Tere Ishq Sy Meri Zaat Tak by Ayesha Mughal NovelR50552 Tere Ishq Sy Meri Zaat Tak (Episode 22)
Rate this Novel
Tere Ishq Sy Meri Zaat Tak (Episode 22)
Tere Ishq Sy Meri Zaat Tak by Ayesha Mughal
“مما ۔۔۔یہ گندی بچی ہے ۔۔اش نے مجھے مالا ہے۔۔۔۔”ننھے سے ساڑھے چار سالہ حوزان نے گال پھولائے کھڑی لیزہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے معصومیت سے کہا۔۔۔
“بڑی مما یہ جھوٹ بول رہا ہے میں نے نہیں مارا اسے ۔۔۔یہ دندا بچہ ہے۔۔ جھوٹ بولتا ہے۔۔۔”چار سالہ لیزہ نے معصومیت سے احتجاج کیا۔۔۔
“میں جھوٹ نہیں بولتا ۔۔۔یہ جھوٹی ہے۔۔۔”حوزان نے آنکھوں میں نمی لئے کہا۔۔۔۔
“لیزہ بیٹا ایسا نہیں کرتے۔۔۔کتنی بری بات ہے نا آپ نے بھائی کو مارا اور اب جھوٹ بول رہی ہو۔۔۔”عائشے نے نرمی سے اسے سمجھایا۔۔۔۔۔
“لیکن بڑی مما پہلے اس نے مجھے مالا تھا پھر میں نے مارا تھا اسے۔اور یہ میرا بھائی نہیں ہے۔۔۔۔۔”لیزہ نے جلدی سے کہا۔۔۔۔
“کیوں مارا تھا آپ نے حوزان ۔۔۔؟؟”عائشے اب اس گول مول سے حوزان کی جانب متوجہ ہوئی۔۔۔۔
“مما یہ مجھے موٹو کہہ رہی تھی۔۔۔۔”حوزان نے نروٹھے پن سے کہا۔۔۔
“کیوں لیزہ کیوں کہہ رہے تھے آپ اسے موٹو۔۔۔۔؟؟اتنا پیارا تو ہے میرا موٹو۔۔۔۔”عائشے نے حوازن کے گرد بانہیں پھیلاتے ہوئے کہا۔۔۔۔حوزان جو پہلے لیزہ کو ڈانٹ پڑنے پر خوش ہوا تھا پوری بات سن کر اس کے پھیلے ہونٹ سمٹے تھے۔۔اب وہ خفا نظروں سے عائشے کو دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
“مما آپ بھی اس لذیذہ کا ساتھ دے رہی ہیں۔۔۔میں نے نی بات کرنی آپ سے۔۔۔۔”حوزان نے دیوار کی جانب رخ موڑ کر عائشے کی جانب پیٹھ کرتے ہوئے کہا۔۔۔
“بڑی مما اب میں اسے مالوں گی یہ پہلے بھی مجھے لذیذہ کھیل کہہ رہا تھا۔۔۔”لیزہ نے غصے سے کہا۔۔۔
“حوزان آپ تو اچھے بچے ہو نا پھر کیوں نام بگاڑ رہے ہو۔۔۔؟؟ایسے اللہ تعالی خفا ہوتے ہیں نا۔۔۔”عائشے نے ننھے حوزان کا رخ اپنی طرف موڑتے ہوئے اس کے خوبصورت چہرے کو اپنے ہاتھوں کے پیالے میں لیتے ہوئے کہا۔۔۔
“بڑی مما اللہ تعالی کہاں ہوتے ہیں۔۔۔؟؟”لیزہ نے جلدی سے پوچھا۔۔جبکہ حوزان بھی نارضگی بھلائے متوجہ ہوا۔۔۔
“اللہ تعالی تو ہمارے دلوں میں ہوتے ہیں۔۔۔”عائشے نے اس کی ننھی سوچ کے مطابق جواب دیا۔۔۔
“لیکن مما ہمارا دل تو چھوٹا شا ہوتا ہے نا۔کیااللہ تعالی اتنے چھوٹے سے ہیں۔۔۔۔؟؟؟لیکن ٹیچر تو کہہ رہی تھیں کہ اللہ تعالی بہت بلے ہوتے ہیں۔۔”حوزان نے بھولے پن سے کہا۔۔۔
“جی بلکل۔۔۔آپ نے کبھی آسمان پر فلائی کرتے پلین کو دیکھا ہے۔۔۔۔”عائشے نے شفقت سے پوچھا۔۔
“جی بڑی مما ۔۔۔وہ تو چھوٹا سا ہوتا ہے۔۔۔۔”لیزہ نے اپنے ننھے دماغ کے مطابق جواب دیا۔۔۔
“ہممم۔۔۔لیکن مما جب ہم پلین میں بیٹھ کر کراچی گئے تھے وہ پلین توبہت بڑا تھا۔۔۔۔”حوزان نے پچھلے سال جب وہ ھیشم اور عائشے کے ساتھ کراچی گیا تھا اس کا ذکر کرتے ہوئے کہا۔۔۔
“جی بلکل دیکھو جب ہم پلین کو دور سے دیکھتے ہیں تو وہ چھوٹا نظر آتا ہے لیکن جب ہم اسی پلین کو قریب سے دیکھتے ہیں تو وہ ہی پلین بہت بڑا نظر آتا ہے اسی طرح ہم جتنا اللہ تعالی کے قریب ہوتے ہیں اللہ تعالی اتنے ہی بڑے لگتے ہیں ہمیں۔۔۔۔”عائشے نے تفصیل سے سمجھایا۔۔۔۔
“ہم اللہ کے قریب کیسے جائیں بڑی مما۔۔۔؟؟وہ تو نظر ہی نہیں آتے۔۔۔۔”لیزہ نے مایوسی سے کہا۔۔۔عائشے کو اس کے معصوم سے سوال پر جی بھر کے پیار آیا تھا۔۔۔
“اللہ کے قریب ہونے کے لئے اس کا نظر آنا ضروری نہیں ہے میری جان ۔۔۔اگر ہم اس کے بندوں کو ہیپی رکھیں گے ۔۔۔اللہ کی باتیں مانیں گے۔۔۔نماز پڑھیں گے تو وہ خود ہمارے قریب آجائے گا۔۔۔۔”عائشے نے لیزہ کو اپنی گود میں لیتے ہوئے پیار سے کہا۔۔۔
“اوکے بڑی مما۔۔۔اب میں کبھی حوزان کو نہیں ماروں گی اچھی بچی بن کے رہوں گی۔۔۔”لیزہ نے معصومیت سے کہا۔۔۔
“شاباش یہ ہوئی نہ بات حوزان چلو اب آپ بھی سوری بولو۔۔۔۔”عائشے نے حوزان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔۔۔
“سوری لذیذہ۔۔۔”حوزان نے دونوں ہاتھ اپنے چھوٹے چھوٹے لبوں پر رکھتے اپنی ہنسی کو چھپاتے ہوئے شرارت سے کہا۔۔۔۔
“یہ کبھی نہیں ماننے والا بڑی مما ۔۔۔۔موٹو۔۔۔”لیزہ نے بدلہ لیا۔۔۔
“تم کیا ہو مسٹر بین کی موٹی دادی۔۔۔۔؟؟”دروازے سے داخل ہوتے حازم کی گود میں موجود آثال نے چلاتے ہوئےکہا۔۔۔ہمیشہ کا شرارتی آثال۔۔۔وہ پورا حازم پر ہی گیا تھا اور ذیادہ تر حازم کے ساتھ ہی ہوتا تھا اب بھی اس کے ساتھ آئسکریم کھا کر لوٹا تھا۔۔۔۔اس کی بات پر لیزہ نے غصے سے اسے دیکھا تھا۔۔۔۔
“چاچو ۔۔۔آپ کبھی اسے منع نہیں کرتے۔۔۔”معصوم سی لیزہ نے حازم کی طرف خفا نظروں سے دیکھتے ہوئے شکوہ کیا۔۔۔
“کیوں بھئی آثال کیوں نام بگاڑ رہے ہو اس کا۔۔۔؟؟”حازم نے مسکراہٹ دباتے مصنوعی غصے سے کہا۔۔۔۔اور آثال اس کی مسکراہٹ دیکھ چکا تھا۔۔۔
“پتا نہیں کیوں چوچا ۔۔۔یہ مجھے ویچھی ہی لگتی ہے بلکل۔۔۔”آثال نے شرارت سے کہا۔۔۔اس پر اثر بھی کہاں ہونے والا تھا شرارتوں سے تو اس کا شروع سے ہی بڑا مضبوط رشتہ تھی۔۔۔اور اس کی بات پر وہاں موجود سب نفوس نے قہقہ لگایا تھا۔۔۔
“چوچا نہیں آثال چاچو بولتے ہیں بیٹا۔۔۔”عائشے نے اپنی ہنسی ضبط کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔
“نہیں میری جان چوچا ہی ہے یہ بھوتوں کا راجا۔۔۔۔”ہال میں داخل ہوتی رحاب نے مضحکہ خیز لہجے میں کہہ کر قہقہ لگایا تھا۔۔۔
“چوچا ہو گا دانیال۔اس کو تو دیکھتے ہی سامنے والے کی ہنسی چھوٹ جاتی ہے۔۔۔۔۔کیوں مجھ جیسے ہینڈسم بندے کی خوبصورتی پر نظریں ٹکائے بیٹھی ہو۔۔۔؟؟”حازم نے تڑخ کر کہا۔۔۔
“تم اور ہینڈسم ۔۔۔ہاہاہاہا۔۔۔۔کیا جوک تھا۔۔۔۔اور جہاں تک دانیال کی بات ہے ذیادہ نہیں تو تم سے تو اچھا ہی ہے۔۔۔۔”رحاب نے مصنوعی قہقہ لگایا۔۔۔۔
“بلکل ٹھیک کہہ رہی ہیں روحی جانی۔۔۔”لیزہ نے حصہ ڈالا جبکہ اس کی بات پر حازم نے ساکت نظروں لیزہ کی جانب دیکھا تھا۔۔۔۔
“لیزہ پٹائی کردوں گی تمہاری اگر دوبارہ ایسا کہا تو پھپھو کہا کرو ۔۔۔اور ایسے کون کہتا ہے چاچو کو۔۔۔۔”کچن سے نکلتی زویا نے غصے سے لیزہ کو کہا۔۔۔اس کی بات سن کر لیزہ کی بڑی بڑی آنکھوں سے آنسو نکل کر گالوں پر لڑھکے تھے۔۔۔۔
“کیا ہو گیا بھابھی یار کیوں ڈانٹ رہی ہیں بچی کو۔۔۔؟؟دیکھیں کیسے رو رہی ہے ۔۔۔مجھے اچھا لگتا ہے جب وہ مجھے روحی جان کہہ کر پکارتی ہے۔۔۔۔”رحاب نے جلدی سے اس کانچ کی گڑیا کو اپنی گود میں اٹھا کر اس کے آنسو پونچھتے ہوئے کہا۔۔۔جو خفا سی نظروں سے زویا کو دیکھ رہی تھی۔۔۔
“خبردار زویا مما اگر میری لذیذہ کو کچھ کہا تو۔۔۔۔”حوزان نے اپنے معصوم سے چہرے پر غصہ سجاتے ہوئے کہا۔۔۔۔
“ہئیییی صدقے میرے ڈھولو بھولو کیا کرو گے آپ۔۔۔۔؟؟”زویا نے اس کے سرخ انار جیسے گالوں پر پیار کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔
“میں آپ کو پانی والی گن سے ڈھشکیاؤں کر دوں گا۔۔۔۔”حوزان اب بھی غصے سے میں تھا۔۔۔
“اوکے میری جان نہیں کہتی کچھ میں لیزہ کو۔۔۔اب خوش ۔۔؟؟”زویا نے اس کے گرد بانہوں کا بند باندھ کر سوالیہ نظروں سے دیکھتے ہوئے محبت سے پوچھا۔۔۔
“اوئئییییی۔۔پاپا آگئے۔۔۔۔۔”دروازے سے اندر آتے ھیشم خان کو دیکھ کر حوزان زویا کی بانہوں کا ہالہ توڑ کر اس کی طرف بھاگا تھا۔۔۔جبکہ آثال نے بھی دوڑ لگائی تھی۔۔۔۔
“السلام علیکم۔۔۔۔۔کیسے ہو بھئی۔۔۔بہت مس کیا پاپا نے آپ دونوں کو۔۔۔”ھیشم بازوپھیلا کر دونوں کو گود میں اٹھاتے باری باری ان کے گالوں پر بوسہ دیتے آگے بڑھا تھا۔۔۔۔جب اس کی نظر سامنے روحی کی گود میں بیٹھی آنکھوں میں حسرت لئے اپنی طرف دیکھتی لیزہ پرپڑی۔۔۔وہ ان دونوں کو نیچے اتارتا اس کی جانب بڑھا تھا۔۔۔
“کیسی ہے میری گڑیا۔۔۔۔؟؟”ھیشم نے محبت بھرے لہجے میں صوفے پر بیٹھتے اسے اپنے گھٹنے پر بٹھاتے ہوئے پوچھا۔۔۔
“ٹھیک ہوں بلے پاپا۔۔۔آپ میرے پاپا کو نہیں لائے اپنے ساتھ۔۔۔۔؟؟”لیزہ نے نم آنکھوں سے پوچھا۔۔۔زویا نے اسے شروع سے ہی یہ بات ذہن نشین کروا دی تھی کہ اس کے بابا نہیں ہیں۔۔وہ نہیں چاہتی تھی کہ جب بعد میں اسے پتا چلے تو وہ کمزور پڑے ۔۔۔وہ لیزہ کو اپنی ظرح ایک مضبوط لڑکی بنانا چاہتی تھی۔۔۔لیکن ھیشم نے کبھی لیزہ اور حوزان,آثال میں فرق نہیں کیا تھا وہ تینوں کو برابر ہی پیار دیتا تھا۔۔۔۔لیزہ بہت ہی حساس بچی تھی وہ روز ہی اپنے پاپا کے آنے کا انتظار کرتی تھی۔۔اب بھی اس نے معمول کا سوال کیا تھا۔۔۔۔
“وہ آئیں گے بیٹا۔۔۔وہ دور گئے ہیں آپ کے لئے ایک پیاری سی گڑیا لینے کے لئے۔۔۔”ھیشم نےبھی روز کا جواب دیا تھا۔۔۔
“چپ ہو جاؤ لیزہ کہا ہے نا کہ کبھی نہیں آئیں گے تمہارے پاپا ۔۔۔سمجھ نہیں آتی نا تمہیں بات ۔۔۔جاؤ کمرے میں ابھی آئے ہیں بڑے پاپا اور تنگ ک رہی ہو تم انہیں۔۔۔”زویا نے غصے سے اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنی طرف موڑتے ہوئے کہا۔۔۔۔
“کیا کر رہی ہو زویا چھوڑو اسے بچی ہے وہ ابھی۔۔۔”عائشے نے اس کا بازو زویا کے ہاتھ سے چھڑواتے ہوئے کہا۔۔۔۔
“حوزان آثال جاؤ زویا کو لے جاؤ کمرے میں اور وہاں جا کر کھیلو۔۔۔”عائشے حوزان اور آثال کو متوجہ کرتی ہوئی نرم لہجے میں گویا ہوئی۔۔
“”یہ کیا کر رہی تھی تم زویا ۔۔؟؟پاگل ہو گئی ہو کیا ۔۔۔۔؟؟آج تم وہی غلطی دہرا رہی تھی جو آج تک چچاچچی کرتے آئے ہیں ۔۔۔کیوں اس کے ننھے سے دماغ کو پریشان کر رہی ہو۔۔۔؟؟لیزہ پہلے ہی بہت حساس ہے۔۔۔تمہارا یہ رویہ اسے تم سے بد گمان کر رہا ہے۔۔۔وہ بچی ہےاسے بھی ایک باپ کی ضرورت ہے۔۔۔وہ محسوس کرتی ہے اس بات کو۔۔۔اسے ان حالات میں نرمی۔۔محبت اور احساس کی ضرورت ہے تمہارا یہ رویہ اسے تم سے متنفر کررہا ہے۔۔۔”عائشے نے لہجے کو سخت رکھتے ہوئے کہا۔۔
“لیکن عائشے میں نہیں چاہتی کہ وہ ذیان کو یاد کرے۔۔میں اسے ایک ایسی لڑکی بنانا چاہتی ہوں جو خود جینا جانتی ہو۔۔۔حالات سے لڑنا جانتی ہو۔۔۔میں اسے ماں باپ دونوں کا پیار دینا چاہتی ہوں۔۔۔۔اور اب تو میری دلی خواہش ہے کہ وہ انسان کبھی لوٹ کر نہ آئے ۔۔۔۔”زویا نے تڑخ کر کہا۔۔۔کیا کچھ نہیں تھا اس کے لہجے میں اذیت۔۔کرب۔۔بے بسی تلخی۔۔۔
“لیکن زویا آپ یہ بھول رہی ہیں کہ لیزہ ذیان کی ہی بیٹی ہے۔۔۔آپکو نہ سہی لیکن آپکی بیٹی کو ضرورت ہے ایک باپ کی۔۔”ھیشم نے اس کی بات کو رد کیا تھا۔۔۔
“جانتی ہوں ھیشم بھائی یہی تو ایک چیز ہے جو مجھے اس سے نفرت کرنے سے روکتی ہے۔۔۔وہ میری بیٹی کا باپ ہے یہی بات تو مجھے کمزور کرتی ہے۔۔۔پانچ سال گزر گئے اب تک اس نے پلٹ کر نہیں دیکھا تو اب کیسی امید لگانا۔۔۔ساری امیدوں پر میں فاتحہ پڑھ چکی ہوں۔۔۔اب کوئی حسرت نہیں اس کے لوٹنے پر۔۔۔”رونے کی وجہ سے اس کی آواز رندھ گئی تھی۔۔۔اس سے بولنا مشکل ہو رہا تھا۔۔۔۔
“آپ جھوٹ کہہ رہی ہیں زویا بھابھی میں نے میں نے اور حازم نے خود دیکھا تھا اس دن آپکو ذیان بھائی کی تصویر سے باتیں کرتے ۔۔۔آج بھی آپکے دل کے کسی کونے میں ایک ننھی سی امید باقی ہے بھائی کے لوٹنے کی۔۔۔۔”رحاب نے جتاتے ہوئے لہجے میں کہا۔۔۔اور اس کی بات پر زویا نے چونک کر اس کی طرف دیکھا تھا لیکن اگلے ہی پل خاموشی سے نظریں چرا گئی۔۔۔
“کیا آپ لوگ بھی کیا باتیں لے کر بیٹھ گئے ہیں۔۔۔آپکے پیارے دیور اور ایک چڑیل سی نند کی شادی ہونے والی ہے۔۔۔ڈھول باجے بجانے کے بجائے آپ لوگ غم منا رہے ہیں۔۔۔حد ہو گئی بھابھی ۔۔۔۔۔”اس سے پہلے ماحول مزید غمناک ہوتا حازم نے جلدی سے سب کی توجہ کا مرکز اپنی طرف کیا تھا۔۔۔
“شرم کر لو تھوڑی۔۔۔کیا دور آگیا ہے۔۔۔اب نوجوان خود ہی اپنی شادی کا ڈھول پیٹ رہے ہیں۔۔۔”زویا نے آنسو صاف کرتے ہوئے ہنستے ہوئے کہا۔۔۔
“یہ ہوئی نا بات۔۔کتنی پیاری لگ رہی ہیں آپ ہنستے ہوئے۔۔ہمیشہ یونہی ہنستی رہا کریں۔۔۔۔”حازم نے اسے مسکراتے دیکھ پر خلوص لہجے میں کہا۔۔۔
“بس بس مکھن نہ لگاؤ۔۔۔ہم لیڈیز کو شاپنگ پر لے چلو۔۔۔کچھ خریداری کرنی ہے تمہاری شادی کے لئے۔۔۔کیوں عائشے۔۔؟؟”زویا نے بات مکمل کرتے عائشے کو دیکھ کر پوچھا۔۔۔
“ہاں ہاں۔۔۔چلو۔۔۔میں تو تیار ہوں۔۔۔”حازم نے شوخی سے کہا۔۔اس کی بات پر ھیشم نے اس کے سر پر ہلکی سی چپت لگائی تھی۔۔۔۔
“کیا ہے بھائی بال خراب کر دئیے میرے۔۔۔۔”حازم نے اپنے جیل سے سیٹ کئے بالوں کے بےترتیب ہونے پر تاسف سے کہا۔۔۔
“چل جا اب۔۔۔ڈرامے نہ کر ذیادہ میں تو چلا بچوں کے پاس۔۔۔۔”ھیشم اسے تاکید کرتا عائشے کو آنکھ مارتا وہاں سے نکلتا چلا گیا جبکہ عائشے تو ھیشم کی اس حرکت پر گرنے ہی والی تھی جب رحاب کی بات پر اس کی جانب متوجہ ہوئی تھی۔۔۔
“اووووووو۔۔۔۔کیا بات ہے بھئی۔۔چوری چوری چپکے چپکے۔۔۔۔۔”
“اوئے چپ۔۔۔۔”عائشے نے اس کے سر پر چپت رسید کی۔۔۔
“ائیییی۔۔۔ظالم بھابھی۔۔۔۔اب تو نہ ماریں اب تو آپ کی جان چھوٹ ہی جانی ہے۔۔۔۔”رحاب نے مصنوعی خفگی سے کہا۔۔۔
“بس کرو ڈرامہ کوئین۔۔۔جا رہے ہیں ہم۔۔۔اور تم کیوں کھڑے ہو اب تک گاڑی نکالو۔۔۔۔”روحی سے کہتی وہ حازم کی جانب متوجہ ہوئی۔۔۔اور پھر سب لیڈیز حازم کے ساتھ شاپنگ پر نکل گئیں۔۔۔اور تاریخ گواہ تھی کہ اب شام سے پہلے انکالوٹنا ناممکن تھا۔۔۔۔














حازم زویا کو لیزا کی برتھ پر ہی حویلی لے آیا تھا۔۔۔اور ھیشم خان نے جہاں زویا کے منہ سے اقرار جرم سن کر غصہ کیا تھا وہیں ذیان کے دئیے گئے دھوکے پر اس کا غصہ جھاگ کی مانند بیٹھ گیا تھا۔۔۔۔عائشے کو زویا کو دیکھ کر شدید جھٹکا لگا تھا اور وہ بھی اس حال میں۔۔۔اسے یقین نہیں آرہا تھا یہ وہی ہٹ دھرم۔۔بدتمیز اور لاپرواہ زویا تھی۔۔۔یہ تو کوئی اور ہی روپ تھا زویا خان کا عائشے کو اس پر یقین کرنا مشکل ہو رہا تھا۔۔۔لیکن اس نے پورےدل سے اسے دیورانی کے روپ میں قبول کیا تھا۔۔۔اور ویسے بھی زویا کا رویہ اب بہت اچھا ہوگیا تھا۔۔اب وہ کسی کا دل نہیں دکھاتی تھی اور نہ ہی وہ ہٹ دھرمی دکھاتی تھی بہت جلد ہی وہ ان سب میں گھل مل گئی۔۔۔اور زویا زریاب خان کی بیٹی ہے یہ سن کر سب کو بہت بڑا جھٹکا لگا تھا۔۔۔۔زویا نے ان پانچ سالوں میں زریاب خان کو یہ خبر نہیں ہونے دی تھی کہ وہ کہاں ہے کیونکہ ان کے علم میں یہ بات تھی کہ ذیان زویا کو لے کر یورپ شفٹ ہو گیا تھا۔۔۔۔۔اور اس نے ھیشم خان سے بھی ریکوئیسٹ کی تھی کہ کہ وہ زریاب خان کو نہ بتائے۔۔۔۔جبکہ وہ خود ہفتے میں ایک دو دن کال کر کے زریاب خان اور نسرین بیگم کی خبر لے لیتی اور انہیں اس نےیہ تک نہیں بتایا کہ جس انسان کے ساتھ وہ اسے رخصت کر چکے تھے وہ تو کب سے اسکی ذات کی دھجیاں اڑا کر جا چکا تھا۔۔۔۔کون یقین کر سکتا تھا کہ وہ زویا جو چھوٹی چھوٹی بات پر گھر سر پر اٹھا لیتی تھی۔۔کلب۔۔۔مغربی لباس ۔۔پارٹیز۔۔۔دوستوں کے ساتھ گھومنا پھرنا۔۔۔یہ سب اسکے بسندیدہ مشغلے تھے ۔۔۔۔اب وہی زویا حالات کی اتنی بڑی ستم ظریفی خاموشی سے سہہ گئی۔۔۔وہ تو ہمیشہ محبت اور توجہ سے محروم رہی تھی۔۔۔یہ ہی وجہ تو تھی جس نے اسےہٹ دھرم اور خود غرض بنا دیا تھا ۔۔۔اسے سب برا تو کہتے تھے لیکن کبھی کسی نے اس کی وجہ جاننے کی کوشش نہیں کی تھی۔۔اور پھر اس انسان پر اس نے بھروسہ کیا اور کیسے نہ کرتی اس نے جان تک دینے میں گریز نہیں کیا تھا اس کے لئے لیکن نہیں وہ تو دھوکہ تھا جسے وہ پہچان ہی نہ پائی۔۔۔کتنے عرصےبعد اسے محبت ملی تھی۔۔وہ تو خوش تھی بہت خوش۔۔۔ لیکن وہ انسان اسے محبت کا لالچ دے کر اس کوپوری طرح توڑ کر جاچکا تھا۔۔۔۔اب وہ زویا بلکل خاموش ہو چکی تھی اس نے خاموشی کے خول میں خود کو قید کر لیا تھا اور اب اسےجینا تھا صرف اپنی بیٹی کے لئے۔۔۔اپنی لیزہ کے لئے۔۔۔۔اور وہ جی بھی رہی تھی۔۔۔وہ حویلی کبھی نہ آتی لیکن یہ قدم بھی اس نے صرف لیزہ کے لئیے ہی یہ قدم اٹھایا تھا۔۔وہ لیزہ کو اس کی اصلی پہچان دینا چاہتی تھی۔۔۔۔وہ نہیں چاہتی تھی کہ اس کی شناخت ایک سوالیہ نشان بن کر رہ جائے۔۔۔۔لیکن اس حویلی کے مکینوں کے خلوص کے آگے وہ ہارچکی تھی اور خوش تھی اپنے اس قدم پر لیکن ذیان اپنے گھر میں بھی نہیں تھا اور حویلی کے مکینوں کے بقول وہ دبئی میں تھا۔۔۔لیکن اب اسے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا کہ وہ کہاں رہتاہے۔۔۔بس اب وہ لیزہ کو بھی یہ بات ازبرکروانا چاہتی تھی کہ اس کے پاپا نہیں ہیں لیکن اس کا معصوم دماغ اس بات کو مانتا ہی نہ تھا۔۔وہ ہمیشہ اپنےبابا کے آنے کا پوچھتی۔۔۔اور یہی بات زویا کو پریشان کرتی تھی۔۔اس کے یو بار بار پوچھنے پر وہ اکثر اس کانچ سی گڑیا کو ڈانٹ بھی دیتی تھی اور وہ اس کی ڈانٹ سن کر کتنی کتنی دیر تک روتی رہتی لیکن پھر وہ اسے منا لیتی تھی۔۔۔ہیشم خان پوری کوشش کرتا تھا کہ وہ لیزہ کو ذیان کی کمی محسوس نہ ہونے دے۔۔۔۔اور وہ کامیاب بھی تھا اپنی کوشش میں لیکن ایک با کی کمی وہ کہاں پوری کر سکتا تھا ۔۔۔۔انہی پانچ سالوں دانیال نے بھی ھیشم خان سے معافی مانگی تھی۔۔۔اور یورپ سے مسٹر لغاری کو بلوا کر ھیشم کے گھر رحاب کا ہاتھ مانگنے گیا تھا۔۔۔اور پھر ھیشم نے چھان بین کروا کر رحاب کا ہاتھ دانیال کو سونپ دیا۔۔۔۔اب ھیشم خان دو پیارے پیارے جڑواں بچوں کا باپ تھا۔۔۔اور وہ دونوں تو اس کی جان تھے۔۔۔وہ انہیں ہی دیکھ کر جیتا تھا اور عائشے کے لئے اس کی محبت میں آج بھی کوئی کمی نہیں آئی تھی۔۔۔۔یونہی کوئی ادھوری تو کوئی مکمل زندگی گزار رہا تھا۔۔۔۔












“ہمیں اسی وقت میٹنگ کے لئے نکلنا ہوگا۔۔۔۔”حورم نے کام میں مصروف عادل کو مخاطب کر کے کہا۔۔۔۔
“اوکے میم۔۔۔”عادل کام کو وہیں وائنڈاپ کرتا سپاٹ لہجے میں کہتا پارکنگ ایریا کی جانب بڑھ گیا۔۔۔اور گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر ڈرائیور کے برابر بیٹھا اس کا انتظار کرنے لگا۔۔۔۔کچھ ہی دیر میں وہ اسے آتی ہوئی دکھائی دی اور پھر جیسے ہی وہ گاڑی میں بیٹھی گاڑی اپنی منزل کی طرف بھاگی تھی۔۔۔وہ خاموش بیٹھا کھڑکی سے باہر نظر آتے منظر میں گم تھا جب حورم کی آواز پر چونکا تھا۔۔۔۔
“ایک بات بتاؤ عادل۔۔۔۔”
“جی میم۔۔۔پوچھیں۔۔۔”اس نے سنجیدگی سے پوچھا۔۔۔
“کیا تمہیں اتنی خاموشی سے خوف نہیں آتا۔۔۔؟؟”حورم نے متجسس لہجے میں پوچھا۔۔۔۔
“نہیں۔۔۔”مختصر جواب دیا گیا۔۔۔
“کیا یہ خاموشیاں کسی کی عنایت ہیں۔۔؟؟”حورم نے لہجہ نارمل رکھا تھا۔۔۔۔
“آئی تھنک یہ میرا پرسنل میٹر ہے اورمجھے بلکل پسند نہیں ہے کہ کوئی میری پرسنل لائف میں انٹر فیئر کرے۔۔۔۔”عادل نے سخت لہجے میں کہا۔۔۔
“آئی نو بٹ تمہارے لہجے کی تلخی بتا رہی ہے کہ یہ خاموشیاں بے وجہ نہیں ہیں۔۔۔۔ان خاموشیوں کی قید سے باہر آؤ ورنہ یہ تمہیں دیمک کی طرح ختم کر دیں گی۔۔۔۔”سنجیدہ لہجے میں استفسار کیا گیا۔۔۔
“جی۔۔۔۔”دو ٹوک لہجے میں جواب آیا ۔۔اسکے چہرے پر پھیلی بیزاری بتا رہی تھی کہ وہ اس وقت اس بارے میں بات نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔۔لیکن حورم نے بھی آج ڈھیٹ بننے کی قسم کھائی تھی۔۔۔۔
“کیا تم کچھ دیر اپنے اس خول سے باہر نہیں آسکتے۔۔۔؟؟”
“نہیں اور نہ آنا چاہتا ہوں۔۔۔۔”عادل نے غصے سے اپنی مٹھیاں بھینچی تھیں۔۔لیکن اس کے چہرے پر پھیلا درد حورم باآسانی دیکھ سکتی تھی۔۔
“لیکن کیوں۔۔۔؟؟”
“کیونکہ یہ خول میری سالوں کی محنت ہے اگر یہ خول اترا تو میں بکھر جاؤں گا۔۔۔اور شاید پھر خود کو سمیٹ نہ پاؤں۔۔۔”ناجانے کس احساس کے تحت وہ اتنا کہہ گیا۔۔
“کیوں چھوڑ گئ وہ۔۔۔۔؟؟”نرم لہجے میں استفسار کیا گیا۔۔اس کے سوال پر عادل نے چونک کر اسے دیکھا تھا اور پھر فورا نظریں چرا گیا۔۔۔
“نہیں اس نے نہیں چھوڑا مجھے۔۔۔لیکن شاید حالات نے میرا ساتھ نہیں دیا تھا۔۔۔”عادل نے گم صم سے لہجے میں کہا۔۔۔
“ہممممم۔۔۔۔بہت محبت کرتے تھے اس سے۔۔۔۔؟؟”حورم نے نرمی سے سوال کیا۔۔۔
“بہت ذیادہ ۔۔۔محبت تھی تب ہی تو خاموش ہو گیا۔۔۔۔”عادل نے اذیت سے کہا۔۔۔
“لیکن یوں خود کو برباد کر لینا۔۔یہ غلط ہے۔۔۔۔”حورم نے جلدی سے کہا۔۔۔
“آئی تھنک اتنا کافی ہے آپکی نالج کے لئے۔۔۔۔۔”عادل کو جیسے ہوش آیا تھا لہجہ پھر سے سپاٹ ہو چکا تھا۔۔۔۔
“اکے ایز یو وش۔۔۔۔”حورم نے مایوسی سے کہا۔۔لیکن وہ خوش بھی تھی آج عادل نے پہلی دفعہ اتنا بھی بتایا تھا۔۔کہیں نا کہیں وہ اس خول کو چٹخانے میں تھوڑی بہت کامیاب ہو چکی تھی۔۔۔اور اب اسے مزید بات کرنا مناسب نہیں لگا تھا اس طرح معاملہ بگڑ سکتا تھا اس لئے خاموش ہو گئ۔۔۔۔۔














وہ اپنی سوچ میں گم جا رہا تھا جب اس کی نظر سامنے شرٹس کی سیلیکشن کرتی ہینگرز کو الٹ پلٹ کر دیکھتی رحاب پر پڑی اس سے پہلے رحاب اسے دیکھتی وہ جلدی سے پیچھے ہوئے تھا اور پیچھے ہونے کے چکر میں کسی سے بہت زور سے ٹکرایا تھا۔۔
“س۔۔سوری وہ میں غلطی سے۔۔۔”پیچھے مڑ کر اس نے معذرت کی اس سے پہلے کہ وہ بات پوری کرتا اس کی نظر سامنے کھڑے شخص پر پڑی اور پلٹنا بھول گئ۔۔جبکہ سامنے والا بھی شدید سکتے کے عالم میں تھا۔۔۔
“تم۔۔۔اور وہ بھی یہاں۔۔۔۔”دونوں طرف شدید سکتے کا عالم تھا۔۔۔ایسا لگتا تھا جیسے وقت تھم گیا ہو۔۔۔سامنے والے نے شاکڈ نظروں سے دیکھتےہوئے پوچھا تھا۔۔۔
