Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tere Ishq Sy Meri Zaat Tak (Episode 14)

Tere Ishq Sy Meri Zaat Tak by Ayesha Mughal

کام کی مصروفیات کی وجہ سے ھیشم آج کافی لیٹ آیا تھا۔۔۔وہ جیسے ہی کمرے میں آیا ۔۔عائشے جائے نماز پر بیٹھی اپنے رب سے ہمکلام تھی۔۔دونوں ہاتھ اسکی بارگاہ میں اٹھے ہوئے تھے۔۔۔ آنکھوں سے آنسو متواتر بہہ رہے تھے۔۔۔۔جبکہ لب اللہ کے حضور فریاد کرنے میں مشغول تھے۔۔۔۔اسکی ہچکیوں کی آواز پورے کمرے میں گونج رہی تھی۔۔۔ ھیشم مبہوت سا کھڑا عائشے کو دیکھے جا رہا تھا کہ کتنا یقین تھا اسے اپنے رب پر اور ھیشم کو تو یہ یاد بھی نہیں تھا کہ آخری دفعہ کب وہ اللہ کے حضور حاضر ہوا تھا۔۔۔؟؟؟کب اس نے آخری دفعہ اپنے رب کے آگے سجدہ کیا تھا۔۔۔ ؟؟؟ کب اس نے اس پاک ذات سے کچھ مانگا تھا۔۔۔۔؟؟؟ اسے کچھ یاد نہیں تھا ۔۔۔ وہ بس یک ٹک عائشے کو دیکھے جا رہا تھا جو اب دونوں ہاتھ منہ پر پھیرتے جائے نماز تہہ کرتی اپنا بھیگا چہرہ صاف کر رہی تھی۔۔۔ تبھی اس کی نظر دائیں طرف ساکت سے کھڑے ھیشم خان پر گئی۔۔۔۔عائشے اسے یوں ساکت کھڑے دیکھ کر حیران ہوئی تھی اور آہستہ آہستہ قدم اٹھاتی اس کے پاس آئی۔۔۔۔

“السلام علیکم۔۔۔۔” عائشے کی آواز پر ھیشم خان چونکا۔۔۔۔

“وعلیکم السلام۔۔۔۔” ھیشم نے خود کو نارمل کرتے ہوئے جواب دیا۔۔۔۔

“یہ آپ کیا مانگ رہی تھیں اللہ سے۔۔۔۔۔۔۔؟؟ ہم ہیں ناں۔۔۔ ہم آپکو سب دے سکتے ہیں۔۔۔ کیا ہم نے اپنی ذمہ داری اٹھانے میں کوئی کوتاہی کر دی تھی جو آپ اللہ کے سامنے اتنا رو رہی تھیں۔۔۔؟؟؟” ھیشم خان نے فکرمند لہجے میں کہتے ہوئے اسکی پلکوں پر ٹھہرا موتی اپنی پوروں پر چن لیا تھا ۔۔۔ وہ کہاں برداشت کر سکتا تھا کہ عائشے کی آنکھوں میں آنسو آئیں۔۔۔۔

“ایسا نہیں ہے ھیشم ۔۔۔۔ بے شک آپ مجھے سب دے سکتے ہیں۔۔۔ لیکن اس کے پیچھے عطا کرنے والا بھی وہ رب ہی ہے۔۔۔ اس نے آپ کو اتنی قوت دی ہے تبھی آپ کسی کو کچھ دینے کے قابل ہوئے ہیں۔۔۔ اگر اللہ تعالی نہ چاہے تو آپ یہاں سے ہلنے پر بھی قدرت نہیں رکھتے ۔۔۔ ہم انسان تو بے بس ہیں ۔۔۔ ہماری بے بسی کی انتہا تو اللہ پاک نے قرآن پاک میں بھی بیان کی ہے کہ اگر انسان سے کوئی مکھی بھی کچھ چھین کر لے جائے تو انسان اتنا بے بس ہے کہ وہ اس سے کھینچ کر بھی نہیں اپنی چیز نہیں لے سکتا ۔۔۔۔۔ حالانکہ ہم انسان جنہیں اشرف المخلوقات کا مرتبہ دیا گیا اس مکھی کا ہم سے کوئی مقابلہ نہیں پھر بھی ہم اس سے وہ چیز نہیں چھین سکتے ۔۔۔ تو ہم کیسے کہہ سکتے ہیں ہم کسی کو کچھ دینے یا لینے پر قادر ہیں۔۔۔۔؟؟؟؟ ” عائشے نے نرمی سے کہتے ہوئے اسے سمجھایا۔۔۔۔

“ہممم۔۔” ھیشم بے دھیانی سے اس کی بات سنتا واشروم کی جانب بڑھ گیا ۔۔۔ کچھ ہی دیر میں وہ ڈھیلے ڈھالے نائٹ ڈریس میں باہر آیا تھا۔۔۔ عائشے تب تک کھانا لگا چکی تھی۔۔۔ ھیشم نے پوری رغبت سے کھانا کھایا کیونکہ آج کام زیادہ ہونے کی وجہ سے اس نے لنچ بھی نہیں کیا تھا اور اس وقت کھانا بھی بہت لذیذ بنا تھا۔۔۔ تبھی وہ ضرورت سے زیادہ کھا گیا تھا۔۔۔ عائشے اس کے سامنے بیٹھی مسلسل اسے منتظر نظروں سے دیکھ رہی تھی ۔۔۔ ھیشم اس کے اس طرح دیکھنے سے ہی جان گیا تھا کہ آج کھانا عائشے نے بنایا ہے اور اب وہ تعریف سننے کو بے چین ہے۔۔۔

“کھانا بہت مزے دار بنا ہے عائشے۔۔۔” ھیشم نے عائشے کی تعریف کرتے ہوئے کہا کیونکہ پہلے وہ اس کے کھانے کی تعریف نہ کرنے کی سزا بھگت چکا تھا۔۔۔۔

“واقعی۔۔۔” عائشے نے خوش ہوتے ہوئے کہا ۔۔ آج اس نے سارا کھانا ھیشم کی پسند کا بنایا تھا۔۔۔۔ ھیشم نے محبت سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا۔۔۔ ھیشم نے کھانا ختم کرکے ہاتھ صاف کئے ہی تھے کہ عائشے جھٹ سے اس کے سامنے ہاتھ کرتے ہوئے گویا ہوئی۔۔۔

“میرا انعام۔۔۔۔؟؟؟” عائشے کو آج کا یہ انعام کتنا مہنگا پڑنے والا تھا یہ اسے کچھ ہی دیر میں پتا چلنے والا تھا۔۔۔ ھیشم نے عائشے کا بڑھا ہوا ہاتھ تھاما اور اس پر اپنی محبت کی مہر ثبت کی۔۔۔ عائشے کو حیرت کا شدید جھٹکا لگا۔۔۔

“ی۔۔یہ ک۔۔کیا کر رہے ہیں آپ۔۔۔؟؟” عائشے نے گھبراتے ہوئے پوچھا۔۔۔۔

“یہ آپکا انعام تھا۔۔۔۔کیا دوبارہ سے دوں ۔۔۔؟؟” ھیشم نے شرارت سے چمکتی آنکھوں سے اس کا ہاتھ پھر سے تھامتے ہوئے کہا ۔۔۔ عائشے نے سٹپٹاتے ہوئے اس کی گرفت سے اپنا ہاتھ چھڑانے کی کوشش کی تھی ۔۔۔لیکن ھیشم کی گرفت کافی مضبوط تھی۔۔۔ وہ اس کی گھبراہٹ سے محظوظ ہورہا تھا پھر وہ عائشے کا ہاتھ تھام کر اس کے مقابل آکھڑا ہوا ۔۔۔۔۔ عائشے نے بوکھلا کر ھیشم کی طرف دیکھا۔۔۔ جسکی آنکھوں میں اس وقت جذبات کا ایک سمندر موجزن تھا ۔۔۔۔عائشے کی پیشانی پر مارے گھبراہٹ کے پسینے کی ننھی ننھی بوندیں چمکنے لگیں ۔۔۔ دل کی دھڑکن نے الگ شور مچا رکھا تھا ایسا لگتا تھا کہ اس کا دھڑکتا مچلتا دل ابھی پہلو سے نکل کر باہر آجائے گا۔۔۔ عائشے اسکے اتنا زیادہ قریب آنے پر بری طرح بوکھلا گئی تھی۔۔۔۔ اس نے سختی سے اپنی آنکھیں میچیں۔۔۔ اسکی پلکیں بری طرح لرز رہی تھیں۔۔۔ اس کے چہرے کی معصومیت ھیشم کے جزبات میں تلاطم برپا کر رہی تھی۔۔۔۔ سامنے کھڑی یہ لڑکی ہی تو تھی جو اس کے جینے کی وجہ بن چکی تھی ورنہ اس نے تو کب کا خود کے لئے جینا چھوڑ دیا تھا۔۔۔۔ ھیشم دو قدم اور اسکے قریب ہوا تھا ۔۔۔۔ عائشے نے جب ھیشم کی آنکھوں میں مچلتے منہ زور جذباتوں کو دیکھا تو اسکی جان حلق میں آگئی تھی ۔۔۔۔ گھبراہٹ اور شرم سے اس کا برا حال تھا اسے لگا کہ اب وہ اپنی جگہ سے ہل بھی نہیں پائے گی۔۔۔۔ وہ سخت بے بس ہوگئی تھی۔۔ کوئی راہ فرار نا پاکر اس کی آنکھوں سے آنسو موتیوں کی صورت بہنا شروع ہوگئے تھے ۔۔۔ ھیشم نے جب اسے یوں روتے ہوئے دیکھا تو وہ بے اختیار چونک گیا تھا ۔۔۔ اس کی خوبصورت مسکراہٹ تھم سی گئی تھی۔۔۔ اس نے بغور روتی ہوئی عائشے کو دیکھا۔۔۔ کیا وہ اسکے قریب آنے پر رو رہی تھی۔۔۔؟؟؟ ھیشم کو اس کا رویہ تھوڑا عجیب لگا تھا۔۔۔ مگر یہ شاید عائشے کا بھی قصور نہیں تھا ۔۔ان کے رشتے میں اب تک بنی ہوئی دوری ہی عائشے کی گھبراہٹ کا باعث تھی ۔۔۔ تبھی ھیشم نے سوچ لیا تھا کہ وہ آج رات ان دوریوں کو ہمیشہ کے لئے ختم کر دے گا ۔۔۔

وہ اب اپنے جذبات کا مزید قتل نہیں کرنا چاہتا تھا ویسے بھی بظاہر ایسی کوئی بڑی رکاوٹ ان دونوں کے بیچ موجود نہیں تھی جو حق رکھنے کے باوجود وہ دونوں ایک دوسرے سے فاصلہ قائم رکھتے ۔۔۔ ان کے بیچ یہ دوریاں صرف بنا کسی وجہ کے تھیں۔۔۔

ھیشم بس عائشے کو اس رشتے کو سمجھنے کے لئے تھوڑا وقت دینا چاہتا تھا اور اب اسے لگتا تھا کہ عائشے اسے اور اپنے رشتے کو کافی حد تک قبول کر چکی ہے اسی لئے ھیشم نے ان دوریوں کو ختم کرنے کی ٹھان لی تھی۔۔۔ اور ایک بار دوبارہ سے مسکراتے ہوئے جھک کر اسکی پیشانی پر محبت کی مہر ثبت کی ۔۔۔۔ عائشے ابھی بھی رونے میں مصروف تھی۔۔۔ مگر ھیشم نے بہت نرمی سے اس کے چہرے پر بہتے آنسوؤں کو اپنے پوروں پر چنا تھا۔۔۔ھیشم نے اچھی طرح اس کی گھبراہٹ کو محسوس کیا تھا اور اسے کندھوں سے تھام کر پاس پڑے صوفے پر بٹھا دیا تھا اور خود گھٹنوں کے بل اسکے سامنے بیٹھ گیا۔۔۔۔

“بس کر دیں اب مزید کتنا روئیں گی عائشے ۔۔۔۔ ؟؟؟ دیکھیں ذرا آپکی خوبصورت آنکھیں بلکل لال مرچ جیسی ہوگئیں ہیں۔۔۔۔ ویسے ہمیں ایک بات بتائیں گی آپ۔۔۔ ؟؟ کیا ہماری قربت آپ کو اتنی بری لگتی ہے کہ آپ ہم سے بے زار ہوکر یوں رونا شروع کر دیں ۔۔۔؟؟ ” ھیشم نے اس کی سرخ ہوتی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔۔ اور عائشے اس کی بات سن کر تڑپ اٹھی تھی ۔۔۔ اس کی آنکھوں میں بے اختیار شکایت اتر آئی تھی۔۔۔

“آپ بہت بہت برے ہیں ھیشم ۔۔۔” عائشے نے روتے ہوئے اس کے سینے پر مکے مارنے شروع کر دیئے تھے ۔۔۔۔ اسے ھیشم سے یہ امید نہیں تھی کہ وہ اس کی شرم و جھکھک کو کچھ اور معنی دے گا۔۔۔

“ہم نے ایسا کیا برا کیا ہے عائشے ۔۔۔؟؟ ہم تو بس آپکو آپکا انعام ہی دے رہے تھے مگر آپ نے رونا شروع کر دیا۔۔۔ کیا ہم دکھنے میں اتنے برے ہیں کہ آپ ہمیں دیکھ کر ڈر کے مارے رونے لگیں ۔۔۔؟؟؟ ” ھیشم نے شرارت سے کہا ۔۔۔ جبکہ عائشے نے اس کی بات پر رونا دھونا بھول کر ایک بار پھر سے شکوہ کناں نگاہوں سے ھیشم کو گھور کر دیکھا ۔۔۔۔

“میں نے کب کہا آپ ڈراونے دکھتے ہیں ۔۔۔ ؟؟؟ آپ تو بہت ہی زیادہ ہینڈسم ہیں۔۔۔ میں تو بس آپ کے یوں قریب آنے پر شرم سے۔۔۔” عائشے روانی سے بولتے ہوئے اچانک رکی تھی کیونکہ محشم کی شرارتی آنکھیں اس کی بات سنتے ہی مسکرانے لگی تھیں۔۔۔۔ اور وہ زوردار قہقہہ لگا بیٹھا تھا۔۔۔

“بہت بگڑ گئے ہیں آپ ھیشم ۔۔۔۔” عائشے نے معصومیت سے اپنے گال پھلاتے ہوئے کہا اور صوفے سے اٹھتے ہوئے دروازے کی طرف بڑھ گئی تھی ۔۔۔ وہ محشم کی شرارتی نظروں کو خود پر مرکوز پاکر بوکھلاتے ہوئے بیڈروم سے فرار ہونا چاہ رہی تھی ۔۔۔ مگر تبھی ھیشم لپک کر دروازے تک پہنچا تھا اور اس نے دروازے کو لاک کرتے ہوئے عائشے کی فرار کی راہیں مسدود کر دی تھیں۔۔۔

“تو آپ سدھار دیجئے ناں۔۔۔ ویسے ابھی تک تو ہم نے ایسے کوئی کام نہیں کئے جس سے آپ ہمیں بگڑا ہوا سمجھنے لگیں۔۔۔ اور یہ کہاں جانے کی تیاری ہے اب آپ کہیں نہیں جائیں گی ۔۔۔۔ ہم سے دور تو قطعی نہیں۔۔” ھیشم نے اسے تھام کر ایک جھٹکے سے اپنے ساتھ لگاتے ہوئے معنی خیزی سے جواب دیا۔۔ جبکہ وہ ھیشم کی بات سن کر عائشے کانوں کی لوؤں تک سرخ پڑ گئی تھی۔۔۔۔

“عائشے ۔۔۔ آپ ہماری بن چکی ہیں ۔۔۔ ہماری زندگی میں شامل ہو چکی ہیں مگر ہمارے بیچ دوریاں آج بھی ہنوز قائم ہیں ۔۔ یہ دوریاں اب ہمارے لئے عذاب بنتی جا رہی ہیں جنھیں آج ہم ختم کرنا چاہتے ہیں ۔۔۔ ” ھیشم کے لہجے کے تقاضے عائشے کی جان ہلکان کئے دے رہے تھے ۔۔۔ اس کے حواس گم ہوتے جا رہے تھے۔۔۔ اسی لئے وہ اپنی نظریں جھکائے خاموشی سے ھیشم کی بانہوں کے حصار میں کھڑی لرز رہی تھی پھر اس سے پہلے کہ وہ چکرا کر گرتی ھیشم اسے تھام چکا تھا۔۔۔

“آج سے اکیلے آپ کی اس بیڈ پر اجارہ داری ختم ہوئی ۔۔۔ اب سے نا آپ اس بیڈ پر اکیلی ہوں گی اور نا ہی ہم اسٹڈی کے صوفے کو اپنا بیڈ بنا کر اس پر سوتے ہوئے آپ کے قرب کے لئے تڑپیں گے ۔۔۔ آج سے ہم اور آپ دونوں اسی بیڈ پر ہی سوئیں گے ۔۔۔ “ھیشم نے بیڈ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے معنی خیزی سے کہا۔۔۔

“عائشے کی زبان تالو سے چپکی ہوئی تھی اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ ھیشم کو کیا جواب دے ۔۔۔ لیکن اگر وہ چاہتی بھی تو کچھ نہیں کہہ سکتی تھی کیونکہ اس کی زبان نے ہلنے سے انکار کر دیا تھا۔۔۔۔۔۔ عائشے کا پورا چہرہ شرم سے سرخ انگارہ ہو رہا تھا۔۔اس نے اپنی آنکھیں سختی سے بند کی ہوئی تھیں ۔۔ ۔۔ تبھی عائشے نے جھٹکے سے اپنی آنکھیں کھولی تھیں مگر پورے روم میں اندھیرا پھیل چکا تھا۔۔

“عائشے اب ہم آپ کو آپ کے بنائے ہوئے مزے دار کھانے کا اصلی “انعام” دینے والے ہیں۔۔۔” ھیشم نے اس کے بالوں میں انگلیاں چلاتے ہوئے مخمور لہجے میں کہا تھا۔۔ عائشے نے بھی خاموشی سے خود کو اس کے حوالے کر دیا تھا۔۔۔۔

🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹

آج زویا یونی نہیں آئی تھی۔۔۔ذیان نے ناجانے کیوں یہ بات نوٹ کی تھی حالانکہ زویا کے یونی ورسٹی آنے یا نہ آنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔۔۔ بلکہ اس نے شکر کیا تھا کہ اچھی بات ہے وہ یونیورسٹی نہیں آئی کیوں کہ ذیان کے مطابق وہ لڑکی اس کی زندگی کو اجیرن بنا چکی تھی۔۔۔۔لیکن جب زویا اگلے تین دن تک یونی نہیں آئی تو ذیان کو پریشانی ہونے لگی۔۔۔کہیں اس نے اسے تھپڑ مار غلط تو نہیں کیا۔۔۔۔

“نہیں کچھ غلط نہیں کیا وہ لڑکی یہی ڈیزرو کرتی تھی۔۔”اس کے دماغ نے دل کی نفی کی۔۔۔

“لیکن اگر اس نے پرپوز کر بھی دیا تھا تو یوں اسے تھپڑ مارنے کی کیا ضرورت تھی ۔۔۔؟؟”اسکے ضمیر نے اسے جھنجوڑا ۔۔۔۔”ہاں وہ جب بھی یونی آئے گی وہ اس سے معافی مانگ لے گا۔۔۔”وہ دل میں پختہ ارادہ کرتے ہوئے خود سے مخاطب تھا۔۔۔اور اپنے ارادے پر عمل کرنے کا سوچ کر کلاس کی جانب بڑھ گیا۔۔۔۔

اگلے دن ذیان جیسے ہی یونیورسٹی آیا سامنے کھڑی لڑکی کو دیکھ کر چکرایا۔۔اور ایک لمحے سے بھی پہلے وہ اسے پہچان چکا تھا۔۔۔۔اب اس کے لبوں پر طنزیہ مسکراہٹ رقص کر رہی تھی۔۔۔۔سامنے زویا بلیو جینز اور بلیو ہی ٹی شرٹ میں ملبوس اسکارف مفرل کی مانند گلے میں ڈالے آنکھوں پر گلاسز لگائے اس ہی دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔ذیان کے لبوں پر استہزائیہ مسکراہٹ دیکھ کر اس کے تن بدن میں آگ لگ چکی تھی۔۔۔۔تبہی وہ غصے سے ذیان کی طرف آئی۔۔۔۔۔اس سے پہلے وہ کچھ بولتی ذیان نے مضحکہ خیز لہجے میں گویا ہوا۔۔۔۔

“آگئی نا اپنی اصلیت پر۔۔۔تمہیں کیا لگا تم یہ سب گھٹیا حرکتیں کر کے میری نظر میں اچھی بن جاؤ گی۔۔۔نہیں۔۔۔مس زویا خان۔۔یہ تمہاری غلط فہمی تھی۔۔۔میں جانتا تھا تم یہ سب صرف دکھاوا کر رہی ہو مجھے بیوقوف بنا رہی ہو۔۔۔۔تم جیسی بدتمیز لڑکیاں کبھی نہیں بدل سکتیں کیونکہ وہ بے حیائی کی کھائی میں اس حد تک گر چکی ہوتی ہیں کہ ان کے لئے اس میں سے نکلنا ناممکن ہو جاتا ہے۔۔۔۔۔۔اگر سنوارنا ہے نا تو پہلے اپنے باطن کو سنوارو پھر دیکھنا تمہارا ظاہر خود بدلتا چلا جائے گا۔۔۔۔بے شک اللہ دلوں کے حال جانتا ہے۔۔۔لیکن تمہیں یہ باتیں کہاں سمجھ آئیں گی کیونکہ تمہارے دماغ پر تو بس تمہارا غرور چڑھے بیٹھا ہے۔۔۔۔اس غرور کو اتارو اور دیکھو کہ زندگی کی حقیقت کیا ہے۔۔۔۔؟؟؟تمہارا یہاں آنے کا مقصد کیا ہے۔۔۔۔۔؟؟”اس دفعہ ذیان نے اپنا لہجہ تھوڑا نرم رکھا تھا کہ شاید وہ اس طرح سمجھ جائے لیکن ذیان کو کون سمجھائے بدلتے وہ ہیں جنہیں خود میں عیب نظر آتا ہے زویا تو خود کو ایک پرفیکٹ لڑکی سمجھتی تھی۔۔۔۔تو وہ کیسے بدلے گی خود کو۔۔۔۔؟؟۔۔۔۔ذیان کی باتوں پر اس نے نخرے سے آنکھیں گھمائیں تھیں۔۔۔اسکے چہرے پر بیزاریت واضح تھی جو اس بات کا ثبوت تھی کہ اسے ذیان کی باتوں میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔۔۔

“ابھی تم نے میری اصلیت دیکھی کہاں ہے ۔۔۔؟؟؟یہ تو صرف ایک جھلک ہے۔۔۔۔اب بس انتظار کرو اور دیکھو میں تمہارے ساتھ کرتی کیا ہوں ۔۔۔بہت نفرت ہے نا تمہیں مجھ سے اب دیکھو یہ نفرت کس طرح برباد کرتی ہے تمہیں۔۔۔۔۔۔اور یہ جو دو کوڑی کی عزت کا تاج سر پر سجائے پھرتے ہو نا یہ تاج اپنے ہی پاؤں کے نیچے مسل کر رکھ دوں گی۔۔۔۔تمہارا کردار اتنا مشکوک کر دوں گی کہ تم چاہ کر بھی وہ شک دور نہیں کر پاؤ گے۔۔۔ذلیل کرکے رکھ دوں گی تمہیں۔۔”زویا نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کرکہتے ہوئے کہا۔۔۔۔

“میں جانتا ہوں تم اس سے بھی ذیادہ گری ہوئی ہو۔۔۔۔اور تم مجھے کیا ذلیل کرو گی عزت اور ذلت دینے والا تو اللہ ہی ہے۔۔۔اور وہ ظاہر اور چھپی ہوئی ہر بات کو جانتا ہے۔۔۔۔اور میں جانتا ہوں میرا رب مجھے کبھی رسوا نہیں کرے گا۔۔۔۔”ذیان نے پر یقین لہجے میں کہا۔۔۔زویاکے لئے اس کی آنکھوں میں حقارت ہی حقارت تھی اور یہی چیز تو زویا کے غصے کو بھڑکاتی تھی۔۔۔۔

“یہ تو وقت بتائے گا مسٹڑ ذیان ۔۔سو بی کئیر فل۔۔۔اینڈ ویٹ اینڈ واچ۔۔۔”زویا اس کو محتاط رہنے کا کہہ کر آگے بڑھ گئی۔۔۔۔۔جبکہ ذیان اس کی باتوں سےتھوڑا ٹھٹکا توتھا لیکن ساری سوچوں کو ذہن سے جھٹکتا وہ بھی کلاس کی جانب بڑھ گیا۔۔۔۔۔

🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹

” کیا بات ہے آج بہت خوش نظر آ رہی ہو ۔۔۔؟؟”روحی نے رباب کے کھلے چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔

“نہیں ۔۔۔ویسے ہی ہوں۔۔۔۔جیسے روز ہوتی ہوں ۔۔۔۔”رباب نے دھیمی مسکراہٹ چہرے پر سجاتے ہوئے کہا۔۔۔۔

“اچھا ۔۔۔لیکن مجھے ایسا کیوں لگ رہا ہے کہ یہ محبت کے رنگ ہیں جو آج اس پیارے سے چہرے پر کھلے ہیں۔۔۔۔”روحی نے اسے چھیڑتے ہوئے کہا۔۔۔اور اس کی بات پر رباب تھوڑا شرمائی تھی۔۔۔

“اللہ پاک تمہیں ہمیشہ خوش رکھے۔۔۔۔تم ہمیشہ یونہی ہنستی رہو۔۔۔۔”روحی نے اسے دعا دی۔۔۔۔

“آمین ۔۔۔۔دادی اماں۔۔۔۔”رباب نے اسے چڑاتے ہوئے کہا۔۔۔

“میں تمہیں دادی اماں نظر آتی ہوں۔۔۔حد ہو گئی کچھ بھی۔۔۔۔تم سے تو دو تین سال چھوٹی ہی ہونگی۔۔۔”روحی نے اس کی طرف خفا نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔

“ارے بابا اب خفا مت ہونا۔۔۔میں تو بس یونہی مذاق کر رہی تھی۔۔۔۔”رباب نے اس کے ہاتھ تھامتے ہوئے کہا۔۔۔۔جب عقب سے حازم کی آواز آئی۔۔۔

“تم پریشان مت ہو رباب ۔۔۔یہ ایسے ہی ڈرامے بازی کرتی ہے۔۔۔۔”حازم اپنی بات کرتے ہوئے ان کے سامنے آکھڑا ہوا۔۔۔رباب اسے یک ٹک دیکھنے لگی۔۔۔بلیک پینٹ اور ریڈ شرٹ میں ملبوس وہ بہت ہینڈسم لگ رہا تھا۔۔۔کلون کی دلفریب مہک جو اس کی شخصیت کا خاصہ تھی۔۔۔۔وہ ستائشی نظروں سے اس کی جانب دیکھ رہی تھی۔۔۔۔

“کیا ہو گیا مانا کہ میں ہینڈسم ہوں ۔۔۔کیا اب نظر لگاؤ گی۔۔۔؟؟”حازم کی بات پر وہ جھینپ سی گئی۔۔۔اور اپنی بے ساختگی پر نظریں چرا گئی۔۔۔

“ایک نمبر کے کسی تھرڈ کلاس سرکس میں کھڑے جوکر لگ رہے ہو۔۔۔۔۔اور باتیں دیکھو۔۔۔کیا نظر لگاؤ گی؟؟۔۔۔تمہیں کس کی نظر لگ سکتی ہے بھلا۔۔۔۔؟؟؟حد ہو گئی کبھی تو بولنے سے پہلے سوچ لیا کرو ۔۔۔۔”روحی نے اس کی نقل اتارتے ہوئے تپ کر کہا۔۔۔۔

“میں سوچ کر نہیں بولتا اور جو تم ہر وقت پٹر پٹر کرتی رہتی ہو چڑیل وہ کم ہے کیا۔۔۔؟؟”حازم نے حساب برابر کیا۔۔۔۔

“چڑیل ہو گی تمہاری فیوچر وائف ۔۔۔”روحی کی زبان سے جلدی میں پھسلا اسے یاد ہی نہیں رہا کہ اس وقت رباب بھی ان ہی کے ساتھ ہے۔۔۔۔رباب نے اس کی بات پر خونخوار نظروں سے اس کی طرف دیکھا اس کے اس طرح دیکھنے پر روحی نے انگلی دانتوں میں دبائی۔۔۔۔

“ہاں تم کہہ تو ٹھیک ہی رہی ہو ۔۔۔ہے تو وہ چڑیل ہی کسی وقت پیچھا نہیں چھوڑتیہر وقت دماغ پر بسیرا ڈالے رکھتی ہے۔۔۔”حازم نے رباب کو مزید تپایا۔۔۔۔اور اب وہ غصے سے حازم کی طرف دیکھ رہی تھی۔۔۔۔اور رحاب ہنس ہنس کر ادھ موئی ہوتی جا رہی تھی۔۔۔

“حازم گم کر لو اپنی شکل میری نظروں سے ورنہ یہ چڑیل تمہاری جان لے لے گی۔۔۔۔”رباب نے اس کو وارن کرتے ہوئے کہا۔۔۔

“لے لیجئیے محترمہ ۔۔۔۔آپکا حق ہے۔۔۔”حازم نے اپنی گردن اس کے سامنے کرتے ہوئے کہا۔۔۔

“اب یہ فضول عاشقوں والے گھسے پٹے ڈائیلوگ مت مارو میرے سامنے۔۔۔”رباب کو اس کی ڈھٹائی پر خوب غصہ آیا تھا۔۔۔۔۔

“تو ٹھیک ہے میں اس حسینہ کے سامنے مار آتا ہوں دو چار ڈائیلاگ۔۔۔۔۔”حازم نے سامنے سے جاتی کسی لڑکی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔۔۔

“خبردار جو تم نے ایسی ویسی کوئی حرکت ورنہ ۔۔۔”رباب بولتے بولتے رکی ۔۔۔۔

“ورنہ۔۔۔۔۔؟؟”حازم نے بات کو ادھورا چھوڑنے پر سوالیہ نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔

“ورنہ کالج کی سب لڑکیاں تمہارا وہ حشر کریں گی کہ خود کو بھی پہچان نہیں پاؤ گے۔۔۔چلو اب اپنا یہ پیارا سا فضول چہرہ یہاں سے لے کر چلتے بنو کلاس شروع ہونے والی ہے۔۔۔۔”جواب روحی کی طرف سے آیا ۔۔۔

“کیا میں جاؤں۔۔۔؟؟”اس نے رباب کی طرف دیکھتے ہوئے معنی خیزی سے پوچھا۔۔

“تو کیا تمہارے پاؤں پکڑے وہ۔۔۔۔پہلے ہی بہت دماغ خراب کر چکے ہو۔۔۔۔”روحی نے تڑخ کر کہا۔۔۔

“ہمیشہ کباب میں ہڈی بنا کروتم ۔۔۔کوئی اور کام تو ہوتا نہیں ہے تمہارے پاس۔۔۔۔”حازم نے اس کے بیچ پر بولنے پر چوٹ کی۔۔۔

“ہاں ہاں یہ مت بھولو کہ یہ کباب بنایا کس نے ہے۔۔۔”روحی نے اسے وارن کرتی نظروں سے دیکھتے ہوئے بمشکل چہرے پر ہنسی لاتے ہوئے کہا۔۔اور رباب نے ان کی اس عجیب بات پر دونوں کو باری باری دیکھا تھا۔۔

“یہ تم دونوں کس بارے میں بات کر رہے ہو۔۔۔؟؟”رباب نے بھنویں اچکاتے ہوئے کہا۔۔۔

“نہیں کچھ نہیں ۔۔ہم تو بس ایسے ہی ۔۔۔کچھ بھی بول دیتے ہیں۔۔۔ہین نا روحی۔۔۔؟؟”حازم نے گڑبڑاتے ہوئے کہا۔۔اور التجائیہ نظروں سے روحی کی طرف دیکھا۔۔۔۔۔اسے ڈر تھا کہ کہیں رباب کو پتا نہ چل جائے کہ وہ کل سوسائیڈ والا سب ڈرامہ تھا۔۔۔۔

“ہاں ہاں ۔۔ہم پاگل جو ٹھہرے۔۔۔”روحی نے معنی خیزی سے اس کی طرف دیکھتےہوئے کہا۔۔۔

“اچھا میں اب جارہا ہوں کلاس اسٹارٹ ہونے والی ہے۔۔۔۔”حازم جلدی سے جان بچا کر بھاگا۔۔۔۔۔۔

“اسے کیا ہو گیا اچانک۔۔؟؟”رباب نے روحی کی طرف متحیر نظروں سے دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔۔

“کچھ نہیں ۔۔۔آؤ لائبریری چلتے ہیں کچھ کتابیں لینی ہیں میں نے۔۔۔۔”اس سے پہلے رباب مزید چھان بین کرتی روحی اس کا ہاتھ تھام کر لائبریری کی جانب بڑھ گئی۔۔۔

🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹

زریاب خان کی بے چینی دن بہ دن بڑھتی جا رہی تھی۔۔عادل خان اب تک نہیں لوٹا تھا۔۔یہ بات ان کو کسی طور چین نہیں لینے دے رہی تھی ۔۔کہیں کچھ غلط ہونے کا احساس انہیں ہر پل رہتا تھا۔۔۔۔جبکہ نسرین بیگم کو تو زویا کی پریشانی لاحق تھی۔۔۔۔اب بھی وہ لاؤنج میں ٹہلتی زویا کا انتظار کر رہی تھیں۔۔۔۔۔یونی کی چھٹی تو دوپہر میں ہو چکی تھی اور اب شام ہونے کو آئی تھی اور اب زریاب خان کے لوٹنے کا وقت بھی ہونے والا تھا تو وہ چاہتی تھیں کہ زویا ان کے آنے سے پہلے ہی لوٹ آئے ۔۔۔ابھی وہ انہی سوچوں میں گھری تھیں کہ بیرونی دروازے سے آتی زویا پر ان کی نظر پڑی۔۔۔تو وہ جلدی سے اس کی جانب بڑھیں۔۔۔

“تمہیں پتابھی ہے کیا ٹائم ہورہا ہے۔۔۔؟؟”انہوں نے غصے سے پوچھا۔۔۔۔لیکن اس کے قریب جاتے ہی انہیں اس سے سگریٹ کی بو محسوس ہوئی۔۔۔

“کیا تم نے سگریٹ پیا ہے۔۔۔۔؟؟”انہوں نےاسے جھنجوڑتےہوئے کہا۔۔۔جو چہرے پر بیزاری سجائے قطعی جواب دینے کے موڈ میں نہیں لگ رہی تھی۔۔۔۔

“جی پیا ہے۔۔۔آپکو کوئی مسئلہ ۔۔۔؟؟”اس نے بھنویں اچکا کر بدتمیزی سے کہا۔۔۔

“ہاں ہے مسئلہ ۔۔کیوں خود کو برباد کرنے پر تلی ہوئی ہو۔۔۔؟؟تم جانتی بھی ہو کہ یہ سگریٹ کس قدر نقصان پہنچا سکتا ہے تمہیں۔۔۔۔”نسرین بیگم نے اسے سمجھانے کی ناکام کوشش کی۔۔۔

“برباد کون ہو رہا ہے۔۔۔؟؟میں۔۔۔تو آپ کے سامنے میں ہاتھ جوڑتی ہوں میرا پیچھا چھوڑ دیں ۔۔۔میں اپنی لائف اپنی مرضی سے جینا چاہتی ہوں۔۔۔”زویا نے انکے سامنے ہاتھ جوڑتے ہوئے کہا۔۔۔اسکے جواب میں نسرین بیگم نے اس کے منہ پر زوردار تھپڑ مارا۔۔۔۔

“اب اگر اگلی دفعہ بدتمیزی کی تو اس سے بھی برا پیش آؤں گی۔۔۔سمجھی تم ۔۔۔”نسرین بیگم نے انگلی اٹھا کر اسے وارن کرتے ہوئے کہا۔۔

“آپ کی ہمت کیسے ہوئی مجھ پر ہاتھ اٹھانے کی۔۔۔؟؟”زویا نے تڑخ کر کہا۔۔۔۔۔

“جاؤ جا کر اپنا حلیہ درست کرو۔۔۔”نسرین بیگم اس کے سوال کو اگنور کرتیں اسے تاکید کرتیں وہاں سے نکلتی چلی گئیں اسکی غصیلی نظروں نے دور تک انکا پیچھا کیا تھا۔۔۔اور پھر پاؤں پٹختی کمرے کی جانب بڑھ گئی۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *