Tere Ishq Sy Meri Zaat Tak by Ayesha Mughal NovelR50552 Tere Ishq Sy Meri Zaat Tak (Episode 25)
Rate this Novel
Tere Ishq Sy Meri Zaat Tak (Episode 25)
Tere Ishq Sy Meri Zaat Tak by Ayesha Mughal
خان حویلی کو دلہن کی طرح سجایا گیا تھا۔۔۔پوری حویلی کی دیواریں پھولوں کی لمبی لمبی لڑیوں سے ڈھکی ہوئیں تھیں۔۔۔لائٹس نے پوری حویلی کو روشن کر رکھا تھا۔۔۔ہر طرف پھولوں کی خوشبو پھیلی ہوئی تھی جو ماحول کو خوشگوار بنانے میں بھرپور کردار ادا کر رہی تھی۔۔۔پورا ہال مہمانوں سے بھرا ہوا تھا۔۔بڑی بڑی شخصیات اس وقت خان حویلی میں موجود تھیں۔۔۔ملازم یہاں سے وہاں مہمانوں کی خاطر تواضع کرتے بھاگتے نظر آرہے تھے۔۔۔ہر ایک چیز اپنے قیمتی ہونے کا ثبوت دے رہی تھی۔۔۔آج اس حویلی کی رونق اس حویلی کی جان روحی اور حازم کی شادی ہو رہی تھی کہیں کوئی کمی رہ جائے یہ بات ھیشم خان کیسے برداشت کر سکتا تھا نہیں۔۔۔ھیشم خان بلیک کرتے میں ملبوس اپنی مخصوص شاہانہ چال چلتا ہوا وہاں موجود مہمانوں کی جانب چلا آیا۔۔۔وہ کسی بزنس پارٹنر سے بات کرنے میں مصروف تھا جب سامنے سے آتی عائشے اپنا لہنگا سنبھالتی بمشکل سیڑھیاں اتر رہی تھی اس کی توجہ اپنی جانب مبذول کروا گئی۔۔۔۔۔۔آج وہ ھیشم خان کی خواہش پر دلہن کی طرح تیار ہوئی تھی۔۔ھیشم خان چاہتا تھا آج وہ اس کے لئے سنگھار کرے اس کی خواہش کے مطابق خود کو سنوارے۔۔۔اور اس وقت وہ بلکل اس کی خواہش کے مطابق تیار ہوئی تھی۔۔کلائیوں میں بھر بھر کر چوڑیاں پہنے لائٹ میک اپ کئے سرخ رنگ کے لہنگے میں ملبوس وہ ھیشم خان کو دنیا کی حسین ترین لڑکی لگ رہی تھی۔۔۔۔اس وقت ھیشم خان کو اس سے نظر ہٹانا مشکل ترین کام لگ رہا تھا۔۔اس کا دل چاہ رہا تھا وقت یونہی تھم جائے اور وہ جی بھر کے عائشے کو دیکھتا رہے۔۔۔جب اس سے رہا نہیں گیا تو وہ مسکراتا ہوا اپنی مخصوص چال چلتا ہوا عائشے کے پاس چلا آیا اور آنکھوں میں محبت کا سمندر لئے اسے بڑے آرام سے دیکھ تھا۔۔عائشے تو اس کی مسکراہٹ دیکھ کر ہی کنفیوز ہو گئی تھی۔۔۔ہیشم کو مسلسل اپنی طرف دیکھتا پاکر اس شرمیلی سی مسکان اس کے لبوں کو چھو گئی۔۔۔۔اور وہ شرم سے پلکیں جھکا گئی۔۔۔اور ھیشم تو مانو اس کی اس ادا پر فدا ہو کر ہی رہ گیا تھا۔۔۔
“واہ جان ھیشم۔۔۔آپ کی انہی اداؤں پر تو ہم فدا ہیں۔۔۔ہم سے پوچھیں آج آپ کتنی حسین لگ رہی ہیں۔۔۔۔”ھیشم خان نے معنی خیزی سے اس کے کانوں میں سرگوشی کی۔۔۔۔
“کیا کر رہیں ہیں آپ ۔۔۔کوئی دیکھ لے گا اتنا تو خیال کر لیا کریں۔۔۔نہ جگہ دیکھتے ہیں نہ کچھ اور۔۔۔۔”عائشے نے اردگرد نظریں دوڑاتے ہوئے مصنوعی غصے سے کہا۔۔۔۔
“ویسے ایک بات بتائیں۔۔۔آج ہماری پیاری سی بیوی شرما کیوں رہی ہیں۔۔۔؟؟اور اس شرم کی وجہ سے ٹھیک سے غصہ بھی نہیں کر پارہیں”ھیشم خان اب بھی اس کی تیاری کو ستائشی نظروں سے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
“میں میں۔۔۔کہاں شرما رہی ہوں۔۔۔۔؟؟”عائشے اس کی بات پر گڑبڑا گئی۔۔۔۔لیکن فورا خود کو سنبھالتے لاپرواہ ظاہر کیا تھا۔۔۔۔
“اچھا تو پھر آپ بلش کیوں کر رہی ہیں۔۔۔؟؟آپ کے یہ پیارے پیارے سے گال اتنے گلاب کیوں ہو رہے ہیں۔۔۔؟؟”ھیشم نے اس کے گلابی ہوتے گالوں کو کھینچتے ہوئے کہا۔۔۔
“آپ بھی نا۔۔۔ہٹیں سامنے سے۔۔۔۔۔”عائشے نے مسکراتے ہوئے کہا۔۔ناجانے کیوں آج اسے واقعی میں ھیشم سے شرم آرہی تھی۔۔۔اس کی والہانہ نظریں اسے پزل کر رہی تھیں۔۔۔۔اس سے پہلے وہ مزید کچھ کہتا وہ ھیشم کو راستے سے ہٹاتی مہمانوں کی جانب بڑھ گئی۔۔۔۔۔۔ھیشم خان بھی کسی سے کم نہیں لگ رہا تھا وہ بھی کسی ریاست کا شہزادہ لگ رہا تھا۔۔۔۔آج وہ خوش تھا آج وہ اپنے کندھے پر پڑی ذمےداری کو بخوبی پورا کرنے جا رہا تھا۔۔لیکن ہاں ایک جگہ کمی رہ گئی تھی۔۔۔شاید وہ ذیان کا فرض ٹھیک سے پورا نہیں کرپایا تھا۔۔ذیان کی یاد اب بھی اسے بےچین کرتی تھی۔۔اسے اس پر یقین نہ کرنے کا ملال تھا لیکن ذیان نے جو کیا وہ اس ملال پر غالب آجاتا تھا۔۔لیکن اس نے ہمیشہ زویا اور لیزہ کو پورا حق دینے کی کوشش کی تھی ان کے حق میں کوئی کوتاہی نہیں کی تھی۔۔
۔۔زویا بھی رحاب اور رباب کے ساتھ دوپہر میں ہ پارلرچلی گئی تھی۔۔ہر کوئی باتوں میں مصروف تگا۔۔۔۔جب یکدم ہال میں بارات کی آمد کا شور ہوا تھا۔۔۔تو عائشے اور ھیشم۔۔اور ننھے ننھے حوزان ,آثال اور لیزہ پھول کی پتیاں لئے بیرونی دروازے کی جانب بڑھ گئے۔حوزان اور آثال نے تو ھیشم جیسا ہی کرتا پہنا تھا جبکہ لیزہ نے باربی فراک پہنی تھی جس میں وہ کسی باربی ڈول سے کم نہیں لگ رہی تھی۔۔۔۔بارات کا استقبال دھوم دھام سے کیا گیا۔۔۔بارات کو چار چاند تو حازم نے لگائے تھے۔۔ھیشم بہت اچھے سے مسٹر لغاری سے ملا تھا۔۔۔۔پھر ھیشم جیسے ہی دانیال کو پھولوں کی مالا پہنانے لگا حازم جلدی سےآگے بڑھ کر وہ مالا اپنے گلے کی زینت بنا چکا تھا۔۔۔جب ھیشم نے حیرانی سے اس کی اس حرکت پر اسےطدیکھا تھا۔۔۔
“تم یہاں کیا کر رہے ہو۔۔؟؟”وہ کافی دیر سے حازم کو ڈھونڈ رہا تھا اور اب اسے بارات میں شامل دیکھ کر اس نے تعجب سے پوچھا۔۔۔
” اب آپ لوگ تو میری بارات لے کر گئے نہیں تو میں نے سوچا کیوں نا میں اپنی بارات خود لے جاؤ۔۔۔۔”حازم نے چہکتے ہوئے کہا۔۔اس کی بات پر سب نے زور سے قہقہ لگایا تھا۔۔۔۔خوشی اس کے چہرے سے پھوٹ رہی تھی۔۔۔ھیشم خان نے دل ہی دل میں اسے ہمیشہ خوش رہنے کی دعا دی تھی۔۔۔۔فنکشن چونکہ خان حویلی میں ہی کمبائن رکھا گیا تھا تو اس لئے حازم کا بارات لے کر جانے والا ارمان دھرا کا دھرا رہ گیا ۔۔لیکن وہ بھی تو حازم تھا کیسے نا اپنے ارمان پورے کرتا۔۔۔۔
“واہ بھئی ۔۔۔حازم تم تو ماسٹر مائنڈ نکلے۔۔دل کر رہا ہے کان کھینچ کر اندر لے جاؤ تمہیں۔۔۔”عائشے نے چہرے پر مسکراہٹ سجاتے ہوئے کہا۔۔
“بھابھی آج کے دن تو بخش دیں۔۔۔دیکھیں میرا کچھ نہیں جائے گا سب سمجھیں گے آپ روایتی ظالم بھابھیوں جیسی ہیں جس نے اپنے دولہا بنے دیور کو بھی نہیں بخشا۔۔۔۔”حازم نے فکرمندی سے کہتے قہقہ لگایا تھا۔۔۔
“چپ ہو جا ورنہ اب بھابھی کا تو پتا نہیں بھائی ضرور لگادے گا ایک۔۔۔۔”ھیشم نے اسے وارننگ دیتے دانیال کو بھی پھولوں کی مالا پہنائی تھی۔۔حازم اور دانیال نے باہمی مشاورت سے ایک جیسا ڈریس ہی بنوایا تھا۔۔۔تمام باراتیوں کا استقبال بھی معزز طریقے سے کیا گیا۔۔۔وہاں موجود ہر شخص کی آنکھوں میں ستائش تھی۔۔۔دانیال اور حازم اپنی مخصوص چال چلتے اسٹیج پر رکھے قیمتی صوفوں پر براجمان ہوئے تھے۔۔۔جب ننھا حوزان اپنے چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا اس کی گود میں آ بیٹھا ۔۔۔معصوم لیزہ اور کیوٹ سا آثال بھی اس کے ہمراہ تھے۔۔۔۔حازم نے باری باری تینوں کو پیار کیا تھا۔۔۔
“چاچو آج تو آپ بلکل ہیرو لگ رہے ہو۔۔۔۔”شرارتی حوزان معصومیت سے بولا۔۔۔۔
“تھینک یو میری جان ۔۔۔آپ بھی بہت پیارے لگ رہے ہو۔۔۔۔”حازم نے جھک کر اس کے گال پر بوسہ دیتے ہوئے محبت سے کہا۔۔۔۔
“چاچو۔۔۔آج آپ کی شادی ہے۔۔۔؟؟”حوزان کی جانب سے ایک اور سوال کیا گیا۔۔۔۔۔
“جی میری جان۔۔۔آج چاچو کی شادی ہے۔۔۔”حازم نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔۔۔۔
“چاچو میں نے بھی شادی کرنی ہے۔۔۔۔”حوزان نے معصومیت سے گال پھلاتے ہوئے کہا۔۔۔حازم نے اس کی بات پر حیرانی سے اس کی طرف دیکھا تھا۔۔۔
“اچھا۔۔لیکن ابھی تو آپ بہت چھوٹے ہو۔۔۔”
“نہیں ۔۔میں کو شادی کرنی ہے۔۔۔آپ روبی چاچی سے شادی کر رہے ہو۔۔۔مجھے بھی لذیذہ سے شادی کرنی ہے۔۔۔”حوزان بضد ہوا تھا ۔۔جبکہ اس کی بات پر دانیال اور حازم کا بھرپور قہقہ فضا میں گونجا تھا۔۔۔
“اوئے موٹو ڈھول۔۔۔مجھے نہیں کرنی تم سے شادی۔۔۔”خاموش کھڑی لیزہ نے غصے سے بولی۔۔۔۔
“کیوں نہیں کرو گی۔۔۔؟؟ہیرو جیسا تو ہوں۔۔۔”حوزان نے جیب میں رکھے گلاسز آنکھوں پر لگاتے ایکشن سے کہا۔۔۔۔
“کیونکہ تم گندے بچے ہو۔۔۔ہر وقت مجھ سے لڑتے ہو۔۔۔۔”لیزہ نے تڑخ کر کہا۔۔۔
“تم بھی تو مسٹر بین کی موٹی دادی ہو۔۔۔۔۔”حوزان نے شان بے نیازی سے کہا۔۔۔
“تم کیا ہو۔۔۔تنکے جیسی ٹانگوں والے مسٹر بین۔۔۔”لیزہ نے آنکھیں مٹکاتے ہوئی نخرے سے کہا۔۔۔
“اوئے چپ ہو جا حوزان۔۔۔۔بڑا تو ہوجا پہلے۔۔۔۔شادی بھی کر لینا۔۔۔”حازم نے حوزان سے کہا۔۔جس نے جوابی کاروائی کرنے کے لئے منہ کھولا ہی تھا کہ حازم کے ٹوکنے پر خفگی سے اس کی طرف دیکھنے لگا۔۔۔
“ارے حوزان۔۔۔۔میری تعریف تو تم نے کی ہی نہیں میں کیسا لگ رہا ہوں؟؟”دانیال نے اس کاموڈ بگڑتے دیکھ کر کہا۔۔۔
“آپ بلکل اچھے نہیں لگ رہے۔۔۔بلکل ٹیڈی بیئر لگ رہے ہیں۔۔۔۔”حوزان نے بگڑے موڈ سے کہا۔۔جب کہ اس کی بات پر دانیال کو سو والٹ کا جھٹکا لگا تھا۔۔۔
“میں کہاں سے ٹیڈی بیئر لگ رہا ہوں؟؟۔۔۔تمہارے چاچو جیسا ڈریس تو پہنا ہے میں نے بھی۔۔۔۔”دانیال نے مصنوعی خفگی سے کہا۔۔۔
“کیونکہ آپ میری پھپھو کو لے جاؤ گے۔۔۔آپ ڈاکو ہو۔۔۔۔”حوزان نے غصے سے کہا۔۔۔اور دانیال تو اتنے القاب پر غش کھا کر ہی رہ گیا۔۔۔
“ارے۔۔۔یہ کیا بات ہوئی۔۔۔۔اب میں خفا ہوں آپ سے۔۔۔۔”دانیال نے مصنوعی خفگی سے کہا۔۔۔
“انکل یہ تو ایسے ہی بولتا ہے آپ تو شاہ رخ خان لگ رہے ہو۔۔۔۔”اب کی بار آواز آثال کی جانب سے آئی تھی۔۔۔جو بھاگتا ہوا دانیال کی گود میں آبیٹھا۔۔۔۔۔اس کی بات پر حوزان دونوں ہاتھ منہ پر رکھے ہنسا تھا۔۔۔۔
“اوئے ڈھولو ۔۔۔پانڈا کیوں ہنس رہے ہو۔۔۔۔؟؟آثال صحیح کہہ رہا ہے۔۔۔۔”لیزہ نے اسے ہنستے دیکھ کر تپ کر کہا۔۔۔
“تم ہو گی پانڈی۔۔۔۔چڑیل۔۔۔”حوزان نے شرارت سے کہا۔۔۔۔
“نو حوزان۔۔۔بری بات ایسے نہیں کہتے۔۔۔۔”اسٹیج پر آتی عائشے نے اسے ٹوکا تھا۔۔۔۔
“مما یہ مجھے پانڈا کہہ رہی تھی۔۔۔”حوزان نے احتجاج کیا۔۔۔
“بری بات لیزہ ۔۔۔اللہ تعالی ناراض ہوتے ہیں نا ایسے۔۔۔”عائشے نے پیار سے اسے سمجھایا۔۔۔عائشے کی بات پر اس نے نظریں جھکا کر اثبات میں سر ہلایا تھا۔۔۔
“ادھر دیکھو میری گڑیا۔۔۔آج تو بڑی پیاری لگ رہی ہو۔۔بلکل پری جیسی۔۔۔”عائشے نے اس کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھتے اسے اپنی بانہوں کے حصار میں لیتے ہوئے کہا۔۔۔
“آپ بھی بہت پالی لگ رہی ہو بڑی مما۔۔۔”لیزہ نے مسکراتے ہوئے کہا۔۔
“تھینک یو مائی ڈول۔۔۔”عائشے نے اس کے گال پر پیار کرتے ہوئے کہا۔۔۔
“بھابھی ۔۔۔یہ رباب کب آئے گی۔۔۔؟؟”حازم نے عائشے کو متوجہ کرتے ہوئے سوال کیا۔۔۔
“شرم کر لو۔۔۔۔کیسے پوچھ رہے ہو کھلے عام۔۔۔۔”عائشے نے تڑخ کر کہا۔۔۔
“شرم کیسی بھابھی۔۔۔؟؟اپنے نام لکھوا چکا ہوں اب تو۔۔۔۔کیامیں لے آؤں پارلر سے۔۔۔؟؟”حازم نے ڈھیٹ بنتے ہوئے بیتابی سے پوچھا۔۔۔۔
“چپ ہو کر بیٹھے رہو۔۔مانا نکاح ہو چکا ہے لیکن ابھی رخصتی نہیں ہوئی۔۔۔”عائشے نے اسے ڈپٹتے ہوئے کہا۔۔۔۔
“انتظار نہیں ہوتا بھابھی۔۔۔۔”حازم اب بھی باز نہیں آیا تھا۔۔۔
“لیکن انتظار تو کرنا پڑے گا حازم۔۔۔۔۔”عائشےنے مسکراتے ہوئے کہا۔جبکہ عائشے کے منع کرنے پر حازم منہ بسور کر رہ گیا۔۔۔۔۔عائشے کو کسی لڑکی نے پکارا تھا اور وہ حازم کی طرف دیکھتی اس کی حالت سے محظوظ ہوتی اسٹیج سے اترتی چلی گئی۔۔۔۔














حازم اور دانیال کی بے چینی دیکھ دیکھ کر عائشے کو ہنسی آرہی تھی۔۔۔ان دونوں کی نظریں بار بار بیرونی دروازے پر جاتیں اور مایوس سی واپس لوٹ جاتیں۔۔۔انتظار تھا کہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا۔۔
“اوئے آجا ہم دونوں چلتے ہیں چھپ کر۔۔۔ناجانے کہاں رہ گئیں ہیں۔۔۔کب سے پاگلوں کی طرح انتظار کر رہےہیں ہم۔۔لیکن نہیں ان کو تو میک اپ تھوپنے کی پڑی ہے۔۔۔”جب کافی دیر تک بھی ان کی آمد نہیں ہوئی تو حازم نے خوش ہوتے ہوئے اپنا بودا سا مشورہ پیش کیا۔۔۔۔
“پاگل ہو گیا ہے کیا۔۔۔اگر ھیشم بھائی کو پتا چل گیا نا تو یہیں سو لوگوں میں جوتے پڑیں گے۔۔۔”دانیال نے اس کا مشورہ رد کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔
“نہیں پتا چلے گا یار کسی کو۔۔۔۔”حازم نے بیزاریت سے استفسار کیا۔۔۔
“میں تو نہیں جانے والا تو نے جانا ہے تو جا۔۔۔۔”دانیال نے حتمی لہجے میں کہا۔۔۔۔
“کتنا ڈرپوک ہے تو یار۔۔۔۔۔”حازم نےاس کے صاف منع کرنے پر شدید سکتے کے عالم میں کہا۔۔۔اس کا سکتہ تو صوفے کے پیچھے سے بر آمد ہوتے حوزان کی بات پر ٹوٹا تھا۔۔۔
“چاچو آپ کہاں بھاگ رہے ہو۔۔۔میں ابھی پاپا کو بتا کر آتا ہوں۔۔۔””حوزان نے معصومیت سے دھمکی دی۔۔۔
“کہیں نہیں جا رہا میرے باپ۔۔۔۔”حازم نے بگڑے موڈ سے کہا۔۔۔۔اس کا بس نہیں چل رہا تھا گھڑی کی سوئیاں آگے کر دے۔۔۔۔
“میں یہیں بیٹھا ہوں چاچو۔۔۔آپ پر ہی نظر ہے میلی ۔۔۔سوچنا بھی مت یہاں سے ہلنے کا۔۔۔ورنہ اپنی بندوق سے ڈھشکیاؤں کر دوں گا”حوزان نے پاس پڑے صوفے پر بیٹھتے رعب سے کہا۔۔۔
“ہاں ۔۔۔۔جہاں اتنے دشمن ہوں میں سوچ بھی کیسے سکتا ہوں کہیں جانے کا۔۔۔؟؟”حازم کا موڈ بری طرح خراب ہو چکا تھا۔۔۔۔
“چاچو چاچی آگئیں۔۔۔۔”اس سے پہلے کہ وہ واقعی ہی وہاں سے اٹھتا آثال کی آواز پر اس نے دروازے کی سمت دیکھا تھا اور آثال کے بتانے پر جو تھوڑی خوشی ہوئی تھی رباب کو گھونگھٹ میں دیکھ کر ساری خوشی پر پانی پھرا تھا۔۔۔۔۔عائشے,زویا اور حورم ان دونوں کو سہارا دیتیں اسٹیج تک لائیں تھیں۔۔۔۔انہیں اسٹیج کے قریب پہنچتے دیکھ کر حازم اور دانیال نے جلدی سے کھڑے ہوکر اپنا ہاتھ بڑھا کر انہیں اسٹیج پر چڑھنے میں مدد دی تھی۔۔۔۔۔اور ان کا ہاتھ تھامے صوفے پر بر اجمان ہو گئے۔۔۔ان چاروں کے لئے سب کی نظروں میں ستائش تھی۔۔۔وہ ساتھ بیٹھے نظر لگ جانے کی حد تک خوبصورت لگ رہے تھے۔۔۔جبکہ حورم وہیں دانیال کے ساتھ بیٹھ گئی۔۔۔
“رباب یہ گھونگھٹ اوڑھنے کی کیا ضرورت تھی۔۔۔۔؟؟”حازم نے اسے کہنی سے ٹہوکا مارتے بیتابی سے پوچھا۔۔۔
“نظر نہ لگ جائے اس لئے۔۔۔۔”جواب عائشے کی جانب سے آیا تھا۔۔۔۔
“حیرت ہے بھابھی۔۔۔۔اسے بھی نظر لگ سکتی ہے۔۔۔؟؟”حازم نے حیران ہونے کی بھرپور ایکٹنگ کی تھی۔۔
“کیوں نہیں لگ سکتی اتنی پیاری تو لگ رہی ہے آج بلکل چاند کے ٹکڑے جیسی خوبصورت۔۔۔۔”عائشے نے متعرف ہوتے ہوئے کہا۔۔۔
“بھابھی لیکن میں ذیادہ خوبصورت ہوں۔۔۔”حازم نے فرضی کالر جھاڑا تھا۔۔اس کی بات پر دلہن بنی بیٹھی رحاب نے بے ساختہ قہقہ لگایا تھا۔۔۔
“یہ خوبصورتی کا نام بدنام کر رہا ہے اور کچھ نہیں۔۔۔”رحاب نے ہنستے ہوئے کہا۔۔۔۔
“اچھا تم کون سے پرستان سے آئی ہو۔۔۔؟؟”حازم نے مضحکہ خیز لہجے میں پوچھا۔۔۔
“یہ چڑیلستان سے آئی ہے۔۔۔”دانیال نے اپنی ہنسی روکتے ہوئے کہا۔۔اس کی بات پر روحی نے زور سے اسکے پاؤں پر اپنی ہیل ماری تھی جس پر وہ صرف کراہ کر رہ گیا۔۔
“کتنی ظالم ہویار۔۔۔۔”دانیال نے بے بسی سے کہا۔۔۔اس سے پہلے کہ ان کی نوک جھونک مزید بڑھتی ھیشم کو اسٹیج پر آتے دیکھ کر ان کی زبان پرتالا لگاتھا۔۔۔۔
“عائشے۔۔۔آئیے ہم آپکو کسی سے ملواناچاہتے ہیں۔۔۔”ھیشم نے عائشے کی جانب دیکھتے ہوئےکہا۔۔۔۔
“بھائی پکا کسی سے ملوانا ہی ہے نا؟؟”حازم نے معنی خیزی سے پوچھا۔۔۔آج تو ہنسی تھی کہ رکنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔۔۔
“سدھر جا حازم۔۔۔”ھیشم اسے گھورتےہوئے کہتا عائشے کو لیتا مہمانوں کی جانب بڑھ گیا۔۔۔حورم بھی مسز لغاری کی پکار پر ان کی جانب بڑھ گئی۔۔۔















حازم کی بے چینی اب بھی ختم نہیں ہوئی تھی۔۔اب اسے ایک اور فکر لگی تھی۔۔۔ذیان اب تک نہیں آیا تھ۔۔۔۔پتا نہیں ذیان آئے گا یو نہیں۔۔؟؟یہ سوچ مسلسل اسے پریشان کررہی تھی۔۔وہ باربارپہلو بدل رہا تھا ۔۔۔اسںکو مسلسل بے چین دیکھ کر زویا جو پاس ہی کھڑی تھی وہ مسکراتے ہوئے گویا ہوئی۔۔۔
“کیا ہوا حازم۔۔؟؟کوئی آنے والاہے۔۔؟؟”
“ن۔۔نہ۔۔نہیں تو ۔۔۔کوئی بھی تو نہیں آنے والا۔۔۔”زویا کے اچانک سوال کرنے پر حازم نے گڑبڑا کر کہا۔۔جب کہ نظریں اب بھی بیرونی دروازے پر تھیں۔۔۔
“پھر اتنے بے چین کیوں ہو۔۔۔؟؟”فکر مند لہجے میں استفسار کیا گیا۔۔۔
“رخصتی کب ہوگی بھابھی۔۔۔؟؟”حازم نے جلدی سے بات کا پہلو بدلا تھا۔۔۔
“بڑے بے چین ہو۔۔۔”زویا نے اسے چھیڑتے ہوئے کہا۔۔۔
“میں تو ایسے ہی پوچھ رہا تھا۔۔۔”حازم نے بظاہر لاپرواہی سے کہا۔۔۔۔۔
“میں اچھے سے جانتی ہو تمہیں حازم۔۔۔۔”زویا نے تنبیہ کرتے ہوئے کہا۔۔۔زویا کی بات پر وہ دانتوں کی نمائش کرتا دانیال کی جانب متوجہ ہوا تھا۔۔۔۔
“دانیال بڑا ترس آرہا ہے مجھے تجھ پر۔۔۔۔”اب حازم کی توپ کا رخ دانیال کی طرف تھا۔۔۔
“وہ کیوں۔۔۔۔؟؟”دانیال نے ناسمجھی سے پوچھا۔۔۔
“یار تو اتنی بڑی مصیبت اپنے سر لے رہا ہے۔۔۔سلیوٹ ہے تجھے۔۔۔۔”حازم نے روحی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔جبکہ رحاب کا بس نہیں چل رہا تھا حازم کا سر پھاڑ دے۔۔۔
“تمہیں اس پر ترس کھانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔۔۔”رحاب نے غصے سے کہا۔۔۔۔
“تو تم سدھر جاؤ پھر۔۔ہر ایک کا جینا حرام کر دیتی ہو۔۔۔۔”حازم نے اپنی ہنسی دباتے ہوئے کہا۔۔۔
“نہیں سدھروں گی۔۔۔اور جسے اتنی ہی پرابلم ہے نا مجھ سے وہ دور رہے مجھ سے۔۔”رحاب نے منہ بسورتے ہوئے کہا۔۔۔
“ماشاءاللہ۔۔۔۔کتنی پیاری لگ رہی ہیں آپ دونوں۔اور کیوں ستا رہے ہیں آپ میری پیاری سوئیٹ سی بھابھی کو۔۔۔۔”اسٹیج پر چڑھتی حورم نے کہا۔۔۔
“ویسے پسند کس کی ہے۔۔؟؟”دانیال نے فرضی کالر جھاڑا۔۔۔۔
“بس بھیا جانتی ہوں میں آپکی پسند۔۔۔۔۔”حورم نے آنکھیں مٹکاتے ہوئے کہا۔۔۔
“یار یہ گرلز ہوتی ہی ڈرامے باز ہیں۔۔۔اور یہ بہنیں۔۔۔۔ان پر تو اللہ ہی رحم کرے۔کبھی تعریف تو کرتی ہی نہیں ہیں۔۔۔۔”دانیال نے شرارت سے کہا۔۔۔
“لڑکوں کی تعریف۔۔۔اور یہ لڑکیاں برداشت کر لیں نو وے۔۔۔۔یہ سیل تو ان میں پائے ہی نہیں جاتے۔۔۔۔۔۔”حازم نے تاسف سے کہتے دانیال کو آنکھ ماری تھی۔۔۔
“تعریف والے کام بھی تو ہوں۔۔۔”رحاب نے آنکھیں سکیڑتی غصے سے بولی۔۔
“بھیا کیا آپ اپنا فون دیں گے۔۔۔؟؟”حورم سب باتیں اگنور کرتی اپنے مطلب پر آئی تھی۔۔۔
“ہاں لے لو۔۔۔”دانیال نے جیب سے فون نکال کر حورم کی طرف بڑھایا تھا۔۔۔۔
“تھینک یو بھیا۔۔۔۔””حورم اس سے موبائل پکڑتی اسٹیج سے اترتی حویلی کی اندرونی طرف بڑھ گئی تاکہ سائیڈ پر جا کر سکون سے کال کر سکے ابھی وہ چل ہی رہی تھی جب کسی نے زور سے اس کا بازو پکڑ کر اپنی جانب کھینچا تھا ۔۔۔ہیل کی وجہ سے وہ لڑکھڑائی تھی لیکن سامنے والا پہلے ہی سنبھال چکا تھا۔۔۔اس نے پھٹی پھٹی نظروں سے سامنے کھڑے اس شخص کو دیکھا تھا۔۔۔جو چہرے پر بلا کی سنجیدگی لئے اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھ رہا تھا۔۔۔













وہ آئینے کے سامنے کھڑا بالوں کو سیٹ کرتا اجنبی نظروں سے خود کو دیکھ رہا تھا۔۔۔آج کتنے سالوں بعد وہ اتنا دل لگا کر تیار ہوا تھا۔۔۔وہ اپنی تیاری پر طائرانہ نگاہ ڈالتا آئینے کے سامنے سے ہٹا تھا۔۔اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کیسے جائے گا وہاں۔۔؟؟سب کا سامنا کیسے کرے گا؟؟ھیشم بھائی کو کیا جواب دے گا۔۔۔؟؟کیا وہ ان سب سے نظریں ملا پائے گا۔۔۔۔؟؟اس نے کئی دفعہ نا جانے کا ارادہ کیا تھا لیکن ناجانے کیا چیز تھی جو اسے اس جانب کھینچ رہی تھی۔۔وہ ناچاہتے ہوئے بھی جانے کے لئے تیار ہوا تھا۔۔۔۔لیکن اس سے پہلے وہ جائے نماز بچھا کر اللہ کے حضور حاضر ہوا تھا۔۔۔اور اس کے حضور التجاء کر رہا تھا۔۔۔
“یااللہ !رحاب کو ہمیشہ خوش رکھنا۔۔۔کہتے ہیں وقت کا پہیہ ہمیشہ الٹا گھومتا ہے۔۔۔اور جو عمل ہم کرتے ہیں اس کا مکافات عمل بھی ضرور ہوتاہے۔۔۔یااللہ میں بس تجھ سے اتنی فریاد کرتا ہوں میں نے جو کچھ کیا ہے اس کا بھگتان میری گڑیا کو نہ چکانا پڑے۔۔۔اس کے لئے تونے جسے بھی چنا ہے وہ ہمیشہ اس کے ساتھ مخلص رہے۔۔۔۔میری گڑیا کو کبھی کانٹا تک نہ چبھے۔۔۔یااللہ جو عمل میں کر چکا ہوں اسکی بدولت مجھے اپنی بہن کے نصیب سے ڈر لگ رہا ہے۔۔۔۔تو تو رب ہے نا۔۔۔ہم تو تیرے کن کے محتاج ہیں۔۔تو تو کائنات میں موجود ہر چیز پر قادر ہے تو اے میرے رب رحاب کی زندگی میں ہمیشہ بہار رکھنا۔۔۔ناجانے کیوں آج دل کھنچا جارہا ہے اس جانب۔۔۔ایسا لگتا ہے کچھ ہونے والا ہے۔۔۔دل بہت گھبرا رہا ہے میرے مولا۔۔۔سب کی حفاظت فرمانا۔۔۔۔”ذیان نے روتے ہوئے کہا۔۔۔۔اب اسے رونے کی وجہ نہیں چاہئیے ہوتی تھی وہ تو بس جیسے ہی بارگاہ الہی میں حاضر ہوتا اس کی آنکھیں نم ہو جایا کرتی تھیں۔۔۔۔آج وہ ڈر رہا تھا اپنی بہن کے نصیب سے کیونکہ جو کچھ اس نے کیا وہ بھی تو کسی کی بہن تھی۔۔بیٹی تھی۔۔لیکن اسے تب یہ سب کہاں یاد تھا۔۔۔۔روحی کے اچھے نصیب کی دعا کرتا جائے نماز طے کرکے رکھتا وہ بیرونی دروازے کی جانب بڑھ گیا اور اب اس کا رخ خان حویلی کی جانب تھا۔۔۔۔
