Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tere Ishq Sy Meri Zaat Tak (Episode 20)

Tere Ishq Sy Meri Zaat Tak by Ayesha Mughal

واز آنے والے کے کندھے سے ٹکرایا تھا ورنہ شیشے کا واز اب تک اندر آنے والے دانیال کا سر کھول چکا ہوتا۔۔۔واز زمین پر بکھرا پڑا اپنے ساتھ ہوئی اس ذیادتی پر ماتم کناں تھا۔۔۔اور دانیال اب اپنا کندھا پکڑے کھڑا درد سے کراہ رہا تھا۔۔۔۔جبکہ رحاب انگلی دانتوں میں دبائے شاکڈ سی دانیال کو دیکھ رہی تھی کہ ناجانے اب وہ کیا کرے گااس کے ساتھ۔۔۔۔حازم جلدی سےدانیال کی طرف بڑھا تھا۔۔۔

“سوری ۔۔۔۔غلطی سے لگ گیا آپ کو۔۔ذیادہ چوٹ تو نہیں لگی آپکو ۔۔؟؟”حازم نے شرمندگی سے کہا۔۔۔۔

“نہیں ۔۔۔کوئی ضرورت نہیں ہےآپکو سوری کرنے کی۔۔۔اٹس اوکے ۔۔آئی ایم فائن۔۔سوری تو انہیں کرنا چاہیے جنہوں نے اتنا عظیم کارنامہ سر انجام دیا ہے۔۔۔۔”دانیال نے روحی کی طرف ایک نظر دیکھ کر معنی خیزی سے کہا۔۔۔۔

“یہ ۔۔۔آپ اس چڑیل کی بات کر رہے ہیں ۔۔۔یہ ایسے ہی نمونے کام کرتی ہے۔۔۔اور اپنی غلطی تو یہ مانے گی نہیں تو سوری کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔۔۔لیکن میں اس کی طرف سے آپ سے معافی مانگتا ہوں۔۔۔۔”حازم نے مسکراہٹ دباتے ہوئے شرارت سے کہا۔۔۔

“او بھوت نگری کے مہاراجہ مجھے تمہارا کوئی احسان نہیں چاہئیے ۔۔۔اور ویسے بھی غلطی تمہاری تھی تمہیں سامنے سے نہیں ہٹنا چائہیے تھا۔۔۔۔”رحاب نے تڑخ کر کہا۔۔جبکہ دانیال تو بس اپنی پوری توجہ رحاب پر مرکوز کیے اسے دیکھنے میں مصروف تھا۔۔۔اسے یہ پیاری سی لڑکی بہت اچھی لگی تھی۔۔۔اس کے چہرے سے معصومیت جھلک رہی تھی جبکہ چہرہ میک اپ سے بلکل عاری تھا وہ اس سادہ سے حلیے میں بھی دانیال کو بہت خاص لگی تھی۔۔

“او ہیلو مسٹر ایکس وائی زیڈ۔۔۔۔میں آپ کو سوری ہر گز نہیں بولوں گی کیونکہ مجھے کوئی الہام نہیں ہوا تھا کہ آپ آنے والے ہیں ۔۔۔غلطی آپ کی ہے آپ غلط وقت پر کیوں آئے تھے۔۔۔انڈر اسٹینڈ۔۔۔۔؟؟”دانیال جو گم صم سا اسے ہی دیکھ رہا تھا اس کی آواز پر چونکا تھا۔۔۔

“رئیلی۔۔۔ویسے شاید آپ واقعی ٹھیک کہہ رہی ہیں۔۔۔”دانیال نے دھیمے لہجے میں کہا۔۔جبکہ حازم پریشان سا کھڑا روحی کو دیکھ رہا تھا۔۔۔۔

“روحی پاگل ہو گئ ہو کیا ۔۔۔؟؟پہلے ان سے یہ تو پوچھنے دو کہ یہ ہیں کون ۔۔۔؟؟بس تمہیں تو پٹر پٹر بولنا ہے بھلے سامنے کوئی بھی ہو۔۔۔۔کسی کا تو لحاظ کر لیا کرو کم از کم۔۔”رحاب نے ابھی بولنے کے لئے منہ کھولا ہی تھا جب حازم نے اسے ٹوکا۔۔۔اور اس کے یوں ٹوکنے پر روحی شرمندہ ہوئی تھی۔۔اس سے پہلے کہ اس کی آنکھوں سے آنسو باہر نکلتے وہ غصے سے حازم کو دیکھتی دانیال پر ایک شکوہ کناں نظر ڈالتی گال پھلاتی وہاں سے نکلتی چلی گئ۔۔دانیال کی نظروں نے دور تک اس کا تعاقب کیا تھا۔۔۔ وہ اس کی آنکھوں میں ٹھہری نمی دیکھ چکا تھا تب ہی حازم سے گویا ہوا۔۔۔

“اٹس اوکے حازم ۔۔۔تم نے اسے ایسے ہی ڈانٹ دیا۔۔۔۔”جبکہ حازم اس کے اسے حازم کہہ کر پکارنے پر حیران ہوا تھا کیونکہ وہ تو آج تک دانیال سے ملا ہی نہیں تھا تو وہ اسے کیسے جانتا تھا ۔۔۔؟؟یہ بات حازم کی سمجھ سے بالاتر تھی۔۔۔اس کی آنکھوں میں حیرانگی دیکھ کر دانیال سمجھ چکا تھا کہ وہ کیوں ایسا ری ایکٹ کر رہا ہے۔۔۔۔

“اوہ سوری۔۔میں اپنا انٹروڈکشن کروانا تو بھول ہی گیا۔۔۔سو۔۔۔آئی ایم دانیال لغاری۔۔۔ذیان کا کلاس میٹ پلس فرینڈ۔۔۔”دانیال نے جلدی سے اپنا تعارف کروایا۔۔۔

“لیکن ذیان نے تو کبھی نہیں بتایا آپ کے بارے میں۔۔۔”حازم نے اچنبھے سےکہا۔۔۔

“ہو سکتا ہے نہ بتایا ہو اور ویسے بھی ہماری دوستی ابھی ہی کچھ ٹائم پہلے ہوئی تھی۔۔۔”دانیال جلدی سے بولا۔۔۔

“اوہ اچھا۔۔۔آپ ذیان سے ملنے آئے ہیں لیکن وہ تو ابھی گھر پر نہیں ہے ۔۔۔وہ جاب کے سلسلے میں آوٹ آف کنٹری گیا ہوا ہے۔۔۔”حازم نے تاسف سے کہا۔۔۔

“آئی نو حازم۔۔وہ کہیں بھی آؤٹ آف کنٹری نہیں نہیں گیا بلکہ وہ اب بھی پاکستان میں ہی ہے۔۔۔”دانیال کا لہجہ اب بھی دھیما تھا۔۔۔اس کی بات پر حازم نے ناسمجھی سے اس کی طرف دیکھا تھا۔۔۔۔

“کیا ہم بیٹھ کر بات کر سکتے ہیں۔۔؟؟'”اسکی بات پر حازم شرمندہ ہوا تھا ان سب چکروں میں وہ اسے اندر بلانا تو بھول ہی گیا تھا۔۔۔

“شیور آئیے میرے ساتھ۔۔۔”حازم اسے ساتھ لئے ڈرائنگ روم کی جانب بڑھ گیا۔۔۔۔

“تھینکس ۔۔۔”دانیال نے مشکور لہجے میں کہا۔۔

“جی کیاکہہ رہے تھے آپ ۔۔؟؟”ڈرائنگ روم میں پہنچ کر صوفے پر بر اجمان ہوتے ہوئے حازم نے بے چینی سے پوچھا۔۔۔اور پھر دانیال ایک ایک کرکے اسے سب بتا تا چلا گیا۔۔

“میرا تمہیں یہ سب بتانے کا مقصد صرف اتنا ہے کہ میں چاہتا ہوں کہ تم اسے روکو ایسا کرنے سے۔۔ اگر اس نے زویا سے شادی کر ہی لی ہے تو اسے اپنی بیوی ہونے کے سارے حق دے بلکہ اسے پوری عزت کے ساتھ اپنے ساتھ اس گھر میں رکھے۔۔۔یہ سب جو وہ کر رہا ہے یہ بہت غلط ہے۔۔۔وہ اس کی محبت پر یقین کر چکی ہے تو اسطرح کسی کو محبت کا یقین دلا کر دھوکا دینا سراسر گناہ ہے۔۔۔۔”دانیال نے پوری بات ختم کرتے ہوئے اپنا مقصد بیان کیا۔۔۔۔جبکہ حازم تو اس کی باتیں سن کر اب بھی ساکت بیٹھا بے یقین نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔

“ایسا کیسے کر سکتا ہے ذیان ۔۔۔اسے کوئی حق نہیں ہے کسی کے جذبات سے اس طرح کھیلنے کا ۔۔۔میں اسے سمجھاؤں گا اور مجھے پورا یقین ہے کہ وہ میری بات ضرور مانے گا۔۔۔کیا آپ مجھے وہاں لے کر جا سکتے ہیں؟؟”حازم نے فکرمند لہجے میں استفسار کیا۔۔

“ہاں ضرور لیکن ہمیں ابھی نکلنا ہوگا۔۔۔یہ نہ ہو کہ ہمیں دیر ہوجائے۔۔۔۔”دانیال نے صوفے سے کھڑے ہوتے ہوئے کہا۔۔

“اوکے چلئے ۔۔میں بس بھابھی کو انفارم کر دوں۔۔۔”حازم نے گھر کے اندرونی حصے کی طرف بڑھتے ہوئے کہا۔۔۔

“ڈن ۔۔۔میں باہر گاڑی میں تمہارا ویٹ کررہا ہوں۔۔۔۔”دانیال نے باہر کی جانب قدم بڑھائے تھے اور اپنی گاڑی کا لاک کھولتے ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے حازم کا انتظار کرنے لگا ۔۔۔کچھ ہی دیر میں حازم آچکا تھا ۔۔دانیال نے اس کے بیٹھتے ہی گاڑی شہر جانے والی سڑک پر ڈال دی ۔۔۔

🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹

اتنی خوبصورت رات کے بعد صبح کا سورج اس کے لئے اتنا بڑا طوفان لاسکتا ہے یہ تو اس نے سوچا بھی نہیں تھا سورج کی کرنیں چہرے پر پڑتے ہی اس نے کسمسا کر آنکھیں کھولی تھیں۔۔پہلے تو وہ انجانی نظروں سے پورے کمرے کو دیکھتی رہی پھر جیسے اچانک اسے سب یاد آگیا ۔۔کل کا دن اس کے لئے کسی خوبصورت خواب سے کم نہیں تھا ایک ایک کر کے سب کچھ اس کے ذہن میں گھومنےلگا۔۔زویا کل کے ذیان کے محبت بھرے رویے کے بارے میں سوچ رہی تھی کہ اس کے لبوں پر شرمیلی سی مسکان دوڑ گئ۔۔۔۔اور پھر اچانک کچھ یاد آنے پر اس نے گردن موڑ کر بیڈ کے دوسری جانب دیکھا تھا۔۔۔ جو اب خالی پڑی تھی۔۔ذیان پہلے ہی اٹھ چکا تھا یہ سوچ کر اسے اپنے اتنی دیر سونے پر شرمندگی نے آگھیرا۔۔۔۔لیکن پورے کمرا اس وقت خالی تھا۔۔اسے ذیان کہیں نظر نہیں آیا تو وہ جوتی پاؤں میں اڑستی بیڈ سے اٹھ کھڑی ہوئی اور واشروم کی طرف بڑھ گئ کہ شاید ذیان واشروم میں ہو لیکن جب اس نے واشروم کا دروازہ بجایا تو وہ اپنے آپ کھلتا چلا گیا ذیان واشروم میں بھی نہیں تھا۔۔۔ اب وہ پورا گھر چیک کر چکی تھی لیکن ذیان کہیں نہیں تھا جب وہ اسے فون کرنے کا سوچ کر واپس روم میں چلی آئی ۔اسے اب طرح طرح کے وسوسوں نے آگھیرا لیکن وہ سب خیالوں کو ذہن سے جھٹکتی ذیان کو کال کرنے لگی۔۔ابھی اس نے ذیان کا نمبر نکالا ہی تھا جب اسکرین پر بلنک ہوتا ذیان کالنگ دیکھ کر اس کی جان میں جان آئی تھی ۔۔۔کال ریسیو کرتے ہی اس نے موبائل کان سے لگایا تھا۔تھا۔۔۔اور فورا بولنے لگی۔۔۔

“ذیان کہاں چلے گئے تم۔۔۔کم ازکم بتا کر تو جاتے جہاں بھی جانا تھا۔۔کتنا ڈر گئی تھی میں۔۔۔مجھے تو یہاں کا ٹھیک سے اتا پتا بھی نہیں ہے۔۔۔ جانتے ہو آنکھ کھلتے ہی تمہیں نہ پاکر کیسے پاگلوں کی طرح ڈھونڈ رہی تھی میں۔۔کب تک آؤ گے واپس۔۔۔؟؟”زویا ایک ہی سانس میں سب بولتی چلی گئ جبکہ دوسری طرف سے فلک شگاف قہقہ بلند ہوا تھا۔۔۔زویا نے موبائل کان سے ہٹا کر ایک طائرانہ نظر اس پر ڈالتے دوبارہ کان سے لگایا تھا اسے ذیان کی ذہنی حالت پر شک ہوا تھا۔۔۔

“میں کبھی واپس نہیں آؤں گا۔۔۔”ذیان نے قہقہ لگاتے ہوئے کہا۔۔۔

“کیوں مذاق کر رہے ہو صبح صبح۔۔۔پلیز جلدی آجاؤ مجھے ڈر لگ رہا ہے اکیلے پورے گھر میں۔۔۔۔”زویا نے اس کی بات کو ٹالتے ہوئے کہا۔۔۔

“یہ سب مذاق نہیں ہے زویا خان میں سچ کہہ رہا ہوں ۔۔۔میں اب کبھی لوٹ کر نہیں آؤں گا۔۔۔تمہیں کیا لگا کہ تم میری زندگی برباد کر کے رکھ دو گی اور میں تمہیں معاف کردونگا۔۔۔نہیں جانم یہ سب میں نے صرف تم سے بدلہ لینے کے لیے کیا ہے۔۔۔تم نے ایسا سوچ بھی کیسے لیا کہ ذیان اسماعیل خان تمہیں ایسے ہی چھوڑ دے گا تم نے میرے کیریکٹر کو سب کی نظروں میں سوالیہ نشان بنا کر رکھ دیا۔۔۔تمہاری وجہ سے میرے بھائی نے مجھ پر یقین نہیں کیا۔۔۔تمہاری وجہ سے میری ایجوکیشنل لائف تباہ ہوکر رہ گئی۔۔۔۔اور تمہیں لگا میں تمہیں ایسے ہی چھوڑ دوں گا۔۔۔۔؟؟”ذیان نے نفرت سے کہا۔۔۔اس کی بات پر زویا کو آسمان اپنے سر پر گرتا ہوا محسوس ہوا تھا۔۔۔

“تو وہ سب جو کل رات تم نے مجھ سے محبت کے دعوے کیئے۔۔۔؟؟”زویانے بمشکل اپنے حلق سے آواز نکالتے ہوئے پوچھا۔۔۔۔

“وہ سب ایک جھوٹ تھا۔۔دھوکا تھا۔۔۔ڈرامہ تھا۔۔۔میں نے زہر بھی صرف اس لئے پیا تھا تاکہ تمہیں مجھ پر تھوڑا سا بھی شک نہ ہو۔۔میں جانتا تھا تم مجھے مرنے نہیں دوگی۔۔۔تو بس اپنی جھوٹی محبت کو سچا ثابت کرنے کے لئے میں نے یہ سب کیا۔۔میں چاہتا تھا تم پوری زندگی میرے نام پر بیٹھی رہو۔۔میں چاہتا تو تمہیں طلاق بھی دے سکتا تھا لیکن میں ایسی بیوقوفی کیوں کرتا بھلا۔۔۔اب تم پوری زندگی میرا انتظار کرتی رہو۔۔۔اور میں کبھی لوٹ کر نہیں آؤں گا۔۔۔۔۔”ذیان نے سر شار لہجے میں کہا ۔۔وہ خوش تھا بہت خوش۔۔ آج تو اس کی فتح کا دن تھا وہ آج کامیاب ہوچکا تھا ایک حوا کی بیٹی کی زندگی تباہ کرنے میں۔۔۔۔زویا کو اپنا سانس رکتا ہوا محسوس ہورہا تھا۔۔۔۔اس کی آنکھوں سے آنسوؤں بہنے لگے تھے۔۔۔۔

“تم نے یہ سب کیوں کیا ذیان ۔۔۔۔؟؟میری روح تو پہلے ہی محبت کے لئے ترسی ہوئی تھی۔۔۔کیوں تم نے محبت سے ہی مارنے کا انتخاب کیا ۔۔؟؟اگر تم مجھ سے اتنی ہی نفرت کرتے تھے تو ویسے ہی جان سے مار دیا ہوتا لیکن اس طرح محبت کا سہارا تو نہ لیتے ۔۔۔تم نے میری روح کو زخمی کر کے رکھ دیا ہے میرے اعتبار کی دھجیاں اڑا کر رکھ دیں کیوں ذیان کیوں۔۔۔۔؟؟”زویا نے چلاتے ہوئے پوچھا۔۔۔۔

“کیونکہ تم اسی قابل تھی۔۔میں تمہیں ایسی تکلیف دینا چاہتا تھا کہ تمہیں خود ہی اپنی زندگی سے نفرت ہوجائے۔۔تم پل پل مرو۔۔۔تم خود اپنے لئے موت مانگو۔۔۔۔اب پتا چلا کہ تکلیف کیا ہوتی ہے۔۔؟؟یہ اسی درد کا بدلہ ہے جو تم نے مجھے دیا تھا۔۔۔۔”ذیان نے بے لچک لہجے میں کہا۔۔۔۔

“پلیز ذیان لوٹ آؤ نا۔۔۔ تم جو بولو گے میں وہ کروں گی۔۔۔پر پلیز یوں مجھے چھوڑ کر تو مت جاؤ نا ۔۔۔میں اس انجان جگہ پر کہاں جاؤں گی۔۔؟؟تمہیں نفرت کرنی ہے نا مجھ سے ٹھیک ہے تم جتنی چاہے نفرت کر لینا مجھ سے۔۔۔لیکن پلیز لوٹ آؤ۔۔۔اس طرح میں کیسے جیوں گی۔۔؟؟تم اتنے سنگدل کیسے ہو سکتے ہو ذیان۔۔۔۔؟؟”ملتجی لہجے میں کہتے ہوئے وہ زور سے چلائی تھی۔۔۔اس کا دل کر رہا تھا سب کچھ تہس نہس کر دے ۔۔وہ انسان جس نے کل رات ہی اسے اپنا ہونے کا یقین دلایا تھا اور آج کیسے اس کی دنیا ہلا کر چلا گیا تھا۔۔۔۔

“ایسا کبھی نہیں ہوگا زویا میں کبھی نہیں آؤں گا واپس ۔۔۔گڈ بائے ۔۔۔”ذیان نے قہقہ لگاتے ہوئے کہا زویا کا اس طرح رونا چلانا اسے سکون دے رہا تھا۔۔۔۔

“ذیان پلیز ایسا مت کرو ۔۔ذیا۔۔۔”اس سے پہلے کہ وہ آگے کچھ کہتی دوسری طرف سے لائن ڈسکنکٹ کی جاچکی تھی۔۔۔اس کے کال کاٹتے ہی زویا نے فون زور سے دیوار پر مارا تھا اور زور سے چلائی تھی۔۔۔۔

“ذیان۔۔۔۔۔”اس کا دل کر رہا تھا چیخ چیخ کر روئے ۔۔۔۔اس نے سائیڈ ٹیبل پر پڑا لیمپ زور سے اٹھا کر پوری قوت سے سامنے لگے شیشے پر مارا تھا جسکی وجہ سے شیشہ کرچی کرچی ہو کر زمین پر گرا تھا ۔۔۔ڈریسنگ ٹیبل پر پڑیں تمام چیزیں اس نے ایک ہاتھ مار کر سب نیچے پھینکی تھیں ۔۔۔۔اور اب خود زمین پر بیٹھی زور زور سے رو رہی تھی کون کہہ سکتا تھا یہ ایک دن کی دلہن ہے۔۔۔۔اسے لگ رہا تھا کمرے میں موجود ہر چیز اس پر ہنس رہی ہے۔۔۔

“کیا ہوا زویا اب کیوں رو رہی ہو ۔۔۔؟؟آج پتا چلا تمہیں درد کیا ہوتا ہے۔۔۔۔؟؟؟”اسے اپنے عقب سے آواز آئی تھی لیکن جب اس نے مڑ کر دیکھا تو وہاں ذیان کھڑا اس پر ہنس رہا تھا وہ جلدی سے اٹھ کر اس کی جانب بڑھی تھی لیکن ذیان ہوتا تو پھر تھا نا وہ تو اس کا عکس تھا جو اگلے ہی لمحے غائب ہو چکا تھا۔۔۔وہ اس وقت بے بسی کی انتہا پر تھی۔۔۔۔وہ تو اپنے ارمانوں کا خون ہونے پر رو رہی تھی۔۔۔ماتم منا رہی تھی۔۔۔وہ جو ابھی ٹھیک سے بسی بھی نہ تھی پہلی ہی لٹ چکی تھی ۔۔اس کا دل خون کے آنسو رو رہا تھا۔۔وہ دھاڑیں مار مار کر رو رہی تھی لیکن وہاں اس کی سننے والا کوئی نہ تھا۔۔۔

“تم نے میری زندگی کو برباد کر کے رکھ دیا ذیان ۔۔۔اب میں کہاں جاؤں گی کیا کروں گی۔۔میں نے تو تم سے معافی بھی مانگی تھی ذیان ۔۔۔۔اپنے گناہوں پر شرمندہ ہوکر معافی مانگنے سے تو رب بھی معاف کر دیتا ہے ذیان پھر تم اس کے بندے ہوتے ہوئے کیوں معاف نہ کر سکے ذیان۔۔؟؟کیوں اتنے سنگدل ہو گئے۔۔۔؟؟کیوں مجھے محبت سے نفرت کرنے پر مجبور کردیا۔۔۔؟؟نکاح جیسے پاکیزہ رشتے کا مذاق بنا کر رکھ دیا تم نے۔۔۔۔میں تمہیں کبھی معاف نہیں کرونگی۔۔۔”رب کرے اب تمہیں زندگی میں ایک پل چین نصیب نہ ہو۔۔۔تمہارا ضمیر تمہیں کچوکے لگاتا رہے۔۔۔تم نے میرا چین چھینا ہے نا۔۔۔ رب کرے تم بھی سکون کے لئے ترس جاؤ۔۔۔میں تمہیں کبھی معاف نہیں کرونگی۔۔۔ کبھی نہیں۔۔۔۔۔”وہ زور سے چلائی تھی۔۔۔تم نے زویا کو توڑنا چاہا تھا ایسا کبھی نہیں ہو سکتا زویا ایک مضبوط لڑکی ہے وہ کبھی نہیں ٹوٹ سکتی ۔۔۔۔” اسنے خود کو دلاسہ دیا تھا۔۔۔تم مجھے چھوڑ کر گئے ہونا میرا دل کہتا ہے تم ایک دن ضرور لوٹو گے اور اس دن کا میں شدت سے انتظار کرونگی اور اس دن میں تم سے ہر ذیادتی کا حساب لوں گی۔۔۔۔۔اس نے بے دردی سے اپنے آنسو پونچھے تھے لیکن آنسو تھے کہ تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے شاید اب یہ آنسو اس کا مقدر بن چکے تھے۔۔۔اس دن زویا چیخ چیخ کر روئی تھی۔۔۔۔اور اس کمرے کے درودیوار اور ہر چیز اس کے آنسوؤں کی گواہ بن گئی تھی۔۔۔وہ خود کو ہی تسلیاں دیتی اور خود ہی رونے لگ جاتی۔۔۔۔

“سنو ایسا نہیں کرتے۔۔۔۔”

“کہ ہم جیسے لوگوں سے الجھا نہیں کرتے۔۔”

” جس سے محبت ہواسکودنیا میں۔۔”

“یوں رسوا کیا نہیں کرتے۔۔۔”

“جو نہ نبھا سکے وعدہ اس سے۔۔۔”

“شکوہ کیا نہیں کرتے۔۔”

“لفظوں سے کسی اپنے کا دل۔۔۔”

“دکھایا نہیں کرتے۔۔”

“محبت میں کسی کو یوں۔۔۔”

“آزمایا نہیں کرتے۔۔۔”

“جو آپ کو دے پیار میں زخم۔۔”

“اس سے کبھی بدلہ لیا نہیں کرتے۔۔”

“محبت میں کسی سے۔۔۔”

“مقابلہ کیا نہیں کرتے۔۔”

“سنو۔۔۔ایسا نہیں کرتے۔۔۔”

“کہ ہم جیسے لوگوں سے۔۔۔”

“الجھا نہیں کرتے ۔۔۔”

🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹

دانیال اور حازم اپنی منزل پر پہنچ چکے تھے ۔۔۔کافی دیر دروازہ بجانے کے بعد بھی جب دروازہ نہیں کھولا گیا تو وہ دروازے کا لاک توڑ کر اندر داخل ہوئے ۔۔پورے گھر میں کوئی نہیں تھا ۔۔لیکن جیسے ہی وہ لاؤنج میں داخل ہوئے کسی آواز نے انکے پاؤوں کو جکڑا تھا۔۔ہاں وہ کسی کے رونے کی آواز تھی وہ دونوں جلدی سے اس آواز کی سمت معلوم کرتے کمرے میں داخل ہوئے تھے۔۔۔اور کمرے کی حالت دیکھ کر ساکت رہ گئے۔۔۔ہر چیز بکھری پڑی تھی ۔۔۔کمرے کا حلیہ بگڑا ہوا تھا ۔۔جبکہ وہ بیڈ کی ٹیک کے ساتھ اپنی پشت ٹکائے گھٹنوں میں سر دئیے سسک رہی تھی۔۔۔اسے اس حال میں دیکھ کر حازم کو بری طرح جھٹکا لگا تھا۔۔۔دانیال نے دھیمی سی آواز میں اسے پکارا تھا۔۔۔

“بھابھی۔۔۔۔”کسی مانوس آواز پر زویا نے سر اٹھا کر دانیال کی طرف دیکھا تھا اور جھٹکے سے اٹھ کر اس کی جانب بڑھی تھی۔۔۔

“دانیال تم۔۔۔کیوں آئے ہو یہاں۔۔۔۔؟؟”زویا کی آواز بھی دھیمی ہی تھی۔۔اور آنکھیں رونے کیوجہ سے سرخ ہو رہی تھیں۔۔۔پپوٹے سوجے ہوئے تھے۔۔

“بھابھی ذیان کہاں ہے۔۔۔۔؟؟”کمرے کا حلیہ اور زویا کی حالت اسے چیخ چیخ کر سب بتا رہی تھی لیکن دانیال نے پوچھنا لازمی سمجھا۔۔۔

“و۔وہ مجھے چھوڑ کر چلا گیا دانیال۔۔و۔وہ کہتا وہ مجھ سے محبت نہیں کرتا تھا اس نے م۔مجھ سے بدلہ لینے کے لئے یہ سب کیا تھا۔اسے بولو نہ آجائے واپس ۔۔مم۔مم۔میں اس سے معافی مانگ لوں گی۔۔لیکن یوں چھوڑ کر نہ جائے اسے بولو نہ دانیال۔۔۔”زویا نے بچوں کی طرح روتے ہوئے کہا۔۔دانیال کو اس وقت زویا پر ترس آرہا تھا۔۔۔اور حازم تو بس بے یقین سا اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔تب ہی حازم اور دانیال کی مایوس نگاہیں ٹکرائی تھیں۔۔۔وہ لوگ ذیانکو روکنے آئے تھے لیکن وہ تو پہلے ہی جا چکا تھا۔۔۔۔۔

“بھابھی یہ کیا حال بنا رکھا ہے آپ نے اپنا ۔۔۔۔آئیے چلیے ہمارے ساتھ۔۔۔”اب کی بار حازم بولا تھا۔۔۔اس کے بولنے پر زویا نے بیگانگی سے حازم کی طرف دیکھا تھا۔۔۔

“بھابھی یہ حازم ہے ۔۔ذیان کا چھوٹا بھائی۔۔۔”دانیال نے اس نرمی سے بتایا۔۔اور زویا کو اس کی بات سنکر جھٹکا لگا تھا۔۔۔

“ل۔لل۔۔لیکن وہ تو تمہارا بھائی ہے نا دانیال۔۔۔”زویا نے دانیال کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔۔

“بھابھی ذیان نے آپ لوگوں سے جھوٹ بولا تھا۔۔۔وہ میرا بھائی نہیں ہے۔۔۔بلکہ میرا تو کوئی بھی بھائی نہیں ہے ۔۔اور نہ ہی مسٹر اینڈ مسز لغاری اس کے پیرنٹس ہیں وہ میرے پیرنٹس ہیں۔۔۔”دانیال نے نظریں جھکاتے ہوئے اسے سچائی بتائی وہ زویا سے نظریں نہیں ملا پا رہا تھا کیونکہ کہیں نہ کہیں وہ بھی اس کی اس حالت کا ذمے دار تھا۔۔۔۔زویا نے اس کی بات پر خالی خالی نظروں سے اس کی طرف دیکھا تھا۔۔۔

“تم کیوں نظریں جھکا رہے ہو۔۔۔؟؟تمہیں شرمندہ ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔۔۔اس سب کا ذمے دار صرف اور صرف وہ ہی انسان ہے تم نے تو وہی سب کیا جو اس نے تمہیں کرنے کو کہا۔۔۔”زویا نے اسے نظریں جھکائے کھڑے دیکھ کر کہا۔۔۔

“سوری بھابھی۔۔میں جانتا ہوں میں معافی کے قابل نہیں ہوں پر پلیز مجھے معاف کر دیجیے۔۔۔”دانیال کی نظریں اب بھی جھکی ہوئی تھیں۔۔۔

“میرے دل میں تمہارے لئے کوئی میل نہیں ہے دانیال اگر پھر بھی تمہیں میرے الفاظ تسلی دیتے ہیں تو ٹھیک ہے میں نے تمہیں معاف کیا۔۔۔”زویا کا انداز اب بھی وہی تھا۔۔۔

“بھابھی چلیں آپ ہمارے ساتھ ہمارے گھر ۔۔۔”حازم نے دوبارہ اپنی بات دہرائی تھی۔۔۔

“نہیں حازم میں اس گھر میں نہیں جاؤں گی وہ میرا گھر نہیں ہے ۔۔۔میراگھر تو یہ ہے جہاں میں اس وقت کھڑی ہوں ۔۔۔میں ذیان کو معاف تو نہیں کر پاؤں گی لیکن اس کا انتظار کروں گی اور اپنے ساتھ ہوئی ایک ایک ذیادتی کا حساب لوں گی۔۔۔”زویا نے اپنا لہجہ مضبوط کرتے ہوئے کہا۔۔۔

“ٹھیک ہے بھابھی لیکن آپ یہاں اکیلی کس طرح رہیں گی۔۔۔؟؟”حازم نے سوالیہ نظروں سے دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔

“میں نے کبھی بھی نارمل لڑکیوں کی طرح زندگی نہیں گزاری میں نے ہمیشہ سے زندگی کو اکیلے جینا سیکھا ہے مجھے اپنے لئے لڑنا آتا ہے۔۔تم فکر مت کرو میں رہ لوں گی۔۔۔”زویا نے مسکراتے ہوئے جوب دیا۔۔۔اور اس مسکراہٹ میں کتنا درد تھا یہ زویا ہی جانتی تھی۔۔

“ٹھیک ہے بھابھی جیسے آپ چاہیں ۔۔ہم آپ سے ملنے آتے رہیں گے۔۔۔اور پنا نمبر بتا دیجیے پلیز۔۔”حازم نے ہار مانتے ہوئے استفسار کیا۔۔۔تو زویا نے اسے نمبر بتا دیا جو وہ اسی وقت سیو کر چکا تھا۔۔۔

“ٹھیک ہے بھابھی ہم چلتے ہیں ۔۔۔اپنا خیال رکھیئے گا۔۔۔اور اگر کسی چیز کی ضرورت ہو تو مجھے کال کر دیجیئے گا۔۔۔میں یہیں ہوتا ہوں شہر میں۔۔۔”دانیال نے مسکراتے ہوئے کہا۔۔اور پھر الوداعی کلمات کہتے وہ دونوں وہاں سے نکل گئے۔۔۔جب کہ زویا آنکھوں میں ویرانی لئے انکی پشت کو گھورتی پھیکا سا مسکرا دی۔۔۔۔

“اگر تم جان جاؤ میری اذیت۔۔۔”

“میری ہنسی پر تمہیں ترس آئے”

🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹

ہر بار کی طرح اس دفعہ بھی الیکشنز میں ذیادہ ووٹ ھیشم خان کے نام ہوئے تھے۔۔۔وحید ملک کی اوچھی حرکتوں کے باوجود وحید ملک بری طرح ہارا تھا ۔۔۔پورے شہر میں ھیشم خان کے نام کے نعرے لگائے جا رہے تھے۔۔۔ہر نیوز چینل پر ھیشم خان کی جیت کی خبریں زورو شور سے بتائی جارہی تھیں۔۔۔ھیشم خان بھی لاؤنج میں بیٹھا دیوار میں نصب ایل ای ڈی پر اپنی جیت اور مقابل پارٹیوں کی شکست پر عوام کا اظہار پوری توجہ سے دیکھ رہا تھا۔۔۔ھیشم خان کی جیت پر حویلی میں بہت بڑی پارٹی ارینج کی گئ تھی ۔۔پارٹی میں بڑی بڑی شخصیات مدعو تھیں ۔۔۔ھیشم خان تھری پیس میں ملبوس ۔۔بلیک گلاسز لگائے ہال میں داخل ہوا تھا ۔۔۔اس کے داخل ہوتے ہی سب کی نظریں اس کی جانب اٹھی تھیں کچھ کی نظروں میں ستائش تھی تو کچھ کی نظروں میں حسد تھا وہ پوری شان سے مخصوص چال چلتے ہوئے اسٹیج پر آیا تھا۔۔۔جہاں بہت سی معزز شخصیات پہلے ہی موجود تھیں انہوں پھولوں کے گلدستے کے ساتھ مبارکباد پیش کی تھی۔۔۔۔ہیشم خان اپنی ہی پارٹی کے ممبران میں گھرا کوئی بات کرنے میں مصروف تھا جب عقب سے اسے کسی نے پکارا تھا۔۔۔اس کے مڑ کر دیکھنے پر وحید خان سامنے کھڑا مسکرا رہا تھا۔۔وحید ملک نے آگے بڑھ کر ھیشم خان سے مصافحہ کرتے اسے مبارکباد دی تھی۔۔۔

“مجھے معاف کر دو ھیشم خان ۔۔میں اپنے رویے پر شرمندہ ہوں ۔۔مجھے وہ سب نہیں کرنا چاہیے تھا۔۔۔”وحید ملک نے شرمساری سے نظریں جھکاتے ہوئے کہا۔۔۔

“ہم کیسے مان لیں کہ تم اپنی کیئے پر شرمندہ ہو۔۔؟؟”ھیشم خان نے کڑی نظروں سے دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔۔

“ڈاکٹرز کے مطابق مجھے ہرٹ پرابلم ہے ۔۔۔اس کے علاج کے لئے مجھ آپریشن کروانا پڑے گا جس میں بچنے کے چانسز بہت کم ہیں۔۔۔بس یہی سن کر مجھے دھچکا لگا تھااور اس دن سے بے چین ہوں میں ہر برائی کو چھوڑنا چاہتا ہوں اس سے پہلے کہ توبہ کے دروازے مجھ پر بند ہوجائیں میں اللہ سے توبہ کرنا چاہتا ہوں ۔۔۔لیکن اللہ بھی تب تک وہ گناہ معاف نہیں کرتا جو اس کے کسی بندے کی تکلیف سے جڑا ہو جب تک وہ بندہ معاف نہیں کرتا مجھے معاف کردو ھیشم خان۔۔۔”وحید ملک نے نادم ہوتے ہوئے کہا۔۔۔

“ہم تمہیں معاف کرتے ہیں وحید ملک لیکن اس کے بدلے ہمیں تم سے کچھ چائہیے۔۔۔”ھیشم خان نے اپنے مخصوص لہجے میں کہا۔۔۔

“ہاں بولو ھیشم خان میں بھلا تمہیں کیا دے سکتا ہوں۔۔۔؟؟”وحید ملک نے ناسمجھی سے پوچھا۔۔۔

“ہم تم سے اپنے بھائی حازم کے لئیے تمہاری بیٹی رباب کا ہاتھ مانگنا چاہتے ہیں امید ہے تمہیں اعتراض نہیں ہوگا۔۔۔؟؟”ھیشم خان نے پر یقین لہجے میں کہا۔۔۔۔

“مجھے بھلا کیا اعتراض ہو سکتا ہے ھیشم خان بلکہ یہ تو میرے لئے خوشی کی بات ہے۔۔۔۔”وحید ملک نے چمکتے چہرے سے کہا۔۔۔الیکشنز میں ہارنے کی وجہ سے جسے وحید ملک نے رباب کے لئے چنا تھا وہ رشتہ توڑ چکا تھا۔۔اور اس بات نے بھی وحید ملک کو انسان بننے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔۔۔پھر اسی پارٹی میں رباب اور حازم کی انگیجمنٹ کی اناؤسمنٹ کردی گئ۔۔۔اور اس اچانک ہونے والی اناؤسمنٹ پر حازم تو حیران ہی رہ گیا لیکن بہت جلد اس حیرانی کی جگہ خوشی لے چکی تھی۔۔۔رحاب اور عائشےبھی خوش تھیں اور رباب تو شرم کے مارے ہی سر نہیں اٹھا رہی تھی۔۔۔اناؤسمنٹ سنتے ہی رحاب جلدی سے حازم کو تلاش کرتی بھاگے جارہی تھی جب کسی مضبوط چیز سے زور سے ٹکرائی تھی۔۔۔۔

“ہائیی اللہ ۔۔۔میرا سر پھاڑ دیا اس کھمبے نے۔۔۔لیکن یہ کھمبا یہاں آکیسے گیا پہلےتو یہاں کوئی کھمبا نہیں تھا۔۔۔۔”وہ اب بھی ہاتھ ماتھے پر رکھے درد سے آنکھیں بند کیئے منمنا رہی تھی۔۔۔۔اسکی اس حرکت پر دانیال کی بے ساختہ ہنسی چھوٹی تھی۔۔۔کسی کے ہنسنے کی آوازپر رحاب نے فورا آنکھیں کھولی تھیں۔۔۔اور سامنے کھڑے دانیال کو دیکھ کر اس کی پیشانی پر بل نمودار ہوئے تھے۔۔

“یو۔۔۔اچھا تو وہ کھمبا آپ ہیں جس سے ٹکرا کر میرا سر پھٹ گیا ہے ۔۔۔۔اور سوری کہنے کے بجائے یوں کھڑے ہو کر ڈھیٹوں کی طرح بتیسی نکال رہے ہیں۔۔۔۔”روحی نے تپ کر کہا۔۔جبکہ اس کی بات پر دانیال نے بمشکل اپنی ہنسی ضبط کر کے اس کے سر کی طرف دیکھا تھا جو بلکل صحیح سلامت تھا۔۔۔اور وہ اس پر سر پھاڑنے کا الزام لگا رہی تھی۔۔۔

“میں کیوں سوری بولتا غلطی آپ کی تھی۔۔۔آپ سامنے دیکھ کر نہیں چل رہی تھیں۔۔”دانیال نے آپ پر زور دیتے ہوئے فورا وضاحت دی تھی۔۔۔

“میں اگر سامنے دیکھ کر نہیں چل رہی تھی آپ تو سامنے دیکھ کر چل سکتے تھے نا۔۔۔”رحاب کہاں ہار ماننے والوں میں سے تھی ۔۔۔

“حد ہوگئ یار ۔۔۔کیا دور آگیا لوگ اپنی غلطیاں بھی دوسروں پر ڈال دیتے ہیں۔۔۔”دانیال نے ماتھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔۔۔

“او ہیلو۔۔غلطی آپکی تھی اور اب بحث بھی خوامخواہ آپ کر رہے ہیں ۔۔۔”رحاب کا چہرہ غصے سے سرخ ہو رہا تھا۔۔۔

“ہائے صدقے کتنی کیوٹ لگتی ہیں آپ غصے میں بلکل جنگلی بلی کی طرح۔۔۔”دانیال نے مسکراتے ہوئے کہا۔۔۔

“اور آپ اس وقت یہاں سے اپنی شکل غائب کرلیں جنگلی بھالو کہیں کے۔۔۔”اسوقت رحاب کا دل کررہا تھا کہ سامنے کھڑے دانیال کا سر پھاڑ دے ۔۔۔

“تھینکس فار کمپلیمنٹ۔۔۔۔”دانیال نے مؤدب انداز میں کہا۔۔۔

“حد ہے کتنے ڈھیٹ ہیں آپ ۔۔میں ہی چلی جاتی ہوں آپ تو ہلیں گے نہیں یہاں سے ۔۔۔۔”رحاب نے آنکھیں گھماتے ہوئے کہا۔۔۔۔

“بس کیا کریں حالات کا تقاضہ ہے۔۔اتنی بے عزتی ہو چکی ہے لائف میں کہ اب فیل ہی نہیں ہوتی۔۔۔۔۔۔”دانیال نے ڈھٹائی سے کہا۔۔۔۔

“اووووف اللہ۔۔۔۔ہٹیں راستے سے۔۔۔۔”رحاب نے تڑخ کر کہا۔۔۔

“ویسے میں آپ کو ایک مشورہ دینا چاہ رہا تھا اب تو آپکے تیسرے بھائی کی بھی انگیجمنٹ ہونے جا رہی ہے۔۔۔میرا خیال ہے اب آپ کو بھی اپنے بارے میں سوچنا چائہیے ۔۔۔۔”دانیال نے پورے خلوص سے مشورہ دیا تھا۔۔۔

“اوہ اچھا۔۔۔مجھے مشورہ دے رہے ہیں ۔۔اپنے آپ کو دیکھیں ستر سال کے بوڑھے لگتے ہیں دکھنے میں۔۔۔ اب تو لڑکی بھی نہیں ملنے والی آپکو۔۔۔۔”رحاب نے اس کی اچھی خاصی پر کشش شخصیت کی بے عزتی کی تھی۔۔۔

“اوہ بس کردو یار معاف کردو میں نے تم سے پنگا لے لیا لیکن اس طرح میری اچھی بھلی جوانی کی انسلٹ مت کرو۔۔۔”دانیال کو نے اس کے سامنے ہاتھ جوڑتے ہوئے کہا۔۔۔جبکہ اس کی اس حرکت پر روحی زور سے ہنسی تھی۔۔۔

“ہاؤ کیوٹ اسمائل روحی۔۔۔۔”دانیال اسکے گال کھینچتا اس کو بولنے کا موقع دئیے بغیر جلدی سے آگے بڑھ گیا۔۔۔۔اور روحی اس کی اس حرکت پر کلس کر رہ گئ۔۔۔۔۔اور پاؤں پٹختی حازم کو تلاش کرتی آگے بڑھ گئی۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *