Tere Ishq Sy Meri Zaat Tak by Ayesha Mughal NovelR50552 Tere Ishq Sy Meri Zaat Tak (Episode 17)
Rate this Novel
Tere Ishq Sy Meri Zaat Tak (Episode 17)
Tere Ishq Sy Meri Zaat Tak by Ayesha Mughal
“اب کیا کرنا ہے ذیان۔۔۔؟؟” زریاب خان کی حویلی سے نکلتے ذیان سے اندر ہوئی ساری گفتگو جاننے کے بعد دانیال نے سوال کیا۔۔۔
“بات۔۔” ذیان نے پرسوچ انداز میں کہا۔۔
“کس سے۔۔؟؟”دانیال نے ناسمجھی سے اس کی جانب دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔۔
“انکل انٹی یعنی تیرے اماں ابا سے۔۔۔”ذیان نے سنجیدگی سے کہا۔۔۔
“میرے اماں ابا سے کیا کہے گا تو؟؟اور چل کیا رہا ہے تیرے دماغ میں۔۔۔؟؟”دانیال اب بھی اس کی طرف ناسمجھی سے دیکھ رہا تھا کہ ناجانے اس کےذہن میں کیا چل رہا ہے۔۔۔۔
“میں یہ کہہ رہا اب سے تیرے اماں ابا میرے اماں ابا۔۔۔۔”ذیان نے ہنستے ہوئے کہا اس کی بات پر دانیال نے بھی قہقہ لگایا تھا۔۔۔اور پھر ذیان اسے سب سمجھاتا اسکے گھر کی جانب چل پڑا ۔۔۔











دانیال کے والدین ایک مؤدب گھرانے سے تعلق رکھتے تھے دانیال کے والد یورپ کے مشہور بزنس ٹائیکون میں سے تھے۔۔۔۔انکا بزنس یورپ میں سیٹل تھا۔۔فیملی کی یاد میں وہ کچھ عرصے کے لئے پاکستان چلے آئے اور ذیان کی بات انہوں نے پوری توجہ سے سنی تھی۔۔۔ ذیان نے انہیں پوری صورت حال سے آگاہ کرتے ہوئے مدد کی درخواست کی تھی۔۔۔انہیں منانے میں ذیان کو ذیادہ مشکل پیش نہیں آئی تھی۔۔۔۔اس وقت وہ انکے ساتھ زریاب خان کی حویلی کے مہمان خانے میں موجود تھا۔۔۔جہاں اب تک دونوں طرف خاموشی تھی جسے مسٹر لغاری(دانیال کے والد)نے توڑا تھا۔۔۔
“ہم شرمندہ ہیں آپ سے ۔۔ہمارے بیٹے سے جو غلطی ہو گئی ہم اسے مٹا تو نہیں سکتے لیکن اسے سدھار ضرور سکتے ہیں۔۔۔۔”
“اگر آپ کا بیٹا اپنے کئےپر شرمندہ نہ ہوتا تو آج یہ آپ کے سامنے موجود نہیں ہوتا بلکہ کسی اسپتال میں پڑا ہوتا۔۔۔۔”زریاب خان نے تڑخ کر کہا۔۔مسٹر لغاری کی شخصیت سے تو وہ آل ریڈی متاثر ہو چکے تھے لیکن انا آڑے آگئ۔۔۔ زریاب خان نے مصنوعی اکڑ دکھانا ضروری سمجھا تھا۔۔۔
“آپ اپنی جگہ ٹھیک ہیں اگر آپ کی جگہ کوئی اور بھی ہوتا تو شاید یہی کرتا۔۔۔ہم نے اس کی تربیت ایسی تو نہیں کی تھی۔۔۔لیکن آج اس نے ہمیں کہیں منہ دکھانے کے قابل نہیں چھوڑا۔۔۔۔”مسٹر لغاری نے مایوس لہجے میں کہا۔۔جبکہ ذیان کسی مجرم کی طرح سر جھکائے بیٹھا تھا۔۔۔اور دل ہی دل میں مسٹر لغاری کو انکی بھرپور ایکٹنگ پر داد دی ۔۔۔
“آپ کیونکہ ایک عزت دار انسان معلوم ہوتے ہیں اس لئے میں اپنی بیٹی آپکے حوالے کر رہا ہوں ورنہ۔۔۔۔”زریاب خان نے اپنی بات ادھوری چھوڑی تھی۔۔۔۔
“جی آپ کا بہت بہت شکریہ ہم آپ کے دل سے مشکور ہیں کیا ہم اب زویا بیٹی سے مل سکتے ہیں۔۔۔؟؟”مسٹر لغاری نے مشکور لہجے میں کہا۔۔۔
“جی ۔۔۔نسرین بیگم زویا کو بلائیے۔۔”زریاب خان نے قریب ہی صوفے پر بیٹھیں نسرین بیگم سے کہا۔۔وہ زریاب خان کے حکم پر اثبات میں سر ہلاتیں وہاں سے نکلتی چلی گئیں جبکہ زریاب خان مسٹر لغاری سے انکے بزنس کے سلسلے میں محو گفتگو تھے اور مسٹر لغاری کے بزنس سے کافی مرعوب نظر آرہے تھے۔۔۔۔ذیان آگے کا پلان ترتیب دے رہا تھا۔۔۔۔۔










ھیشم جیسے ہی کمرے میں آیا وہ پریشان سی بیڈ کے سرہانے ٹیک لگائے بیٹھی تھی۔۔ھیشم دھیمی سی مسکراہٹ لبوں پر سجائے اسکے پاس آیا تھا اور اس کے بلکل ساتھ لگ کر سرہانے کی طرف نیم دراز ہوگیا تھا۔۔۔
“آئی ایم سوری عائشے۔۔ یہ میڈیا والے تو کچھ بھی بولتے ہیں ان کی عادت ہوتی ہے رائی کا پہاڑ بنانے کی۔۔آپ پریشان مت ہوں۔۔۔۔” ھیشم نے اس کا سر اپنے سینے پر رکھتے ہوئے اسے تسلی دی تھی ساتھ ہی وہ اس کے کھلے بالوں میں انگلیاں چلانے لگا تھا جو اس کی پشت پر کسی آبشار کی طرح بکھرے ہوئے تھے۔۔۔
“مجھے واپس چھوڑ آئیں ھیشم ۔۔۔ آپ کب تک میرے لئے اسٹینڈ لیتے رہیں گے۔۔؟؟” اتنا کہتے ہی عائشے کی آنکھوں سے کب سے ٹھہرے آنسو گال پر پھسل کر ھیشم کے گریبان میں جذب ہونے لگے تھے۔۔ تبھی ھیشم عائشے کو تھام کر فوراَ سیدھا ہوا تھا۔۔۔ اس نے دونوں ہاتھوں کے انگوٹھے سے عائشے کے آنسوں صاف کئے اور جھک کر اس کی پیشانی کا بوسہ لیا تھا۔۔
“عائشے زندگی بھر کا ساتھ جوڑا ہے ہم نے آپ کے ساتھ۔۔ شوہر ہیں ہم آپ کے ۔۔۔ آپ کے محافظ ۔۔۔ تو اسٹینڈ بھی ہم ہی لیں گے نا۔۔؟؟؟ ہمارے ہوتے ہوئے کوئی آپ کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھ سکتا۔۔۔” ھیشم خان نے والہانہ انداز میں کہا۔۔۔
“ھیشم پلیزززز۔۔۔ آپ سب سمجھ نہیں رہے گھر والوں کو بھی سب پتہ چل گیا ہے۔۔۔ اس کا اندازہ تو تھا مجھے کہ ایک نا ایک دن یہ ہونا ہے ۔۔ مگر گھر کے باہر بھی اس بارے میں خبر پھیل چکی ہے ھیشم ۔۔۔ آپ کی ریپوٹیشن بھی میری وجہ سے خراب ہو رہی ہے ۔۔ بات میڈیا تک پہنچ گئی ہے۔۔ آپ کا نام اچھالا جا رہا ہے اور اس سب کی وجہ میں ہوں ۔۔ یہ سب میری وجہ سے ہو رہا ہے ۔۔ میں خود پر ہزار تہمتیں برداشت کر سکتی ہوں مگر آپ کا نام میری وجہ خراب ہو یہ میں نہیں دیکھ سکتی۔۔ آپ پلیززز مجھے کسی دوسرے شہر کے دار الامان میں چھوڑ آئیں ۔۔ باہر لوگوں کو بتا دیں کہ عائشے مر گئی ہے۔۔۔ ” وہ اس وقت شدید جذباتی ہو رہی تھی ھیشم کے دل کو اس کی بات سن کر سخت دھچکا لگا تھا۔۔۔
“واٹ ربششششش۔۔۔ کیا بکواس کر رہی ہیں آپ۔۔۔؟؟؟ آپ کو۔۔ اپنی زندگی کو خود سے دور کر دیں۔۔؟؟؟ دوسرے شہر بھیج دیں ۔۔؟؟؟ دار الامان میں چھوڑ آئیں ۔۔۔؟؟؟ آپ ۔۔۔ آپ۔۔۔ عائشے آپ یہ سب کیسے کہہ سکتی ہیں۔۔۔ ؟؟؟ آپ ھیشم خان کی بیوی ہیں۔۔ کوئی ان چاہا بوجھ نہیں جسے جب دل چاہا سر سے اتار کر پھینک دیا۔۔۔آپ یہ سب کہہ بھی کیسے سکتی ہیں۔۔؟؟ آپ کو ہم کہیں نہیں جانے دیں گے بھاڑ بھی گئی دنیا اور جہنم میں گئے لوگ۔۔۔ جب تک ہماری سانسیں چل رہی ہیں ہم آپ کو خود سے کبھی جدا نہیں ہونے دیں گے۔۔۔ مرنے کی بات کرتی ہیں آپ۔۔؟؟ مرنے کی بات کرتی ہیں۔۔۔؟؟ ہماری طرف دیکھیں ادھر ہمیں دیکھیں عائشے ۔۔۔ کیا آپ ہم سے جدا ہوکر رہ سکتی ہیں۔۔؟؟؟ ” ھیشم نے اسے کندھوں سے تھام کر جھنجھوڑتے ہوئے تیز آواز میں پوچھا۔۔ ھیشم کی آنکھوں میں پھیلی وحشت و جنون نے عائشے کی زبان کو تالو سے چپکا دیا تھا۔۔۔
“آپ ہم سے دور ہونے کی سوچ سکتی ہیں مگر ہم آپ کے بنا ایک لمحہ بھی نہیں رہ سکتے اور نا ہی آپ کو خود سے دور ہونے دیں گے۔۔۔ آپ کے لئے بھلے ہی دنیا ہم سے زیادہ امپورٹنٹ ہو مگر ہمارے لئے ہماری زندگی کی سب سے پہلی ترجیح ہی آپ ہیں۔۔ آپ ساتھ ہو تو ہم دنیا سے لڑ لیں گے مگر آپ کے بنا ہم ٹوٹ جائیں گے عائشے۔۔۔ اس لئے آئندہ یہ سب کہہ کر ہمارا دل مت دکھائیے گا۔۔۔ ” ھیشم بولتے ہوئے خاموشی سے سر جھکا کر بیٹھ گیا تھا تبھی نادم سے بیٹھی عائشے نے ڈرتے ڈرتے نظر اٹھا کر برہم سے بیٹھے ھیشم کو دیکھا تھا اور بنا کچھ کہے اس کے سینے سے لگ گئی تھی ۔۔
“آئم سوری ھیشم میرا ارادہ آپ کا دل دکھانے کا نہیں تھا۔۔۔ پلیززز مجھے معاف کر دیں آئندہ میں ایسی کوئی بات نہیں کرونگی ۔۔۔ بس اس بار مجھے معاف کر دیں۔۔۔” وہ ھیشم کے سینے سے لگی زوروشور سے رونے لگی تھی۔۔
“یہ اچھا ہے۔۔ پہلے دل دکھاتی ہیں بعد میں یوں بارشیں برسا کر کتنی آسانی سے ہمیں منا بھی لیتی ہیں ۔۔۔ چلیں اب رونا بند کریں ورنہ پھر ہمیں اپنے طریقے سے آپ کو چپ کروانا پڑے گا ۔۔ پھر بھاگتی مت پھرئیے گا۔۔۔” ھیشم نے اسے خود سے الگ کرتے ہوئے شرارت سے کہا۔۔۔ عائشے اسکی بات پر رونا دھونا بھول کر بوکھلا گئی تھی۔۔
“ھیشم یہ کیا کہہ رہے ہیں آپ۔۔؟؟”عائشے نے گھبراتے ہوئے کہا ۔۔۔۔
“ابھی سمجھاتا ہوں۔۔۔ مسز اب آپ ہم سے بچ کر کہاں جائیں گی۔۔۔؟؟” ھیشم نے بولتے ہوئے اس کی فرار کی ساری راہیں مسدود کر دی تھیں۔۔۔
اس نے عائشے کے خدشات ۔۔ اس کے ڈر ۔۔ اس کی پریشانیوں کو اپنی محبت کے حصار میں قید کرکے عائشے کو پرسکون کر دیا تھا۔۔۔ وہ اس کا ہمسفر تھی۔۔ اس کی زندگی کی ساتھی۔۔ عائشے کی محبت نے ھیشم خان کو جینا سکھایا تھا۔۔ اس کے ساتھ نے ھیشم خان کی تشنہ ذات کو سیراب کر دیا تھا۔۔۔ اس کی ادھوری نامکمل زندگی کو مکمل کر دیا تھا۔۔۔ تو اب یہ اس کا بھی فرض بنتا تھا کہ وہ عائشے کی ہر طرح سے نا صرف حفاظت کرتا بلکہ اس کی ذات تک آنے والی ہر پریشانی اور دکھ کے بیچ وہ خود آ کھڑا ہوتا اور اسے تحفظ کے ساتھ ذہینی آسودگی فراہم کرتا۔۔۔ تبھی اس وقت بھی وہ عائشے کو اپنی ذات میں گم کرکے اس اہم ترین مسئلے سے اس کا دھیان ہٹانے میں کامیاب ہوگیا تھا۔۔۔













“روحی اب اگر تم چپ نہیں ہوئ تو میں تمھارا سر پھاڑ دوں گا۔۔۔۔”حازم نے دانت پیستے ہوئے روحی کی جانب دیکھا جس کے دانت اندر جانے کا نام نہیں لے رہے تھے۔۔۔۔راہداری سے گزرتے حازم نے نامحسوس انداز میں اپنے ماتھے پر آیا پسینہ صاف کیا تھا جو روحی کی باریک نگاہوں سے پوشیدہ نا رہ سکا۔۔۔
“او حازم کے بچےتمہارے تو ابھی سے پسینے چھوٹ گئے ہیں۔۔۔۔یہ نا ہو کہ ہیشم بھائ کو سامنے دیکھ کر تم بےہوش ہو کر زمین بوس ہو جاؤ۔۔۔۔”
روحی نے چہک کر کہا۔
“تم میری بہن ہو یا دشمن؟؟تم سے تو دشمن ذیادہ اچھے ہوتے ہیں۔۔۔۔”روحی کو ہنستے دیکھ حازم نے چڑ کر کہا۔۔۔۔
“اچھاااا۔۔۔ میرے پیارے بھائ ناراض تو مت ہو۔۔۔۔دیکھو محبت میں تو لوگ کیا سے کیا کر گزر جاتے ہیں یہ تو بس چھوٹی سی بات ہے۔۔۔۔تم نے بس ہیشم بھائ کے پاس جانا ہے اور کہنا ہے کہ “بھائ ایک لڑکی ہے رباب۔۔۔جو میری زندگی اور آپکی ہونے والی فیوچر بھابھی ہے۔۔۔لیکن بھابھی بنانے کے لیئے آپ کو میرے ساتھ اس کے گھر رشتہ لے کر جانا ہے۔۔۔سمپل۔۔۔۔”روحی نے چٹکی بجا کر آرام سے حل پیش کرتے ہوئے کہا ۔
“جتنا آسان یہ لگ رہا ہے ٫اتنا ہے نہیں۔۔۔۔بھائی نے کھڑے کھڑے ہی میری جان لے لینی ہے۔۔۔”
حازم نے سر کھجاتے ہوئے کہا۔۔۔
“افف حازم۔۔۔تم تو لڑکیوں کی طرح ڈر رہے ہیں۔۔۔مرد ہو مرد بنو۔۔۔مرد اگر کسی سے سچی محبت کرتا ہے تو ایسے ڈرتا نہیں ہے۔۔۔۔ہیشم بھائ کچھ نہیں کہیں گے ۔۔۔اور اگر انہیں غصہ آیا بھی تو وہ ذیادہ سے ذیادہ تمہارا سر ہی پھاڑیں گے یا پھر تمہیں گھر سے بے دخل کردیں گے ۔۔۔۔مجھے امید ہے کہ وہ اس سے ذیادہ کچھ نہیں کریں گے۔۔۔۔”روحی نے انگلی چہرے پر ٹکا کر پرسوچ انداز میں کہا۔
روحی کی بات سن کر حازم نے غصے سے گھور کر اسے دیکھا۔۔۔
“اب چلو بھی۔۔۔۔”ہیشم کے کمرے کے باہر حازم کو رکتا دیکھ روحی نے چڑ کر کہا۔
“یار اگر بھائ ناراض ہو گئے تو؟؟اور اگر انہوں نے صاف انکار کر دیا تو۔۔۔؟؟”حازم نے دل میں آئے خدشات کو ظاہر کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔
“حازم کیا ہو گیا ہے تمہیں ؟؟تمہارے اندر کا شیر کہاں گیا ہے۔۔۔۔کیوں اتنا گھبرا رہے ہو۔۔۔محبت کرتے ہو نا رباب سے ۔۔۔تو بس پھر گھبرانے کی بھی کیا ضرورت ہے۔۔۔اور تم کون سا ناجائز طریقہ اختیار کر رہے ہو۔۔۔۔”
روحی نے کہہ کر بغیر حازم کو سنبھلنے کا موقع دیئے اسے اندر کمرے میں دھکا دیا اور خود بھی داخل ہوگئ۔
روحی کی حرکت پر حازم نے کھا جانے والی نظروں سے اسے مڑ کر دیکھا ۔
عائشے جو الماری میں کپڑے رکھ رہی تھی ۔۔۔کھٹکے کی آواز پر اسنے دروازے کی جانب دیکھا جہاں حازم اور روحی کھڑے تھے۔۔۔۔۔اور حازم غصے اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔جبکہ وہ ڈھیٹ بنی کھڑی تھی۔۔۔
“بھابھی۔۔۔۔بھائ کہاں ہیں؟؟
ہیشم کو کمرے میں موجود نا پا کر روحی نے عائشے سے پوچھا۔
“وہ تو کسی کام سے ڈیرے پر گئے ہیں۔۔۔کیوں کیا ہو گیا ایسا جو ہٹلر بھائی کی یاد آگئی تم لوگوں کو۔۔۔”عائشے نے متجسس لہجے میں کہا۔۔
“آ۔۔وہ۔۔۔نہیں بھابھی کوئ بات نہیں ہے۔۔۔۔”
حازم تھوڑا کنفیوز ہوتے ہوئے کہا۔۔۔
“ضرور کوئی نا کوئی بات ہے ۔۔۔کیونکہ آج تو تمہارے رنگ ڈھنگ ہی بدلے ہوئے ہیں ۔۔۔۔کیا چھپا رہے ہو مجھ سے۔۔۔؟؟”عائشے نے مصنوعی طور پر گھورتے ہوئے پوچھا۔۔۔
“بھابھی یہ جھوٹ بول رہا ہے۔۔۔۔۔بات تو ہے ۔۔۔اور وہ بھی بہت اہم اور مجھے یقین ہے کہ آپ ہماری مدد ضرور کریں گی۔۔۔۔۔”اس سے پہلے کہ حازم کچھ کہتا روحی جھٹ سے بولی۔۔۔روحی کی بات سن کر عائشے نے سوالیہ نظروں سے حازم کی جانب دیکھا تھا۔۔۔
“وہ بھابھی دراصل میرے کالج میں ایک لڑکی ہے۔۔۔ رباب اور میں اسے پسند۔۔۔نہیں بلکہ اس سے محبت کرتا ہوں لیکن۔۔۔۔۔”حازم نے پر سوچ انداز میں بات ادھوری چھوڑی۔۔۔
“لیکن کیا۔۔۔۔؟؟؟”
حازم کو خاموش ہوتے دیکھ روحی نے تجسس سے پوچھا۔
“لیکن اسکے فادر اسکی شادی کہیں اور کر رہے ہیں ۔۔اور رباب بھی ایگری نہیں ہے۔۔۔۔اور میں چاہتا ہوں کہ آپ لوگ میرا رشتہ لے جائیں اس کے لیئے۔۔۔۔۔بھابھی میں اس سے بہت محبت کرتا ہوں اور اس کے بغیر نہیں رہ سکتا۔۔۔۔۔اور شاید میں مر مر کر ہی جی لیتا اس کے بغیر اگر وہ لڑکا رباب کے قابل ہوتا۔۔۔ ۔پلیز آپ بھائ کو منا لیں۔۔۔۔مجھے یقین ہے کہ وہ آپ کی بات کبھی نہیں ٹالیں گے۔۔۔۔”حازم نے چہرے پر مسکینیت سجاتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔
“لیکن تمہیں کیوں لگتا ہے کہ وہ اسے خوش نہیں رکھے گا۔۔۔۔؟؟”عائشے نے سنجیدگی سے پوچھا۔۔۔
“بھابھی وہ لڑکا ایک نمبر کا آوارہ ۔۔بگڑا ہوا لڑکا ہے۔۔۔۔”حازم نے نخوت سے کہا۔۔
“لیکن اگر ھیشم میری بات نہ مانے تو۔۔۔؟؟”عائشے نے ابرو اچکاتے ہوئے کہا۔۔۔
“مان جائیں گے مجھے پورا یقین ہے۔۔۔”حازم نے پر یقین لہجے میں کہا۔۔۔
“ہمممم۔۔ٹھیک ہے میں بات کروں گی لیکن فلحال میں تم سے خفا ہوں۔۔۔۔”عائشے نے خفگی سے کہا۔۔۔
“کیوں بھابھی۔۔۔پلیز جو بھی ریزن ہے خفا مت ہوں۔۔ورنہ ۔۔۔”حازم نے جلدی سے کہا۔۔۔
“ورنہ بھائی سے بات کون کرے گا ۔۔۔۔مجھے پتا تھا ایک نمبر کے خود غرض انسان ہو۔۔۔”روحی نے تنقید کرتے ہوئے اس کی ادھوری بات کو پورا کیا۔۔۔
“خود غرض ہوگی تم۔۔۔چڑیل۔۔۔”حازم نے اسے چڑاتے ہوئے کہا۔۔۔
“بس بس اب لڑو مت تم دونوں۔۔۔۔میں کسی سے خفا نہیں ہوں۔۔بس۔۔؟؟خوش۔۔۔؟؟اور حازم تم شروع ہو جاؤ اور الف سے ی تک اپنی داستان محبت سناؤ مجھے۔۔۔”اس سے پہلے کہ وہ دونوں پھر سے شروع ہوتے عائشے انہیں روکتی ہوئی حازم سے مخاطب ہوئی۔۔۔۔اور حازم کو تو بس موقع چائہیے تھا بولنے کا اور اب موقع ملتے ہی وہ شروع ہو چکا تھا۔۔۔
روحی تو بس اسکے انداز پر ہی غش کھا اٹھی۔۔۔۔۔













“واٹ۔۔۔یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں۔۔۔؟؟”نسرین بیگم کی بات پر وہ جھٹکے سے بولی۔۔۔
“وہی جو تم سن رہی ہو۔۔۔اب جلدی سے کپڑے بدل لو۔۔۔۔۔”نسرین بیگم نے اس کے کپڑوں پر تنقید کی۔۔۔اس وقت وہ جینز ٹی شرٹ میں ملبوس تھی۔۔۔۔
“میں ہر گز ایسا نہیں کرنے والی۔۔۔میں اس سے کبھی شادی نہیں کروں گی۔۔۔”زویا نے حتمی لہجے میں کہا۔۔۔
“تو پھر بیٹھی رہنا پوری زندگی یہاں اپنے دامن پر داغ لگوائے۔۔۔جیسی تمہاری حرکتیں ہیں کوئی نہیں آئے گا تمہیں بیاہنے۔۔۔”نسرین بیگم نے غصے سے کہا۔۔۔
“کیا آپ نجومی ہیں ۔۔۔؟؟نہیں ناں۔۔۔ تو اپنی باتیں اپنے پاس ہی رکھیں۔۔۔اور آپ کو کوئی حق نہیں ہے میری زندگی میں دخل اندازی کرنے کا۔۔۔”زویا نے ہمیشہ کی طرح بدتمیزی سے کہا۔۔۔۔
“تم ویسے ہی پاگل ہو چکی ہو۔۔۔تمہارا دماغ خراب ہو گیا ہے۔۔۔اپنی عزت کا تو خیال نہیں ہے تمہیں ماں باپ کی ہی عزت کا خیال کرلو۔۔۔۔”نسرین بیگم نے اسے شرمندہ کرنا چاہا۔۔۔
“کونسے ماں باپ کی بات کر رہی ہیں آپ ۔۔؟؟وہ جن کی محبت کے لئے میں بچپن سے ترستی آئی ہوں۔۔۔جنکے پاس اپنی اولاد کے لئے ہی ٹائم نہیں تھا۔۔۔میرے پاپا جنہیں اپنی سیاست سے ہی فرصت نہیں تھی یا وہ ماں جو ہمیشہ فیشن پر اپنی جان قربان کرتی آئی ہیں۔۔۔۔تب کہاں تھے آپ دونوں۔۔۔۔؟؟تب آپکو اپنی اولاد کا خیال نہیں آیا۔۔۔اور آج اس کی زندگی کا فیصلہ کرنے چلے آئے ہیں۔۔۔”زویا نے نفرت سے کہہ کر منہ پھیرا۔۔۔
“اپنی زبان بند رکھو۔۔جتنا کہا ہے اتنا کرو ورنہ اب خان ہی تمہیں سمجھائیں گے۔۔۔”نسرین بیگم نے تڑخ کر کہا۔۔۔
“میں کسی سے نہیں ڈرتی ۔۔جو کرنا ہے کر لیں لیکن میں آپ کی بات ہر گز نہیں مانوں گی۔۔”زویا نے چلاتے ہوئے کہا جب اس کی نظر دروازے پر کھڑے ذیان پر پڑی۔۔۔اور وہ غصے سے اسکی جانب بڑھی۔۔
“کیوں آئے ہو یہاں ۔۔۔۔چین نہیں ملا تمہیں وہ سب کر کے اور اب یہاں چلے میری زندگی اجیرن بنانے۔۔۔”زویا نے اس کا گریبان پکڑتے ہوئے غصے سے بولی۔۔
“زویا کیا کر رہی ہو چھوڑو اسے۔۔۔۔”نسرین بیگم نے ذیان کا گریبان چھڑواتے ہوئے کہا۔۔۔
“مسز خان بی ان یور لمٹ۔۔۔۔آپ دور ہی رہیں تو اچھا ہے۔۔۔ورنہ میں لحاظ نہیں کروں گی آپکا۔۔۔”زویا نے تمام تر لحاظ کو بالائے طاق رکھتے ہوئے کہا۔۔اور تبھی مسز خان کا ہاتھ اٹھا تھا اور اس سے پہلے کہ اس کے چہرے پر نشان چھوڑتا ذیان نے مسز خان کا ہاتھ تھاما تھا۔۔۔
“رک جائیے۔۔۔یہ آپ کیا کر رہی ہیں آنٹی۔۔۔؟؟”ذیان نے سوال کیا۔۔۔
“تم نہیں جانتے بیٹا کتنی بگڑ چکی ہے یہ ۔۔اسے ذرا خیال نہیں ہے اپنے ماں باپ کا۔۔۔”نسرین بیگم نے ذیان کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ چھڑواتے ہوئے تڑخ کر کہا۔۔۔
“یہ سب آپ لوگوں کے توجہ نہ دینے کا ہی نتیجہ ہے ۔۔۔اور اب یہ صرف آپ کی بیٹی ہی نہیں بلکہ میری ہونے والی بیوی بھی ہے۔۔اور میں آپکو بلکل بھی حق نہیں دیتا کہ آپ اس کے بارے میں ایسے الفاظ استعمال کریں ۔۔کیا آپ کائنڈلی کچھ وقت مجھے زویا سے اکیلے میں بات کرنے کی اجازت دے سکتی ہیں۔۔۔۔؟؟”ذیان نے سخت الفاظ کااستعمال کرتے ہوئے لہجے کو نرم رکھا تھا۔۔۔
“کر لو بیٹا۔۔اوریہ جو تم اتنی اس کی طرفداری کر رہے ہو نا تمہیں خود ہی سمجھ آجائے گا۔۔۔”نسرین بیگم کہتیں کمرے سے نکلتی چلی گئیں۔۔۔
“او ہیلو۔۔۔ایکسیوز می۔۔۔۔کس نے کہا ہے تمہیں کہ میں تم سے شادی کروں گی۔۔۔؟؟”زویا نے تلخی سے پوچھا۔۔۔
“ایسا مت کہو۔۔۔میں یہاں تم سے معافی مانگنے آیا ہوں میں نے تم سے بہت روڈ رویہ اختیار کیا۔۔میں نے تمہاری سیلف ریسپیکٹ کو ہرٹ کیا تھا تب ہی تم نے یہ سب کیا۔۔۔میں جانتا ہوں اگر تم نے وہ سب کیا تو وجہ خود میں ہی تھا۔۔۔میں تمہارے سامنےہاتھ جوڑتا ہوں پلیز مجھے معاف کردو۔۔۔۔۔”ذیان نے اسکے سامنے ہاتھ جوڑتے ہوئے مصنوعی آنسو بہاتے ہوئے کہا جبکہ زویا تو کایا پلٹنے پر ہی ساکت رہ گئی تھی۔۔۔
“پلیز بس ایک موقع دے دو میں تم سے نکاح کرنا چاہتا ہوں۔۔۔دل و جان سے تم سے محبت کرتا ہوں۔۔یقین کرو جب سے مجھے اپنی غلطی کا احساس ہوا ہے میری زندگی اجیرن ہوگئی ہے۔۔۔مجھے کسی پل بھی سکون نہیں آرہا۔۔۔پلیز مجھے معاف کردو ۔۔۔ہمیشہ تمہارا غلام بن کر رہوں گا۔۔۔جو تم کہو گی وہی کروں گا ۔۔۔بس میری زندگی میں آجاؤ۔۔میں تمہارے بغیر نہیں رہ سکتا ۔۔۔۔”ذیان نے روتے ہوئے کہا۔۔۔۔
“میں کیسے مان لوں کہ تم مجھ سے محبت کرتے ہو ۔۔۔؟؟یہ سب ڈرامہ بھی تو ہو سکتا ہے مجھ سے بدلہ لینے کے لئے۔۔۔؟؟”زویا نے ابرو اچکاتے ہوئے کہا۔۔۔
“ایسا نہیں ہے زویا یقین کرو میرا۔۔۔۔اچھا تمہیں ثبوت چائہیے نا میری محبت کا تو بولو کیا ثبوت دوں میں تمہیں۔۔۔۔؟؟کیسے یقین دلاؤں تمہیں اپنی محبت کا۔۔۔؟؟”ذیان نے بے بسی ظاہر کرتے ہوئے کہا۔۔۔
“جو میں کہوں گی وہ کرو گے ۔۔۔؟؟”زویا نے مسکراتے ہوئے کہا۔۔۔
“ہاں بولو جو کہو گی کروں گا۔۔۔اگر جان بھی مانگو گی تو دے دونگا۔۔۔”ذیان نے جلدی سے کہا۔۔۔جیسے اب نہیں تو کبھی نہیں ملے گا یہ موقع۔۔۔
“تو ٹھیک ہے دے دو اپنی جان ۔۔۔۔یہ لو زہر پی لو اسے ۔۔ابھی اور اسی وقت۔۔۔لیکن میں جانتی ہوں تم ایسا کبھی نہیں کروگے کیونکہ تم مجھ سے سچی محبت کرتے ہی نہیں یہ صرف ڈرامہ ہے۔۔۔”زویا نے چیلنج کرتے ہوئے پاس ہی ڈریسنگ کے دراز میں پڑا پوائزن نکال کر اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔۔
“اور اگر میں نے ایسا کر لیا تو۔۔۔؟؟؟”ذیان نے سوالیہ نظروں سے دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔۔
“تو میں تم سے شادی کرلوں گی۔۔۔”زویا نے ہنستے ہوئے کہا۔۔
“اور اگر تم مکر گئی تو۔۔۔؟؟”ذیان نے رسک لینے سے پہلے اس کا ارادہ بھانپنا چاہا۔۔۔
“زویا زریاب خان کبھی اپنی بات سے نہیں مکرتی۔۔۔”زویا نے مغرور مسکراہٹ لبوں پر سجاتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔۔اور ذیان دل ہی دل میں اس پر ہنسا تھا وہ جانتا تھا زویا کبھی بھی اسے زہر پینے نہیں دے گی۔۔۔۔اور اگر پی بھی لیا تو وہ اسے مرنے نہیں دے گی۔۔۔اس وقت تو ذیان کو بس اپنا بدلہ لینا تھا اس کے لئے چاہے اسے موت کے منہ تک کیوں نہ جانا پڑتا۔۔۔۔
