Tere Ishq Sy Meri Zaat Tak by Ayesha Mughal NovelR50552 Tere Ishq Sy Meri Zaat Tak (Episode 18)
Rate this Novel
Tere Ishq Sy Meri Zaat Tak (Episode 18)
Tere Ishq Sy Meri Zaat Tak by Ayesha Mughal
“تو یہ ٹھیک نہیں کر رہا ذیان۔۔۔”دانیال نے مایوس لہجے میں کہا۔۔۔ وہ کافی دیر سے اسے سمجھانے کی کوشش کر رہا تھا لیکن ذیان پر ذرہ برابر بھی اس کی باتوں کااثر نہیں ہو رہاتھا۔۔۔۔
“میں بلکل ٹھیک کر رہا ہوں دانیال۔۔۔۔”جواب ہٹ دھرمی سے دیا گیا۔۔۔۔
“کیا ٹھیک ہے اس میں۔۔؟؟تو ایک لڑکی کی زندگی تباہ کر رہا ہے۔۔مانا اس نے تیرے ساتھ جو کچھ کیا وہ ٹھیک نہیں تھا۔۔لیکن اس طرح بدلہ لینا بھی ذیادتی کے زمرےمیں آتا ہے۔۔۔۔”دانیال نے سخت لہجے میں اسفسار کیا۔۔۔
“کیا غلط ہے ۔۔؟؟وہ لڑکی اس نے میری زندگی کو تباہ کر کے رکھ دیا۔۔۔میرے کردار کو سوالیہ نشان بن کر رکھ دیا۔۔۔آج میرا بھائی مجھ پر یقین نہیں کر رہا ۔۔یونی سے مجھے نکال دیا گیا۔۔۔۔۔اور تو کہہ رہا ہے یہ ذیادتی ہے۔۔۔؟؟”ذیان نے غصے سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے سوال کیا۔۔۔
“تو اتنا سخت دل کیسے ہو سکتا ہے۔۔۔؟؟یار وہ لڑکی کہاں جائے گی۔۔۔؟؟اگر تو نے یہی سب ہی کرنا ہے اس کے ساتھ تو شادی ہی مت کر اس سے۔۔۔چھوڑ دے اسے اسکے حال پر۔۔۔۔”دانیال نے خفگی سے کہا۔۔۔
“تجھے بڑا رحم آرہا ہے اس پر۔۔۔؟؟”ذیان نے تڑخ کر کہا۔۔اسکی بات سن کر دانیال کو شاکڈ لگا تھا۔۔۔۔
“مجھے رحم نہیں آرہا اس پر۔۔۔بلکہ افسوس ہو رہا ہے تجھ پر تیری سوچ پر۔۔۔تو ایسا کیسے کر سکتا ہے یار۔۔۔۔؟؟یہ کیسا بدلہ ہے کہ تو ایک لڑکی کی زندگی تباہ کر کے رکھ دے۔۔۔۔یہ ظلم ہوگا اس کے ساتھ۔۔۔۔”دانیال نے تاسف سے کہا۔۔۔
“میری سوچ پر ترس کھانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے تجھے۔۔۔میں غلط لگ رہا ہوں نا تجھے جا چلا جا یہاں سے مت دے میرا ساتھ۔۔۔”ذیان نے اپنی شیروانی کے بٹن بند کرتے ہوئے شیشے کے سامنے کھڑے ہوتے ہوئےنخوت سے کہا۔۔۔
“ایک بات یاد رکھنا ذیان یہ جس بدلے کی آگ میں جل کر تو یہ سب کر رہا ہے نا یہ آگ تجھے بھی جلا کر رکھ دے گی۔۔۔ہمیشہ برائی کا بدلہ برائی سے نہیں دیا جاتا۔۔۔”دانیال کے لہجے میں مایوسی واضح تھی۔۔۔
“تو میرا دوست ہے یا دشمن۔۔۔؟؟”ذیان نے خود پرفیوم کی بوچھاڑ کرتے ہوئے مڑ کر سوال کیا۔۔۔
“میں تیرا دوست ہوں تبھی تجھے سمجھا رہاہوں۔۔۔چاہتا ہوں کہ تو اس گناہ سے بچ جائے ۔۔۔ٹھیک ہے تو بدلہ لینا چاہتا ہے نا تو برابر کا بدلہ لے ۔۔تو یہ جو کرنے جا رہا ہے یہ سراسر ذیادتی ہے ۔۔اور تجھے اس کاجواب آخرت میں دینا پڑے گا۔۔۔۔”لہجے میں تھکن واضح تھی وہ تھک چکا تھا اسے سمجھا سمجھا کر اب اس کی ہمت جواب دینے لگی تھی۔۔۔
“اب ہمیں چلنا چاہئیے ۔۔۔انکل انٹی انتظار کر رہے ہونگے۔۔۔ہہلے ہی کافی لیٹ ہو چکا ہے۔۔۔”ذیان اپنی تیاری پر طائرانہ نظر ڈال کر اس کی بات کو اگنور کرتے دروازے کی جانب بڑھتے ہوئے بولا۔۔۔۔
“ٹھیک ہے جب تونے فیصلہ کر ہی لیا ہے تو کر جو کرنا ہے۔۔لیکن یاد رکھنا مکافات عمل بھی ایک چیز ہے۔۔۔”دانیال نے آخری کوشش کی تھی۔۔۔
“کیا مطلب ہے تیرا۔۔۔۔؟؟”ذیان غصے سے واپس پلٹا تھا۔۔۔
“کچھ نہیں چل واقعی کافی دیر ہو چکی ہے۔۔۔۔”دانیال اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتا اسے ساتھ لیئے کمرے سے نکلتا چلا گیا۔۔۔جبکہ ذیان جو کچھ بولنے ہی والا تھا اس کے بات کو یوں ٹالنے پر تپ کر رہ گیا۔۔۔۔اور ناراض نظر دانیال پر ڈالتا خاموشی سے اس کے ساتھ چل دیا۔۔۔۔












زریاب خان کی حویلی میں اس وقت کافی گہما گہمی تھی ہر کوئی یہاں سے وہاں دوڑتا ہوا نظر آرہا تھا۔۔۔حویلی کے ہال میں ہی سب انتظامات کئے گئے تھے۔۔۔مہمانوں کے نام پر چند ایک لوگ ہی مدعو کئے گئے تھے۔۔۔۔۔زریاب خان نوکروں کے سر پر کھڑے اپنی مرضی کے عین مطابق کام کر وا رہے تھے جب ایک ملازم نے آکر بارات کے آنے کی خبر دی تھی۔۔۔بارات کے نام پر بس مسٹر اینڈ مسز لغاری۔۔۔دانیال اور اسکی بہن حورم ہی شامل تھے۔۔۔بارات کا استقبال بہت ہی اچھے طریقے سے کیا گیا تھا۔۔۔دانیال ذیان کے ساتھ ہی اسٹیج کی جانب بڑھ گیا جبکہ مسٹر اینڈ مسز لغاری اور حورم بارات کے لئے مختص کئے گئے صوفوں پر براجمان تھے۔۔۔۔ہال کو اصلی پھولوں کی مدد سے بہت ہی خوبصورتی سے سجایا گیا تھا۔۔۔زریاب خان اور نسرین بیگم بہت اچھے سے مسٹر اینڈ مسٹر لغاری سے ملے تھے۔۔۔۔کچھ ہی دیر میں مولوی صاحب نے نکاح پڑھایاتھا۔۔۔نکاح کے بعد سب نے ایک دوسرے کو مبارکباد تھی ۔۔۔۔نکاح کے بعد ذیان دانیال سے باتوں میں مصروف تھا جب اس کی نظر سامنے سے آتی سہج سہج کر چلتی زویا پر پڑی تھی۔۔لمحے کے لئے تو وہ اس کی ذات میں ہی گم ہو چکا تھا لیکن اپنا انتقام یاد آتے ہی نظروں کا زاویہ بدلا تھا۔۔۔۔ذیان اسٹیج کے پاس کھڑی زویا کو آگے بڑھ کر ہاتھ تھام کر آگے بڑھنے میں مدد دی تھی اور اس کا ہاتھ تھامتا دھیرے دھیرے چلتا اپنے پہلو میں بٹھاتا خود بھی اس کے برابر بیٹھ گیا۔۔۔۔اس وقت وہ دونوں ایک مکمل کپل لگ رہے تھے۔۔۔ان کی جوڑی بہت ہی خوبصورت لگ رہی تھی۔۔۔ذیان کے لبوں پر مسکان مسلسل رقص کر رہی تھی۔۔۔۔۔اور اس وقت گھبرائی سی شرمائی سی زویا کو دیکھ کر کون کہہ سکتا تھا کہ یہ وہی پر اعتماد ۔۔۔بدتمیز لڑکی ہے۔۔۔وہ سرخ رنگ کے عروسی لباس میں موجود مہارت سے کئے گئے میک اپ میں بہت حسین لگ رہی تھی۔۔۔۔۔تمام رسوم و رواج کے بعد یہ فنکشن اختتام کو پہنچا تھااور زویا ذیان کے سنگ رخصت ہو گئی۔۔۔کون جانتا تھا کہ اب زویا کے ساتھ کیا ہونے والا تھا۔۔۔۔؟؟












وہ جیسے ہی بیڈ سے کھڑی ایک دم اس کا سر گھوما تھا اور آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا۔۔۔ آئینے کے سامنے کھڑا بال بناتا ہیشم آئینے میں سے اسے دیکھ چکا تھا اس سے پہلے کہ وہ زمین بوس ہوتی ہیشم نے جلدی سے آگے بڑھ کر اسے تھاما تھا۔۔۔۔
“عاشے کیا ہوگیا آپکو ۔۔آنکھیں کھولیں۔۔۔۔”ھیشم نے فکرمندی سے اس کا گال تھپتھپاتے ہوئے کہا۔۔۔لیکن عائشے ہوش میں ہوتی تو جواب دیتی ۔۔۔ھیشم خان نے جلدی سے اسے اپنے بازوؤں میں اٹھا کر بیڈ پر لٹایا تھا۔۔۔۔اور فورا ڈاکٹر کو کال تھی۔۔۔۔اور پاس پڑے جگ سے پانی ہتھیلی میں لے کر اس کے چہرے پر چھینٹے مارے تھے۔۔پانی چہرے پر لگنے کی وجہ سے عائشے کی آنکھوں میں جنبش پیدا ہوئی ۔۔۔۔ اس نے آہستہ آہستہ اپنی آنکھیں کھولیں تھیں جب ھیشم کو خود پر جھکا پایا۔۔۔۔اسے آنکھیں کھولتے دیکھ کر ھیشم کی جان میں جان آئی تھی۔۔۔
“شکر ہے عائشے آپ نے آنکھیں کھول لیں ورنہ ہم بہت ڈر گئے تھے۔آپ جانتی ہیں نا ہم آپ کو کبھی کھونے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے۔۔۔۔۔”ھیشم نے اس کا ہاتھ تھام کر مشکور لہجے میں کہا۔۔۔اور عائشے تو بس اس کی محبت پر نازاں تھی وہ جتنا رب کا شکر ادا کرتی کم تھا۔۔۔بھلے اس نے پوری زندگی محبت کے لئے ترستے ہوئے گزاری تھی لیکن ھیشم خان کی محبت نے اس ساری کمی کو پورا کر دیا تھا۔۔۔
ھیشم نے جلدی سے پانی کا گلاس اس کے لبو ں کو لگایا تھا اور وہ بھی پورا پانی ایک ہی دفعہ میں پی چکی تھی ۔۔۔اتنے میں ہی ڈاکٹر آچکی تھی اور جو خوشخبری ڈاکٹر نے اسے سنائی تھی ھیشم کو اپنا آپ آسمان میں اڑتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔۔۔ھیشم خان باپ جیسے عظیم مرتبے پر فائز ہونے جا رہا تھا یہ جان کر ھیشم کو ایسا لگ رہا تھا جیسے پوری دنیا میں اک وہ ہی ایک ایسا انسان ہے جسے یہ خوشی نصیب ہو رہی ہے۔۔۔۔۔وہ پھولے نہیں سما رہا تھا وہ خوشی سے عائشے کی جانب بڑھا تھا۔۔۔ابھی اس نے اس کا ہاتھ تھاما ہی تھا جب ڈاکٹر کے ہونے کا احساس ہوتے ہی اپنی حرکت پر نادم ہوا تھا۔۔۔ڈاکٹر اس کی طرف دیکھ کر مسکرا رہی تھی اور پھر میڈیسن لکھ کر دیتی خیال رکھنے کی تاکید کرتی کمرے سے نکلتی چلی گئی۔۔۔اور اس کے جاتے ہی ھیشم نے عائشے کو بازوؤں میں بھر کر خوشی سے گول گھمایا تھا۔۔۔۔۔۔
“تھینک یو ۔۔۔تھینک یو ۔۔۔تھینک یو سو مچ عائشے آج ہم بہت خوش ہیں ۔۔۔۔”ھیشم نے خوشی سے جھومتے ہوئے کہا۔۔۔
“حد ہو گئی ھیشم یہ کیا کر رہے ہیں آپ ۔۔۔۔؟؟نیچے اتاریں ہمیں۔۔۔۔”عائشے نے خفت سے سرخ ہوتے چہرے کو جھکاتے ہوئے کہا۔۔۔۔
“نہیں آج ہم آپکو بتا نہیں سکتے کہ کتنے خوش ہیں۔۔۔آج اگر آپ ہم سے کچھ بھی مانگ لیں ہم آپکو دیں گے۔۔۔ہمیں سمجھ نہیں آرہا ہم کیسے آپکا شکریہ ادا کریں۔۔۔۔”ھیشم خوشی سے پاگل ہو رہا تھا اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کیسا ری ایکٹ کرے۔۔۔۔
“جو میں آپ سے مانگوں گی آپ وہ مجھے دیں گے۔۔۔؟؟”عائشے نے معنی خیزی سے پوچھا۔۔۔
“جی ضرور دیں گے۔۔۔بس جان مت مانگیئے گا۔۔کیونکہ ہماری جان تو عائشے میں بستی ہے۔۔۔۔”ھیشم نے شوخ لہجے میں کہا۔۔۔۔
“ایشل کو چھوڑ دیجیے۔۔۔۔”عائشے نے سنجیدگی سے کہتے اس کے چہرے کے تاثر جانچے تھے۔۔۔۔اس کی بات پر ھیشم اچانک شاکڈ ہوا تھا اس نے عائشے کو جھٹکے سے نیچے اتارا تھا۔۔۔۔وہ اچنبھے سے عائشے کی جانب دیکھ رہا تھا۔۔۔عائشے اس کی آنکھوں میں موجود سوال کو پڑھ چکی تھی۔۔۔وہ جان گئی تھی کہ ھیشم کیا جاننا چاہتا ہے۔۔۔۔
“آپ یہی سوچ رہے ہیں نا کہ مجھے کیسے پتا چلا۔۔۔؟؟”عائشے نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔۔ھیشم نے پرسوچ انداز میں اثبات میں سر ہلایا تھا۔۔۔۔
“وہ جس دن آپ کو کسی کی کال آئی تھی اس دن آپ جلدی میں تھے اس لئے اپنا والٹ یہیں بھول گئے تھے مجھے لگا آپ کو ضرورت ہوگی لیکن جب میں آپ کے پیچھے پیچھے گئ تو آپ کا رخ تہہ خانے کی طرف تھا ناجانے کس سوچ کے تحت میں آپکے پیچھے پیچھے چلتی گئی اور پھر وہ سب جو ایشل کے ساتھ آپ نے کیا وہ میں دیکھ چکی تھی۔۔تو میں آپ سے پہلے ہی واپس آگئی تھی۔۔۔اور یہ بات میں نےآپ سے چھپائی میں ٹھیک موقع پر آپ سے یہ بات کرنا چاہتی تھی۔۔۔۔اب بہت ہو گیا ھیشم اب آپ اسے چھوڑ دیں ۔۔۔۔آپ اسے پولیس کے حوالے کر دیں پلیز وہ خود سزا دیں گے اس کو۔۔۔۔”عائشے نے پوری بات بتاتے ہوئے التجا کی۔۔۔
“لیکن عائشے اس نے وہ سب آپکے ساتھ۔۔۔۔”اس سے پہلے ہیشم اپنی بات مکمل کرتا عائشے نے اسکی بات کاٹی تھی۔۔۔۔
“میں جانتی ہوں ھیشم۔۔۔اور یہ بھی جانتی ہوں کہ اس لڑکی نے صرف میری ہی نہیں بہت سی لڑکیوں کی زندگی تباہ کی ہوگی اس لئے میں نے آپ سے کہا ہے کہ اسے پولیس کے حوالے کر دیں۔۔۔۔۔”عائشے نے اپنی بات کی وضاحت کی۔۔۔
“پر عائشےآپ میری۔۔۔”اس نے دوبارہ کچھ کہنا چاہا۔۔۔
“پر ور کچھ نہیں۔۔۔آپ نے کہا تھا کہ آپ آج مجھے وہ چیز دیں گے جو میں مانگوں گی۔۔۔اب آپ اپنی بات سے مکر رہے ہیں۔۔۔۔”عائشے نے خفگی سے چہرہ پھیرتے ہوئے کہا۔۔۔
۔”اوکے جان ھیشم ۔۔۔آپکا حکم سر آنکھوں پر۔۔۔”ھیشم نے سینے پر ہاتھ رکھتے ہوئے معمولی سا سر خم کرتے ہوئے مسکرا کر کہا۔۔ اور اس کی اس حرکت پر عائشے کھلکھلا کر ہنسی تھی جب دروازے پر ہونے والی دستک نے انہیں اپنی طرف متوجہ کیا تھا۔۔۔اورھیشم نے دروازے پر کھڑے رحاب اور حازم کو اندر آنے کا اشارہ کیا۔۔۔۔
“کیا ہوا بھائی ۔۔۔بہت خوش نظر آرہے ہیں آپ دونوں۔۔۔۔؟؟”حازم نے اندر آتے ہوئے پوچھا۔۔۔
“کیا بتائیں حازم ۔۔۔؟؟آج ہم بہت خوش ہیں۔۔۔تم چاچو بننے والے ہو۔۔۔۔”ھیشم نے خوشی سے ہنستے ہوئے کہا۔۔۔اس کی بات پر حازم آگے بڑھ کر اس کے گلے لگا تھا۔۔۔
“مبارک ہو بھائی۔۔۔۔بہت خوشی کی بات ہے یہ تو۔۔۔۔”حازم کے چہرے پر چمک واضح تھی۔۔۔جبکہ روحی نے بھی بھاگ کر عائشے کے گلے میں بانہیں ڈالی تھیں۔۔۔
“کتنا مزا آئے گا نا بھابھی۔۔۔میں پھپھو بن جاؤں گی ییےےےےے”روحی نے چہکتے ہوئے کہا۔۔۔ان چاروں کے چہرے خوشی سے چمک رہے تھے۔۔۔۔وہ سب بہت ایکسائٹڈ تھے اس نئے آنے والے مہمان کے لئے۔۔۔۔۔












گلاب کے پھولوں سے سجی یہ گاڑی اب انجان راستوں پر دوڑ رہی تھی۔۔۔گاڑی میں صرف ذیان اور زویا ہی موجود تھے۔۔۔جبکہ تیسری شخصیت ڈرائیور کی تھی جو ڈرائیو کرنے میں مصروف تھا۔۔۔کافی دیر ہوگئی تھی لیکن سفر ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہ تھا۔۔۔بھاری بھرکم لہنگے اور زیورات میں ملبوس زویا جو کب سے بمشکل کمر اکڑائے بیٹھی اب اسے مزید بیٹھنا مشکل لگ رہا تھا۔۔۔اب اس کی ہمت جواب دے رہی تھی جب وہ دھیمی آوازمیں ساتھ بیٹھے ذیان گویا ہوئی تھی۔۔۔
“ذیان کتنی دیر لگی گی اور اب میرے لئے بیٹھنا ناممکن ہو گیا ہے۔۔۔؟؟”اسکی آوازمیں تھکن واضح تھی۔۔۔جبکہ آنکھیں نیند اور تھکاوٹ کی وجہ سے بوجھل ہو رہی تھیں۔۔۔
“بس کچھ دیر اور لگے گی۔۔۔ایک کام کر تم میرے کندھے پر سر رکھ کر تھوڑی دیر آرام کر لو بہتر محسوس کرو گی۔۔۔۔”ذیان نے دنیا جہاں کی نرمی لہجے میں سماتے ہوئے کہا۔۔۔زویا تھوڑا جھجکی تھی لیکن پھر اپنی حالت کا سوچ کر اس کے مضبوط کندھے پر سر رکھ کر آنکھیں موند گئی۔۔۔۔اور کچھ ہی دیر میں وہ دنیا و مافیہا سے بیگانہ ہو چکی تھی۔۔۔کچھ دیر گزرنے کے بعد ذیان نے اسے دھیمی آواز میں پکارا۔۔۔
“زویا۔۔۔”لیکن جواب ندارد ۔۔۔جواب نہ ملنے پر ذیان نےذرا سا جھک کر اسکی جانب دیکھا تھا۔۔۔جو اس وقت بلکل دنیا سےبے خبر اس کے کندھے پر سر رکھے سو رہی تھی۔۔۔ذیان اس کی طرف دیکھ کر ہنسا تھا۔۔
“سو جاؤ آخری دفعہ سکون کی نیند زویا خان۔۔۔ اب تم کبھی چین کی نیند نہیں سو سکو گی۔۔اب میں تمہارے سکون کی دھجیاں اڑادوں گا۔۔۔”ذیان منمناتے ہوئے اس سے مخاطب ہوا ۔۔۔۔اور کچھ ہی دیر میں گاڑی اپنی منزل پر رکی تھی۔۔۔اور گاڑی رکنے پر زویا کی آنکھ کھلی تھی۔۔۔۔اس نے آنکھیں کھول کر اردگرد نظر دوڑائی تھی۔۔۔۔جب ذیان نے اسے پکارا۔۔۔
“چلیں۔۔۔”اس کے پکارنے پر زویا جلدی سے اپنا لہنگا سنبھالتی گاڑی سے اتری تھی۔۔۔۔اور ذیان کا ہاتھ تھامتی سامنے خوبصورت سے بنے اس گھر گھر میں داخل ہوئی۔۔۔اب وہ خود کو کافی حد تک فریش فیل کر رہی تھی۔۔۔جبکہ ذیان فتح کے نشے میں چور اپنے لبوں پر دلکش مسکراہٹ سجائے اسے دیکھتے ہوئے گھر کے اندرونی طرف داخل ہو گیا۔۔۔
ہر طرف خاموشی ہی خاموشی تھی۔۔۔وہ اسے ساتھ لیئے لاؤنج میں آیا جہاں ہر طرف گلاب ہی گلاب تھے۔۔۔پورے لاؤنج میں مدھم سی زوشنی کے علاوہ کوئی روشنی نہ تھی عجںب مگر دل کق چھو جانے والے منظر تھا۔۔۔زویا مبہوت سی یہ سب دیکھ رہی تھی وہ سب کچھ بھول چکی تھی یاد تھا تو صرف اتنا کہ یہ سب اس کے لئیے کیا گیا ہے۔۔کیا وہ کسی کے لئے اتنی امپورٹنٹ بھی ہو سکتی تھی۔۔؟؟اسکے لبوں پر پیاری سی مدھم مسکان دوڑ گئی آنکھوں میں چمک لئیے وہ اردگرد کا جائزہ لینے لگی۔۔۔۔اس کے چہرے پر موجود چمک دیکھ کر ذیان محظوظ ہوا تھا وہ کافی حد تک اپنے پلان میں کامیاب ہو چکا تھا۔۔۔۔ذیان نے اس کی طرف جتلاتی نظروں سے دیکھا تھا لیکن زویا اس وقت اس کی آنکھوں کے تاثر کو محسوس نہیں کر پائی تھی۔۔۔زویا کا ہاتھ اب بھی ذیان کے ہاتھ میں تھا۔۔۔۔وہ اب اسے لئیے روم کی جننب بڑھ گیا۔۔۔۔اسکا روم نہایت خوبصورت انداز میں سجایا گیا تھا۔۔۔۔ابھی وہ کھوئی کھوئی سی یہ سب دیکھنے میں گم تھی جب ذیان کی آواز پر وہ ہوش کی دنیا میں لوٹی تھی۔۔۔
“پسند آیا تمہیں یہ سب۔۔۔۔؟؟”ذیان نے محبت سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہاا۔۔۔
“بہت ذیادہ۔۔کیا تم نے میرے لئے یہ سب کیا ہے۔۔۔۔؟؟”زویا نے ایکسائٹڈ ہوتے ہوئے پوچھا۔۔۔
“ہاں بلکل۔۔۔۔لیکن یہ سب میری محبت کے آگے کچھ بھی نہیں ہے۔۔۔میں تم سے بے حد محبت کرتا ہوں۔۔۔۔”ذیان نے تھوڑی سے پکڑ کر اس کا چہرہ اوپر کرتے ہوئے کہا۔۔۔زویا تھوڑی کنفیوز ہوئی تھی۔۔۔۔شرم سے اس کا چہرہ سرخ ہو چکا تھا۔۔۔لرزتی پلکوں کو اوپر اٹھانا مشکل لگ رہا تھا۔۔۔زویا اس وقت کوئی اور لڑکی ہی لگ رہی تھی۔۔۔
“لیکن یہ سب بھی بہت حسین ہے مجھے یقین نہیں آرہا کہ تم نے یہ سب صرف اور صرف میرے لئے کیا ہے۔۔۔۔”زویا نے چہکتے ہوئے کہا۔۔۔پل میں اس کی ساری شرم جھجک غائب ہوئی تھی۔۔۔
“یہ سب تمہارے حسن کے سامنے کچھ بھی نہیں ۔۔میری نظر سے دیکھو اس وقت تم دنیا کی حسین ترین لڑکی لگ رہی ہو۔۔۔”ذیان نے محبت پاش نظروں سے اسکی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔
“مجھے معاف کر دو ذیان میں نے اس وقت جو سب کیا مجھے نہیں کرنا چائہیے تھا۔۔۔”زویا نے شرمندگی سے کہا۔۔۔میری زندگی کے معنی بدل کر رکھ دئیے تم نے اور اب معافی مانگ رہی ہو۔۔لیکن میرا ظرف اتنا بڑا نہیں ہے کہ میں تمہیں معاف کردو ذیان دل ہی دل میں خود سے مخاطب ہوا۔۔
“چھوڑو جانم ۔۔۔یہ سب باتیں کرنے کے لئے پوری زندگی پڑی ہے۔۔۔أج رات میں صرف تمہیں یہ احساس دلانا چاہتا ہوں کہ تم کتنی امپورٹنٹ ہو میری لائف میں ۔۔۔میں چاہتا ہوں آج تم بس مجھے محسوس کرو۔۔مجھے جانو۔۔۔۔”ذیان نے مزید اس کے قریب ہوتے ہوئے کہا۔۔۔اور اس کی اتنی محبت پر زویا کی آنکھوں سے آنسوؤں کے دو موتی گال پر لڑھکے تھے۔۔وہ کہاں عادی تھی اتنی محبتوں کی۔۔۔
“نو جانم آج نہیں۔۔پوری زندگی پڑی ہے اس کے لئے۔۔۔۔”ذیان نے اسکے آنسوؤں کو اپنے پوروں پر چنتے ہوئے کہا۔۔۔جبکہ اس کی بات پر زویا نے اچنبھے سے اسکی جانب دیکھا تھا۔۔اس سے پہلے کہ زویا کچھ کہتی یا سمجھ پاتی ذیان نے اسے اپنے سینے سے لگایا تھا۔۔۔زویا جو کچھ دیر پہلے اس کی بات پر ٹھٹکی تھی۔۔اب اسے بھلائے بس اتنی محبتوں پر نازاں اس کے سینے سے سر ٹکائے دل سے اسکی مشکور ہوئی تھی۔۔۔اور اس رات زویا سب کچھ ذیان کے حوالے کر چکی تھی اور ذیان نے پوری محبت سے اپنے حقوق لئیے تھے۔۔۔۔وہ رات شاید زویا کی زندگی میں سکون کی آخری اور حسین رات تھی۔۔۔جو اس چاندنی رات میں اس حسین جوڑے کی محبت کی امین ہوئی تھی۔۔۔۔











الیکشنز کے دن شروع ہو چکے تھے ووٹ ڈالے جا چکے تھے۔۔۔اب بس فیصلہ ہونا باقی تھا۔اور ھیشم کو پورا یقین تھا کہ ہر سال کی طرح ۔۔اب عائشے کا بہت ذیادہ خیال رکھا جارہا تھا ۔۔ھیشم کا بس چلتا تووہ اسے زمین پر ہی قدم نہ رکھنے دیتا۔۔۔عائشے کے کہنے پر وہ ایشل یزدانی کو پولیس کے حوالے کر چکا تھا۔۔۔چونکہ الیکشنز کی وجہ سے ھیشم نے رحاب اور حازم کو کالج جانے سے منع کیا ہوا تھا تو آجکل وہ دونوں گھر پر ہی ہوتے تھے ۔۔اور ہر وقت اس حویلی کی دیواریں ان کی نوک جھونک سے مہکتی رہتی تھیں۔۔۔اب بھی ان کی تکرار جاری تھی۔۔۔
“اب میں تمہارا قتل کردوں گی حازم ۔۔۔۔اگر تم نے ایک اور لفظ کہا۔۔۔۔”روحی نے صوفے پر پڑا کشن اسے مارتے ہوئے کہا۔۔۔۔
“تو ٹھیک ہی کہہ رہا ہوں پتا نہیں کب ہماری جان چھوڑو گی۔۔۔؟؟”حازم نے گردن اکڑاتے ہوئے کہا۔۔۔
“کبھی نہیں چھوڑوں گی اگر اتنے ہی تنگ آگئے ہو مجھ سے تو تم چلے جاؤ ۔۔۔کیونکہ میں تو یہیں رہوں گی ہمیشہ۔۔۔”روحی نے رونے والی شکل بناتے ہوئے کہا۔۔۔
“زہر لگتی ہیں مجھے وہ لڑکیاں جن کے دل میں تو شادی کے نام پرلڈو پھوٹ رہے ہوتے ہیں اور اوپر سے کہتی ہیں۔۔میں تو ہمیشہ اپنے مما پاپا کے ساتھ رہوں گی۔۔۔میں ان کو چھوڑ کر کبھی نہیں جاؤنگی۔۔۔۔مجھے نہیں پسند ایسی منافقت ۔۔۔۔”حازم نے بے زاریت سے کہا۔۔۔
“یومین ہم گرلز کے ڈبل فیس ہوتے ہیں۔۔؟؟”رحاب نے غصے سے پوچھا۔۔
“جی بلکل میرا یہی مطلب ہے۔۔۔”حازم نے فرضی کالر جھاڑا ۔۔
“تم لڑکے کون سے دودھ کے دھلے ہوتے ہو۔۔فلرٹ کرنا تو کوئی تم لوگوں سے سیکھے۔دھوکے باز کہیں کے۔۔”رحاب نے تڑخ کر جواب دیا۔۔۔
“او ہیلو۔۔۔تم لڑکیاں ہوتی ہو دھوکے باز۔۔۔”حازم نے حتمی لہجے میں جواب دیا۔۔
“بوائز۔۔۔”
“گرلز۔۔۔”
“بوائز ۔۔بوائز ۔۔۔بوائز۔۔۔”رحاب غصے سے بولی۔۔۔۔
“گرلز گرلز گرلز۔۔۔۔”سامنے بھی پھر حازم تھا اسی کے لہجے میں جواب دیا گیا۔۔۔
“کیا ہے بھئی اب کس بات پر بحث ہو رہی ہے۔۔؟؟”لاؤنج میں داخل ہوتی عائشے نے ان دونوں کو بحث کرتے دیکھ کرمسکراتے ہوئے پوچھا۔۔۔
“بھابھی یہ کہہ رہا ہے لڑکیاں دھوکے باز ہوتی ہیں۔۔۔۔”جواب رحاب کی طرف سے آیا تھا۔۔
“کس نے کہا ہے کہ لڑکیاں یا لڑکے دھوکے باز ہوتے ہیں ۔۔۔وفا کا تعلق کبھی بھی جنس سے نہیں ہوتا بلکہ اس کا تعلق تو جسم کے سب سے خوبصورت حصے دل سے ہوتا ہے ۔سمجھے تم دونوں۔۔؟؟”عائشے نے دھیمے لہجے میں سمجھایا۔۔
“جی بھابھی یہ ہی فضول میں بحث کرتی ہے۔۔۔لڑکی بڑی ہو گئی ہے اب کوئی رشتہ ڈھونڈیں اس کے لئے اورچلتا کریں اسے ویسے بھی اب اس کی عمر نکلتی جا رہی ہے۔۔۔۔”حازم نے بمشکل اپنی ہنسی کو ضبط کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔جبکہ روحی نے اب سامنے ٹیبل پر پڑا گلدان اٹھایا تھا اسے مارنے کے لئے ۔۔۔۔جب وہ آگے بھاگا تھا۔۔۔۔اس کے پیچھے بھاگتے رحاب نے گلدان اس کو مارا تھا اور وہ بڑی مہارت سے جان بچا گیا جبکہ آنے والی شخصیت اس گلدان کا نشانہ بن چکی تھی۔۔۔۔
