Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tere Ishq Sy Meri Zaat Tak (Episode 03)

Tere Ishq Sy Meri Zaat Tak by Ayesha Mughal

عائشے گل یونیورسٹی کے گراؤنڈ میں نرم گرم گھاس پر بیٹھی اپنی ہی سوچوں میں غلطاں تھی چہرے پر پریشانی واضح تھی۔۔ وہ ایسی ہی تھی چھوٹی چھوٹی باتوں پر پریشان ہو جانے والی۔۔۔ اب بھی اس کی پریشانی کی وجہ آج یونیورسٹی لیٹ آنے کی وجہ سے سر راحیل کی کلاس مس ہونا تھی ۔۔۔۔ اسی لئے وہ گراؤنڈ پریشان بیٹھی تھی کہ اب وہ کس سے کلاس میں ہونے والے لیکچر کے بارے میں پوچھے گی ۔۔۔؟؟

“ایکسکیوز می۔۔۔کین آئی ہیلپ یو؟؟؟ کسی اجنبی آواز پر وہ چونک گئی تھی۔۔۔ اور سوچوں کا تسلسل ٹوٹا تھا۔۔۔ اس نے آواز کے تعاقب میں نظریں گھمائیں تھی۔۔۔سامنے ہی ایک حسین طرح دار سی لڑکی کھڑی جس کی بلیک آنکھوں میں اس کے لئے اپنائیت ہی اپنائیت تھی۔۔۔۔وہ اس وقت اورنج ٹاپ اور بلیک جینز پہنے گلے میں مفلر ڈالے وہ اسی سے مخاطب تھی ۔۔۔ جب کچھ دیر تک عائشے کچھ نہ بولی تو وہ لڑکی خود اس کی طرف بڑھی تھی ۔۔۔۔

“مجھے آپ چہرے سے کافی ٹینس دکھائی دے رہی تھیں ۔۔۔ کیا کوئی پریشانی ہے ۔۔۔؟؟؟ آپ مجھ سے شیئر کر سکتی ہیں۔۔۔ ہو سکتا ہے میں کچھ ہیلپ کر سکوں ۔۔۔” وہ جو اب تک ہونقوں کی طرح اس لڑکی کو دیکھے جارہی تھی اسی لئے اس لڑکی کے دوبارہ بولنے پر مکمل ھوش میں آئی تھی ۔۔۔۔اس لڑکی کے لہجے میں عائشے کے لئے اپنائیت ہی اپنائیت تھی ۔۔۔۔۔تبھی عائشے کو اس سے اپنی شیئر کرنے میں کوئی قباحت نظر نہیں آرہی تھی ۔۔۔ اسے اس لڑکی کی ڈریسنگ دیکھ کر تعجب تو ہو رہا تھا لیکن اسے اندازہ بھی تھا کہ آج کل زیادہ تر لڑکیاں ہر جگہ اسی طرح کے نا مناسب لباس میں نظر آتی ہیں۔۔۔ اسی لئے سب خیالات کو جھٹکتے ہوئے وہ اس کی طرف متوجہ ہوگئی تھی ۔۔۔

“جی بس میں پریشان تھی آج یونیورسٹی لیٹ آنے کی وجہ سے سر راحیل کی کلاس مس ہو گئی اور اب سمجھ نہیں آرہا کس سے ان کے لیکچر کے نوٹس لوں ۔۔۔ ” عائشے اپنی پریشانی بیان کی ۔۔۔

“بس اتنی سی بات تو تم میرے نوٹس لے لو۔۔۔۔” اس لڑکی نے اپنے نوٹس عائشے کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا ۔۔۔

“اوہ تھینکس۔۔۔ لیکن تم کون ہو ۔۔۔؟؟؟ اور میری مدد کیوں کر رہی ہو ۔۔۔؟؟ عائشے نے حیرت اور تعجب کے ملے جلے تاثر اپنی خوبصورت آنکھوں میں سمائے اس کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا ۔۔

“ارے ہاں سب سے پہلے میں میں اپنا تعارف کرواتی ہوں ۔۔۔ میرا نام ایشل یزدانی ہے اور جہاں تک مجھے جاننے کا سوال ہے تو تم مجھے جانتی بھی کیسے ۔۔۔؟؟ تمہیں تو ان کتابوں سے ہی فرصت نہیں ملتی اور حیرانگی کی بات تو یہ ہے میں نے آج تک تمہیں کسی کے ساتھ تو کیا کسی سے بات کرتے ہوئے بھی نہیں دیکھا ۔۔۔۔” ایشل نے حیرانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا ۔۔۔۔

“ہاں بس مجھے پسند نہیں ہے ذیادہ کسی سے ملنا جلنا ۔۔ میرے نزدیک تعلیم کی بہت اہمیت ہے اور میں ایک قابل اسٹوڈنٹ بن کر دکھانا چاہتی ہوں ۔۔۔” عائشے نے اپنی کتابوں سے دوستی کی وجہ بتائی تھی ۔۔۔۔ وہ ایسی ہی تھی بے تحاشا دولت اور حسن ہونے کے باوجود اس نے خود اپنی ذات کے لئے چند اصول بنائے ہوئے تھے اس میں پہلا اصول تعلیم کو فوقیت دینا تھا۔۔۔وہ تو کتابوں کی دیوانی تھی ۔۔۔

“او اچھا جی۔۔ تو کیا ہم دوست بن سکتے ہیں عائشے گل۔۔۔؟؟ ایشل نے اس کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہوئے کہا ۔۔۔

“ہاں کیوں نہیں ۔۔؟؟ مگر تمہیں میرا نام کیسے پتا۔۔؟؟؟عائشے حیرت سے پوچھے بنا نہیں رہ سکی۔۔۔۔

“لڑکی یہ مت بھولو کہ ہم ایک ہی کلاس میں پڑھتے ہیں ۔۔۔۔تم ضرور ان کتابوں سے عشق کرتی ہو اور ان کو تھام کر دنیا سے بیگانہ ہو جاتی ہو لیکن میں پوری دنیا کی خبر رکھتی ہوں کہ کون کیا کررہا ہے۔۔۔؟؟ ” ایشل نے اس کے بیوقوفانہ سوال پر مسکراتے ہوئے کہا تگا ۔۔۔اور اسکے جواب پر عائشے جھینپ سی گئی تھی ۔۔

“اچھا اب میں نوٹس بنا لوں ۔۔۔۔؟؟ ” عائشے نے ایشل کی طرف دیکھتے ہوئے سوال کیا۔۔۔۔

“ہاں ہاں بنا لو ۔۔ میں تب تک کینٹین سے کچھ لے کر آتی ہوں ۔۔۔۔” ایشل نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا لیکن اس کے چہرے پر موجود معنی خیز تاثرات دیکھ کر عائشے ٹھٹکی تھی۔۔۔ اسے کچھ غلط ہونے کا شدت سے احساس ہوا تھا مگر اس سے پہلے کہ وہ ایشل کے تاثرات سے کچھ اندازہ لگا پاتی ایشل وہاں سے جا چکی تھی اور عائشے سارے خیالات ذہین سے جھٹکتی پھر سے کتابوں میں گم ہو گئی جو اس کے نزدیک اسکا قیمتی اثاثہ تھیں ۔۔۔۔۔

🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹

قیمتی چیزوں کی سجاوٹ سے مزین آنکھوں کو خیرہ کرتا یہ ہال اس شان شوکت سے کھڑی اس حویلی کاتھا جس کی خوبصورتی دیکھ کر لوگ حیران رہ جاتے تھے ۔۔اس وقت اس ہال میں موجود نفوس ایسے ساکت کھڑے تھے کہ انہیں دیکھ کر کسی مورتی کا گمان ہوتا تھا۔۔

“بهائ ۔۔۔۔یہ لڑکی ۔۔۔۔”اس خاموشی کو توڑنے والا سب سے پہلے زیان ہی تھا باقی روحی اور حازم تو ھیشم کےساتھ کھڑی اس خوبصورت سی گڑیا جو اس وقت دلہن بنے قیامت ڈھا رہی تھی اس پر ہی نظریں جمائے کھڑے تھے زیان کے سوال پر ان دونوں نے بھی ھیشم کی جانب سوالیہ نظروں سے دیکھا تھا۔۔۔۔

اس سے پہلے کہ ھیشم جواب دیتا روحی ہمیشہ کی جلد باز اور جذباتی تھی اس کی آواز ہال میں گونجی تھی.۔۔۔

“آپ نے شادی کر لی بهائی اور ہمیں بتایا بهی نہیں ۔۔۔میں نے کتنے خواب دیکهے تهے آپکی شادی کے حوالے سے۔۔۔۔ایسا کیسے کر سکتے ہیں آپ بھائی۔۔۔۔”ٹپ ٹپ آنسوں اس کی کی آنکهوں سے گرنے لگے تھے جبکہ حازم اور ذیان بھی خفا نظروں سے ہیشم کو دیکھ رہے تھے۔۔۔

ہیشم کو ان کے سوالات اور روحی کے رونے سے کوفت ہوئی تھی۔۔۔۔ہیشم نے اپنے بہن بھائیوں کی جلد بازی پر اور اسے غلط سمجھنے پر انہیں تاسف سے دیکھا تھا ۔۔۔

ہیشم نے بغیر کچھ کہے عائشےکا ہاتھ تهاما اور اندر کی جانب بڑھ گیا۔۔۔ ہیشم نے عائشے کوسامنے پڑے اس قیمتی صوفے پر بیٹهنے کا اشارہ کیا تھا اور خود اپنی شاہی کرسی پر بیٹھ جو خاص اسی کے لئیے مخصوص کی گئی تھی کسی میں بھی اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ اس کرسی پر بیٹھتا۔۔۔ہیشم کے اس رویے پر وہ تینوں چونکے تھے۔۔۔۔

“تم تینوں کو بیٹهنے کے لیئے دعوت دینا پڑے گی؟؟”

اسکی رعب دار آواز پر وہ تینوں ٹھٹکے تھے اور پھر ہیشم کے حکم کے مطابق نظروں میں ناراضگی سموئے صوفے پر بیٹھ گئے .

“مجهے آپ سے یہ امید نہیں تهی بهائی۔۔۔” روحی ناراض لہجے میں گویا ہوئی۔۔۔۔ہیشم بخوبی جانتا تھا کہ روحی بہت ذیادہ حساس ہونے کی وجہ سے بہت جلدی ناراض ہو جاتی تھی۔۔۔اس لئیے اس نے طریقے سے بات سنبھالی تھی۔۔۔۔ہیشم ان تینوں کی جانب متوجہ ہوا تھا۔۔۔۔

“جیسا تم لوگ سمجھ رہے ہو ایسا کچھ نہیں ہے۔۔۔ہم نے کسی سے کوئی نکاح نہیں کیا ہے اور یہ لڑکی میری بیوی نہیں ہے۔۔۔یہ ہمارے دوست کی بہن ہے اسکے چچا اس کا نکاح دولت کے لالچ میں اپنے اس آوارہ بیٹے سے کروانا چاہتے تھے۔۔۔۔اس سے پہلے دولت کے لالچ میں وہ اس کے ماں باپ کا قتل کروا چکے ہیں۔۔۔۔ تو بس ہم نے ان دونوں کی مدد کی ہے۔۔۔اس سے ذیادہ اور کچھ نہیں ۔۔۔اتنا کافی ہے یا اور کچھ پوچهنا باقی ہے۔۔۔۔”ھیشم نے حالات کی سنگینی کو سمجھ کر انہیں سچ بتانا غیر مناسب سمجھا تھا وہ نہیں چاہتا تھا کہ کوئی اس کی عزت پر انگلی اٹھائے ۔۔۔

ہیشم نے من گھڑت کہانی سنا کر ان تینوں کی جانب سوالیہ نظروں سے دیکها تھا،،،،جن کے چہرے پر خفگی کی جگہ شرمندگی پر پھیلائے بیٹھی تھی۔۔۔ان میں اتنی بھی سکت نہ تھی کہ وہ نظریں بھی مل پاتے۔۔۔۔عائشے جو کب سے نظریں جھکائے خاموش مورت بنی سب دیکھ رہی تھی اس نے معصومیت سے نظریں اٹھا کر باری باری چاروں کو دیکھا تھا۔۔۔۔جو ایک دوسرے سے ہی نظریں نہملا پا رہے تھے ۔۔۔۔

“ہمیں معاف کر دیجئے بھائی بغیر سوچے سمجھے ہم آپکو غلط سمجھ بیٹھے ۔۔۔”روحی کے لہجے میں ندامت صاف واضح تهی.

“روحی تم عائشے کو اپنے کمرے میں لے جاؤ تاکہ وہ فریش ہوسکے اور اپنا کوئی لباس بهی دے دینا تبدیل کرنے کے لیئے۔۔اور عائشے کل صبح تیار رہہئیے گا ہم آپکو آپکے گھر چھوڑ آئیں گے۔۔۔”

ہیشم بغیر کوئی جواب دئیے عائشے کو حکم دیتا لمبے لمبے ڈگ بھرتا وہاں سے نکلتا چلا گیا۔۔۔ عائشے اس کے اس طرح بغیر کچھ کہے جانے پر اب تک اس جانب دیکھ رہی تھی جہاں سے وہ ابھی نکل کر گیا تھا۔۔۔ھیشم کے جاتے ہی وہ تینوں اپنی جون میں لوٹے تھے۔۔۔۔

“سنیں ۔۔۔۔آپ فکر نہ کریں بھائی ٹھیک ہو جائیں گے کچھ دیر میں ۔۔۔وہ ہم سے زیادہ دیر تک خفا نہیں رہ سکتے۔۔۔۔”اس کی آنکھوں میں پریشانی دیکھ کر ذیان نے متفکر لہجے میں کہا تھا۔۔۔

“جی۔۔”عائشے نے مختصر جواب دیا تھا ۔۔۔۔

“ویسے اگر آپ مائنڈ نہ کریں تو کیا ہم آپ کا نام جاننے کا شرف حاصل کر سکتے ہیں۔۔۔”اب کی بار بولنے والا حازم تھا سدا کا شرارتی۔۔۔

“جی۔۔۔وہ ۔۔۔میرا نام عائشے گل ہے۔۔۔”عائشے نے دھیمی آواز میں کہا۔۔۔۔۔

“”مجھے لگتا تھا آپکا نام اسی طرح کا ہوگا ۔۔۔۔آپ لگتی بھی تو پھول جیسی ہیں۔۔۔۔آپکو تو دیکھ کر میں ویسے ہی دنگ رہ گیا تھا ۔۔۔کتنے عرصے بعد کوئی حسین لڑکی دیکھی ہے میں نے ورنہ اس چڑیل کو دیکھ دیکھ کر تو میری آنکھیں تھک چکی تھیں۔۔۔۔”حازم نے بھرپور ایکٹنگ کرتے ہوئے کہا لیکن آخر میں روحی کو چڑانا نہیں بھولا تھا۔۔۔۔

روحی نے اس کی بات کو نظر انداز کرتے ہئے عائشے کو اپنے ساتھ چلنے کا اشارہ کیاتھا۔۔۔ تو وہ بهی سر اثبات میں ہلا کر اسکے پیچهے چلنے لگی۔۔۔حازم کو لگا آج وہ سچ میں بیہوش ہونے والا ہے آج روحی نے اس پر کوئی جوابی کاروائی نہیں کی تھی۔۔۔لیکن یہ اس کی غلط فہمی تھی ایسا کیسے ہو سکتا تھا کہ روحی اپنے اوپر ہونے والے وار کا بدلہ نہ لے۔۔۔۔اس بات کا اندازہ اسے تب ہوا جب روحی نے جاتے جاتے اس پر ٹیبل پر موجود پانی سے بھرا جگ خالی کیا تھا۔۔۔۔چونکہ وہ اس کاروائی کے لئے تیار نہیں تھا تو پانی اس کے ناک سے ہوتے ہوئے حلق میں لگا تھا اور اب کھانس کانس کر اسکا برا حال تھا۔۔۔۔آنکھیں سرخ ہو چکی تھیں ۔۔۔اور آنسو بہہ نکلے تھے۔۔۔۔روحی موقع کا فائدہ اٹھاتی عائشے کو ساتھ لے کر ایک منٹ سے پہلے وہاں سے فرار ہوئی تھی۔۔۔۔

🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹

پوری حویلی میں اس وقت موت کی سی خاموشی طاری تھی ۔۔۔۔حویلی کے مردان خانے میں آمنے سامنے پڑے دو صوفوں پر بیٹھی دو بااثر شخصیات میں اس وقت بری طرح “ٹھنی” ہوئی تھی۔۔۔دونوں اپنی ضد، انا ، اکڑ اور غرور میں ڈوبے آج ایک مظلوم کی زندگی کا فیصلہ کرنے بیٹھے ہوئے تھے۔۔۔ اور جس مظلوم کی زندگی کے بارے میں آج فیصلہ ہونا تھا وہ کالی چادر میں مضبوطی سے اپنے نازک وجود کو چھپائے ایک طرف کونے میں خاموشی سے کھڑی تھی۔۔۔۔

“یہ لڑکی آج بھی اتنی ہی پاکیزہ ہے زریاب حسین خان جتنی پہلے تھی۔۔۔یہ تمھاری بھتیجی اور تمھارے لاڈلے بیٹے کی منگیتر ہے۔۔۔اس لئے تمھیں اسے قبول کرنا پڑے گا۔۔۔اور اس کی شادی اپنے بیٹے سے کرنی پڑے گی،،،،” کونے میں کھڑے اس “وجود” کے بائیں طرف بیٹھا ہوا شاندار سا شخص اپنی بھاری سحر انگزیز آواز میں بولا تھا۔۔۔اس کی عمر تقریباً اٹھائیس سے انتیس سال کے قریب تھی۔۔۔ اور وہ اس وقت کالے رنگ کے شلوار کرتے میں خوبصورت سی کریم کلر کی مردانہ شال ایک کندھے پر ڈالے ہوا تھا۔۔۔ اس کے بلکل پیچھے اس کے چار “بدیسی” سیاہ فام باڈی گارڈز اس کی حفاظت کے لئے بلکل الرٹ سے کھڑے تھے۔۔۔۔ جبکہ ان کا مالک اپنی دائیں ٹانگ کو بائیں ٹانگ پر رکھے شان بے نیازی سے اپنی خوبصورت نیلی سحرانگیز آنکھوں سے اپنے سامنے بیٹھے زریاب حسین خان کو تولتی نظروں سے دیکھ رہا تھا۔۔۔

“یہ لڑکی میرے بیٹے کی منگیتر تھی مگر اب نہیں ہے۔۔۔ میں اسے اپنے گھر میں رکھنا تو دور اس کا سایہ بھی برداشت نہیں کر سکتا تم شادی کی بات کرتے ہو۔۔۔؟؟؟ میں اس کے ٹکڑے کروا کر کتوں کے آگے تو ڈال سکتا ہوں مگر اسے قبول نہیں کر سکتا ۔۔۔۔یہ میرے خاندان کے لئے بدنما داغ ہے۔۔اس لئے بہتر ہوگا کہ تم بیچ سے ہٹ جاؤ ھیشم اسماعیل خان۔۔۔۔۔ ” دائیں طرف والے صوفے پر بیٹھا فرعون صفت شخص تکبر سے بولا۔۔۔ اس کی عمر تقریباً ساٹھ کے قریب تھی۔۔۔وہ سر پر خاندانی دستار پہنے کریم کلر کے کرتا شلوار میں ملبوس اپنی بڑی بڑی مونچھو پر ہاتھ پھیرتا ہوا شدید طیش میں بولا تھا۔۔ اس کی وحشت بھری آنکھیں اس وقت غصے کی شدت سے مزید سرخ ہورہی تھیں۔۔۔۔ اگر اسے اپنے سر پر لٹکتی ھیشم اسماعیل خان کے نام کی تلوار دکھائی نہیں دے رہی ہوتی تو وہ کب کا واقعی اس لڑکی کو کاٹ کر کتوں کے آگے ڈال چکا ہوتا۔۔۔۔

“مگر ہم گواہی دیتے ہیں کہ یہ لڑکی بلکل بے قصور ہے زریاب خان۔۔۔ اور ہمارے سامنے اتنی بڑی بڑی باتیں کرنے سے پہلے اپنے بارے میں بھی ایک بار ٹھنڈے دماغ سے سوچ لو۔کیونکہ ھیشم خان کے فیصلے ہمیشہ بے لچک ہوتے ہیں۔۔۔ یہ تو تم ہو جو ہم سے اتنی بحث کر رہے ہو کوئی اور ہوتا تو ہم اس کا وہی حال کرتے جو تم اس لڑکی کا کرنے کی سوچ رہے ہو۔۔۔” ھیشم خان دانت بھینچ کر غراتا ہوا بولا تھا۔۔۔

“ہنہہہ،۔۔۔تم اگر اس لڑکی کے اتنے ہی بڑے ہمدرد ہو۔۔۔ اور اس کی پاکدامنی کے گواہ بھی ہو تو تم خود اس سے شادی کیوں نہیں کر لیتے۔۔۔؟؟؟ میرے بیٹے کی بیوی تو یہ اب قیامت تک نہیں بن سکتی۔۔۔ہاں اس کی “داشتہ” ضرور۔۔۔۔

“زریاب خان۔۔۔خبردار جو ایک لفظ بھی مزید بولا تو۔۔۔۔ ابھی اور اسی وقت تمھاری اس بے لگام زبان کے اتنے ٹکڑے کریں گے کہ تم گن نہیں پاؤگے۔۔۔۔ اب تک ہم تم سے شرافت کی زبان میں بات کر رہے تھے۔۔۔مگر شرافت تم جیسوں کو ہضم نہیں ہوتی۔۔۔” ھیشم خان غصے سے دہاڑتا ہوا اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔۔اس کی گونج دار آواز سے پوری حویلی کے در و دیوار جیسے لرز اٹھے تھے۔۔۔۔ جبکہ زریاب خان بھی لبوں پر طنزیہ مسکراہٹ سجائے اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔ وہ ھیشم کے غصے سے خائف ضرور ہوا تھا مگر یہ بات اچھی طرح سمجھ چکا تھا کہ اس نے تاک کر “وار” کیا تھا۔۔۔۔اس کا تیر بلکل ٹھیک نشانے پر لگا تھا۔۔۔

“خان۔۔۔بڑی بڑی باتیں کرنا تو بہت آسان ہے۔۔۔مگر ان پر عمل کرنا بہت مشکل۔۔۔ میں جانتا ہوں تم اس داغدار لڑکی کو اپنے نکاح میں کبھی نہیں لوگے جو پورا ایک ہفتہ گھر سے باہر گزار کر آئی ہے۔۔۔ اگر یہ لڑکی پاک دامن ہوتی تو تم اس طرح غصے میں نہیں آتے۔۔۔۔بلکہ اس کی بے تحاشا خوبصورتی پر فدا ہوکر فوراً اسے اپنا لیتے۔۔” زریاب خان کونے میں کھڑے اس وجود کو نفرت سے دیکھتے ہوئے بولا۔۔

“دین بخش۔۔جاؤ مرتضیٰ سے کہو کہ نکاح خواں کا بندوبست کرے۔۔۔آج شام ہمارا نکاح ہے۔۔۔۔۔عائشے گل کے ساتھ ۔۔۔۔نکاح کی تیاری ہمارے شایان شان ہونی چاہیئے۔۔۔” وہ اپنے سامنے کھڑے زریاب خان پر ایک شرر بار نگاہ ڈال کر بولتا ہوا کونے میں کھڑی عائشے کا ہاتھ تھام کر مردان خانے سے باہر نکل گیا تھا۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *