھ ہوا تو اس زبان کو کاٹنے کے علاوہ تمھارے ہاتھ پیروں کو بھی توڑ کر تم سے سڑکوں پر بھیک منگوانے کا کام کروائیں گے۔۔ اسی لئے اپنی اس بے لگام زبان کا استعمال کم سے کم کرنا عائشے گل کے خلاف کیونکہ تم ھیشم اسماعیل خان کے نام سے تو اچھی طرح واقف ہی ہو۔۔۔” ھیشم خان نے سرد لہجے میں کہا تھا کیونکہ عائشے گل اب اس کی عزت بن چکی تھی اور اپنی عزت کی حفاظت کرنا ھیشم اسماعیل خان سے بہتر طریقے سے جانتا تھا ۔۔۔۔
“ہاہاہاہا ۔۔۔ھیشم خان یہ جس عزت کی بات تم کر رہے ہو نا اسی عزت کے منہ پر اگر اس لڑکی نے زوردار طمانچہ نا مارا تو میرا نام بدل دینا ویسے بہت بہت مبارک ہو تمھیں یہ دھوکے کی شادی ھیشم اسماعیل خان۔۔۔ بس اب ذرا سنبھال کر رکھنا اپنی عزت اور اس منحوس کو۔۔۔۔کہیں پھر سے نا بھاگ جائے ۔۔۔۔” تلخ مسکراہٹ کے ساتھ بولتے زریاب خان آگے بڑھ چکے تھے کیونکہ اب ھیشم اسماعیل خان سے کچھ بعید نہ تھا کہ وہ واقعی ان کی ہڈیاں تڑوا کر بھیک منگوانے کا کام شروع کروا دیتا۔۔







روحی عائشے کو ھیشم خان کے روم کی طرف لے کر جا رہی تھی اور ساتھ میں ھیشم کے بارے میں باتیں کیے جارہی تھی ۔۔ عائشے ہوں ہاں میں اس کی باتوں کے جواب دے رہی تھی مگر جیسے ہی وہ ھیشم کے بیڈروم میں داخل ہوئی تو حیرت سے ششدر سی منہ کھولے کھڑی رہ گئی تھی ۔۔۔ پورے روم میں ہر طرف گلاب ہی گلاب تھے ۔۔۔۔ بیڈ سے لے کر دیواروں اور فرش تک کو گلاب کی پتیوں سے کور کیا گیا تھا ۔۔عائشے کو گلاب کے سرخ پھول بے حد پسند تھے۔۔سخ گلاب کی خوشبو کی وہ دیوانی تھی اور آج ھیشم نے جیسے اس کی پسند کو مدنظر رکھتے ہوئے پوعے روم کو ڈیکوریٹ کروایا تھا ۔۔۔ جیسے جیسے وہ آگے بڑھ رہی تھی اس کی آنکھيں حیرت سے پھیلتی جا رہی تھیں ۔۔۔ دیواروں پر گلابوں کے پھولوں کی لڑیاں لٹکی ہوئی تھیں جنہوں نے دیواروں کو مکمل طور پر چھپا لیا تھا ۔۔
چھت کے بلکل درمیان میں سفید رنگ کا بڑا سا ہیروں کی چمک لیئے ہوئے قیمتی خوبصورت سا فانوس لگا ہوا تھا جسے دیکھ کر آنکھیں چندھیائی جا رہی تھیں ۔۔۔ فانوس کے آس پاس چھت پر بے تحاشہ خوبصورت چھوٹے چھوٹے ستارے لٹک رہے تھے جو فانوس کی شعاعوں سے مل کر ماحول کو خوابناک بنا رہے تھا ۔۔
عائشے یہ سب دیکھ کر جیسے سب کچھ بھول چکی تھی وہ مبہوت سی اس دلفریب سجاوٹ کو حیرانی سے دیکھ رہی تھی۔۔۔ اسے یقین ہی نہیں آ رہا تھا کہ واقعی یہ سب اس کے لیے کیا گیا تھا۔۔۔۔؟؟؟ کیا وہ بھی اتنی اہم ہو سکتی تھی ۔۔۔؟؟؟ ۔۔روحی اسے لیے
جہازی سائز بیڈ پر چلی آئی تھی ۔۔۔ بیڈ پر ریڈ اینڈ وائیٹ روز کے پھولوں کی چادر بچھی ہوئی تھی ۔۔فرش پر گلاب اور موتیوں کی پتیاں بکھری ہوئی تھیں چھت پر بلڈ ریڈ ہرٹس لٹک رہے تھے ۔۔۔ عائشے ساکت سی یہ سب دیکھ رہی تھی کہ روحی کی آواز پر چونکی۔۔۔
“بھابھی۔۔۔۔کہاں گم ہیں ۔۔؟؟” روحی نے اسے کندھوں سے ہلاتے ہوئے کہا ۔۔
“نہیں کچھ نہیں ۔۔” عائشے نے بوکھلاتے ہوئے کہا۔۔۔
“اوکے بھابھی اب میں جا رہی ہوں ۔۔۔بائے۔۔۔” روحی اسے بیڈ پر بٹھا کر روم سے نکلتی چلی گئی ۔۔۔ اب عائشے آسانی سے پورے کمرے کا جائزہ لے رہی تھی اور اس کی آنکھوں میں ستائش ہی ستائش تھی ۔۔۔۔
“بھائی ۔۔۔آپ ابھی تک یہاں ہیں ۔۔؟؟؟” روحی جو ابھی اسی کمرے سے آرہی تھی ھیشم کو لاؤنج میں کھڑے دیکھ کر پوچھا ۔۔۔
“ہاں بس ہم جا ہی رہے تھے ۔۔۔ آپ جاؤ سو جاؤ جا کر تھک گئی ہونگی۔۔۔” ھیشم نے اسے ہدایت دیتے ہوئے کہا ۔۔۔
“”جی بھائی ۔۔۔” اتنا کہہ کر روحی وہاں سے نکلتی چلی گئی ۔۔۔۔ھیشم بھی اپنے روم کی طرف بڑھ گیا۔۔۔اور جیسے ہی روم کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا سامنے کا منظر دیکھ کر ساکت رہ گیا۔۔۔
