Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tere Ishq Sy Meri Zaat Tak (Episode 10)

Tere Ishq Sy Meri Zaat Tak by Ayesha Mughal

ایشل یزدانی کو دیکھ کر عائشے نے فوراً اس کا پیچھا کیا عائشے کو اپنی جانب آتا دیکھ کر ایشل یزدانی ایک لمحے کی بھی تاخیر کیے بنا وہاں سے بھاگی۔۔۔

“رک جاؤ ایشل۔۔۔”عائشے نے اسے تیز آواز میں پکارا ۔۔۔ایشل اس کی آواز کو اگنور کر کے اور تیزی سےبھاگنے لگی ۔۔۔۔تب ہی وہ سامنے سے آتے کسی آدمی سے ٹکرائی ۔۔۔عائشے نے اسی لمحے موقع کا فائدہ اٹھا کر اسے بازو سے پکڑ کر زور سے کھینچا۔۔۔

“ہائیییی۔۔۔عائشے تم۔۔۔کیا ہوا تھا تمہارے ساتھ ۔۔۔۔؟اور کون تھے وہ لوگ۔۔۔؟”ایشل نے انجان بننے کی بھرپور ایکٹنگ کرتے ہوئے بظاہر فکرمند لہجے میں کہا۔۔۔

“تم نہیں جانتی کہ کون تھے وہ لوگ ۔۔۔۔لیکن میں اچھے سے جانتی ہوں تم ان لوگوں کے ساتھ ملی ہوئی تھی اور مجھے تم نے ہی اغوا کروایا تھا۔۔کیوں صحیح کہہ رہی ہوں نا میں۔۔۔؟؟”عائشے نےاس کے چہرے پر نظریں جماتے ہوئے سوال کیا۔۔۔

“م۔مم۔۔میں کیوں کرواؤں گی تمہیں اغوا ۔۔۔۔؟؟؟اور میں نہیں جانتی کون تھے وہ لوگ۔۔۔۔۔”ایشل ہکلاتےہوئے بولی۔۔۔۔

“چھوڑو مجھے۔۔۔۔”ایشل عائشے کی گرفت سے اپنا بازو چھڑوانے کی کوشش کرتی ہوئی چلائی ۔۔۔

“ضرور چھوڑ دوں گی پہلے مجھے یہ بتاؤ ۔۔تم نے مجھے اغوا کیوں کروایا تھا ؟؟۔۔اور یہ سب ناٹک مت کرو کیونکہ میں اس دن بےہوش ہونے سے پہلے تمہارا چہرہ دیکھ چکی تھی۔۔۔سمجھی تم۔۔۔اور اگر تم نے یہ سب نہیں کروایا تھا تو مجھے دیکھ کر ڈر کر بھاگی کیوں ۔۔۔بولو۔۔۔۔؟؟”عائشے نے اس کے بازو پر گرفت مضبوط کرتے ہوئے سوالیہ نظریں اس کے چہرے پر جماتے ہوئے کہا۔۔

اس وقت عائشے کی نظریں اس کے چہرے کا ہر تاثر نوٹ کر رہی تھیں۔۔۔۔

“م۔مم۔میں کہاں بھاگ رہی تھی۔۔۔۔؟مجھے لگا کوئی اور ہے۔۔۔۔”ایشل نے بودا سا بہانہ گھڑا جبکہ پوری پیشانی پسینے سے تر تھی اس وقت تو اس کے الفاظ بھی اس کا ساتھ نہیں دے رہے تھے شاید وہ خود سمجھ نہیں پارہی تھی کہ وہ کہہ کیا رہی ہے ۔۔۔۔

“لگتا ہے تم ایسے نہیں مانو گی۔۔۔”اتنا کہہ کر عائشے نے ایک زوردار تھپڑ اسکے منہ پر مارا۔۔۔۔

“شرم نہیں آتی نا تمہیں ۔۔۔کس قسم کی گھٹیا لڑکی ہو۔۔۔؟؟خود ایک لڑکی ہوتے ہوئے بھی ناجانے کتنی معصوم لڑکیوں کو اپنے جال میں پھنسا چکی ہو۔۔۔۔؟؟؟مجھے تو یہ سوچ کر ہی گھن آتی ہیں کہ زندگی میں ایک دوست بنائی وہ بھی تم جیسی گری ہوئی بدکردار لڑکی ۔۔۔۔”عائشے نے اسے آئینہ دکھاتے ہوئے کہا جو کھا جانے والی نظروں سے اسے ہی گھور رہی تھی ۔۔۔۔

“تم نے مجھے تھپڑ مارا ۔۔ایشل یزدانی کو۔۔۔اس کا بدلہ تو تمہیں چکانا ہی پڑے ۔ ۔۔۔۔۔”ایشل نے گال پر ہاتھ رکھے اسے وارننگ دیتی نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔

“یہ تو کچھ بھی نہیں ہے ایشل ۔۔۔۔تم تو اس سے بھی بری سزا ڈزرو کرتی ہو ۔۔۔”عائشے نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا۔۔ناجانے آج اس میں اتنی ہمت کہاں سے آگئی تھی شاید جب لڑکی کے کردار پر بات آتی ہے تو ہر لڑکی شیرنی بن جاتی ہے ۔۔۔۔اس کا بازو اب بھی عائشے کی گرفت میں تھا ۔۔۔۔

“عائشے بہت غلط جگہ پنگا لے رہی ہو ۔۔۔۔اور تم جو اتنی دیر سے کھڑی مجھے کریکٹرلیس کہہ رہی ہو تو خود کونسا نیک پروین ہو بھولو مت کہ تم جس کیچڑ سے نکل کر آئی ہو وہ ایک ایسی جگہ سے جہاں اگر ایک دفعہ کوئی لڑکی چلی جائے تو یہ معاشرہ کبھی اسے قبول نہیں کرتا۔۔۔۔ہاہاہاہا ۔۔۔”ایشل یزدانی نے زوردار قہقہہ لگایا ۔۔۔۔

اور تب ہی ایشل کی نظر سامنے سے آتے ھیشم خان پر پڑی۔۔۔جس نے ابھی تک اسے نہیں دیکھا تھا۔اس کی نظریں تو اردگرد عائشے کو ڈھونڈنے میں مصروف تھیں۔۔۔۔۔عائشے کی بھی اسکی جانب پیٹھ تھی وہ بھی ھیشم خان کو نہیں دیکھ پائی ۔۔۔

وہ جو اتنی دیر سے مضبوط بنی کھڑی تھی ایشل کی باتوں سے لمحے میں کمزور پڑی تھی اور ایشل اسی لمحے کا فائدہ اٹھاتی اس کی ڈھیلی پڑی گرفت سے اپنا بازو چھڑوا کر بھاگی۔۔۔۔کیونکہ زلیخا بائی سے وہ جان چکی تھی کہ ھیشم خان نے اسے خریدا ہے اور ھیشم جیسی معروف شخصیت کو کون نہیں جانتا تھا اور پھر عائشے اور ھیشم کی شادی کی خبر بھی اسے مل چکی تھی اس لئے اسے دیکھتے ہی وہ لمحے کی بھی دیر کئے بنا وہاں سے فرار ہوئی ۔۔۔۔اسے پتا تھا کہ اگر وہ ایک دفعہ ھیشم خان کی پکڑ میں آ گئی تو وہ اس کا کیا حال کر سکتا ہے ۔۔۔۔

ادھر ادھر دیکھتے ہوئے جب ھیشم خان نے سامنے دیکھا تو بھاگتا ہوا وہ عائشے کے پاس پہنچا تھا اسے دیکھتے ہی اس کی جان مینں جان آئی تھی۔۔۔اس کے پاس پہنچتے ہی ھیشم نے زور سے اسے اپنے سینے میں بھینچا۔۔۔۔کچھ ہی دیر میں جب اسے یہ تسلی ہوئی کہ عائشے اس کے پاس ہی ہے تو وہ ہوش میں لوٹا اور جگہ کا اندازہ ہوا کہ وہ اس وقت کہاں ہیں ۔۔؟؟؟۔اور عائشے تو اب بھی ایشل کی باتوں کے زیر اثر تھی ۔۔۔۔

“کیا ہوا عائشے۔۔۔؟؟آپ بھاگی کیوں وہاں سے ۔۔۔؟؟جانتی ہیں میں کتنا پریشان ہو گیا تھا۔۔۔؟؟؟سانس بند ہو رہا تھا ہمارا یہ سوچ کر بھی کہ کہیں ہم آپکو کھو نہ دیں۔۔۔۔”ھیشم نے اس کے چہرے کو ہاتھوں میں لیتے ہوئے شدت جذبات سے کہا۔۔۔۔جبکہ چہرے پر ایک خوف سا تھا ۔۔عائشے تو گم صم سی اسے دیکھ رہی تھی کتنا اعلیٰ ظرف تھا اس انسان کا ۔۔۔اور کیسے وہ اس کےلیے فکرمند تھا۔۔۔اسے تو اس کے اپنوں نے چھوڑ دیا تھا اور یہ انسان اس پر دل و جان سے فدا تھا۔۔۔۔لیکن کیوں۔۔۔؟؟عائشے نے خود سے سوال کیا۔۔۔

“عائشے ۔۔کیا ہو گیا ۔۔کہاں گم ہیں ۔۔۔ادھر دیکھئیے ہماری طرف ۔۔اور بتائیے کیا کسی کو دیکھا تھا آپ نے۔۔۔ ۔یا کسی نے کچھ کہا ہے آپ سے۔۔؟؟”ھیشم نے اس کا چہرہ تھوڑی سے پکڑ کر اوپر کرتے ہوئے کہا ۔۔۔۔اور تب ہی عائشے ہوش کی دنیا میں آئی تھی۔۔۔۔

“کیا ہم گھر چلیں ۔۔۔؟؟”عائشے نے نظریں جھکاتے ہوئے کہا اور ھیشم جانتا تھا وہ ابھی اسے کچھ نہیں بتائے گی۔۔۔اس لئے موقع کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے وہ اسے کندھوں سے تھامے ساتھ لیے مال کے بیرونی دروازے کی جانب بڑھ گیا ۔۔۔ اور انہیں آتے دیکھ کر سب گارڈز الرٹ ہوئے ۔۔۔ھیشم نے عائشے کو خود گاڑی میں بٹھایا اور ڈرائیور سے چابی لے کر ڈرائیو کرتا گاڑی گاؤں کی سڑکوں کی طرف مڑ دیں اب یہ ساری گاڑیاں ایک دوسرے کے پیچھے بھاگتیں گاؤں کی جانب بڑھ رہیں تھیں۔۔۔۔۔

🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹

یہ تو اس نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔۔۔کبھی تصور تک نہیں کیا تھا کہ وہ اس طرح کبھی بے بس ہو جائے گی۔۔۔وہ ہمیشہ اپنی دوستوں کو مضبوط بننے کا سبق دیا کرتی تھی اسے بے بسی سے سخت نفرت تھی اور آج خود ہی بے بس بنی بیٹھی تھی ۔۔۔اسے آج خود سے نفرت ہو رہی تھی اپنے آپ سے وحشت ہونے لگی تھی۔۔۔وہ رو رہی تھی لیکن گھٹ گھٹ کر۔۔۔جب اس کی وحشت حد سے بڑھنے لگی وہ سامنے نظر آتے آئینے کے سامنے جا کھڑی ہوئی اور اپنے ہے ہی عکس کو کافی دیر تک دیکھتی رہی ایسا لگتا تھا جیسے خود کو کھوج رہی ہو سامنے آتا عکس تو اسے اپنا لگ ہی نہیں رہا تھا ۔۔۔

“نہیں یہ میں نہیں ہوں ۔۔۔یہ رباب ملک کیسے ہو سکتی ہے ۔۔؟؟اسے تو بے بسی سے نفرت تھی نا تو سامنے نظر آتا بے بسی کی عملی تفسیر بنا وہ عکس اس کا کیسے ہو سکتا ہے ۔۔۔؟؟”اسکی پیشانی پر بہت سے بل نمودار ہوئے وہ آئینے کے سامنے کھڑی خود سے ہی مخاطب ہوئی ۔۔۔۔

“ہاہاہاہا۔۔۔۔رباب ملک تم تو دوسروں کو بے بسی پر لیکچر دیتی پھرتی تھی ۔۔۔آج کیا ہوا۔۔۔؟؟”اسے لگا سامنے نظر آتا عکس اس کا مذاق اڑا رہا ہے ۔۔۔دل میں آتش فشاں ابل رہا تھا اسے لگتا تھا اس کا دل پھٹ جائے گا۔۔۔۔

“یہ آنسو تمہاری اپنی غلطی ہے رباب ملک ۔۔۔۔تمہیں کس نے کہا تھا حازم سے محبت کرو ۔۔کیوں نہیں روک پائی خود کو ۔۔۔بولو خاموش کیوں ہو اب۔۔۔؟؟؟”رباب کے لب بلکل خاموش تھے لیکن اس کا دل خون کے آنسو رو رہا تھا اسی کا ہی عکس اسکو لعن طعن کر رہا تھا ۔۔۔۔

“کوئی جواب نہیں ہے نا تمہارے پاس ۔۔۔جاؤ بتادو اپنے باپ کو تم حازم سے محبت کرتی ہو اور اسی کے ساتھ زندگی گزارنا چاہتی ہو۔۔۔جاؤ رباب۔۔۔۔”اسکے دماغ نے اسے تنبیہ کی دل میں ایک امید جاگی۔۔لیکن اگلے ہی لمحے باپ کا چہرہ نظروں میں گھوما۔۔۔

“میں جانتی ہوں وہ کبھی نہیں مانیں گے۔۔۔وہ مجھے اور حازم کو زندہ تو گاڑھ دیں گے لیکن حازم سے میرا نکاح کبھی نہیں کروائیں گے۔۔۔اور میں اپنی وجہ سے حازم کو کچھ نہیں ہونے دے سکتی ۔۔۔”آج وہ جیسے حازم کی محبت کو ٹھکرا کر آئی تھی یہ وہی جانتی تھی۔۔اور گھر آتے ہی وہ کمرے میں بند ہو گئی اور زاروقطار رونے لگی ۔۔۔۔

ابھی وہ خود کو سمجھا ہی رہی تھی کہ اسے ہاجرہ بیگم کی آواز سنائی دی ۔۔۔۔

وہ جلدی سے خود پر قابو پاتے منہ پر پانی کے چھینٹے مارتی کمرے سے باہر نکل آئی ۔۔۔

“جی اماں۔۔۔”ہاجرہ بیگم کو جواب دیتی وہ وہیں ان کے پاس بیٹھ گئی نظریں اٹھانے کی غلطی نہیں کی اس نے۔۔۔۔

“بیٹا۔۔میری بات دھیان سے سنو۔۔۔تمہارے باپ نے ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑا۔۔۔دوسروں کی زندگیوں کو عذاب بنانے کے سوا اس انسان نے آج تک کچھ نہیں کیا۔۔۔اور اب اپنی ہی بیٹی کو اپنے جیسے انسان کے ساتھ باندھ دیا ۔۔۔”ہاجرہ بیگم اس کی جانب دیکھ کر بولیں ۔۔۔

“اماں۔۔۔۔اب ہم کیا کر سکتے ہیں ۔۔ابا کے فیصلے کو کون بدل سکتا ہے ۔۔۔”رباب نے ان کے ہاتھ پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔۔۔

“میں چاہتی تھی میری بیٹی میری جیسی زندگی نہ گزارے۔۔لیکن آج میں کچھ نہیں کر پارہی بیٹا تیرے لئے ۔۔”ہاجرہ بیگم کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے ۔۔

“میں جانتی ہوں اماں ۔۔آپ بے بس ہیں مجبور ہیں ابا کے سامنے ۔۔ناجانے اماں سارے دکھ درد ہماری جھولی میں ہی کیوں آگئے ۔۔۔؟؟”رباب نے تاسف سے ہاجرہ بیگم کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔

“نہیں بیٹا ۔۔۔میں تیرے باپ کو کبھی ایسا نہیں کرنے دوں گی۔۔میں اپنی بیٹی کو کبھی اس گھٹیا انسان کے حوالے نہیں کروں گی۔۔۔”ہاجرہ بیگم نے اس کی پیشانی چومتے ہوئے کہا۔۔۔جبکہ وہ بس ہولے سے مسکرا دی ۔۔۔وہ جانتی تھی وحید ملک ایک دفعہ جو ٹھان لیں وہ کر کے ہی دم لیتے ہیں ۔۔۔۔اور شاید اب وہ بھی دوسری عورتوں کی طرح سمجھوتہ کر چکی تھی ۔۔۔۔

🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹

زریاب خان کی حویلی میں سردمہری عروج پر تھی ۔۔۔سب اپنے اپنے کاموں میں مصروف تھے کسی کو کسی سے کوئی سروکار نہیں تھا۔۔۔اماں بیگم سارا سارا دن کمرے میں رہتی تھیں بہت کم ہی باہر نکلتی تھیں کھانا ان کو ملازمہ کمرے میں ہی دے آتی۔۔۔عادل خان ذیادہ تر گھر سے باہر ہی رہتا تھا کم ہی کسی کو بلاتا تھا۔۔۔۔جبکہ نسرین بیگم کے اپنے سو بکھیڑے تھے جنہیں نپٹاتے ان کا سارا دن باآسانی گزر جاتا تھا۔۔۔۔زریاب خان اپنی سیاست میں مصروف تھے ۔۔۔۔منہل (زریاب خان کی چھوٹی بیٹی ) وہ ذیادہ تر شہر اپنی پھپھو کے گھر ہی رہتی تھی اس کا نکاح چھوٹی عمر میں ہی پھپھو زاد سے کر دیا گیا تھا اور بچپن سے ہی وہ اپنی پھپھو کے بہت قریب تھی ۔۔۔۔زویا(زریاب خان کی بڑی بیٹی)جسکا ذیادہ ٹائم گھر سے باہر ہی گزرتا تھا۔۔۔ان دنوں اس حویلی میں سب اپنے ہوتے ہوئے بھی ایک دوسرے کے لیے اجنبی تھے ۔۔۔۔سب اپنی اپنی زندگی میں گم یہ سفر طے کر رہے تھے۔۔۔۔اور زندگی کے اس سفر میں ایک بڑا طوفان اس حویلی کے مکینوں کے لیے تیار کھڑا تھا بہت جلد اس حویلی کے مکین اس طوفان کی لپیٹ میں آنے والے تھے جو ان کو دہلا کر رکھ دینے والا تھا۔۔

🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹

کھانا کھانے کے بعد وہ تینوں آئسکریم کھانے آئسکریم پارلر چل پڑے۔۔۔۔

“کونسا فلیور کھاؤ گی رحاب۔۔؟؟”ذیان نے روحی سے پوچھا۔۔۔۔

“میں چاکلیٹ ۔۔ونیلا۔۔۔پستہ۔۔سب کھاؤنگی ۔۔۔۔”روحی نے انگلی پر گنتے ہوئے فلیورز کے نام بتائے ۔۔۔۔

روحی بن بھی آتی ہمیشہ ملٹی فلیورز مکس کروا کر اسپیشل آئسکریم بنوا کر کھاتی تھی اور حازم ہمیشہ اس بات سے چڑتا تھا۔۔۔۔”میں ونیلا فلیور کھاؤں گا ۔۔۔”اس سے پہلے ذیان حازم سے پوچھتا حازم جھٹ سے پہلے ہی بول پڑا۔۔۔۔

“اچھا ایک کام کرو تم لوگ بیٹھو میں ابھی آرڈر دے کر آتا ہوں ۔۔۔۔”ذیان انہیں بیٹھنے کا کہہ کر خود کاؤنٹر کی جانب بڑھ گیا۔۔۔۔۔تب ہی ایک ٹیبل کے پاس سے گزرتے ہوئے اس کی نظر وہاں بیٹھی اس لڑکی پر گئی۔۔۔نازیبا کپڑوں میں ملبوس چہرے پر ڈارک میک اپ کئے وہ لڑکی اسے عورت کے نام پر دھبہ لگی۔۔۔پھر اسکی نظر اسکے ہاتھ میں پکڑے سگریٹ پر گئی تھی۔۔۔یہ دیھ کر ذیان کو حیرت کا شدید جھٹکا لگا۔۔۔۔اور اس کے پاس رکھی چیئر پر بیٹھا لڑکا جو اسے نہایت ہی غلیظ نظروں سے دیکھ رہا تھا ذیان کا دل کیا وہ اس لڑکے کی آنکھیں ہی نوچ لے کتنی گندگی تھی یہ بات اسے اندر تک سلگا گئی۔۔۔۔اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے اس لڑکی نے سگریٹ کا دھواں منہ سے نکالتے سگریٹ زمین پر پھینکتے اس اپنے جوگرز سے مسلا۔۔۔۔۔شاید نظروں کی تپش تھی کہ اس لڑکی نے نظر اٹھا کر آس پاس دیکھا تو اس کی نظر ساکت کھڑے ذیان پر پڑی جو کسی بت کی مانند کھڑا اس ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔۔یہ دیکھ کر لڑکی غصے سے اٹھ کر اس کے پاس آئی۔۔۔۔اور اسکی آنکھوں کے سامنے چٹکی بجائی۔۔۔۔

“او ہیلو مسٹر۔۔۔ایسے کیا دیکھ رہے ہو کبھی لڑکی نہیں دیکھی کیا۔۔۔۔؟؟؟”اس کے چٹکی بجانے پر ذیان ہوش میں آیا۔۔۔

“لڑکیاں تو بہت دیکھی ہیں مس پر تم جیسی نہیں دیکھی۔۔۔۔”ذیان نے اس جواب دے کر منہ پھیر لیا جبکہ چہرے پر بےزاری واضح تھی ۔۔۔

“کیا مطلب ہے تمہارا میری جیسی سے۔۔۔۔”اس لڑکی کو ذیان کا اس طرح منہ پھیرنا گراں گزرا۔۔۔۔اس لڑکی نے غصے سے ذیان کا گریبان پکڑتے ہوئے کہا۔۔۔

“او مس ۔۔۔۔میرا مطلب تم اچھے سے جانتی ہو۔۔۔اور یہ غلطی دوبارہ مت کرنا ۔۔۔ورنہ اچھا نہیں ہو گا۔۔۔۔”ذیان نے اپنے گریبان پر موجود اس کے ہاتھوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا اور زور سے اس کے ہاتھوں کو جھٹکا ۔۔۔۔

“اچھا تو اب تمہارے ساتھ نہیں ہو گا اب دیکھنا میں کرتی کیا ہوں تمہارے ساتھ شاید جانتے نہیں ہو تم مجھے ۔۔۔”اس لڑکی نے چلاتے ہوئے بدتمیزی سے کہا۔۔۔وہ جو کہیں سے گزرتی تو لڑکے آنکھیں جھپکنا تک بھول جاتے تھے اور یہ لڑکا یوں اسے کھلے عام ذلیل کر رہا تھا۔۔۔یہ بات اس لڑکی کو طیش دلا گئی ۔۔۔

“تمہیں کون نہیں جانتا ہوگا۔۔۔تمہارا لباس تمہاری عکاسی کرتا ہے اور سونے پہ سہاگہ تمہاری یہ گھٹیا لینگویج جو سب کو چیخ چیخ کر بتاتی ہے کہ تم ایک نہایت ہی بدتمیز ۔۔۔کریکٹر لیس اور گری ہوئی لڑکی ہو جسے خود کی تو عزت کا پتا نہیں اور اپنے ماں باپ کو بھی بدنام کرتی پھر رہی ہو ہر جگہ۔۔۔”ذیان نے اسے آئینہ دکھایا۔۔۔

“او مسٹر تمہیں کوئی حق نہیں کہ تم مجھے جج کرو ۔۔۔۔اور کریکٹر لیس کسے کہا تم نے ۔۔۔؟؟”اس لڑکی نے بدتمیزی کی ساری حدیں پار کرتے ہوئے کہا۔۔

“تمہیں۔۔”اتنا کہہ کر ذیان جانے کے لئے پلٹ گیا ۔۔

“او مسٹر لسن ۔۔۔۔”اس لڑکی نے چلا کر اسے مخاطب کرنا چاہا لیکن وہ اگنور کئیے آگے بڑھتا چلا گیا۔۔۔اور یہی بات اسے تپا گئی ۔۔۔

“کام ڈاؤن ۔۔۔بےبی۔۔۔اتنا غصہ ٹھیک نہیں ۔۔آؤ چلو چلیں ہم۔۔۔۔”ساتھ کھڑے لڑکے نے اس کی کمر کے گرد بازو رکھتے ہوئے کہا ۔۔۔

“میں اس لڑکے کو چھوڑوں گی نہیں ۔۔۔جینا حرام کردوں گی اسکا ۔۔۔عزت کی بات کرتا ہے نا ایسا بے عزت کروں گی نا اس کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے گا کسی کو۔۔۔”وہ لڑکی غصے میں اول فول بولتی اس لڑکے کے۔ساتھ چلی گئی ۔۔۔

ذیان جیسے ہی پلٹا آس پاس میں موجود لوگ جو یہ سب تماشہ دیکھ رہے تھے ان میں اسے حازم اور روحی بھی کھڑے نظر آئے ذیان کو اس بھیڑ سے نکلتے دیکھ کر حازم اور رحاب فوراً اس کی جانب بڑھے۔۔۔

“پاگل ہو گیا تھا کیا ذیان ۔۔۔تجھے کیا ضرورت تھی اس سے پنگا لینے کی۔۔۔؟؟”حازم نے اس کے پاس پہنچ کر جھٹ سے سوال کیا۔۔۔

“پنگا میں نے نہیں اس نے لیا تھا۔۔۔”ذیان نے تپ کر کہا۔۔

“تجھے کیا ضرورت تھی اسے اتنا کچھ کہنے کی ۔۔۔وہ کچھ بھی پہنے کچھ بھی کرے یہ تیرا ہیڈک نہیں تھا یار۔۔۔”حازم نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے اسے ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی جبکہ ذیان بھی خود کو کافی حد تک نارمل کر چکا تھا وہ کسی غیر لڑکی کے لئے اپنے ساتھ ساتھ ان دونوں کا موڈ خراب نہیں کرنا چاہتا تھا ۔۔۔

“چھوڑ حازم۔۔۔شاید ہمیں اب جلدی سے آئسکریم کھا کر گھر چلنا چاہیے کافی دیر ہو گئی ہے بھابھی اور بھائی آتے ہی ہونگے ۔۔۔۔”ذیان نے بات بدلتے ہوئے کہا ۔۔

“ہاں ہاں چلو۔۔۔”رحاب نے جلدی سے کہا۔۔۔۔اب ذیان نارمل ہو چکا تھا سو تینوں نے جلدی جلدی آئسکریم کھائی اور گھر کی جانب چل پڑے ۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *