Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tere Ishq Sy Meri Zaat Tak (Episode 23)

Tere Ishq Sy Meri Zaat Tak by Ayesha Mughal

“تم تو دبئی گئے تھے نا واپس کب آئے۔۔۔؟؟اور بتایا بھی نہیں۔۔۔۔”ذیان کو مسلسل خاموش دیکھ کر حازم نے پھر سے کہا۔۔۔۔

“و۔۔وہ میں ۔ک۔۔کل ہی آیا ہوں بس۔۔۔۔”ذیان نے ہکلاتے ہوئے کہا۔۔حازم اسکے چہرے پر موجود پریشانی نوٹ کر چکا تھا۔۔۔

“اچھا تو گھر کیوں نہیں آئے تم۔۔۔؟؟کہاں رہ رہے ہو کل سے۔۔۔۔؟؟”حازم نے نارمل لہجے میں کہا وہ نہیں چاہتا تھا کہ ذیان کو تھوڑی سی بھی بھنک پڑے کہ وہ سب جانتا ہے۔۔۔وہ سب ذیان کے منہ سے سننا چاہتا تھا۔۔۔

“میں تم لوگوں کو سرپرائز دینا چاہتا تھا۔۔۔بس اس لئے نہیں آیا۔۔یہیں ہوٹل میں ٹھہرا ہوں ۔۔۔۔اور کیا باتیں لے کر بیٹھ گیا تو۔۔۔ گلے نہیں لگے گا میرے۔۔۔؟؟”ذیان نے مسکراتے ہوئے کہتے اسے گلے لگایا تھا۔۔۔اس کی ہمت جواب دے رہی تھی۔۔وہ کیسے اسے بتاتا کہ وہ کس اذیت میں ہے کیسے مر مر کر جی رہا ہے۔۔آج کسی اپنے کا سہارا ملتے ہی اس کا دل چاہ رہا تھا خوب روئے ۔۔۔۔لیکن بمشکل وہ خود کو سنبھالتے ہوئے اپنے آنسو پونچھتے اس سے الگ ہوا تھا۔۔۔۔

“اور سنا کیسے ہیں سب۔۔۔۔؟؟بھابھی,بھائی,روحی,….؟؟”ذیان نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے نارمل انداز میں کہا۔۔۔۔

“تمہیں اس بات سے کوئی غرض نہیں ہونی چائہیے۔۔جاؤ تم اپنی زندگی گزارو۔۔۔ہم کون ہیں تمہارے۔۔۔؟؟”حازم نے خفگی منہ پھیرتے ہوئے کہا۔۔اس کے بدلے انداز پر ذیان ٹھٹکا تھا۔۔۔اس نے چونک کر حازم کی جانب دیکھا تھا۔۔۔۔

“مذاق مت کر حازم ۔۔بتا نا کیسے ہیں سب۔۔۔؟؟”ذیان دوبارہ گویا ہوا۔۔

“کہا نا یہ تیری پریشانی نہیں ہے۔۔۔۔”حازم نے سخت لہجے میں جواب دیا۔۔۔

“یہ کیا کہہ رہا ہے تو ۔۔۔۔؟؟یار تو جانتا ہے تم سب میں تو جان بستی ہے میری۔۔۔۔”ذیان نے حازم کے کندھوں سے تھام کر اس کا رخ اپنی طرف کرتے تڑپ کر کہا۔۔۔۔۔

“جھوٹ مت بول ذیان۔۔۔تجھے بس خود سے غرض ہے۔۔۔اپنی خوشیوں سے غرض ہے۔۔۔تو بس اپنے لئیے جینا جانتا ہے۔۔۔تیری جان بس تیری خواہشات میں بستی ہے۔۔۔اگر تجھے ہماری اتنی ہی فکر ہوتی۔۔اگر ہم تیرے لئیے اتنے ہی امپورٹنٹ ہوتے تو تو پانچ سال ہم سے دور نہ رہتا اور تو اور ہم سے کونٹیکٹ تک رکھنا گوارا نہیں کیا تو نے۔۔۔واہ سلام ہے تیری محبت کو۔۔۔۔۔”ناچاہتے ہوئے بھی حازم کا لہجہ تلخ ہوگیا تھا۔۔۔

“حازم کیا ہو گیا ہے میرے بھائی۔۔۔اس طرح تو نہ بول میں بہت محبت کرتا ہوں تم سب سے ۔۔۔میری محبت کو ایسے الزام تو نہ دے یار۔۔۔۔”ذیان نے بے بسی سے کہا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ حازم کی ناراضگی اپنی جگہ ٹھیک تھی لیکن وہ اس حد تک بدگمان ہو جائے گا یہ تو اس نے سوچا بھی نہیں تھا۔۔۔۔

“میرا منہ نہ کھلوا ذیان۔۔۔۔۔اور یہ اپنی جھوٹی محبت کا ڈھنڈورا کہیں اور پیٹنا جا کر۔۔شاید وہ یقین کر لیں۔۔۔۔۔”حازم کا لہجہ اب بھی تلخ تھا۔۔۔

“یوں خفا تو نہ ہوحازم ۔۔۔میں وہی ذیان ہوں تیرا بھائی۔۔۔یوں کہہ کر میری محبت کو بے مول نہ کر۔۔۔۔”ذیان نے آنکھوں میں نمی لئے ملتجی لہجے میں استفسار کیا گیا۔۔۔

“اسی بات کا تو افسوس ہے ذیان تو اب وہ ذیان نہیں رہا۔۔۔۔تو اب ایک خود غرض,بےحس انسان بن چکا ہے۔۔۔۔”حازم نے اسے کچھ باور کروانا چاہا۔۔۔حازم بہت جذباتی ہو رہا تھا۔۔۔۔

“حازم ٹھیک ہے میں اپنی غلطی مانتا ہوں لیکن اس طرح سے یہ سب کرنا ۔۔اتنی بڑی غلطی تو نہیں تھی میری۔۔۔۔۔”ذیان نے دھیمے لہجے میں کہا۔۔۔۔

“واہ ذیان واہ ۔۔۔تو تیرے نزدیک یہ بہت کم تھا۔۔۔۔کیا بات ہے۔۔۔۔تو تو کیا کرنا چاہتا ہے اس سے ذیادہ کر لے وہ بھی کر لے۔۔۔کہیں کوئی کمی نہ رہ جائے۔۔۔”حازم نے مضحکہ خیز ہنسی ہنستے ہوئے کہا۔۔۔اس کا لفظ لفظ ذیان کو زخمی کر رہا تھا۔۔۔اس کا دل پوری طرح لہو لہان ہو چکا تھا۔۔۔اس نے کرب سے آنکھیں میچ کر دوبارہ کھولیں تھیں۔۔۔بمشکل اپنے جذبات کو کنٹرول کرتا وہ مسکرایا تھا۔۔۔اس وقت کوئی ذیان سے پوچھتا کہ سب کھو دینے کا غم کیا ہوتا ہے۔۔

“میں نہیں جانتا حازم کہ کیا وجہ ہے جو تو اس طرح بی ہیو کر رہا ہے۔۔۔لیکن ہمیشہ یاد رکھنا ذیان کے دل میں تم لوگ آج بھی وہیں ہو۔۔۔۔۔یہ تیری غلط فہمی ہے کہ میں بدل گیا ہوں۔۔۔۔ان پانچ سالوں میں ایک لمحہ ایسا نہیں تھا جب میں نے تم سب کو یاد نہ کیا ہو۔۔۔تم لوگوں سے ملنے کے لئے تڑپا نہ ہوں۔۔۔لیکن شاید میں نے آنے میں بہت دیر کردی ۔۔۔اور شاید میں تمہارے دلوں میں موجود اپنا مقام کھو چکا ہوں۔۔۔۔آج ذیان سب کچھ کھو چکا ہے سب کچھ۔۔۔۔اپنوں کی محبت بھائی بہن میرے جان سے عزیز رشتے ۔۔۔۔ہو سکے تو مجھے معاف کر دینا آج جارہا ہوں میں۔۔۔اور شاید اب کبھی نہ لوٹوں کیونکہ اب میرے لوٹنے کا کوئی جواز ہی نہیں رہا۔۔۔اور سب کو کہہ دینا کہ ذیان مر چکا ہے۔۔۔۔اور انہیں رونے مت دینا حازم کیونکہ یہ ذیان برداشت نہیں کر پائے گا۔۔۔۔۔”ذیان نے مٹھیاں بھینچتے اپنے آنسوؤں پر قابوپاکر بمشکل کہا ۔۔۔وہ جانتا تھا کہ اگر وہ ایک منٹ اور رکا تو تو وہ رودے گا ۔۔۔اور شاید اتنی زور سے روئے گا کہ تکلیف سے اس کا دل ہی پھٹ جائے گا۔۔۔اس وقت کوئی ذیان سے پوچھتا کہ تکلیف,درد,اذیت کیا ہوتی ہے۔۔۔۔؟؟؟وہ بدلے کی آگ میں سب کھو چکا تھا۔۔۔۔اس آگ میں وہ خود ہی جھلس چکا تھا۔۔لیکن اب وہ صرف پچھتا سکتا تھا۔۔۔اس کے علاوہ وہ کیا کر سکتا تھا۔۔۔۔؟؟

“اس بائیس تاریخ کو میرا اور روحی کا نکاح ہے ۔۔اگر تیرے پاس ذرا بھی ٹائم ہو تو ضرور آنا۔۔۔۔۔”حازم کا لہجہ اب کافی دھیما ہو چکا تھا۔۔۔۔ذیان کی یہ حالت اسے بھی تکلیف دے رہی تھی۔۔۔۔لیکن جو کچھ ذیان کر چکا تھا وہ سب بھی بھولنے کے قابل نہیں تھا۔۔۔۔

“ضرور آؤں گا میں حازم۔۔۔اور بہت خوشی ہوئی سن کر کہ اب تیرے چہرے پر بھی سہرا سجنے والا ہےمبارک ہو۔۔اور روحی کو میری طرف سے ڈھیر سارا پیار دینا۔۔اسے کہنا کہ اس کا بھائی اسے بہت یاد کرتا ہے۔۔۔ترستا ہے کہ کوئی اس سے خفا ہو ۔۔۔جھگڑا کرے۔۔۔لیکن وہ اپنی جلائی ہوئی آگ میں خود ہی جھلس چکا ہے۔۔۔اور کہنا ہے اپنے بھائی کو معاف کردے۔۔۔۔۔”ذیان نے اس کے گلے لگتے ہوئے محبت سے چور لہجے میں کہا۔۔اس نے ذیان کے گرد اپنے بازوؤں کو مضبوطی سے باندھا تھااس کا دل ہی نہیں کر رہا تھا کہ وہ حازم سے دور ہو۔۔۔کتنے عرصے بعد اسے کوئی اپنا ملا تھا۔۔۔۔۔تب ہی اس کی نظر سامنے کھڑی رحاب پر پڑی تھی جو کسی شاپ پر کچھ دیکھنے میں مصروف تھی۔۔۔اور درد سے مسکرا دیا۔۔۔۔۔اس سے پہلے رحاب اسے دیکھتی وہ جلدی سے حازم کو خود سے الگ کرتا پل بھر کی بھی دیر کئیے بغیر ایک الوداعی مسکراہٹ لبوں پر سجائے نم آنکھوں سے حازم کی طرف دیکھتا وہاں سے غائب ہوا تھا۔۔۔۔وہ نہیں چاہتا تھا کہ کوئی ابھی اسے دیکھے۔۔۔وہ پہلے زویا کو تلاش کرنا چاہتا تھا اس سے معافی مانگنا چاہتا تھا۔۔۔لیکن زویا کی تلاش نے اسے گمنام مسافر بنا دیا تھا۔۔۔۔اسکو یوں اپنوں سے ہی چھپتا دیکھ کر حازم کے دل میں درد کی ٹیسیں اٹھی تھیں۔۔۔وہ سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ ذیان چھپ کیوں رہا ہے۔۔ اس کی آنکھوں سے دو آنسو چہرے پر لڑھکے تھے جنہیں اس نے رحاب کی پکار پر جلدی سے اپنے پوروں پر چن لیا۔۔۔اور روحی کے ساتھ اسی جانب چل پڑا جہاں عائشے اور زویا اس کی منتظر تھیں۔۔۔۔

🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹

وہ لوگ شام میں کافی دیر تک واپس لوٹے تھے۔۔۔اور اب تھکے ماندے لاؤنج میں رکھے صوفوں پر بیٹھے ھیشم خان سے آج کی شاپنگ پر گفتگو کر رہے تھے جب حازم کو کافی دیر سے خاموش اور کسی سوچ میں گم دیکھ کر رحاب نے اسے پکارا۔۔۔

“ارے واہ۔۔۔حازم آج تم خاموش ہو بڑی بات ہے بھئی۔آج تمہاری قینچی جیسی زبان کو تالا کیوں لگا ہوا ہے۔۔۔۔؟؟”رحاب کی آواز پر وہ چونکا تھا۔۔۔

“ہ۔۔ہا۔۔ہاں۔۔۔بس میں نے سوچا آج کچھ نیا کر لوں۔۔۔”حازم نے ذہن میں چلتیں سب ہی سوچوں کو جھٹکتے خود کو نارمل ظاہر کیا۔۔۔۔۔

“کیا ہوا حازم کوئی بات ہے کیا ۔۔۔؟؟راستے میں بھی تم چپ چپ تھے۔۔۔۔۔”اب کی بار زویا فکرمندی سے گویا ہوئی۔۔۔

“ہاں حازم بتاؤ۔۔۔میں نے بھی نوٹ کیا تم کافی چپ چپ ہو جب سے ہم لوٹے ہیں۔۔۔۔تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے نا۔۔۔۔؟؟”عائشے نے بھی فکرمند لہجے میں استفسار کیا۔۔۔۔ھیشم نے بھی اپنی نظریں اس پر مرکوز کی تھیں ۔۔۔وہ حازم کے چہرے کا اتار چڑھاؤ نوٹ کر چکا تھا۔۔۔

“اوہو۔۔۔۔کیا ہو گیا ہے بھئی آپ سب کو ۔۔۔۔میں بلکل ٹھیک ہوں بس سر میں تھوڑا درد ہے۔۔آرام کروں گا تو سیٹ ہوجائے گا۔۔۔۔”اتنا کہہ کر انکی طرف زبردستی کی مسکراہٹ اچھالتا لاؤنج سے نکلتا چلا گیا۔۔۔جبکہ باقی سب اس کے بدلے انداز دیکھ کر ہونقوں کی طرح منہ کھولے اسے دیکھ رہے تھے ان کی نظروں نے دور تک اس کا تعاقب کیا تھا۔۔۔۔اس کے نظروں سے اوجھل ہوتے ہی وہ سب اب حیرانگی سے ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے۔۔۔۔

“اسے کیا ہوگیا۔۔۔۔۔؟؟”ہیشم خان نے خاموشی کو توڑتے ہوئےکہا۔۔۔۔

“پتا نہیں بھائی۔۔۔۔ناجانے ایسا بی ہیو کیوں کر رہا ہے ۔۔۔پہلے تو کبھی ایسا نہیں ہوا۔۔۔۔۔”رحاب نے پریشانی سے کہا۔۔۔۔

“کچھ نہیں ہوا اس نے کہا نا اس کے سر میں درد ہے آرام کرے گا تو ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔۔چلو اب سب آرام کر لو۔۔۔۔ویسے ہی بہت تھکن ہو گئی ہے۔۔۔۔۔”عائشے نے صوفے سے اٹھتے ہوئے کہا۔۔۔اور بچوں کے لئے دودھ لینے کچن کی جانب بڑھ گئی۔۔۔۔ایک ایک کر کے تمام نفوس اپنے روم کی جانب بڑھ گئے۔۔۔۔عائشے بچوں کو ان کے روم میں دودھ کا گلاس دے کر حازم کے روم میں چلی آئی۔۔۔۔وہ جیسے ہی کمرے میں داخل ہوئی پورا کمرہ اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا۔۔۔اس نے دھیمے لہجے میں حازم کو پکارا۔۔۔۔

“حازم۔۔۔حازم۔۔۔”ایک دفعہ جواب نہ آنے پر اس نے دوبارہ آواز دی۔۔۔۔

“جی بھابھی۔۔۔آپ یہاں ۔۔۔۔۔”سائیڈ ٹیبل پر موجود لیمپ آن کرتے ہوئے جواب دیا۔۔۔۔اس کی آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں۔۔۔۔عائشے کو کمرے میں آتا دیکھ کر وہ پہلے ہی آنسو پونچھ چکا تھا۔۔۔

“کیا ہوا حازم کمرے میں اتنا اندھیرا کیوں کیا ہوا ہے۔۔۔۔؟؟”عائشے نے نرم لہجے میں پوچھا۔۔۔جبکہ اس کی سرخ متورم آنکھیں وہ دیکھ چکی تھی۔۔۔

“نہیں کچھ نہیں بھابھی ۔۔بس ایسے ہی۔۔۔۔”حازم نے پھیکی مسکراہٹ لبوں پر سجاتے ہوئے کہا۔۔۔وہ کوشش کے باوجود خود کو نارمل نہیں کر پارہا تھا ۔۔آنسو تھے کہ بہنے کو بیتاب تھے۔۔۔

“جھوٹ مت بولو حازم میں جانتی ہوں ضرور کوئی بات ہے۔۔جو تم ہم سب سے چھپا رہے ہو۔۔۔”عائشے نے اس کی بات کو ٹالتے ہوئے دھیمے لہجے میں استفسار کیا۔۔۔

“نہیں بھابھی۔۔۔ایسا کچھ نہیں ہے۔۔۔۔”حازم نے دوبارہ ٹالنا چاہا۔۔۔وہ نہیں چاہتا تھا کہ عائشے بھی پریشان ہو۔۔۔۔

“حازم میں آخری دفعہ پوچھ رہی ہوں ۔۔۔پھر میں ناراض ہو جاؤں گی۔۔۔بھابھی مت بولنا مجھے۔۔۔”عائشے نے خفگی سے کہا۔۔۔وہ جانتی تھی حازم کسی کو خفا نہیں کر سکتا۔۔۔اور اس طرح وہ ضرور بتا دے گا۔۔۔

“وہ۔۔بھابھی آج مال میں مجھے ذیان ملا تھا۔۔”اس نے بات شروع کی۔۔۔۔

“کیا۔۔۔یہ کیا کہہ رہے ہو تم۔۔۔؟؟”عائشے نے حیرانگی سے اس کی بات کاٹی۔۔۔

“جی بھابھی۔۔۔آج جب میں اس سے ملا تو بہت غصہ آیا مجھے اس پر۔۔۔وہ کہتا ہے کہ اب وہ کبھی نہیں لوٹے گا۔۔۔جانتی ہیں بھابھی وہ پانچ سالوں سے لاہور میں ہی تھا۔۔۔لیکن اسی شہر میں رہتے ہوئے اس نے ہم سے رابطہ رکھنے کی بھی زحمت نہیں کی ۔۔۔اس نے کہا ہے کہ میں سب سے کہہ دوں کہ وہ مر چکا ہے۔۔۔ایسا کیسے ہو سکتا ہے بھابھی۔۔۔؟؟وہ یہاں ہوتے ہوئے بھی ہم سے دور رہا۔۔وہ ہمیں اپنا مانتا ہی نہیں تھا بھابھی۔۔۔۔اگر اسے ہم سے اتنی محبت ہوتی تو وہ کبھی ہم سے دور نہ رہتا۔۔۔۔”حازم تو مانو سہارا ملتے ہی پھٹ پڑا تھا۔۔۔اس کی آنکھوں سے آنسوں بہنے لگے تھے۔۔۔۔

“کیا ہوگیا حازم۔۔رومت میری بات سنو ۔۔۔وہ تمہیں جب ملا تو تمہیں اس پر غصہ نہیں کرنا چائہیے تھا۔۔۔اس سے پوچھتے کہ کیوں کیا اس نے یہ سب۔۔۔؟؟کیا پتا حازم جو ہم دیکھ رہے ہیں جو ہمیں نظر آرہا ہے وہ سچ نہ ہو۔۔۔اس طرح بغیر اس کی بات سنے اسے غلط قرار دینا یا یوں اس سے ناراضگی ظاہر کرنا بلکل غلط ہے۔۔۔۔۔”عائشے نے نرم لہجے میں اسے بہت کچھ سمجھانا چاہا۔۔۔۔

“لیکن بھابھی ۔۔اس نے اتنا سب کچھ کیا زویا بھابھی کے ساتھ کیا نہیں کیا ۔۔۔؟؟اس نے زندگی برباد کر کے رکھ دی انکی۔۔۔ہم سے جھوٹ بول کر اسی شہر میں رہ رہا ہے کیا یہ سب ٹھیک ہے۔۔۔۔؟؟”اس نے سوالیہ نظروں سے عائشے کی جانب دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔۔

“میں مانتی ہوں حازم اس نے جو کیا وہ غلط تھا۔۔۔۔لیکن زویا کی بھی غلطی تھی اس بات کو بھی اگنور نہیں کر سکتے نا۔۔۔۔”عائشے نے دھیمے لہجے میں کہا۔۔۔۔

“جی بھابھی لیکن وہ شرمندہ ہیں اپنی غلطی پر

۔۔۔”حازم نے پھر سے زویا کی سائیڈ لی۔۔۔۔

“ہاں حازم میں جانتی ہوں اس نے اپنی غلطی مانی ہے۔۔۔لیکن ذیان کو اس بات کا علم نہیں ہے۔۔۔اس نے جو کچھ کیا وہ پانچ سال پہلے کی بات ہے۔۔۔اس وقت یہ دونوں ہی بدلے کی آگ میں جھلس رہے تھے۔۔۔۔۔”عائشے نےگزرا وقت دہرایا تھا۔۔۔۔۔وہ جانتی تھی کہ اگر ذیان نے یہ سب کیا ہے تو زویا کی بھی اس میں غلطی تھی۔۔۔

“جی بھابھی۔۔۔اور ایک بات نوٹ کی میں نے آج۔۔۔ذیان بہت اپ سیٹ تھا۔۔۔وہ اب پہلے جیسا نہیں رہا وہ بہت بدل چکا ہے۔۔۔اس کے چہرے پر کوئی خوشی نہیں تھی۔۔۔۔ایسا لگتا تھا بہت مشکل میں ہے وہ۔۔اس کے لہجے میں بہت کرب تھا۔۔۔وہ کسی اذیت میں مبتلا ہے۔۔۔۔وہ اب ہنستا نہیں ہے۔۔۔اور اگر ہنس بھی لے تو اس کے لبوں پر پھیلی وہ مسکان بلکل پھیکی ہوتی ہے۔۔۔۔وہ ہنس رہا تھا لیکن اس کی آنکھیں رو رہی تھیں بھابھی۔۔۔کوئی طوفان تھا ان آنکھوں میں جو بس بہہ جانا چاہتا تھا۔۔۔بھابھی میرا دل کہتا ہے بہت تکلیف میں ہے وہ۔۔۔۔میں کیسے سب سے کہہ دوں کہ وہ مرچکا ہے۔۔۔کیسے بھابھی کیسے۔۔۔۔؟؟”حازم نے شدت ضبط سے کہا ۔۔۔اس کا بس چلتا تو وہ چیخ چیخ کر روتا لیکن اس وقت وہ خود پر بمشکل کنٹرول کئیے بیٹھا تھا۔۔۔اسکے لہجے میں تڑپ تھی دکھ تھا اپنے اس بھائی کے لئے جو بدلے کی آگ میں سب تباہ کر چکا تھا۔۔۔۔۔

“حازم سنبھالو خود کو۔۔میں تم اور سب اچھے سے جانتے ہیں ذیان کبھی ایسا تھا ہی نہیں وہ تو وقت نے اسے ایسا بنا دیا تھا۔۔۔اسے اب سہارے کی ضرورت ہے ۔۔۔وہ خود تو سب برباد کر چکا ہے لیکن اب ہمیں اسے سپورٹ کرنا ہے سنبھالنا ہے اسے۔۔۔۔اسے ہماری ضرورت ہے۔۔۔کیا تم جانتے ہو وہ کہاں ہے ۔۔؟؟کس کے پاس رہ رہا ہے۔۔۔؟؟”عائشے نے اچانک یاد آنے پر پوچھا۔۔۔

“نہیں بھابھی اس وقت میں اس سے بہت خفا تھا تو یہ پوچھنا یاد ہی نہیں رہا۔۔۔لیکن ہاں بھابھی اتنا ضرور پتا ہے وہ اب بھی لاہور میں ہی ہے اور کسی ہوٹل میں رہ رہا ہے۔۔۔۔”حازم نے تاسف سے کہا۔۔۔

“سب سے پہلے اب تم اسے تلاش کرو ڈھونڈو اسے۔۔۔۔اور اس طرح رونے سے اگر وہ مل جاتا ہے تو پھر تو مجھے بھی رونا چائہیے۔۔۔۔”عائشے نے ماحول کی اذیت کو کم کرنا چاہا۔۔۔اس کی بات پر حازم مسکرایا تھا۔۔۔۔

“آپ بھی نا بھابھی۔۔۔”حازم نے ہنستے ہوئے کہا۔۔۔

“کیا میں۔۔۔؟؟چلو سو جاؤ اب ۔۔۔۔اور رونا مت ۔۔۔۔سمجھ رہے ہو نا میری بات ورنہ میں خفا ہو جاؤگی اور میں جانتی ہوں میرا یہ چھوٹا سا بھائی میری ناراضگی افورڈ نہیں کر سکتا ۔۔۔شادی ہونے والی ہے تمہاری۔۔۔۔اب تو بڑے ہو جاؤ۔۔رباب کو۔”اس سے پہلےعائشے بات مکمل کرتی حازم نے کچھ یاد آنے پر اسے ٹوکا تھا۔۔۔

“اوہ ہاں بھابھی۔۔۔وہ میری شادی پر آئے گا۔۔۔ہاں اس نے کہا تھا وہ ضرور آئے گا۔۔۔۔”حازم نے پرجوش لہجے میں بتایا۔۔۔۔

“واؤ۔۔۔تو پھر کیسی ٹینشن۔۔۔۔وہ آئے گا تو میں اس سے خود بات کروں گی۔۔۔۔”عائشے نے خوشی سے کہا۔۔۔۔وہ خوش تھی کہ ذیان کو ابھی انہوں نے مکمل کھویا نہیں تھا اب بھی امید باقی تھی۔۔۔۔

“جی بھابھی۔۔۔۔”حازم نے مؤدب انداز میں کہا۔۔۔۔

“آپ یہاں ہیں اور ہم کب سے روم میں آپ کا ویٹ کر رہے ہیں۔۔۔۔۔”عائشے نے کچھ بولنے کے لئے منہ کھولا ہی تھا جب ھیشم غصے سے روم میں داخل ہوا۔۔۔

“میں بس آہی رہی تھی۔۔۔۔”عائشے نے مسکراتے ہوئے کہا۔۔۔ھیشم کو اس طرح غصے میں دیکھ کر عائشے کو بڑا مزہ آرہا تھا۔۔۔

“ویسے کیا کھچڑی پک رہی تھی آپ دونوں میں۔۔۔؟؟”ھیشم نے بھنویں اچکاتے ہوئے سوالیہ نظروں سے دیکھتے ہوئے مشکوک لہجے میں پوچھا۔۔۔

“ابھی کھچڑی پکی کہاں تھی بھائی ۔۔۔آپ نے اچھی بھلی کھچڑی کا ستیاناس کر دیا۔۔۔۔”حازم نے مصنوعی تاسف سے کہا۔۔۔۔

“بس ذیادہ مت بول تو۔۔۔ہم جانتے ہیں ضرور کوئی تو بات ہے۔۔لیکن اب تو بھئیی بھابھی کے ہوتے ہوئے ہماری کیا اوقات۔۔۔۔۔”ھیشم نے تڑخ کر کہا۔۔۔جبکہ خفا نظریں اب بھی عائشے پر مرکوز تھیں۔۔۔

“حازم یہ جلنے کی بو کہاں سے آرہی ہے۔۔۔۔؟؟”عائشے نے شرارتی لہجے میں کہتے ھیشم کی جانب دیکھا تھا۔۔۔۔۔

“ہم بتاتے ہیں کہاں سے آرہی ہے۔۔۔۔”ھیشم نے عائشے کا ہاتھ تھامتے ہوئے کہا۔۔۔۔

“ارے کیا کر رہے ہیں آپ ۔۔؟؟ہاتھ تو چھوڑیئے میرا۔۔۔۔”عائشےنے احتجاج کرنا چاہا۔۔۔ھیشم اس کی پرواہ کئیے بغیر اس کا ہاتھ تھامے اپنی ہنسی دباتا کمرے سے نکلتا چلا گیا اور اب اس کا رخ کچن کی طرف تھا۔۔۔۔کچن میں پہنچ کر ہی اس نے عائشے کا ہاتھ چھوڑا تھا۔۔۔۔

“یہ دیکھیں یہ جل رہا تھا۔۔۔۔”ھیشم نے اوون میں رکھے کھانے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا جو اب بلکل جل چکا تھا۔۔۔۔

“اوہ۔۔۔میں تو بھول ہی گئی کہ میں نے آپ کے لئے کھانا گرم ہونے کے لئے رکھا ہے۔۔۔”عائشے نے ماتھے پر ہاتھ مارتے ہوئے تاسف سے کہا۔۔۔۔

“ہاں اب ہم آپ کو کہاں یاد رہیں گے ۔۔۔۔۔؟؟”ھیشم نے خفگی سے چہرہ پھیرتے ہوئے کہا۔۔۔

“آپ مجھے بھولتے ہی کہاں ہیں۔۔۔۔؟؟”عائشے نے اس کے پاس آکر اس کا چہرہ اپنی طرف موڑتے ہوئے کہا۔۔۔

“جھوٹ مت بولئیے عائشے ۔۔۔آپ کو اب ہماری ذرا فکر نہیں ہے۔۔۔۔بس آپ کو ہر وقت دوسروں کی فکر رہتی ہے۔۔۔۔”ھیشم نے خفا لہجے میں کہا۔۔۔

“ایسی بات نہیں ہے ھیشم ۔۔۔۔۔”عائشے نے پلکیں جھکاتے ہوئے نم لہجے میں کہا۔۔۔۔

“حد ہوگئ عائشے ہمیں منانے کے بجائے آپ نے خود رونا شروع کر دیا ہے۔۔۔۔۔”ھیشم نے اس کا چہرہ اوپر کرتے ہوئے اس کے آنسو پوروں پر چنتے ہوئے کہا۔۔۔۔

“میں کہاں رو رہی ہوں۔۔۔۔؟؟”عائشے نے بچوں کی طرح معصومیت سے کہا۔۔۔۔

“اچھا تو یہ آنسو اس لئے بہائے جا رہے ہیں کیونکہ آپ جانتی ہیں کہ ہم آپ کو روتے ہوئے نہیں دیکھ سکتے۔۔۔۔۔”ھیشم نے شرارت سے کہا۔۔۔

“کچھ ذیادہ نہیں بول رہے آپ ۔۔؟؟عائشے نے تڑخ کر کہا۔۔۔ھیشم تو حیران تھا ابھی وہ رو رہی تھی اور اب ایک پل میں ہی ہٹلر بنی کھڑی تھی۔۔

“ابھی تو کچھ بولا کہاں ہے میں نے جان ھیشم۔۔۔۔؟؟”ھیشم نے معنی خیزی سے کہہ کر اس کا بازو پکڑ کر اسے اپنی طرف کھینچ کر اس کے گرد حصار باندھا تھا۔۔۔۔

“کیا کر رہے ہیں آپ شرم کر لیں تھوڑی۔۔۔دو دو بچوں کے بابا بن چکے ہیں اور اب بھی آپ کی یہ چھچھوری حرکتیں ختم نہیں ہوئیں۔۔۔۔”عائشے نے خود کو چھڑوانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔

“شرم کیسی عائشے جانی۔۔۔۔آپ ہماری بیوی ہیں۔۔۔۔اور ہماری محبت کو ان گھٹیا لفظوں سے مت کمپیئر کریں۔۔۔۔”ھیشم نے محبت سے اس کے بال ٹھیک کرتے ہوئے کہا۔۔۔

“سوری۔۔۔لیکن اب چھوڑیں مجھے۔۔۔۔کوئی آگیا تو۔۔۔۔”عائشے نے اردگرد نظریں دوڑاتے ہوئے کہا۔۔۔

“تو دیکھ لے ۔۔۔ہم کون سا کچھ غلط کر رہے ہیں۔۔۔۔”ھیشم نے مسکراتے ہوئے کہا۔۔۔عائشے کی ہڑبڑاہت سے وہ محظوظ ہو رہا تھا۔۔۔

“اففففف ھیشم ایک تو آپ بھی ۔۔۔۔۔”اس سے پہلے عائشے بات مکمل کرتی جب انہوں نے کسی کی دبی دبی ہنسی پر دروازے کی سمت دیکھا تھا۔۔۔۔اور وہاں کھڑےتینوں بچوں کو دیکھ کر ھیشم نے جلدی سے عائشے کو چھوڑا تھا۔۔۔۔آثال اور لیزہ منہ پر ہاتھ رکھے ہنس رہے تھے جبکہ حوزان غصے سے گال پھلائے کھڑا تھا۔۔۔۔عائشے اور ھیشم کو اپنی طرف متوجہ دیکھ کر غصے سے بولا۔۔۔

“آپ میری مما کو کیوں تنگ کر رہے تھے۔۔۔؟؟”اس نے آگے بڑھ کر عائشے کا ہاتھ تھاما۔۔۔

“اووو میری جان ہم کہاں تنگ کر رہے ہیں آپ کی مما ہی تنگ کرتی ہیں ہمیں۔۔۔۔”ھیشم نے عائشے کی جانب دیکھ کر معنی خیزی سے کہا۔۔۔۔

“مما میں آپ کے شاتھ ہوں۔۔میں جانتا ہوں پاپا آپ کو تنگ کر رہے تھے۔۔۔آپ ڈریں نہیں۔۔۔۔”حوزان نے بہادر بنتے ہوئے غصے سے ھیشم کی جانب دیکھ کر کہا۔۔۔۔

“ارے پاگل بلے پاپا تو پیار کر رہے تھے بڑی مما کو۔۔۔۔”لیزہ نے ماتھے پر ہاتھ مارتے ہوئے تاسف سے کہا۔۔۔اس کی بات پر دونوں نے شاکڈ نظروں سے اس کی طرف دیکھا تھا۔۔۔۔

“بہت تیز ہو گئے ہو تم تینوں ۔۔۔اور سوئے کیوں نہیں اب تک۔۔۔۔؟؟”عائشے نے مصنوعی غصے سے پوچھا جبکہ ھیشم کی تو ہنسی نہیں رک رہی تھی۔۔۔

“مما ہمیں بہت ڈر لگ رہا تھا کمرے میں اس لئے ہم آپ کو بلانے آئے تھے۔۔۔”آثال نے معصومیت سے کہا۔۔۔

“اچھا چلو۔۔۔آج میں آپ لوگوں کے ساتھ آپ لوگوں کے کمرے میں ہی سو جاتی ہوں۔۔۔”عائشے نے تینوں کو چلنے کا اشارہ کرتے ہوئے کہا۔۔۔اور انہیں ساتھ لئے آگے بڑھ گئی۔۔۔۔۔

“ارے عائشے کہاں جا رہی ہیں آپ۔۔۔۔؟”ھیشم کی ہنسی کو بریک لگی تھی۔۔۔۔

“آج آپ اکیلے ہی سوئیں۔۔۔۔میں بچوں کے ساتھ سوؤں گی۔۔۔۔”عائشے نے بھنوویں اچکاتے ہوئے کہا۔۔۔ھیشم کا چہرہ دیکھ دیکھ کر اسے ہنسی آرہی تھی۔۔

“لیکن عائشے۔۔۔۔”ھیشم نے ابھی بات شروع ہی کی تھی جب عائشے نے اس کی بات کاٹی۔۔۔

“گڈ نائیٹ۔۔۔سویٹ ڈریمز ھیشم۔۔۔۔۔”عائشے نے مزے سے کہا۔۔۔۔ھیشم کا چہرہ تو دیکھنے والا تھا وہ تو بس بیچارگی سے دیکھتا رہ گیا۔۔۔

“بائے بائے جان۔۔۔۔۔”عائشے نے ہنستے ہوئے کہا۔۔۔

“عائشے آپ ایسا کیسے کر سکتی ہیں یار۔۔۔؟؟”ھیشم نے منہ لٹکاتے ہوئے کہا۔۔۔۔

“ایسے۔۔۔۔۔”عائشے نے تیزی سے قدم آگے بڑھاتے ہوئے کہا۔۔۔اور بغیر اس کا جواب سنے کچن سے نکلتی چلی گئی۔۔۔۔

“شٹ۔۔۔۔”ھیشم بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے تاسف سے خود سے مخاطب ہوا۔۔ اس کی نظریں اب بھی عائشے کا تعاقب کر رہی تھیں جب اس کے پہلو میں چلتے حوزان نے ھیشم کو دیکھ کر بھنوویں اچکائیں تھیں۔۔۔اور ھیشم تو اس کی حرکت پر غش کھا کر ہی رہ گیا۔۔۔۔۔۔

🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹

“میں تم سے شادی کرنا چاہتی ہوں۔۔۔”حورم کی بات پر وہ جھٹکے سے کھڑا ہوا تھا۔۔۔

“کیا کہہ رہی ہیں آپ میم۔۔۔؟؟ہوش میں تو ہیں؟؟”عادل نے سکتے کے عالم میں کہا۔۔۔اسے حورم سے کہاں امید تھی اس بات کی۔۔۔

“ہاں بلکل ہوش میں ہوں میں عادل۔۔۔میں تم سے نکاح کرنا چاہتی ہوں۔۔۔۔”حورم نے اپنی بات دہرائی۔۔۔

“یہ ممکن نہیں ہے۔۔۔”عادل نے سپاٹ لہجے میں کہا۔۔۔

“کیوں ممکن نہیں ہے۔۔۔؟؟”حورم نے ناسمجھی سے پوچھا۔۔۔

“کیونکہ وہ انسان جو پہلے ہی کسی اور کو دل میں بسائے بیٹھا ہے آپ اس سے کیسے نکاح کر سکتی ہیں۔۔؟؟وہ انسان آپ کو آپ کے حقوق بھی نہیں دے سکتا اور سب سے بڑی بات میرے اور آپ کے اسٹینڈرڈ میں بہت فرق ہے۔۔۔آپ ایک اپر کلاس فیملی سے تعلق رکھتی ہیں ۔۔جبکہ میں آپ کی کمپنی میں کام کرنے والا ایک معمولی ورکر ہوں۔۔۔”عادل نے اسے اس کا اسٹیٹس باور کروانا چاہا۔۔۔۔

“مجھے فرق نہیں پڑتا اور یہ سب دولت تو دنیا میں ہی ہے۔۔۔مجھے بس تمہارا ساتھ چاہیے۔۔۔۔”حورم نے اس کے پاس آتے ہوئے کہا۔۔۔

“میں مانتا ہوں میم یہ سب دنیا کا فائدہ ہے۔۔لیکن پھر بھی جو آپ چاہ رہی ہیں یہ امپاسبل ہے۔۔۔۔یہ کبھی نہیں ہو سکتا۔۔۔اور آپ میرے بارے میں جانتی ہی کتنا ہیں۔۔۔۔؟؟”عادل نے سوالیہ نگاہیں اس پر مرکوز کرتے ہوئے پوچھا۔۔۔

“میں ذیادہ نہیں لیکن اتنا ضرور جانتی ہوں کہ تم پچھلے پانچ سال سے میری کمپنی میں کام کر رہے ہو۔۔۔۔اور کسی کو جاننے کے لئے یہ عرصہ بہت ذیادہ ہے اور اس عرصےمیں میں جان چکی ہوں کہ تم ایک اچھے انسان ہو۔۔۔۔”حورم نے صاف گوئی سے کام لیا۔۔۔

“اچھا تو آپ کے مطابق کسی کو اپنی زندگی میں شامل کرنے کے لئے اتنا جاننا کافی ہے۔۔۔۔؟؟”عادل نے معنی خیزی سے پوچھا۔۔۔

“کسی کا تو نہیں معلوم لیکن ہاں تمہارے بارے میں اتنا جاننا کافی ہے۔۔۔”حورم نے فی الفور جواب دیا۔۔۔

“اوکے ۔۔۔لیکن مجھ سے شادی کر کے آپ کو ملے گا کیا۔۔۔؟؟”عادل نے اسے جانچتی نظروں سے دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔

“ایک مخلص۔۔۔وفادار۔۔۔اور اچھا انسان۔۔۔”حورم کے پاس بھی ہر سوال کا جواب موجود تھا۔۔۔

“ہمممم۔۔۔یہ آپ سوچتی ہیں۔۔لیکن میں کسی کو دکھ اور درد دے سکتا ہوں اور کچھ نہیں اس لئے میں آج تک ہر انسان سے دور رہا ہوں۔۔۔میں اپنی ذات سے کسی کو اذیت نہیں دے سکتا۔۔۔”عادل کا لہجہ نم ہوا تھا۔۔ناجانے کیوں وہ اس بات پر نظریں جھکا گیا۔۔۔

“اچھا تو اس طرح خود کو اذیت دے کر کون سا نیک کام کر رہے ہو تم۔۔۔تم نے اس لڑکی سے محبت کی۔۔۔اور اسے اس کی خوشی کی خاطر چھوڑ دیا۔۔لیکن خود کو اس طرح اذیت دے کر تم اللہ کو ناراض کر رہے ہو۔۔۔جب کسی کی خوشی کے لئے قربانی دی جائے تو اس پر رویا نہیں جاتا۔۔۔”حورم نے دھیمے لہجے میں اسے سمجھانا چاہا۔۔۔۔

“جی میم ۔۔۔۔آپکو آپکی بات کا جواب مل چکا ہے میں مزید بحث نہیں کرنا چاہتا۔۔۔۔اب میں چلتا ہوں۔۔۔۔”عادل کو مزید بحث کرنا مناسب نہ لگااس لئے بات کو ختم کرتے ہوئے باہر کی جانب قدم بڑھا دئیے۔۔۔

“رکو عادل ۔۔۔باتیں ادھوری مت چھوڑا کرو۔۔۔آج اس بات کو ختم کر کے جاؤ۔۔۔۔”حورم کی آواز پر اپنے بڑھتے قدموں کو روکتا وہ پلٹا تھا۔۔

“کیسی ادھوری بات۔۔۔۔؟؟؟”عادل نے نا سمجھی سے پوچھا۔۔۔

“آج مین جاننا چاہتی ہوں کہ وہ لڑکی کون تھی۔۔۔؟؟”حورم نے سپاٹ لہجے میں کہا۔۔۔

“اوکے آپ جاننا چاہتی ہیں نا تو سنیں وہ لڑکی بچپن سے میری منگیتر تھی لیکن میرے جان سے عزیز ابا نے اسے غیرت کے نام پر کسی اور کے نام کر دیا۔۔اور میں چاہنے کے باوجود اسے واپس نہ لا سکا۔وہ لڑکی جسے میں نے بچپن سے اپنا سمجھا اس کا نام ہمیشہ اپنے نام کے ساتھ سنا۔۔۔جس سے آخری حد تک محبت کی۔۔کبھی کھونے کا خوف نہیں تھا۔۔میں پڑھائی کے لئے آؤٹ آف کنٹری گیا۔۔اس یقین کے ساتھ وہ میری ہے۔۔اور اسے تو میرے نام کی انگوٹھی بھی پہنا دی گئی تھی۔۔لیکن میں نہیں جانتا تھا کہ مجھے واپسی میں اتنی دیر ہو جائے گی کہ میں اسے کھو دونگا۔۔۔میں اس اس شخص سے بھی آزاد کروالیتا لیکن وہ خوش تھی اور اس کی خوشی نے ہی مجھے دغا کرنے سے روک دی۔۔۔ورنہ میں عائشے کے لئے کچھ بھی کرنے کے لئے تیار تھا۔۔۔میں نے تو اپنی محبت کو پا کر کھویا ہے۔۔۔اس سے ذیادہ درد کیا ہو سکتا ہے۔۔۔۔۔؟؟”آج پہلی دفعہ عادل خان نے اس سے اونچی آواز میں بات کی تھی۔۔۔

“کیا وہ خوش ہے۔۔۔؟؟”حورم نے ڈرتے ہوئے پوچھا۔۔

“جی وہ خوش ہے۔۔اس انسان کے ساتھ ابھی بتایا تو ہے آپکو۔۔۔۔۔۔”عادل نے دھیمے لہجے میں کہا۔۔

“تو جب وہ خوش ہے تو تم کیوں خود کو روگ لگائے بیٹھے ہو۔۔۔؟؟ تمہیں تو خوش ہونا چائہیے کہ وہ خوش ہے۔۔تمہیں اپنی لائف میں آگے بڑھنا چاہیے ۔۔لیکن اب تمہیں اسے بھول جانا چائہیے۔۔۔۔۔”حورم نے حتمی لہجے میں کہا۔۔۔

“کیا کسی کو بھول جانا اتنا آسان ہوتا ہے حورم جی۔۔۔۔؟؟”عادل نے تلخ لہجے میں پوچھا۔۔۔

“میں جانتی ہوں کہ یہ آسان کام نہیں ہے۔۔۔لیکن عادل ہم زندگی میں بہت بار گرتے ہیں۔۔۔اور تب ہم پر منحصر ہوتا ہے کہ ہم گرے رہ کر لوگوں کو مذاق بنانے کا موقع دیں یا خود کو مضبوط بنا کر اٹھ کھڑے ہوں۔۔۔۔اگر ہم یوں ہی گرے رہیں گے تو لوگ ہمیں روند کر آگے بڑھ جائیں گے۔۔۔۔۔اور ہم روتے ہی رہ جائیں گے۔۔۔”حورم نے نرم لہجے میں اسے سمجھایا۔۔۔۔

“لیکن کوئی آگے بڑھنا ہی نہ چاہے تو۔۔۔؟م”عادل نے ایک اور سوال کیا۔۔۔

“تو وہ انسان دنیا کا سب سے بڑا بیوقوف انسان ہے۔۔۔یہ زندگی ہے کوئی کھیل نہیں ہے۔۔۔۔اور یہ زندگی ہر کام وقت پر ہو تو ٹھیک چلتی ہے ورنہ یہ ہمیں ذلیل و خوار کر دیتی ہے۔۔۔اور گزرا ہوا وقت کبھی پلٹ کر نہیں آتا ۔۔۔۔اگر اس وقت کی وقت پر قدر نہ کی جائے تو یہ ہمیں برباد کر کے رکھ دیتا ہے پھر ہمارے پاس پچھتاوے کے علاوہ کچھ نہیں بچتا۔۔۔۔اور اللہ نے تو خود فرمایا ہے۔۔۔”وہ تب تک کسی کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ انسان خود نہ چاہے۔۔۔”آگے بڑھو عادل۔۔۔زندگی نہ کسی کے آنے پر رکتی ہے نہ کسی کے جانے پر۔۔۔۔”حورم نے اسے زندگی کی حقیقت سے روشناس کروایا۔۔۔۔

“میں جانتا ہوں میم۔۔۔لیکن میں چاہ کر بھی ایسا نہیں کر پارہا۔۔۔میں اسے بھول نہیں پارہا۔۔۔”عادل نے بے بسی سے کہا۔۔۔

“کیونکہ تم بھولنا چاہتے نہیں ہو۔۔۔”حورم کی بات پر عادل نے نظریں چرائی تھیں۔۔۔۔

“جس دن تم خود کو اس بند خول سے نکالنے کی پہلی کوشش کروگے اس دن تم سب بھول جاؤگے عادل۔۔۔۔وہ تمہارے لئے نامحرم ہے۔۔۔اب وہ کسی اور کے نکاح میں ہے اس کو اس طرح دل میں بسائے رکھنے سے تم اللہ کے نزدیک گناہ کے مرتکب ہو رہے ہو۔۔۔۔”حورم نے پھر سے کوشش کی۔۔۔وہ عادل کو نارمل دیکھنا چاہتی تھی۔۔۔وہ چاہتی تھی کہ وہ بھی نارمل لائف گزارے۔۔۔۔

“جی میم میں کوشش کروں گا۔۔۔”عادل نے نظریں جھکاتے ہوئے کہا۔۔۔

“اور میں جانتی ہوں تم ضرور کامیاب ہو گے۔۔۔۔بس اک کام کرنا عادل اللہ کو تلاش کرنا اور جس دن تم اللہ کو تلاش کر لو گے کوئی غم غم نہیں رہے گا۔۔۔۔مجھے انتظار رہے گا اس دن کا ۔۔”حورم نے پرامید لہجے میں کہا۔۔۔

“ان شاءاللہ میم۔۔۔۔کیا اب میں جاسکتا ہوں۔۔۔؟؟”اس نے اجازت طلب کی۔۔۔

“جی ضرور۔۔۔”حورم نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے اسے جانے کی اجازت دی۔۔۔۔اور وہ پرمیشن ملتے ہی گلاس ڈور کھولتا وہاں سے نکلتا چلا گیا۔۔۔اور حورم کی نظروں نے دور تک اس کا تعاقب کیا تھا۔۔۔۔وہ خوش تھی آج پہلی دفعہ عادل نے اس سے اتنی طویل بات کی تھی۔۔۔۔آج وہ عادل کے خود پر چڑھائے خول کو توڑ تو نہیں سکی لیکن چٹخا ضرور چکی تھی۔۔۔اور اسے یقین تھا وہ ایک دن عادل کو اس خول سے ضرور آزاد کروا لے گی۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *