Tere Ishq Sy Meri Zaat Tak by Ayesha Mughal NovelR50552 Tere Ishq Sy Meri Zaat Tak (Episode 04)
Rate this Novel
Tere Ishq Sy Meri Zaat Tak (Episode 04)
Tere Ishq Sy Meri Zaat Tak by Ayesha Mughal
رات کے اس پہر جب پورا شہر اس اندھیری رات کی لپیٹ میں گہری نیند سویا ہوا تھا ۔۔۔زریاب خان رات کے اس پہر بے چینی سے پنڈولم کی مانند ادھر سے ادھر ٹہل رہے تھے۔۔۔۔۔ان کی پریشانی کا سبب ہر گز عائشے کا غائب ہونا نہیں تھا۔۔۔بلکہ وہ تو آج کے اخبار میں چھپنے والی ان خبروں سے پریشان تھے۔۔۔۔عائشے کے۔غائب ہونے کی خبر پورے گاؤں میں آگ کی مانند پھیل چکی تھی ۔۔۔اور اب زریاب خان کو اپنی سالوں سے بنائی گئی عزت پر پانی پھرتا نظر آرہا تھا۔۔۔اخبار میں عائشے کی گمشدگی کی خبر کو مزید تڑکا لگا کر چھاپا گیا تھا۔۔۔ان سرخیوں کی وجہ سے وہ گاؤں میں مشکوک ہو کر رہ گئے تھے ۔۔۔گاؤں والے ان پر تھو تھو کر رہے تھے ۔۔۔اس وقت زریاب خان کا چہرہ اندرونی جذبات کے سبب بے حد مکروہ لگ رہا تھا ان کے چہرے پر نفرت ہی نفرت تھی ۔۔۔وہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ وہ لڑکی اس طرح ان کا تماشا بنا کر رکھ دے گی۔۔۔۔انہی سوچوں میں زریاب خان کی پوری رات گزری تھی اور اگلے دن کآ سورج ایک بڑا طوفان لے کر آیا تھا ۔۔۔۔۔حویلی کے تمام ملازم سر جھکائے زریاب خان کے سامنے مجرموں کی مانند کھڑے تھے جب زریاب خان کی گرجدار آواز پورے ہال میں گونجی تھی ۔۔۔
“یہ خبر حویلی سے باہر گئی کیسے ۔۔۔؟؟کس نے بتایا کہ عائشے گل لا پتہ ہیں اتنے دنوں سے۔۔۔۔۔؟؟؟زریاب خان جواب نہ پا کر ایک اور مرتبہ غرائے تھے ۔۔۔
“اگر مجھے پتا چل گیا نا کہ یہ کام تم لوگوں میں سے کسی کا ہے تو زندہ نہیں چھوڑوں گا میں اسے ۔۔۔۔وہ حشر کروں گا اسکا کہ آنے والی نسلیں بھی یاد رکھیں گی۔۔۔۔اگر اپنی اپنی سلامتی چاہتے ہو تو بتاؤ یہ سب کس نے کیا۔۔۔۔۔؟؟؟”ان کے۔اس طرح غرانے پر سارے نوکروں کی روح تک کانپ گئی تھی لیکن جواب ندارد ۔۔۔۔اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتے ان کا مخصوص بندہ جسے آس پاس کے۔گاؤں کی خبرگیری کے لیے مختص کیا گیا تھا وہ بھاگتا ہو زریاب خان کے پاس آیا تھا ۔۔۔۔اس کے چہرے سے زریاب خان اتنا تو جان چکے تھے کہ ضرور کوئی اہم خبر لایا ہے وہ ۔۔۔۔۔تب ہی انہوں نے سارے ملازموں کو جانے کا اشارہ کیا تھا اور ایک ایک کر کے تمام ملازمین نکلتے چلے گئے اور ان کے جاتے ہی زریاب خان نے معنی خیزی سے اس آدمی کی طرف دیکھا تھا جیسے کہہ رہے ہوں کہو کیا خبر لائے ہو۔۔؟؟؟
