Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tere Ishq Sy Meri Zaat Tak (Episode 11)

Tere Ishq Sy Meri Zaat Tak by Ayesha Mughal

پورے راستے عائشے نے ایک لفظ تک نہیں بولا تھا۔۔بس گم صم سی بیٹھی اپنی ہی سوچوں میں گم تھی ۔۔۔گاڑی کے رکنے پر وہ ایک دم چونکی۔۔۔

ھیشم نے گاڑی کا دروازہ کھول کر اسے اترنے میں مدد دی اور اس کا ہاتھ تھام کر حویلی کی اندرونی جانب بڑھ گیا ۔۔۔اسے اس حال میں دیکھ کر ھیشم کو خود بہت تکلیف ہو رہی تھی ۔۔۔

“آ گئیں بھابھی ۔۔۔۔”ھیشم اور عائشے کوآتے دیکھ کر رحاب زور سے چلا کر ان دونوں کی طرف بڑھی۔۔۔

“السلام علیکم بھائی۔۔۔”ان تینوں نے ایک ساتھ ھیشم کو سلام کیا۔۔۔ھیشم ان تینوں کو سلام کا جواب دے کر فریش ہونے کی غرض سے اپنےروم کی جانب بڑھ گیا۔۔۔

“جانتی ہیں بھابھی ۔۔۔کتنا مس کیا میں نے آپکو پتا ہے میرا بلکل بھی دل نہیں لگ رہا تھا آپکے بغیر۔۔۔۔” رحاب لاڈسے عائشے کے گلے میں بانہیں ڈالتی ہو ئی بولی۔۔

“میں نے بھی بہت مس کیا تمہیں کیوٹی۔بلکل بھی مزہ نہیں آیا مجھے اکیلے شاپنگ کرنے میں۔۔”عائشے خود کو کافی حد تک نارمل کر چکی تھی۔۔۔۔اسنے پیار بھرے لہجے میں رحاب کو جواب دیا ۔۔۔

“تھینک یو بھابھی بہت سویٹ ہیں آپ ۔۔لیکن بھائی تو تھے نا آپکے ساتھ۔۔۔۔اچھا اب دکھائیں جلدی سے کیا لے کر آئی ہیں آپ۔۔۔؟؟”رحاب نے کہا۔۔۔

“اب بھابھی یہاں کھڑے ہو کر تو دکھانے سے رہیں۔۔کم ازکم اندر تو آنے دو انہیں۔۔۔”ذیان نے دروازے پر ہی رحاب کو شروع ہوتے دیکھ کر ٹوکا۔۔۔

“اوہ سوری ۔۔۔”روحی اپنی جلدبازی پر شرمندہ ہوتے ہوئے بولی ۔۔۔۔۔

“کوئی نہیں گڑیا ۔۔۔کچھ نہیں ہوتا ۔۔۔۔چلو میں تمہیں سب دکھاتی ہوں ۔۔۔۔”عائشے پیار سے اس کا گال تھپتھپاتی اسے لیے اندر کی طرف بڑھ گئی۔۔۔۔عائشے کافی تھک چکی تھی اس لئے سب چیزیں ان کو دکھاتی ریسٹ کرنے کے لئے اپنے کمرے میں چلی گئی ۔۔جبکہ ان تینوں کی کبھی نہ ختم ہونے والی نوک جھوک ایک مرتبہ پھر سے شروع ہو گئی۔۔۔۔

عائشے جیسے ہی کمرے میں داخل ہوئی کمرہ بلکل خالی تھا۔۔۔اس نے یہاں وہاں دیکھا لیکن ھیشم کہیں نہیں تھا۔۔۔تب ہی اسے ٹیرس پر تھوڑا کھٹکا محسوس ہوا تو وہ وہیں چلی آئی۔۔۔۔

“زہے نصیب ۔۔۔آپ یہاں ۔۔۔؟؟؟”ھیشم کو کسی کی موجودگی کا احساس ہوا تو اس نے گردن موڑ کر دیکھا اور عائشے گل کو دیکھ کر اسے۔خوشگوار حیرت ہوئی ۔۔۔

“جی بس کچھ نہیں ایسے ہی۔۔۔”عائشے نے دھیمے لہجے میں کہا۔۔۔

“کہیں آپ ہمیں تلاش تو نہیں کر رہی تھیں نا عائشے گل۔۔۔۔”عائشے اس کے صحیح اندازے پر تھوڑا ںوکھلائی۔۔

“نن۔۔نہی۔۔نہیں تو میں بھلا آپ کو کیوں ڈھونڈوں گی۔۔۔؟؟”عائشے نے ٹوٹے پھوٹے لفظوں میں جواب دیا ۔۔۔۔اس کے جواب پر ھیشم خان نے جاندار قہقہہ لگایا ۔۔۔کیونکہ وہ جانتا تھا وہ خالی کمرہ پاکر اسے ہی ڈھونڈتے ہوئے آئی ہے۔۔۔۔

“آپ ہنس کیوں رہے ہیں ۔۔۔۔؟؟”عائشے نے معصومیت سے کہا۔۔۔۔

“کچھ نہیں جان ھیشم ۔۔۔۔۔بس ہم دیکھ رہے ہیں ہماری بیوی کو تو ٹھیک سے جھوٹ بولنا بھی نہیں آتا۔۔۔۔”ھیشم نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے پیار سے کہا۔۔۔

“میں نے کب جھوٹ بولا ۔۔۔؟؟”عائشے نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے جلدی سے کہا ۔۔۔

“ابھی آپ نے کہا آپ ہمیں ڈھونڈتے ہوئے یہاں نہیں آئیں تھیں جبکہ آپ یہاں ہمیں ہی ڈھونڈتے ہوئے آئی ہیں ۔۔۔۔جان ھیشم۔۔۔”ھیشم نے خوشگوار لہجے میں کہا۔۔۔اور عائشے کا تو خفگی کے مارے برا حال تھا۔۔۔۔اس لیے چپ چاپ کھڑی رہی ۔۔۔۔اسے خاموش کھڑے دیکھ کر ھیشم ہی اسے مخاطب کیا۔۔

“کیا ایک کپ کافی مل سکتی ہے ۔۔”ھیشم نے آج پہلی دفعہ اس سے کوئی فرمائش کی تھی ۔۔۔

“جی۔۔۔میں ابھی لے کر آتی ہوں ۔۔۔”عائشے حامی بھرتے ہوئے کافی بنانے چلی گئی ۔۔۔۔ھیشم کو انتظار کرتے ہوئے کافی دیر ہو گئی تھی لیکن عائشے ابھی تک نہیں آئی تھی ۔۔۔ھیشم نے ابھی اسکے پیچھے جانے کے لئے قدم بڑھایا ہی تھا کہ عائشے ہاتھ میں کافی کے دو کپ لیے آتی ہوئی دکھائی دی۔۔۔اور ایک کپ ھیشم کی طرف بڑھایا ۔۔۔جسے ھیشم نے فوراً تھام لیا۔۔۔

“لگتا ہے بہت اسپیشل کافی بنائی ہے آپ نے پورا آدھا گھنٹہ لگا کر۔۔۔۔”ھیشم نے اس کے اتنی دیر لگانے پر چوٹ کی ۔۔۔۔

“نہیں بس ۔۔و۔۔وہ”اس سے پہلے عائشے وضاحت دیتی ھیشم بیچ میں ہی بول پڑا ۔۔۔

“کچھ نہیں ہوتا عائشے گل۔۔۔آپ اتنا ڈرتی کیوں ہیں ہم سے ۔۔؟؟کیا ہماری شکل اتنی بری ہے۔۔۔؟؟”ھیشم کافی سائیڈ پر رکھ کر دونوں ہاتھ سینے پر باندھ کر اس کی طرف متوجہ ہوا۔۔۔۔

“ک۔۔کس ن۔نے کک۔۔کہا کہ میں آپ سے ڈرتی ہوں ۔۔۔؟؟میں کسی سے نہیں ڈرتی “عائشے نے مضبوط بنتے ہوئے کہا جبکہ زبان ساتھ دینے سے انکاری تھی ۔۔۔۔۔

“آپکی اس لڑکھڑاتی ہوئی زبان نے۔۔۔۔” ھیشم نے ہنستے ہوئے کہا۔۔۔

“اب آپ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں۔۔۔۔”عائشے نے ماتھے پر بل ڈالتے ہوئے کہا۔۔۔۔

“ہائییییی۔۔۔آپکو غصہ بھی آتا ہے۔۔۔۔؟؟؟کریں غصہ ہمیں بھی تو پتا چلے کہ آپ غصہ کیسے کرتی ہیں ۔۔۔؟؟”ھیشم نے اسے غصے میں آتے دیکھ کر مزید تپایا۔۔۔۔اس وقت وہ دونوں کوئی اور ہی ھیشم عائشے لگ رہے تھے ۔۔۔۔

“اب میں آپکا منہ توڑ دوں گی۔۔اگر آپ نے ایک لفظ اور کہا۔۔۔عائشے نے غصے سے کہا جبکہ اپنے لفظوں کا اندازہ ہوتے ہی اس نے اپنے منہ پر ہاتھ رکھ کر خود کو بولنے سے روکا ۔۔۔اور آنکھيں زور سے بند کر لیں ۔۔اسے لگا کہ اب ھیشم خان اس کو نہیں چھوڑے گا۔۔لیکن مسلسل خاموشی محسوس کر کے اس نے تھوڑی تھوڑی کر کے آنکھیں کھولیں تو سامنے ھیشم کھڑا مسکرا رہا تھا اور عائشے کو اس طرح دیکھتے ہوئے ھیشم کا فلک شگاف قہقہہ گونجا۔۔۔

“کیا ہوا جان ھیشم ۔۔۔چپ کیوں ہوگئی ۔۔۔بولو۔۔۔”ھیشم نے اسے ساکت کھڑے دیکھ کر کہا ۔۔۔۔۔

“کچھ بھی نہیں ۔۔۔مجھے لگا اب آپ کو غصہ آئے گا مجھ پر ۔۔۔مجھے ایسا نہیں بولنا چاہیے تھا۔۔۔”عائشے نے جھکی نظروں سے کہا۔۔۔

“ایسا کبھی نہیں ہو سکتا عائشے۔۔۔ہمیں آپ پر پیار تو آسکتا ہے لیکن غصہ نہیں آسکتا ۔۔۔۔”ھیشم نے اسے دیکھتے ہوئے نرمی سے کہا۔۔۔اور عائشے تو جتنا بھی خود پر نازاں ہوتی کم تھا۔۔۔۔

“جی۔۔۔۔”عائشے جواب میں صرف اتنا ہی کہہ سکی۔۔۔

“عائشے گل ۔۔۔آج مال میں کیا ہوا تھا ؟؟؟”ھیشم نے نے یاد آنے پر اچانک سوال کیا۔۔۔اور عائشے ایکدم اس سوال پر گھبرائی۔۔ھیشم جانتا تھا اس سے عائشے کو تکلیف ہو گی لیکن آئندہ کی تکلیفوں کو ختم کرنے کے لئے ضروری تھا۔۔

“عائشے گل بھروسہ ہے نا آپکو ہم پر ۔۔۔بتائیے کیا آپ نے کسی کو دیکھا تھا۔۔۔۔؟؟”ھیشم نے اس کا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھامتے ہوئے پیار سے کہا۔۔۔عائشے نے اس کی طرف آنسوؤں سے لبالب آنکھوں سے دیکھتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا۔۔۔۔

“وہ میں نے وہاں ایشل کو دیکھا تھا وہی لڑکی جس نے مجھے اغوا کروایا تھا ۔۔۔میں اس کے پیچھے ہی بھاگی تھی ۔۔”عائشے اذیت بھرے لہجے میں کہا۔۔۔اس کا کرب محسوس کر کے ھیشم نے تکلیف سے آنکھیں بند کیں ۔۔۔

“تو آپ نے ہمیں کیوں نہیں بتایا عائشے گل۔۔۔؟؟؟اگر وہ لڑکی دوبارہ آپ کے ساتھ کچھ کر دیتی تو ۔۔۔۔؟؟؟”ھیشم نے اس کی طرف شکوہ کناں نظروں سے دیکھتے ہوئے پوچھا ۔۔۔

“وہ مجھے اس وقت کچھ سمجھ ہی نہیں آیا۔۔۔۔”عائشے نے معصومیت سے کہا۔۔۔

“آپ فکر مت کریں عائشے ۔۔۔اب اس لڑکی کو ہم سے کوئی نہیں بچا سکتا ۔۔۔۔۔”عائشے کو حوصلہ دیتے ہوئے اسے اپنے سینے سے لگایا۔۔۔۔۔۔ھیشم کے لئے ایشل کو پکڑنا بائیں ہاتھ کا کھیل تھا اور وہ ماہر کھلاڑی اچھے سے جانتا تھا کہ اسے یہ کھیل کیسے کھیلنا ہے۔

“کافی ۔۔۔۔”عائشے کو اچانک کافی کی یاد آنے پر وہ دھیمے لہجے میں بولی۔۔۔

“اوہ ہاں آج ہماری پیاری بیوی نے اتنے پیار سے ہمارے لئے بنائی ہے اور ہم بھول گئے۔۔اور وجہ بھی تو ہماری بیوی ہی ہے۔۔۔” ھیشم نے ماتھے پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا۔۔۔۔

‘”میں نے کیا کیا ۔۔۔؟”عائشےدونوں ہاتھ کمر پر رکھتے ہوئے لڑاکا عورتوں کی طرح بولی ۔۔۔۔اور ھیشم اس کے اس انداز پر مسکرایا۔۔۔

“آپ نے ڈاکا ڈالا ہے۔۔۔”ھیشم نے شرارت سے کہا۔۔۔

“میں نے کب کچھ چوری کیا ہے ۔۔۔۔؟؟میں چور نہیں ہوں ۔۔۔”عائشے اپنی خوبصورت آنکھوں کو پٹپٹاتے ہوئے بولی۔۔۔

“پھر کبھی بتائیں گے ۔۔۔۔آجائیں ابھی کافی تھک گئیں ہونگی آپ آج۔۔۔۔۔”ھیشم نے آگے بڑھتے ہوئے کہا ۔۔۔لیکن جب پیچھے دیکھا تو عائشے اب بھی اپنی جگہ پر ہی کھڑی غصے سے اسے دیکھ رہی تھی ۔۔۔

“کیا ہوگیا کیا یہیں کھڑے رہنے کا ارادہ ہے۔۔۔؟؟”ھیشم نے واپس اس کی طرف آتے ہوئے کہا ۔۔۔

“آپ جب تک مجھے نہیں بتائیں گے میں یہاں سے کہیں نہیں جاؤں گی ۔۔۔۔”عائشے نے غصے سے کہآ۔۔۔

“تو ٹھیک ہے ۔۔۔۔ہم آپکو اٹھا کر لے جاتے ہیں ۔۔۔۔”ھیشم اتنا کہہ کر آگے بڑھا ہی تھا کہ عائشے جلدی سے کمرے کی جانب بھاگ گئی ۔۔جبکہ پیچھے ھیشم کا فلک شگاف قہقہہ گونجاتھا۔۔۔

🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹

انسان جب کسی سے سچی محبت کرتا ہے تو بڑی بے غرض محبت کرتا ہے اور ہمیشہ اس کی تکمیل کا خواہشمند ہوتا ہے ۔۔۔۔عادل خان سے تو پھر محبت اس کے حوالے کر کے چھینی گئی تھی تو اتنی آسانی سے کیسے بھول جاتا وہ ۔۔۔؟؟اور یہی تو ہماری محبت کا امتحان ہوتا ہے کہ ہم اپنی محبت کی پیمائش کرسکیں کہ ہماری محبت میں کتنی سچائی ہے۔۔۔ان حالات میں یا تو ہم خود غرض بن جاتے ہیں کہ ہر حال میں ہم اس انسان کو پانا چاہتے ہیں بھلے وہ انسان خوش ہو یا نہ ہو ۔۔۔یا تو ہم اپنی محبت کی خوشی کے لیے اپنی خوشی قربان کر دیتے ہیں ۔۔۔۔عادل خان کسی بھی طرح سنبھل نہیں پا رہا تھا۔۔۔اسے چوٹ ہی ایسی لگی تھی کہ وہ سنبھل ہی۔نہیں پارہاتھا۔۔۔۔اس کی پوری زندگی تہس نہس ہو چکی تھی ۔۔

“اماں بیگم میرا سانس گھٹتا ہے اس کے بغیر ۔۔۔”عادل خان نے بے بسی سے کہا۔۔۔

“یہاں مجھے ہر جگہ عائشے کی یاد دلاتی ہے۔۔اس کی ہنسی ۔۔اسکی باتیں ۔۔۔اس کا رونا۔۔۔۔مجھے لگتا ہے میں مر جاؤں گا اس کے بغیر۔۔۔۔۔”عادل کسی بھی طرح سنبھل نہیں پارہا تھا اور اس وقت وہ۔کسی ضدی بچے کی طرح اماں بیگم کے پاس بیٹھا رو رہا تھا جیسے اس سے کسی نے اس کی کوئی چیز چھین لی ہو۔۔۔

“میں جانتی ہوں بیٹا تمہارے ساتھ زیادتی ہوئی ہے۔۔۔پربیٹا سنبھالو خود کو۔۔۔پوری زندگی پڑی ہے آگے۔۔۔۔”اماں بیگم کو اسکا اس طرح رونا دکھی کر رہا تھا ۔۔۔

“پر میں جینا نہیں چاہتا اماں بیگم۔۔میرا دل کرتا ہے میں خود کو ختم کر لوں ۔۔۔”عادل نے کرب سے کہا۔۔۔

یہ محبت بڑی ظالم ہوتی ہے اسکا دیا ہوا گھاؤ بہت گہرا ہوتا ہے یہ اچھے سے اچھے بڑے سے بڑے انسان کو تباہ کر کے رکھ دیتی ہے۔۔آج اس نے عادل خان کو بھی توڑ کر رکھ دیا تھا ۔۔۔۔

“یوں خود کو کیوں برباد کر رہے ہو بیٹا۔۔۔”اماں بیگم کے سوال پر اس نے چونک کر ان کی طرف دیکھا جیسے کچھ یاد آیا ہو۔۔۔

“اماں بیگم میں ھیشم خان کی حویلی جاؤں گا اسے لینے ۔۔۔۔”عادل خان نے مضبوط لہجے میں کہا۔۔۔اس کی بات پر اماں بیگم نے پریشانی سے اس کی طرف دیکھا۔۔۔

“کیا ہوگیا بیٹا اسکا انجام جانتے بھی ہو کیا ہو سکتا ہے۔۔۔”اماں بیگم نے اسے خبردار کیا۔۔۔

“جو بھی ہو اماں بیگم میرے پاس اسکے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے۔۔۔”عادل خان کے لہجے کی مضبوطی اماں بیگم کو چونکا گئی ۔۔۔

“رک جاؤ بیٹا کیوں خود کو مشکل میں ڈال رہے ہو۔۔؟؟”اماں بیگم نے کمزور لہجے میں کہا۔۔۔

“اماں بیگم اگر میری جان بھی چلی جائے تو مجھے کوئی پرواہ نہیں ہے۔۔۔”عادل خان نے حتمی لہجے میں کہا۔۔۔

“اللّٰہ میرے بچے کی حفاظت کرے ۔۔۔”اماں بیگم نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا ۔۔

“کیا آپ میرا ساتھ دیں گی۔۔۔۔؟؟”عادل خان نے اپنا مضبوط ہاتھ انکے سامنے پھیلاتے ہوئے کہا۔۔۔

“ہاں بیٹا۔۔۔اگر تمہارا یہی فیصلہ ہے تو میں تمہارے ساتھ ہوں ۔۔۔۔لیکن ایک شرط پر۔۔۔۔”

“کیسی شرط ۔۔۔؟”عادل نے اچھنبے سے ان کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا ۔۔۔۔

“تم عائشے کو کسی بھی چیز کے لئے مجبور نہیں کرو گے ۔۔اگر وہ وہیں رہنا چاہے تو تم اسے زبردستی نہیں لاؤ گے یہاں ۔۔۔”اماں بیگم نے اپنی شرط اس کے سامنے رکھی۔۔۔

“ٹھیک ہے اماں بیگم ۔۔۔میں عائشے سے محبت کرتا ہوں اگر اسکی خوشی ھیشم خان کے ساتھ ہوئی تو میں کبھی اس کی زندگی خراب نہیں کروں گا میں اسے خوش دیکھنا چاہتا ہوں ۔۔۔۔میں جا تو رہا ہوں اماں بیگم لیکن جس دن عائشے نے مجھے اپنی زندگی سے جانے کا کہا اس دن اگر مجھے خالی ہاتھ بھی لوٹنا پڑا تو میں لوٹ آؤں گا۔۔۔۔۔”یہ عادل بھی نہیں ہی جانتا تھا کہ وہ کیسے اس بات پر پورا اترے گا ۔۔۔۔

“تو ٹھیک ہے بیٹا میں تیرے ساتھ ہوں ۔۔۔”اماں بیگم نے اس کے ماتھے پر بوسہ دیتے ہوئے کہا ۔۔۔۔

“مجھ سے وعدہ کریں اماں بیگم آپ ابا جان کو نہیں بتائیں گی کہ میں عائشے گل کو لینے ھیشم خان کی حویلی گیا ہوں ۔۔۔۔”

“ہاں بیٹا۔۔توجا اور میری عائشے سے بات ضرور کروانا ۔۔ناجانے کس حال میں ہو گی میری بچی۔۔۔۔”اماں بیگم نے نم لہجے میں کہا۔۔۔

“اپنا خیال رکھنا ۔۔۔میں انتظار کروں گی ۔۔۔تیرے لوٹنے کا۔۔”اماں بیگم نے اسے گلے لگاتے ہوئے کہا۔۔۔

“جی اماں بیگم۔۔انشاء اللّٰہ اچھی خبر لے کر ہی لوٹوں گا۔۔۔۔”عادل خان انکے سر پر بوسہ دیتے اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا اور کچھ ضروری سامان پیک کر کے بنا کسی کو بتائے چپ چاپ حویلی سے نکل گیا۔۔۔۔۔

🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹

روحی اپنے کمرے میں بیٹھی اپنا کوئی اسائمنٹ بنا رہی تھی جب حازم کمرے میں آیا۔۔۔۔

“کیا کر رہی ہو روحی۔۔۔۔؟؟؟”حازم نے اسے کام میں مصروف دیکھتے ہوئے پوچھا ۔۔

“مینار پاکستان کی لمبائی ناپ رہی ہوں ۔۔۔۔نظر نہیں آ رہا کیا ۔۔؟؟اسائمنٹ بنا رہی ہوں ۔۔۔۔”روحی نے اس کے دیکھنے کے باوجود سوال کرنے پر غصے سے کہا۔۔۔

“اوہ سوری ۔۔۔۔”حازم اتنا کہہ کر اٹھ کر جانے لگا ۔۔رحاب اس کے اتنے خاموش رہنے پر حیران ہوئی وہ جو کب سے سر نیچے کئے اسائنمنٹ بنا رہی تھی اس نے سر اٹھا کر اس کی طرف دیکھا ۔۔۔۔

“کیا ہوگیا ۔۔؟؟خیر تو ہے آج لوگ اتنے خاموش کیسے ہیں ۔۔؟؟”حازم کو جاتا دیکھ کر رحاب نے اسے سنانے کے لیے تیز آواز میں کہا۔۔۔۔۔لیکن حازم جیسے ہی پلٹا اس کا چہرہ دیکھ کر رحاب کو شدید جھٹکا لگا۔۔۔متورم آنکھیں ۔۔سرخ ناک اور پورے چہرے پر اداسی پنکھ پھیلائے بیٹھی تھی ۔۔۔۔

“تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے نا حازم۔۔۔۔؟؟”رحاب فکر مندی سے اس کی جانب بڑھی ۔۔

“ہاں ٹھیک ہوں میں ۔۔۔مجھے کیا ہو سکتا ہے بھلا۔۔؟؟”حازم نےچہرے پر مسکراہٹ لاتے ہوئے کہا۔۔۔

“لگ تو نہیں رہا تم ٹھیک ہو۔۔۔۔انسانوں کی طرح بتا دو کیا بات ہے کوئی پریشانی ہے کیا۔۔؟؟”رحاب جانتی تھی وہ بات ٹال رہا ہے ضرور کوئی توایسی بات تھی جس نے اس کا یہ حال کر دیا تھا۔۔۔

“کچھ نہیں ہوا روحی یار ۔۔۔بس ایسے ہی رات کو سویا نہیں ہوں نا اس لئے ۔۔۔۔”حازم نے پھر سے بات کو ٹالا۔۔۔

“اگر تمہیں لگتا ہے کہ تم مجھ سے چھپا لو گے تو یہ تمہاری غلط فہمی ہے ۔۔۔چھوٹی ضرور ہوں حازم پاگل نہیں ہوں ۔۔۔۔”روحی نے استفسار کرتے ہوئے کہا ۔۔جو بھی تھا ۔۔جتنا بھی لڑتے تھے وہ۔۔لیکن تینوں کی ایک دوسرے میں جان بستی تھی ۔۔۔۔تو روحی کیسے نا جان پاتی کہ حازم تکلیف میں ہے ۔۔۔

“پاگل تو تم ہو روحی ۔۔۔۔وہ الگ بات ہے کہ ہم نے آج تک کسی کو بتایا نہیں ورنہ ابھی تک پاگل خانے والے تمہیں اٹھا کر لے گئے ہوتے ۔۔۔۔”حازم نے مذاق کرتے ہوئے کہا ۔۔۔

“بات مت بدلو حازم۔۔۔آخری دفعہ پوچھ رہی ہوں ورنہ اب ھیشم بھائی کو بلا لوں گی تمہاری یہ اتری ہوئی شکل کی وجہ پھر انہیں ہی بتانا۔۔۔۔۔”روحی نے اسے دھمکایا کہ شاید وہ ایسے ہی بتا دے۔۔حازم اب بلکل خاموش کھڑا تھا اس کے جواب میں اس نے ایک لفظ بھی نہیں کہا۔۔۔۔

“او ۔۔رکو ۔۔۔رکو۔۔۔رکو۔۔۔ایک منٹ کہیں اس سب کی وجہ رباب تو نہیں ۔۔۔؟”روحی حازم کی رباب کے لئے فیلنگز سے اچھی طرح آشنا تھی ۔۔۔اور اس بات سے بھی واقف تھی کہ رباب حازم کو کم و بیش ہی۔لفٹ کرواتی تھی ۔۔۔روحی کے صحیح اندازے پر حازم نے چونک کر اسکی طرف دیکھا ۔۔۔

“بولو اب کیوں بت بنے بیٹھے ہو۔۔۔۔؟”اسے مسلسل خاموش دیکھ کر روحی نے چڑ کر کہا۔۔۔

“تمہار ا اندازہ بلکل درست ہے روحی ۔۔۔تم بات کرو نا اس سے۔۔۔”حازم نے جلدی سے اس کا ہاتھ پکڑ کر منت کرتے ہوئے کہا ۔۔

“ہائیییییی حازم تم نے پہلے کیوں نہیں بتایا مجھے ۔۔۔۔؟؟تو اب کیا مسئلہ ہے ۔۔۔؟؟”رحاب نے اس کی طرف سوالیہ نظروں سے پوچھا ۔۔۔

“مسئلہ یہ ہے کہ وہ مان نہیں رہی ۔۔۔۔میں جانتا ہوں روحی وہ مجھ سے محبت کرتی ہیں میں نے خود اس کی آنکھوں میں دیکھا ہے لیکن وہ مانتی نہیں ہے ۔۔۔۔”حازم نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ۔۔اور پل بھر کی خاموشی کے بعد پھر سے بولا۔۔۔

“وہ کہتی ہے اگر اس کے ابا کو یہ بات پتا چلی تو وہ اس کے ساتھ ساتھ مجھے بھی مار دیں گے ۔۔۔اور اس کے ابا نے اس کی نسبت اپنے ہی جیسے کسی بگڑے ہوئے نوبزادے سے طے کر دی اور اب وہ اسی سے ہی شادی کرے گی ۔۔۔۔”حازم کے لہجے میں بے بسی ہی بے بسی تھی ۔۔۔۔

“اوہ۔۔۔تو اب کیا کیا جا سکتا ہے حازم ۔۔۔۔؟؟”روحی نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے پریشانی سے پوچھا۔۔

“تم بس اس سے بات کرو ۔۔۔اگر وہ راضی ہو جائے تو سب ہو جائے گا۔۔ایٹ لیسٹ وہ میری محبت کو ایکسیپٹ تو کرے روحی۔۔۔”حازم نے موقع دیکھ کر جلدی سے حل اس کے سامنے رکھا۔۔۔۔

“اسے ایکسیپٹ تو کرنا ہی پڑے گا حازم۔۔۔روحی کے بھائی نے محبت کی ہے اس سے کوئی معمولی بات تھوڑی ہے یہ۔۔۔”روحی نے شیخیاں بگھارنے ہوئےکہا ۔۔۔

“”شکریہ روحی میں جانتا تھا تم میری ہیلپ ضرور کرو گی ۔۔۔”حازم نے اسے مشکور نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔

“بس بس ۔۔۔زیادہ بٹرنگ کی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔مجھے یہ بتاؤ یہ سب ہوا کیسے ۔۔۔؟؟؟”روحی نے ابرو اچکاتے ہوئے کہا۔۔۔

“کیسے کیا مطلب ….ہو گیابس ۔۔۔”حازم نے تڑخ کر جواب ددیا۔۔۔

“اچھا چھوڑو یہ بتاؤ ۔۔۔۔مجھے بدلے میں کیا ملے گا۔۔۔۔”رحاب نے جلدی سے پوچھا۔۔۔۔

“ایک عدد بھابھی ۔۔۔”حازم نے ہنستے ہوئے جواب دیا ۔۔۔

“اس کے علاوہ ۔۔؟؟”روحی نے منہ پھیر کر پوچھا۔۔۔

“اس کے علاوہ جو تم چاہو۔۔۔”حازم نے نرم لہجے میں کہا ۔۔۔۔

“تو ٹھیک ہے یاد رکھنا اس بات کو ۔۔۔”روحی نے نخرے دکھاتے ہوئے کہا۔۔۔

“ایک بات سوچ رہا تھا میں رحاب۔۔۔۔”حازم نے سنجیدہ لہجے میں کہا جبکہ آنکھوں میں شرارت واضح تھی ۔۔۔

“ہاں بولو۔۔۔۔ویسے میں بھی ایک بات سوچ رہی تھی ۔۔۔۔”رحاب نے کنپٹی پر انگلی رکھ کر پرسوچ انداز میں کہا۔۔

“کیا سوچ رہی تھی تم۔۔۔؟؟”حازم نے جلدی سے پوچھا اسے لگا روحی کوئی خاص بات کرنے والی ہے ۔۔۔۔

“میں سوچ رہی تھی کہ پتا نہیں کس کے دماغ پر ڈاکا ڈالا ہے تم نے ورنہ اپنا دماغ تو ہے نہیں تمہارے پاس کہ تم کچھ سوچو۔۔۔۔”روحی نے مضحکہ خیز لہجے میں کہا۔۔۔۔۔

“ہائییییییی ایک منٹ۔۔۔۔”روحی کہہ کر جلدی سے اس کے پاؤں کے قریب جھکی ۔۔۔۔

“کیا ہو گیا ایسا کیا ہے میرے پاؤں میں؟؟”حازم نے اسے عجیب حرکتیں کرتے دیکھ کر کہا ۔۔۔

“یہ دیکھو ۔۔۔”روحی نے دونوں ہاتھ اس کے سامنے کرتے ہوئے کہا۔۔۔جو ہونقوں کی طرح اسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔

“یہ کیا ہے روحی۔۔۔؟؟”اس نے تپ کر کہا۔۔۔

“تمہارا دماغ ۔۔۔۔نیچے گر گیا تھا تو سوچا کہ اٹھا کر دے دوں۔۔۔۔”روحی اتنا کہہ کر دروازے کی طرف بھاگی جانتی تھی اب حازم اسے چھوڑنے والا۔نہیں ہے ۔۔۔

“کیا ہو گیا بھئ۔۔۔۔کیوں پیچھے پڑے ہو روحی کے۔۔۔؟؟”عائشے جو روحی کے کمرے کی طرف آرہی تھی روحی کو اس طرح بھاگتا دیکھ کر اس کے پیچھے آتے حازم سے پوچھا ۔۔۔۔

“بھابھی سمجھا لیں اس کو ۔۔۔۔” حازم نے روحی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔۔۔

” لیکن ہوا کیا ہے یہ بھی تو بتاؤ۔۔۔۔؟”عائشے نے متجسس ہوتے ہوئے۔۔

” ہونا کیا ہے بھابھی۔۔۔۔ بس کچھ لوگوں کا دماغ کر گیا تھا وہی اٹھا کر دیا ہے تو اتنا غصہ آ رہا ہے ان کو۔۔۔ بھلائی کا تو دور ہی نہیں رہا۔۔۔۔۔”روحی نے عائشے کو پوری بات بتائی جسے سن کر عائشے کا ہنس ہنس کر برا حال ہو گیا تھا۔۔۔ حازم ان دونوں کو اس طرح ہنستےہو ئے پاؤں پٹختا وہاں سے چلا گیا جبکہ وہ دونوں ہنستی ہوئی کچن کی جانب بڑھ گئیں۔۔۔

🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹

ان دنوں میں عائشےاور ھیشم میں کافی انڈر اسٹینڈنگ ہو گئی تھی۔۔۔۔عائشے اب ھیشم سے ساری باتیں بے جھجک کر لیا کرتی تھی۔۔۔۔اب بھی وہ روحی کے ساتھ کچن میں کھڑی اسکا پسندیدہ کھانا بنانے میں مصروف تھی۔۔۔

“کیا ہو رہا ہے گرلز ۔۔۔بڑی خوشبو آرہی ہے آج کچن سے کیا بن رہا ہے اسپیشل۔۔۔۔؟”ذیان نے کچن میں آتے ہوئے کہا۔۔۔کھانے کا تو وہ ویسے ہی دیوانہ تھا۔۔۔۔

“آج بھابھی بھائی کے لئے خاص اپنے ہاتھوں سے ڈنر بنا رہی ہیں۔۔۔”جواب روحی کی طرف سے آیا۔۔۔۔

“واہ بھئی۔۔۔۔آج تو بھائی کے عیش ہونے والے ہیں۔۔۔۔”ذیان نے ہنستے ہوئے کہا۔۔۔۔۔

“ویسے بن کیا رہا ہے۔۔۔؟”حازم نے پوچھا۔۔۔۔

“یہ تو ڈائننگ ٹیبل پر ہی پتا چلے گا۔۔۔۔”اس سے پہلے عائشے بتاتی روحی نے جلدی سے کہا۔۔۔

“ذیان ذرا ھیشم سیے پوچھنا کب تک آئیں گے وہ۔۔۔”عائشے نے ذیان سے کہا۔۔۔۔

“”اوووووہ۔۔۔بڑا انتظار ہو رہا ہے۔۔۔”ذیان نے عائشے کو چھیڑتے ہوئے کہا۔۔۔اس کی بات پر عائشے شرم سے سرخ ہو گئی۔۔۔

“بھابھی بلش کر رہی ہیں روحی۔۔۔ذرا دیکھو تو ۔۔۔اب تو اور بھی ذیادہ حسین لگ رہی ہیں ۔۔۔۔۔” ذیان نے اسے شرم سے دوہرے ہوتے دیکھ کر کہا۔۔۔۔

“چلو ۔۔۔باہر ۔۔بہت شرارتی ہو تم لوگ۔۔۔۔”عائشے نے اسے باہر کی طرف دھکا دیتے ہوئے کہا۔۔۔پھر جلدی جلدی کھانا بنا کر ملازمہ کو کھانا ٹیبل پر لگانے کا کہہ کر عائشے کپڑے چینج کرنے کے لئے اپنے روم کی جانب بڑھ گئی۔۔۔اور کچھ ہی دیر میں وہ ریڈی ہو کر وہ لاؤنج میں آگئی اور کچھ ہی دیر ھیشم اگیا۔۔۔

آج ھیشم کو بہت بھوک لگی تھی اور کھانے کی خوشبو اسکی بھوک کو مزید بڑھا رہی تھی۔۔۔۔

ھیشم نے جیسے ہی پہلا نوالہ لیا آج اسے کھانے کا ذائقہ تھوڑا الگ لگا تھا۔۔اسے پتا چل گیا تھا آج کھانا عائشے نے بنایا ہے کیونکہ اور تو کوئی تھا نہیں بنانے والا اور کچھ عائشے اسے دیکھ اس طرح رہی تھی۔۔۔عائشے کو لگا وہ تعریف کرے گا لیکن وہ چپ چاپ کھانا کھاتا رہا۔۔۔عائشے کے چہرے کے ٹیڑھے میڑھے زاویے بنتے دیکھ کر اسے بھت ہنسی آرہی تھی لیکن وہ کنٹرول کئے بیٹھا تھا۔۔۔عائشے کا چہرہ اس وقت غصے سے سرخ ہو رہا تھا۔۔۔۔بمشکل کھانا ختم کرتے وہ پاؤں پٹختی وہاں سے اٹھ کر چلی گئی۔۔۔۔اسکے جاتی ہی ھیشم خان زور سے ہنسا جبکہ آس پاس بیٹھے وہ تینوں حیرانی سےھیشم کواس طرح ھنستا ہوا دیکھ رہی تھی۔۔۔۔انہیں اس طرح اپنی طرف دیکھتا پا کر ھیشم نے جلدی سے اپنی ہنسی کو کنٹرول کر کے کھانا کھانے لگا ۔۔۔وہ تینوں سمجھ چکے تھے کہ ھیشم نے یہ سب عائشے کو چڑانے کے لئے کیا ہے۔۔۔۔کھانا ختم کر کے ھیشم اٹھا ہی تھا کہ حازم جھٹ سے بولا۔۔۔

“بیسٹ آف لک بھائی۔۔۔۔۔”

“تھینک یو حازم۔۔۔۔”ھیشم مسکرا کر جواب دیتا آگے بڑھ گیا۔۔۔۔اور وہ تینوں تو ھیشم کے بدلتے رویے کو دیکھ کر ایک مرتبہ پھر سکتے میں جا چکے تھے۔۔۔۔۔

ھیشم جیسے ہی کمرے میں داخل ہوا وہ سامنے بیڈ پر بیٹھی آنسو بہانے میں مصروف تھی۔۔۔۔اسے اس طرح روتے دیکھ کر ھیشم جلدی سے اس کی طرف بڑھا جبکہ چہرے پر پریشانی واضح تھی۔۔اگر اسے پتا ہوتا کہ عائشے اس کے مذاق کو اتنا سیریس لے لے گی ورنہ وہ ایسا مذاق کبھی نہ کرتا ۔۔۔

“کیا ہو گیا عائشے۔۔۔؟آپ کیوں رو رہی ہیں ۔۔۔؟”ھیشم نے اس کے پاس بیڈ پر بیٹھتے ہوئے فکر مند لہجے میں کہا۔۔۔۔

“کچھ نہیں بات مت کریں مجھ سے ۔۔۔کتنی محنت اور دل سے کھانا بنایا تھا میں نے آپکے لئے۔۔۔۔اور آپ نے ایک دفعہ تعریف تک نہیں کی۔۔۔”عائشے نے ڈھیر سارے آنسو آنکھوں میں لئے اس کی طرف دیکھتے ہوئے شکایت کی۔۔۔۔ھیشم اس وقت اس کی آنکھوں میں اپنا آپ ڈوبتا ہوا محسوس ہوا۔۔۔۔

“تو یہ بات ہے اس میں رونے والی کیا بات ہے ۔۔۔۔ہم تو آپکو ایسے ہی تنگ کر رہے تھے۔۔۔۔کھانا بہت ہی اچھا بنا تھا ہمارا تو دل کر رہا تھا کہ بنانے والے کے ہاتھ ہی چوم لوں۔۔۔۔۔”ھیشم نے محبت سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔

“بس بس ۔۔۔ذیادہ فری ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔۔میرا انعام کہاں ہے۔۔۔؟”عائشے نے رونا دھونا بھول کر اس کے سامنے ہاتھ کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔

“آپکا انعام ۔۔۔ہمیں کہاں پتا تھا کہ آپ نے ہمارے لئے ڈنر بنایا ہے۔۔۔۔۔لیکن ہاں ایک کام کریں یہ لاکٹ آپ اپنے پاس رکھ لیں ۔۔یہ ہمیں اپنی جان سے بھی ذیادہ عزیز ہے اسے کبھی خود سے الگ مت کرئیے گا۔۔۔۔۔”ھیشم نے اپنے گلے سے لاکٹ اتار کر اسے پہناتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔یہ لاکٹ اس کی ماں نے اسے لے کر دیا تھا جو اب اس کے لئے ہر چیز سے ذیادہ قیمتی تھا۔۔۔۔۔اتنے میں ہی ھیشم خان کا فون بجا تھا۔۔۔۔فون کان سے لگاتے ہوئے بھی وہ عائشے کو دیکھ رہا تھا جو لاکٹ دیکھنے میں منہمک تھی۔۔۔۔دوسری جانب سے ناجانے کیا کہا گیا تھا کہ غصے سے موبائل پر ھیشم خان کی گرفت سخت ہوئی تھی۔۔۔گردن کی نسیں دانت بھینچنے کی وجہ سےواضح ہو چکی تھیں ۔۔۔غصے کی شدت کی وجہ سے اس کی آنکھیں سرخ ہو چکی تھیں ۔۔۔کال بند ہوتے ہی عائشے کو سینے سے لگاتے وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا وہاں سے نکلتا چلا گیا ۔۔۔جبکہ عائشے پریشان کھڑی اس کے رویے کے بارے میں سوچنے لگی۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *