Tere Ishq Sy Meri Zaat Tak by Ayesha Mughal NovelR50552 Tere Ishq Sy Meri Zaat Tak (Episode 06)
Rate this Novel
Tere Ishq Sy Meri Zaat Tak (Episode 06)
Tere Ishq Sy Meri Zaat Tak by Ayesha Mughal
“کیا ہوا زریاب خان۔۔۔؟؟؟”اماں بیگم نے زریاب خان کو غصے میں حویلی میں داخل ہوتے دیکھ کر پوچھا ۔۔۔
“اماں ابھی کچھ ہونے کے لیے بچا ہی کیا ہے ۔۔۔؟؟اس لڑکی نے ہمیں ذلیل وخوار کر کے رکھ دیا آپ جانتی بھی ہیں وہ لڑکی کس جگہ پر تھی ۔۔۔؟؟جہاں کوئی بھی شریف لڑکی جانے سے پہلے مرنا پسند کرے گی ۔۔۔۔اگر یہ بات گاؤں والوں کو پتا چل گئی تو تھو تھو کریں گے سب گاؤں والے ہمارے منہ پر۔۔۔۔”زریاب خان نے اپنے غصے پر قابو پاتے ہوئے کہا ۔۔۔۔
“یہ تو کیا کہہ رہا ہے زریاب خان۔۔۔؟؟کہاں ہے میری بچی ۔۔۔”اماں بیگم فکرمند لہجے میں پوچھا ۔۔۔۔
“اس لڑکی نے کچھ کہنے لائق چھوڑا کہاں ہے اماں بیگم۔۔۔۔وہ لڑکی پیسوں کے لالچ میں اتنی اندھی ہو گئی تھی اس نے اپنی عزت کی بھی پرواہ نہیں کی ۔۔۔اور اپنے ساتھ ساتھ ہمیں بھی کہیں منہ دکھانے کے قابل نہیں چھوڑا ۔۔اگر اسے پیسے ہی چاہیے تھے تو مجھے بتاتی یوں سربازار ہماری عزت کو تو نیلام نہ کرتی ۔۔۔”زریاب خان نے آدھا جھوٹ اور آدھا سچ ملا کر بتایا تھا ۔۔۔۔
“ایسا نہیں ہو سکتا زریاب خان ضرور تجھے کوئی غلط فہمی ہوئی ہو گی میری بچی ایسا کبھی نہیں کر سکتی ۔۔۔”اماں بیگم فوراً عائشے کے حق میں بولی تھیں انہیں پورا بھروسہ تھا کہ انکی عاشو کبھی ایسا نہیں کر سکتی ۔۔۔
“ایسا کر چکی ہے وہ لڑکی ۔۔۔بہتر یہی ہے کہ اب اس لڑکی کا ذکر اس گھر میں کبھی نہ کیا جائے ۔۔۔میں نہیں چاہتا کہ اس کا سایہ بھی میری بچیوں پر پڑے ۔۔۔”زریاب خان کے لہجے میں عائشے کے لیے نفرت ہی نفرت تھی ۔۔۔زریاب خان سارا زہر اماں بیگم کے کان میں انڈیلتے اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئے ۔۔۔اماں بیگم کی آنکھوں سے نیند پوری طرح رخصت ہو چکی تھی ۔۔۔وہ پوری رات انہوں نے رورو کر اور عائشے کے لئے دعائیں کرتے ہوئے گزاری تھی ۔۔۔۔
اگلےدن کا سورج زریاب خان کے لئے بہت سی مشکلات لے کر آیا تھا ۔۔۔عائشے کے گھر سے غائب ہونے کی خبر پورے گاؤں میں پھیل چکی تھی جو بھی سنتا انگلیاں دانتوں میں دبا لیتا۔۔۔
“گاؤں میں بات پھیلی کیسے ۔۔۔آخر کس نے یہ حرکت کی۔۔؟؟ہم نے تو کسی کو بھنک بھی نہیں پڑنے دی پھر ایسا کون ہے جسے علم تھا کہ عائشے گل گھر سے غائب ہے۔۔کون ہے جو آستین کا سانپ بنے بیٹھا ہے ۔۔۔”زریاب خان پریشانی کے عالم میں ادھر ادھر ٹہل رہے تھے ۔۔۔نوکروں کی خبر تو وہ پہلے ہی لے چکے تھے ۔۔۔ان سے بھی زریاب خان کو کوئی سراغ نہ ملا۔۔۔۔اماں بیگم اب کبھی اپنے کمرے سے نکلتی تھیں۔۔ وہ عورتیں جو سارا سارا دن کام کیا کرتی تھیں وہ اب اماں بیگم کو طنزیہ نظروں سے دیکھتیں سرگوشیاں کرتے گزر جاتیں۔۔۔
اب بھی اماں بیگم ہال میں بیٹھے قرآن پاک کی تلاوت کرنے میں مصروف تھیں کہ کام کرتی کچھ عورتوں کی آوازیں ان کے کانوں میں پڑیں۔۔۔
” توبہ توبہ ایک ہفتے سے بیٹی غائب ہے اللہ جانے کس کے ساتھ بھاگ گئی ذرا بھی حیا نہ آئی مرے ہوئے ماں باپ کی لاج ہیں رکھ لیتی۔۔۔”
” میں تو شروع سے ہی لڑکیوں کو پڑھانے کے خلاف میں نے تو دبے لفظوں میں کہا بھی تھا اماں بیگم سے پر آگے سے کہتی ہیں مجھے اپنی بیٹی پر پورا اعتبار ہے۔۔۔ بندہ پوچھے بچے کہاں گیا اب وہ اعتبار۔۔۔؟؟”
” لو بھلا لڑکیوں کو کون پڑا تھا مگر اماں بیگم کا دماغ تو ویسے ہی ساتویں آسمان پر رہتا تھا۔۔۔۔”
” شکل سے تو بڑی شریف لگتی تھی کیا پتا تھا اندر سے ایسی نکلے گی توبہ توبہ دہ ایسی بے حیا اولاد کسی کو نہ دے۔۔۔”
“کیسی ہیں اماں بیگم۔۔؟؟کچھ پتا چلا بیٹی کا۔۔۔؟؟کہاں چلی گئی آخر ۔۔”ایک عورت نے اماں بیگم کو دیکھ کر طنزیہ لہجے میں کہا۔۔۔
اماں بیگم بغیر کوئی جواب دئیے خاموشی سے اندر چلی آئیں ۔۔۔آنکھیں پھر سے نم ہو گئیں تھیں ۔۔۔
“یا اللّٰہ یہ کس آزمائش میں ڈال دیا۔۔ایسا کونسا گناہ ہو گیا تھا میری بچی سےپتا نہیں کس حال میں ہوگی میری بچی اس کی حفاظت کرنا یارب ۔۔۔”وہ دعا مانگتے ہوئے پھر سے رو پڑی تھیں ۔۔۔







عائشے بیڈ پر بیٹھ کے ہر چیز کا بخوبی جائزہ لے رہی تھی ھیشم جیسے شہزادے کی خوابگاه کو بھی اسی کے شایان شان سجایا گیا تھا۔۔۔ سائیڈ ٹیبلز پر بہت ہی خوبصورت شو پیسیز رکھے ہوئے تھے ۔۔۔۔ سامنے والی دیوار پر بڑے سے اسپلٹ اے سی کے نیچے بڑی سی ایل ای ڈی اسکرین جس نے تقریباً پوری دیوار کو کور کیا ہوا تھا۔۔۔ دائیں سائیڈ والی دیوار پر خوبصورت قیمتی پینٹنگز اور بائیں دیوار پر خوبصورت لارج سائز ونڈو پر پڑے بھاری قیمتی پردے ۔۔۔ مہنگا ترین فرنیچر ۔۔۔ کمرے کی ہر چیز اپنے قیمتی ہونے کا ثبوت دے رہی تھی اور اپنی مخصوص جگہ پر ترتیب سے پڑی ہوئی تھی ۔۔۔ وہ ھیشم خان کے ذوق و پسند کو سراہے بغیر نہیں رہ سکی ۔۔۔ ایئر فریشنر کی فریش خوشبو کمرے میں چاروں طرف چکراتی پھر رہی تھی ۔۔۔ دماغ میں اترتی یہ تروتازہ سی مہک اور روم کی اس اعلیٰ پائے کی سجاوٹ میں وہ جیسے کھو سی گئی تھی ۔۔۔ یہی سب تو وہ چاہتی تھی اسے آج بھی یاد تھا جب وہ اماں بیگم کو اپنے خوابوں کے بارے میں بتایا کرتی تھی تو اس کے خیالات سن کر وہ محظوظ ہوکر ہنستی جاتی تھیں۔۔ اور وہ ان کے یوں ہنسنے پر ان سے خفا ہو جاتی تھی۔۔۔ وہ ایک نازک خیالات رکھنے والی حساس سی لڑکی تھی ۔۔۔ اس کے خواب و جذبات بڑے قیمتی تھے ۔۔۔ اس نے بھی سب لڑکیوں کی طرح اوائل عمری میں ہی چھوٹے چھوٹے خواب سجائے تھے ۔۔۔اور آج اسے اپنے تمام خوابوں کی تعبیر ھیشم کی صورت مل بھی گئی تھی لیکن پھر بھی وہ خوش ہونے بجائے افسردہ تھی ۔۔۔ رو رہی تھی ۔۔ تڑپ رہی تھی کیونکہ اس کے خواب اسطرح سے پورے ہو یہ تو اس نے کبھی نہیں چاہا تھا۔۔۔ اسے خود اپنا آپ بوجھ کی طرح لگنے لگا تھا۔۔۔ ایسا بوجھ جسے اس کے گھر والوں نے نفرت سے اپنے سروں سے اتار کر پھینک دیا تھا۔۔۔ اپنی وہ حویلی جہاں اس نے اپنی پوری زندگی گزاری تھی جن لوگوں کے ساتھ اپنی بیس سالہ زندگی کا ایک ایک لمحہ گزارا تھا۔۔۔ ان ہی لوگوں نے اسے بدکردار کہہ کر اسے قبول کرنے سے انکار کردیا ۔۔۔۔وہ چچا جسے اس نے اپنے پاپا کے بعد باپ کی جگہ سمجھا انہوں نے ہی اس کا یقین نہیں کیا۔۔۔۔ وہ اپنوں سے بچھڑ کر ایک دلدل میں اتر گئی تھی۔۔۔۔ وہ شہزادوں جیسا شخص اگر اسے اس دلدل سے نہیں نکالتا تو وہ آج موت سے بدتر زندگی گزار رہی ہوتی یا شاید اب تک اپنی زندگی کو ختم بھی کر چکی ہوتی۔۔۔۔ آج اگر یہ شادی باقی نارمل شادیوں کی طرح ہوتی یا وہ نارمل طریقے سے ھیشم کی زندگی میں شامل ہوتی اور اپنی قسمت پر نازاں ہوتی ۔۔۔ لیکن ابھی تو وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی وہ خود کو خوش نصیب سمجھے یا بدنصیب۔۔۔ جس طرح کے حالات سے وہ گزر کر ھیشم کی زندگی میں شامل ہوئی تھی ان کو دیکھتے ہوئے نا تو وہ خود کو ھیشم کے قابل سمجھتی تھی نا ہی اس کے سامنے خود کو پیش کرنا چاہتی تھی۔۔۔۔ آج اس کی شب زفاف تھی ھیشم اور اس کی زندگی کا نیا سفر شروع ہونے کو تھا۔۔۔ مگر کیا وہ ھیشم جیسے انسان کے قابل تھی ۔۔۔؟؟؟ کیا تھا اس کے پاس اس فرشتہ صفت شخص کے لئے ۔۔۔۔؟؟؟ آنسو تھے کہ تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے مٹھیاں بھینچے مسلسل وہ اپنے آپ کو نارمل رکھنے کی کوشش میں مبتلا تھی ۔۔ مگر لاکھ جتن کرنے کے باوجود بھی وہ اپنے آپ کو نارمل نہیں کر پا رہی تھی۔۔۔ اسے رہ رہ کر حالات کی ستم ظریفی پر رونا آ رہا تھا ۔۔۔۔ وہ ھیشم کے سامنے کمزور نہیں پڑنا چاہتی تھی مگر اس کوشش میں اس کی آنکھیں اس کا ساتھ دینے سے انکاری تھیں ۔۔۔وہ اس وقت اپنے آپ کو سمجھ نہیں پارہی تھی۔۔۔ کیا تھا اس کے اندر غم۔۔؟؟ خوشی۔۔؟؟؟ افسوس۔۔۔؟؟؟ یا اپنی ذات کے یوں بے مول ہونے کا درد۔۔۔؟؟؟ اس نے بے دردی سے آنکھوں کو زور سے مسلا تھا۔۔۔۔ مگر آنسوؤں نے بھی جیسے قسم کھائی تھی آج نا رکنے کی ۔۔۔ وہ بلکل خالی ہوچکی تھی ۔۔۔ اس کا دل خالی تھا۔۔۔ اس کا ذہین تاریک ہو رہا تھا ۔۔۔ دل ایک دم جیسے کسی نے مٹھی میں جکڑلیا تھا ۔۔۔ اس کی آنکھوں سے بہتے آنسو اس کے درد کے گواہ تھے ۔۔۔۔ کتنی بے مول تھی اس کی ذات جسے اس کے اپنوں نے ہی قبول نہیں کیا تھا۔۔۔ کتنا آسان تھا اس کے اپنوں کے لئے اسے مارنا۔۔۔ مرنا۔۔۔؟؟؟ ہاں مرنا ۔۔۔۔ کیا مرنا ہی اس کے لئے نجات کا سب سے بہترین طریقہ تھا۔۔۔۔؟؟؟ اس بوجھ جیسی زندگی سے آزاد ہونے میں ہی اس کی بقا چھپی ہوئی تھی۔۔۔ ؟؟؟ اب تو ویسے بھی اس کا جینے کا کوئی فائدہ بھی نہیں تھا۔۔۔ وہ اپنے گھر والوں کے لئے بدنامی کی وجہ بن چکی تھی ۔۔۔ اور اس فرشتہ صفت شخص کے سامنے تو سر اٹھانے کے بھی قابل نہیں تھی۔۔۔ ہاں اسے مر جانا چاہیئے تھا۔۔۔۔ اس خیال کے آتے ہی وہ بیڈ سے اٹھتی آئینے کے سامنے جا کھڑی ہوئی اور آہستہ آہستہ اپنے زیور اتارنے لگی ۔۔۔ اس کی نظریں کسی چیز کی تلاش میں پورے کمرے کا جائزہ لینے لگیں۔۔۔ تب ہی اس کی نظر سامنے ٹیبل پر پڑی اس پھلوں کی ٹوکری میں موجود چھری پر ٹھہر سی گئیں ۔۔۔ بے ساختہ وہ اس کی جانب بڑھی تھی اور کچھ بھی سوچے سمجھے بغیر وہ چھری اس نے اپنی نبض پر رکھ لی تھی ۔۔۔
بہت سی سوچیں اس کے ذہن میں رقص کرنے لگی تھیں ۔۔۔۔اس کے دماغ میں ایک مرتبہ پھر سے وہی الفاظ گونجے تھے ۔۔۔”ایک کروڑ”۔۔اور یہ الفاظ یاد آتے اس کا پورا جسم لرز گیا ۔۔کتنی مضبوطی سے اسکی کلائی پکڑے وہ کوٹھے سے باہر آیا تھا۔۔کلائی پر اس کی گرفت کے نشان اب بھی موجود تھے ۔۔۔”اگر وہ اتنا ہی اچھا انسان ہے پھر وہ وہاں کیوں موجود تھا ایسے ہی تو کوئی ایک کروڑ نہیں دیتا کیا مقصد تھا اس کا اس سب کے پیچھے ۔۔۔۔؟؟”وہ اب بھی یہی سوچ رہی تھی ۔۔بےسکونی تھی کہ بڑھتی جا رہی تھی سر درد سے پھٹا جا رہا تھا ۔۔۔اسے اپنے آپ سے وحشت ہونے لگی تھی ۔۔۔”یا اللّٰہ تونے اس شخص کو مسیحا بنا کر میرے لئے وہاں بھیجا تھا یا اللّٰہ پر یہ کیسا انصاف ہے جسکا جو دل کیا اس نے وہ میرے ساتھ کیا کسی نے مجھے پوچھنا بھی ضروری نہیں سمجھا ۔۔۔۔کیوں یااللہ کیا میں اتنی بے مول ہوں۔۔۔؟”وہ دل ہی دل میں اللّٰہ سے مخاطب تھی ۔۔۔۔اور تب ہی چھری پر اس کی گرفت سخت ہوئی تھی ۔۔۔اور اس نے زور سے آنکھیں میچیں تھیں ۔۔۔اس سے پہلے کے وہ اسکی نازک کلائی کو زخمی کرتی دروازہ کھلنے کی آواز پر اس نے پٹ سے آنکھیں کھولی تھیں ۔۔۔اور سامنے کھڑے ھیشم خان کو دیکھ کر وہ جی جان سے لرزی تھی ۔۔ناجانے اب کیا ہو گا اس کے ساتھ ۔۔۔۔عائشے تو کاٹو بدن میں لہو نہیں کے مصداق ہو گئی تھی ۔۔۔۔ھیشم خان نے جلدی سے آگے بڑھ کر اس کے ہاتھ سے چھری کھینچ کر زمین پ پھینکی تھی ۔۔۔۔
“یہ آپ کیا کرنے جا رہی تھیں عائشے گل۔۔۔؟؟”ھیشم خان نے سخت لہجے میں کہا اگر اس کو آنے میں تھوڑی دیر اور ہوجاتی تو یہی سوچ اسے غصہ دلاگئ تھی۔۔۔۔لیکن عائشے کی جانب سے جواب ندارد ۔۔۔عائشے تو جیسے برف کی سل جیسے ہو گئی تھی ۔۔۔”ہم کچھ پوچھ رہے ہیں عائشے گل ۔۔ہمیں اپنی بات دہرانے کی بلکل عادت نہیں ہے۔۔؟؟”ھیشم خان پھر سے غرایا تھا ۔۔۔عائشے تو اس کی تیز آواز سے ہی کانپ گئی تھی آنسو مسلسل بہہ رہے تھے ۔۔۔۔عائشے ہمت مجتمع کرتے ہوئے گویا ہوئی ۔۔
“کیوں کیا آپ نے یہ سب ۔۔؟؟کیوں دئیے ایک کروڑ میرے لیے ۔۔۔؟؟میں اتنی عنایات کے قابل نہیں ہوں ۔۔میں تو اک بکی ہوئی لڑکی ہوں ۔۔۔آپ میرے بارے میں جانتے ہی کہاں ہیں۔۔۔؟؟یہ جانتے ہوئے بھی کہ آپ مجھے ایسی جگہ سے لائے ہیں جہاں شریف لڑکیاں کھڑا ہونا بھی ناپسند کرتی ہیں ۔۔۔؟؟یہ سب جانتے ہوئے بھی آپ نے کیوں کیا مجھ سے نکاح ۔۔۔۔؟؟”لہجے میں ٹوٹ پھوٹ واضح تھی ۔۔۔
“کیونکہ ھیشم خان اتنا بے غیرت نہیں کہ کسی پاکباز لڑکی کو اس گندے کیچڑ میں چھوڑ کر آتا اور آپ سے نکاح کی وجہ صرف آپکے چچا کو یقین دلانا تھا کہ آپ بلکل پاکباز ہیں ۔۔۔۔اور ایک بات اپنے ذہن میں بٹھا لیجئے عائشے گل ۔۔۔پہلے آپ جو بھی تھیں مجھے اس بات سے کوئی غرض نہیں۔۔۔لیکن اب آپ ھیشم اسماعیل خان کی عزت بن چکی ہیں ۔۔۔۔اور ھیشم خان یہ بلکل بھی گوارا نہیں کرے گا کہ کوئی اس کی عزت پر انگلی اٹھائے ۔۔۔۔اب آپ عائشے ھیشماسماعیل خان بن چکی ہیں ۔۔۔سو اگلی دفعہ اتنے گھٹیا الفاظ بولنے سے پہلے یہ یاد رکھئیے گا کہ آپ کسی اور نہیں ہماری بیوی کےبارے میں بول رہی ہیں ۔۔۔امید ہے آئندہ مجھے اپنی بات دہرانی نہیں پڑے گی ۔۔۔”ھیشم خان نے سخت لہجے میں اسے تنبیہہ کرتے ہوئے کہا۔۔۔
“چچا کو تو آپ یقین دلا چکے لیکن کل کو جب سب کو یہ بات پتا چلے گی تو کس کس کو جواب دیں گے آپ ۔۔۔؟؟کس کس کو میری پاکیزگی کا یقین دلائیں گے۔۔۔”عائشے گل نے سوالیہ نظریں اس کے چہرے پر جماتے ہوئے کہا۔۔۔
“ھیشم خان اپنی عزت کی حفاظت کرنا اچھے سے جانتا ہے عائشے گل ۔۔۔اور اگر آپکو اس نکاح سے اعتراض ہے تو جو فیصلہ آپ کرنا چاہتی ہیں کر سکتی ہیں ۔۔۔ھیشم خان کبھی بھی زبردستی کا قائل نہیں رہا ۔۔۔۔”عائشے کے آنسو آنکھوں میں ٹھہر گئے تھے ساری راہیں مسدود کر کے اب وہ فیصلے کی ڈور اسے تھما چکا تھا وہ بے یقینی آنکھوں میں لیے اسے دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔
“عائشے گل ہمیں اس طرح دیکھنے سے بہتر ہے آپ اپنے فیصلے پر غور کریں اگر آپ واپس جانا چاہتی ہیں تو آپ کو کوئی نہیں روکے گا لیکن ایک بات یاد رکھئیے گا ہر بار آپکو بچانے کوئی ھیشم نہیں آئے گا ۔اور جہاں تک زریاب خان کی بات ہے تو وہ آپ کو اب بھی قبول نہیں کرے گا۔۔۔”ھیشم نے اسکے اس طرح دیکھنے پر چوٹ کی تھی ۔۔۔
“نہیں وہ کہاں جائے گی ۔۔۔اور واپس اس جگہ کبھی نہیں جائے گی صحیح ہی تو کہہ رہا ہے یہ انسان ہر دفعہ کوئی ھیشم خان نہیں آئے گا مجھے بچانے کے لئے ۔۔۔پھر سے اسکے خریدار آئیں گے اور اس کی بولی لگائی جائے گی ۔۔۔۔نہیں ۔۔اس خیال کے آتے ہی اس نے جھرجھری لی تھی ۔۔۔”جیسا بھی ہے یہ انسان کم از کم مجھے رہنے کے لیے چھت تو دے رہا ہے نا۔۔۔اور سر پر چھت ہونے کا مطلب اچھے سے جانتی تھی ۔۔تو وہ کیوں یہ موقع ہاتھ سے جانے دیتی ۔۔۔؟؟؟انہی سوچوں میں ناجانے وہ کب تک یوں ہی کھڑی رہتی ھیشم خان کی آواز نے اسے چونکایا تھا۔۔۔۔
“ہمیں لگتا ہے آپکو آرام کرنا چاہیے عائشے گل۔۔۔مکمل طور پر ٹھیک ہو جانے پر ہی آپ فیصلہ کر سکتی ہیں اور ہمیں آپ کے فیصلے پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔۔۔”ھیشم خان نے لہجے میں نرمی لاتے ہوئے کہا کیوں کہ وہ جانتا تھا وہ کس اذیت سے گزر رہی اور وہ اس وقت اسے مزید اذیت نہیں دینا چاہتا تھا ۔۔۔۔تب ہی اس کا موبائل بجا تھا ۔۔۔اور فون کان سے لگاتا وہ کمرے سے نکلتا چلا گیا۔۔۔اور عائشے اب کافی حد تک پر سکون ہو چکی تھی۔۔۔۔وہ جان چکی تھی کہ ھیشم خان کے ہوتے ہوئے کوئی اسے ہاتھ تو کیا بری نظر بھی اس پر نہیں ڈال سکتا تھا ۔۔۔اس نے کلمۂ شکر پڑھتے ہوئے آسمان کی جانب دیکھا تھا اور پھر فریش ہونے کی غرض سے واشروم کی جانب بڑھ گئی ۔۔۔