زریاب خان کا اشارہ سمجھ کر حکیم اللّٰہ نے بولنا شروع کیا تھا۔۔۔۔۔
“خان صاحب ابھی میرے پاس قریب کے گاؤں کا ایک آدمی آیا تھا ھیشم اسماعیل خان کا پیغام لے کر ۔۔۔۔ان کا۔کہنا ہے کہ عائشے گل ان کے پاس ہے اور وہ اس سلسلے میں دوپہر کے کھانے پر آپ سے ملنا چاہتے ہیں ۔۔۔”حکیم اللّٰہ کے الفاظوں نے زریاب خان کے سر پر بم پھوڑا تھا۔۔۔ان کا غصہ ساتویں آسمان تک جا پہنچا تھا تو اس لڑکی نے دوسرے گاؤں میں بھی ان کی عزت کا جنازہ نکالا تھا اس وقت زریاب خان چاہتے تھے عائشے گل ان ک سامنے ہو اور وہ اسے زندہ ہی درگور کر دیں ۔۔۔۔تھوڑی دیر خاموش رہنے کے بعد وہ حکیم اللہ سے مخاطب ہوئے تھے۔۔۔۔
” جا کر کہہ دو زریاب خان ان سےضرور ملاقات کریں گے ۔۔۔۔۔”زریاب خان نے حامی بھرتے ہوئے کہا ۔۔۔۔ لیکن ان کے لہجے میں معنی خیزی واضح تھی ۔۔ان کی مکروہ سوچ اس ملاقات میں اپنا مفاد ڈھونڈ چکے تھے ۔۔۔۔ورنہ زریاب خان کی اکڑ انہیں کہاں اجازت دیتی تھی کہ ان حالات میں ھیشم خان سے ملاقات کریں ۔۔۔
“اور ایک بات یاد رکھنا اگر یہ بات میرے اور تمہارے درمیان سے کسی تیسرے میں گئی تو تمہاری خیر نہیں حکیم اللّٰہ۔۔۔”انہوں نے تنبیہہ کرتے ہوئے کہا اور حکیم اللّٰہ جانتا تھا اگر اس نے زریاب خان کا حکم نہ مانا تو وہ اس کا کیا حشر کریں گے۔۔۔۔وہ سر جھکائے زریاب خان کے حکم کی پیروی کرتے ہوئے حویلی سے نکلتا چلا گیا اور باہر کھڑے ھیشم کے اس مخصوص آدمی کو زریاب خان کی دوپہر میں آنے کی خبر دی تھی ۔۔۔۔







ہلکے لیمن کاٹن کے اسکارف کے ہالے میں اس کا چہرہ کھلا کھلا سا لگ رہا تھا ۔۔ابھی وہ یونیورسٹی میں داخل ہی ہوئی تھی کہ ایشل ناجانے کہاں سے ٹپک گئی ۔۔۔۔
“ہائے ۔۔۔۔ہاؤآر یو عائشے۔۔؟؟” نے ہاتھ بڑھاتے ہوئے کہا ۔۔۔
“الحمدللہ۔۔۔۔میں ٹھیک ہوں تم کیسی ہو۔۔؟؟”عائشے نے فارمل انداز میں کہا ناجانے ایسا کیا تھا جو اسے کبھی ایشل سے فرینک ہونے نہیں دیتا تھا ۔۔۔۔
“ہاں میں بھی ٹھیک ہوں ۔۔۔تمہارے لئے ایک گڈ نیوز ہے عائشے۔۔۔”ایشل نے پر جوش لہجے میں کہا۔۔
“گڈ نیوز ۔۔۔۔۔؟؟”عائشے نے نا سمجھی سے اس کی طرف دیکھا تھا ۔۔۔۔
“ہاں گڈ نیوز ۔۔۔۔جو لاسٹ ٹائم سر خضر نے ہمارے پیپرز لیئے تھے اس میں تمہارے سب سے زیادہ نمبر آئے ہیں اور تم کلاس کی ٹاپ گرل ہو ۔۔۔۔میں نے ابھی ابھی وہاں نوٹس بورڈ پر دیکھا ۔۔۔”اس نے نوٹس بورڈ کی۔طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ۔۔۔
“سچی۔۔۔تم مذاق تو نہیں کر رہی نا ۔۔۔۔اللّٰہ کتنی خوش ہوں میں ۔۔۔۔آخر میری محنت ضائع نہیں گئی ۔۔۔۔”عائشے سے خوشی سنبھالے نہیں سنبھل رہی تھی اس کے چہرے پر کتنے رنگ تھے ۔۔۔۔لیکن کون جانتا تھا کہ یہ سب رنگ اس کی زندگی سے ختم ہونے والے ہیں ۔۔۔۔۔ایسے ہی باتیں کرتی وہ دونوں لابی کی جانب بڑھ گئیں ۔۔۔۔







یہ تھا اسماعیل خان کے خوابوں کا جہاں جہاں پر بہت سے خواب بستے تھے جو کہ اس میں بسنے والوں نے بسائے تھے۔۔۔۔۔اسماعیل خان لاہور کے ایک جانے مانے سیاستدان تھے ۔۔۔اور ساتھ ہی ساتھ کچھ ناجائز سرگرمیوں میں بھی ملوث تھے ۔۔۔۔اسماعیل خان کے تین بیٹے اور ایک بیٹی تھی ۔۔۔۔
حازم سدا کا چنچل شوخ ۔۔۔ہر وقت پٹر پٹر کرنے والا۔۔۔بس اس محل میں ایک ہی شخصیت تھی جس کے سامنے اس کی زبان پر تالا لگ جاتا تھا اور وہ تھا ھیشم اسماعیل خان۔۔۔اگر یہ کہا جائے کہ وہ اس محل نما شاندار حویلی کا حقیقی بادشاہ ہے تو غلط نہ ہو گا۔۔۔اپنے سب بہن بھائیوں تک پر اس کا دبدبہ تھا ایک رعب اور خوف قائم کر رکھا تھا ان سب پر۔۔۔۔حسین و جمیل وجاہت سے بھرپور شہزادوں سی آن بان رکھنے والا “ھیشم خان” اپنے باپ سے سخت نفرت کرتا تھا کیونکہ اس کا ماننا تھا اس کی ماں کے قاتل اسماعیل خان تھے ۔۔۔اس نے اپنی آنکھوں سے اپنی ماں کو رات کے اندھیروں میں سسکتے ہوئے دیکھا تھا ۔۔۔کتنے ظلم ڈھائے تھے اس نے اس کی ماں پر۔۔۔وہ کیسے بھول سکتا تھا سب۔۔۔؟؟ھیشم کبھی بھی سیاست میں جانے کا خواہش مند نہ تھا وہ اپنے باپ جیسا نہیں بننا چاہتا تھا ۔۔۔۔۔لیکن حالات کی ستم ظریفی اور اسماعیل خان کی اچانک حادثے میں ہونے والی موت نے اسے سیاست میں لاکھڑا کیا تھا۔۔۔لیکن اس نے اپنے باپ کی طرح کبھی ناانصافی نہیں کی تھی کسی مظلوم پر ظلم نہیں کیا تھا۔۔۔۔مگر ظالموں کو اس نے چھوڑا بھی نہیں تھا۔۔۔۔ھیشم خان گھر پر کم کم ہی پایا جاتا تھا ذیادہ تر وہ اپنے ڈیرے پر ہی رہتا تھا ۔۔۔
جبکہ ذیان کا پسندیدہ مشغلہ کھانا کھانا اور صرف کھانا تھا تھا اس کا ماننا تھا کہ وہ زندگی ہی کیا کیا جس میں انسان کھانے کے لئے نہ جئے ۔۔۔۔۔ اس کا شمار بھی انہی انسانوں میں ہوتا تھا جو کھانے کے لئے ہی اس روئے زمین پر زندہ ہیں ۔۔۔۔
اور اسماعیل خان کی اکلوتی بیٹی اور ان تین بھائیوں کی ایک ہی بہن تھی ۔۔رحاب جسے سب پیار سے روحی پکارتے تھے ۔۔۔گھٹنوں تک آتے بہتے آبشار کی مانند اسکے سیاہ ریشمی خوبصورت بال جو اس کی خوبصورتی کو دو چاند لگا دیتے تھے ۔۔انہیں نور حجاب میں چھپا کر رکھتی تھی ۔۔سفید دودھ جیسی دودھیا رنگت ۔مناسب قدوقامت ۔۔بڑی بڑی ہیشم جیسی نیلی روشن آنکھیں جو کبھی گھنی اور لمبی سیاہ پلکوں کی اوٹ میں چھپ سی جاتی تھیں تو کبھی دیکھنے والے کو مسحور کر دیا کرتی تھیں ۔۔۔روحی کو نئی نئی ڈشز بنانے کا بہت شوق تھا۔۔۔اب بھی وہ کچن میں اپنی من پسند ڈش بنانے میں مصروف تھی ۔۔۔اور عائشے اس کے ساتھ کھڑی اسے کھانا بناتے ہوئے خاموش کھڑی دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔کہ۔تبھی حازم کچن میں داخل ہوا تھا۔۔۔۔
ایک شیطانی مسکراہٹ برہان کے چہرے پر پھیلی تھی ۔۔۔۔۔روحی جو ہاتھ دھونے میں مصروف تھی اچانک حازم کی بات پر اچھلی تھی۔۔۔۔
“روحی ۔۔۔یہ کیا تمہارا من پسند منچورین تو جل چکا ہے ۔۔۔۔ہاہاہا۔۔۔”حازم پین کا ڈھکن اٹھا کر یکدمپیچھے ہوتے ہوئے چلایا تھا۔۔۔
“کیا ۔۔۔۔”روحی جلدی سے منچورین کی جانب متوجہ ہوئی تھی ۔۔۔لیکن منچورین کو صحیح سلامت دیکھ کر اس نے پوری آنکھیں پھیلا کر اسے دیکھا تھا اور ہاتھ میں پکڑا چمچ حازم کی جانب زور سے پھینکا تھا ۔۔۔لیکن حازم چونکہ اس وار کے لئے تیار تھا وہ جلدی سے پیچھے ہوا تھا۔۔۔۔اوراب چمچ آنے والی شخصیت کے پاؤں میں پڑا اپنی قسمت پر حیران تھا ۔۔۔۔گرا بھی تو کس کے قدموں میں ۔۔۔۔۔ھیشم خان نے غصے سے ایک نظر چمچ کو دیکھ کر دوسری نظر ان دونوں پر ڈالی تھی ۔۔۔جو اسے دیکھ کر شرافت کا مجسمہ بنے کھڑے تھے ۔۔۔۔وہ ان کو نظرانداز کرتا سامنے کھڑی عائشے سے مخاطب ہوا تھا ۔۔۔۔
“عائشے گل۔۔۔۔آج ہم نے آپ کے چچا کو حویلی میں طلب کیا تھا ۔۔۔۔اور اب وہ مردان خانے میں آپ کا انتظار فرما رہےہیں ۔۔۔۔تو بہتر ہو گا کہ آپ مردان خانے میں تشریف فرما ہوں ۔۔۔”ھیشم خان نے غصے کو ضبط کرتے ہوئے کرخت لہجے میں کہا۔۔۔اس کے۔جواب میں عائشے نے خوف بھری نظروں سے ھیشم کی جانب دیکھا تھا ۔۔۔۔اسکی آنکھوں میں موجود خوف کی وجہ ھیشم بخوبی جانتا تھا وہ جانتا تھا کہ ایک عورت کی عزت کانچ سے بھی ذیادہ نازک ہوتی ہے ۔۔۔اور زریاب خان جیسا غیرت کے۔نام پر جذبات کا قتل کرنے والا انسان اسے کبھی قبول نہیں کرے گا یہ بات عائشے اچھے سے جانتی تھی ۔۔۔وہ اس کا قتل تو کر سکتے تھے لیکن اسے کبھی قبول نہیں کریں گے ۔۔۔۔۔ھیشم اسے ساکت کھڑا دیکھ کر آگے بڑھا تھا اور اس کا ہاتھ تھامے اس کو لے کر مردان خانے کی۔جانب چل پڑا۔۔۔۔جیسے ہی وہ اندر داخل ہوا ۔۔زریاب خان جو اس قیمتی صوفے پر پوری ٹھاٹھ سے براجمان تھے عائشے کو ھیشم کے ساتھ اندر داخل ہوتے دیکھ کر اپنی مونچھوں کو تاؤ دیتے ااپنی نشست سے پورے جوش سے اٹھے تھے ۔۔۔اور طیش میں آگے بڑھے تھے ان کا ہاتھ پوری قوت سے اٹھا تھا اس سے پہلے کہ وہ عائشےکے چہرے پر نشان چھوڑتا ھیشم خان نے سختی سے ان کا ہاتھ تھاما تھا۔۔۔۔
“نہیں زریاب خان ایسی غلطی بھی نہ کرنا ہمارے سامنے ۔۔۔ھیشم خان سب کچھ برداشت کر سکتا ہے لیکن ایک عورت پر اٹھنے والا ہاتھ توڑ تو سکتا ہے لیکن برداشت نہیں کرسکتا ۔۔۔۔”ھیشم نے زور سے زریاب خان کا ہاتھ جھٹکتے ہوئے اپنی گرجدار آواز میں کہا تھا۔۔۔
“اور اس کی بات سنے بغیر تم کیسے اسے سزا سنا سکتے ہو ۔۔۔۔؟؟؟بہتر ہو گا زریاب خان کہ آرام سے اس معاملے کو بیٹھ کر ختم کیا جائے ۔۔۔۔”ھیشم بولتے ہوئے اپنی مخصوص نشست پر براجمان ہوا تھا تو مجبوراً زریاب خان کو۔نشست سنبھالنی پڑی جبکہ عائشے گل کونے میں کھڑی کسی تماشائی کی طرح اپنی زندگی کا تماشہ دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔۔کیسے وہ دونوں شخصیات اس کی زندگی کا فیصلہ کرنے میں مصروف تھیں ۔۔۔۔۔ایک اس کی جان لینے پر تلا ہوا تھا تو دوسرا اس کا محافظ بن کر اس کے لیے جنگ لڑ رہا تھا ۔۔۔۔ہوش تو اسے تب آیا تھا جب ھیشم خان نے اس سے نکاح کا فیصلہ سنایا تھا ۔۔۔کیسے اس سے بغیر پوچھے اس کی ذات کا فیصلہ کر دیا گیا تھا کیا وہ اتنی بے مول ہو گئی تھی کس گناہ کی سزا سنائی گئی تھی اسے ۔۔۔ھیشم نکاح کا فیصلہ کرتا اس کا ہاتھ تھام کر غصے کی حالت میں مردان خانے سے نکلا تھا ۔۔۔عائشے کے ہاتھ پر اس کی۔مضبوط گرفت اس کے غصے کی شدت کا پتا دے رہی تھی ۔۔۔
اس کا ہاتھ تھامے وہ سیدھا روحی کے کمرے میں آیا تھا ۔۔
“آج شام ہم عائشے گل سے نکاح کریں گے۔۔۔۔۔کوئی اعتراض ہے؟؟؟؟”حازم اور ذیان بھی اس وقت روحی کے ہی کمرے میں موجود تھے ۔۔۔۔ھیشم نے تینوں کی جانب سوالیہ نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا جبکہ چہرہ غصّے کی شدت سے سرخ ہو چکا تھا۔۔۔۔یہ خبر سن کر تینوں نے ایک دوسرے کو شاکی نظروں سے دیکھا تھا ۔۔۔کہ ایک دفعہ پھر کمرے میں ھیشم کی۔آواز گرجی تھی ۔۔۔
“اگر تم میں سے کسی کو اعتراض ہو گا تب بھی ہم عائشے گل سے نکاح کریں گے تو بہتر ہوگا کہ نکاح کی تیاری کی جائے اور روحی عائشے کو تیار کرنا تمہارا کام ہے اور کہیں بھی کوئی بھی کمی نہیں رہنی چاہیے ۔۔۔۔”اتنا کہہ کر ھیشم بغیر ان کا جواب سنے لمبے لمبے ڈگ بھرتا وہاں سے نکلتا چلا گیا ۔۔۔۔اور وہ تینوں اب آنکھوں میں حیرانی لیے اس مورت کی جانب متوجہ ہوئے تھے ۔۔۔۔۔جو ساکت کھڑی سب ہوتا ہوا دیکھ رہی تھی ۔۔۔وہ سمجھ نہیں پارہی تھی وہ قسمت کی۔اس ستم ظریفی پر جشن منائے یا اپنی ذات کے بے مول ہونے پر ماتم کرے ۔۔۔۔
