Tere Ishq Sy Meri Zaat Tak by Ayesha Mughal NovelR50552 Tere Ishq Sy Meri Zaat Tak (Episode 02)
Rate this Novel
Tere Ishq Sy Meri Zaat Tak (Episode 02)
Tere Ishq Sy Meri Zaat Tak by Ayesha Mughal
آج زلیخا بائی کے کوٹھے پر اس کوٹھے کی سب سے خوبصورت لڑکی قیمت لگائی جا رہی تھی۔۔۔ وہ لڑکی جس کے حسن کے چرچے اس کے آتے ہی اس کوٹھے پر مشہور ہوگئے تھے ۔۔ جسے دیکھتے ہی لوگوں کی آنکھیں چندھیا جاتی تھیں۔۔ مرد تو مرد لڑکیاں بھی اس کے حسن کو رشک بھری نظروں سے دیکھتی تھیں۔۔ ہاں آج اس کوٹھے پر عائشے گل کا کسی بے جان شے کی طرح “سودا” ہو رہا تھا ۔۔۔ آج اس کی ذات اور عزت دونوں کو داؤں پر رکھ دیا گیا تھا ۔۔۔ اور یہ تو کوئی عائشے گل کے دل سے پوچھتا کہ اس وقت وہ تکلیف و کرب کے کس مرحلے سے گزر رہی تھی ۔۔ آج یا تو اسے اپنی جان پر کھیل جانا تھا یا اپنی اس عزت کو ہار جانا تھا جس کی حفاظت اس نے اب تک اپنی جان سے بڑھ کر کی تھی۔۔۔ آج اگر اس کے سامنے بیٹھا یہ حسین شہزادہ اس کی عزت کو بچانے میں ناکام ہو جاتا تو اپنے پلّوں کے نیچے چھپائی ہوئی چھری سے وہ یہیں سب کے سامنے اپنی جان اپنے ہاتھوں سے لے لیتی ۔۔۔ اب دیکھنا یہ تھا کہ جیتنا کس کو تھا۔۔ ؟؟؟ اس کی عزت کو یا جان کو یا ایک ساتھ دونوں کو ۔۔
آج زندگی میں پہلی بار عائشے گل نے اپنے لئے کسی کے سامنے ہاتھ پھیلایا تھا۔۔ کسی سے کچھ مانگا تھا۔۔۔ ہاں آج عائشے گل نے اس حسین شہزادے کے سامنے اپنی عزت کی بھیک مانگی تھی ۔۔۔ اپنی خالی جھولی اس شخص کے آگے پھیلائی تھی اور خدا نے اس حسین صورت والے پیارے سے شخص کو اس کے لئے “نجات” بنا کر ہی بھیجا تھا تبھی تو ھیشم اسماعیل خان عائشے گل کی زبانی ساری بات سن کر سیدھا اس کمرے سے باہر نکلا تھا اور اسی مرکزی کمرے میں چلا آیا تھا۔۔۔ اور کمرے میں لائن سے پڑے صوفوں میں سے ایک صوفے پر وہ دوبارہ آ بیٹھا تھا ۔۔۔ پھر اس نے کمرے میں موجود نوکر سے کہہ کر فوراً زلیخا بائی کو بلوایا تھا۔۔ زلیخا ایم این اے صاحب کا بلاوا سن کر فوراََ دوڑی چلی آئی تھی اور اس کا مطالبہ سن کر دنگ رہ گئی تھی۔۔۔ پھر کچھ ہی دیر میں کوٹھے کے ملازمین نے اس شہزادے کا مطالبہ ہر کسی کو سنا ڈالا تھا۔۔۔ اور تھوڑی ہی دیر میں کمرے میں لوگوں کا ہجوم لگ گیا تھا۔۔۔ عائشے گل کو بھی فوراً طلب کیا گیا تھا۔۔۔ ھیشم کے دوست بھی کچھ ہی دیر بعد اس کمرے میں چلے آئے تھے۔۔۔ اور اس کے آس پاس جا بیٹھے تھے۔۔۔ پھر ھیشم اسماعیل خان نے دوبارہ سے زلیخا کے سامنے اپنا مطالبہ دہرایا تھا ۔۔ زلیخا نے جانچتی نظروں سے اپنے سامنے پوری شان سے بیٹھے اس شہزادے کو دیکھا تھا جو اس کے کوٹھے کے سب سے قیمتی “ہیرے” کا طلبگار بنا بیٹھا تھا ۔۔ ہاں ھیشم اسماعیل خان زلیخا کے سامنے بیٹھا عائشے گل کی قیمت لگا رہا تھا۔۔ جبکہ آس پاس بیٹھے اس کے گورے دوست حیرت سے ساری کاروائی دیکھ رہے تھے ۔۔۔۔
“بیس لاکھ “ھیشم نے کے پہلی بولی لگائی تھی۔۔ اتنی بڑی قیمت سن کر زلیخا کی بانچھیں کھل گئیں۔۔ لیکن اس نے اپنے تاثرات کمال ہوشیاری سے چھپا لئے تھے ۔۔۔ وہ جانتی تھی ھیشم جیسے انسان کا اگر اس لڑکی پر دل آہی گیا ہے تو وہ اسے کسی بھی قیمت پر حاصل کرکے رہے گا ۔۔۔۔ اسی لئے اسے اس وقت یہ کھیل بہت سوچ سمجھ کر “کھیلنا” تھا۔۔ اس طرح کہ اس کا فائدہ بھی ہو جائے اور یہ مغرور شخص بھی اس کے سامنے “زیر” ہوجائے۔۔
“سرکار ۔۔۔ یہ لڑکی میرے کوٹھے کا “کوہ نور” ہے ۔۔ اور اسے پہلی بار آپکے سامنے پیش کیا گیا ہے ۔۔۔۔ کیونکہ آج یہی مجھے آپ کے “شایان شان” لگی تھی۔۔۔ آج سے پہلے اس لڑکی کو کسی نے ہاتھ لگانا تو دور کی بات دیکھا تک نہیں ۔۔اگر ۔۔۔” ھیشم جانتا تھا کہ وہ اتنے بڑے کوٹھے کو چلانے والی یہ عورت اس کھیل کی ماہر “کھلاڑی” تھی ۔۔۔ وہ اتنی آسانی سے اپنے جال میں پھنسی اس “بیش قیمتی مچھلی” کو نکلنے تو نہیں دے گی۔۔۔ وہ اتنی سی “رقم” کے لئے تو عائشے کو نہیں چھوڑ سکتی تھی ۔۔۔ وہ جانتا تھا کہ زلیخا مزید رقم کا مطالبہ ضرور کرے گی اس لئے اس نے اپنی رعب دار آواز میں زلیخا کی بات پوری ہونے سے پہلے ہی کاٹ دی تھی ۔۔۔
“پچاس لاکھ “۔۔اس کی سرد گرجدار آواز پورے روم میں گونجی تھی ۔۔۔ اور سارے مجمعے کو جیسے سانپ سونگھ گیا تھا۔۔
“سرکار وہ۔۔۔۔ ” زلیخا متذبذب سی بولنے ہی لگی تھی دوبارہ ھیشم کی آواز گونجی تھی۔۔
“ایک کروڑ۔۔۔۔ ” اور اس بار زلیخا کی زبان تالو سے چپک گئی تھی ۔۔ اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی تھیں۔۔ کچھ دیر کے لئے وہ بھول گئی تھی کہ وہ ھیشم اسماعیل خان تھا۔۔ اس علاقے کا ایم این اے اور ایک مغرور رئیس زادہ ۔۔۔ جس کے سامنے کوئی مرد بھی آنکھ اٹھا کر بات کرنے کی جسارت نہیں کرتا تھا۔۔ مگر آج وقت اسے کس موڑ پر لے آیا تھا کہ وہ عائشے گل کے لئے بازار حسن میں بیٹھی اس “طوائف” کے ساتھ اپنا عہدہ اور مقام بھلائے “ڈیلنگ” کرنے میں مصروف تھا ۔۔۔۔
عائشے گل جو کب سے سر جھکائے خاموش کھڑی اس جلاد صفت عورت اور اس ھیشم اسماعیل خان کی باتیں سن رہی تھی۔۔ اپنی “قیمت” کو سن کر اس نے جھٹکے سے سر اٹھا کر اس نوجوان شہزادے کو دیکھا تھا۔۔۔ جبکہ ھیشم اسماعیل خان ہر چیز سے بے نیاز شاہانہ انداز میں ٹانگ پر ٹانگ رکھے بیٹھا تھا۔۔ اس نے اپنی بات مکمل کرتے ہی اپنے پاس کھڑے اپنے سیکٹری کو اشارہ کیا تھا اور اس کے سیکرٹری نے ایک کروڑ کا چیک لکھ کر زلیخا کے منہ پر مارا تھا۔۔ چیک پر ایک کروڑ کی رقم لکھی دیکھ کر زلیخا کا سر واقعی گھوم گیا تھا وہ بے یقین نظروں سے کبھی چیک کو تو کبھی سامنے بیٹھے ھیشم کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔ مگر پھر ھیشم کی سرد اور ٹھہری ہوئی آواز سے وہ چونک کر ہوش کی دنیا میں آئی تھی ۔۔۔۔
“ہمارا خیال ہے یہ رقم تمھاری اوقات سے بہت زیادہ ہے مگر بات عائشے گل کی ہے جن کے سامنے دنیا بھر کے خزانے بھی ہیچ ہیں ۔۔۔”
اتنا کہہ کر وہ اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا تھا اور عائشے کے سامنے چلا آیا تھا ۔۔ عائشے کے چہرے پر سجی ان خوبصورت آنکھوں کو دیکھ کر اسے بار بار ڈر لگ رہا تھا کہ کہیں وہ ان گہری جھیلوں میں ڈوب نا جائے ۔۔۔ یہ نہیں تھا کہ اس نے اپنی زندگی میں کبھی خوبصورت لڑکیاں نہیں دیکھی تھیں ۔۔
دیکھی تھیں ایک سے بڑھ کر ایک دیکھی تھیں۔۔ مگر عائشے گل میں نجانے ایسی کیا خاص بات تھی کہ اس پر پہلی نظر ڈالتے ہی ھیشم کی پوری ہستی عائشے کے سامنے سرنگوں ہوگئی تھی ۔۔۔اب بھی اس نے آہستگی سے عائشے کا ہاتھ تھاما اور اسے لئے پوری شان سے گردن اٹھا اس کوٹھے کی دہلیز پار کر گیا۔۔ جبکہ عائشے کسی بے جان گڑیا کی طرح اس کے ساتھ گھسیٹتی ہوئی چلی جا رہی تھی۔۔۔ اور پیچھے کھڑے سبھی لوگ آنکھیں پھاڑے اور منہ کھولے ان دونوں کو جاتے دیکھ رہے تھے ۔۔۔






“عائشے اب تک گھر نہیں آئی اور ہماری اطلاع کے مطابق یونی کی چھٹی چار گھنٹے پہلے ہی ہو چکی ہے ۔۔۔”
نسرین بیگم نے زریاب خان کو حویلی میں داخل ہوتے دیکھ کر انھیں بتایا تھا ۔۔۔
“کیا مطلب ابھی نہیں آئی۔۔۔ ؟؟؟ کہا جا سکتی ہے وہ۔۔۔۔؟؟؟ ” زریاب خان یہ خبر سن کر بھڑک اٹھے تھے ۔۔۔
“میں کیا جانوں خان صاحب ۔۔۔ میں تو دلاور کو بھیج کر ہر جگہ پتا کروا چکی ہوں مگر آپ کی بھتیجی کا کہیں پتہ نہیں چلا کہ کہاں ہے وہ۔۔۔؟؟؟؟ ” نسرین بیگم نے منہ بناتے ہوئے کہا تھا ویسے بھی وہ لڑکی انھیں زہر لگتی تھی ۔۔ اس کی حد سے بڑھی خوبصورتی ان کی بیٹیوں کی راہ میں رکاوٹ تھی اسی لئے انھوں نے مجبوراً دل پر پتھر رکھتے ہوئے اسے اپنے بیٹے سے منسوب کر دیا تھا ۔۔ لیکن دل ہی دل میں وہ اس سے اب بھی بہت زیادہ خار کھاتی تھیں۔۔۔
“دلاور۔۔” زریاب خان نے گرجدار لہجے میں اپنے ڈرائیور کو پکارا تھا۔۔۔ اور وہ بھی بھاگتا ہوا فوراََ حاضر ہوا تھا کیونکہ تھوڑی سی بھی دیر کا نتیجہ وہ اچھے سے جانتا تھا ۔۔۔
“جی صاحب ۔۔”جھکے سر سے جواب آیا تھا ۔۔۔
“گاڑی نکالو ۔۔ابھی اسی وقت ۔۔” اتنا کہہ کر زریاب خان حویلی کے بیرونی دروازے کی جانب بڑھ گئے۔۔
دلاور نے فوراً گاڑی نکالی اور اب انکا رخ عائشے کی یونی کی جانب تھا۔۔۔
” کہاں جا سکتی ہے میری عاشو اسے تو راستوں کا بھی ٹھیک سے علم نہیں ہے ۔۔۔” اماں بیگم کے دل میں بھی طرح طرح کے خدشات جنم لینے لگے تھے ۔۔۔
“جانا کہاں ہے اماں بیگم ۔۔۔ ؟؟ منا رہی ہو گی رنگ رلیاں اپنے کسی عاشق کے ساتھ ۔۔۔ ہماری عزت کی تو اس منحوس کو ویسے بھی کوئی پرواہ نہیں ہے۔۔۔” نسرین بیگم نے حسب عادت زہر اگلا تھا۔۔۔
“ایسے الفاظ استعمال نا کرو میری بچی کے لئے بہوبیگم۔۔” اماں بیگم نے دکھی نظروں سے بہو کو دیکھا تھا۔۔۔ اپنے بیٹے بہو کے جانے کے بعد انھوں نے ہی تو اپنی یتیم پوتی کو اپنے بوڑھے ہاتھوں سے پال پوس کر بڑا کیا تھا۔۔۔ اسی لئے اس حویلی میں ایک وہی عائشے کی واحد خیر خواہ وہی تھیں ۔۔۔ باقی اور کسی کو وہ ایک آنکھ نہ بھاتی تھی ۔۔۔
“بس کر دیں اماں بیگم آپ کو تو اپنی پوتی ہمیشہ سے ہی دودھ کی دھلی لگتی ہے اب بھی چار گھنٹوں سے نجانے کہاں منہ کالا کرتی پھر رہی ہے ۔۔۔ اور آپ کتنی دیدہ دلیری سے اس کی سائیڈ لے رہی ہیں ۔۔۔ لیکن میں اچھی طرح جانتی ہوں کہ کتنے پانی میں ہے وہ منحوس ۔۔۔” نسرین بیگم بری طرح بھڑک گئی تھیں۔۔۔ آج ہی تو انہیں موقع ملا تھا جلے دل کے پھپھولے پھوڑنے کا۔۔۔ ورنہ اماں بیگم انھیں ہمیشہ چپ کروا دیتی تھیں۔۔ لیکن آج وہ چپ رہنے والی نہیں تھیں۔۔
“بہو بیگم ۔۔۔ کچھ خدا کا خوف کرو ۔۔۔ مت بھولو کہ اللّٰہ نے تمہیں بھی دو بیٹیاں دی ہیں۔۔۔ رب نا کرے کل کو ایسا کچھ ہو گیا ان کے ساتھ ۔۔۔تو پھر کیا کرو گی۔۔؟؟” اماں بیگم کے لہجے میں کپکپاہٹ واضح تھی ۔۔۔اور مسلسل آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے ۔۔۔۔ ان کی بے چین نظریں بار بار بیرونی دروازے کا طواف کر رہی تھیں۔۔ لیکن عائشے کو نا آنا تھا اور نا ہی وہ آئی ۔۔۔
“یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں اماں بیگم ۔۔؟؟ میری بیٹیوں کو اس منحوس سے ملا رہی ہیں۔۔ ؟؟؟ مت بھولیں اس منحوس کے سوا میری بیٹیاں بھی آپ کی پوتیاں ہیں۔۔۔ اور رہی بات اس جیسا ہونے کی تو مجھے اپنی تربیت پر پورا یقین ہے ۔۔۔۔ میری بیٹیاں کبھی ایسا کر ہی نہیں سکتیں۔۔۔ ” اس سے پہلے اماں بیگم کچھ کہتیں نسرین بیگم تن فن کرتی وہاں سے چلی گئی تھیں ۔۔۔
شام ہونے کو آئی تھی لیکن اب تک زریاب خان کا کچھ اتا پتا نہیں تھا۔۔۔۔اماں بیگم جائے نماز پر بیٹھیں گڑگڑا کر اللّٰہ سے عائشے کی سلامتی کی دعائیں مانگ رہیں تھیں ۔۔۔تب ہی زریاب خان حویلی میں داخل ہوئے ۔۔۔ان کو دیکھتے ہی اماں بیگم بے قراری سے ان کی جانب بڑھی تھیں ۔۔۔۔
“کہاں ہیں میری بچی زریاب خان ۔۔۔؟؟ تو لے کر نہیں آیا اسے۔۔؟؟” اماں بیگم نے ذہین میں آنے والے منفی خیالات کو جھٹکتے ہوئے پوچھا۔۔۔
“کہیں نہیں ملی وہ لڑکی ۔۔۔ پورے شہر کا چپہ چپہ چھان مارا ہے میں نے اماں بیگم ۔۔۔ دھبہ لگا دیا آج اس لڑکی نے ہمارے نام پر۔۔ کیا عزت رہ جائے گی ہماری گاؤں میں جب پتا چلے گا سب کو کہ زریاب خان کی بھتیجی بھاگ گئی ہے ۔۔؟؟؟؟ لوگ تھو تھو کریں گے ہمارے نام پر ۔۔۔” زریاب خان کا غصہ ساتویں آسمان پر تھا۔۔۔ غصے کی وجہ سے ان کی آنکھیں سرخ ہو چکی تھیں ۔۔ان کا بس چلتا تو ابھی اسی وقت کہیں سے اسے ڈھونڈ نکالتے اور اپنی بندوق کی ساری گولیاں اس لڑکی کے سینے میں اتار دیتے ۔۔۔
“ایسا کیسے ہو سکتا ہے میری عاشو کہاں جاسکتی ہے۔۔ ؟؟؟ نا جانے کس حال میں ہو گی وہ۔۔ ؟؟؟ رب خیر کرے۔۔۔ کچھ غلط نا ہو گیا ہو میری بچی کے ساتھ ۔۔؟؟؟؟ ” اماں بیگم کی بوڑھی آنکھیں برسنے لگی تھیں۔۔۔
“وہ جہاں کہیں بھی ہو اماں بیگم ۔۔۔ بس اب یہ دعا کریں کہ آج کے بعد وہ کبھی میرے سامنے نہ آئے ۔۔ ورنہ اس کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے کتوں کو کھلانے میں دیر نہیں کروں گا میں ۔۔ آج کے بعد کوئی اس کا نام تک نہیں لے گا اس حویلی میں ۔۔۔ مر چکی ہے وہ ہمارے لئے ۔۔۔۔” زریاب خان نے غصے سے دھاڑتے ہوئے کہا۔۔۔ اور پھر لمبے لمبے قدم اٹھاتے وہاں سے نکلتے چلے گئے جنکہ اماں بیگم کے وجود سے تو مانو جان ہی نکل گئی تھی وہ خاموشی سے دوپٹے کے پلو سے اپنے آنسو صاف اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئیں۔۔۔
“یا اللّٰہ یہ کیسی آزمائش میں ڈال دیا تو نے ہمیں ۔۔؟؟ناجانے کس حال میں ہوگی میری عائشے ۔۔۔ میرے رب تو اس کی حفاظت فرمانا اس کی حفاظت کرنا میرے مالک ۔۔” اماں بیگم دل ہی دل میں دعا کرتی کمرے میں آئی تھیں اور ایک مرتبہ پھر سے رو پڑیں ۔۔







وہ شیشے کے سامنے کهڑی اپنے پنکھڑیوں جیسے ہونٹوں کو لپ اسٹک کا آخری ٹچ دے رہی تهی کہ جب اسکی نظر پیچهے بیڈ پر بیٹهے حازم پر گئ ۔۔۔۔جو ٹکٹکی ی باندهے اسی پر نظریں جمائے بیٹھا تھا
۔۔۔۔ایسے کیا دیکھ رہے ہو؟؟؟؟روحی جانتی اب وہ ضرور اس کی تیار پرکوئی نہ کوئی کمپلیمنٹ ضرور پاس کرنے والا ہے لیکن اس
کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب اس نے حازم کے منہ سے اپنے لیے تعریفی کلمات سنے تھے اسے اپنی سماعت پر شک ہوا تھا ۔۔۔۔۔
“یار روحی ویسے لگتی تو تم ایک ملکہ لگتی ہو۔۔۔۔”حازم نے لہجے میں شیریں گهول کر کہا۔۔۔۔
“سچ میں؟؟؟؟روحی نے اپنی بڑی بڑی سحرانگیز آنکھیں حازم کی جانب مبذول کر کے حیرت سے پوچها….اسوقت وہ کسی باربی ڈول سے کم نہیں لگ رہی تھی ۔۔۔۔۔سب سے زیادہ لوگوں کو جوچیز اس میں اٹریکٹ کرتی تھی وہ تھے اس کے آبشاروں جیسے لمبے بال اسے کہاں امید تهی کہ اسکا بهائ جو ہر وقت اسکا مذاق اڑاتا رہتا ہے وہ اسکی تعریف بهی کر سکتا ہے….
“ہاں سچ میں تم کوہ قاف کی ملکہ لگ رہی ہو۔۔۔۔کہتے ساتھ ہی حازم کا چهت پهاڑ قہقہہ کمرے میں گونجا تھا۔۔۔
روحی نے پہلے غور سے اسکی بات سنی ۔۔۔پهر سمجھ آنے پر ہاتھ میں پکڑی پرفیوم کی بوتل غصے سے حازم کیطرف پهینکی تھی جو اپنی ہی بات پر ابهی بهی پاگلوں کی طرح ہنسے جارہا تھا ۔۔۔
” اتنا شور کیوں کر رکھا ہے بھئی ؟؟؟”
زیان جو کمرے کے باہر سے گزر رہا تها ۔۔۔شور کی آواز سن کر کمرےمیں آیا تھا ۔۔۔۔
“بهائ یہ مجھے جنوں کی ملکہ بول رہا ہے ۔۔”روحی نے
زیان کو کمرےمیں آتا دیکھ کر روز کا دکھ سنایا تھا ۔۔۔۔
“تو یار تم جنوں کو چهوڑو اور ملکہ پر فوکس کرو۔۔۔۔”روحی کو تسلی دےکر وہ حازم کی جانب متوجہ ہوا تھا۔۔
” ویسے حازم حد ہوتی ہے بدتمیزی کی اگر تمهیں ملکہ بنانا ہی تها تو چڑیلوں کی بناتے اب ہماری پیاری روحی جنوں میں تو گزارا نہیں کر سکتی نا ۔۔کیونکہ یہ خود بهی تو ایک چڑیل ہے۔۔۔ایسے ہی کوئی جن اس پر مر مٹا تو ۔۔؟؟اب کمرے میں دونوں کے قہقے ایک ساتھ گونجے اور روحی نے اپنا ماتها پیٹا کہ فریاد سنائ بهی تو کسے۔۔۔روحی کی شکل دیکھنے والی تھی ایسا لگتا تھا ابھی رو دے گی ۔۔۔پھر اس نے خفا نظروں سے ذیان کی طرف دیکھا تھا ۔۔۔
“اچھا بس۔۔۔اب کوئی میری پیاری گڑیا کو تنگ نہیں کرے گا ۔۔۔”ذیان نے دلارے انداز میں اس ننھی سی روحی کی سائیڈ لی تھی ۔۔۔
“بس بھائی میں نے دیکھ لیا کہ آپ مجھ سے پیار نہیں کرتے آپ بھی اس بندر کی سائیڈ لیتے ہیں ۔۔۔”روحی نے منہ پھلا کر پورے جہاں کی معصومیت چہرے پر سجائے حازم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ۔۔۔۔
“او چوہیا بندر کسے کہا۔۔؟؟”حازم نے بھی چپ رہنا کہاں سیکھا تھا فوراً سکتے کی حالت میں بولا تھا۔۔۔
“تمہیں بولا ہے ۔۔۔۔جب ہو ہی بندر تو بندر ہی بولنا ہے اور آنے دو ذرا ھیشم بھائی کو بتاؤں گی کیسے آج کالج میں رباب کے پیچھے مارے مارے پھر رہے تھے ۔۔۔۔”روحی نے اس کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھا تھا اور وہ جانتا تھا کہ اگر اس بارے میں ھیشم بھائی کو پتا چل گیا تو ۔۔۔۔اس سے آگے سوچنے سے ہی اس نے جھرجھری لی تھی ۔۔۔۔
“ک۔۔ک۔کو۔۔کون رباب؟؟؟”حازم نے انجان بننے کی ناکام کوشش کی تھی ۔۔۔۔ذیان تو کھڑا بس ان دونوں کی باتیں سن رہا تھا اور روحی کے منہ سے یہ سب سن کر اسے جھٹکا لگا تھا۔۔۔۔اس سے پہلے کہ روحی کچھ بولتی اس کے کانوں سے ھیشم کی گاڑی کے ٹائر چرچرانے کی آواز ٹکرائی تھی ۔۔۔
“یہ تو ھیشم بھائی تمہیں بتائیں گے حازم کے بچے کہ رباب ہے کون۔۔؟؟”حازم کو دھمکاتے وہ پہلی فرصت میں کمرے سے باہر بھاگی تھی ۔۔۔۔اور حازم کو لگا کہ آج تو اس کی عزت کا جنازہ نکلوا کر رہے گی یہ روحی کی بچی ۔۔۔تب ہی وہ اسے روکنے کے لئے اس کے۔پیچھے بھاگا تھا۔۔۔۔
“روحی۔۔رکو یار میری بات تو سنو۔۔۔۔یار ایسا مت کرو ۔۔میں تو مذاق کر رہا تھا ۔۔۔تم تو بالکل پری لگ رہی تھی ۔۔۔۔”اس نے بٹرنگ کرنے کی بھرپور کوشش کی تھی لیکن وہ روحی ہی کیا جو موقع ہاتھ سے جانے دے۔۔۔۔
“آج تو تمہاری خیر نہیں ھیشم بھائی کو بھی تو پتا چلے تم کالج میں کیسے لڑکیوں کے دم چھلے بنے گھومتے ہو۔۔۔۔”روحی نے مڑ کر اسے منہ چڑھاتے ہوئے کہا۔۔۔۔
“اب تو تو گئی روحی کی بچی ۔۔۔تمہیں تو میں چھوڑوں گا نہیں ۔۔۔۔”حازم نے بھاگ کر اس کی ننھی سی ناک کو زور سے کھینچا تھا۔۔۔
“ائییییییی۔۔۔۔حازم بندر کہیں کے کر دی نہ بندروں والی حرکت ۔۔۔۔”روحی کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے تھے نازک سی تو تھی وہ لاڈوں میں پلی تھی کہاں عادت تھی اسے ذرا سی بھی تکلیف سہنے کی۔۔۔مگر اسے اپنے پسندیدہ لقب سے پکارنا نہیں بھولی تھی ۔۔۔۔لیکن دوسری طرف سے مکمل خاموشی پا کر اسے اپنی سماعت پر شک ہوا تھا کہیں وہ بہری تو نہیں ہوگئی ۔۔۔لیکن جب اس نے آنکھیں کھول کر ان دونوں کی نظروں کے تعاقب میں دیکھا تو اسے بھی سو والٹ کا جھٹکا لگا تھا اور وہ تینوں ساکت کھڑے آنے والی شخصیت کو آنکھیں پھاڑے دیکھ رہے تھے ۔۔۔۔۔جبکہ ھیشم کے چہرے پر ان کے اس۔طرح دیکھنے پر ناپسندیدگی کے تاثرات واضح تھے ۔۔۔۔
“السلام علیکم ۔۔۔۔”ھیشم خان کی شخصیت کا خاصہ یہ بھی تھا کہ وہ جب بھی باہر سے آتا سلام ضرور کرتا تھا ۔۔۔لیکن ان لوگوں پر تو سکتہ طاری ہو چکا تھا تو جواب کون دیتا ان کی نظریں تو ھیشم خان کے ساتھ کھڑی اس پری پیکر پر اٹکی ہوئی تھیں جو اب بھی عروسی لباس میں موجود دلہن بنی کھڑی تھی ۔۔۔
