Tere Ishq Sy Meri Zaat Tak by Ayesha Mughal NovelR50552 Tere Ishq Sy Meri Zaat Tak (Episodee 16)
Rate this Novel
Tere Ishq Sy Meri Zaat Tak (Episodee 16)
Tere Ishq Sy Meri Zaat Tak by Ayesha Mughal
موبائل کی مسلسل بجتی گھنٹی نے اس کی نیند میں خلل پیدا کیا تھا۔۔۔کسلمندی سے ہلتے بند آنکھوں سے اس نے بستر ٹٹولنا شروع کر دیا۔۔مگر موبائل وہاں ہوتا تو ملتا۔۔۔چیختی بیل سے تنگ آکر اس نے نیند سے بھری آنکھیں بمشکل کھول کر اپنے اطراف میں نظریں دوڑائیں اور سائیڈ ٹیبل کے کنارے وائبریٹ ہوتے,نیچے گرنے کو تیار موبائل کو اٹھا لیا۔۔۔
“کیا تکلیف ہے صبح صبح ۔۔۔۔؟؟”اس نے بغیر نمبر دیکھے چنگھاڑتے ہوئے کہا۔۔۔
“خدا کا خوف کر ۔۔۔دوپہر کے بارہ بج رہے ہیں اور تو اسے صبح کہہ رہا ہے۔۔۔؟؟آدھا دن نکل چکا ہے یہاں۔۔۔۔۔”ذیان کی آواز سنتے ہی دانیال شروع ہو چکا تھا۔۔۔دانیال کی بات سن کر ذیان نے گھڑی کی طرف دیکھا اور گھڑی کو بارہ بجاتے دیکھ کر اپنے بکھرے بالوں کو ہاتھوں سے سنوارتے جلدی سے اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔
“اب اپنی بکواس بند کر اور بتا میرا کام ہوا یا نہیں ۔۔؟؟”ذیان نے اسے مسلسل بولتے دیکھ کر تپ کر کہا۔۔
“ہاں ہاں کام تو تیرا ہو گیا ہے لیکن ایک اور بار سوچ لے تو ۔۔۔۔”دانیال نے سنجیدگی سے کہا۔۔۔
“تجھے جتنا کہاہے اتنا کر ۔۔۔مجھے اچھے سے پتا ہے کہ مجھے کیا کرنا ہے اور کیا نہیں۔۔سمجھا تو۔۔۔اور آئندہ میری زندگی میں دخل اندازی کرنے کی کوشش بھی مت کرنا۔۔۔”ذیان نے تڑخ کر کہا۔۔۔
“ٹھیک ہے ۔۔جب تو نے فیصلہ کر ہی لیا ہے تومیں کون ہوتا ہوں دخل اندازی کرنے والا۔۔۔۔”دانیال نے بجھتے لہجے میں کہا۔۔۔
“ہاں چل ٹھیک ہے ۔۔اللہ حافظ ملتے ہیں دو دنوں میں ۔۔۔۔”ذیان نے الوداعی کلمات کہتے ہوئے کہا۔۔
“اللہ حافظ۔۔۔”دانیال نے بے دلی سے فون رکھا ۔۔ذیان جو کرنے جا رہا تھا وہ کس قدر خطرناک ثابت ہو سکتا تھا یہ کوئی بھی نہیں جانتا تھا۔۔۔
دانیال کا فون بند ہوتے ہی ذیان فریش ہونے کے لئے واشروم کی جانب بڑھ گیا اور کچھ ہی دیر میں وہ باہر آیا تھا ۔۔۔نئے سوٹ میں ملبوس آئینے کے سامنے کھڑا وہ اپنے بال سنوار رہا تھا۔۔۔پھر خود پر پرفیوم کی بوچھاڑ کرتا الماری کی جانب بڑھ گیا اور اپنے کپڑے اور ضرورت کی کچھ اشیاء بیگ میں ڈالتے بیگ کی زپ کو بند کیا اور بیگ تھامے کمرے کے بیرونی دروازے کی جانب بڑھ گیا۔۔۔
عائشے اور رحاب لاؤنج میں بیٹھے ذیان کے ہی بارے میں بات کر رہی تھیں جب رحاب کی نظر سیڑھیاں اترتے ذیان کے چہرے سے ہوتے اس کے ہاتھ میں پکڑے ٹریول بیگ پر پڑی تو وہ ٹھٹک کر اپنی جگہ سے کھڑی ہوئی۔۔۔عائشے نے اسے یوں کھڑے ہوتے دیکھ کر اس کی نظروں کے تعاقب میں دیکھا تو اس کے تاثر بھی روحی سے مختلف نہ تھے۔۔۔وہ فکرمندی سے آگے بڑھی۔۔
“کیا ہوا ذیان کہیں جارہے ہو تم۔۔؟؟” اسکی آنکھیں رات بھر رونے اور ذیادہ دیر تک سونے کی وجہ سے سرخ ہو رہی تھیں اور پپوٹے سوجے ہوئے تھے جو اس کی حالت کی عکاسی کر رہیں تھیں بظاہر تو اس نے تیار ہو کر اپنی حالت چھپانے کی بھر پور کوشش کی تھی لیکن عائشے نے اسکی متورم آنکھیں دیکھ کر پریشانی سے پوچھا۔۔۔۔
“جی بھابھی۔۔۔کچھ دن پہلے ہی ایک دوست کے توسط سے دبئی میں جاب کی آفر ہوئی تھی تو سوچا جوائن کر لوں ۔۔یونیورسٹی میں تو اب ایڈمیشن ملنے سے رہا تو فارغ رہ کر کیا کروں گا۔۔۔۔”ذیان نے بظاہر اپنے لہجے کو نارمل کرتے ہوئے کہا۔۔۔لیکن اسکے چہرے پر موجود کرب کے آثار اس کی کوشش کو ناکام بنا رہے تھے۔۔۔
“تو یہیں کہیں اپلائی کر لو ذیان۔۔۔اتنی دور جانے کی کیا ضرورت ہے ۔۔۔؟؟اور تمہیں جاب کی کیا ضرورت ہے کوئی کورس وغیرہ کر لو۔۔۔”عائشے نے اسے روکنے کی کمزور سی کوشش کی۔۔۔۔
“نہیں بھابھی۔۔۔میرا جانا ضروری ہے۔۔۔کچھ ضروری کام بھی تو نمٹانے ہیں ۔۔۔ان شاء اللہ بہت جلدی لوٹوں گا۔۔۔۔”ذیان نے لبوں پر مصنوعی مسکراہٹ سجاتے ہوئے دھیمے لہجے میں کہا۔۔
“بھائی مت جائیے ناں ۔۔۔”روحی جو اس کے جانے کا ہی سن کر غمگین ہو گئی تھی آنکھوں میں نمی لئے گویا ہوئی۔۔۔
“میری گڑیا۔۔رو مت ۔۔کہا ناں بہت جلدی واپس آجاؤں گا ۔۔۔اور میری روحی تو بہت بہادر ہے اپنا خیال رکھنا۔۔۔۔”ذیان نے اسے اپنے ساتھ لگاتے ہوئے کہا ۔۔۔
“جی بھائی۔۔۔۔”رحاب نے آنکھوں میں آنسو لئے بے بسی سے کہا۔۔۔
“اوئے ۔۔کہاں جا رہا ہے تو۔۔۔؟؟”اپنے روم سے نکلتے حازم نے بغیر موقع کی نزاکت کو سمجھے شوخی سے کہا۔۔۔
“تیرا بھائی چلا دبئی۔۔۔۔”ذیان نے خود کو نارمل ظاہر کرتے ہوئے ہنستے ہوئے کہا۔۔
“تو جانتا ہے مجھے مذاق بلکل پسند نہیں ہے۔۔۔”حازم نے سنجیدگی سے کہا۔۔۔۔اور اس کی بات پر رحاب بے ساختہ ہنسی تھی۔۔۔
“بس بس پتا ہے ہمیں تو کتنا سنجیدہ ہے۔۔۔لیکن ابھی میں بلکل مذاق نہیں کر رہا چل آ گلے لگ جا دیر ہو رہی ہے ۔۔فلائٹ مس ہو جائے گی میری۔۔”ذیان نے بازو پھیلاتے ہوئے کہا۔۔۔
“یار نہ کر کیسے رہوں گا میں تیرے بغیر۔۔۔”حازم نے اس کے گلے لگتے ہوئے کہا۔۔۔
“بہت جلد لوٹے گا تیرا بھائی ۔۔میں بھی بہت یاد کروں گا تجھے۔۔۔۔”ذیان نے اس کے گرد اپنے بازوؤں ک حلقہ مضبوط کرتے ہوئے آنسوؤں کو اپنے اندر اتارتے ہوئے کہا۔۔۔
“بہت اچھا فیصلہ کیا ہے تم نے۔۔۔تمہارے لئے یہی بہتر ہے۔۔۔”ھیشم نے بیرونی دروازے سے اندر آتے ہوئے کہا حازم اور ذیان کے مابین ہونے والی گفتگو سن چکا تھا۔۔۔
“جی بھائی۔۔۔بہت یاد آئے گی آپ کی۔۔۔”ذیان نے ھیشم کی جانب مڑتے ہوئے کہا۔۔۔اس کے پاس الفاظ ہی نہیں تھے کہنے کے لئے ۔۔۔بس اتنا کہہ کر وہ بے ساختہ ھیشم کے گلے لگا تھا۔۔۔ کوشش کرنے کے باوجود وہ اپنے آنسوؤں کو نہیں روک پایا تھا۔۔۔لیکن مہارت سے انہیں پونچھ ضرور لیا تھا۔۔۔دل شدت سے خواہش کر رہا تھا کہ کاش ھیشم ایک دفعہ روک لے اسے لیکن اس کی خواہش خواہش ہی رہ گئی۔۔۔
“تمہیں اب جانا چائہیے۔۔۔”ذیان جب کافی دیر تک الگ نہ ہوا تو ھیشم نے سخت لہجے میں کہا۔۔۔اس کے کہنے پر ذیان اس سے چونکا تھا اور اس سے الگ ہوتے ہوئے سب پر الوداعی نظر ڈالتے دروازے کی چوکھٹ عبور کر گیا۔۔۔اور ھیشم اپنی آنکھوں میں آئی نمی کو چھپاتے ہوئے لمبے لمبے ڈگ بھرتا اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا جو بھی تھا ذیان اس کا بھائی تھا ایک باپ کی جگہ پر رہ کر ان کی کفالت کی تھی ۔۔۔جان بستی تھی اس کی اپنے تینوں بہن بھائیوں میں ماں باپ کی ڈیتھ کے بعد وہ ان تینوں کے لئے ہی تو جی رہا تھا۔۔۔بس آج حالات نے اسے ایسا کرنے پر مجبور کر دیا تھا۔۔۔۔ورنہ ھیشم خان اتنا سنگدل تو کبھی نہیں تھا۔۔۔۔اس کی آنکھوں کی نمی عائشے کی نظروں سے چھپ نہیں پائی تھی۔۔اس لئے رحاب کے آنسو پونچھتی وہ کمرے کی جانب بڑھ گئی۔۔۔۔











تو آپ نے روکا کیوں نہیں اسے۔۔؟؟ ھیشم بیڈ پر بیٹھا اپنے آنسو چھپانے کی ناکام کوشش کرنے میں مصروف تھا جب عائشے نے اس کے پاس بیٹھتے ہوئے کہا۔۔۔عائشے کو دیکھ کر ھیشم نے جلدی سے اپنا چہرہ صاف کیا۔۔۔
“کیونکہ اس کا یہاں سے چلے جانا ہی بہتر تھا۔۔۔۔”ھیشم نے لہجے کو سخت کرتے ہوئے کہا۔۔۔
“کیا بہتر تھا اس میں کیا آپ بتا سکتے ہیں ھیشم۔۔۔؟؟”عائشے نے اس کے سامنے کھڑے ہو کر سوال کیا۔۔۔
“ہم اپنے سامنے ایک ایسے انسان کو کبھی برداشت نہیں کر سکتے جو اتنی گھٹیا حرکت کر کے آیا ہو۔۔۔”ھیشم نے اس کے مقابل کھڑے ہوتے ہوئے کہا۔۔
” اپنے دل سے پوچھئے ھیشم ۔۔۔ کیا زیان ایسا کر سکتا ہے۔۔؟؟”عائشے نے لہجے کو دھیما رکھتے ہوئے نرمی سے کہا۔۔۔
“ایسے معاملوں میں دل کی نہیں سنی جاتی عائشے۔۔۔”ھیشم نے آنکھیں چراتے ہوئے کہا ۔۔کیونکہ اس کا دل تو چیخ چیخ کر ذیان کی پاکیزگی کی گواہی دے رہا تھا۔۔لیکن حالات اسے یقین کرنے پر مجبور کر رہے تھے۔۔۔
“مجھے پتا ہے سچویشن ایسی تھی کہ آپ کو یقین کرنا پڑا لیکن ایک بات بتائیں ھیشم کیا اتنے سال جو ذیان نے آپ کے ساتھ گزارے کیا وہ کوئی معنی نہیں رکھتے۔۔۔؟؟کیا اگر کوئی بھی آکر اس کے بارےمیں کچھ بھی بولے گا تو آپ یقین کر لیں گے۔۔۔؟؟”عائشے نے اس سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔۔
“ہم کچھ نہیں جانتے عائشے ۔۔بس ہم اتنا جانتے ہیں کہ ہم کسی بھی عورت کی ریسپیکٹ میں کوئی کمپرومائز نہیں کر سکتے ۔۔۔۔”ھیشم نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے ٹھوس لہجے میں کہا۔۔۔۔
“مجھے فخر ہے ھیشم کہ میں ایک ایسے انسان کی بیوی ہوں جو اپنے گھر کی نہیں بلکہ ہر ایک عورت کی عزت کا محافظ ہے ۔۔۔لیکن ھیشم یہاں بات آپ کے اصول کی نہیں بلکہ آپ کے یقین کی ہے۔۔۔۔”عائشے نے لہجے کو نرم رکھنا ہی مناسب سمجھا۔۔
“عائشے ۔۔۔ہم جانتے ہیں آپ کیا کہنا چاہتی ہیں لیکن۔۔۔”اس سے پہلے کہ وہ اپنی بات مکمل کرتا جب موبائل کی بیل نے اسے اپنی طرف متوجہ کیا۔۔۔۔اور پھر موبائل کان سے لگاتا عائشے کی پیشانی پر بوسہ دیتا کمرے سے نکل گیا ۔۔جبکہ عائشے سوچنے لگی کہ وہ ھیشم کو کیسے قائل کرے ۔۔۔؟؟









“ناجانے کب یہ الیکشن ختم ہونگے ۔۔۔؟؟اور مجھے آزادی نصیب ہوگی۔۔۔۔”رحاب نے چہرے ہر بیچارگی لاتے ہوئے کہا۔۔۔۔چونکہ الیکشن شروع ہونے والے تھے تو رحاب کو کم و بیش ہی باہر جانے دیا جارہا تھا ۔۔۔۔ھیشم خان نہیں چاہتا تھا کہ کوئی مخالف اس کی فیملی کو کوئی نقصان پہنچائے کیونکہ وہ جانتا تھا کہ سیاست میں موجود میمبرز اسے نیچا دکھانے کے لئے کسی بھی حد تک گر سکتے ہیں تو اس نے احتیاطی طور پو رحاب اور عائشے کو باہر نکلنے سے منع کیا تھا۔۔۔
“ابھی کونسا کسی جیل میں بیٹھی ہو۔۔؟؟”حازم نے تڑخ کر کہا۔۔۔
“تم تو چپ ہی رہو تو اچھا ہے۔۔پہلے ہی میرا موڈ بہت خراب ہے۔۔۔۔”رحاب جانتی تھی کہ اب ضرور وہ کچھ فضول ہی بولنے والا ہے اس لئے تڑخ کر بولی۔۔۔۔
“اوکے ۔۔ایز یو وش۔۔۔۔لیکن تمہارا موڈ کیوں خراب ہے ۔۔۔؟؟آئی نو کہ کوئی فضول ہی وجہ ہوگی لیکن پھر بھی بتادو میں سننے کے لئے تیار ہوں۔۔۔۔”حازم نے شرارتی لہجے میں کہا۔۔
“آئی مس ذیان بھائی۔۔۔مجھے ان کی بہت یاد آرہی ہے۔۔۔”رحاب نے رونی صورت بناتے ہوئے کہا۔۔
“کیا ہوگیا ہے روحی ۔۔ابھی اسے گئے ہوئے ایک گھنٹہ بھی نہیں ہوا اور تمہارا ابھی سے یہ حال ہے۔۔رحم کرو اس بیچارے پر۔۔۔۔”حازم نے اس کی طرف حیرانگی سے دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔جبکہ اس کے آخری جملے پر اس نے آنکھیں پٹپٹا کر اس کی طرف دیکھ کر گویا ہوئی۔۔
“کیا مطلب ہے تمہارا۔۔۔۔؟؟”
“کچھ نہیں میں کیا کہہ سکتا ہوں بھلا ۔۔۔اسے یاد کرنے سے اچھاہے اپنا کوئی لیسن یاد کر لو۔۔۔پھر پیپرز میں میرا دماغ کھاتی ہو۔۔۔۔”حازم نے مصنوعی سنجیدگی سے کہا جبکہ آنکھوں میں شرارت واضح تھی۔۔۔اس کی بات پر رحاب نے غصے سے اس کی طرف دیکھا تھا۔۔۔
“تم ۔۔اور مجھے تیاری کرواتے ہو۔۔۔۔وہ بھی پیپرز کی۔۔۔۔ہاہاہاہااہاہاہاہا۔۔کیا جوک مارا ہے تم نے حازم ۔۔۔۔سمجھ نہیں آرہا کہ کیسے ہنسوں۔۔۔۔؟؟”رحاب نے قہقہ لگاتے ہوئے کہا۔۔۔
“بس بس ذیادہ فری ہونے کی ضرور نہیں ہے۔۔۔۔”حازم نے اس کے ہنسنے پر تپ کر منہ بسورتے ہوئےکہا۔۔
“اچھا چلو کر دیتی ہوں بس۔۔۔۔ پر ایک بات تو بتاؤ ۔۔۔یہ جو تم رباب کے سامنے سلمان خان بنے پھر رہے تھے کرنے کیا والے ہو۔۔۔۔؟؟”روحی نے ابرو اچکاتے ہوئے ہوئے پوچھا۔۔۔
“میں ھیشم بھائی سےبات کروں گا۔۔۔اور مجھے پوری امید ہے کہ وہ میری بات ضرور سمجھیں گے۔۔۔۔”حازم نے اسے اپنے ارادے سے آگاہ کیا۔۔۔
“تمہیں کیا لگتا ہے وہ مان جائیں گے ۔۔۔۔؟؟”رحاب نے سوالیہ نظروں سے دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔۔
“کیوں نہیں مانیں گے بھائی۔۔۔اور جانتی ہو اس کام میں ہمارا ساتھ کون دے گا۔۔۔؟؟”حازم نے سنجیدگی سے کہا۔۔۔
“کون دے گا۔۔۔؟؟”رحاب نے حیرانگی سے پوچھا۔۔۔
“عائشے بھابھی۔۔۔۔”حازم نے پر جوش ہوتے ہوئے کہا۔۔
“اور تمہیں لگتا ہے کہ وہ ہمارا ساتھ دیں گی۔۔۔۔”رحاب نے اسے پر جوش ہوتے دیکھ کر پوچھا۔۔
“جی ضرور مجھے پورا یقین ہے کہ وہ میرا ساتھ ضرور دیں گی۔۔۔وہ ایک بہت ہی اچھے دل کی مالک ہیں ۔۔۔۔ویسے ایک راز کی بات ہے۔۔۔۔”حازم نے رازدارنہ لہجے میں کہا۔۔۔
“کیا۔۔۔؟؟”
“ہماری قسمت بہت اچھی ہے کہ ہمیں عائشے بھابھی جیسی بھابھی ملیں۔۔۔اور ۔۔۔۔۔”حازم نے بات ادھوری چھوڑی۔۔۔
“اور۔۔۔؟؟”رحاب نے متجسس لہجے میں کہا۔۔
“اور ناجانے وہ کون سی منحوس گھڑی تھی جب تم ہمیں ملی۔۔۔”حازم اتنا کہہ کر وہاں سے اٹھ چکا تھا۔۔۔۔
“تمہیں میں بتاتی ہوں کہ وہ کون سی گھڑی تھی۔۔۔”اتنا کہہ کر رحاب اسکے پیچھے بھاگی تھی اور وہ اس ک ارادہ بھانپ کر پہلے ہی نو دو گیارہ ہو چکا تھا۔۔۔اب حویلی میں تین کے بجائے دو نفوس کے قہقے گونج رہے تھے اور اس بات کو کچن کے دروازے پر کھڑی جینی نے شدت سے محسوس کیا تھا۔۔۔















ھیشم خان کو وحید ملک کےآنےکی خبر مل چکی تھی اس لئے وہ وقت ضائع کئے بغیر ڈیرے پر چلا آیا۔۔۔
“السلام علیکم ھیشم خان۔۔۔”سامنے سے آتے ھیشم خان کو دیکھ کر وحید ملک نے مسکراتے ہوئے کہا۔۔
“وعلیکم السلام۔۔۔تم یہاں کیسے وحید ملک۔۔؟؟”ھیشم خان نے لہجہ دھیما رکھتے ہوئے کہا۔۔۔الیکشن شروع ہونے والے تھے وہ فلحال کوئی رسک نہیں لینا چاہتا تھا۔۔۔وہ جانتا تھا کہ وحید ملک کس قدر گھٹیا انسان ہے اس لئے وہ کوئی ایسی بات نہیں کرنا چاہتا تھا جو سوشل میڈیا کی زینت بن جاتی کیونکہ اس طرح اس کی کرسی کو نقصان پہنچ سکتا تھا۔۔۔سو اس نے احتیاط سے کام لیا۔۔۔۔
“میں یہاں تمہیں مبارک باد دینے آیا تھا ھیشم خان ۔۔لو منہ میٹھا کرو۔۔۔”وحید ملک نے مٹھائی کا ڈبہ ھیشم خان کی جانب بڑھایا جو اپنی مخصوص جگہ پر بیٹھ چکا تھا۔۔۔
“کیسی مبارک ۔۔ابھی تو ہمارے جیتنے میں تھوڑا وقت باقی ہے۔۔۔”ھیشم خان نا سمجھی سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔۔
” فکر کیوں کرتے ہوئے ہیشم خان۔۔۔ تب بھی لاؤں گا۔۔ فی الحال تو یہ تمہاری شادی کی خوشی میں لایا ہوں ہو۔۔۔ بڑے چھپے رستم نکلے تم ۔۔۔ہوا تک نہیں لگنے دی۔۔۔ اتنا نیک کام کیا ہے کسی صحافی کو بھی خبر نہیں ہوئی کیا۔۔۔۔؟؟قسم سے اتنا نیک کام کیا ہےاس خبر نے تو دھوم مچا دینی تھی ایک بار پھر سارے کے سارے ووٹ تمہارے نام ہونے تھے۔۔۔”وحید ملک نے کمینگی سے مسکراتے ہوئے کہا۔۔۔جبکہ اسکی بات پر ھیشم خان کی پیشانی پر بل نمودار ہوئے۔۔۔
“کہنا کیا چاہتے ہو تم۔۔۔۔؟؟”ھیشم خان اس دفعہ اپنا لہجہ دھیما نہیں رکھ پایا۔۔۔
“بھئی اتنا نیک کام کیا ہے تم نے۔۔۔فخر ہے مجھے تم پر ۔۔بہت بڑا دل ہے تمہارا۔۔۔تعریف تو بنتی ہے کیا سازش رچی ہے تم نے جیتنے کے لئے۔۔۔۔ورنہ کس کے پاس اتنا بڑا دل ہوتا ہے کہ وہ ایک طوائف سے شادی کر لے۔۔۔”وہ مزے سے مٹھائی منہ میں رکھتا ھیشم خان کو اچھا خاصہ تپا گیا۔۔
“اپنی بکواس بند کرو۔۔۔”ھیشم خان غصے سے اپنی جگہ سے کھڑا ہوا۔۔
“یقین کرو ھیشم خان۔۔اتنا نیک کام تاریخ میں کسی نے نہیں کیا ہوگا۔۔جو تم نے کیا ہے۔۔۔ گھر سے بھاگی ہوئی لڑکی جو بد قسمتی سے کوٹھے کی زینت بن چکی تھی پہلے اسے خریدا اور پھر اس سے نکاح کر لیا ۔۔کیا محبت کی داستان ہے ۔۔واہ بھئی۔۔مزا آگیا۔۔۔۔”وحید ملک نے خباثت سے قہقہ لگاتے ہوئے کہا۔۔۔
”دفع ہو جاؤ یہاں سے ۔۔۔۔”ھیشم خان غرایا ۔۔۔
“یہ خبر تو اخبار میں آنی چائہیے ھیشم خان ۔۔۔ملک کے مشہور نامور سیاستدان ھیشم اسماعیل خان کی ملک میں ایک بہترین تبدیلی ۔۔۔۔کیا کہتے ہو ھیشم خان تو ہوجائیں کل کی اخبار کی سرخیاں تمہارے نام ۔۔۔؟؟”
“ہم نے کہا دفع ہو جاؤ یہاں سے ۔۔۔”ھیشم خان نے غصے سے مٹھیاں بھینچیں۔۔۔
“حوصلہ رکھو ھیشم خان۔۔۔۔الیکشن بھی تو جیتنا ہے ابھی۔۔اگر ساری طاقت چلانے میں ضائع کردوگے تو تب کیا کروگے پھر۔۔؟؟یہ مٹھائی ضرور کھانا اور اب میں چلتا ہوں کہیں دفتر ہی نہ بند ہو جائیں سب ۔۔۔اپنا خیال رکھنا ھیشم خان ۔۔۔۔”وہ ایک مکار مسکراہٹ ھیشم خان کی طرف اچھالتا وہاں سے نکل گیا۔۔۔اور اسکے جاتے ہی ھیشم خان نے اپنے خاص بندے کو بلایا۔۔
“کل کی اخبار میں ہمارے یا عائشے کے بارے میں کچھ نہیں چھپنا چائہیے ۔۔گاؤں کے جتنے بھی دفاتر ہیں سب کو آگاہ کردو جو جتنے پیسے مانگتا ہے اس کا منہ بھر دو لیکن اگر میرے خلاف کوئی خبر آئی تو خبر چھاپنے والا زندہ نہیں بچے گا بتا دینا انکو۔۔۔”وہ کھولتے دماغ سے حکم دیتا گاڑی کی چابیاں اٹھاتا باہر کی جانب بڑھ گیا۔۔۔
وحید ملک ایک نہایت ہی جھگڑالو انسان تھا۔۔۔اور اب جب اسے خبر ملی کہ زریاب خان کی بھتیجی ھیشم خان کی بیوی بن چکی ہے تو وہ آگ لگانے ھیشم خان کے ڈیرے پر چلا آیا۔۔اتنا تو وہ جانتا تھا کہ زریاب خان اپنی بھتیجی کا نکاح کر آیا ہے لیکن ھیشم خان کے ساتھ نکاح کیا گیا ہے وہ اس سے بے خبر تھا۔۔۔۔چونکہ الیکشن قریب تھے اور وہ جانتا تھا کہ اس بات کو وہ ھیشم خان کے خلاف کیسے استعمال کر سکتا ہے تو موقع کی نزاکت کا فائدہ اٹھانے میں اس نے دیر نہیں کی تھی۔۔۔۔اور ھیشم خان سے تو اس کا اللہ واسطے کا بیر تھا پہلے بھی کئی دفعہ وہ ھیشم خان کے خلاف بہت کچھ کرنے کی کوشش چکا تھا لیکن ہر دفعہ اپنی کوشش میں ناکام رہا تھا۔۔۔اور اب اس کے نکاح کی خبر سنتے ہی وہ اس کے ڈیرے پر چلا آیا۔۔۔۔












وہ رات کافی دیر تک حویلی لوٹا تھا اور کمرے میں داخل ہوتے ہی اس کی نظر سامنے بیڈ پر سوئی عائشے پر گئ تھی۔۔۔۔اس کے چہرے پر پھیلا اضطراب بتا رہا تھا کہ وہ کافی دیر تک اس کے انتظار میں جاگتی رہی ہے ۔۔۔وہ بغیر اس کو ڈسٹرب کئے کھولتے دماغ کےساتھ ٹیرس پر چلا آیا۔۔رات آہستہ آہستہ بیت رہی تھی۔۔۔وہ نہیں جانتا تھا کہ وحید ملک کو کیسے اس سب کی بھنک پڑ گئی۔۔۔یہ بات تو صاف واضح تھی کہ وہ اب اس خبر کو اس کے خلاف استعمال کرے گا۔۔۔
ساری رات آنکھوں میں کٹی تھی ۔۔۔صبح ناشتے کی ٹیبل پر ہر کوئی خاموش تھا لیکن ھیشم خان بے چینی سے اخبار ک انتظار کر رہا تھا حالانکہ اس کا مخصوص آدمی اسے یہ یقین دلا چکا تھا کہ وہ منہ مانگی قیمت دے آیا ہے۔۔اب کسی اخبار میں انکے خلاف کوئی خبر نہیں آئے گی لیکن ھیشم خان کو کسی طور چین نہیں آرہا تھا اس کا دل کچھ غلط ہونے کی خبر اسے چیخ چیخ کر دے رہا تھا۔۔۔
“کرم بخش ۔۔۔کرم بخش اب تک اخبار نہیں آیا کیا۔۔؟؟”ھیشم خان کا کہنا ہی تھا کہ ایک ملازم ہاتھ میں اخبار لئے بھاگتے ہوئےآیا۔۔۔اس نے جلدی سے اخبار کے صفحات الٹ پلٹ کرنا شروع کر دئیے۔۔اسکے چہرے کے بدلتے تاثرات پر باقی تینوں نفوس چونکے تھے۔۔۔جب کافی دیر تک وہ کچھ نہ بولا تو عائشے نے ہمت کر کر پوچھا۔۔۔
“کیا ہوا ھیشم۔۔کیا آج کوئی خاص خبر آئی ہے جو آپ اتنے بے چین تھے آج کے نیوز پیپر کے لئے۔۔۔؟؟”ھیشم نے زور سے اخبار اٹھا کر ٹیبل پر پٹخا۔۔۔
“یہ دیکھیں لوگ کیا کیا بکواس کر رہے ہیں ہمارے بارے میں وہ لوگ جنہوں نے آج تک نظر اٹھا کر ہم سے بات نہیں کی ۔۔ناجانے کیا کیا بکواس کر رہے ہیں وہ لوگ۔۔۔۔”ھیشم کا چہرہ غصے سے سرخ ہو رہا تھا۔۔۔سارے ملازم کونوں میں کھڑے ھیشم خان کو چلاتے ہوئے دیکھ رہے تھے۔۔۔۔حازم سر جھکائے نیوز پیپر پڑھ رہا تھاجسمیں ھیشم خان کے ایک طوائف سے شادی کرنے کے قدم کو بہت سراہا گیا تھا وہ بات جو آج تک اس نے اپنی فیملی میں کسی کو معلوم نہیں ہونے دی تھی وہ بات اب شہر بھر میں کھلے عام اچھالی جا رہی تھی۔۔۔حازم کےساتھ بیٹھی رحاب بھی سب کچھ پڑھ چکی تھی اور اب وہ دونوں سوالیہ نظروں سے ھیشم کی جانب دیکھ رہے تھے۔۔۔ھیشم خان نے انکو اگنور کر کے اپنے مخصوص بندے کو کال کی۔۔
“کس کو دے آئے تھےپیسے۔۔؟؟ساری بکواس لکھ دی انہوں نے میرے خلاف۔۔۔میں نے کہا تھا کہ ہر دفتر میں فون کر دو ۔۔کیا نیند میں فون کیا تھاتم نے۔۔۔؟؟”ھیشم نے غرایا۔۔۔
“بلیو می خان ۔۔میں خود ہر اخبار کے دفتر کے مالک سے ملا تھا۔۔۔یہاں تک کہ جس جس کو پیسہ دیا تھا وہ گفتگو بھی میں نے ریکارڈ کی تھی۔۔۔مجھے خود سمجھ۔۔۔۔”اسکی بات پوری ہونے سے پہلے ہی ھیشم نے فون کاٹ کر ٹیبل پر پٹخ دیا ۔۔۔اب فون پر دھڑا دھڑ کالز اور میسیجز آنا شروع ہو گئے تھے۔۔۔اس نے غصے سے فون اٹھا کر سامنے دیوار پر ماردیا۔۔۔۔تب ہی حازم کا فون بجا تھا ۔۔۔
“ہاں سب ٹھیک ہیں۔۔یہ کیا کہہ رہا ہے تو۔۔؟؟کون سے چینل پر۔؟؟”حازم نے موبائل کان سے ہی لگائے آگے بڑھ کر دیوار میں نصب ایل ای ڈی آن کی۔۔۔اور جلدی سے نیوز چینل لگایا۔۔
“ناظرین تازہ ترین خبر کے ساتھ ہم حاضر ہیں مختلف ذرائع کے مطابق خبر ملی ہے کہ ملک کے نامور سیاستدان ھیشم اسماعیل خان جنہوں نے حال ہی میں نکاح کیا ہے مخالف پارٹیز کے سربراہان کا کہنا ہے کہ ھیشم خان کی بیوی ایک طوائف تھی جسے ھیشم خان نے کوٹھے سے خرید کر اس سے نکاح کیا ۔۔۔کیا وہ لڑکی واقعی ایک طوائف ہے یا نہیں اس بارے میں اب تک ہمیں کوئی اپ ڈیٹ موصول نہیں ہوئی۔۔۔”
“جی ناظرین ہم موجود ہیں ھیشم خان کی اس شاندار حویلی کے باہر۔۔۔اب وہی ہمیں بتا سکتے ہیں کہ کیا وہ لڑکی واقعی ایک طوائف ہے یا ہمیشہ کی طرح مخالف پارٹیز کا انہیں زیر کرنے کا ایک منصوبہ۔۔۔۔؟؟ہم پوری کوشش کر رہے ہیں ھیشم خان سے ساری حقائق معلوم کرنے کی لیکن فلحال ان سے کوئی بات نہیں ہو سکی۔۔۔اپ ڈیٹ موصول ہوتے ہی ہم پھر سے آپ سے ملاقات کرتے ہیں تب تک ہم لیتے ہیں ایک چھوٹا سا بریک ۔۔۔۔”سامنے ایل ای ڈی پر چلتی خبر سن کر عائشے کو اپنے پاؤؤں سے زمین نکلتی ہوئی محسوس ہوئی ایسا لگتا تھا کوئی پگھلا ہوا سیسہ تھا جو اس کے کانوں میں اندیلا جا رہا تھا۔۔۔بہت سے آنسوؤں نے اس کی آنکھوں میں پناہ لی تھی اور پھر پلکوں کی باڑ توڑتے آنکھوں سے آزاد ہو گئے۔۔۔۔وہ دھندلائی نظروں سے ھیشم خان کی طرف ہی دیکھ رہی تھی۔۔۔اور پھر اچانک اسے اپنا سر گھومتا ہوا محسوس ہوا آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا اس سے پہلے کہ وہ نیچے گرتی ھیشم نے اسے تھام لیا۔۔۔
“عائشے کیا ہوا آپکو۔۔؟؟آنکھیں کھولیں۔۔عائشے۔۔۔”ھیشم اپنے بازوؤں میں گری اس نازک سی لڑکی کو مسلسل جگا رہا تھا لیکن وہ کسی طور آنکھیں کھولنے پر راضی نہیں تھی لیکن اگلے ہی لمحے چہرے پر پڑتے پانی کے چھینٹوں نے اسے آنکھیں کھولنے پر مجبور کیا تھا۔۔۔۔اس کی پلکیں لرزنے لگی تھیں اور پھر آہستہ آہستہ وہ اپنی پوری آنکھیں کھول چکی تھی۔۔۔وہ اب بھی ھیشم خان کی بانہوں میں تھی ھیشم خان اسے یوں ہی اپنے بازوؤں میں اٹھاتا روم تک لے گیا اور بیڈ پر لٹا دیا۔۔۔۔
“آپ کو آرام کی ضرورت ہے عائشے ۔۔آپ آرام کریں ۔۔۔روحی عائشے گل کا خیال رکھئے گا ہمیں ضروری کام ہے اس لئے ہمیں جانا پڑے گا۔۔۔۔”ھیشم خان رحاب کو عائشے کے پاس چھوڑ کر کمرے سے نکلتا چلا گیا۔۔۔۔
لاؤنج سے گزرتے وہ ایک دفعہ پھر سے ایل ای ڈی پر چلتی خبر کی جانب متوجہ ہوا۔۔۔
“ناظرین آپکو ایک دفعہ پھر تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کرتے چلیں ھیشم خان کی بیوی کے طوائف ہونے کی خبر منظر عام پر آچکی ہے۔۔ملک کے نامور سیاستدان ھیشم خان کا ملک میں تبدیلی کی جانب ایک مثبت قدم۔۔۔۔مخالف پارٹیز کے سربراہان کے مختلف بیانات سامنے آرہے ہیں۔۔۔”
“وحید ملک کا کہنا ہے کہ ھیشم خان کے اس قدم سے انہیں بہت خوشی ہوئی ہے۔۔۔ملک میں موجود تمام انسان برابر ہیں ۔۔ہر اچھے سیاستدان کو چائہیے کہ وہ اسٹیسٹس سے ہٹ کر ہر فرد کو دیکھے۔۔۔ایک طوائف سے نکاح کوئی بری بات نہیں ہے بلکہ ھیشم خان نے آنے والی نسل کے لئے ایک بہترین مثال قائم کی ہے۔۔۔۔”
“ناظرین آپکو بتاتے چلیں کہ وحید ملک نے ھیشم خان کے اس قدم کو بے حد سراہا ہے۔۔۔”مختلف نیوز چینلز بھی بڑھا چڑھا کر اس نیوز کو پیش کر رہے تھے۔۔۔ھیشم خان ایک مضبوط شخصیت کا مالک تھا۔۔۔اس کا ذہن اس وقت آنے والے لمحات کے بارے میں سوچ رہا تھا۔۔۔۔اتنے میں ہی ھیشم خان کا خاص بندہ بھاگتے ہوئے آیا ۔۔۔
“خان باہر سب میڈیا والے جمع ہیں اور زبردستی اندر گھسنے کی کوشش کر رہے ہیں چوکیدار نے بمشکل دروازہ بند کر کے انہیں روکا ہے۔۔۔۔۔”
“تم ایک کام کرو ان سب کو باہر اکٹھا کرو ہم ابھی آتے ہیں۔۔۔”اتنا کہہ کر وہ پھر سے ایل ای ڈی کی جانب متوجہ ہوا۔۔
“ہاں تو ناظرین اس وقت ہم ھیشم خان کی حویلی کے باہر موجود ہیں اورآپ دیکھ سکتے ہیں کہ ہمیں اندر جانے سے روکا جا رہا ہے۔۔۔۔”کسی نیوزاینکر نے خبر کو مزید تڑکا لگایا۔۔۔۔
“حازم تم یہاں سب سنبھالو ہم ابھی آتے ہیں ۔۔۔”حازم کو تاکید کرتا وہ باہر کی جانب بڑھ گیا۔۔۔ھیشم خان کو دیکھتے ہی پورا مجمع ھیشم خان کی جانب بڑھا تھا۔۔اور اب بڑھ چڑھ کر ھیشم خان سے سوال کئے جا رہے تھے۔۔۔
“ناظرین آپ دیکھ سکتے ہیں ھیشم خان اس وقت ہمارے ساتھ موجود ہیں۔۔۔جی بتائیے سرکیا واقعی آپ کی بیوی آپکی طوائف ہے۔۔۔؟؟کیا واقعی آپ انکو کوٹھے سے بھاری رقم کے عوض خرید کرلائے ہیں۔۔۔۔؟؟؟”نیوز اینکر کے سوالات ھیشم خان کو سخت طیش دلا رہے تھے۔۔۔اس کا دل کر رہا تھا سامنے کھڑے اس لڑکے کا حشر بگاڑ دے۔۔۔لیکن یہ وقت جوش سے نہیں ہوش سے کام لینے کا تھا اس نے بمشکل خود کو نارمل کیا تھا۔۔۔۔
“ایسی کوئی بات نہیں ہے۔۔۔ایسا کر کے ہمیشہ کی طرح مخالفین نے اپنی اوقات دکھائی ہے۔۔۔۔سیاست کو سیاست تک ہی محدود رکھا جائے تو بہتر ہے۔۔۔اس طرح ہماری فیملی کے بارے میں جھوٹی خبریں پھیلانے پر ہم ان پر قانونی کاروائی بھی کر سکتے ہیں۔۔۔آج ہمیں یہ سب دیکھ کر بہت افسوس ہو رہا ہے کہ ہمیں زیر کرنے کے لئے مخالفین کس قدر گھٹیا حرکتوں پر اتر آئے ہیں ۔۔۔۔”ھیشم خان نے اپنا لہجہ نارمل ہی رکھا تھا۔۔۔۔
“یعنی کہ آپ کہنا چاہتے ہیں کہ یہ سب کیا دھرا مخالفین کا ہے۔۔۔لیکن اس سب سے انہیں کیا فائدہ ہو سکتا ہے۔۔۔۔؟؟؟”مجمع میں موجود نیوز اینکر نے ایک اور سوال اٹھایا۔۔۔
“دیکھئے ظاہر سی بات ہے یہ سب کر کر وہ مجھے غصے میں لانا چاہتے ہیں تاکہ جوش ہم جوش کوئی ایسا قدم اٹھائیں جو ہماری ناکامی کا سبب بنے اور ان کے لئے کامیابی کا پیغام لائے۔۔۔”ھیشم خان نے ٹہرے ہوئے لہجے میں کہا۔۔۔
“تو آج کے بارے میں ہونے والے واقعے کے بارے میں آپ مخالفین سے کیا کہنا چاہیں گے۔۔۔۔؟؟”نیوز اینکر نے مزید سوال اٹھایا۔۔۔
“آج مخالفین نے جو گھٹیا حرکت کی ہے اس کے لئے ہم کورٹ میں جائیں گے اور ان پر قانونی کاروائی کریں گے۔۔۔۔سیاست کے مسائل کو سیاست تک ہی رکھا جاتا تو بہتر تھا اس طرح میری نجی زندگی میں دخل اندازی کر کے انہوں نے اپنے لئے ہی مصیبت کھڑی کی ہے۔۔۔اس جرم کی سزا انہیں ضرور ملے گی ۔۔ہم ان کی طرح کوئی گھٹیا حرکت نہیں کریں گے ۔۔۔لیکن انکو ان کی اس حرکت کی سزا ضرور ملے گی تاکہ آئندہ ایسا کرنے سے پہلے وہ سو بار سوچیں۔۔۔ہمارا خیال ہے آپکے سوالوں کا جواب آپ کو مل چکا ہو گا اب ہیں اجازت دیجئیے ۔۔۔تھینک یو۔۔۔۔”رپورٹرز دھڑادھڑ لکھ رہے تھے۔۔۔ھیشم نے ان کے ہر سوال کا جواب ٹھنڈے لہجے میں دیا تھا۔۔۔۔اس کی زندگی میں ایسی سچویشن پہلی دفعہ نہیں آئی تھی۔۔سیاست میں کوئی نہ کوئی اونچ نیچ آتی رہتی تھی۔۔۔اور وہ اچھے سے انہیں فیس کرنا جانتا تھا۔۔۔اور ہمیشہ کی طرح اس دفعہ بھی وہ مخالفین کی اس چال کو ناکام کر چکا تھا۔۔۔۔جبکہ اپنے سٹنگ روم میں بیٹھے وحید ملک نے ٹی وی اسکرین پر چلتے ھیشم خان کے بیان سن کر پاس پڑا گلاس زور سے دیوار پرمارا تھا۔۔۔
“واہ ھیشم خان واہ۔۔۔کیا ماہر کھلاڑی ہو تم ۔۔کتنی مہارت سے اس لڑکی کی حقیقت چھپا گئے۔۔لیکن میں اس دفعہ اتنی آسانی سے تمہیں اس سیٹ پر قبضہ نہیں کرنے دونگا اس دفعہ توسیاست میرے ہی قبضے میں ہو گی۔۔۔”وحید ملک ھیشم خان کے سچویشن کو اتنی آسانی سے ہینڈل کرنے پر اچھا بھلا تپ چکا تھا۔۔۔اور اب غصے کے مارے بس کلس کر ہی رہ گیا۔۔۔۔












“مجھے معاف کر دیجیئے انکل۔۔۔میں اپنے کئے پر بہت شرمندہ ہوں ۔۔۔میں ایسا کچھ نہیں کرنا چاہتا تھا ناجانے ایسا کیسے ہو گیا۔۔۔۔”زریاب خان کے سامنے وہ ہاتھ جوڑے اپنے کئے پر معافی مانگ رہا تھا اور زریاب خان کا غصہ تو ساتویں آسمان پر تھا۔۔۔۔دانیال جو اس کا کلاس میٹ تھا اس کی مدد سے وہ یونی سے زویا کا پورا ڈیٹا نکلوا چکا تھا۔۔۔۔اور اس وقت وہ زریاب خان کی حویلی میں موجود تھا۔۔۔۔
“لڑکے تم یہاں آکر بہت بڑی غلطی کر چکے ہو ۔۔اب میں تمہارا وہ حشر کروں گا کہ تمہاری روح تک کانپ جائے گی۔۔۔۔”زریاب خان غرایا۔۔
“نہیں انکل پلیز بس ایک دفعہ معاف کر دیں۔۔۔میں بہت بے چین ہوں میری روح کو کسی طور سکون نہیں آرہا۔۔میں زویا سے بھی معافی مانگنے کو تیار ہوں آپ بلائیے اسے ۔۔۔اگر مجھے اس کے پاؤں بھی پڑنا پڑا تو پڑوں گا بس مجھے معافی چائہیے۔۔۔”ذیان نے گڑگڑاتے ہوئے کہا۔۔۔۔
“تمہیں کیا لگتا ہے تمہارے معافی مانگنے سے میری بیٹی کے دامن پر لگا داغ مٹ جائے گا۔۔۔؟؟تمہاری وجہ سے میری بیٹی کی معصومیت پر دھبا لگ چکا ہے۔۔۔۔بولو لڑکے اب کون شریف لڑکا میری بیٹی سے شادی کرے گا ۔۔؟؟اس کا مستقبل برباد کر کے رکھ دیا ہے تم نے۔۔۔”زریاب خان نے غصے سےدھاڑتے ہوئےکہا۔۔۔
“انکل میں نے اس کی زندگی تباہ کی ہے نا۔۔اب میں ہی اس کی زندگی سنواروں گا ۔۔۔میں شادی کروں گا اس سے ۔۔۔”ذیان نے جلدی سے کہا یہی تو وہ چاہتا تھا۔۔۔
“ایسے کیسے شادی کر لو گے تم اس کے ساتھ۔۔۔اپنے والدین کو لے کر آؤ سب کچھ ایک طریقے سے کیا ہوگا۔۔۔۔”زریاب خان کی تو دلی مراد بر آئی تھی ۔۔۔انکی بیٹی کی عزت اس طرح محفوظ ہو سکتی تھی تو وہ کیونکر نہ مانتے ۔۔۔۔
“ٹھیک ہے انکل ۔۔۔کل میں اپنے والدین کو لے کر آؤں گا۔۔۔بہت بہت شکریہ انکل ۔۔۔آپ نے مجھے ایک موقع دیا۔۔۔ان شاء اللہ میں آپ کو مایوس نہیں کروں گا۔۔۔”ذیان نے آنکھوں میں آئےمصنوعی آنسوؤں کو پونچھتے ہوئے جلدی سے کہا۔۔۔بظاہر ذیان کو دیکھ کر ایسا لگ رہا تھا جیسے کسی ریگستان میں بھٹکے ہوئے پیاسے مسافر کو پانی کا کنواں مل گیا ہو۔۔۔۔اتنا کہہ کر دل میں اپنی پہلی کامیابی پر خود کو داد دیتا وہ حویلی سے باہر نکل آیا جہاں دانیال اس کا انتظار کر رہا تھا۔۔
