Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tere Ishq Sy Meri Zaat Tak (Episode 21)

Tere Ishq Sy Meri Zaat Tak by Ayesha Mughal

عادل کافی دنوں بعد حویلی لوٹا تھا۔۔۔اور تب سے کمرے کا ہو کر رہ گیا تھا کم ہی کچھ کھاتا اور گھر سے باہر بھی کم و بیش ہی نکلتا تھا۔۔۔وہ تنہائیوں کا عادی ہو چکا تھا۔۔۔نسرین بیگم جب بھی اس سے بات کرتیں وہ ان کی بات کو ٹال دیتا۔۔۔اور اپنے کام سے کام ہی رکھتا تھا۔۔۔نسرین بیگم کو اسے اس طرح دیکھ کر بہت تکلیف ہوتی تھی۔۔۔آج وہ کافی دنوں بعد نسرین بیگم کے کمرے میں آیا تھا۔۔۔اور اب بیڈ پر ان کی گود میں سر رکھے لیٹا تھا۔۔آنکھیں موندے وہ بلکل خالی ذہن تھا۔۔

“کیوں زندگی برباد کر رہے ہو۔۔؟؟زندگی کو گزارو کیوں وقت کو برباد کر رہے ہو اگر ایسا ہی کرتے رہے تو وقت تمہیں برباد کر دے گا۔۔۔۔”نسرین بیگم نے متمنی لہجے میں کہا۔۔تو وہ اضمحلال سے سانس کھینچ کر اٹھ کر بیٹھ گیا۔۔۔

“اگر اندھیرے کی طرف دیکھتے رہو گے تو روشنی ہو گی بھی تو تمہیں نظر نہیں آئے گی عادل۔۔۔میں تمہارے لئے ایک آسان سا حل لائی ہوں عمل کرو گے ۔۔۔؟؟مانو گے۔۔؟؟”نسرین بیگم نے مسکراتے ہوئے اسے دیکھا اور اس کا ہاتھ تھام کر محبت سے بولیں۔۔۔”شادی کرلو۔۔”اس نے چونک کر نسرین بیگم کی طرف دیکھا ۔۔پھر یکدم ہنس دیا۔۔۔

“ایک ماں ہونے کے ناطے آپ یہ ہی مشورہ دے سکتی ہیں۔۔”وہ اٹھ کر جانے لگا ۔۔۔نسرین بیگم نے اس کے بازو پر ہاتھ رکھ کر اسے روک دیا۔۔۔وہ چہرہ موڑ کر ان کی طرف دیکھنے لگا۔۔۔

“میں نے تمہارے لئیے لڑکی پسند کر لی ہے۔۔۔”نسرین بیگم نے اطلاع دی۔۔۔

“اوہ۔۔”اس نے ابرو کو جنبش دیتے ہوئے کہا۔۔

“وہ بہت پیاری ہے۔۔۔”

“اچھا۔۔۔”ایک ہلکی سانس لے کر اس نے اپنے اندر سلگتے درد کو دبایا۔۔۔

“کس گاؤں کے چوہدری کی بیٹی ہے۔۔۔؟؟یا کسی ایم این اے کی صاحبزادی ہوگی۔۔۔”اس کا لہجہ ناچاہتے ہوئے بھی تلخ ہو گیا تھا۔۔ایک چبھن تھی۔۔۔لیکن نسرین بیگم صبر کا گھونٹ پی گئیں۔۔۔

“تم غصہ کرو جو بھی کرو میں نے فیصلہ کر لیا ہے۔۔اب تمہارے غصے یا ناراضگی کا میں برا نہیں مناؤں گا۔۔جو دکھ۔۔پریشانیاں تمہیں مجھ سے ملیں ہیں ان کا ازالہ بھی میں ہی کروں گی۔۔۔”

“کیسے کریں گی ازالہ۔۔۔؟؟کسی بھی امیر نوابزادی کا ہاتھ میرے ہاتھ میں پکڑا دیں گی۔۔۔ہو جائے گا ایسے ازالہ۔۔۔؟؟”اس نے تڑخ کر پوچھا۔۔۔

“نہیں وہ کسی امیر آدمی کی بیٹی نہیں ہے۔۔۔۔بلکہ وہ ایک متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والی عام سی لڑکی ہے۔۔۔۔”انہوں نے عادل کے سر پر بم پھوڑا تھا۔۔وہ سناٹے میں رہ گیا۔۔۔

“آپ کی ڈکشنری میں متوسط طبقہ کہاں سے آگیا۔۔آئی کانٹ بلیو۔۔۔امیزنگ۔۔”اس کا دل چاہ رہا تھا وہ ساتھ ساتھ زور سے تالیاں پیٹے۔۔۔اپنی ماں کو داد پیش کرے۔۔اور اگر وہ اس کی ماں نہ ہوتیں تو شاید وہ ایسا کر گزرتا۔۔۔بڑی مشکل سے غصے سے ضبط کیا تھا۔۔۔وہ جانتا تھا نسرین بیگم شروع سے دولت کی پجاری رہی ہیں اور عائشے سے شادی کا فیصلہ بھی انہوں نے جائیداد کو گھر پر رکھنے کے لئے ہی کیا تھا ورنہ عائشے کو انہوں نے ایک نوکرانی سے ذیادہ سمجھا کب تھا ۔۔۔نسرین بیگم تڑپ کر اس کے نزدیک آئیں۔۔۔

“تمہارا یہ لہجہ تمہارا حق ہے۔۔ہر طنز کرنے کا حق رکھتے ہو۔۔مگر ایک دفعہ میری بات مان لو۔۔۔”انہوں نے دل گرفتگی سے اس کا بازو تھامنا چاہا مگر اس وہ جھٹکے سے پیچھے ہوا تھا۔۔۔

“میں طنز نہیں کر رہا۔۔۔بلکہ حیرت کا اظہار کر رہا ہوں کہ وہ ایگو۔۔وہ غرور تکبر۔۔لالچ۔۔کہاں گیا مام آپکا۔۔۔۔؟؟ ایک مڈل کلاس لڑکی ہمارے خاندان کی بہو کیسے بن سکتی ہے۔۔۔؟؟”

“بھول جاؤ۔۔۔وہ وقت گزر چکا ہے۔۔۔”نسرین بیگم تڑپ کر گویا ہوئیں۔۔۔

“نہیں بھول سکتا میں۔۔۔کیوں انتشار لاتی ہیں میری زندگی میں ۔۔پلیز چلی جائیں یہاں سے ۔۔۔پلیز۔۔۔”ہ جیسے کانچ کی مانند چٹخا۔۔۔وہ دل میں اٹھنے والی درد کی لہروں کو دباتے بیڈ سے اترا تھا اور کمرے کے بیرونی جانب بڑھ گیا۔۔۔لیکن دروازے پر کھڑے زریاب خان کو دیکھ کر اس کے قدم تھمے تھے۔۔۔۔

“آخر کتنا وقت لگے گا تمہیں یہ سب بھولنے میں ۔۔۔؟؟کب تک اس بدکردار لڑکی کا روگ لگا کر بیٹھے رہو گے۔۔۔۔؟؟”زریاب خان نے غصے سے کہا۔۔۔

“اپنی زبان کو لگام دیں خان صاحب۔۔۔میں نے آپ سے پہلے بھی کہا تھا اب پھر کہہ رہا ہوں عائشے کے خلاف میں ایک لفظ نہیں سنوں گا ۔۔۔۔آپ مجھے مجبور مت کریں کہ میں آپ کی شان میں گستاخی کرجاؤں۔۔۔”عادل نے غصے سے مٹھیاں بھینچتے ہوئے کہا۔۔۔اس کا بس نہیں چل رہا تھا وہ کیا کر دے۔۔۔ابا سے خان تک کا سفر اس نے منٹوں میں طے کیا تھا۔۔۔

“تمیز سے بات کرو عادل ۔۔یہ مت بھولو کہ اس وقت تم جس سے مخاطب ہو وہ تمہارے ابا حضور ہیں۔۔۔۔”نسرین بیگم نے سخت لہجے میں کہا۔۔۔

“ہاہاہاہاہا۔۔یہ ہیں میرے ابا حضور۔۔۔جو اپنے بیٹے کی محبت کو غیرت کے نام پر کسی اور کے کھونٹے سے باندھ آئے۔۔۔جنہیں اپنی خوشی کے علاوہ کسی کی خوشی نظر نہیں آتی ۔۔وہ ابا حضور۔۔۔جو دولت کے نشے میں اندھے ہو چکے ہیں۔۔۔”اس نے استہزائیہ لہجے میں کہا۔۔۔اس کے لہجے کی کڑواہٹ زریاب خان کو اندر تک سلگا گئی۔۔۔

“میرے غصے کو ہوا مت دو۔۔۔یہ مت بھولو کہ یہ دولت بھی میں نے تم لوگوں کے لئے ہی کمائی ہے۔۔۔۔”زریاب خان نے جتاتے ہوئے لہجے میں کہا۔۔۔۔۔

“بھاڑ میں جائے یہ دولت خان صاحب۔۔۔۔یہ دولت خوشیاں نہیں دیا کرتی ۔۔۔۔کہاں لے کر جائیں گے یہ دولت میں عادل زریاب خان آج اس دولت سے خود کو بری کرتا ہوں۔۔۔۔آپ کو آپکی دولت مبارک ہو۔۔۔۔”عادل خان نے نخوت سے کہا۔۔۔

“دفع ہو جاؤ میری نظروں کے سامنے سے ورنہ آج قتل کر دوں گا میں تمہارا۔۔۔”زریاب خان کا غصہ آخری حد پر تھا۔۔۔

“مار تو آپ نے اس ہی دن دیا تھا جب میری محبت کو کسی اور کے نام کر آئے تھے۔۔۔۔”عادل خان نے حساب برابر کیا۔۔۔

“دفع ہوجاؤ عادل ۔۔۔۔”زریاب خان دوبارہ غرائے۔۔۔۔

“جا رہا ہوں میں اور اب کبھی لوٹ کر نہیں آؤں گا۔۔۔اور رکھئیے اپنی یہ دولت اپنے پاس ۔۔۔میں خود اپنے لئے جی سکتا ہوں ۔۔۔۔اور بہت بہت شکری آپکا کہ آپ نے مجھے اس قابل بنایا۔۔۔۔اگر حالات نے موقع دیا تو آپکا اب تک کا لگایا گیا سارا پیسا سود سمیت لوٹا دوں گا۔۔۔”عادل خان والٹ۔۔اور گھڑی ان کے قدموں میں پھینک کر بنا ان کا جواب سنے وہاں سے نکلتا چلا گیا۔۔۔

“روکئیے اسے خان۔۔۔مت جانے دیجیے ہمارا ایک ہی تو بیٹا ہے۔۔۔۔”نسرین بیگم اسے جاتے دیکھ کر بے بسی سے بولیں۔۔۔

“جانے دو اسے۔۔۔دنیا کی گرم ہوا کھائے گا تو خود ہی لوٹ آئے گا ایک دن ۔۔۔۔”زریاب خان نے سخت لہجے میں کہا اور آگے بڑھتں نسرین بیگم کو ہاتھ سے پکڑ کر روکا۔۔۔اور ان کے اتنے سخت دل ہونے پر نسرین بیگم دل مسوس کر رہ گئیں۔۔۔۔جبکہ عادل کسی بھی چیز کی پرواہ کیئے بغیر سب کچھ چھوڑ کر حویلی سے نکلتا چلا گیا۔۔۔

وہ ھیشم خان سے لڑنا تو چاہتا تھا لیکن وہ اماں بیگم سے کیا وعدہ نہیں توڑنا نہیں چاہتا تھا۔۔۔اس نے اماں بیگم سے کیا وعدہ نبھایا تھا۔۔۔اور ایسا کب ہوتا ہے کہ محبت میں اپنے محبوب کی خوشی تباہ کر دی جائے بلکہ محبت میں تو اس کی خوشی دیکھی جاتی ہے اور بھلے اس کے ابا حضور عائشے کو اپنی غیرت کا نشانہ بنا چکے تھے لیکن اللہ کے کرم سے وہ خوش تھی تو وہ کیونکر اس کی خوشیوں کا دشمن بنتا اس لئیے عائشے کی محبت کو سینے سے لگائے وہ واپس لوٹ چکا تھا۔۔اس نے اپنی محبت کی سچائی کا ثبوت دیا تھا۔۔۔۔بھلے اس کے لئے اسے خود کو خالی ہاتھ لوٹنا پڑا تھا۔۔۔۔کیونکہ وہ جان چکا تھا محبت میں زبردستی نہیں ہوتی۔۔۔

🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹

“حازم۔۔۔۔۔یار کونسے بل میں گھسے ہو۔۔۔؟؟”پورے گھر میں دندناتی پھرتی روحی زور زور سے چلا رہی تھی۔۔۔اس نے پوری حویلی چھان ماری تھی لیکن اسے حازم کہیں نظر نہیں آیا تھا۔۔۔۔اب صرف ڈرائنگ روم ہی رہ گیا تھا اس لئیے وہ اسی طرف چلی آئی لیکن ڈرائنگ روم میں قدم رکھتے ہی سامنے بیٹھی شخصیت کو دیکھ کر اس کے قدم تھمے تھے۔۔۔۔جبکہ سامنے صوفے پر دراز دانیال کے لب بے ساختہ مسکرائے تھے۔۔۔اس کی تو مانو دلی مراد ہی بر آئی تھی۔۔۔

“آپ یہاں کیا کر رہے ہیں۔۔۔؟؟اور یہ حازم کہاں ہے۔۔۔؟؟”رحاب نے بغیر کوئی لحاظ کیئے پوچھا۔۔۔

“حازم تو ابھی ہی گیا ہے باہر ۔۔لیکن ایک بات بتائیں مجھے آپ کے یہاں مہمانوں کے ساتھ ایسے ہی پیش آیا جاتا ہے کیا۔۔۔؟؟”دانیال نے چہرے پر مصنوعی سنجیدگی لاتے غصے سے پوچھا۔۔۔۔

“جی نہیں۔۔۔اگر مہمان آپ جیسے ڈھیٹ ہوں تو اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہوتا۔۔۔۔”رحاب نے آنکھیں پھیرتے ہوئے کہا۔۔۔

“مجھ جیسے ۔۔۔میں سمجھا نہیں۔۔۔۔؟؟”دانیال نے ناسمجھی سے کہا۔۔۔

“جی آپ جیسے۔۔۔جو آئے روز ہی ٹپکے رہتے ہیں۔۔مہمان رحمت ہوتے ہیں لیکن آپ کسی زحمت سے کم نہیں ہیں۔۔۔۔”رحاب کہاں چپ رہنے والی تھی۔۔۔بس جو منہ میں آیا بول دیا۔۔۔

“اچھا۔۔۔آپ کو میر یہاں آنا گراں گزرتا ہے تو میں نہیں آؤنگا۔۔۔”دانیال نے سنجیدگی سے کہا۔۔۔

“او ہیلو۔۔۔میں نے ایسا کچھ نہیں کہا۔۔۔مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا آپ کے آنے یا نہ آنے سے۔۔۔۔”روحی نے تڑخ کر کہا۔۔۔

“سمجھ گیا۔۔۔آپ چاہتی ہیں میں آتا رہوں۔۔۔۔”دانیال نے معنی خیزی سے کہا۔۔۔

“آپ ذیادہ خوش فہم نہیں ہو رہے۔۔۔؟؟”روحی نے مصنوعی مسکراہٹ لبوں پر سمجھاتے پلکیں جھپکتے ہوئے کہا۔۔۔۔

“ہئییییی صدقے آپکی یہ مسکراہٹ جان لے لے گی میری۔۔۔۔”دانیال نے بائیں جانب ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔اس کی بات پر روحی نے اپنے مسکراتے لب مزید پھیلا کر گویا ہوئی۔۔۔

“لیجیئے میں مسکرا رہی ہوں آپ مر جائیے اس مسکراہٹ کو دیکھ دیکھ کر۔۔۔۔”دانیال تو اس کی اس ادا پر ہی غش کھا کر رہ گیا۔۔۔کیا چیز تھی یار یہ لڑکی۔۔۔۔

“آر یو میڈ روحی۔۔۔بس بکواس کرتی رہتی ہو ہر وقت۔۔۔کبھی تو سوچ لیا کرو کہ کیا بولنا ہے اور کیا نہیں۔۔۔۔”دروازے پر کھڑا حازم اس کی بات سن چکا تھا اور اب ان کی جنگ بدر شروع ہونا طے تھی۔۔۔۔

“میں نے سوچ کر ہی بولا ہے۔۔۔۔مانا کہ تم نکمے تھے لیکن دوست بھی اپنے جیسے بنا لیے۔۔۔شیم آن یو حازم۔۔۔۔”روحی نے ڈھٹائی سے جواب دیا۔۔۔

“تو تم کہاں کی پرنسز ہو اور تمہاری فرینڈز کو تو دیکھ کر ہی میری ہنسی چھوٹ جاتی ہے۔۔۔۔۔۔۔”اسی کے لہجے میں جواب آیا تھا۔۔۔

“اوہ اچھا۔۔۔۔۔صبر کرو ابھی رباب کو تمہارے عظیم قول کے بارے میں بتاتی ہوں ۔۔۔۔”رحاب نے مسکراتے ہوئے کہا۔۔۔۔

“س۔۔سوری روحی ۔۔۔یار تم تو بلکل راپنزل جیسی ہو خوبصورت۔۔۔لمبے بال۔۔۔اور دنیا کی حسین ترین لڑکی ہو۔۔۔دیکھو یار پلیز روبی کو مت بتانا۔۔۔”حازم نے گرگٹ کی طرح رنگ بدلا تھا۔۔وہ حازم جو کچھ دیر پہلے اسے ڈانٹ رہا تھا اب اس کی منتیں کررہا تھا دانیال تو یہ سب دیکھ کر ہی حیران رہ گیا۔۔۔وہ جیسے جیسے رحاب کے بارے میں جان رہا تھا اس کی حیرانی بڑھتی جارہی تھی۔۔۔اس لڑکی کو سامنے والے کو زیر کرنا آتا تھا۔۔۔

“اٹس اوکے ۔۔۔نیکسٹ ٹائم دھیان رہے۔۔”رحاب نے ایسے کہا جیسے اس نے کوئی بہت بڑا احسان کر دیا ہو۔۔۔۔”اس سے پہلے کہ حازم کچھ کہتا عائشے کی پکار پر حازم وہاں سے نکلتا چلا گیا۔۔۔۔

“کیا چیز ہو یار تم۔۔۔چھوٹی دنیا بڑا دھماکہ۔۔۔۔”دانیال نے اپنی ہنسی ضبط کرتے ہوئے کہا۔۔۔اور روحی تو مانو اس کی بات سن کر سکتے میں آگئی تھی اور ہوش آتے ہی غصے سے بولی۔۔۔۔

“پنگا نہ لیں مجھ سے یہ نہ ہو یہ دھماکہ آپ پر ہی بلاسٹ ہوجائے۔۔۔”اتنا کہتی غصے سے پاؤں پٹختی دروازے کی جانب بڑھ گئی۔۔۔

“پنگا تو اب آپ سے لے ہی لیا ہے محترمہ ۔۔۔اب بلاسٹ ہو یا۔کچھ بھی ہو ہونا تو آپکو میرا ہی ہے۔۔۔۔”دانیال نے منمناتے ہوئے کہا وہ جانتا تھا اب اگر اس نے سن لیا تو اس کی پھر سے شامت آجانی ہے۔۔۔جبکہ مسکراہٹ اب بھی اس کے لبوں پر رقص کر رہی تھی۔۔۔

🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹

(پانچ سال بعد)

یہ کتنے تعجب کی بات تھی کہ اس ستائیس سالہ مرد کو پانچ سال بعد اس عورت سے محبت ہوئی تھی جسے پچھلے پانچ سالوں سے وہ یوں فراموش کیے بیٹھا تھا جیسے وہ اس روئے زمین پر ہی نہ ہو۔۔جسے ہمیشہ پیروں کی دھول کے برابر بھی نہیں گردانا تھا آج وہ یوں لہو بن کر رگوں میں گردش کرنے لگی تھی کہ اس جیسا مضبوط مرد بھ سوائے بے بسی اور بے یقینی سے آنسو بہانے کے کچھ نہ کر سکا تھا۔۔۔اور قابل یقین بات تو یہ بھی نہ تھی کہ آج ان مغرور اور بے نیاز مگر بلا کی ساحر آنکھوں میں اس ہستی کہ لئے آنسو تھے جسکی جانب زندگی میں جب بھی وہ اٹھی تھی ہمیشہ حقارت اور نفرت جیسے جذبات لئے ہی اٹھی تھی۔۔وہ ہستی جس کے بارے میں میں گزرے پانچ سالوں میں ایک لمحے کے لیے بھی رک کر سوچنا اسے وقت ذیاں کرتا تھا آج ٹھیک پانچ سال چھ مہینے دس دن کے بعد اسے مسلسل پچھلے گھنٹوں سے نہ صرف اپنے بارے میں سوچنے بلکہ رونے پر بھی اس طرح سے مجبور کئے ہوئے تھی کہ اب اسے وقت کا ہر وہ لمحہ ذیاں کا احساس دلارہا تھا جس میں اس کا خیال,اس کا عکس اور اس کا احساس اس کے ساتھ نہ تھا۔۔۔

زندگی کی جنگ میں مات تو ویسے بھی ہر ایک کے لیے تکلیف دہ ہوتی ہے مگر مات کا احساس ,اس کا درد اس لمحے دو چند ہوجاتا ہے جو آپ کو شکست سے دوچار کرنے والی ہستی ہر لحاظ سےآپ سے کمزور اور ہمیشہ ہارنے والی رہی ہو اور سدا جیتنے والوں کے لئے تقدیر کا یہ تلخ ہیر پھیر فاتح سے مفتوح تک کا یہ سفر کتنا اذیت ناک ,کرب ناک ہوتا ہے اس کا اندازہ شایداس پل ذیان اسماعیل خان سے ذیادہ کسی کو نہیں ہو سکتا تھا کہ جس کی پوری ہستی زندگی میں در آنے والی اس اچانک لیکن بھر پور ترین شکست کے بھنور میں یوں الجھ کر رہ گئی تھی کہ اب ڈھونڈے سے بھی اس گم شدہ ذات کا کوئی سرا,کوئی نشان ہاتھ نہیں آ رہا تھا۔۔۔

اور اس گم شدہ ذات کا کوئی نشان ملتا بھی کیسے۔۔؟؟اس ہستی کو اس نے خود ہی تو کھویا تھا۔۔۔ساری خوشیاں امیدیں دامن میں آجانے کے بعد اس نے خود ہی تو انہیں ٹھکرایا تھا۔۔خود ہی نفرت کی آگ میں خود کو تباہ کر بیٹھا تھا۔۔۔اب کرتا بھی تو کیا۔۔۔؟؟

ذیان اسماعیل خان کا پورا وجود دکھ اور پچھتاوے کی آگ میں جھلس رہا تھا۔۔مگر شاید یہ جلن۔۔یہ تڑپ۔۔یہ درد اس کا مقدر بن چکے تھے۔۔بے شک اللہ کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں اور اب اعلی ظرفی اور انسانیت دونوں کا تقاضہ یہی تھا کہ وہ خندہ پیشانی سے اپنی اس سزا کو تسلیم کرتا,زندگی کی آخری سانس تک۔۔۔

بے اختیار ایک گہرا سانس فضا میں خارج کرتے ہوئے اس نے بہتے اشکوں کو اپنے مضبوط ہاتھوں پر چنا تھا۔۔۔اس کی آنکھیں پوری رات رونے کی وجہ سے سرخ ہو چکی تھیں۔۔۔راتوں کی نیندیں تو ویسے بھی اس کی اڑ چکی تھیں۔۔۔اب تو وہ تنہائیوں کے ساتھ سینہ تان کر چلتا تھا۔۔۔۔کہاں نہیں تلاش کیا تھا اس نے اس ہستی کو۔۔لاہور کا چپا چپا چھان چکا تھا لیکن نا جانے وہ کہاں غائب ہو گئی تھی۔۔روز ایک نئی امید لے کر نکلتا اور ہر شام مایوس ہی لوٹتا تھا۔۔یہ سب بے چینیاںں اس کی خود کی ہی تو خریدیں ہوئی تھیں ۔۔وہ خود ہی اسے اس اجنبی شہر کا باسی بنا آیا تھا۔۔۔کتنی منتیں کی تھیں اس نے اسکی کاش کاش کہ وہ ایک دفعہ لوٹ جاتا ۔۔۔لیکن اب کیا ہو سکتا تھا۔۔؟؟

🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹

وہ جب سے اس شخص سے ملی تھی اسی شخص کو سوچے جا رہی تھی۔۔جانے اس کی شخصیت میں اسے ایسی کون سی بات تھی جو اسے اپنی طرف متوجہ کر رہی تھی۔۔۔وہ کم گو تو تھا۔۔۔اس کی باتوں سے اندازہ ہو رہا تھا پر ایک عجیب سی خاموشی تھی۔۔۔اور اس گہری خاموشی نے اس کی شخصیت میں کچھ اور دلکشی بڑھائی تھی۔۔اس کی گندمی رنگت,اونچا لمبا قد ,اور اس کے سیاہ گھنے بال اس کی شخصیت کافی پر کشش تھی۔۔وہ اس سے دو ٹوک بات ہی کرتا تھا۔۔کوئی خاص مدارات نہیں بس لیا دیا سا انداز تھا جبکہ باقی سب ملازمین اس کے آگے پیچھے اس کے سامنے مؤدب انداز میں کھڑے اس کے ایک حکم کا انتظار کرتے تھے۔۔۔آئی تو وہ یہاں کا دورہ کرنے تھی لیکن الجھ کر رہ گئی تھی۔۔۔ایک گہری سانس کھینچ کر وہ پردے برابر کرتی اپنی خوابگاہ کے اس پر حدت ماحول میں اسے سوچتی بستر پر دراز ہ گئی تھی ۔۔۔۔۔اور بستر پر لیٹتے ہی اردگرد سے بے نیاز وہ نیند کی وادی میں اتر چکی تھی۔۔۔

🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹

صبح وہ اٹھی تو کافی دیر ہو چکی تھی۔۔ناشتے کی فراغت کے بعد وہ تیار ہوئی تو پونے بارہ بج رہے تھے۔۔۔جلدی جلدی اپنی تیاری مکمل کر کے وہ گاڑی میں بیٹھتی آدھے گھنٹے سے بھی پہلے آفس پہنچی تھی۔۔۔اپنے آفس میں آکر اس نے جو سب سے پہلاکام کیا تھا وہ یہ تھا کہ انٹر کام بجا کر عادل خان کو بلایا تھا۔۔۔تقریبا پندرہ منٹ بعد وہ اس کے آفس میں موجود تھا۔۔۔

“میں ہوٹل کی مینیجمنٹ سے مطمئن نہیں ہوں میں چاہتی ہوں اس میں کچھ چینجز لائے جائیں تا کہ۔۔۔۔”اس کی بات کاٹ کر وہ فورا بولا۔۔۔

“میں یہاں ایک ورکر ہوں اگر آپ مینیجمنٹ سے مظمئن نہیں ہیں تو آپ جنرل مینیجر کو بلاتیں مجھے کیوں بلایا ہے آپ نے۔۔۔؟؟”اس نے نوٹ کیا تھا اس کے چہرے پر عجیب سی حیرت تھی۔۔وہ خود بھی نہیں جانتی تھی کہ اس نے جنرل مینیجر کو چھوڑ کر اسے کیوں بلایا ہے۔۔اس کی بات سن کر وہ کافی شرمندہ ہوگئی تھی لیکن اپنی ندامت کو چھپاتی گویا ہوئی۔۔۔

“میں یہاں ایک ورکر کی رائے لینا بہتر سمجھتی ہوں کہ اس بارے میں ایک ورکر کی کیا تھنکنگ ہے۔۔۔ اس لئے تمہیں بلایا شاید تمہاری رائے سے بہتر رزلٹ لے سکوں۔۔۔”

“میں اس بارے میں ذیادہ کچھ نہیں جانتا لیکن اتنا ضرور کہہ سکتا ہوں کہ یہاں بہت سے ورکرز ایسے ہیں جو سیلری ذیادہ لیتے ہیں لیکن کام کچھ نہیں کرتے اگر انہیں ہٹا کر اچھے ورکرز رکھ لئے جائیں تو بہتری آسکتی ہے۔۔”سپاٹ لہجے میں جواب آیا۔۔۔۔

“ہممم۔۔۔تو تمہارے مطابق وہ کون سے ورکرز ہیں جنہیں یہاں نہیں ہونا چائہیے۔۔۔۔؟؟”جان بوجھ کر بات کو آگے بڑھایا گیا۔۔۔

“اس بارے میں میں کون ہوتا ہوں کچھ کہنے والا۔۔۔۔؟؟آپ ایک دفعہ آبزرویشن کر لیں۔۔۔آپ خود جان جائیں گی۔۔۔”لہجے میں لچک اب بھی نہیں آئی تھی یہی لہجہ تو اسے اس کی جانب متوجہ کرتا تھا۔۔۔۔

“اوکے ۔۔۔بٹ اگر آپ نے مشورہ دیا ہے تو یہ بھی آپ جانتے ہونگے کہ ایسے کونسے لوگ ہیں جو مفت میں روٹیاں توڑ رہے ہیں۔۔۔۔”اس کا دل کر رہا تھا وہ یونہی سامنے بیٹھا رہے اور وہ اس سے باتیں کرتی رہے لیکن سامنے والے کا محتاط انداز اس کی دلی خواہش پر پانی پھیر رہا تھا۔۔۔

“میں نے ایسا نہیں کہا کہ وہ مفت کی روٹیاں توڑ رہے ہیں۔۔ریمیمبر میں نے آپ سے یہ کہا ہے کہ وہ سیلری ذیادہ لیتے ہیں اور کام کم کرتے ہیں۔۔۔”نا چاہتے ہوئے بھی لہجہ تلخ ہو گیا۔۔۔

“شاید آپ بھول رہے ہیں میں آپکی باس ہوں۔۔۔”حورم نے اس کے تلخ لہجے پر چوٹ کی۔۔۔۔

“سوری۔۔۔شاید ااب مجھے جانا چائہیے۔۔۔۔”معذرت کرنے کے ساتھ ہی اس کی قدم دروازے کی جانب بڑھے تھے۔۔۔

“اٹس اوکے۔۔۔بٹ میری بات ابھی ختم نہیں ہوئی۔۔۔۔۔”حورم نے اس کو باہر کی جانب بڑھتے ہوئے دیکھ کر کہا۔۔۔

“سوری میم۔۔۔مجھے آپکی پرمیشن کے بغیر نہیں جانا چائہیے تھا۔۔۔۔”سامنے والا شرمندگی سے بولا۔۔۔۔

“ایک بات کہوں ۔۔۔۔یہ زندگی سوری سے نہیں چلتی۔۔۔ہر انسان کی زندگی کسی نا کی مقام پر آکر تلخ ہو جاتی ہے لیکن اس تلخی کو دل سے لگائے اپنے لہجے تک لے آنا نہایت بیوقوفی کی بات ہے۔۔۔۔”حورم نےمعنی خیزی سے کہتے اس کے چہرے کے تاثرات جانچے تھے۔۔۔

“جی میم۔۔۔۔”تابعداری سے جواب دیا گیا۔۔۔

“سو میں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ اب جنرل مینیجر کی کرسی آپ سنبھالیں گے ۔۔۔۔اور پوری مینیجمنٹ ٹیم کو آپ گائیڈ کریں گے۔۔۔۔”حورم نے سپاٹ لہجے میں کہا۔۔۔

“لیکن ۔۔۔اٹس اوکے میم۔۔۔۔”اس نے کچھ کہنا چاہا لیکن کچھ سوچ کر حامی بھر دی۔۔۔

“کانگریچولیشن فار یور پروموشن مسٹر عادل۔۔۔”حورم نے ہاتھ آگے بڑھاتے ہوئے کہا۔۔۔

“تھینک یو میم۔۔۔۔میں پوری کوشش کروں گا آپ کی امیدوں پر پورا اترنے کی۔۔۔۔”لہجے میں بغیر کوئی لچک لائے سپاٹ لہجے میں کہتا دروازہ کھولتا وہاں سے نکلتا چلا گیا۔۔۔

“آئی لائک یور ایگو مسٹر عادل۔۔۔۔۔”دھیمی مسکراہٹ لبوں پر سجائے ہلکی آواز میں منمنائی ۔۔۔۔اور پھر ذہن جھٹکتی سامنے ٹیبل پر پڑی فائل کی جانب متوجہ ہو گئ۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *