Tere Ishq Sy Meri Zaat Tak by Ayesha Mughal NovelR50552 Tere Ishq Sy Meri Zaat Tak (Episode 07)
Rate this Novel
Tere Ishq Sy Meri Zaat Tak (Episode 07)
Tere Ishq Sy Meri Zaat Tak by Ayesha Mughal
خوبصورت دھن کو سیٹی پر گنگناتے ہوئے وہ آئینے کے سامنے کھڑا اپنے بال سنوار رہا تھا ہلکی بڑھی ہوئی شیو کو مختلف زاویے سے دیکھ کر مدہم مسکان اس کے چہرے پر ابھری بڑی تو آنکھیں بھی روشن ہو گئیں ۔۔۔
موئسچرائزر لگا کر اپنے پسندیدہ پرفیوم کا استعمال اس کی تیاری کو مکمل کر رہا تھا تھا۔۔۔۔
“کہاں کی تیاری ہے بھئی۔۔۔؟؟ بڑا سجا دھجاجا رہا ہے۔۔۔”اس سے پہلے کہ وہ مزید سنگھار کرتا ذیان کو کھوجتی ہوئی نظروں سے آئینے میں دیکھتے ہوئے اس کے ہاتھ رک گئے ۔۔۔اپنے خیالوں میں گم حازم یہ تو بھول ہی گیا تھا کہ ذیان بھی اس وقت کمرے میں موجود ہے ۔۔۔لمحہ لگا تھا اسے سنبھلنے میں ۔۔۔۔
“کہیں نہیں ۔۔میں نے کہاں جانا ہے ۔۔۔؟؟”حازم نے سنوارے ہوئے بالوں کو ہلکا سا بکھیرتے ہوئے کہا ۔۔۔
“کہیں بھی نہیں۔۔۔والے تیور تو نہیں لگ رہے ۔۔۔۔”ذیان نے کھوجتی نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔
“یہ تم ہر وقت میرے پیچھے کیوں پڑے رہتے ہو ۔۔؟؟”حازم نے خفگی سے اسے دیکھتے ہوئے کہا اور آئینے کے سامنے سے ہٹ گیا ۔۔۔
“کیونکہ میں تمہاری بھلائی چاہتا ہوں اور نہیں چاہتا کہ تمہیں ھیشم بھائی کے سامنے شرمندہ ہونا پڑے ۔۔۔۔پھر کہتا ہے ۔۔۔ذیان پلیز میری مدد کر دے ۔۔۔اگر اس دفعہ کچھ ایسا ویسا کیا نا تو میرے پاس مت آنا مدد کے لیے ۔۔۔۔”ذیان نے فکر مند لہجے میں کہا۔۔۔تو حازم زور دار قہقہہ لگا کر ہنس دیا ۔۔۔
“یار تیری سوچ تو بلکل لڑکیوں جیسی ہے ۔۔یہ تو مجھے آج پتا چلا ۔۔۔”حازم نے مضحکہ خیز لہجے میں کہا تو ذیان نے آنکھیں سکیڑ کر اسے دیکھا ۔۔۔۔
“بیٹا ۔۔جس راستے پر تو چل نکلا ہے نا ۔۔ضرور ھیشم بھائی سے ہڈیاں تڑوائے گا ۔۔۔”ذیان نے دانت پیستے ہوئے کہا۔۔۔
“کیسا راستہ ۔۔۔۔بھئی یہ راستہ تو ۔۔۔”آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے ۔۔۔”حازم نے شاہانہ انداز میں ماتھے پر ہاتھ کی پشت رکھتے ہوئے کمال کی ایکٹنگ کی تھی ۔۔۔
“ڈوب کے مر نہ جانا اس دریا میں ۔۔۔”ذیان نے اس کی ایکٹنگ پر چوٹ کرتے ہوئے کہا ۔۔۔۔
“بس کر دے بھائی ۔۔۔۔کیا ڈرا ڈرا کے مارے گا۔۔۔”حازم نے آنکھیں پھیلاتے ہوئے کہا۔۔
“ڈرا نہیں رہا آگاہ کر رہا ہوں تجھے ۔۔۔باقی تیری مرضی ہے ڈوب مر ۔۔کر جو کرنا ہے ۔۔۔”ذیان نے اسے شوخ ہوتے دیکھ کر ہٹ دھرمی سے کہا۔۔۔اس سے پہلے کہ حازم پھر سے شوخی مارتا روحی اس کو آوازیں دیتی کمرے میں آپہنچی تھی ۔۔۔۔
“حازم عزت سے میرا سامان دے دو مجھے ۔۔۔”وہ سخت غصے میں لڑاکا عورتوں کی طرح کمر پر دونوں ہاتھ رکھتی گویا ہوئی ۔۔۔
“کیا ہو گیا ۔۔؟؟کون سی آفت آگئی ہے۔۔؟؟اور کس سامان کی بات کر رہی ہو ۔۔۔”حازم نے پرسکون لہجے میں پوچھا جبکہ آنکھوں میں شرارت واضح تھی یہ دیکھ کر تو روحی کو تو مانوآگ ہی لگ گئی ۔۔۔
“حازم تم اچھے سے جانتے ہو میں کس سامان کی بات کر رہی ہوں ۔۔؟؟”
“نہیں میں تو نہیں جانتا تم کس سامان کی بات کر رہی ہو ۔۔۔؟؟”اس نے پوری طرح انجان بنتے ہوئے کہا ۔۔۔
“حازم ۔۔۔جو میک اپ کا سامان تم میرے کمرے سے چوری کر کے لائے ہو ابھی اسی وقت مجھے واپس دو ۔۔۔”روحی نے ایک ایک لفظ چبا کر کہا ۔۔۔
“اچھا ۔۔۔وہ ۔۔۔وہ تو میں نے پھینک دیا۔۔۔مجھے لگا کہ وہ خراب ہے۔۔۔۔”اس نے وہ کو کھینچ کر لمبا کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔اسکے یوں آرام سے کہنے پر روحی کا صدمے کے مارے منہ کھلا کا کھلا رہ گیا ۔۔۔
“تم نے۔۔۔تم نے وہ پھینک دیا۔۔تم جانتے بھی ہو کتنی مشکل سے منگوایا تھا میں نے وہ سامان ۔۔۔”روحی نے رونی صورت بنا کر کہا ۔۔۔
“حازم میں تمہیں جان سے مار دوں گی”روحی نے غصے سے کہا جب کہ آنکھیں برسنے کو تیار تھیں ۔۔۔
“نہ کر روحی اگر میں مر گیا تو تمہاری ڈولی کون اٹھائے گا۔۔۔؟؟”حازم نے روہانسے لہجے میں کہا۔۔۔
“بہت فضول بولتے ہو تم حازم ۔۔۔تم واپس دے رہے ہو کہ نہیں ۔۔۔؟”روحی نے وارن کرتے ہوئے پوچھا ۔۔۔۔
“کہا نا پھینک دیا۔۔۔”حازم نے اسے یاد دلاتے ہوئے کہا ۔۔
“اوئے بس کر دے ۔۔۔بہت تنگ کر لیا تو نے اسے ۔۔۔چل اب واپس کر اس کا سامان ۔۔۔”ذیان جو کب سے کھڑا سب دیکھ رہا تھا حازم کے سر پر ہلکی سی چپت لگاتے ہوئے گویا ہوا۔۔۔
“چل تو کہتا ہے تو کر دیتا ہوں ۔۔۔۔”حازم نے سر سہلاتے ہوئے کہا۔۔۔
“ابھی دو۔۔۔”روحی نے اسے راضی ہوتے دیکھ کر جلدی سے کہا۔۔۔
“کیا ہو گیا صبر رکھو لڑکی ۔۔۔”حازم نے الماری کی طرف بڑھتے ہوئے کہا۔۔۔اور وہاں سے سامان نکال کر روحی کے ہاتھ میں تھمایا تھا جیسے بڑا احسان کیا ہو دے کر۔۔۔۔
“اوئییییی۔۔۔”روحی کے اس طرح چلانے پر دونوں اس کی طرف متوجہ ہوئے تھے ۔۔
“ہائے اللّٰہ ۔۔کیا ہو گیا۔۔؟؟؟کیوں اس طرح چلا رہی ہو ۔۔۔؟؟”اس کو یو ماتھے پر ہاتھ رکھے دیکھ کر حازم نے کہا ۔۔۔۔
“ہم لوگ باتوں باتوں میں یہ تو بھول ہی گئے اب ہماری اس پیاری سی حویلی میں اک پیاری سی بھابھی کا اضافہ ہو چکا ہے ۔۔۔۔”روحی نے ان کو یاد دلاتے ہوئے کہا ۔۔۔
“اوئے ہاں ذیان ہم تو بھول ہی گئے تھے ۔۔۔۔”حازم نے ناٹک کرتے ہوئے کہا جبکہ اس کی اس مخصوص تیاری کی وجہ عائشے ہی تھی ۔۔۔وہ اسی سے ملنے کے لیے اتنی تیار ہوا تھا ۔۔۔۔
“بس کر اب پھر سے ناٹنکی مت شروع کر دینا ۔۔۔چلو اب مل کر آتے ہیں بھابھی سے۔۔۔۔”ذیان نے انہیں پھر سے شروع ہوتے دیکھ کر جلدی سے کہا ۔۔۔کیونکہ وہ جانتا تھا اگر یہ جنگ پھر سے شروع ہوگئی تو اسے ختم کرنا یعنی ہاتھی کو رکشے میں بٹھانے کے برابر تھا۔۔۔اس لیے ان دونوں کا ہاتھ پکڑ کر زبردستی کمرے سے باہر نکل گیا لیکن ان دونوں کی نوک جھونک اب بھی جاری تھی ۔۔۔ان تینوں کا رخ اب ھیشم کے کمرے کی طرف تھا۔۔۔۔۔







رات کو وہ فریش ہو کر اللّٰہ کے حضور شکرانے کے نفل ادا کرنے کے کچھ دیر بعد ہی پرسکون ہو کر سو گئی تھی ۔۔اغوا ہونے کے بعد سے لیکر اب تک پہلی بار اسکے چہرے پر اطمینان تھا۔۔وہ اپنے اوپر گزری سب کچھ تو ھیشم کو پہلے ہی بتا چکی تھی ۔۔۔اب وہ بلکل پر سکون ہو چکی تھی ھیشم کا اسے اپنی ہمراہی کا یقین دلانا اندر تک سرشار کر گیا تھا۔۔۔اگلی صبح جب اسکی آنکھ کھلی تو ھیشم خان اب بھی کمرے میں موجود نہیں تھا “کیا وہ رات آیا ہی نہیں یا اس نے جاگنے میں دیر کر دی “جو بھی تھا سارے خیالوں کو جھٹکی وہ بیڈ سے اٹھی اور کپڑے لینے کی غرض سے الماری کی طرف بڑھ گئی ۔۔۔۔الماری میں ھیشم خان کے ساتھ لیڈیز ڈریسز کا ڈھیر دیکھ کر اس کی آنکھیں مارے تحیر کے پھیل گئیں ۔۔۔۔اور تب ہی اس حیرانگی کی جگہ آنسوؤں نے لی تھی ۔۔ وہ انسان کیسے بغیر کہے اس کی ہر ضرورت کا خیال رکھ رہا تھا ۔۔لیکن ایک سوال تھا جو اسے چین نہیں لینے دے دےرہا تھا۔”اگر ھیشم اتنا ہی اچھا انسان تھا تو وہ وہاں کیا کر رہاتھا۔۔۔؟؟اوریہی بات اسے ھیشم خان پربھروسہ کرنے سے روک رہی تھی۔۔۔۔آنکھیں بند کرتے ہی پچھلی زندگی کی کسی فلم کی طرح ذہن کی اسکرین پر چلنے لگی تھی ۔۔۔۔
“یونیورسٹی ۔۔اس کا اغوا ہونا۔۔چچا کا ٹھکرانا۔۔۔ھیشم کا نکاح کرنا “
“عائشے گل۔۔۔” ھیشم جو کمرے میں کسی کام کی غرض سے آیا تھا اسے یوں کھڑے دیکھ کر لمحہ لگا تھا اسے سب سمجھنے میں ۔۔۔عائشے کو پکارتا وہ آہستہ آہستہ چلتا اس کے پاس پہنچا تھا۔۔۔ھیشم نے اسکے دونوں ہاتھ تھام کر اس کا رخ اپنی طرف موڑا تھا۔۔۔۔
ھیشم کی آواز پر اس نے گھبرا کر آنکھیں کھولی تھیں ۔۔خوف کی پرچھائیاں اس کے چہرے پر واضح ہو چکی تھیں ۔۔۔۔۔آنسو اک تواتر سے بہہ رہ تھے ۔۔۔اور اسکے اس رویے پر وہ ایک دم چونکی تھی۔۔۔لیکن ذرا سا ساسہارا ملتے ہی وہ اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ پائی۔۔۔سوالیہ نگاہیں ھیشم پر جمائے گویا ہوئی۔ہوئی۔۔
“میں ہر کسی کی نظروں میں معتوب ہوں کس کس کو گواہی دونگی ۔۔۔اس سے اچھا تھا کہ میں مر ہی جاتی کم از کم کسی کی اذیت کا سبب تو نہ بنتی۔۔”اس کی آواز میں گھلا درد دل کو چیر دینے والا تھا۔ھیشم تو بس اس کی آنکھوں میں ہی ڈوبتا جا رہا تھا جہاں اس وقت آنسوؤں کا ایک سمندر موجزن تھا۔۔۔۔ھیشم نے بےاختیار اسکے گرد بازو پھیلا کر اسے اپنے ساتھ لگایا تھا۔۔۔اور سہارا ملتے ہی اس کے رونے میں اضافہ ہوا تھا اب وہ ہچکیوں سے رو رہی تھی ۔۔۔اسکی باتیں سن کر ھیشم خان نے کرب سے آنکھیں بند کی تھیں ۔۔۔وہ اس وقت اس اسکے درد کو کوسمجھ سکتا تھا۔۔۔لیکن لیکن فلحال وہ اسے جذباتی سہارہ ہی دے سکتا تھا اور وہ جانتا تھا اس وقت اسے اسی کی ضرورت تھی۔۔۔۔۔
“ہم یہ نہیں کہہ سکتے عائشے گل کہ آپ اس اذیت کو بھلا دیں ہم جانتے ہیں وہ کوئی معمولی تکلیف نہیں ہے جسے چند منٹوں میں بھلایا جا سکے۔۔لیکن ہم آپکو یقین دلاتے ہیں ہمارا ساتھ آپکو سب بھولنے پر مجبور کر دے گا۔۔اب آپ ھیشم خان کی بیوی ہیں کسی میں اتنی جرات نہیں ہے کہ کوئی آپ پر غلط نگاہ بھی ڈالے ۔۔۔آپکی حفاظت اب ہماری ذمہ داری ہے۔۔۔”ناجانے کیوں ھیشم خان کو اس کا اس طرح رونا تکلیف دے رہاتھا۔۔۔وہ اس نازک سی کانچ سی گڑیا کو خوش دیکھنا چاہتا تھا ۔اس کے حسین سے چہرے پر مسکراہٹ دیکھنا چاہتا تھا۔۔اس کے اس قدر مضبوط لہجے پر عائشےکے آنسو پلکوں پر ہی ٹھٹھر گئے ۔۔۔۔کچھ پل رک کر وہ پھر سے گویا ہوا۔ہوا۔ہوا۔ہوا۔
“یہ سب اتنا اچانک کیسے ہو گیا ہم خود بھی نہیں جانتے عائشے گل۔۔۔وہ سب ایک بے اختیاری کیفیت تھی ۔۔ہمارا ملنا اسی طرح طے تھا۔۔۔اور ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا کہ لوگ کیا کہیں گے کیونکہ ہم اس حقیقت کو تسلیم کر چکے ہیں کہ آپ عائشے ھیشم خان ہیں ۔۔آپکا حوالہ اب ہم ہیں ۔۔۔معاشرے میں آپکو مقام دلانا اب ہمارا کام ہے۔۔۔۔ہمیں آپکی پارسائی پر پورا یقین ہے ۔۔اس کے علاوہ کوئی کچھ بھی کہے ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔۔۔۔”ھیشم خان اس وقت جو کہہ رہا تھا یہ شاید وہ خود بھی نہیں جانتا تھا ۔۔
“ہم سے وعدہ کریں عائشے گل کے آپ آئندہ گزری ہوئی باتوں کو نہیں دہرائیں گی۔۔”وہ دھندلائی آنکھوں سے اپنے سامنے پھیلے اس شخص کے ہاتھ کو دیکھ رہی تھی جس نے اسے ایک نئی زندگی دی ہے جو وحشیوں کے چنگل سے اسے با حفاظت نکال کر لایا تھا ۔۔۔اس نے آہستگی سے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ پر رکھا تھا ۔۔۔ھیشم خان نے بے ساختہ اس کی پلکوں پر ٹھہرے آنسو صاف کئے ۔۔۔۔۔عائشے اس کے اس طرح کرنے سے تھوڑا پزل ہوئی تھی۔۔۔
“چلیں اب آپ فریش ہو جائیں ۔۔۔ناشتہ لگ چکا ہو گا اور ہم چاہتے ہیں آپ سب کے ساتھ بیٹھ کر ناشتہ کریں ۔۔۔اس طرح آپ کو آگے بڑھنے میں آسانی ہو گی ۔۔۔”اسکی بات سن کر عائشے الماری سے ایک خوبصورت سا ڈریس نکال کر واشروم کی جانب بڑھ گئ۔۔۔ھیشم خان اسے جاتا دیکھ کر کمرے سے باہر چلا گیا ۔۔۔۔







زریاب خان اپنے ڈیرے پر بیٹھے چائے کی چسکیاں لینے میں مصروف تھے جب سامنے سے آتے شخص کو دیکھ کر زریاب خان کے ماتھے پر شکنوں کا جال بکھر گیا۔۔۔۔
“السلام علیکم ۔۔۔زریاب خان۔۔!”
” کیا لینے آئے ہو یہاں۔۔۔؟؟”زریاب خان نے اسکے سلام کو نظر انداز کر کے تڑخ کر پوچھا ۔۔۔
“لینے تو میں کچھ نہیں آیا زریاب خان ۔۔۔بس خیریت معلوم کرنے آیا ہوں ۔۔۔”وحید ملک نے زریاب خان کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا جسی زریاب خان نے سختی سے جھٹک دیا۔۔۔۔
“بیٹھنے کا تو بول دے زریاب خان یا کھڑے کھڑے ساری باتیں کرنی ہیں ۔۔۔؟”زریاب خان نے اس کی بات کا کوئی جواب نہیں دیا۔۔۔تب ہی وہ دوبارہ گویا ہوا ۔۔۔۔
” کمال ہے بھائی اب تو لوگ جواب بھی نہیں دیتے ۔۔۔”وہ خود ہی جا کر بڑے ریلیکس انداز میں بیٹھ گیا۔۔۔
“سچ میں بڑا دکھ ہوا زریاب خان ۔۔۔میں نے سنا ہے تمہاری بھتیجی گھر سے بھاگ گئی ہے ۔۔چچ۔۔چچ۔۔کیا فائدہ ایسی اولاد کا؟؟؟بہتر تھا وہ اپنے ماں باپ کے ساتھ ہی مر جاتی ۔۔کم س کم تمہارے منہ پر اتنی کالک تو نہ ملتی ۔۔۔”وحیدملک نے طنزیہ مسکراہٹ چہرے پر لاتے ہوئے کہا ۔۔۔
“بکواس بند کرو اپنی ۔۔۔۔”زریاب خان نے غراتے ہوئے کہا ۔۔
“چھان بین کروائی تم نے ۔۔۔؟؟کس کے ساتھ منہ کالا کروایا ہے اس نے۔۔۔؟؟اور وہ تو تیری بہو بھی بننے والی تھی نا زریاب خان تیرے صاحبزادے عادل خان کی بیوی۔۔۔”وحید ملک نے ڈھیٹ بنتے ہوئے کہا ۔۔۔
“تجھے سمجھ نہیں آتا میں نے کہا بکواس بند کر اپنی اور دفعہ ہوجا یہاں سے ۔۔۔۔”مگر وحید ملک توجانے کے بجائے ٹانگ پر ٹانگ رکھ اور بھی زیادہ پھولوں کر بیٹھ گیا ۔۔
” تم نے نے نے پولیس کو کو انوالو کیوں نہیں کیا۔۔۔؟؟بلکہ میں توکہتا ہوں اخبارات میں اشتہار دیتےکہ ‘ زریاب خان کی بھتیجی یونیورسٹی سے آپ نے کسی یار کے ساتھ بھاگ گئی۔۔۔جسکو خبر ملے وہ اسے زریاب خان کے حوالے کر دے ۔۔۔۔”اور ساتھ ہی وحید ملک کا زوردار قہقہہ گونجا تھا۔۔۔
“کمینے ذلیل انسان ۔۔۔نکل یہاں سے ۔۔۔۔”زریاب خان نے اسے گریبان سے پکڑتے ہوئے کہا ۔۔۔۔زریاب خان کی پکڑ اس کی گردن پر سخت ہو چکی تھی مگر سامنے والے پر کسی قسم کا خوف نہیں تھا۔۔۔۔
“گھر سے بھاگی ہوئی لڑکیوں کے مردوں کو زیب نہیں دیتا کہ وہ اس طرح کی حرکتیں کریں ۔۔۔”وحید ملک کا اشارہ اس کے ہاتھوں کی طرف تھا۔۔۔۔
“اپنی زبان کو لگام دے ۔۔۔۔”زریاب خان شیر کی مانند دھاڑا تھا۔۔۔۔۔
“میں تو جا رہا ہوں زریاب خان ۔۔دیکھتا ہوں کس کس کی زبان پر لگامیں ڈالتا ہے تو۔۔۔۔؟”وحید ملک نخوت سے سر جھٹکتا وہاں سے چلا گیا ۔۔۔۔وحید ملک بھی پاس والے گاؤں کے چوہدریوں میں سے تھا اور اس کی زریاب خان سے شروع سے ہی نہیں بنتی تھی ۔۔وہ زریاب خان کو نیچا دکھانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا تھا اب بھی وہ عائشے کے غائب ہونے کی خبر سن کر ہی زریاب خان کے ڈیرے پر آیا تھا۔۔۔۔
ابھی زریاب خان واپس اپنی مخصوص نشست پر بیٹھا ہی تھا کہ ایک ملازم بھاگتا ہوا ان کے پاس آیا ۔۔۔۔
“خان صاحب ۔۔۔آپکے لئے فون ہے ۔۔۔۔”ملازم نے فون زریاب خان کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا اور کان پر لگاتے دوسری طرف سے جو بات زریاب خان نے سنی تھی اسے آسمان اپنے سر پر گرتا ہوا محسوس ہوا ۔۔۔جبکہ چہرے پر پریشانی واضح تھی ۔۔۔۔
