Tere Ishq Sy Meri Zaat Tak by Ayesha Mughal NovelR50552 Tere Ishq Sy Meri Zaat Tak (Episode 24)
Rate this Novel
Tere Ishq Sy Meri Zaat Tak (Episode 24)
Tere Ishq Sy Meri Zaat Tak by Ayesha Mughal
“ڈیڈ میں عادل سے شادی کرنا چاہتی ہوں۔۔۔۔۔”حورم نے مسٹر لغاری کے سامنے اپنی بات رکھی تھی اور اس کی بات پر وہ تھوڑے شاکڈ بھی ہوئے تھے۔۔۔
“یہ کیا کہہ رہی ہو بیٹا۔۔۔؟؟وہ کبھی نہیں مانے گا ۔۔۔اور وہ انسان تو کسی بات کرنا تو دور کبھی نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھتا۔۔۔تو کیا وہ تم سے شادی کرنے پر راضی ہو جائے گا۔۔۔۔؟؟”مسٹر لغاری جانتے تھے کہ عادل کس قسم کا لڑکا ہے اس لئے بغیر کوئی اوور ری ایکٹ کئے انہوں نے سنجیدگی سے پوچھا۔۔۔
“ڈیڈ اس کی ٹینشن نہ لیں اسے میں راضی کر لوں گی۔۔۔۔”حورم نے لاپرواہی سے کہا۔۔۔
“لیکن بیٹا میرے خیال میں تمہیں اپنے فیصلے پر غور کرنا چائہیے۔۔۔۔ہم اس کے بیک گراؤنڈ کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔۔۔۔کہ وہ کون ہے ۔۔؟؟کہاں سے آیا ہے۔۔؟؟”مسٹر لغاری نے فکرمندی سے کہا۔۔۔
“لیکن ڈیڈ وہ پانچ سال سے ہمارے پاس جاب کر رہا ہے۔۔۔اتنا یقین تو کر سکتے ہیں نا ہم اس پر۔۔۔”حورم نے پر یقین لہجے میں کہا۔۔۔۔
“جب بیٹا تم فیصلہ کر چکی ہو تو میں کیا کہہ سکتا ہوں۔۔۔عادل اچھا لڑکا ہے۔۔۔لیکن اس کا بیک گراؤنڈ ہم نہیں جانتے میں اس لئے تمہیں کہہ رہا تھا۔۔۔لیکن میں تمہیں فورس نہیں کروں گا کیونکہ میرے لئے تمہاری خوشی سب سے ذیادہ امپورٹنٹ ہے جو تم چاہو گی وہی ہوگا۔۔۔اب دانیال کی شادی کے بعد تمہارے بارے میں سوچتے ہیں۔۔۔فلحال تم پیکنگ کر لو کل ہمیں پاکستان کے لئے بھی نکلنا ہے۔۔۔”مسٹر لغاری نے اسے گلے لگاتے ہوئے شفیق لہجے میں کہا۔۔۔
“تھینک یو ڈیڈ۔۔۔میں جانتی تھی کہ آپ کبھی منع نہیں کریں گے۔۔۔۔تھینک یو تھینک یو سو مچ ڈیڈ۔۔۔۔۔”اس نے خوشی سے چہکتے ہوئے کہا۔۔۔۔
“ویلکم مائی ڈول۔۔۔میری اللہ سے دعا ہے کہ میری گڑیا ہمیشہ ایسے ہی خوش رکھے۔۔۔۔۔”مسٹر لغاری نے شفقت سے اس کے ماتھے پر بوسہ دیتے ہوئے کہا۔۔۔حورم میں تو ان کی جان بستی تھی تو وہ کیسے نہ مانتے۔۔۔۔
“آمین۔۔۔اور اللہ میرے ڈیڈ کو بھی ہمیشہ ہیپی رکھیں۔۔۔۔”حورم نے مسکراتے ہوئے محبت سے چور لہجے میں کہا۔۔۔
“بڑا پیار آرہا ہے ڈیڈ پر ۔۔۔خیریت تو ہے۔۔۔۔”کمرے میں داخل ہوتیں مسز لغاری نے مسکراتے ہوئے مشکوک لہجے میں کہا۔۔۔
“ڈیڈ کوئی جیلس ہو رہا ہے۔۔۔”حورم نے مسز لغاری کو آنکھ سے اشارہ کرتے ہوئے کہا۔۔۔
“ہم کیوں جیلس ہونے لگے بھئی۔۔۔ڈیڈ اور بیٹی کا معاملہ ہے ہم کون ہوتے ہیں آپ دونوں کے بیچ میں آنے والے۔۔۔۔۔”مسز لغاری نے تپ کر کہا۔۔۔
“ہاؤ سوئیٹ مما۔۔۔۔کتنی اچھی لگتی ہیں آپ غصے کرتے ہوئے۔۔۔۔”حورم نے ان کے پاس آکر ان کے گرد بانہیں ڈالتے ہوئے کہا۔۔۔۔
“مکھن نہ لگاؤ مجھے۔۔۔۔جاؤ اپنے ڈیڈ کے پاس ہی۔۔۔۔۔”مسز لغاری نے مصنوعی غصے سے کہا۔۔۔۔
“اوہو مما۔۔۔کیوں غصہ کرتی ہیں۔۔۔ڈیڈ بھی تو آپکے ہی ہیں۔۔۔۔”حورم نے معنی خیزی سے کہا۔۔۔اسکی بات پر مسٹر لغاری زور سے ہنسے تھے جبکہ مسز لغاری نے خفگی سے اس کی طرف دیکھا تھا۔۔۔۔
“اب بس کردیں۔۔۔کتنا گھوریں گی بچی کو۔۔۔۔”مسٹر لغاری نے انہیں مسلسل حورم کو دیکھتے پا کر ہنسی دباتے ہوئے کہا۔۔۔
“آپ تو چپ ہو جائیں۔۔۔میں اب اپنی بچی کو بھی نہیں دیکھ سکتی۔۔حد ہو گئی۔۔۔۔”مسز لغاری نے تڑخ کر کہا۔۔۔حورم جانتی تھی اب ان کی سوئیٹ سی جنگ شروع ہو چکی ہے لیکن اس سے پہلے آگے بڑھتی اس نے مسز لغاری کو پکارا۔۔۔
“مما۔۔۔کیا آپ پیکنگ کروا دیں گی میرے ساتھ۔۔۔مجھے تو کچھ سمجھ نہیں آرہا کیا رکھوں اور کیا نہ رکھو۔۔۔۔”حورم نے بے بسی سے کہا۔۔۔
“ہاں بیٹا چلو میں کروادیتی ہوں تمہارے ساتھ۔۔۔ویسے بھی ابھی میں فری ہی ہوں۔۔۔”مسز لغاری نے نرم لہجے میں کہا۔۔۔۔اور حورم کو لئے کمرے سے نکل گئیں لیکن مسٹر لغاری کو کھا جانے والی نظروں سے گھورنانہیں بھولیں تھیں۔۔۔۔مسٹر لغاری ہمیشہ کیطرح ان کے اس طرح دیکھنے پر مسکرادیا کرتے تھے۔۔۔آخر پہلی اور آخری محبت تھیں وہ انکی۔۔۔۔















خان حویلی میں اس وقت بہت چہل پہل تھی۔۔۔ہر کوئی یہاں وہاں بھاگتا نظر آرہا تھا۔۔۔ہر ایک کا اپنا ہی مسئلہ تھی کسی کے کپڑے اب تک نہیں سلے تھے تو کسی کی میچنگ کی جیولری نہیں تھی تو کسی کی اب تک شاپنگ کمپلیٹ نہیں ہوئی تھی۔۔۔آج مایوں کا فنکشن تھا اور اب فنکشن تھوڑی ہی دیر میں اسٹارٹ ہونے ہی والا تھا۔۔۔۔کچھ مہمان آچکے تھے اور کچھ کی آمد جاری تھی۔۔۔رحاب اور رباب کو صبح ہی پارلر بھیج دیا گیا تھا۔۔۔مایوں کا فنکشن کمبائن خان حویلی میں رکھا گیا تھا۔۔۔نکاح صبح ہی سادگی سے کروادیا گیا تھا۔۔۔۔عائشے اور ھیشم خان دروازے پر کھڑے مہمانوں کا استقبال کرنے میں مصروف تھے۔۔۔جبکہ دانیال اور حازم اسٹیج پر بیٹھے باتیں کرنے میں مصروف تھے۔۔۔حورم مسٹر اینڈ مسٹر لغاری کے ساتھ بیٹھی اردگرد کا جائزہ لینے میں مشغول تھی۔۔۔جب دروازے سے داخل ہوتیں رباب اور رحاب کو دیکھ کر جلدی سے انکی جانب بڑھی تھی۔۔۔اور پھر دوپٹے کے سائے تلے پھولوں کے زیور پہنے پیلے جوڑے میں ملبوس سہج سہج کر قدم اٹھاتیں وہ دونوں اسٹیج تک پہنچی تھیں۔۔اور پھر انہیں حازم اور دانیال کے برابر بٹھا دیا گیا۔۔۔۔کچھ ہی دیر میں رسم شروع ہونے والی تھی۔۔۔ھیشم خان میزبانی کا فرض بخوبی نبھا رہا تھا اس کام میں عائشے اس کا ساتھ دینے کی پوری کوشش کر رہی تھی۔۔کمی تھی تو صرف ایک انسان کی اور وہ تھا ذیان۔۔لیکن کوئی اس بارے میں کسی سے بات نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔۔کیونکہ اس خوشی کے موقع پر کوئی اسے غمگین نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔حازم کی مسکراہٹ تھی کہ تھمنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔۔۔اسے مسلسل مسکراتے دیکھ کر زویا نے اسے پکارا۔۔۔۔
“حازم مانا کہ تمہاری مایوں ہو رہی ہے۔۔۔لیکن اگر تم یوں ہی مسکراتے رہے نا تو سب گیسٹ تمہاری ذہنی حالت پر شک کرنے لگیں گے۔۔۔۔۔”زویا کی بات پر فورا اس کے لب سمٹے تھے لیکن اگلے ہی لمحے وہ زور سے ہنسا تھا۔۔۔۔
“کیا کروں بھابھی۔۔۔۔سوچ رہا ہوں جتنا مسکرانا ہے مسکرا لوں۔۔۔بعد میں موقع ملے یا نہ ملے۔۔۔۔”حازم نے ساتھ بیٹھی رباب کو دیکھ کر معنی خیزی سے کہا۔۔۔
“کیوں نہیں ملے گا۔۔۔اتنی پیاری تو ہے ہماری رباب۔۔۔خوش رکھے گی تمہیں۔۔۔۔۔”زویا نے محبت سے رباب کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔زویا کی بات پر رباب نے شرم سے اپنی نظریں جھکائیں تھیں۔۔۔
“آخر پسند کس کی ہے بھابھی۔۔؟؟”حازم نے فرضی کالر جھاڑا۔۔۔۔
“ہے کسی نکمے کی۔۔”عائشے نے بھی حصہ ڈالنا ضروری سمجھا۔۔۔
“بھابھی اب تو ایسا نہ کہیں۔۔۔۔کتنے مہمان ہیں یہاں۔۔۔۔اگر کسی نے سن لیا تو۔۔اب آپ کا دیور مایوں شدہ ہو گیا ہے۔۔۔۔۔۔”حازم نے اردگرد نظر دوڑاتے فکرمندی سے کہا۔۔اور اس کی بات پر سب نے زور سے قہقہ لگایا تھا۔۔۔۔رحاب نے کچھ بولنے کے لئے منہ کھولا ہی تھا جب دانیال کی بات پر اس کی جانب متوجہ ہوئی تھی۔۔۔
“ایک بات بتاؤ روحی۔۔۔۔کیا یہ گیندے کے پھول فری میں مل رہے تھے جو پھولوں کی دکان بن کر آگئی ہو۔۔۔”دانیال نے مسکراہٹ دباتے ہوئے شرارتی لہجے میں کہا۔۔۔۔اس کی بات پر رحاب نے غصے سے اسے گھورا تھا۔۔۔اور اردگرد نظر دوڑاتے چھپکے سے اپنے دوپٹے پر لگی پن نکال کر زور سے اسے چبھائی تھی۔۔۔
“آااا۔۔۔”اسکے چلانے پر سب اسکی جانب متوجہ ہوئے تھے۔۔۔
“کیا ہوا دانیال۔۔؟؟”عائشے نے فکرمندی سے پوچھا۔۔۔
“کچھ نہیں بھابھی۔۔۔ک۔۔ک۔کچھ بھی تو نہیں۔۔۔”دانیال نے ہکلاتے ہوئے کہا۔۔۔
“کتنی ظالم ہو لڑکی۔۔۔۔اتنا تو سوچ لو کہ ابھی سب ہمیں ہی دیکھ رہے ہیں۔۔۔۔”دانیال نے تڑخ کر کہا۔۔۔
“تو آپ کو خیال رکھنا چائہیے تھا بولنے سے پہلے۔۔۔۔”رحاب نے بھی جواب دینا ضروری سمجھا۔۔۔۔
“اچھا جی۔۔شاید آپ بھول رہی ہیں کہ اب ہم آپکے شوہر بن چکے ہیں۔۔۔۔۔”دانیال نے اس اپنا رشتہ یاد دلایا۔۔۔۔
“تو اب سر پر بٹھا لوں۔۔۔یہ مت سوچیے گا کہ اب میں کچھ نہیں کہوں گی۔۔۔۔”رحاب نے خفگی سے کہا۔۔۔
“ہاں ایسا سوچ بھی کیسے سکتا ہے مجھ جیسا معصوم انسان۔۔۔۔”دانیال نے بیچارگی سے کہا۔۔۔۔
“ہاہاہاہاہا۔۔۔معصوم اور آپ۔۔۔۔۔ویری فنی۔۔۔۔جوک آف دی ڈے۔۔۔۔سلام ہے آپکو۔۔۔۔”رحاب نے قہقہ لگاتے ہوئے مضحکہ خیز لہجے میں کہا۔۔۔۔
“شکر ہے تم ہنسی تو۔۔۔سڑیل کڑی۔۔۔۔ویسے بہت پیاری لگ رہی ہو آج۔۔۔۔۔”دانیال نے محبت سے چور لہجے میں کہا۔۔۔
“آئی نو۔۔۔پھر بھی تھینک یو۔۔۔”رحاب نے جیسے احسان کیا تھا۔۔۔۔
“ویلکم مسز دانیال۔۔۔۔”دانیال نے سینے پر ہاتھ تھوڑا سا سر خم کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔
“بس ذیادہ نہ بولیں۔۔۔۔۔”رحاب نے جلے لٹے لہجے میں کہا۔۔
“بس کردو روحی کیا ہر وقت لڑتی رہتی ہو۔۔۔بیچارا معصوم ساتو ہے۔۔۔۔”حازم جو کب سے بیٹھا ان کی سن گن سن رہ تھا انہیں مسلسل لڑتے دیکھ کر ہنستے ہوئے بولا۔۔۔۔
“بس کردو تم تو۔۔۔۔۔جانتی ہوں۔۔کتنے معصوم ہو تم دونوں۔۔۔تم دونوں جیسے دو اور معصوم دنیا میں آگئے نا تو دنیا درہم برہم ہو جائے گی۔۔۔۔”رحاب نے تڑخ کر کہا۔۔
“بس کر دو روحی سب دیکھ رہے ہیں۔۔۔۔”رباب نے اس کا ہاتھ دباتے ہوئے دھیمے لہجے میں کہا۔۔۔بولتے ہوئے وہ یہ بھی بھول گئی تھی کہ آس پاس کھڑے مہمان اسی کی جانب متوجہ ہوئی۔۔اور اپنی حرکت پر شرمندہ ہوئی تھی۔۔۔خفگی سے نظریں جھکا گئی۔۔۔پھر مایوں کی رسم شروع کی گئی۔۔۔سب مہمانوں نے انہیں ابٹن لگایا مٹھائی کھلائی۔۔۔رسم کے بعد فوٹو سیشن اسٹارٹ ہو چکا تھا۔۔۔اور پھر کھانے کے بعد سب مہمان ایک ایک کرتے روانہ ہوگئے۔۔۔مسٹر اینڈ مسٹر لغاری بھی یہاں لاہور میں موجود اپنے بنگلے میں ہی قیام پذیر تھے۔۔۔اور لاہور آکر سب سے پہلے انہوں نے زویا سے معافی مانگی تھی۔۔۔۔ان کا بنگلہ گاوں کے قریب ہی تھا تووہ بھی جلد ہی چلے گئے۔۔۔جبکہ رباب یہیں رحاب کے ساتھ اس کے کمرے میں ٹہری تھی۔۔۔ولید ملک کا بیماری کی وجہ سے دو سال پہلے ہی انتقال ہو چکا تھا تو کوئی مرد نہ ہونے کی وجہ سے رباب اپنی اماں کے ساتھ خان حویلی میں ہی رک گئ۔۔۔اس طرح ایک خوبصورت یاد کے ساتھ اس خوبصورت دن کا اختتام ہوا تھا۔۔۔۔لیکن ذیان کی کمی کو حازم اور رحاب نے شدت سے محسوس کیاتھا۔۔۔۔















رحاب اور رباب آج کے فنکشن کو ڈسکس کر رہی تھیں جب دستک پر دروازے کی جانب متوجہ ہوئیں۔۔۔۔رحاب نے آگے بڑھ کر دروازہ کھولا اور سامنے کھڑے حازم کو دیکھ کر مشکوک لہجے میں گویا ہوئی۔۔۔۔
“تم یہاں کیا کر رہے ہو۔۔۔؟؟”اس کا لہجہ سپاٹ تھا۔۔۔
“م۔می۔۔میں تو تمہیں دیکھنے آیا تھا۔۔۔دو دن بعد تم چلی جاؤگی۔۔۔بہت مس کروں گا تمہیں۔۔۔۔”حازم نے نظریں کمرے میں دوڑاتے ہوئے کہا۔۔۔
“او ہیلو۔۔۔میں تو یہاں کھڑی ہوں اندر کیوں جھانک رہے ہو۔۔۔۔۔؟؟”رحاب جانتی تھی وہ کیوں آیا ہے لیکن وہ رحاب ہی کیا جو موقع کا فائدہ نہ اٹھائے۔۔۔۔
“روحی میری پیاری بہن۔۔۔بس ایک دفعہ ملنے دو۔۔۔”حازم نے مکھن لگاتے ہوئے کہا۔۔۔
“حازم چلو نکلو یہاں سے۔۔۔۔”رحاب نے دروازہ بند کرنا چاہا۔۔۔لیکن حازم نے اسے دروازہ بند کرنے سے روکا تھا۔۔
“یار روحی ایک دفعہ پلیز۔یاد کرو میں نے تمہیں پرسوں تمہاری فیورٹ چاکلیٹ لاکر دی تھی اسی کے واسطے ملنے دو۔۔۔۔”حازم نے ایک دفعہ پھر اصرار کیا۔۔۔۔
“بھائی کو بلاؤں۔۔۔اور یہ لو اپنی چاکلیٹ۔۔احسان مت کرو۔۔۔دو دن صبر نہیں کر سکتے تم۔؟؟”رحاب نے ہاتھ میں پکڑی چاکلیٹ اس کے ہاتھ میں تھماتے ہوئے مصنوعی غصےسے کہا۔۔۔
“روحی تم اتنی ظالم کیسے ہو سکتی ہو۔۔۔؟؟اب تم یورپ چلی جاؤگی ہمیں چھوڑ کر تھوڑا تو رحم کر لو۔۔۔۔”حازم نے اسے ایموشنلی بلیک میل کرنا چاہا۔۔۔جس میں وہ کامیاب بھی ہو چکا تھا۔۔۔اب رحاب آنکھوں میں نمی لئے کھڑی تھی۔۔۔وہ رونے کی مکمل تیاری میں تھی۔۔۔
“اوئے ۔۔روحی رونے کا نہیں کہا میں نے۔۔۔ویسے مجھے نہیں پتا تھا کہ چڑیلیں بھی روتی ہیں۔۔۔”حازم نے دانت پیستے ہوئے کہا۔۔۔جبکہ اس کی خود کی آنکھیں بھی بھیگ چکی تھیں۔۔۔۔
“تم کیا ہو۔۔اور جانتےہو چڑیلیں پاگل بھی ہو جاتی ہیں؟؟”روحی نے سوالیہ نظروں سے دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔
“میں ایک شریف,ہینڈسم,گڈلکنگ,کیوٹ سا لڑکا ہوں۔۔۔اوربھئی میں تو نفل پڑھوں گا تمہارے جانے کے بعد ۔۔۔اللہ اللہ کر کے جان چھوٹے گی تم سے۔۔۔اب دانیال پر ترس آرہا ہے مجھے تو۔۔۔”حازم نے اسے چڑاتے ہوئے کہا۔۔۔اور وہ اسکی بات پر تپ چکی تھی۔۔۔
“اچھا۔۔۔میں تمہاری جان ابھی نکال دیتی ہوں۔اور ادھر دو میری چاکلیٹ۔۔”رحاب نے کہہ کر دروازہ زور سے بند کردیا ۔۔اور وہ جو رباب سے ملنے کی امید لگائے بیٹھا تھا اس اچانک ہونے والے وار پر بس کلس کر رہ گیا۔۔اور اب بےبسی سے منمناتے ہوئےاپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا۔۔۔۔















“عائشے آج آپ بہت پیاری لگ رہیں تھیں۔۔۔۔”عائشے آئینے کے سامنے کھڑی جیولری اتارنے میں مصروف تھی جب ھیشم نے اسکے ساتھ کھڑے ہوتے ہوئے اس کے کندھوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔۔۔
“واہ کیا بات ہے۔۔آج اتنا مکھن کیوں لگایا جارہا ہے۔۔۔؟؟”عائشے نے شیشے میں نظر آتے اس کے عکس کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔۔
“تو اب آپ کو ہماری تعریف بھی جھوٹی لگنے لگی ہے۔۔۔”ھیشم نے افسردگی سے کہا۔۔۔
“میں نے تو ایسا نہیں کہا۔۔۔۔ویسے آج ایک بندہ بہت اچھا لگ رہاتھا مجھے۔۔۔ہینڈسم تھا کافی۔۔دل ہی نہیں کر رہاتھا اس پر سے نظریں ہٹانے کا۔۔۔۔”عائشے نے معنی خیزی سے کہا
۔۔اور ھیشم تو بس شاکڈ کھڑا تھا۔۔۔یکدم اس کے چہرے کاتناؤ بڑھا تھا۔۔۔
“کون تھا وہ۔۔۔؟؟”ھیشم نے مٹھیاں بھینچتے بمشکل خود پر کنٹرول کرتے ہوئے کہا۔۔۔
“تھا کوئی۔۔۔بلکل سامنے آئینے میں نظر آتے شخص جیسا تھا۔۔۔۔”عائشے اپنی مسکراہٹ چھپاتے ہوئے بولی۔۔۔ھیشم کے چہرے کے تاثرات بدلے تھے۔۔۔چہرے کا تناؤ کم ہوا تھا۔۔۔وہ عائشے کی بات کا مطلب سمجھ چکا تھا۔۔۔ناجانے وہ عائشے کے لئے اتنا پوزیسو جنونی کیوں تھا۔۔۔۔وہ آج اتنے سالوں بعد بھی عائشے سے اتنی ہی محبت کرتا تھا بلکہ دن بدن اس کی محبت میں اضافہ ہو رہا تھا۔۔۔وہ آج بھی عائشے کو کھونے سے ڈرتا تھا۔۔۔۔
“عائشے ایسا مذاق مت کیا کریں۔۔۔آپ جانتی ہیں ھیشم خان کے لئےیہ ناقابل برداشت ہے۔۔۔ہم آپ کو کھونے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے۔۔۔۔”ھیشم خان نے جذباتی لہجے میں کہتے اسے خود میں بھینچا تھا۔۔۔
“آپ جانتی ہیں ہم آپ سے کتنی محبت کرتے ہیں شاید لفظ نہیں ہیں ہمارے پاس کہ ہم اپنی محبت کو بیان کریں۔۔۔۔لو یو سو مچ عائشے۔۔۔۔”ھیشم خان نے اس کے ماتھے پر محبت کی مہر ثبت کرتے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے محبت سے چور لہجے میں کہا۔۔۔
“ہیٹ یو ٹو ھیشم۔۔۔۔”عائشے نے شرارت سے مسکراتے ہوئے کہا۔۔۔۔
“تھینک یو عائشے اس نفرت کے لئے۔۔۔۔ہم چاہتے ہیں آپ چاہے نفرت کریں یا محبت لیکن یہ دونوں جذبے میرے لئے ہوں۔۔بس اتنی سی خواہش ہے میری۔۔۔۔”ھیشم نے مشکور لہجے میں کہا۔۔۔وہ عائشے کے اس اظہار محبت کو جانتا تھا ۔۔وہ جانتا تھا کہ عائشے کا محبت ظاہر کرنے کا یہی انداز ہے۔۔۔۔اسے اندازہ تھا کہ وہ جس شدت سے عائشے کو چاہتا ہے عائشے بھی اس سے اتنی ہی محبت کرتی ہے۔۔۔
“ھیشم ۔۔۔۔آپ نا۔۔۔”اس سے پہلے عائشے کی بات مکمل ہوتی ڈریسنگ پر پڑے فون کی بجتی رنگ نے انہیں اپنی جانب متوجہ کیاتھا۔۔جس کی اسکرین پر کوئی اجنبی نمبر بلنک ہو رہا تھا ۔۔ھیشم خان نے کال ریسیو کر کے موبائل کان سے لگایا تھا۔۔۔
“السلام علیکم۔۔۔”ھیشم خان نے سلام کیا۔۔۔
“وعلیکم السلام۔۔۔کیسے ہو ھیشم خان۔۔۔؟؟”دوسری جانب سے کوئی مانوس آواز ابھری تھی لیکن ھیشم کو یاد نہیں آرہا تھاکہ اس نے یہ آواز کہاں سنی ہے۔۔۔
“کون بات کر رہا ہے۔۔۔؟؟”ھیشم خان نے رعب دار آواز میں پوچھا۔۔۔۔
“میں عادل بات کررہاہوں۔۔۔۔”دوسری جانب سے وہ نام سن کر ھیشم کا چہرہ یکدم غصے سے سرخ ہوا تھا۔۔
“تمہاری ہمت کیسے ہوئی۔۔۔مجھے کال کرنے کی۔۔۔۔؟؟”ھیشم خان زور سے گرجا تھا۔۔۔اس کی آواز پر عائشے نے چونک کر اس کیطرف دیکھا تھا۔۔۔ھیشم کی گرفت موبائل پر کافی مضبوط ہو چکی تھی۔۔۔اورعائشے اب بےچین کھڑی کال بند ہونے کا انتظار کر رہی تھی۔۔۔
“میں تم سے اور عائشے سے معافی مانگنا چاہتا ہوں۔۔”عادل خان نے تحمل سے کہا۔۔۔
“ہم تمہیں کبھی معاف نہیں کریں گے عادل خان۔۔۔۔۔تم نے ہماری بیوی عائشے کا ہاتھ تھاما تھا اور تم کہتے ہو کہ ہم تمہیں معاف کر دیں۔۔۔۔”ھیشم خان غصے سے غرایا اور عائشے تو عادل خان کا نام سن کر ہی شاکڈ رہ گئ تھی۔۔۔
