Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tere Ishq Sy Meri Zaat Tak (Episode 01)

Tere Ishq Sy Meri Zaat Tak by Ayesha Mughal

یہ لاہور کے ایک مشہور کوٹھے کا منظر تھا جہاں آج معمول سے زیادہ چہل پہل تھی۔۔۔۔۔ کیونکہ آج یہاں اس علاقے کے ایم این اے صاحب اپنے کچھ غیر ملکی معزز مہمانوں کے ساتھ آنے والے تھے۔۔۔کوٹھے کے مرکزی روم کو بہت نفاست اور خوبصورتی سے سجایا گیا تھا۔۔۔ اسی روم میں روز “محفل” ہوتی تھی۔۔۔ جس میں شائقین ناچنے والیوں کو نوٹوں سے نہلا دیا کرتے تھے۔۔۔ مگر آج اس روم کو خاص طور پر ریزرو کر دیا گیا تھا۔۔۔ نا آج یہاں مجرا ہونا تھا۔۔۔ نا ہی آج یہاں کسی بھی “عام” بندے کو آنے کی اجازت تھی۔۔۔ تبھی اس مرکزی روم میں کوٹھے کی مالکن “زلیخا بائی” اپنی ساڑھی کا پلو سنبھالے اندر چلی آئی تھیں۔۔۔ انھیں اندر آتے دیکھ کر کمرے کی سجاوٹ میں مصروف لڑکیاں اور اور کوٹھے پر کام کرنے والے نوکر جلدی سے ان کے سامنے ہاتھ باندھے آ کھڑے ہوئے تھے۔۔۔

“ارے او شمیلا ۔۔۔۔ تو اب تک یہاں لگی ہوئی ہے کم بخت۔۔۔ جا کر اس نئی لڑکی کو تیار کرو۔۔۔ اچھی طرح سجانا بلکل دلہن لگنی چاہیئے۔۔۔ ایم این اے صاحب کو کوئی شکایت نا ہو۔۔۔ اگر آج وہ اور ان کے مہمان یہاں سے “خوش” ہوکر گئے تو ہمیں نوٹوں سے نہلا دیں گے۔۔۔۔ ” زلیخا بائی کی پاٹ دار آواز پر شمیلا نامی لڑکی نے جلدی سے اثبات میں سر ہلایا اور روم سے نکل کر باہر بھاگی تھی۔۔۔

“سجاد ذرا فون تو کر اس ذاکر احمد کو۔۔۔ پوچھ کب تک آ رہے ہیں ایم این اے صاحب۔۔۔؟؟؟ ” زلیخا بائی نے اپنے اسٹائلش سے جوڑے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا… اور جاکر پاس پڑی کرسی پر بیٹھ گئی تھیں۔۔۔ آج اس علاقے کے ایم این اے صاحب کا یہاں آنا ان کے لئے کسی اعزاز سے کم نہیں تھا۔۔۔کیونکہ یہ مغرور شہزادوں سا نوجوان۔۔۔خوبصورت اور ڈیشنگ ایم این اے نا صرف پورے شہر میں اپنی خود پسندی۔۔۔ رعب و دبدبے اپنی اکڑ اور ضد کے لئے مشہور تھا بلکہ اس کی بے تحاشہ دولت کے بھی دور دور تک چرچے تھے۔۔۔ اگر آج وہ ان کے “قابو” میں آ جاتا تو ان کے کوٹھے کی قسمت چمک جاتی۔۔۔

زلیخا بائی آج کسی بھی طرح اسے یہاں سے “خوش” کرکے بھیجنا چاہتی تھی۔۔۔ اسی لئے اس نے اس نوجوان شہزادے کو اپنی مٹھی میں کرنے کے لئے اپنے کوٹھے کے ایک “نایاب ہیرے” کا انتخاب کیا تھا۔۔۔ جس پر آج تک کسی کی نظر نہیں پڑی تھی۔۔۔ اور زلیخا بائی کو اچھی طرح یقین تھا کہ وہ اس ہیرے کی چمک دمک سے اس مغرور شہزادے کی آنکھیں چندھیا جائیں گی۔۔۔ وہ مبہم سے انداز میں مسکراتے ہوئے سوچوں کے تانے بانے بننے میں گم تھیں تبھی باہر سے اٹھتے شور پر وہ چونک کر ہوش میں آئی تھیں۔۔۔ اور تبھی سجاد ان کے کوٹھے کا خاص ملازم بھاگتا ہوا ان کے پاس آیا تھا۔۔۔

“بائی جی۔۔۔ وہ ایم این اے صاحب آگئے ہیں۔۔۔ اپنے ساتھ چار پانچ گورے انگریزوں کو بھی لائے ہیں۔۔۔ ” سجاد نے بوکھلاتے ہوئے کہا تھا اور زلیخا بائی لپک جھپک باہر بھاگی تھی۔۔۔ باہر ہی آنگن میں وہ “مغرور شہزادہ” بلیک کلر کی جینز اور بلیک شرٹ میں سر اٹھائے اپنی مغرور نیلی آنکھوں سے چاروں طرف دیکھ رہا تھا۔۔۔ کھلتی ہوئی سفید رنگت اور ڈارک براؤن بالوں میں وہ اپنے ساتھ کھڑے ان گورے لڑکوں کے ملک کا باسی لگ رہا تھا۔۔۔ اس کی وجاہت دیکھنے والوں کی آنکھوں کو خیرہ کر رہی تھی۔۔۔ نیچے کمرے میں موجود لڑکیاں چھپ چھپ کر باہر آنگن میں کھڑے اس شاندار مرد کو دیکھ رہی تھیں جس کے چرچے تو انھوں نے کافی سنے تھے مگر اسے آج سامنے سے دیکھ کر احساس ہوا تھا کہ وہ واقعی مردانہ وجاہت کا شاہکار تھا۔۔۔ خود زلیخا بائی نے اسے دیکھ کر انگلی دانتوں تلے دبا لی تھی۔۔۔

“یہ تو واقعی یوسف ثانی ہے۔۔۔ ” وہ زیرلب بڑبڑاتی ہوئی آگے بڑھی تھی۔۔۔

“آئیں آئیں سرکار یہاں آجائیں۔۔۔۔ ذرہ نوازی ہے آپ کی جو آپ نے ہمارے اس غریب خانے کو عزت بخشی۔۔۔ ” زلیخا بائی خوشامدانہ انداز میں اسے اپنے ساتھ لئے اندر اسی مرکزی کمرے کہ طرف بڑھ گئی تھی۔۔

“ہم یہاں اپنے دوستوں کے لئے آئیں ہیں۔۔۔ آپ ان کی “خاطر داری” کا انتظام کریں۔۔۔” ھیشم اسماعیل خان نے اپنے سامنے کھڑی زلیخا بائی کو دیکھ کر اپنے مخصوص مغرور انداز میں کہا تھا۔۔۔

“جی جی آپ تشریف رکھیں سرکار۔۔۔ ابھی آپ کے دوستوں کی خاطر داری کا انتظام کیا جاتا ہے۔۔۔ ” وہ ہنستی ہوئی سجاد کو اشارہ کرتی ہوئی سب لوگوں کو ان کی نشستوں پر بیٹھاتی ہوئی باہر چلی گئی تھیں۔۔۔

“شمیلا وہ لڑکی تیار ہے نا۔۔۔؟؟ ” زلیخا بائی نے باہر آکر شمیلا نامی لڑکی کو کال کرکے پوچھا تھا۔۔

“جی بائی جی۔۔۔ اسے میں نے تیار کر دیا ہے۔۔۔ آپ کے مہمان کے “ہوش” نا اڑ گئے تو کہیئے گا۔۔۔ ” شمیلا کی طرف سے مثبت جواب ملنے پر زلیخا بائی مسکراتی ہوئی اندر روم میں واپس چلی گئی تھی۔۔۔۔

🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹

وہ گھٹنوں میں سر دبائے آنکھوں میں بے پناہ خوف لئے شدت سے رو رہی تھی۔۔۔۔ اس کا وجود ہولے ہولے لرز رہا تھا ۔۔۔اس عقوبت خانے میں بند وہ دن رات کا تصور تک بھولے ہوئے تھی۔۔اور گزرے وقت کو یاد کرنے پر اسے یوں لگ رہا تھا کہ گویا اسے یہاں بند ہوئے بھی صدیاں بیت گئی ہوں۔۔۔رونا دھونا چھوڑ کر وہ ایک دفعہ پھر دروازے کے پاس جا کھڑی ہوئی تھی ۔۔۔

“کوئی ہے ۔۔۔؟؟؟؟ مجھے نکالو یہاں سے ۔۔۔؟؟ خدا کے لئے میری مدد کرو۔۔۔۔ ” اس نے چلاتے ہوئے کہا تھا ۔۔۔ اور یہ عمل تو وہ گزرے کچھ دنوں میں کئی بار کر چکی تھی مگر بےسود ۔۔۔ لیکن آج تو اس پر عجب سی دیوانگی چھائی ہوئی تھی یوں لگتا تھا کہ وہ اس دروازے پر لگے بند کو توڑ کر ہی چھوڑے گی۔۔۔۔ اس کے ہاتھ مسلسل دروازہ بجانے سے شل ہو چکے تھے ۔۔۔ مگر ہر روز کی طرح دروازہ نہیں کھلا تھا اس سے پہلے کہ وہ روز کی طرح مایوس ہوکر پلٹ جاتی اچانک اسے دروازے کے قریب کسی کے قدموں کی چاپ سنائی دی ۔۔۔۔ یقیناً کوئی یہاں کوئی آ رہا تھا۔۔۔ پھر آواز مزید قریب سے آنے لگی تھی ۔۔۔ اس وقت اس کی تمام حسیات بیدار ہو چکی تھیں۔۔ اب قدموں کی چاپ قریب آ کر رک گئی تھی اور تب ہی دروازہ کلک کی آواز سے کھلا تھا۔۔۔ وہ جو دم سادھے بھیگی پتھرائی آنکھوں سے آنے والی شخصیت کو دیکھ رہی تھی۔۔۔ایک دم اس کے وجود میں حرکت ہوئی تھی اور وہ بھاگنے کے سے انداز میں آگے بڑھی تھی۔۔۔۔ اس سے پہلے کہ وہ دروازے کی چوکھٹ پار کرکے باہر نکلتی ۔۔۔ اندر آتی شمیلا نے زور سے اس کا ہاتھ کھینچ کر اسے دوبارہ کمرے میں دھکا دیا تھا۔۔۔

“اے لڑکی ۔۔۔ ہمت بھی مت کرنا ایسا کرنے کی۔۔۔ورنہ زلیخا بائی تیرا وہ حال کرے گی کہ تو سوچ بھی نہیں سکتی۔۔۔۔” شمیلا نے اس کا چہرہ سختی سے پکڑتے ہوئے کہا۔۔۔۔

“چھوڑو مجھے ۔۔۔ پلیز مجھے جانے دو ۔۔۔ میں نے کیا بگاڑا ہے آپ لوگوں کا ۔۔۔؟؟؟” عائشے کو اپنا وجود بے جان ہوتا محسوس ہو رہا تھا۔۔۔ تب ہی وہ عورت دوبارہ غرائی۔۔

“اے لڑکی۔۔۔۔ رونا دھونا بند کر اور جا یہ کپڑے پہن کر آ ۔۔۔۔ ” شمیلا نے اپنے ہاتھ میں پکڑا عروسی جوڑا اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا ۔۔۔۔اور اس جوڑے کو دیکھ کر عائشے کے حواس بیدار ہوئے تھے ۔۔۔

“میں یہ ہر گز نہیں پہنوں گی جو تم لوگ چاہتے ہو ایسا کبھی نہیں ہو گا سمجھی تم۔۔۔” عائشے نے اس کی آنکھوں میں آنکھيں ڈالتے ہوئے کہا ۔۔۔۔ پر دل میں بے بسی ہنوز قائم تھی وہ جانتی تھی کہ یہ لوگ اسے ہرگز نہیں چھوڑیں گے ۔۔۔

“کیسے نہیں پہنے گی۔۔۔؟؟؟ تو خود پہنتی ہے یا میں پہناؤں۔۔۔؟؟؟؟” وہ عورت غرائی تھی اور عائشے جانتی تھی کہ ان لوگوں کا عزت سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں تھا اور اس سے کوئی بعید نہیں تھا کہ وہ مزید گر جاتی۔۔۔ اور پیسوں کے لئے تو یہ درندہ صفت لوگ کچھ بھی کر سکتے تھے۔۔۔ تب ہی وہ اس عروسی جوڑے کو تھام کر واشروم کی جانب بڑھ گئی جو اسے اس وقت کفن سے بھی زیادہ خوفناک لگ رہا تھا ۔۔۔۔ اور پھر اسے کچھ ہوش نہیں رہا تھا کہ کب اس کو سجایا گیا ۔۔۔؟؟؟ کب شمیلا نے اس کی تیاری مکمل کرکے زلیخا بائی کو کا کی ۔۔۔؟؟؟ وہ تو اپنے آپ پر فاتحہ بھی پڑھ چکی تھی۔۔۔ اس کو اپنے اندر زندگی کا احساس ہی نہیں ہو رہا تھ۔۔۔ وہ کیا کرتی۔۔۔۔؟؟؟ کیسے مزاحمت کرتی۔۔۔؟؟؟ ہاں اس نے اپنے پاس کھڑی شمیلا کے یہ الفاظ ضرور سنے تھے ۔۔۔۔۔

“ہاں۔۔۔ زلیخا بائی ۔۔۔ وہ بالکل تیار ہے ۔۔۔ آج اگر وہ ایم۔این۔اے “مدہوش” کر نا گیا تو میرا نام بدل دیجیئے گا ۔۔۔” پھر دوسری طرف سے کیا کہا گیا وہ نہیں جانتی تھی مگر اتنا پتا چل گیا تھا کہ اب اسے قبر میں اتارنے کا وقت آگیا ہے ۔۔۔۔ شمیلا زلیخا بائی کو اس کے زندہ لاش جیسے وجود کو کو “کفن” پہنانے کی “خوشخبری” دے رہی تھی ہاں ۔۔۔ اس نے کفن ہی تو پہنا تھا کیونکہ مر تو وہ یہاں آتے ہی گئی تھی ۔۔۔ اب بس اسے دفن ہی تو کرنا باقی رہ گیا تھا۔۔۔۔

اور پھر کچھ ہی دیر میں زلیخا بائی کمرے میں چلی آئی تھی ۔۔۔۔

“ہائے شمیلا۔۔۔۔ سچ میں یہ لڑکی تو قیامت ڈھا رہی ہے۔۔۔ اب دیکھنا وہ شہزادہ ہمارے ہاتھ میں کیسے آتا ہے ۔۔۔۔” زلیخا بائی نے اس کے تباہ کن “قیامت خیز” سراپے کو دیکھ کر شمیلا کو بے ساختہ داد دی تھی ۔۔۔ اور عائشے تو جیسے پتھر کی بن چکی تھی ۔۔۔ اسے اپنا جسم ایک برف کی سل کی مانند لگ رہا تھا ۔۔۔بے جان ۔۔۔ اور ساکت۔۔۔وہ تو شاید ہل بھی نہیں پارہی تھی مگر اس کی حالت سے بے نیاز زلیخا بائی اسے زبردستی اپنے ساتھ گھسیٹتی اس کمرے کی جانب بڑھ گئی جو آج خاص طور پر ھیشم اسماعیل خان کے شایانِ شان سجوایا گیا تھا ۔۔۔۔

🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹

وہ زلیخا بائی اور اپنے دوستوں کے ساتھ اسی مرکزی ہال نما کمرے میں چلا آیا تھا جو آج خاص طور پر ھیشم اور اس کے دوستوں کے لئے “ریزرو” تھا۔۔ کمرے میں داخلی دروازے کے ساتھ ہی لمبے لمبے گول ستونوں کے ساتھ پتلی سی راہ داریاں سی بنی تھیں جن میں باہری کمروں کی کھڑکیاں اندر اسی کمرے میں کھل رہی تھیں،،، کمرے میں ایک طرف کونے میں دوسرے فلور تک جانے کے لئے سیڑھیاں بنی ہوئی تھیں،،، اوپری فلور پر بھی اسی انداز میں کھل رہی تھیں،،،، کمرے کی چھت پر چار پانچ مختلف قسم کے جھاڑ لگے تھے۔۔ چاروں طرف دلفریب خوشبوئیں چکراتی پھر رہی تھیں۔۔۔ دائیں دیوار کے ساتھ ایک طرف لائن سے ویلویٹ کے مہرون صوفے پڑے تھے تو بائیں دیوار کے ساتھ فرشی نشتوں کا انتظام کیا گیا تھا۔۔۔ بیچ کے حصے میں نرم و گداز قالین بچھا ہوا تھا۔۔ یہ حصہ رقص کے لئے مخصوص تھا۔۔۔ محشم کے دوست سامنے فرشی نشستوں پر بیٹھ گئے تھے مگر ھیشم اپنی بھرپور مردانہ وجاہت کے ساتھ بڑی شان سے صوفے پر آبیٹھا تھا۔

اس نے ایک ہاتھ صوفے کی پشت پر پھیلا ہوا تھا تھا۔۔۔۔ جبکہ دوسرا مٹھی کی صورت میں منہ پر رکھا ہوا تھا۔

اسکی نیلی سحر انگیز آنکھیں چاروں جانب گھوم رہی تھیں ۔۔۔

جبکہ ان آنکھوں میں بے زاری صاف واضح تھی ۔

یہ بے زاری اس انتظار کی وجہ سے تھی جو اسے کرنا پڑ رہا تھا کیونکہ اسے کسی بھی چیز کا انتظار کرنا بالکل نہیں پسند تھا۔

کئی طوائفیں ستونوں اور کھڑکیوں کے پیچھے چھپی اس مغرور شہزادے کو دیکھ رہی تھیں جسے دیکھ کر ہی کسی یونانی دیوتا کا گمان ہوتا تھا۔

مگر وہ ان سب کی نظروں سے بے نیاز لاپرواہی سے بیٹھا سامنے بیٹھے اپنے دوستوں کو دیکھ رہا تھا۔

سامنے ہی اس کے گورے دوست مسرور سے بیٹھے شراب سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔

“ھیشم تم بھی لو نا ۔۔۔” اس کے ایک گورے دوست نے انگریزی زبان میں ھیشم کو پیشکش کی جسے اس نے بے زاری سے ٹھکرادیا۔

اس کے دوست نے بھی ذیادہ زور نہیں دیا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ ھیشم اسماعیل خان اپنی مرضی کا مالک ہے ۔

تھوڑی دیر میں اس کوٹھے کی مشہور طوائف ھیشم کے پاس آئی اور اسے لے کر ایک کمرے کی جانب بڑھ گئی۔۔

🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹

“ھیشم کو کمرے کے پاس چھوڑ کر وہ واپس پلٹ گئی تھی۔

وہ اپنے پیر کی ٹھوکر سے دروازہ کھولتا اپنی شاندار سحر انگیز شخصیت کے ساتھ پورے اعتماد سے کمرے میں داخل ہوا تھا۔۔۔ اور اپنے پیچھے دروازہ بند کرتا سامنے پڑے بیڈ کی طرف دیکھنے لگا تھا جس پر سرخ گلاب کی پتیوں کی چادر بچھی ہوئی تھی۔۔۔ اور بیڈ پر بیٹھا وہ نازک وجود عروسی لباس میں موجود تھا ۔۔۔ ھیشم کی نظر جیسے ہی اس لڑکی کے چہرے پر پڑی تھی اس کی بے نیازی جیسے لمحوں میں غائب ہوگئی تھی۔۔۔ وہ لڑکی تھی کہ کسی ماہر مصور کے ہاتھوں بنا حسن کا شاہکار۔۔۔۔ اس نے سرخ اور سبز رنگوں سے سجا بھاری لہنگا پہنا ہوا تھا۔۔۔ جس کا بھاری کام دار والا دوپٹہ طریقے سے سر پر ٹکایا گیا تھا ۔۔۔ چہرے پر موجود میک اپ نے اس کے حسن کو دو آتشہ بنا دیا تھا۔۔۔ ماتھے پر ٹیکا اور جھومر لگائے ناک میں بڑی سی نتھ پہنے وہ دلہنوں کا مخصوص روپ لئے نظر لگ جانے کی حد تک خوبصورت لگ رہی تھی۔۔۔ ھیشم اس لڑکی کے اس حسین روپ میں بری طرح الجھ کر رہ گیا تھا۔۔۔ اور ٹکٹکی باندھے خاموش کھڑا اسے دیکھے جا رہا تھا جبکہ عائشے جو کب سے سر جھکائے بیٹھی اپنی بے بسی پر خون کے آنسو روتے ہوئے اپنی آنکھیں موند کر دل ہی دل میں اس رب کے حضور اپنی عزت کی سلامتی کی دعائیں کر رہی تھی۔۔۔ اس نے کچھ دیر دروازہ کھلنے اور بند ہونے کی آواز با خوبی سنی تھی۔۔ کمرے میں کسی کی موجودگی کا احساس ہوتے ہی اس نے آنے والے کو اپنی بھیگی پلکیں اٹھا کر دیکھا تھا اور اپنے سامنے کھڑے اس شخص کو دیکھ کر وہ حیرت سے ساکت بیٹھی رہ گئی تھی۔۔۔ وہ اس شخص کو کیسے نا پہچانتی جس کی شہرت پورے شہر میں مشہور تھی۔۔۔ شاید ہی کوئی ایسا شخص ہوگا جو اسے نا جانتا ہو۔۔۔ عائشے بھی اس شخص کو نا صرف جانتی تھی بلکہ اسے یہ بھی پتہ تھا کہ اس کے سامنے کھڑا یہ شخص جہاں ضرورت مندوں میں اپنی رحم دلی کے لئے مشہور تھا۔۔۔۔ وہی ظالموں کے دلوں پر اس کا خوف اس حد تک طاری تھا کہ جرم کی دنیا کا بڑے سے بڑا نام بھی ھیشم اسماعیل خان کا نام سن کر تھر تھر کانپنے لگتا تھا۔۔۔۔ ہاں ۔۔۔ یہ شخص یہاں عائشے کے لئے نجات دہندہ کا روپ لے کر آیا تھا ۔۔۔ یہ عائشے کہ دن رات مانگی گئی دعاؤں کہ قبولیت بن کر آج اس کے سامنے آکھڑا ہوا تھا۔۔۔۔ یہی تھا جو اسے اس جہنم سے نکال سکتا تھا۔۔۔۔ پھر اس سے پہلے کہ ھیشم اپنا سکتہ توڑ کر عائشے کی طرف بڑھتا۔۔۔۔ عائشے بنا کچھ سوچے سمجھے ۔۔۔ اس کے پیروں میں جابیٹھی۔۔۔۔ اور اس جادو کی حسین مورت کو اپنے قدموں میں بیٹھے دیکھ کر ھیشم بے ساختہ دو قدم پیچھے ہٹا

تھا۔۔

“خدا کے لئے رحم کریں خان۔۔۔۔ رحم کریں مجھ پر ۔۔۔ اس دلدل سے مجھے نکال لیں۔۔۔۔ میں آپ کو واسطہ دیتی ہوں آپ کی سب سے عزیز ہستی کا۔۔۔۔ پلیز مجھے اس عقوبت خانے سے باہر نکال لیں۔۔۔۔ آپ کے نام کا خوف تو اس شہر میں سب کے دلوں پر ہے۔۔۔ میں اچھی طرح جانتی یوں “زلیخا بائی” بھی آپ کے سامنے دم مارنے کی ہمت نہیں رکھتی۔۔۔۔ وہ کہتی تھی کہ مجھ جیسے “ہیرے” کو وہ کسی “جوہری” کو پیش کرے گی۔۔۔۔ اسی لئے مجھے آج تک کسی کے سامنے پیش نہیں کیا گیا ۔۔۔۔ آج پہلی بار آپ کے سامنے پیش کیا گیا ہے۔۔۔ مگر میں اپنی عزت کا سودا نہیں کرنا چاہتی۔۔۔۔ پلیززز میں آپ کو اس رب رحیم کا واسطہ دیتی ہوں مجھے بچا لیں خان۔۔۔ پورا شہر آپ کے نام سے ڈرتا ہے ۔۔۔۔ یہ عورت بھی آپ سے بہت ڈرتی ہوگی۔۔۔ خدا کے واسطے خان۔۔۔۔ مجھے بچا لیں ۔۔۔ پلیزززز مجھے بچا لیں۔۔۔۔ ” ھیشم خان کے پیروں میں گری وہ روتی گڑگڑاتی چاندی جیسے رنگ والی لڑکی مکمل دلہن کے لباس میں سجی اس کوٹھے کی سب سے خوبصورت طوائف تھی،،،، جو اس کوٹھے پر پہلی بار اپنے دوستوں کے ساتھ آئے ھیشم کے دل پر پہلی ہی نظر میں پوری طرح قابض ہوگئی تھی،،، وہ یعنی ھیشم اسماعیل خان لاہور شہر کا ایک شہرت یافتہ نام تھا،،، پورے شہر پر اس کے نام کا سکہ چلتا تھا،،، آج وہ پہلی بار لاہور کے اس مشہور کوٹھے پر اپنے فارنر فرینڈز کے ساتھ ان کے بہت اصرار کرنے پر پہلی بار آیا تھا ۔۔۔۔

وہ نہیں جانتا تھا کہ اس کے پیروں میں بیٹھی یہ حسین مورت کون تھی۔۔۔؟؟؟ لیکن ہاں اسے اتنا ضرور پتہ چل چکا تھا کہ اس کوٹھے پر جسم فروشی کے اس کاروبار کو چلانے والی “زلیخا بائی” نے آج اس شہر کے ایم این اے کے قدموں میں اپنے کوٹھے کا “ہیرا” پیش کر دیا تھا۔۔۔ وہ حسین ڈول نا صرف اپنے وجود کی حشر سامانیوں کے ساتھ ھیشم کے دل کو لوٹ رہی تھی بلکہ اس کے چہرے پر چھائی معصومیت نے بھی ھیشم کو اپنے ساتھ باندھ لیا تھا۔۔۔ اس نے اپنے پیروں میں بیٹھی اس خوبصورت گڑیا کو اٹھایا تھا اور اس کے چہرے پر بہتے آنسوؤں کو پونچھنے کے لئے اپنی جیب سے رومال نکال کر بھی دیا تھا۔۔۔

“ہم نہیں جانتے تم کون ہو۔۔۔؟؟؟ مگر تم جب اس کام کے خلاف ہو تو یہاں کیا کر رہی ہو۔۔۔؟؟؟ کون لایا تمھیں یہاں۔۔۔؟؟” ھیشم کی خوبصورت بھاری آواز پر عائشے نے پلکیں اٹھا کر اسے دیکھا تھا،،،

“میں عائشے گل ہوں خان۔۔۔ آپ کے برابر والے گاؤں کے سردار ۔۔۔ زریاب حسین خان کی بھتیجی۔۔۔ اور ان کے بیٹے عادل حسین خان کی منگیتر۔۔۔” عائشے کے تعارف پر ھیشم ششدر رہ گیا تھا۔۔۔ اس کی خوبصورت نیلی آنکھوں میں شدید حیرت اتر آئی تھی۔۔۔

“تم زریاب حسین خان کی بھتیجی ہو۔۔۔۔؟؟؟ عادل کی منگیتر۔۔۔؟؟؟ مگر تم اپنی حویلی سے اس کوٹھے پر کیسے پہنچیں… ؟؟؟” ھیشم کی آواز میں حیرت کے ساتھ تجسس بھی تھا۔۔۔۔ عائشے نے کرب سے مسکراتے ہوئے اپنے سامنے کھڑے پر وقار سے سردار ھیشم اسماعیل خان کو دیکھا تھا اور پھر دھیرے دھیرے اس نے ھیشم کو اپنے بارے میں بتانا شروع کر دیا تھا۔۔۔ جبکہ ھیشم حیرت سے کھلی اپنی نیلی سحر انگیز آنکھوں سے اس ٹاکنگ ڈول کو دیکھتا جا رہا تھا۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *