Tere Ishq Sy Meri Zaat Tak by Ayesha Mughal NovelR50552 Tere Ishq Sy Meri Zaat Tak (Episode 27)
Rate this Novel
Tere Ishq Sy Meri Zaat Tak (Episode 27)
Tere Ishq Sy Meri Zaat Tak by Ayesha Mughal
آج کا سورج خان حویلی کے مکینوں کے لئے ایک قیامت خیز خبر لے کر آیا تھا۔۔۔۔جس نے اس حویلی کے در و دیوار ہلا کر رکھ دئیے تھے۔۔۔۔زویا معمول کے مطابق فجر کی اذان ہوتے ہی جاگ گئی تھی۔۔۔۔فجر کی نماز پڑھ کر وہ کمرے سے باہر نکل آئی۔۔۔ابھی وہ کچن میں جا ہی رہی تھی جب لینڈ لائن پر مسلسل ہوتی رنگ نے اسے اپنی جانب متوجہ کیا تھا۔۔۔۔اتنی صبح کون ہو سکتا ہے۔۔۔؟؟یہ سوچتے ہوئےاس نے قدم فون کی جانب بڑھائے تھے۔۔۔ اور پاس پہنچ کر اس نے ریسیور کان سے لگایا تھا۔۔۔۔جب اسے دوسری جانب سے کوئی بھاری مردانہ آواز سنائی دی تھی۔۔اور وہ آواز سنتے ہی اسے اپنا دماغ سائیں سائیں کرتا ہوا محسوس ہوا تھا۔۔۔اس آواز نے اس کا ذہن منجمد کر کے رکھ دیا تھا۔۔۔اسے اپنی جگہ سے ہلنا ناممکن لگ رہا تھا۔۔۔۔۔وہ اس آواز کو تو بھیڑ میں بھی پہچان سکتی تھی۔۔۔۔۔اس نے بے جان ہاتھوں سے ریسیور واپس رکھا تھا اور پاس پڑے صوفے پر گرنے کے انداز میں بیٹھتی چلی گئ۔۔۔آہستہ آہستہ سب کچھ اس کے دماغ کی اسکرین پر چلنے لگا تھا۔۔۔سب زخم پھر سے ہرے ہوئے تھے۔۔۔اس کی آنکھیں بھیگنے لگی تھیں۔۔۔اور اب یہ اذیت اس کے لئے ناقابل برداشت تھی۔۔۔دھیرے سے اس کے لبوں نے کچھ بڑبڑایاتھا۔۔۔
“کیوں ذیان۔۔۔؟؟کیوں لوٹے تم۔۔۔؟؟تمہیں نہیں لوٹنا چائہیے تھا۔۔۔تم نے کہا تھا کہ تم نہیں لوٹو گے تو آج کیوں تم واپس آگئے۔۔۔؟؟جس گرم ریت پر جلنے کے لئے چھوڑ گئے تھے آج وہاں واپس کیوں لوٹ آئے۔۔؟؟”یکدم وہ بڑبڑاتے ہوئے زور سے چلائی تھی۔۔آج پانچ سالوں بعد اس کے ضبط کے تمام بندھن ٹوٹ چکے تھے۔۔کتنی مشکل سے اس نے خود کو مضبوط بنایا تھا۔۔۔کتنی محنت سے اس نے اپنی ذات کے بکھرے ہوئے ذروں کو سمیٹ کر پھر سے جوڑا تھا۔۔لیکن آج ایک ہی جھٹکے میں وہ پھر سے بکھر چکی تھی شاید وہ بھول چکی تھی کہ ٹوٹی ہوئی چیزیں دوبارہ کبھی نہیں جڑتیں۔۔۔کہیں نا کہیں دراڑیں رہ ہی جاتی ہیں۔۔۔۔۔۔جن اذیتوں سے گزر کر وہ آج یہاں تک پہنچی تھی اس لمحے نے اسے واپس اسے اسی جگہ واپس لا پٹخا تھا۔۔۔۔آج وہ چاہ کر بھی خود کو سمیٹ نہیں پارہی تھی۔۔۔۔وہ پھوٹ پھوٹ کر رورہی تھی۔۔۔اس وقت وہ پاگلوں کی طرح چیخ رہی تھی چلا رہی تھی۔اور اب تو زور زور سے اپنے بال نوچنے لگی تھی۔۔۔۔اس وقت اس کی دلدوز چیخیں پوری حویلی میں گونج رہی تھیں۔۔۔۔اس کے چیخنے کی آواز پر تمام افراد بھاگتے ہوئے لاؤنج میں پہنچے تھے اور اسے پاگلوں کی طرح روتے چلاتے دیکھ کر سب کو شدید جھٹکا لگا تھا۔۔۔اس کی اس کیفیت کا سبب سب کی سمجھ سے باہر تھا۔۔۔۔انہیں اس کی ذہنی حالت پر شک ہواتھا۔۔۔۔
“کیا ہوا زویا۔۔۔۔۔؟؟کیا کررہی ہو یہ سب۔۔۔۔؟؟”عائشے نے آگے بڑھ کر اس کے پاس بیٹھتے ہوئے فکرمندی سے پوچھا۔۔۔۔اس کے رونے کی شدت میں مزید اضافہ ہو چکا تھا آنسو تھے کہ تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔۔۔آنکھیں رونے کی وجہ سرخ ہو چکی تھیں۔۔۔
“عائشے اسے واپس نہیں آنا چائہیے تھا۔۔۔کبھی نہیں۔۔۔کبھی بھی نہیں۔۔۔۔کتنی مشکل سے میں نے خود کو ایک پتھر کی مانند بنایا تھا آج اس انسان نے اس پتھر تک کے بھی ٹکڑے کر دئیے۔۔۔۔۔لیکن عائشے پتھر تو نہیں ٹوٹا کرتے نا میں کیسے ٹوٹ گئی پھر۔۔۔؟؟”زویا نے ناسمجھی سے پوچھا۔۔۔
“کیونکہ زویا تم کبھی پتھر بنی ہی نہیں۔۔۔یہ تو تم نے ایک خول چڑھایا ہوا تھا خود پر۔۔۔ہوا کیا تھا زویا۔۔۔؟؟پلیز بتاؤ ہمیں۔۔”عائشے نے صاف گوئی سے کام لیا۔۔جبکہ آس پاس کھڑے سب افراد اس کی بات پر سکتےکے عالم میں تھے۔۔۔۔
“عائشے ابھی ذیان کی کال آئی تھی۔۔۔۔کیا میرے نفرت سے بنائے گئے اس پہاڑ کی ریت میں اس قدر ملاوٹ تھی کہ ایک کال نے اس پہاڑ کو ریزہ ریزہ کر دیا۔۔؟؟”زویا نے چلاتے ہوئے پوچھا۔۔آج وہ پانچ سالوں میں انکے سامنے روئی تھی۔۔۔اور وہ بھی اس طرح ۔۔۔۔
“زویا جس انسان سے محبت ہو اس سے نفرت کبھی کی ہی نہیں جا سکتی۔۔۔ہاں وقت کبھی ایسے حالات بنا دیتا ہے کہ ہمیں لگتاہے کہ ہمیں اس انسان سے نفرت ہو چکی ہے۔۔۔۔لیکن ایسا کبھی نہیں ہوتا محبت کہیں نا کہیں باقی رہتی ہے اور پھر زندگی میں ایک لمحہ ایسا آتا ہے جب وہ تھوڑی سی محبت ہماری نفرت پر غالب آجاتی ہے۔۔۔۔”عائشے نے دھیمے لہجے میں کہا۔۔۔
“تم نہیں جانتی عائشے۔۔۔وہ انسان مجھے تب چھوڑ کر گیا جب میں اسے اپنا سب کچھ سمجھ چکی تھی۔۔۔اگر میں نے گناہ کیا تھا تو میں نے اس سے معافی بھی مانگی تھی۔۔ایک دفعہ صرف ایک دفعہ وہ مجھ سے کہتا تو صحیح میں پوری دنیا کو چیخ چیخ کر بتاتی کہ میں غلط تھی ذیان بے قصور تھا لیکن نہیں اس نے محبت کا لالچ دے کر میری ذات کی دھجیاں اڑا کر رکھ دیں۔۔۔۔کیوں عائشے۔۔۔؟؟کیا میری غلطی اتنی بڑی تھی۔۔۔؟؟کیا میں معافی کے قابل نہیں تھی۔۔۔؟؟کیوں وہ اتنا سخت دل ہو گیا۔۔کیسے مجھے اس اجنبی جگہ پر گرم ریت پر سلگتے ہوئے چھوڑ گیا۔۔۔۔۔؟؟کیوں۔۔۔۔۔؟؟”اس کی دلدوز چیخ ایک اور دفعہ لاؤنج میں گونجی تھی۔۔وہ یکدم صوفے سے کھڑی ہوئی تھی جب اسے اپنی آنکھوں کے سامنے اندھیرا آتا ہوا محسوس ہوا۔۔۔اچانک اس کا سر چکرایا تھا اسے اپنے سر میں شدید درد محسوس ہوا تھا اس نے کرب سے آنکھیں بند کی تھیں۔۔۔تکلیف کی شدت اس قدر تھی کہ اسے لگ رہا تھا کہ ابھی اس کا سر پھٹ جائے گا۔۔۔۔ اور وہ وہیں اپنا سر پکڑتی صوفے پر گرگئی۔۔۔عائشے نے فکر مندی سے اسے پکڑا تھا۔۔۔۔
“زویا ۔۔۔کیا ہوا۔۔۔۔؟؟آنکھیں کھولو۔۔۔۔ادھر دیکھو میری طرف۔۔۔۔”عائشے نے اس کا گال تھپتھپاتے ہوئے فکرمندی سے کہا۔۔۔اب تو عائشے کی آنکھیں بھی بھیگنے لگی تھیں۔۔۔۔وہ بار بار اس کو ہلاکر اٹھانے کی کوشش کر رہی تھی لیکن زویا کو کسی بھی طرح ہوش نہیں آرہا تھا۔۔۔
“یہ لیں بھابھی۔۔۔۔”رباب جلدی سے بھاگ کر کچن سے پانی لے آئی تھی اس نے گلاس عائشے کی جانب بڑھایا تھا۔۔۔۔عائشے نے گلاس تھام کر اس کے چہرے پر پانی کے چھینٹیں مارے تھے لیکن بے سود۔۔۔۔کافی دیر کوشش کے بعد بھی جب اس نے آنکھیں نہ کھولیں تو عائشے نے پریشانی سے ھیشم کو مخاطب کیا تھا۔۔۔
“ھیشم شاید ہمیں اسے ہوسپٹل لےجانا چائہیے۔۔۔۔۔”
“جی آپ اور رباب زویا کو لے کر آئیں ہم گاڑی نکالتے ہیں۔۔”ھیشم اتنا کہہ کر حویلی سے باہر بھاگا تھا اور پھر کچھ ہی دیر میں وہ زویا کو لئے شہر کے مشہور ہوسپٹل میں پہنچے تھے۔۔۔ھیشم خان کو تو دور دور تک لوگ جانتے تھے۔۔۔ھیشم خان کو دیکھتے ہی زویا کو ہاتھوں ہاتھ لیا گیا اسے فورا آئی سی یو میں ایڈمٹ کر دیا گیا۔۔۔اب وہ تینوں آئی سی یو کے باہر کھڑے ڈاکٹر کا انتظار کر رہے تھے جب کوئی نرس روم سے باہر نکلی تھی۔۔۔۔۔
“سسٹر کیسی ہے زویا۔۔۔۔؟؟”ھیشم خان نے آگے بڑھ کر پوچھا۔۔۔
“مسٹر خان ان کی حالت سیریس ہے ٹیسٹ وغیرہ کئے جاچکے ہیں رپورٹس آتے ہی ٹریٹمنٹ اسٹارٹ کر دیا جائے۔۔۔۔اور ڈاکٹر کو بھی بلایا گیا ہے وہ آتے ہی ہوں گے۔۔۔تب تک پلیز آپ ویٹ کریں۔۔۔۔”نرس تحمل سے کہتی آگے بڑھ گئی۔۔۔عائشے چیئر پر بیٹھی زویا کی سلامتی کی دعا کر رہی تھی۔۔رحاب کو وہ لگ گھر پر ہی بچوں کے پاس چھوڑ آئے تھے۔۔۔۔۔ھیشم خان لمبی سانس لیتا وہاں پڑی چیئرز میں سے ایک چیئر پر ہی بیٹھ گیا۔۔۔وہ خود حیران تھا آج اتنے سالوں بعد ذیان نے کال کیونکر کی تھی۔۔جبکہ حازم تو ذیان سے مکمل طور پر متنفر ہو چکا تھا۔۔۔اس نے نفرت سے ذیان کو دل ہی دل میں برا جانا تھا۔۔۔۔














“نہیں پلیز مت جاؤ۔۔۔۔میں مر جاؤں گا تمہارے بغیر۔۔۔۔”کسی نے بے بسی سے جانے والے کو روکا تھا۔۔۔۔
“تمہیں تو خوش ہونا چائہیے ذیان۔۔۔۔میں جارہی ہوں ہمیشہ کے لئے۔۔۔تم یہی چاہتے تھے نا۔۔۔۔”زویا نے درد سے مسکراتے ہوئے کہا۔۔
“نہیں۔۔۔لیکن میں اب نہیں چاہتا۔۔۔محبت کرتا ہوں تم سے۔۔۔اگر تم گئی یقین کرو میری سانسیں بند ہو جائیں گی۔۔۔۔پلیز ۔۔پلیز ایک دفعہ رک جاؤ۔۔۔۔”ذیان نے گڑگڑاتے ہوئے اس کا ہاتھ تھاما تھا۔۔۔۔وہ بچوں کی طرح اس سے ضد کر رہا تھا۔۔۔لیکن اس وقت اسکا یوں روناکوئی فائدہ نہیں دے رہا تھا۔۔۔۔
“نہیں ذیان اب بہت دیر ہو چکی ہے۔۔۔اب مجھے جانا ہوگا۔۔۔میں چاہ کر بھی اب تم پر بھروسہ نہیں کر پاؤں گی۔۔تم نے جو کچھ کیا وہ ایک ناقابل معافی گناہ تھا۔۔۔کیا تم اس اذیت کا بدلہ چکا سکتے ہو جو تم مجھے دے گئے تھے۔۔۔۔۔۔؟؟”زویا نے اس سے اپنے ہاتھ چھڑاتے ہوئے کہا۔۔۔
“بس ایک دفعہ بھروسہ کر لو۔۔۔۔صرف ایک دفعہ۔۔۔یوں مجھے چھوڑ کر مت جاؤ۔۔میں تمہارے پاؤں پکڑتا ہوں۔۔۔۔پلیز مت جاؤ نا۔۔۔۔”زویا نے جانے کے لئے قدم بڑھائے ہی تھے جب ذیان اس کے پاوؤں پکڑتا اسکے قدموں میں آبیٹھا تھا۔۔۔
“ذیان بھلے ہی تم نے پوری زندگی مجھ سے نفرت کی ہے لیکن مجھے تم سے محبت ہے۔۔۔۔اور کوئی بھی اپنی محبت کو اس طرح اپنے پاؤں میں بیٹھا نہیں دیکھ سکتا۔۔۔۔پلیز مت روکو مجھے۔۔کیونکہ محبت بھیک نہیں ہوتی اس طرح کر کے مجھے شرمندہ مت کرو۔۔۔۔۔”زویا نے التجائیہ لہجے میں کہا۔۔۔
“ت۔۔تم محبت کرتی ہو نا پلیز پلیز رک جاؤنا۔۔۔کیوں نہیں مان لیتی تم میری بات۔۔۔۔؟؟”ذیان زور سے چلایا تھا۔۔۔وہ بے بسی کی انتہا پر تھا چاہ کر بھی اسے نہیں روک پارہا تھا۔۔۔
“ذیان میری رب سے دعا ہے تم ہمیشہ خوش رکھو۔۔۔تمہیں زندگی کے اس سفر میں اتنی خوشیاں ملیں کہ تم مجھے یاد تک نہ کرو۔۔۔۔مجھے دیر ہو رہی ہے مجھے جانا ہو گا۔۔۔۔۔”زویا نے مسکراتے ہوئے کہا۔۔۔
“نہیں پلیز زویا نہیں۔۔۔۔۔میں ایسے کیسے خوش رہ سکتا ہوں۔۔۔۔اگر تم مجھے خوش دیکھنا چاہتی ہو تو مت جاؤ۔۔۔۔”ذیان نے بے بسی سے کہا۔۔۔
“سوری ذیان زندگی کسی کے جانے سے نہیں رکتی۔۔۔۔اگر ایسا ہوتا تو دنیا قبرستان بن چکی ہوتی۔۔۔یہاں اس فانی دنیا میں تو ہر انسان کسی نا کسی سے ضرور محبت کرتا ہے اب ایک کے چلے جانے سے دوسرا مر تو نہیں جاتا نا۔۔۔میں یہ نہیں کہوں گی کہ وقت زخم کو بھر دیتا ہے لیکن ہاں یہ ضرور کہوں گی کہ ہر انسان وقت کے ساتھ تنہا چلنا سیکھ جاتا ہے۔۔۔۔تم بھی سیکھ جاؤ گے۔۔۔اپنا خیال رکھنا۔۔۔۔”زویا نے مسکراتے ہوئے کہا۔۔۔جبکہ آنکھیں اس کی اذیت کو چیخ چیخ کر بیان کر رہی تھیں۔۔۔اور تب ہی کسی خوفناک سی شکل کی کسی مخلوق نے زویا کو جھٹکے سے کھینچا تھا۔۔۔اور وہ لمحے میں غائب ہو چکی تھی۔۔۔
“زویا۔۔۔۔۔”ذیان زور سے چلایا تھا۔۔۔۔اور تب ہی اس کی آنکھ کھلی تھی اور وہ جھٹکے سے اٹھ بیٹھا۔۔۔اس نے ہڑبڑا کر اردگرد دیکھا تھا۔۔۔۔اور خود کو اپنے بستر پر پاکر اس نے سکون کا سانس لیا تھا ۔۔۔۔وہ خواب تھا یہ جان کر اس کی جان میں جان آئی تھی۔۔۔لیکن اس کی سانسیں بے ترتیب ہو رہی تھیں۔۔۔دل تو لگتا تھا آج پسلیاں توڑ کر باہر آجائے ۔۔۔اس وقت وہ پورا پسینے سے بھیگا ہوا تھا۔۔۔اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔۔۔وہ سسکیوں سے رو رہا تھا۔۔۔۔وہ جلدی سے اپنے بستر سے اٹھتا واشروم کی جانب بھاگا تھا اور وضو کر کے اس نے دو نفل ادا کیئے تھے اور گڑگڑا کر اللہ سے زویا کی سلامتی کی دعائیں مانگیں تھیں۔۔۔تب ہی فجر کی اذان کی آواز اس کے کانوں میں پڑی تھی۔۔۔۔فجر کی نماز کے بعد اسے جو پہلا خیال آیا تھا وہ تھا رحاب اور حازم کی شادی میں شرکت نہ کرنا۔۔۔۔۔کتنی امید سے حازم نے اسے بلایا تھا۔۔۔۔ناجانے وہ کیا سوچ رہا ہوگا میرے بارے میں۔۔۔؟؟اب تو اور بھی ناراض ہو گیا ہوگا۔۔۔۔۔اس کے ذہن میں مختلف سوچیں گردش کر رہی تھیں۔۔۔وہ سمجھ نہیں پارہا تھا کہ وہ حازم سے کیسے ملے اور کیسے اس سے معافی مانگے۔۔۔اس کی بے چینی بڑھتی جا رہی تھی۔۔۔۔وہ چاہ کر بھی خود کو نارمل نہیں کر پارہا تھا۔۔۔جب بے چینی حد سے زیادہ بڑھ گئ تو اس نے آج اتنے سالوں بعد خان حویلی کے لینڈ لائن پر کال کی تھی۔۔۔
کافی دیر تک تو کال ریسیو ہی نہیں کی گئ۔۔۔لیکن جیسے ہی کال ریسیو ہوئی اس نے جلدی سے سلام کیا تھا۔۔مگر دوسری جانب مکمل خاموشی تھی۔۔۔۔اس نے مابائل کان سے ہٹا کر کال ریسیو ہونے کا یقین کیا تھا۔۔۔لیکن اب بھی دوسری جانب مکمل خاموشی تھی اور پھر کال ڈسکنکٹ کردی گئی۔۔۔۔ذیان کو اب پریشانی نے آگھیرا۔۔۔۔۔اسکی بے چینی اب مزید بڑھ چکی تھی۔۔۔اسے سمجھ ہی نہیں آرہاتھا وہ کیا کرے۔۔۔پھر وہ لمبی سانس خارج کرتا اللہ پر سب چھوڑتا سامنے والے فلیٹ کے سامنے بنے اس چھوٹے سے پارک کی جانب بڑھ گیا تاکہ خود کو ذہنی طور پر نارمل کر سکے۔۔۔۔۔۔۔لیکن صبح والے خواب نے اسے ذہنی طور پر مفلوج کر کے رکھ دیا تھا۔۔۔












صبح کے دس بجے کے قریب وہ اس سامنے والے فلیٹ میں آیا تھا۔۔۔پہلی ہی دستک پر دروازہ کھول دیا گیا تھا۔۔۔۔
“السلام علیکم۔۔۔۔آنٹی۔۔۔”اس نے سامنے کھڑی مسزبخاری کو سلام کیا تھا۔۔
“وعلیکم السلام۔۔۔۔کیسےہو بیٹا۔۔۔۔؟؟”سلام کا جواب دے کر انہوں نے اس سے حال احوال دریافت کیا۔۔۔
“میں ٹھیک ہوں۔۔۔۔وہ لڑکی کیسی ہے آنٹی۔۔۔اٹھی نہیں اب تک۔۔۔۔؟؟”ذیان نے منہل کے متعلق سوال کیا۔۔۔
“وہ تو صبح سے اٹھی ہوئی ہےبیٹا۔۔۔۔کیا فیصلہ کیا تم نے۔۔۔۔؟؟”مسز بخاری نے اس کی طرف کھوجتی نظروں سے دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔۔
“آنٹی کیونکہ کوئی اور حل نہیں ہے اس لئے میں اس سے شادی کرنے کے لئے تیار ہوں۔۔۔”ذیان نے بےدلی سے کہا ۔۔اس نے آج تک کسی کے بارے میں سوچا ہی کہاں تھا زویا کے علاوہ۔۔۔۔کسی کی مدد کرنا اس کے گلے میں اس طرح آجائے گا اس نے یہ کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔۔۔
“بیٹا تمہارا فیصلہ بہت اچھا ہے۔۔۔اللہ تعالی تمہیں اس کا اجر ضرور دے گا۔۔تو بیٹا شام تک مولوی صاحب کا انتظام کر لو۔۔۔”مسز بخاری نے خوشی سے کہا۔۔۔
“لیکن آنٹی کیا وہ مان جائے گی۔۔۔۔؟؟میں زندگی میں کبھی بھی زبردستی کا قائل نہیں رہا۔۔۔”ذیان نے منہل کی رضامندی پوچھنی چاہی۔۔۔
“بیٹا اس وقت اس لڑکی کا کوئی نہیں ہے وہ بلکل بے آسرا ہے اور ان حالات میں وہ کیسے منع کر سکتی ہے۔۔۔۔؟؟”مسز بخاری نے دانشمندی سے کہا۔۔۔
“ٹھیک ہے آنٹی میں کچھ انتظام کرتا ہوں ۔۔۔آپ تب تک اس سے اس کے متعلق پوچھ لیجیے کیونکہ نکاح نامے میں سب لکھوانا پڑے گا۔۔۔۔”ذیان نے بیزاری سے کہا۔۔۔وہ کہاں راضی تھا اس نکاح کے لئے۔۔۔
“ٹھیک ہے بیٹا۔۔۔”مسز بخاری نے اثبات میں سر ہلایا۔۔۔۔اور پھر ذیان ناگواری چہرے پر لئے وہاں سے نکلتاچلا گیا۔۔۔۔













“چاچی مما کہاں ہیں۔۔۔؟؟”ننھی لیزہ جو ابھی سو کر اٹھی تھی زویا کو ناپاکر اس نے رباب سے پوچھا۔۔۔
“بیٹا آپ کی مما ڈاکٹر کے پاس گئی ہیں۔۔۔ابھی آتی ہی ہونگی۔۔۔۔”رباب نے دھیمے لہجے میں کہا۔۔۔جبکہ چہرے پر پریشانی واضح تھی۔۔۔۔
“کیا ہوا ہے میلی مما کو۔۔۔؟؟”لیزہ نے فکرمندی سے پوچھا۔۔۔
“کچھ نہیں بیٹا بس تھوڑا سا بخار تھا۔۔۔۔انجکشن لگائییں گی تو ٹھیک ہو جائیں گی۔۔۔۔”رباب نے زبردستی چہرے پر مسکراہٹ سجاتے ہوئے کہا۔۔۔۔
“لیکن چاچی وہ میری دوست ہے نا مریم اش کی مما بھی ہوشپٹل گئیں تھیں اور پھر وہ اللہ تعالی کے پاس چلی گئیں۔۔۔میلی مما کو تو کش نہیں ہوگا نا۔۔۔۔”لیزہ نے معصومیت سے پوچھا۔۔۔
“نہیں میری جان ایسا نہیں کہتے۔۔۔آجائیں گی ابھی آپ کی مما۔۔۔۔”رباب نے اسے گلے لگاتے ہوئے تسلی دی۔۔۔اب وہ اس ننھی سی بچی کو کیا بتاتی کہ اس کی مما اس وقت موت سے لڑ رہی ہیں۔۔۔۔
“آپ سچ کہہ رہی ہیں نا میری مما مجھے چھوڑ کے تو نہیں جائیں گی نا۔۔۔؟؟”ننھی لیزہ نے دوبارہ سوا کیا۔۔
“نہیں لیزہ بیٹا۔۔۔وہ اللہ ہے نا آپ اللہ سے دعا کرو کہ آپ کی مما جلدی سے ٹھیک ہو جائیں۔۔۔۔”رباب نے اسے بہلانا چاہا۔۔۔رباب کو اس کے سوال بہت تکلیف دے رہے تھے۔۔۔
“اوکے چاچی۔۔۔۔میں اللہ سے کہوں گی میری مما کو بلکل ٹھیک کر دیں۔۔۔”لیزہ نے مسکراتے ہوئے کہا۔۔۔
“گڈ گرل چلو آؤ ناشتہ کر لو۔۔۔میں ان دونوں شرارتیوں کو بھی لے کر آتی ہوں۔۔۔”رباب نے اس کے گال پر پیار کرتے ہوئے محبت سے کہا۔۔۔اور اس کو ڈائننگ ٹیبل پر بٹھا کر حوزان اور آثال کو لینے ان کے کمرے کی جانب بڑھ گئی۔۔۔














مسز بخاری منہل کو ہلکا پھلکا تیار کر چکی تھیں۔۔۔وہ ہلکے میک اپ میں بھی بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔۔آنسو مسلسل اس کی آنکھوں سے بہہ رہے تھے۔۔اس کے اپنوں نے اس کے ساتھ کیا کچھ نہیں کیا تھا اور آج وہ پھر کسی انسان کے ساتھ بندھنے جارہی تھی اور انسان بھی وہ جسے وہ جانتی بھی نہیں تھی۔۔۔۔درد کی ٹیسیں مسلسل اس کے دل میں اٹھ رہی تھیں ۔۔۔اس کے پاس اس کے علاوہ کوئی راستہ بھی تو نہیں تھا وہ کرتی بھی تو کیا کرتی۔۔۔؟؟اس وقت وہ اسے سہارا دے رہا تھا۔۔۔اس کو رہنے کے لئے چھت دے رہا تھا اس وقت اس کے لئے یہی کافی تھا۔۔۔۔وہ چاہتی تو اپنے والدین کے پاس بھی جاسکتی تھی لیکن وہ اپنے پاپا کو پریشان نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔۔وہ نہیں چاہتی تھی کہ وہ ہرٹ ہوں کہ کس طرح انکی بہن نے انکی بیٹی کے ساتھ ظلم کیا تھا۔۔۔ابھی وہ انہی سوچوں میں گم تھی جب مسز بخاری کمرے میں داخل ہوئی تھیں اور اسے گھوگھٹ اوڑھا کر ساتھ لئے ڈرائنگ روم میں چلی آئیں جہاں نکاح کا مختصر سا انتظام کیا تھا۔۔مولوی صاحب نے نکاح پڑھانا شروع کیا ہی تھا جب وائٹ شلوار قمیض میں ملبوس ذیان کا موبائل بجا تھا۔۔۔۔کال ہوسپٹل سے تھی اس نے فورا کال ریسیو کر کے فون کان سے لگایا تھا۔۔۔۔
“لیکن اس وقت میرا آنا تھوڑا مشکل ہے۔۔۔کیا آپ کسی اور ڈاکٹر کو نہیں بلوا سکتے ۔۔؟؟”ذیان نے پریشانی سے پوچھا۔۔۔۔
“دیکھیئے ڈاکٹر ذیان اس وقت کسی کی زندگی سے امپورٹنٹ آپ کے لئے کچھ نہیں ہونا چائہیے۔۔۔جتنی جلدی ممکن ہو پلیز آپ ہوسپٹل آ جائیے۔۔۔پیشنٹ کی جان خطرے میں ہے۔۔۔”دوسری جانب سے حاکمانہ لہجے میں استفسار کیا گیا۔۔۔
“اوکے سر میں آتا ہوں۔۔۔۔”ذیان نے حامی بھرتے ہی فون رکھا تھا اور اب وہ پریشانی سے سب کو دیکھ رہا تھا۔۔۔
“کیا ہوا ذیان کہاں جا رہے ہو۔۔۔؟؟”ابھی وہ صوفے سے اٹھا ہی تھا جب مسزبخاری نے جلدی سے پوچھا۔۔۔
“سوری آنٹی۔۔۔ مجھےابھی کے ابھی ہوسپٹل جانا پڑے گا۔۔۔”ذیان نے بے بسی سے کہا۔۔۔
“لیکن بیٹا ابھی نکاح ہورہا ہے اور تم اس طرح بیچ میں سب چھوڑ کر کیسے جاسکتے ہو۔۔۔۔؟؟”مسز بخاری نے اچنبھے سے پوچھا۔۔۔۔
“آنٹی نکاح بعد میں بھی ہو سکتا ہے ۔۔۔لیکن اگر کسی مریض کی جان چلی گئی تو وہ کبھی نہیں آسکتی۔۔میں معذرت خواہ ہوں ابھی مجھے جانا ہوگا۔۔۔”ذیان معذرت کرتا وہاں سے نکلتا چلا گیا۔۔۔۔منہل کی آنکھوں سے دو آنسو نکل کر گالوں سے پھسلتے ہاتھوں پر گرے تھے۔۔۔جنہیں وہ فورا صاف کر گئی۔۔۔اور اب جھوٹی مسکراہٹ چہرے پر لئے مسز بخاری کو اپنے ٹھیک ہونے کا احساس دلا رہی تھی۔۔۔۔