“میں مانتا ہوں میں نے غلط کیا۔۔۔۔لیکن ھیشم تم خود سوچو اگر تم میری جگہ ہوتے تو کیا کرتے۔۔۔۔؟؟”عادل خان نے ٹھہرے ہوئے لہجے میں پوچھا۔۔۔اس کے جواب میں ھیشم کچھ نہیں کہہ پایا تھا اتنا تو وہ بھی جانتا تھا کہ عادل عائشے سے بچپن سے محبت کرتا تھا اور اس طرح باآسانی اپنی محبت سے دستبردار ہوجانا کسی کے لئےبھی آسان نہیں ہوتا اس نے تو پھر منزل کے پاس پہنچ کر منزل کو کھویا تھا۔۔۔ اس نے بنا کچھ کہے کال ڈسکنکٹ کردی آج پہلی دفعہ ھیشم کسی کے سامنے چپ ہوا تھا۔۔۔۔کال ڈسکنکٹ کر کے اس نے زور سے موبائل پٹخا تھا۔۔۔۔
“کیا ہو گیا ھیشم۔۔۔۔؟؟”عائشے نے فکرمندی سے اس کے برابر بیٹھتے ہوئے دھیمے لہجے میں پوچھا۔۔۔
“عائشے آپ ہمیں چھوڑ کر تو نہیں جائیں گی نا۔۔بھلے وہ معافی مانگ لے۔۔۔؟؟”ھیشم نے عجیب سے لہجے میں پوچھا۔۔۔عائشے ہمیشہ اس کی اپنے لئے اتنی جنونیت سے ڈرتی تھی۔۔۔۔
“کیا ہوگیا ہے آپکو ھیشم۔۔۔۔؟؟اس بات کو چھ سال گزر چکے ہیں۔۔۔۔اب تک تو انہوں نے بھی شادی کر لی ہوگی۔۔۔۔اور میں آپکو چھوڑ کر کیسے جاسکتی ہوں۔۔۔۔کیا مجھ پر میری محبت پر آپکو اتنا بھی بھروسہ نہیں ہے؟؟”عائشے نے اپنا لہجہ تھوڑا سا سخت رکھا تھا۔۔۔
“عائشے ہمیں آپ پر خود سے بھی ذیادہ بھروسہ ہے۔۔لیکن وقت پر بھروسہ نہیں ہے جب یہ کروٹ لیتا ہے تو زندگیا بدل کر رکھ دیتا ہے۔۔۔۔”ھیشم خان نے اپنا ڈر ظاہر کیا۔۔۔۔وہ انسان جس کے نام سے ہی لوگ ڈر جاتے تھے۔۔۔وہ ایک عورت کی محبت میں اتنا کمزور ہو سکتا ہے کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔۔۔۔
“لیکن کیسا بھی وقت کیوں نہ آجائے میں آپ کا ہاتھ کبھی نہیں چھوڑوں گی۔۔زندگی کے ہر موڑ پر آپ مجھے اپنے پاس پائیں گے۔۔۔۔۔”عائشے نے اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے اسے یقین دلانا چاہا۔۔۔۔
“تھینک یو عائشے۔۔۔ھیشم خان بھی ہمیشہ عائشے کے ساتھ کھڑا رہے گا۔۔۔چاہے کچھ بھی ہو جائے۔۔۔۔”ھیشم نے مضبوط لہجے میں کہا۔۔۔
“ایک بات ہمیشہ یاد رکھئیے گا ھیشم ۔۔۔عائشے اور ھیشم کبھی الگ نہیں ہو سکتے کبھی بھی نہیں۔وہ ایک دوسرے کے لئے ہی بنے ہیں۔۔۔”عائشے نے نرم لہجے میں کہا۔۔۔
“اور جس دن ایسا ہوا ھیشم خان خود اپنے ہاتھوں سے اپنی جان لے لے گا۔۔۔۔”ھیشم نے جذباتیت سے کہا۔۔۔۔
“اگر اب آپ نے کچھ کہا تو میں چلی جاؤں گی بچوں کے کمرے میں۔۔۔۔۔”عائشے نے بھی زورآور دھمکی دی تھی۔۔۔
“ایسے کیسے چلی جائیں گی۔۔۔۔آج اگر آپ گئیں تو ہم آپ کو وہاں سے اٹھا کر لے آئیں گے۔۔۔۔”ھیشم نے مسکراتے ہوئے کہا۔۔۔اب وہ کافی حد تک نارمل ہو چکا تھا۔۔۔
“ھیشم بھول جائیے نا سب۔۔۔۔معاف کردیں عادل خان کو۔۔۔وہ جو سب ہوا وہ وقت کا تقاضا تھا۔۔۔۔۔”عائشے نے موقع دیکھ کر نرمی سے کہا۔۔۔
“لیکن عائشے ۔۔۔۔”ھیشم خان کو عائشے کا عادل کا نام لینا ناگوار گزرا تھا اور اس بات کا اندازہ عائشے کو ہو چکا تھا۔۔۔۔
“لیکن کچھ نہیں بس ہم نے کہا آپ انہیں معاف کر رہیں ہیں تو کر رہے ہیں۔۔۔۔۔”عائشے نے حتمی لہجے میں کہا۔۔۔۔وہ جانتی تھی ھیشم خان اس کی کوئی بات نہیں ٹال سکتا۔۔۔
“اوکے۔۔۔جسٹ فار یو جان ھیشم۔۔۔۔”ھیشم نے ہار مانتے ہوئے کہا۔۔۔۔
“تھینک یو ھیشم۔۔۔”عائشے نے مشکور لہجے میں کہا۔۔۔۔
“تھینک یو وہ بھی اتنا سمپل۔۔۔۔۔”ھیشم نے مسکراہٹ دباتے ہوئے کہا۔۔۔۔
“کیا مطلب ۔۔۔تھینک یو میں بھی ڈیزائن ہوتے ہیں۔۔۔۔؟؟”عائشے نے ناسمجھی سے پوچھا۔۔۔
“نہیں ڈیزائن تو نہیں ہوتے۔۔۔ہاں فیلنگز ضرور ہوتی ہیں اس میں۔۔۔۔۔”ھیشم نے معنی خیزی سے کہا۔۔۔
“تو آپکو کونسا تھینک یو چاہئیے؟؟”عائشے نے سوالیہ نظروں سے دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔۔۔
“ہمیں محبت والا تھینک یو چائہیے۔۔۔۔۔”ھیشم خان نے معنی خیزی سے کہا۔۔۔۔
“یہ کونسا تھینک یو ہے۔۔۔۔؟؟اچھا چلیں آج میں آپ کو اک نیا انداز بتاتی ہوں شکریہ کہنے کا۔۔۔آپ آنکھیں بند کریں۔۔۔۔”عائشے نے اپنی ہنسی دباتے ہوئے کہا۔۔۔۔
“اوکے۔۔۔۔”ھیشم نے فورا خوشی سے آنکھیں بند کی تھیں۔۔۔اور عائشے اس کے آنکھیں بند کرتے ہی لمحے کی دیر کئے بنا وہاں سے بھاگی تھی۔۔۔مسلسل خاموشی پاکر ھیشم نے آنکھیں کھولیں تھیں لیکن عائشےکو ناپا کر اس نے اردگرد نظریں دوڑائیں تھیں۔۔۔۔۔اور عائشے کے بیوقوف بنانے پر بس مسکرا کر رہ گیا۔۔۔۔
“اب جان گئے ہیں ہم کہ عائشے ھیشم خان کی بیوی ہیں۔۔۔آج آپ ہمیں ہی چونا لگا گئیں۔۔۔۔۔”ھیشم خان خود سے کہتا واشروم کی جانب بڑھ گیا۔۔۔۔














“اللہ تعالی آپ تو غفور ورحیم ہیں نا۔۔۔۔مجھے معاف کر دیں۔۔۔۔آج آپ کا یہ بندہ سب کچھ کھو چکا ہے۔۔۔۔جانتے ہیں اللہ جب میں آج حازم سے ملا مجھے لگا جیسے زندگی مل گئی ہو۔۔۔۔کتنا سمجھدار ہو گیا ہے وہ ۔۔۔اور روحی میری گڑیا بھی اتنی بڑی ہو گئ ہے کہ کل اس کی شادی ہے۔۔۔۔ان سالوں میں میں سب کھو چکا ہوں۔۔لیکن ہاں اللہ تعالی میں نے آپ کو پہچان لیا ہے۔۔۔۔۔”وہ جائے نماز پر بیٹھا بارگاہ الہی میں ہاتھ پھیلائے اپنے رب سے مخاطب تھا۔۔۔۔ہاں اب وہ اپنے رب سے ہی ساری باتیں کیا کرتا تھا۔۔۔اس نے کسی کو رازدار یا رقیب نہیں بنایا تھا۔۔اب اس کے لئے سب کچھ اللہ ہی تھا۔۔۔
“یا اللہ پلیز بس ایک دفعہ مجھے زویا سے ملوادیں ۔۔۔یا اللہ میں جانتا ہوں میں تب تک پرسکون نہیں ہوسکتا جب تک کہ وہ مجھے معاف نہ کردے۔۔۔لیکن میں اسے ہر جگہ ڈھونڈ چکا ہوں۔۔۔شہر کا کونا کونا چھان چکا ہوں۔۔۔لیکن وہ کہیں نہیں ملی۔۔۔۔۔”وہ رو رو کر اپنے رب سے التجاء کر رہاتھا۔۔۔
“یا اللہ تو تو دلوں کے بھی حال جانتا ہے۔۔۔تو تو ستر ماؤں سے ذیادہ پیار کرتا ہے نا پلیز اللہ تعالی ایک دفعہ بس ملوادیں اس سے۔۔۔”وہ ہچکیوں سے رو رہا تھا گڑگڑارہا تھا۔۔۔۔شاید اب قبولیت کی گھڑی آچکی تھی اس کی سن لی گئی تھی۔۔۔اس کارونا بھی رب کو پسند آگیا تھا۔۔۔اور شاید اب اس کی زندگی میں سکون آنے والا تھا۔۔۔آج وہ پورے پانچ سال بعد اس طرح رویا تھا۔۔۔بچوں کی طرح اس نے رو رو کر اللہ سے فریاد کی تھی۔۔۔کون جانتا تھا کہ وہ انسان جس سے اس نے حد سے ذیادہ نفرت کی تھی اسی انسان کو وہ اس طرح اللہ سے رو رو کر مانگے گا۔۔۔۔۔وہ پوری رات اس نے رب سے منتیں,التجائیں کرتے گزاری تھی۔۔۔فجر کی نماز کے بعد جب وہ رورو کر تھک چکا تو نڈھال ہو کر بستر پر لیٹ گیا اور آخر کار کچھ ہی دیر میں نیند اس پر مہربان ہو چکی تھی۔۔۔۔















خان حویلی میں مکمل سکوت چھایا ہوا تھا۔۔تمام کمروں کی لائٹس آف ہو چکی تھیں۔۔۔جب وہ دھیرے دھیرے قدم اٹھاتا بنا کوئی آہٹ کئے رحاب کے کمرے کی جانب بڑھا تھا۔۔۔ درواز چونکہ لاک نہیں تھا اس نے بغیر آواز کئے دروازہ کھولا تھا۔۔۔۔اور چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا بیڈ پر دنیا و مافیہا سے بے خبر سوئے وجود کی جانب بڑھا تھا۔۔۔
“رباب ۔۔۔تم یہاں اتنے مزے سے سوئی ہوئی ہو۔۔۔وہاں میرا سکون چین سب بربادہو رکھا ہے۔۔۔۔۔”حازم نے اس کےپاس زمین پر گھٹنے ٹیکتے اس کے کان میں سرگوشی کی۔۔۔۔کسی مانوس آواز پر سامنے سوئے وجود میں جنبش پیدا ہوئی تھی۔۔۔اس نے جھٹ سے آنکھیں کھولی تھیں اور ابھی کچھ بولنے کے لئے منہ کھولا ہی تھا جب حازم کی بات پر چپ ہو گئی۔۔۔۔حازم جان چکا تھا وہ جاگ چکی ہے۔۔۔
“یار آج تو تم بہت پیاری لگ رہی تھی۔۔۔پھولوں میں گھری بلکل کالے گلاب جیسی۔۔۔۔اور یہ پیلا جوڑا اس میں تم بلکل پیلیا کہ مریض لگ رہی تھی۔۔۔بس جب میں نے تمہیں دیکھا تو دیکھتا ہی رہ گیا۔۔۔۔میرا دل کر رہا تھا کہ بس تمہیں ہی دیکھتا رہوں۔۔۔۔”حازم نے ہلکی آواز میں اپنی مسکراہٹ دباتے ہوئے کہا۔۔۔۔
“ہمممم۔۔۔۔”اس نے اس کے جواب میں اتنا ہی کہا ۔۔جبکہ حازم شاکڈ تھا کہ اس نے کچھ کہا کیوں نہیں۔۔۔۔۔
“اچھا میں یہ کہنے آیا تھا کہ اپنے ہاتھوں پر مہندی سے میرا نام ضرور لکھوانا۔۔۔۔”حازم نے اپنے آنے کی وجہ بتائی۔۔۔
“رباب تم جان نہیں سکتی کہ میں کتنا خوش ہوں آج جب ہمارا نکاح ہوا اس وقت جو میں فیل کر رہا تھا وہ ناقابل بیان ہے۔۔۔۔”حازم نے اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے کہا جب اس وہ جھٹکے سے ہاتھ چھڑواتی سائیڈ لیمپ آن کرتی جھٹکے سے اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔۔
“کیا کر رہے ہو حازم۔۔۔۔میں رباب نہیں رحاب ہوں۔۔۔کتنے چھچھورے ہو تم۔۔۔مجھے تو آج پتا چلا ہے۔۔۔”رحاب نے غصے سے کہا۔۔۔۔اور حازم تو رحاب کو دیکھ کر ہی سکتے میں آگیا تھا۔۔۔اور اب اپنی بیوقوفی پر نظریں چراگیا۔۔۔۔لیکن اگلے ہی لمحے اپنی خفگی چھپاتا جھٹ سے بولا۔۔۔
“چھچھورا ہو گا دانیال۔۔۔سمجھی تم ۔۔۔اور میں اپنی بیوی سے بات کر رہا تھا۔۔لیکن نہیں تمہیں تو ہمیشہ کباب میں ہڈی بننا ہے نا۔۔۔۔”
“خبردار جو ایک لفظ بھی دانیال کے بارے میں کہا۔۔۔۔۔ورنہ میں بیڈ سے کود کر اسے بیوہ کردوں گی۔۔۔۔”رحاب نے تڑخ کر کہا۔۔۔لیکن فورا ہی اپنے لفظوں کا احساس ہوتے ہی انگلی دانتوں تلے دبا گئ۔۔۔مسلسل شور کی آواز پر رباب کی نیند میں خلل پیدا ہوا تھا اور سامنے کھڑے حازم کو دیکھ کر شرمیلی سی مسکان اس کے لبوں پر دوڑ گئی۔۔۔۔
“او انیس سو پچاس کی پیدائش۔۔۔۔تم اس سے شرما رہی ہو۔۔۔اس نمونے سے جو خود کو دیکھ کر شرما جاتا ہے۔۔۔۔”رحاب نے غصے سے رباب کی طرف دیکھ کر کہا۔۔۔۔
“توبہ ہے روحی۔۔۔۔اور تم یہاں کیوں آئے ہو۔۔۔۔؟؟”رباب نے حازم سے پوچھا۔۔۔۔
“یہ یہاں تم سے ملنے آیا تھا۔۔۔تم نے اس کا سکون چین سب لوٹ لیا ہے۔اور کہہ رہا تھا تم آج پیلیا کی مریض لگ رہی تھی۔۔۔۔۔”رحاب نے ہنستے ہوئے کہا۔جبکہ رباب نے خونخوار نظروں سے حازم کی جانب دیکھا تھا۔۔۔۔حازم سمجھ چکا تھا کہ اب وہ اس کی فیلنگز کی بینڈ بجانے والی ہےاس لئے بنا کچھ کہے رحاب کو وارن کرتا پاؤں پٹختا وہاں سے نکلتا چلا گیا۔۔۔جبکہ رحاب اور رباب نے زور سے قہقہ لگایا تھا۔۔۔۔۔اور اب دونوں کا ہنس ہنس کر برا حال تھا۔۔۔۔
