Tere Ishq Sy Meri Zaat Tak by Ayesha Mughal NovelR50552 Tere Ishq Sy Meri Zaat Tak (Episode 26)
Rate this Novel
Tere Ishq Sy Meri Zaat Tak (Episode 26)
Tere Ishq Sy Meri Zaat Tak by Ayesha Mughal
“آپ نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا کہ آپکی بھابھی ھیشم خان کی بہن ہے۔۔۔۔؟؟”عادل خان نے اس کا بازو اپنے ہاتھوں کی مضبوط گرفت میں جکڑے ہوئے سخت لہجے میں پوچھا۔۔۔عادل خان حورم کے بلانے پر دانیال کی شادی میں آیا تھا۔۔لیکن ھیشم خان کو دیکھ کر وہ شاکڈ تھا۔۔بہت سے سوالوں نے اس کے ذہن میں سر اٹھایا تھا۔۔جن کا جواب صرف حورم ہی دے سکتی تھی۔۔۔۔۔ اس میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ اس کا سامنا کرتا اس لئے وہ چھپتا چھپاتا حورم کی تلاش میں حویلی کی دوسری جانب آگیا اور حورم کو اسی طرف آتے دیکھ کر اس نے اسکا بازو پکڑ کر اسے اپنی جانب کھینچا تھا۔۔۔اور اب چہرے پر سختی لئے اسے گھورنے کاکام سر انجام دے رہا تھا۔۔۔۔
“عادل پہلے میرا بازو چھوڑو۔۔۔مجھے درد ہو رہا ہے۔۔۔”حورم نے اپنے بازو کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔۔اسکی بات پر عادل نے فورا اس کا بازو چھوڑا تھا۔۔۔
“اوہ۔۔۔۔آئی ایم سوری۔۔۔میرا اراہ آپ کو ہرٹ کرنے کا نہیں تھا۔۔۔۔”عادل نے شرمندگی سے کہا۔۔۔۔
“کیا تم ھیشم خان کو جانتے ہو۔۔۔؟؟”حورم نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے تعجب سے پوچھا۔۔۔
“جی جانتا ہوں عائشے کا ہسبینڈ ہے وہ۔۔۔اور نفرت کرتا ہے مجھ سے۔۔۔۔”عادل نے دھیمے لہجے میں نظریں جھکائے ہوئے ہی جواب دیا۔۔۔
“ہمممم۔۔۔۔نفرت کیوں۔۔۔؟؟”حورم نے متجسس ہوتے ہوئے استفسار کیا۔۔۔
“کیونکہ عائشے کے نکاح کے بعد میں عائشے کو واپس اپنی حویلی لے جانے آیا تھا۔۔۔اور تب عائشے کےکہنے پر ہی میں خالی ہاتھ واپس لوٹ گیا تھا۔۔۔اور میری غلطی یہ تھی کہ ھیشم خان نے مجھے اس کا ہاتھ پکڑے ہوئے دیکھ لیا تھا۔۔۔جس کی وجہ سے وہ آج تک میری شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتا۔۔۔”عادل خان نے افسردہ لہجے میں کہا۔۔۔
“لیکن عادل اس بات کو گزرے بہت عرصہ گزر چکا ہے۔۔۔اب سب کی لائف میں بہت چینجز آ چکے ہیں۔۔۔۔ہو سکتا ہے انہوں نے اب تک تمہیں معاف کر دیا ہو۔۔۔”حورم نے نرمی سے کہا۔۔۔
“نو میم۔۔۔انہوں نے اب تک مجھے معاف نہیں کیا ہے۔۔۔۔دو دن پہلے میں نے انہیں کال کی تھی اور معافی بھی مانگی تھی۔۔لیکن ان کا رویہ دودن پہلے بھی ویسا ہی تھا جیسا پانچ سال پہلے تھا۔۔۔۔”عادل خان نے شکستہ لہجے میں کہا۔۔۔۔
“لیکن عادل مزید ایک کوشش تو کی جاسکتی ہے نا۔۔۔۔”حورم نے کسی امید کے تحت کہا۔۔۔۔
“نہیں میم۔۔۔میں صرف آپکے کہنے پر آپکے لئے ہی آیا تھا لیکن شاید اب میرا مزید رکنا ممکن نہیں مجھے جانا چاہئیے۔۔۔۔۔”عادل خان نے اس کی بات کی نفی کرتے حتمی لہجے میں کہا۔۔۔
“لیکن عادل۔۔۔۔”حورم نے مزید بولنا چاہا لیکن عادل نے معذرت کرتے اپنے قدم باہر کی جانب بڑھائے ہی تھے جب ھیشم خان کی آواز پر اس کے قدم منجمد ہوئے تھے۔۔۔۔اور اس نے پلٹ کر ھیشم خان کی طرف رخ کیا تھا۔۔۔۔
“رک جاؤ عادل خان۔۔۔۔”ھیشم خان نے گرجدار لہجے میں کہا۔۔۔۔حورم نے بھی ساکت نظروں سے ھیشم خان کی طرف دیکھا تھا۔۔۔
“تمہیں یہاں آنا ہی نہیں چائہیے تھا۔۔۔۔۔اور اگر آہی گئے ہو تو ہم سے ملے بغیر کیسے جاسکتے ہو۔۔۔۔؟؟”ھیشم خان کا لہجہ سپاٹ تھا۔۔اس کی بات پر عادل خان نے نا سمجھی سے اس کی جانب دیکھا تھا۔۔۔۔
“کیا ہوا عادل خان اتنے شاکڈ کیوں ہو۔۔۔۔؟؟”ھیشم خان نے اسے ساکت نظروں سے اپنی طرف دیکھتے پاکر پوچھا۔۔۔
“نہیں کچھ نہیں۔۔۔السلام علیکم ھیشم خان۔۔۔کیسے ہو۔۔۔؟؟”عادل خان نے جلدی سے خود کو نارمل کرتے ہوئے سلام کیا تھا۔۔۔
“وعلیکم السلام۔۔۔ہم تو ٹھیک ہیں۔۔۔تم کیسے ہو عادل خان۔۔؟؟کافی بدلے بدلے لگتے ہو۔۔۔۔”ھیشم خان نے اپنے مخصوص لہجے میں کہا۔۔۔
“نہیں ھیشم خان میں تو ویسا ہی ہوں جیسا کل تھا۔۔۔۔”عادل خان نے پھیکی مسکراہٹ لبوں پر سجاتے ہوئے کہا۔۔۔جبکہ وہ تو ھیشم خان کے رویے پر حیران تھا۔۔۔
“ہم جانتے ہیں تم ہمارے رویے پر حیران ہو۔۔۔لیکن حیران مت ہو ہم تمہیں معاف کر چکے ہیں۔۔۔اور ھیشم خان جسے معاف کردے زندگی بھر اس بات کو کبھی نہیں دہراتا۔۔۔۔”ھیشم خان اس کی حیرانگی نوٹ کر چکا تھا اس لئے اعلی ظرفی سے بولا۔۔۔
“تھینک یو ھیشم خان۔۔۔میں تمہارا یہ احسان کبھی نہیں بھولوں گا۔۔۔۔”عادل نے مشکور لہجے میں کہا۔۔۔
“شکریہ کرنا ہے تو عائشے کا کرو صرف انہی کے لئے معاف کیا ہے ہم نے تمہیں۔۔۔۔اور ہاں کیونکہ تم عائشے کے چچا زاد ہو اور اس وقت ہمارے مہمان ہو تو تمہیں پوری عزت دی جائے گی۔۔۔۔”ھیشم خان نے مسکراتے ہوئے کہا۔۔۔
“اگین تھینک یو ھیشم خان۔۔۔”عادل نے اگے بڑھ کر اس کے گلے لگتے ہوئے ممنون لہجے میں کہا۔۔۔۔
“السلام علیکم۔۔۔۔۔”ھیشم خان کو تلاش کرتی عائشے بھی حویلی کے اس حصے میں آچکی تھی اور اب سامنے نظر آتے منظر کو اس نے بے یقینی سے دیکھا تھا۔۔۔اور پھر پوری بات سمجھ کر اس نے بلند آواز میں سلام کیا تھا۔۔۔
“وعلیکم السلام۔۔۔کیسی ہیں آپ۔۔۔؟؟”عقب سے آئی عائشے کی آواز پر وہ ھیشم سے الگ ہوا تھا اور پھر نظریں اٹھائے بغیر سلام کا جواب دیتے حال دریافت کی کیا تھا۔۔۔
“میں ٹھیک ہوں۔۔۔۔آپ کو ھیشم معاف کر چکے ہیں تو یہ جھکی نظریں۔۔۔؟؟”عائشے نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھتے تعجب سے پوچھا۔۔۔
“عائشے یہ نظریں کسی شرمندگی کے تحت نہیں بلکہ آپ کی عزت میں جھکی ہوئی ہوں۔۔۔”عادل خان نے نرمی سے جواب دیا۔۔۔۔جہاں ھیشم کو عائشے کو عادل سے بات کرنا ناگوار گزرا تھا عادل کی یہ بات اسے اندر تک سرشار کر گئی۔۔۔۔
“تھینک یو عائشے ۔۔۔مجھے معاف کرنے کے لئے ۔۔۔ میں آئندہ کبھی آپکی لائف میں دخل اندازی نہیں کروں گا۔۔۔”عادل خان کا لہجہ اب بھی دھیما تھا۔۔۔عائشے کو عادل خان میں آیا یہ پوزییٹو بدلاؤ بہت اچھا لگا تھا۔۔۔وہ خوش تھی کہ عادل خان بات کو سمجھ چکا تھا۔۔اس نے اس بات کو اپنی انا کا مسئلہ نہیں بنایا۔۔۔
“شاید ہم سب کو وہ باتیں بھول جانی چائہیں۔۔۔۔میں آپکو کسی سے ملواتی ہوں بس دو منٹ۔۔۔۔”عائشے ماحول کو مزید افسردہ نہیں کرنا چاہتی تھی اس لئے اتنا کہتی حویلی کے بیرونی جانب گئی تھی۔۔۔اور زویا کو ساتھ لئے کچھ ہی دیر میں لوٹی تھی۔۔۔۔عادل نے حیرانی سے زویا کی طرف دیکھا تھا وہ یہاں کیسے ہو سکتی تھی یہ بات اس کے ذہن سے بالا تر تھی۔۔۔زویا نے جیسے ہی عادل خان کو دیکھا وہ دوڑتے ہوئے اس کےگلے لگتی پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔۔جب وہ کچھ دیر بعد چپ ہوئی تو عادل نے اسے خود سے الگ کیا تھا۔۔۔
“کیسی ہو زویا۔۔۔؟؟”عادل خان کے لہجے میں بھی نمی تھی۔۔۔
“میں ٹھیک ہو ۔۔۔تم کیسے ہو ۔۔۔؟؟”زویا نے محبت سے نرم لہجے میں پوچھا۔۔۔
“میری چھوڑو تم بتاؤ یہاں کیسے۔۔۔؟؟”عادل نے حیرت سے پوچھا۔۔۔۔اسکے سوال پر زویا نے مختصر گزرے پانچ سالوں کے بارے میں بتایا تھا۔۔۔۔۔اور عادل خان جہاں ذیان کےکئے پر بھائی ہونے کے ناطے غصے میں آیا تھا وہیں زویا کی نیچر سے بھی وہ اچھے سے واقف تھا۔۔۔۔اور پھر زویا کے سوال پر بھی وہ گزرے پانچ سالوں کے بارے میں بتاتا چلاگیاکہ وہ کسطرح پانچ سال پہلے سب کچھ چھوڑ کر یورپ چلاگیا تھا۔۔۔اور آج لوٹا تھا۔۔۔۔زویا سے اماں بیگم کی ڈیتھ کا سن کر عادل خان کو افسوس ہوا تھا۔۔۔
“او ہیلو گائز۔۔۔بس کردو۔۔۔یہاں شادی ہو رہی ہے یہ رونا دھونا چھوڑو ورنہ دلہے اپنی اپنی دلہن کو لے کر خود ہی رخصت ہو جائیں گے۔۔۔۔”ماحول کو مزید سنگین ہوتا دیکھ کر کب سے خاموش کھڑی حورم نے ہنستے ہوئے کہا۔۔۔اور اس کی بات پر سب نے زور سے قہقہ لگایا تھا۔۔۔۔عادل خان نے مشکور نظروں سے حورم کی جانب دیکھا تھا اور پھر سب مسکراتے ہوئے حویلی کی اندرونی جانب بڑھ گئے۔۔۔۔۔۔















گاڑی کے پہیے تیز رفتار سے سڑک پر دوڑ رہے تھے۔۔۔یہ سڑک کم و بیش ہی استعمال ہوتی تھی۔۔۔ذیان کا دھیان گاڑی سے باہر نظر آتے مناظر پر تھا۔۔اور اب تو رات کے دس بج رہے تھے تو یہ سڑک اس وقت سنسان ہی ہوتی تھی۔۔۔۔وہ گاڑی چلاتا ساتھ میں خود میں چھڑی جنگ سے لڑ رہا تھا۔۔۔وہ نہیں جانتا تھا کہ وہ ھیشم خان اور باقی سب کا سامنا کیسے کرے گا۔۔۔بار بار اس کا دل کرتا کہ وہ آدھے رستے سے ہی مڑ جائے۔۔۔لیکن پھر اپنے دل کی بات ٹالتا گاڑی کی رفتار مزید تیز کر دیتا۔۔۔اب بھی وہ انہی سوچوں میں گھرا سامنے نظریں گاڑھے ڈرائیو کر رہا تھا جب کسی کے اشارہ کرنے پر اس نے گاڑی کی رفتار ہلکی کی تھی۔۔۔کوئی لڑکی مسلسل ہاتھ ہلاتی اسے رکنے کا اشارہ کر رہی تھی۔۔۔ذیان نے گاڑی بلکل اس کے قریب لاکر روکی تھی۔۔۔۔گاڑی کے رکتے ہی وہ لڑکی بھاگ کر گاڑی کے قریب آئی تھی اور اب گاڑی کا شیشہ بجاتی اس سے کچھ کہہ رہی تھی۔۔۔شاید وہ ذیان سے مدد مانگ رہی تھی۔۔۔ذیان جلدی سے گاڑی سے نکلا تھا۔۔۔اور بطور خاص اس کے حلیے کا جائزہ لیا تھا۔۔اس کے بال اس وقت بری طرح بکھرے ہوئے تھے۔۔۔۔بھاگنے یا ناجانے رونے کی وجہ سے اس کی سانس پھولی ہوئی تھیں۔۔۔ذیان اس کی آنکھوں سے اندازہ لگا چکا تھا کہ وہ لڑکی کافی دیر سے رو رہی ہے۔۔۔۔۔وہ لڑکی خاموش کھڑی پر امید نظروں سے اس کی طرف دیکھ رہی تھی۔۔۔لیکن وہ تو اس وقت ناجانے کیوں اس کا جائزہ لینے میں مصروف تھا۔۔۔اسے مسلسل خاموش دیکھ کر وہ لڑکی دوبارہ گویا ہوئی تھی۔۔۔
“پلیز بچا لیجیے مجھے۔۔۔ورنہ وہ لوگ مجھےمار دیں گے ۔۔آپکو اللہ کا واسطہ ہے میری ہیلپ کردیں۔۔۔۔”اس نے گڑگڑاتے ہوئے کہا۔۔۔
“کون ماردے گا آپکو ۔۔؟؟اور کیوں۔۔۔۔؟؟”ذیان نے تعجب سے پوچھا۔۔۔
“پلیز پہلے یہاں سے چلیے۔۔۔میں آپکو سب سچ بتاؤں گی ۔۔پر پلیز اس وقت یہاں سے مجھےلے جائیے۔۔۔میں آپکے آگے ہاتھ جوڑتی ہوں۔۔۔ورنہ وہ لوگ پہنچ جائیں گے یہاں۔۔۔۔”اس لڑکی ہاتھ جوڑتے ہوئے استفسار کیا۔۔۔۔
“اوکے ڈن۔۔۔۔بیٹھیے آپ گاڑی میں۔۔۔۔۔”ذیان نے اس کی حالت دیکھ کر مزید سوال پوچھنا مناسب نہ سمجھا اس لئے اسے گاڑی میں بیٹھنے کی تاکید کرتا خود ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھتا گاڑی کو واپس اپنے فلیٹ کی جانب موڑ دیا۔۔۔۔۔۔وہ خود نہیں جانتا تھا کہ وہ جو کررہا تھا کیا وہ ٹھیک تھا۔۔؟؟اور اگر ٹھیک بھی تھا تو وہ اسے لے کر جائے گا کہاں۔۔۔۔؟؟














رخصتی کا وقت آپہنچا تھا لیکن ذیان ابھی تک نہیں آیا تھا اور اب تو حازم کی امید بھی دم توڑ چکی تھی۔۔۔۔اور ذیان کا نہ آنا اسے ذیان سے مزید متنفر کر گیا۔۔۔وہ کافی دیر سے رخصتی کو ٹال رہا تھا مگر اب جب ذیان نہیں آئے گا اس بات کا یقین ہونے کے بعد وہ بالآخر ہار مان ہی گیا تھا۔۔اس کی آنکھوں میں موجود نمی عائشے دیکھ چکی تھی۔۔۔اور جانتی تھی کہ اس سب کی وجہ کیا ہے۔۔۔؟؟اس لئے حازم کو دیکھ کر عائشے نے اسے مسکرانے کا اشارہ کیا تھا۔۔۔اور اس کے جواب میں حازم نے فورا اپنے لبوں پر زبردستی مسکراہٹ سجائی تھی۔۔۔حازم تو تھا ہی ایسا اپنی فیلنگز کو چھپا کر رکھنے والا۔۔۔دکھ میں بھی مسکرانے والا تو اپنے اس اتنے خاص دن پر بھلا وہ کیسے رو سکتا تھا۔۔۔پہلے روحی کی رخصتی کی گئی تھی کیونکہ رباب نے تو یہیں حویلی میں رہنا تھا۔۔۔رخصتی کے وقت نٹ کھٹ سی رحاب پھوٹ پھوٹ کر روئی تھی۔۔اب بھی وہ ھیشم خان کے سینے سے لگی سسک رہی تھی۔۔۔۔ھیشم نے اسے نرمی سے خود سے علیحدہ کیا تھا اور اس کا مخملی ہاتھ دانیال کے مضبوط ہاتھ میں تھما دیا۔۔۔
“لو دانیال اب تو بھائی نے بھی اس کا ہاتھ تمہیں تھما دیا سنبھالو اپنی مصیبت۔۔۔۔”حازم نے شرارتی لہجے میں کہا۔۔۔حازم نے اس موقع پر بھی بولنے پر گریز نہیں کیا تھا۔۔لیکن آج روحی جو ہر موقعے پر بولنا فرض سمجھتی تھی وہ کچھ نہیں بولی تھی بلکہ سیدھا حازم کے گلے آلگی تھی۔۔۔
“ہائے روحی آرام سے ایسے بھی کوئی بھائی کے گلے لگتا ہے۔۔۔ہڈیاں تڑخا دیں میری تم نے۔۔۔”حازم نے تکلیف ہونے کی ایکٹنگ کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔
“اب اگر کچھ کہا تو سچ میں ہڈیاں توڑ دوں گی۔۔۔۔”رحاب کا لہجہ بھیگا ہوا تھا۔۔۔۔
“اچھا اچھا۔۔۔اب بس کرو جاؤ جلدی۔۔۔مجھے بھی رخصتی کروانی ہے اپنی۔۔۔”حازم بھی کہاں باز آنے والا تھا اسے خود سے الگ کرتے شرارت سے بولا۔۔۔
“دفع ہو۔۔۔۔بھاڑ میں جاؤ۔۔۔”روحی نے غصے سے کہا۔۔اس کی بات پر حازم نے زور سے قہقہ لگایا تھا۔۔۔اس وقت ان بہن بھائیوں کا پیار دیکھ کر وہاں کھڑے سب نفوس کی آنکھوں میں نمی تھی۔۔۔۔۔
“چلو روحی کافی ٹائم ہو گیا ہے۔۔۔۔”عائشے نے آگے بڑھ کر رحاب کو متوجہ کیا تھا اور پھر روحی سب سے ملتی سب کی دعاؤں کے حصار میں دانیال کے سنگ رخصت ہوگئی۔۔ھیشم کو آج اپنا دل کھنچتا ہوا محسوس ہو رہا تھا ایسا لگتا تھا جیسے کوئی اس کی جان کھینچ رہا ہو۔۔۔لیکن وہ بخوبی خود کو نارمل ظاہر کررہا تھا۔۔جس میں کافی حد تک کامیاب ہو چکا تھا ۔۔۔۔۔اور پھر رباب کو بھی حازم کے کمرے میں پہنچا دیا گیا۔۔۔۔آہستہ آہستہ سب مہمان جاچکے تھے۔۔۔۔جب ہال خالی ہوگیا تو سب اپنے اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئے۔۔۔۔














“کیا آپ مجھے بتا سکتی ہیں کہ کون تھے وہ لوگ جن سے آپ بھاگ رہی تھیں؟؟”ذیان نے کافی دیر بعد گاڑی کو سڑک کے کنارے روکتے ہوئے پوچھا۔۔۔
“جی۔۔وہ میری پھپھو اور انکے شوہر تھے۔۔۔وہ لوگ میری جان لینا چاہتے ہیں۔۔۔۔”اس لڑکی نے گھبراتے ہوئے کہا۔۔۔
“لیکن کیوں۔۔۔۔؟؟”ذیان کو اس کی بات پر شدید جھٹکا لگا تھا۔۔۔
“میں ان کی بھتیجی ہونے کے ساتھ ساتھ ان کے بیٹے کی بیوی بھی ہوں۔۔۔لیکن اب تک رخصتی نہیں ہوئی تھی۔۔۔۔چھ مہینے پہلے میرے ہسبینڈ کی ڈیتھ ہو چکی ہے۔۔۔ان کے نام بہت سی پراپرٹی تھی جو وہ اپنی لائف میں ہی میرے نام کر چکے تھے۔۔اور اب یہ لوگ اس لالچ میں مجھے مار کر وہ پراپرٹی ہتھیانا چاہتے ہیں۔۔۔۔آج میں موقع پاکر وہاں سے بھاگی ہوں تو اب وہ لوگ میرا پیچھا کر رہے ہیں۔۔۔۔۔”اس لڑکی نے روتے ہوئے بتایا۔۔۔جبکہ ذیان تو ششدر رہ گیا کیا خونی رشتے بھی اس حد تک خود غرض ہو سکتے ہیں۔۔۔؟؟
“ہمممم۔۔لیکن اب آپ جائیں گی کہاں۔۔۔؟؟”ذیان نے اچنبھے سے پوچھا۔۔۔کیونکہ وہ خود اکیلا تھا تو اس طرح رات کے اس پہر اس لڑکی کو ساتھ لے جانا اسے مناسب نہ لگا اس طرح اس کی عزت پر بات آسکتی تھی۔۔۔۔
“میں نہیں جانتی۔۔۔۔”اس لڑکی نے سر جھکاتے ہوئے کہا۔۔۔اس کے جواب پر ذیان سوچ میں پڑگیا کہ وہ کرے تو کیا کرے۔۔۔؟؟بہت سوچنے کے بعد وہ کسی فیصلے پر پہنچا تھا اور اب اس کا رخ اپنے فلیٹ کی جانب تھا۔۔۔۔وہ لڑکی خاموش تھی اس نے ایک دفعہ بھی نہیں پوچھا کہ وہ جا کہاں رہا ہے۔۔؟؟اس کے لئے اس وقت یہی کافی تھا کہ اس کی جان بچ گئی تھی۔۔۔ناجانے کیوں لیکن اسے ذیان سے ڈر نہیں لگا تھا۔۔۔اب وہ خود سوچ رہی تھی کہ ابھی تو اسے اس فرشتہ صفت انسان نے سہارا دے دیا لیکن وہ بعد میں کیا کرے گی ۔۔۔؟؟کہاں جائے گی۔۔۔؟؟انہی سوچوں میں ڈوبے وہ ناجانے کب سیٹ کی پشت سے ٹیک لگائے سو گئی اسے خبر ہی نہیں ہوئی۔۔۔۔۔اور پھر اس کی آنکھ گاڑی کے رکنے پر ہی کھلی تھی۔۔۔













حازم خوشی سے چہکتا اپنے کمرے کی جانب آیا تھا۔۔۔۔لیکن جیسے ہی کمرے میں داخل ہوا سامنے نظر آتے منظر پر وہ غش کھا کر رہ گیا۔۔۔رباب بڑے مزے سے بیڈ پرر بیٹھی حوزان لیزہ اور آثال کے ساتھ باتوں میں مصروف تھی۔۔۔حازم کا دل کیا اپنا سر دیوار پر ماردے۔۔۔۔وہ غصے سے آگے بڑھتا بیڈ کے پاس آکھڑا ہوا۔۔۔
“اوئے تم تینوں یہاں کیا کررہےہو۔۔؟؟”حازم نے ماتھے پر بل ڈالتے ہوئے پوچھا۔۔۔
“چاچو ہم دلہن چاچی سے باتیں کر رہے ہیں۔۔۔۔”آثال نے معصومیت سے کہا۔۔۔
“لیکن اب کافی رات ہو گئی ہے تم لوگوں کے سونے کا وقت ہو گیا ہے۔۔۔۔۔”حازم نے تڑخ کر کہا۔۔۔رباب کو حازم کا یو غصہ کرنا بڑا مزہ دے رہا تھا۔۔۔۔
“ہاں حازم ابھی ہمیں بہت ساری باتیں کرنی ہیں۔۔۔۔۔”رباب نے اپنی ہنسی دباتے ہوئے کہا۔۔۔
“مجھ سے کر لو باتیں ۔۔میں ہوں نا۔۔۔”حازم نے مسکراتے ہوئے معنی خیزی سے کہا۔۔۔
“چاچو۔۔۔ابھی ہم چاچی سے باتیں کر رہے ہیں۔۔۔۔اور ہم سوئیں گے بھی چاچی کے ساتھ۔۔۔۔آپ جائیں یہاں سے ڈسٹرب مت کریں ہمیں۔۔۔”حوزان نے تڑخ کر کہا۔۔۔وہ بھی آخر حازم اسماعیل خان کا بھتیجا تھا۔۔۔۔۔حازم نے اس کی بات پر اس کی طرف آنکھیں سکیڑ کر دیکھا تھا۔۔۔
“او ہیلو موٹو۔۔۔یہ میرا کمرہ ہے۔۔۔۔”حازم نے مصنوعی غصے سے کہا۔۔۔
“کیا حازم بچے سے بحث کر رہے ہو۔۔۔۔اگر تمہیں نیند آرہی ہے تو جاکر دوسرے کمرے میں سو جاؤ۔۔۔۔”رباب نے آنکھوں میں شرارت لئےسپاٹ لہجے میں کہتے بمشکل اپنی ہنسی روکی تھی۔۔۔حازم منہ لٹکا کر پاس پڑے صوفے پر بیٹھ گیا۔۔۔۔ابھی کچھ ہی دیر ہوئی تھی جب عائشے بچوں کو ڈھونڈتے ہوئے حازم کے کمرے میں چلی آئی۔۔
“حوزان آثال تم لوگ یہاں کیا کر رہے ہو۔۔۔؟؟”ان تینوں کو رباب کے ساتھ باتوں میں مگن دیکھ کر عائشے نے غصے سے کہا۔۔۔۔
“کیوں ڈانٹ رہی ہیں بھابھی۔۔۔بس باتیں کر رہے تھے مجھ سے کیوٹ کیوٹ۔۔۔بہت پیارے ہیں یہ تینوں۔۔۔۔”رباب نے محبت سے ان تینوں کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔
“ان لوگوں کی باتیں تو کبھی ختم نہیں ہوتیں۔۔۔چلو حوزان آثال لیزہ ۔۔۔۔۔”عائشے ان تینوں کی جانب بڑھتے ہوئے بولی۔۔۔
“رہنے دیں نا بھابھی مجھے اچھا لگ رہاہے ان سے باتیں کرنا۔۔۔۔۔”رباب نے حازم کے طرف دیکھتے ہوئے معنی خیزی سے کہا۔۔۔
“ایسے کیسے۔۔۔۔یہ اچھی بات نہیں ہے۔۔۔چلو شاباش۔۔۔”عائشے نے تینوں بچوں کو بیڈ سے اٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔جو جانے کو بلکل تیار نہیں تھے عائشے نے بمشکل انہیں اٹھایا تھا۔۔۔
“تھینک یو بھابھی ۔۔لو یو سووووو مچ۔۔۔۔”حازم نے مشکور لہجے میں کہا۔۔عائشے نے اس کی بات پر زور سے قہقہ لگایا تھا اور بچوں کو لئے باہر کی جانب بڑھ گئی۔۔۔عائشے کے جاتے ہی حازم نے جلدی سے ڈر لاک کیا تھا۔۔۔اور اب وہ مسکراتے ہوئے رباب کی جانب بڑھا تھا۔۔۔۔اور آنکھوں میں شرارت لئے اس کے سامنے ہی بیڈ پر بیٹھ گیا۔۔۔
“کیا ہوا۔۔۔بولتی بند ہو گئ۔۔۔۔اب کرو مجھ سے باتیں۔۔۔”حازم نے معنی خیزی سے کہتے تھوڑی سے پکڑ کر اس کا چہرہ اوپر کیا تھا۔۔۔۔۔لیکن اب رباب کی بولتی بند ہو چکی تھی۔۔۔وہ اب روایتی دلہنوں کیطرح پلکیں جھکائے بیٹھی تھی۔۔۔۔
“ویسے سمجھ نہیں آرہا کیسے تمہاری تعریف کروں۔۔۔۔؟؟اور نہ یہ سمجھ آرہا ہے کہ لہنگے نے تمہیں پہنا ہوا ہے یا تم نے لہنگا پہنا ہوا ہے۔۔۔۔؟؟”حازم نے پرسوچ انداز میں کہا۔۔۔اور رباب تو اس کے اس سوال پر ہی گڑبڑا کر رہ گئی۔۔۔۔اس نے دھیرے سے پلکیں اٹھا کر اس کی طرف دیکھا تھا۔۔۔
“نزاکت سے ان کا پلکیں اٹھا کر ہمیں یوں دیکھنا۔۔۔۔”
“یا الہی اب ہم انہیں دیکھیں یا ان کاہمیں دیکھنا۔۔۔۔”
حازم نے اس کے اس طرح دیکھنے پر شعر پڑھا تھا اس کے شعر پر رباب نے اپنی اٹھی پلکیں پھر سے گرائیں تھیں۔۔۔
“چلو اب تعریف کر بھی دو مجھے چینج بھی کرنا ہے۔۔۔۔”رباب نے اسے مسلسل خود کو دیکھتے پاکر چڑتے ہوئے کہا۔۔۔
“تمہیں دیکھ کر ہمیں وہ باغ میں لگا وہ گلاب یاد آیا۔۔۔۔” جاناں۔۔۔
“جو اس سے پہلے کوئی اور توڑتا جلدی سے اسے میں توڑ لایا۔۔۔۔۔”
حازم کے اس طرح تعریف کرنے پر تو رباب کا منہ کھلارہ گیا۔۔۔وہ جلتی کلستی بیڈ سے اٹھتی ڈریسنگ کے سامنے جا کھڑی ہوئی اور اب اپنے زیور اتارنے میں مصروف تھی جب حازم اس کے پیچھے آکھڑا ہوا اور زیور اتارنے میں اس کی مدد کرنے لگا۔۔۔۔اور پھر رونمائی کے تحفے کے طور پر اس نے بہت ہی نفیس سا لاکٹ اس کی صراحی نما گردن میں پہنایا تھا۔۔۔اور اس کا رخ اپنی طرف موڑتا اس کی پیشانی پر اپنی پاکیزہ محبت کی پہلی مہر ثبت کر گیا۔۔۔۔۔کھڑکی سے جھانکتے اس چودھویں کے چاند نے بھی انہیں ان کے ملن پر مبارکباد دی تھی۔۔۔جسے ان دونوں ںے بہت ہی خوشی خوشی وصول کیا تھا۔۔۔اس رات ان دونوں نے اپنی زندگی کی شروعات ایک دوسرے سے کئی عہدوپیمان باندھتے ہوئے کی تھی۔۔۔اور امید تھی کہ ان کی زندگی اب حسین ہونے والی تھی۔۔۔۔۔














ذیان اسے لئے اپنے سامنے والے فلیٹ میں آگیا۔۔۔۔ وہ رینٹ پر رہتا تھا۔۔۔چونکہ اسے یہاں رہتے پانچ سال ہقگئے تھے تو آس پاس رہنے والوں سے کافی بات چیت بھی ہو گئی تھی۔۔۔اس سامنے والے فلیٹ میں صرف ایک انٹی رہتی تھیں انکا بیٹا آؤٹ آف کنٹری رہتا تھا اور شوہر کی ڈیتھ ہو چکی تھی تو وہ اکیلی ہی رہتی تھیں ۔۔ذیان کافی دفع انکی ہیلپ کر چکا تھا۔۔۔۔وہ ایک خوش مزاج اور ملنسار عورت تھیں۔۔وہ رات کے اس پہر انہیں پریشان تو نہیں کرنا چاہتا تھا لیکن اس وقت اس کے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ بھی نہیں تھا۔۔اس نے ہاتھ بڑھا کر دھیرے سے دروازہ بجایا تھا۔۔۔شاید وہ جاگ رہی تھیں اس لئے جلد ہی انہوں نے دروازی کھول دیا اور سامنے کھڑے ذیان کو دیکھ کر شاکڈ ہوئی تھیں لیکن جب انکی نظر پہلو میں کھڑی اس لڑکی پر گئی تو انکی حیرت کی انتہا نہ رہی ۔۔۔انہوں نے سوالیہ نظروں سے ذیان کی جانب دیکھا تھا۔۔۔
“انٹی کیا ہم بیٹھ کر بات کر سکتے ہیں۔۔۔؟؟”ذیان جان چکا تھا کہ وہ کیا جاننا چاہتی ہیں اس لئے فورا بولا۔۔۔لیکن اندر داخل ہوتے ہی اس نے اس عورت سے منہل کو روم بھیجنے کا اشارہ کیا تھا وہ اس کے سامنے بات نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔۔وہ عورت ذیان کی بات سمجھتیں اسے روم میں چھوڑ کر خود لاؤنج میں آ گئیں۔۔
“ہاں بیٹا کون ہے یہ۔۔۔؟؟اور کہاں سے لائے ہو اسے۔۔۔۔” ذیان نے انہیں شروع سے لے کر آخر تک ایک ایک بات بتائی تھی۔۔۔جسے سن کر انہوں نےکافی تاسف کا اظہار کیا تھا۔۔۔
“سوری۔۔۔بیٹا میں اسے اپنے پاس رکھ تو لیتی لیکن آج صبح مجھے میرے بیٹے کا فون آیا تھا۔۔۔اس نے مجھے اپنے پاس یو کے بلایا ہے۔۔۔”
“اوکے آنٹی کوئی بات نہیں ۔۔۔پلیز آپ سوری مت کہیں۔۔۔”ذیان نے مایوسی سے کہا۔۔۔
“بیٹا ایک کام کرو۔۔۔”
“جی بولیں۔۔۔”ذیان نے تحمل سے کہا۔۔
“اس بچی سے نکاح کر لو۔۔۔ویسے بھی تم پورا دن ہاسپٹل میں ہوتے ہو ۔۔۔۔ایسے کیسے چھوڑو گے اسے۔۔۔۔کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ لوگ پھر سے اس تک پہنچ جائیں۔۔۔۔تم اگر اس سے نکاح کر لو تو تم اسے مضبوط سہارا دے سکتے ہو۔۔۔۔”سامنے بیٹھی اس پچاس سالہ عورت نے دانشمندی سے اسے مشورہ دیا۔۔۔
“لیکن آنٹی میں پہلے ہی شادی شدہ ہوں۔۔اور میں نہیں جانتا کہ یہ کون ہے۔۔۔۔؟؟”ذیان نے نفی کرتے ہوئے کہا۔۔۔
“لیکن بیٹا اگر تم اس کی جان بچانا چاہتے ہو تو اس سے بہتر کوئی حل نہیں ہے۔۔۔کل کو اگر وہ لوگ یہاں تک پہنچ بھی جاتے ہیں تو تم سوسائٹی کو بتا سکتے ہو کہ یہ لڑکی تمہاری بیوی ہے۔۔۔”آنٹی نے اسے پھر سے سمجھایا تھا۔۔کیونکہ وہ ایک جہاندیدہ عورت تھیں اور عورت کی عزت اور معاشرے کے نظریے کو اچھے سے سمجھتی تھیں۔۔۔
“تو کیا آنٹی آپکی نظر میں یہی بہترین اور آخری حل ہے۔۔۔؟؟”ذیان نے بےبسی سے سوال کیا۔۔۔
“ہاں بیٹا۔۔۔”أنٹی نے مسکراتے ہوئے کہا۔۔۔
“تھینک یو آنٹی۔۔۔میں چلتا ہوں۔۔۔آج آپ اسے یہیں رکھ لیں۔۔۔ان شاء اللہ کل پھر جو رب کریم کو منظور ہوا وہ کریں گے۔۔۔اللہ حافظ”ذیان ان کا شکریہ ادا کرتا الوداعی کلمات کہتا وہاں سے نکلتا چلاگیا۔۔۔۔اور اپنے فلیٹ پر آتے ہی اسے پہلا خیال حازم اور رحاب کی شادی پر نہ جانے کا آیا تھا۔۔وہ اپنے بستر پر گرنے کے انداز میں لیٹا تھا اور پھر پورے دن میں جو کچھ ہوا اس بارے میں سوچتا نیند کی وادیوں میں کھو گیا۔۔۔لیکن ایک فیصلہ وہ کر چکا تھا۔۔۔۔اور اب اس پر عمل کرنا کیسا ثابت ہو سکتا تھا یہ تو وقت ہی بتانے والا تھا۔۔۔۔
















بمشکل سب سے جان چھڑواتا وہ مسکراہٹ لبوں پر سجائے ہزاروں ارمان دل میں لئے اپنے کمرے میں داخل ہوا تھا اور جس چیز نے اس کا استقبال کیا تھا وہ تھا گھپ اندھیرا۔۔۔۔پورا کمرہ تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا۔۔۔یہ دیکھ کر اسے حیرت کا شدید جھٹکا لگا تھا۔۔۔اپنے کمرے کے سوئچ بورڈ کا اندازہ تو تھاہی اسے جو بیڈ کی سائیڈ والی وال پر تھا۔۔۔وہ دھیرے دھیرے قدم اٹھاتا سوئچ کی جانب بڑھاتھا۔۔۔وہ پہنچنے ہی والا تھا جب کوئی چیز زور سے اس کے پاؤں میں چبھی تھی۔۔۔چیز چونکہ نوکیلی تھی اور اس کے پاؤں کو زخمی کر چکی تھی۔۔تو وہ اپنا توازن قائم نہیں رکھ پایا اور اوندھے منہ زور سے گرا تھا جب کسی کی زوردار چیخ کمرے میں بلند ہوئی تھی اس نے جلدی سے رحاب کے منہ پر ہاتھ رکھا تھا۔۔۔۔اور وہ اندھیرے میں آنکھیں پھاڑے دانیال کو دیکھنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔۔
“چپ ہو جاؤ چلانا نہیں اب۔۔۔میں ہوں دانیال۔۔۔”دانیال نے تڑخ کر کہتے اس کے منہ سے ہاتھ ہٹایاتھا۔۔۔
“لیکن تم یہ بلڈوزر کی طرح مجھ پر کیوں گرے ہو۔۔۔؟؟”روحی نے بھی اسی لہجے میں پوچھا۔۔۔دانیال اسکی بات کاجواب دئیے بغیر فورا سے اٹھا تھا اور اس دفعہ لڑکھڑاتے ہوئے چلتا سوئچ بورڈ تک پہنچا تھا۔۔۔اور پھر اگلے ہی لمحے پورا کمرہ روشنیوں میں نہا چکا تھا۔۔۔۔اور پھر جیسے ہی دانیال کی نظر زمین پر پڑے اس ائیررنگ پر پڑی وہ غصے سے اس جانب بڑھا تھا اور جھک کر اسے اٹھاتا رحاب کی جانب متوجہ ہوا تھا۔۔۔
“یہ دیکھیں میڈم یہ سب آپ کی ہی کرم نوازی ہے۔۔۔”دانیال نے ائیر رنگ اس کی آنکھوں کے سامنے کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔جسے دیکھ کر رحاب اپنی اس لاپرواہی پر شرمندہ ہوئی تھی۔۔۔۔
“اوہ سوری۔۔مجھے خیال کرنا چائہیے تھا۔۔۔”رحاب خفگی سے بولی۔۔۔
“اٹس اوکے۔۔۔پہلے یہ بتاؤ تم یہ چینج کرکے گدھے گھوڑے بیچ کر اتنی جلدی کیسے سو گئی۔۔۔۔؟؟میرا انتظار تو کر سکتی تھی نا۔۔۔”دانیال نے خفا لہجے میں کہا۔۔۔
“آپ خود لیٹ آئے ہیں غلطی آپکی ہے۔۔۔۔”رحاب نے لاپرواہی سے کہا۔۔۔دانیال نے خفا نظروں سے اسے دیکھا تھا اور الماری کی جانب بڑھ گیا۔۔اور فرسٹ ایڈ باکس ہاتھ میں لئے صوفے پر بیٹھ کر اسکے دئیے گئے پہلے اورعظیم تحفے کی بینڈیج کرنے لگا۔۔۔۔یہ دیکھ کر روحی کو شرمندگی نے آگھیرا ۔۔۔وہ بیڈ سے اترتی دھیرے دھیرے قدم اٹھاتی اس کے پاس زمین پر بیٹھ کر اس کے ہاتھ سے کاٹن لے کر خود زخم صاف کرنے لگی۔۔۔دانیال اس کے ایسا کرنے پر فورا کھڑا ہوا تھا۔۔۔
“چھوڑو رحاب کیا کر رہی ہو۔۔۔۔میں خود کر لوں گا۔۔۔۔”دانیال نے اس کے ہاتھ سے کاٹن لیتے ہوئے کہا۔۔۔
“میں کر دیتی ہوں۔۔۔کیا مسئلہ ہے آپکو۔۔۔ادھر دیں کاٹن۔۔۔”روحی نے اصرار کیا۔۔۔
“نہیں یار۔۔مجھے نہیں پسند کہ تم اس طرح میرے پاؤں کو ہاتھ لگاؤ۔۔۔”دانیال نے محبت سے کہا۔۔۔
“لیکن بیوی ہونے کے ناطے مجھے اچھا لگے گا۔۔۔”رحاب نے مؤدب انداز میں کہا۔۔۔
“نہیں کہا نا نہیں تو نہیں۔۔۔تمہاری جگہ میرے دل میں ہے پاؤں میں نہیں۔۔۔”دانیال نے دل پر ہاتھ رکھتے ہوئے اسے اس کا مقام باور کروایا۔۔۔
“حد ہے ادھر دیں۔۔۔۔”وہ بھی تو رحاب تھی اپنی من مانی کرنے والی اور پھر اس نے زبردستی خود اپنے ہاتھوں سے بینڈیج کی تھی۔۔۔۔
“تھینک یو رحاب۔۔۔”دانیال نے مسکراتے ہوئے کہا۔۔۔
“ویلکم سوئیٹ ہارٹ۔۔۔۔”رحاب نے معنی خیزی سے کہتے اسے آنکھ ماری تھی۔۔۔روحی کی اس حرکت پر تو دانیال کا منہ کھلا کا کھلا ہی رہ گیا تھا۔۔۔۔
“ارے مسٹر ہینڈسم منہ تو بند کر لیں۔۔۔”یہ ایک اور شاکڈ تھا جو روحی کی طرف سے دانیال کو دیا گیاتھا۔۔۔
“تمہاری طبیعت توٹھیک ہےنا۔۔۔”دانیال نے فکرمندی سے پوچھا۔۔۔
“کیسے فیلنگ لیس ہیں آپ۔۔۔انسان تعریف ہی کر دیتا ہے۔۔۔شادی سے پہلے تو بہت لمبی لمبی چھوڑ رہے تھے۔۔۔”رحاب نے اس کی گردن میں بانہیں ڈالتے ہوئے اک ادا سے کہا۔۔۔۔
“شرم کر لو میڈم۔۔۔تم پہلی رات کی دلہن ہو اور حرکتیں دیکھو اپنی۔۔۔۔”دانیال نے اس کے گرد بازوؤں کا حصار کرتے ہوئے اس کی بے باکی پر چوٹ کی تھی۔۔۔۔
“حد ہے۔۔۔جائیں بات مت کریں مجھ سے۔۔۔۔چھوڑیں مجھے۔۔۔۔”رحاب نے ناراضگی سے کہتے ہوئے اس کے حصار سے نکلنا چاہا تھا۔۔۔۔
“آج تو نہیں چھوڑنے والا ایک ظلم تم پہلے کر چکی ہو کم از کم مجھے تو دیکھنے دیتیں کہ کیسی لگ رہی تھی تم۔۔۔۔لیکن یہ دوسرا ظلم نہیں کرنے دوں گا جاناں۔۔۔۔”دانیال نے معنی خیزی سے کہتے اسے اپنے سینے سے لگایا تھا۔۔۔۔۔اور روحی بھی خود کو اس کے حوالے کر چکی تھی۔۔۔جو بھی تھا وہ اللہ کو ناراض نہیں کر سکتی تھی اس کا حق نہ دے کر۔۔۔۔آج یہاں ایک اور محبت اپنے انجام کو پہنچی تھی۔۔۔۔اور یہ انجام ان شاء اللہ بہت اچھا ثابت ہونے والا تھا۔۔۔۔
