Tere Ishq Sy Meri Zaat Tak by Ayesha Mughal NovelR50552 Tere Ishq Sy Meri Zaat Tak (Episode 08)
Rate this Novel
Tere Ishq Sy Meri Zaat Tak (Episode 08)
Tere Ishq Sy Meri Zaat Tak by Ayesha Mughal
کوئی پگھلا ہوا سیسہ تھا جو عادل خان کے کانوں میں انڈیل دیا گیا تھا ۔۔۔زریاب خان کےالفاظ سنتے ہی عادل خان کے ساتھ ساتھ وہاں موجود سب نفوس پر سکتہ طاری ہو گیا تھا۔۔۔عادل خان کو تو اپنی سماعت پر ہی یقین نہیں آرہا تھا۔۔۔۔
“ایسا کیسا ہو سکتا ہے ۔۔۔؟؟”عادل خان نے گم صم سے لہجے میں کہا۔۔۔
“ایسا ہو چکا تھا عادل خان اور بہتر ہو گی جلد سے جلد تم اپنے ذہن سے اس منحوس لڑکی کو نکال دو۔۔۔۔”زریاب خان نے عادل خان کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا جسے عادل بےساختہ ہٹاتے ہوئے گویا ہوا ۔۔۔
“ایسا کبھی نہیں ہو سکتا ابا جان عائشے گل صرف اور صرف میری ہے میں اسے کسی اور کا نہیں ہونے دونگا۔۔۔”عادل خان نے چلاتے ہوئے کہا ۔۔۔۔عادل خان جو دو سال سے پڑھائی کی غرض سے دیار غیر میں مقیم تھا۔۔اور عائشے گل سے محبت کرتا تھا ۔۔عائشے گل سے چونکہ اس کی نسبت بھی طے تھی تو وقت کے ساتھ ساتھ اس کی محبت میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔۔۔اور آج جب وہ دو سال بعد لوٹا تھا تو عائشے کی گمشدگی سے لے کر نکاح تک کی خبر سن کر اسے ساتوں آسمان اپنے سر پر گرتے ہوئے محسوس ہو رہے تھے ۔۔۔وہ بھلا اتنی آسانی سے کیسے دستبردار ہو سکتا تھا عائشے سے وہ اس کی بچپن کی اور پہلی محبت تھی ۔۔۔۔۔۔جہاں عادل خان کا نام حال تھا وہیں دوسری طرف وہاں موجود سب نفوس بھی عائشے کے۔نکاح کی خبر سن کر ساکت کھڑے تھے ۔۔سب پھٹی پھٹی آنکھوں سے زریاب خان کو دیکھ رہے تھے ۔۔۔
“زریاب خان تمہارا دماغ خراب تو نہیں ہو گیا نا یہ کیا کچھ بولے جا رہے ہو ۔۔۔؟؟؟عائشے کا نکاح ہو گیا اور تم نے ہمیں بتایا تک نہیں ۔۔۔۔”اب بولنے والی اماں بیگم تھیں ۔۔۔۔زریاب خان کی بات سن کر انہیں حیرانی ہوئی تھی لیکن ناجانے کیوں انہیں زریاب خان کے اس فیصلے پر غصہ نہیں آیا تھا ۔۔۔۔۔
“میں دوبارہ اس منحوس لڑکی کا ذکر اس گھر میں نہیں کرنا چاہتاتھا اور اگر میں یہ بات آپ لوگوں کو بتا بھی دیتاتو کیا کر سکتے تھے آپ لوگ اماں بیگم۔۔۔”زریاب خان کے چہرے پر اس وقت گھمنڈ ہی گھمنڈ تھا اور عائشے کے لئے لہجے میں نفرت ہی نفرت تھی ۔۔۔۔
“منحوس مت کہیئے ابا جان ۔۔۔وہ گھر سے بھاگی۔نہیں تھی اتنا تو میں یقین سے کہہ سکتا ہوں ۔۔۔۔۔اور کچھ بھی کرنے سے پہلے اتنا تو سوچ لیتے کہ وہ آپ کے ہی بیٹے کی ہونے والی بیوی تھی ۔۔۔۔”عادل خان نے زریاب خان کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔اگر سامنے زریاب خان تھے تو دوسری طرف بھی تو انہیں کا خون کھڑا تھا ۔۔۔۔
“تمہارا دماغ خراب ہو گیا ہے ۔۔۔”چلانے والے زریاب خان تھے ۔۔۔وہ کیسے برداشت کر سکتے تھے کہ ساری عمر جس اولاد پر حکم چلایا ہے وہ اب اس طرح مقابلے میں کھڑی ہو جائے وہ بھی اس لڑکی کے لئے جس سے وہ بے تحاشہ نفرت کرتے تھے ۔۔
“دماغ میرا خراب نہیں ہوا ابا جان ۔۔۔۔غلط تو آپ کر کے آئے ہیں عائشے گل کے ساتھ ۔۔۔۔”عادل خان نے ڈٹ کر باپ کا مقابلہ کیا تھا۔۔۔
“سمجھا لیں اسے نسرین بیگم ۔۔۔۔ورنہ۔۔۔”زریاب خان قہر آلود نگاہوں سے عادل کو دیکھ کر نسرین بیگم سے مخاطب ہوئے ۔۔۔
“کیا کریں گے آپ ابا جان۔۔۔میری جان بھی لے لیں گے۔۔؟؟؟اور آپ کر بھی کیا سکتے ہیں ابا جان۔۔۔؟؟”عادل خان نے تاسف سے انہیں دیکھا تھا ۔۔۔
“اس بدکردار لڑکی کے لئے تم میں اتنی جرات آ گئی کہ تم اپنے باپ سے ٹکر لو۔۔۔۔اپنے ذہن سے یہ بات نکال دو کہ وہ لڑکی اب کبھی اس گھر میں آسکتی ہے۔۔۔”زریاب خان نے گرجدار لہجے میں کہا ۔۔۔جس بات کا انہیں ڈر تھا آج وہ ہی ہوا تھا عادل خان کے عائشے کے لئے مخلص جذبوں سے وہ اچھی طرح واقف تھے ۔۔۔
“جو آپ چاہتے ہیں وہ کبھی نہیں ہو گا ابا جان۔۔۔ہاں لیکن عائشے گل کو میں اس گھر میں واپس ضرور لاؤں گا۔۔۔آپ تو اسے اپنی غیرت کی بھینٹ چڑھا چکے ہیں۔۔۔۔۔”بے خوف و خطر عادل خان بھی ان کے سامنے کھڑا ان ہی کے لہجے میں بات کر رہا تھا ۔۔۔
“بدتمیز۔۔۔اپنی زبان کو لگام دو مت بھولو کہ تم اس وقت اپنے باپ سے مخاطب ہو۔۔۔”زریاب خان نے طیش کے عالم میں دانت کچکچاتے ہوئے کہا لیکن عادل خان پر کوئی اثر نہ ہوا وہ بھی انہی کے انداز میں گردن اکڑائے ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کھڑا تھا ۔۔۔
“یہ سب تمہارا خود کا ہی کیا دھرا ہے زریاب خان ۔۔۔۔تمہیں کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے عادل خان کو آگاہ کرنا چاہیے تھا ۔۔اب وہ رور نہیں رہا کہ تم اپنا فیصلہ اپنی اولاد پر تھوپ دو اور وہ خوشی خوشی قبول کر لے۔۔۔۔تمہیں کیا لگتا تھا عادل خان چپ رہے گا۔۔؟؟بنا کوئی احتجاج کئے چپ چاپ تمہارا فیصلہ قبول کر لے گا۔۔۔یہ تمہاری بھول تھی زریاب خان۔۔۔۔”اماں بیگم کی بات پر انہوں نے چونک کر ان کی طرف دیکھا تھا۔۔۔۔
“فیصلہ تو اسے میرا ماننا ہی پڑے گا ۔۔۔۔اور کیا کر لے گا یہ ۔۔۔۔اب تو عائشے گل کا نکاح ہو چکا ہے ۔۔کیسے لائے گا یہ اس لڑکی کو۔۔۔۔؟؟”زریاب خان نے عادل خان کی طرف دیکھ کر نخوت سے کہا۔۔۔
“میں عائشے گل کو اس سے آزاد کرواؤں گا۔۔۔۔میں جانتا ہوں عائشے گل کے دل میں بھی بس میں ہی ہوں۔۔۔۔”عادل خان نے پر جوش ہوتے ہوئے کہا۔۔۔
“کیا کرو گے تم عادل خان ۔۔۔اب اگر تم نے اس لڑکی کو آنکھ اٹھا کر بھی دیکھا تو ھیشم خان تمہاری آنکھیں نکال کر رکھ دے گا اور تمہارا وہ حشر کرے گا کہ تم خود کو بھی پہچان نہیں پاؤ گے۔۔۔۔۔”زریاب خان نے عادل خان کو ھیشم کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے کہا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ ھیشم خان ایک طاقتور انسان ہے دور دور تک لوگ اسے جانتے ہیں ان کے نزدیک ھیشم خان کو چھیڑنا مکھیوں کے چھتے میں ہاتھ ڈالنے کے مترادف تھا۔۔۔اور اس طرح ان کی ساکھ کافی متاثر ہو سکتی تھی ۔۔۔لیکن عادل خان تو جیسے کچھ سننے کو تیار ہی نہ تھا ۔۔۔
“عادل خان کسی سے نہیں ڈرتا ۔۔۔۔”عادل خان نے دانت بھینچتے ہوئے کہا ۔۔
“تو ٹھیک ہے جاؤ عادل خان۔۔۔اور ہم سے کوئی امید مت رکھنا۔۔۔۔مگر ایک بات یاد رکھنا جس دن تم اس لڑکی کو اس گھر میں لے کر آئے وہ دن اس لڑکی کا دنیا میں آخری دن ہو گا۔۔۔”زریاب خان نے گرجدار آواز میں کہا۔۔۔
“اور آپ کو آتا ہی کیا ہے لوگوں کو مارنے کے سوا۔۔مجھے تو افسوس ہوتا ہے کہ میں آپ کی اولاد ہوں اس۔سے اچھا تھا کہ میں کسی فقیر کے گھر ہی پیدا ہو جاتا۔۔۔۔”عادل خان نے مضبوط لہجے میں کہا۔۔۔اس کی بات پر زریاب خان عالم طیش میں آگے بڑھے تھے اور ایک زناٹے دار تھپڑ عادل خان کے چہرے پر نشان چھوڑتا چلا گیا ۔۔۔
“اگر آپ کو لگتا ہے کہ اس طرح آپ مجھے روک سکتے ہیں تو یہ آپ کی غلط فہمی ہے۔۔۔۔میں عائشے گل کو ایک دن اس گھرمیں ضرور لاؤں گا۔۔۔۔۔”عادل خان گال پرہاتھ رکھے پر عزم لہجے میں کہتا لمبے لمبے ڈگ بھرتا وہاں سے نکلتا چلا گیا ۔۔۔
“یہ سب آپکی ڈھیل کا نتیجہ ہے نسرین بیگم ۔۔۔یہ کیسی تربیت کی ہے آپ نے اسکی ۔۔۔۔؟؟؟اور اگر اب بھی اس کی بھلائی چاہتی تو سمجھا لیجئے اسکو ۔۔۔اگر اس کی وجہ سے میری پوزیشن کو۔کوئی نقصان پہنچا تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا۔۔۔۔”زریاب خان نسرین بیگم کو سخت لہجے میں کہتے اپنے روم کی۔طرف بڑھ گئے۔۔۔۔جبکہ نسرین بیگم تو اس وقت مورتی مانند ساکت کھڑی تھیں۔۔۔۔انہیں کہاں اندازہ تھا کہ ایک دن باپ بیٹا یوں آمنے سامنے ایک دوسرے کے خلاف مقابلے میں کھڑے ہونگے ۔۔۔۔









وہ تینوں اپنی ہی باتوں میں مگن یہ ہیشم خان کے کمرے کی طرف جا رہے تھے۔۔۔۔لیکن ھیشم کو کمرے سے باہر آتا دیکھ کر تینوں وہیں رک گئے۔۔۔۔ھیشم خان جو اپنی ہی سوچوں میں کمرے سے نکل رہا تھا ان تینوں کو وہاں کھڑے دیکھ کر وہیں رک گیا۔۔۔اور سوالیہ نظروں سے ان کی جانب دیکھا۔۔۔
“کچھ نہیں بھائی وہ بس ہم بھابی سے ملنے آئے تھے ۔۔۔اٹھ گئیں کیا وہ ۔۔؟”ھیشم کی نظروں کا مفہوم سمجھ کر حازم نے جلدی سے صفائی دی تھی۔۔۔
“ہاں عائشے گل اٹھ چکی ہیں اور فلحال وہ تیار ہو رہی ہیں تو تم دونوں چلو میرے ساتھ ۔۔۔اور روحی تم عائشے گل کو اپنے ساتھ ہی نیچے لے آنا۔۔۔”ان دونوں کو اپنے ساتھ چلنے کا کہہ کر روحی کو آرڈر دیتا وہ آگے بڑھ گیا اور چاروناچار ان دونوں کو ھیشم کے ساتھ جانا ہی پڑا۔۔۔اور روحی کمرے کی جانب بڑھ گئی ۔۔۔۔
“السلام علیکم بھابھی ۔۔۔؟؟”روحی کو واشروم سے نکلتے دیکھ کر روحی نے سلام کیا۔۔
“وعلیکم السلام ۔۔۔۔”عائشے نے دھیمے لہجے میں جواب دیا ۔۔۔۔
“کیسی ہیں آپ۔۔؟؟؟”
“ہاں ۔۔۔الحمدللہ ۔۔۔”عائشے نے مختصر جواب دیا ۔۔۔
“سچ میں بھابھی آپ بہت پیاری ہیں ۔۔۔پتا ہے مجھے کتنی خوشی ہو رہی ہے کہ آپ ہماری بھابھی بن گئیں ۔۔”روحی نے بے ساختہ اس کے گلے لگتے ہوئے کہا ۔۔۔
“اوہ ۔۔۔سوری شاید ذیادہ ہو گیا۔۔۔چلیں اب آپ تیار ہوجائیں ۔۔۔سب ناشتے پر ویٹ کر رہے ہیں ۔۔۔یا پھر بیٹھیں میں آپ کو تیار کرتی ہوں آج اگر ھیشم بھائی کے ہوش نہ اڑے تو کہئیے گا۔۔۔”روحی نے انگلی دانتوں میں دباتے ہوئے کہا لیکن جلد ہی اپنی خفگی پر قابو پاتے ہوئے اس نے عائشے کو کندھوں سے پکڑتے ہوئے آئینے کے سامنے موجود چیئر پر بٹھایا ۔۔۔
اس کے ہاتھ بڑی ہی مہارت سے عائشے کے چہرے پر اپنا کام کر رہے تھے ۔۔۔۔اور کچھ ہی دیر میں روحی زور سے چلائی تھی ۔۔۔
“ائییییییییی۔۔۔بھابی ۔۔۔”عائشے اس کے اس طرح چلانے پر ایکدم چونکی تھی ۔۔۔
“کیا ہو گیا رحاب۔۔۔کیا میں اتنی بھیانک لگ رہی ہوں ۔۔۔”
“ارے نہیں بھابھی ۔۔۔آپ بہت بہت بہت پیاری لگ رہی ہیں ۔۔۔۔میں تو خوشی سے چلائی تھی ۔۔۔۔”رحاب نے اس کے گالوں کو نرمی سے چھوتے ہوئے کہا ۔۔۔
“اوہ ۔۔۔تھینک یو۔۔۔یہ تو بس تمہارے ہی ہاتھوں کا کمال ہے۔۔”بےشک وہ حسن کی دولت سے مالا مال تھی لیکن رحاب نے اس کے چہرے پر لائٹ میک اپ کیاتھا جو اس کے چہرے کو مزید حسین بنا رہا تھا ۔۔۔۔
“خیر اب ایسی بھی بات نہیں ۔۔۔چلیں اب نیچے چلتے ہیں سب کافی دیر سے انتظار کر رہے ہیں ۔۔۔ایک بات بولوں بھابھی ۔۔۔”رحاب نے سوالیہ نظریں اس کے چہرے پر جماتے ہوئے پوچھا۔۔
“ہاں بولو۔۔۔مجھ سے بات کرنے کے لیے تمہیں کسی بھی اجازت کی ضرورت نہیں ہے رحاب۔۔۔۔تم بلاجھجک مجھ سے بات کر سکتی ہو۔۔۔”عائشے کو اس کا یوں اجازت لینا تھوڑا عجیب لگا تھا ۔۔۔
“جی بھابھی ضرور ۔۔۔وہ میں کہہ رہی تھی ھیشم بھائی تو آج گئے کام سے ۔۔۔“روحی نے اسے چھیڑتے ہوئے کہا۔۔۔تب ہی اس کی پر عائشے گل کا چہرہ شرم سے سرخ انار جیسا ہو گیا تھا ۔۔۔عائشے کو وہ چھوٹی سی نازک سی روحی بہت اچھی لگی تھی ۔۔ہر وقت ہنسنے والی ۔۔چھوٹی چھوٹی باتوں پر خفا ہو جانے والی ۔۔۔بےشک وہ ایک نازک اور حسین دل کی مالک تھی ۔۔۔۔۔
“ہائے بھابھی ۔۔آپ بلش کر رہی ہیں اب تو اور بھی ذیادہ حسین لگ رہی ہیں ۔۔۔”رحاب نے اس کا سرخ ہوتا چہرہ دیکھ کر شرارتی انداز میں کہا۔۔
“بس کر دو کیوٹ گرل۔۔بڑی ہی شرارتی ہو تم۔۔۔”عائشے نے اس کے گال کو نرمی سے کھینچتے ہوئے کہا ۔۔۔۔اور پھر اسی طرح ہلکی پھلکی گپ شپ کرتے وہ دونوں ڈائننگ ہال کی طرف بڑھ گئیں جہاں میل جنریشن ان دونوں کا ہی انتظار کر رہی تھی ۔۔۔۔
“پتا نہیں کہاں رہ گئی یہ روحی کی بچی ۔۔۔کب سے انتظار کر رہے ہیں ہم۔۔۔ضرور باتوں میں لگ گئ ہو گی ۔۔۔کتنا بے چین ہوں میں بھابی سے ملنے کے لئے۔۔۔۔ابھی لے کر آتا ہوں اس روحی چڑیل کو تو۔۔۔”حازم کب سے عائشے سے ملنے کے لئے بے چین بیٹھا تھا۔۔۔اور اب تو جیسے بس ہو چکی تھی اسکی ۔۔۔تب ہی بڑبڑاتا ہو کھڑا ہوا ۔۔۔کہ نظر سامنے سے آتی رحاب اور اس کے پہلو میں چلتی ہوئی عائشے پر پڑی ۔۔۔
اور تب ہی حازم آگے بڑھا۔۔۔۔
“ویلکم ٹو اوور ڈائننگ روم مسز ھیشم خان۔۔۔”حازم نے ایک ہاتھ سینے پر رکھے سر کو تھوڑا خم کرتے ہوئے دوسرا ہاتھ ماتھے کے پاس لے جا کر عائشے کو ویلکم کیا تھا۔۔۔۔عائشے اسے اس طرح دیکھ کر تھوڑا مسکرائی تھی پر بولی کچھ نہیں ۔۔۔۔خاموشی ہنوز قائم تھی ۔۔۔۔اور تب ہی ھیشم خان جو شہزادوں کی آن بان لیے سربراہی کرسی پر بیٹھا تھا اس نے نظر اٹھا کر عائشے کی جانب دیکھا تھا اور ھیشم کی نظریں اسکے حسین سراپے میں الجھ کر رہ گئیں تھیں ۔۔۔۔نظریں تھیں کہ پلٹنے سے انکاری تھیں ۔۔۔رائل بلیو کلر کی پاؤں تک آتی میکسی ۔۔کانوں میں خوبصورت جھمکے اور لائٹ میک اپ میں وہ بلاشبہ بہت حسین لگ رہی تھی ۔۔۔ھیشم سمجھ نہیں پارہا تھا کہ وہ کل رات زیادہ حسین لگ رہی تھی یا اب۔۔۔؟؟عائشے ھیشم خان کے مسلسل اس طرح دیکھنے سے پزل ہو رہی تھی ۔۔۔اس کی جذبات لٹاتی نظریں عائشے کو کنفیوز کر رہی تھیں ۔۔۔
“اہمم۔۔اہممم۔۔اہممم۔۔مانا کہ بھابھی بہت پیاری لگ رہی ہیں بھائی ۔۔لیکن کیا اب نظر لگانے کا ارادہ ہے۔۔۔؟؟”ذیان نے گلا کھنکارتےہوئے ھیشم خان کے اس طرح دیکھنے پر چوٹ کی تھی ۔۔۔۔ھیشم خان نے جلدی سے نظروں کا زاویہ بدلا تھا۔۔۔اور اپنی بے خودی پر جی بھر کے شرمندہ ہوا تھا۔۔۔روحی نے۔عائشے کو ھیشم خان کے دائیں جانب موجود کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کیا تھا اور خود بھی اس کے برابر موجود کرسی پر بیٹھ گئی ۔۔۔
اس وقت ٹیبل دنیا جہاں کے لوازمات سے سجا ہو تھا۔۔۔ایسی کون سی شے تھی جو ٹیبل پر موجود نہیں تھی ۔۔۔عائشے سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ وہ کیا لے۔۔۔وہ گود میں رکھے ہاتھوں کی انگلیاں مروڑنے میں مصروف تھی جب ھیشم خان نے اسے پکارا ۔۔
“عائشے گل کیا ہوا۔۔؟؟آپ ناشتہ کیوں نہیں کر رہیں ۔۔کوئی مسئلہ ہے کیا۔۔۔اگر آپ کو کچھ اور کھانا ہے تو آپ بتا سکتی ہیں ہم جینی سے کہہ کر کچھ اور بنوا دیتے ہیں ۔۔۔۔”ھیشم خان نے لہجے میں نرمی لاتے ہوئے کہا ۔۔۔
“نہیں ۔۔کچھ نہیں ۔۔۔میں کھا رہی ہوں بس۔۔۔” عائشے اپنے کو اپنے بودے رویے پر خفگی محسوس ہوئی ۔۔۔اس نے ہاتھ بڑھا کر جلدی سے بریڈ کا سلائس اٹھایا اور دھیرے دھیرے کھانے لگی ۔۔۔
“ایک بات پوچھوں ۔۔بھابھی ۔۔۔؟؟اب کی باری زیان مخاطب ہوا ۔۔عائشے نے اثبات میں سر ہلایا تھا۔۔
“آپ بولتی بھی ہیں ۔۔۔؟؟”ذیان کے اس سوال پر عائشے نےناسمجھی سے اس کی طرف دیکھا تھا ۔۔۔
“نہیں میرا مطلب تھا کہ آپ جب سے آئی ہیں ہاں ۔۔نہ ۔۔کے علاوہ ایک لفظ بھی نہیں بولا ۔۔۔۔میں نے اس لئے پوچھا بس۔۔۔”ذیان نے جلدی سے صفائی دی ۔۔۔
“ارے ذیان تو بھی نہ ایک نمبر کا گدھا ہے۔۔۔۔پاگل بھابھی شرما رہی ہے ۔۔اتنا تو سمجھا کر۔۔۔نئی نئی شادی ہوئی ہے ان کی۔۔۔۔”حازم نے شرمانے کی ایکٹنگ کرتے ہوئے کہا ۔۔۔ ھیشم جو بظاہر لاتعلق بیٹھا تھا جبکہ دھیان پورا انہی کی طرف تھا ۔۔اس کی اس حرکت پر اسے گھوری سے نوازا تھا۔۔جبکہ روحی نے اس کی بات پر ہوٹنگ کی تھی ۔۔۔۔
” اوووو۔۔۔ “اور پھر اسی ہنسی مذاق اور ھیشم خان کی گھوریوں ناشتہ کیا گیا۔۔۔۔۔۔۔اور کچھ ہی دیر میں تینوں عائشے کے کمرے میں اسے گھیرے بیٹھے تھے ۔۔۔۔








عائشے اور ھیشم کی شادی کو ایک ہفتہ گزر چکا تھا۔۔۔اور عائشے کو تو معلوم ہی نہیں ہوا کہ یہ ایک ہفتہ کیسے گزر گیا۔۔۔وہ اب کافی حد تک نارمل ہو چکی تھی ۔۔ عائشے کو یہاں ہاتھوں ہاتھ لیا گیا تھا ۔۔سب نے اسے پلکوں پر بٹھا رکھا تھا۔۔۔سب اس پر دل و جان سے فدا تھے ۔۔۔حازم کی بے تکی باتوں سے وہ ہر وقت ہنستی رہتی تھی جبکہ ذیان بھی اس کا خوب ساتھ دیتا تھا اور روحی کے ساتھ تو اس کی کافی انڈرسٹینڈنگ ہو گئی تھی اس کے ساتھ تو وقت کا پتا ہی نہیں چلتا تھا۔۔۔اور رہی بات ھیشم کی تو ھیشم ایک بہت ہی کیئرنگ ہسبینڈ ثابت ہوا تھا وہ ہر طرح سے اس کا خیال رکھنے کی کوشش کرتا تھا ۔۔۔ان سب کی محبتوں پر وہ رب کی مشکور تھی ۔۔۔۔اور اب سب اپنی اپنی سابقہ روٹین میں مصروف ہو چکے تھے ۔۔۔ھیشم خان صبح کا گیا رات کو لوٹتا تھا۔۔۔۔۔
عائشے میں آنے والی تبدیلی کو وہ واضح طور پر محسوس کر چکا تھا۔۔۔۔
آج ھیشم خان جیسے ہی واپس لوٹا تو عائشے گل کو بےچینی سے ٹہلتے ہوئے پایا۔۔۔۔
“السلام علیکم ۔۔۔”ھیشم خان نے معمول کی طرح سلام کیا تھا۔۔۔
“وعلیکم السلام ۔۔۔کیسے ہیں آپ۔۔؟؟”اس کے اس سوال پر ھیشم خان نے حیرانگی سے اس کی طرف دیکھا ۔۔۔۔
“ہم ٹھیک ہیں عائشے۔۔۔۔”ھیشم خان کی حیرانگی اب بھی قائم تھی ۔۔۔پچھلے دنوں کی نسبت آج وہ اسے کافی بہتر لگی تھی ۔۔۔وہ حیران تھا اتنے دنوں میں آج پہلی مرتبہ عائشے نے خود اسے مخاطب کیا تھا۔۔۔۔
“وہ ۔۔۔میں ۔۔آپ ۔۔سے کچھ بات کرنا چاہتی تھی ۔۔۔۔”کافی پل خاموشی سے گزرنے کے بعد وہ گویا ہوئی ۔۔۔
“جی بولیں ۔۔۔ہم سن رہے ہیں ۔۔”ھیشم خان پوری طرح اس کی جانب متوجہ ہوا ۔۔۔
“وہ ۔۔میں ۔۔”اس نے ایک لمحے کے لئے پھر سے سوچا تھا کہیں ھیشم کو غصہ ہی نہ آجائے ۔۔۔اور شاید وہ اس کی بات کبھی نہ مانے۔۔۔
“بولئیے عائشے گل ۔۔کیا کہنا چاہتی ہیں آپ۔۔؟؟”
“وہ میں ۔۔۔”اس سے بولا تک نہیں جارہا تھا۔۔۔وہ بےچینی سے بار بار ہاتھ مسل رہی تھی کہ ھیشم صوفے سے اٹھ کھڑا ہوا اور اسے شانوں سے تھام کر واپس اپنے ساتھ بٹھایا ۔۔۔صوفے کی بیک پر ہاتھ رکھے اور ٹانگ پر ٹانگ چڑھائے وہ پوری طرح اس کی جانب متوجہ تھا۔۔۔اس نے نرمی سے اس کا ہاتھ پکڑا۔۔وہ تو اس کے یوں پاس بیٹھنے سے ہی گھبرا گئی تھی اب تو باقاعدہ پیشانی پر پسینے کی بوندیں واضح نظر آ رہی تھیں ۔۔۔
“ہمارے درمیان اتنا گہرا اور مضبوط رشتہ ہے عائشے کہ آپکو ہم سے کوئی بھی بات کرنے میں جھجک محسوس نہیں ہونی چاہیے ۔۔۔ہم جانتے ہیں آپ ابھی اس رشتے کو پوری طرح قبول نہیں کر پائیں آپکو جتنا ٹائم چاہیے آپ لے سکتی ہیں ۔۔مانتا ہوں جن حالات میں ہمارا نکاح ہوا اس میں ایکدم یہ سب قبول کرنا بہت مشکل ہے ۔۔۔پر ناممکن کچھ بھی نہیں ہے عائشے ۔۔۔اور اگر آپ ہم سے اپنی بات نہیں کریں گی تو کس سے کریں گی۔۔۔؟؟”وہ سر جھکائے لب کاٹتے ہوئے خاموشی سے اس کی بات سن رہی تھی جب ھیشم نے اسکے ہاتھ پر ہلکا سا دباؤ ڈال کر اسے تسلی دی اور اپنے ساتھ کا یقین دلایا تھا۔۔۔۔
“اب بتائیں ۔۔؟؟ایسی کیا بات ہے جو آپ بتانے میں اتنا جھجک رہی ہیں ۔۔۔؟؟”
“مجھے اماں بیگم کی بہت یاد آرہی ہے۔۔۔میں ان سے ملنا چاہتی ہوں ۔۔۔”عائشے کا سر اب بھی جھکا تھا ۔۔۔جب کافی دیر تک ھیشم خان کچھ نہ بولا تو عائشے نے نظریں اٹھا کر اس کے چہرے کی جانب دیکھا تھا جہاں بےزاری واضح تھی ۔۔۔کچھ دیر بعد کافی سوچنے کے بعد ھیشم گویا ہوا۔۔۔
“ہم سمجھ سکتے ہیں عائشے لیکن اس طرح زریاب خان آپکو نقصان پہنچا سکتا ہے ۔۔۔لیکن اگر آپ چاہیں تو کال پر بات کر سکتی ہیں۔۔۔لینڈلائن پر۔۔۔”
“کر لوں کیا ۔۔؟؟واقعی ۔۔؟؟”عائشے نے حیرانگی سے پوچھا ۔۔
“جی کر لیں ۔۔نمبر یاد ہے آپکو ۔۔۔”
“جی”ھیشم خان نے لینڈ لائن پر نمبر ملا کر فون عائشے کی جانب بڑھایا تھا۔۔جسے تھام عائشے نے کان پر لگایا تھا۔۔۔لیکن دوسری جانب سے ابھرنے والی آواز نے اسے کچھ بھی کہنے سے باز رکھا تھا۔۔۔۔۔اس نے ایک لمحے سے بھی پہلے لاٸن ڈسکنکٹ کی تھی۔۔۔
“کیا ہوا ۔۔۔؟؟”ھیشم خان نے۔اسے مسلسل خاموش دیکھ کر سوال کیا۔۔
“وہ ۔۔۔چچا۔۔۔”عائشے گل کو لگا اس کے گلے میں کوئی نمکین گولا پھنس چکا ہے جسکی وجہ سے اس سے بولا بھی نہیں جارہا تھا۔۔۔اس نے پریشانی سے ھیشم کی طرف دیکھا جو ساری صورتحال سمجھ چکا تھا ۔۔
“کوئی بات نہیں ۔۔صبح ٹرائی کر لینا۔۔۔”ھیشم خان نے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا ۔۔۔اس نے اثبات میں سرہلایا اور وہاں سے اٹھتی روحی کے کمرے کی طرف بڑھ گئی اسے کچھ اسٹڈی کے حوالے سے مدد چاہیے تھی ۔۔۔۔جبکہ ھیشم خان کے دماغ میں بہت سی سوچیں گردش کرنے لگیں ۔۔۔آج اس کی بیوی نے نئی فرمائش کی تھی جسے نا چاہتے ہوئے بھی اسے پورا کرنا تھا۔۔۔۔عائشے گل تو اب اس کی زندگی بن چکی تھی تو وہ کیسے اسے خفا دیکھ سکتا تھا ۔۔۔۔








روحی اور حازم ایک ہی کالج میں پڑھتے تھے جبکہ زیان کی یونیورسٹی کالج سے تھوڑا آگے ہی تھی اس لئے وہ روزانہ ان کو کالج چھوڑتا ہوا یونیورسٹی جاتا تھا اور چھٹی کا وقت چونکہ سیم ہی تھا تو واپسی پر بھی وہ تینوں ساتھ ہی لوٹتے تھے ۔۔۔۔روزانہ کی طرح آج بھی ذیان لاؤنج میں کھڑے چلا رہا تھا ۔۔۔۔
“روحی ۔۔۔آجاؤ یار ۔۔۔لیٹ ہو رہا ہے مجھے ۔۔۔۔”
“آگئی بس۔۔۔ایک منٹ۔۔۔”روحی ہاتھ پر واچ پہنتے ہوئے کمرے سے باہر نکلی تھی ۔۔۔۔اور اب وہ بھی ذیان کے ساتھ چلانے میں اس کا ساتھ دے رہی تھی ۔۔۔
“حازم آجاؤ۔۔۔۔کتنی دیر لگاتے ہو تیار ہونے میں ۔۔تم تو لڑکیوں کو بھی پیچھے چھوڑ چکے ہو ۔۔۔۔اور اگر اب تم ٹین تک کاؤنٹنگ کرنے تک نہ آئے تو ہم سے کوئی امید مت رکھنا۔۔۔۔۔”روحی نے معمول کی دھمکی دی تھی اور وہ بھی نائن کاؤنٹ ہونے تک الہ دین کے جن کی طرح حاضر ہوا ۔۔۔وہ جانتا تھا ان سے کچھ بعید نہیں تھا کہ وہ واقعی اسے چھوڑ کر چلے جاتے۔۔۔جبکہ عائشے ان کو یوں دیکھ کر مسکرادیا کرتی تھی ۔۔۔جان تھے وہ تینوں اس حویلی کی۔۔۔عائشے ہی۔جانتی تھی ان تینوں کے جانے کے بعد وہ ٹائم کیسے گزارتی تھی ۔۔۔۔
عائشے کو اللّٰہ حافظ کہتے وہ تینوں بیرونی دروازے کی جانب بڑھ گئے ۔۔۔پورے راستے بھی حازم اور روحی کی طوطومیں میں جاری تھی ۔۔۔اللّٰہ اللّٰہ کر کے ان کا کالج آیا تھا اور ذیان نے شکر کا۔کلمہ پڑھا تھا۔۔۔۔۔کالج میں داخل ہوتے ہی روحی نے رباب کو اپنا منتظر پایا۔۔۔حازم کو بائے کرتی وہ رباب کی جانب بڑھ گئی ۔۔۔روحی کے ساتھ حازم کو دیکھ کر رباب نے نظریں چرائی تھیں۔۔۔وہ حازم کی آنکھوں میں موجود مفہوم کو اچھے سے جانتی تھی لیکن وہ اپنے ساتھ ساتھ اسے کسی مشکل میں نہیں ڈالنا چاہتی تھی ۔۔۔اسی لئے روز کی طرح آج بھی اسے اگنور کرتی روحی کو لئے آگے بڑھ گئی ۔۔۔۔۔اور روز کی۔طرح آج بھی حازم کی امید ٹوٹی تھی لیکن وہ بھی ہار ماننے والوں میں سے نہیں تھا وہ بھی عزم کر چکا تھا رباب کو منا کر ہی رہے گا ۔۔۔۔دوبارہ وہ ہی عزم کرتا اپنی کلاس کی جانب بڑھ گیا ۔۔۔۔۔۔
آج روحی کے پاس بہت سی باتیں تھیں رباب کو بتانے کے لئے اسی لئے کلاس ختم ہوتے ہی دونوں کالج کے وسیع لان میں بیٹھی خوش گپیوں میں مصروف تھیں ۔۔۔پاس ہی پڑے چپس اور نمکو وغیرہ کے کاغذ اپنی آزادی پر جشن مناتے ہوا کے ساتھ ادھر ادھر اڑ رہے تھے ۔۔۔البتہ پیپسی کے کین ان کے کے ہاتھوں میں تھے جن سے وہ وقتاً فوقتاً گھونٹ بھر لیتیں۔۔۔ شہروں سے بے فکری چھلک رہی تھی وہ ایک دوسرے کی باتوں پر بلندوبالا قہقہے لگا رہی تھیں۔۔۔ روحی نے اسے عائشے کے بارے میں ایک ایک بات بتائی تھی ۔۔۔روحی تو عائشے کی تعریفیں کئیے ہی نہیں تھک رہی تھی ۔۔۔اب بھی ان کی باتیں جاری تھیں کہ حازم ان کے پاس چلا آیا ۔۔۔
“کیا ہو رہا ہے گرلز ۔۔۔؟؟”حازم نے بظاہر نارمل لہجے میں پوچھا تھا جبکہ نظریں رباب پر ہی مرکوز تھیں ۔۔۔
“کچھ نہیں ۔۔تم یہاں کیا کر رہے ہو ۔۔؟؟”روحی نے تڑخ کر کہا۔۔۔
“میں نے کیا کرنا ہے بس آج سر چھٹی پر ہیں تو کلاس آف ہے تو سوچا تمہاری خیر خبر ہی لے لوں ۔۔۔۔”حازم نے جلدی سے بہانہ بنایا۔۔۔
“میں اچھے سے جانتی ہوں کہ کیا چل رہا ہے تمہارے دماغ میں حازم کے بچے ۔سدھر جاٶ۔۔۔۔”روحی نے اسے وارن کرتے ہوئے کہا۔۔
“میری پیاری بہن نہیں ہو تم۔۔۔”حازم نے مسکا لگایا تو اس نے ہاتھ میں پکڑا رجسٹر کھینچ کر اس کے بازو پر مارا تو وہ غصے سے اسے گھورتا اپنا بازو سہلانے لگا اس کے اتنے بھاری رجسٹر نے اسے ہلا ڈالا تھا کیونکہ وہ اس وار کے لیے بلکل تیار نہیں تھا۔۔۔جبکہ رباب خاموش کھڑی ان دونوں کو دیکھ رہی تھی۔۔۔
“روحی چھوڑو۔۔۔چلو اب کلاس اسٹارٹ ہونے والی ہے ۔۔۔”رباب نے روحی کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے اپنے طرف متوجہ کرتے ہوئے کہا ۔۔۔”ہاہاہاہاہاہا “ایکدم حازم کا فلک شگاف قہقہہ بلند ہوا تھا ۔۔۔اس کے اس طرح ہنسنے پر روحی کو اس کی دماغی حالت پر شبہ ہوا تھا ۔۔۔
“ارے۔۔ایسے کیوں ہنس رہے ہو کوئی جوک مارا ہے کیا روبی نے ۔۔یا تم پاگل ہو گئے ہو۔۔؟؟”
“کسی جوک سے کم بھی نہیں تھا۔۔۔”چلو روحی کلاس کا ٹائم ہو رہا ہے “۔۔۔تم دونوں کب سے پڑھنے لگیں ۔۔نالائق عوام ۔۔”حازم نے رباب کا مذاق اڑاتے ہوئے استہزائیہ لہجے میں کہا ۔۔
“نالائق ہونگے آپ۔۔اس لئے آپ کو باقی سب بھی ایسے دکھتے ہیں ۔۔۔۔دوسروں کا مذاق اڑانے سے اچھا ہے اپنے اوپر دھیان دیں۔۔۔”رباب نے تڑخ کر کہا۔۔۔اور بغیر اس کے جواب کا انتظار کئے روحی کا ہاتھ تھامے آگے بڑھ گئی ۔۔۔روحی جاتے جاتے بھی ابرو اچکا کر اسے چڑانا نہیں بھولی تھی ۔۔۔اور پیچھے حازم کلس کر رہ گیا۔۔۔۔۔
