Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tere Ishq Sy Meri Zaat Tak (Episode 15)

Tere Ishq Sy Meri Zaat Tak by Ayesha Mughal

صبح سورج کی شعاعیں جیسے ہی عائشے کے چہرے پڑیں تو اس نے کسمسا کر اپنی آنکھیں واں کیں۔۔۔ تبھی کچھ یاد آنے پر اس نے جھٹکے سے پوری آنکھیں کھولیں تو خود کو ھیشم کی بانہوں کے حصار میں پایا تھا ۔۔۔ پھر اسے گزری رات کا ایک ایک لمحہ یاد آنے لگا تو اسکے لبوں پر شرمیلی سی مسکان دوڑ گئی ۔۔۔ اس نے آہستگی سے ھیشم کے بازوؤں سے خود کو آزاد کروایا۔۔۔ اور گھڑی پر نظر پڑتے ہی وہ جلدی سے اٹھی اور واش روم کی جانب بڑھ گئی۔۔۔ جیسے ہی وہ فریش ہو کر نکلی۔۔۔۔۔تب تک ھیشم بھی جاگ چکا تھا ۔۔۔شاید وہ عائشے کے جاتے ہی اٹھ گیا تھا۔۔۔ اور واش روم کے دروازے کے آگے کھڑی عائشے کے پاس آیا۔۔۔ جو اسے اپنی جانب آتا دیکھ کر اپنی جگہ ہی تھم کر رہ گئی تھی ۔۔۔

“گڈ مارننگ سویٹ ہارٹ۔۔۔” ھیشم نے جھجھکتی شرماتی عائشے کو اپنی نظروں کے حصار میں لے کر اس کے کان میں سرگوشی کی تھی۔۔۔۔

“گڈ مارننگ ٹو۔۔۔ ” وہ ھیشم کو مسکراتے ہوئے دیکھ کر جھجھکتے ہوئے بولی تھی۔۔۔۔ اس کی جھجھکتی ہوئی آواز سن کر ھیشم مسکراتے ہوئے گویا ہوا۔۔

“آپ شرما کیوں رہی ہیں۔۔۔۔؟؟”ھیشم نے شرارت سے اس کی طرف دیکھا۔۔۔۔اسکی اس حالت سے ھیشم بہت محظوظ ہو رہا تھا۔۔۔۔۔

“میں کہاں شرما رہی ہوں۔۔۔اور آپ اب تک یہاں کھڑے ہیں۔۔۔۔حد ہو گئی کتنے لیزی ہیں آپ۔۔۔جائیں فریش ہو جائیں ویسے ہی کافی لیٹ ہو چکے ہیں۔۔۔۔”عائشے نے اسے واشروم کی جانب دھکا دیتے ہوئے کہا۔۔۔

“اورجلدی تیار ہو جائیں۔۔۔ ہم آپ کے ساتھ ہی ناشتہ کریں گے۔۔۔ ” وہ عائشے کو تاکید کرتا ساتھ ہی واش روم کی طرف بڑھ گیا تھا۔۔۔ اس کے جاتے ہی عائشے بھی مسکراتی ہوئی ڈریسنگ کے سامنے بیٹھ کر اپنے بال سلجھانے لگی تھی ۔۔ کچھ ہی دیر میں ھیشم نہا کر باتھ روم سے باہر آیا تھا اور ڈریسنگ ٹیبل کے آگے بیٹھی عائشے جلدی سے اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔۔۔ اب وہ جلدی جلدی اپنے بالوں میں برش پھرتا خود پر پرفیوم کی بوچھار کر رہا تھا پھر شرارت سے اس نے وہی پرفیوم اپنے پاس کھڑی عائشے پر بھی ڈال دیا تھا۔۔۔

“ہم چاہتے ہیں آپ سے بھی ہماری ہی خوشبو آئے۔۔۔” وہ عائشے کو دیکھ کر شرارت سے چمکتی آنکھوں کے ساتھ بولا تھا اور پھر عائشے کے بالوں کو چھیڑتا باہر کی جانب بڑھ گیا۔۔۔۔

“ہم نیچے آپ کا ویٹ کر رہے ہیں عائشے ۔۔ جلدی آئیں مگر ہاں نیچے آنے سے پہلے ہماری عائشے بن کر آئیے گا۔۔ ہم آپ کو آج اپنے لئے ہار سنگھار کرتے دیکھنا چاہتے ہیں۔بلکل اپنی پسند کے مطابق۔۔۔۔” ھیشم باہر نکلنے سے پہلے بولا تھا اور اس کی خواہش سن کر عائشے نے بھی شرماتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا تھا۔۔۔

پھر وہ اس کی خواہش کے مطابق خوب دل لگا کر تیار ہوئی تھی ۔۔ بھر بھر کر ہاتھوں میں سوٹ کی میچنگ چوڑیاں۔۔۔ گلے اور کانوں میں سونے کا نازک سا سیٹ اور انگلیوں میں رنگز پہننے کے بعد اس نے آنکھوں میں کاجل اور آئی لائنر لگایا تھا ۔۔۔ ہونٹوں پر شوخ رنگ کی لپ اسٹک کا کوٹ پھیرتے ہوئے وہ لمبے کھلے بالوں کے ساتھ ھیشم کی عائشے کا روپ دھار چکی تھی۔۔ ابھی وہ خود کو ہر اینگل سے آئینے میں دیکھتی ہوئی باہر جا ہی رہی تھی کہ یکدم بیڈروم کا دروازہ دھڑ سے کھلا اور ھیشم خان کسی طوفان کی طرح کمرے میں داخل ہوا ۔۔ وہ تیزی سے چلتا عائشے اور اپنے درمیان موجود فاصلہ طے کرتا ہوا عائشے کے پاس پہنچا تھا اور اس کی نازک کلائی کو اپنی مضبوط گرفت میں جکڑتا باہر کی جانب بڑھ گیا۔۔۔اس کی جارحانہ گرفت پر عائشے کے ہاتھ میں پڑی کتنی ہی چوڑیاں ٹوٹ کر فرش پر بکھرتی چلی گئی تھیں مگر وہ ہر چیز سے لاپرواہ بس عائشے کو اپنے ساتھ گھسیٹتے ہوئے لے جا رہا تھا ۔۔۔ جبکہ عائشے کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ اچانک ھیشم کو کیا ہوا تھا۔۔۔؟؟؟ وہ اس اچانک افتاد پر بری طرح گھبرا گئی تھی اور ناسمجھی سے ھیشم کی جانب دیکھتے ہوئے اس کے ساتھ گھسٹتی جا رہی تھی۔۔۔ ھیشم کا چہرہ اس وقت غصے کی زیادتی سے سرخ ہو رہا تھا۔۔ گردن کی نسیں تنی ہوئی تھیں۔۔۔ اس کی گرفت عائشے کی کلائی پر کافی مضبوط تھی جسکی وجہ سے اسکی کلائی کی مزید چوڑیا ٹوٹ کر اس کے ہاتھ میں کھپ گئی تھیں اور اس بار اس کی کلائی سے خون نکلنے لگا تھا ۔۔۔اسے تکلیف ہو رہی تھی۔۔ بے حد تکلیف ۔۔۔۔ جس کی شدت سے اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے تھے ۔۔ لیکن ھیشم خان پر تو نجانے کونسا جنون سوار تھا جس نے ایک بار بھی عائشے کی طرف دیکھنے کی غلطی نہیں تھی۔۔۔۔ پھر لاؤنج میں لا کر ہی ھیشم خان نے جھٹکے سے عائشے کی کلائی کو آزاد کیا۔۔۔۔

“یہ انسان یہاں کیا کر رہا ہے عائشے۔۔۔۔؟؟” سامنے کھڑے عادل کو دیکھ کر ھیشم غصے سے غرایا۔۔۔ اور اب عائشے کو ھیشم کے غصے کی وجہ سمجھ میں آئی تھی۔۔

“وہ انہیں چوٹ لگ گئی تھی تو میں نے انھیں یہی روک کر گیسٹ روم میں بھیج دیا۔۔۔۔” عائشے نے گھبراتے ہوئے کہا۔۔۔آنسو مسلسل بہہ رہے تھے۔۔۔۔ تکلیف کی شدت کی وجہ سے اس سے بولا بھی نہیں جارہا تھا۔۔۔۔

“آپ کی ہمت کیسے ہوئی اسے گیسٹ روم میں بھیجنے کی ۔۔۔۔؟؟؟؟ آپ نے کس سے پوچھ کر اسے یہاں روکا ہے ۔۔۔؟؟ آپ اچھے سے جانتی ہیں کہ ہمیں یہ انسان بلکل بھی پسند نہیں ہے تو آپ نے اسے کل ہی جانے کے لئے کیوں نہیں کہا۔۔۔؟؟” ھیشم خان غصے سے عائشے کی طرف دیکھتے ہوئے چلا کر کہا اور عائشے اس کے یوں چلانے پر ہی سہم کر رہ گئی تھی۔۔۔۔

“و۔۔وہ انہیں چوٹ لگ گئی ت۔۔۔۔ تھی۔۔ ت۔۔۔۔ تو م۔۔ م۔۔۔ میں ن۔۔۔۔ نے۔۔۔”عائشے ہکلاتے ہوئے کہہ رہی تھی جب ھیشم خان دوبارہ گرج اٹھا تھا۔۔۔۔

“یہ ہمارا گھر ہے عائشے کوئی ہاسپٹل نہیں ہے۔۔۔اور ہماری بلا سے کہ اسے چوٹ لگی تھی یا یہ مر رہا تھا آپ نے اسے ہمارے گھر میں کیوں ٹھہرایا ۔۔؟؟؟ اس کے ساتھ کچھ بھی ہو ہمیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا اور آپکو بھی اب اس سے بلکل فرق نہیں پڑنا چاہیئے ۔۔۔ ہم اس انسان کو اپنے گھر میں ایک لمحے کے لئے بھی برداشت نہیں کر سکتے۔۔۔ اور آپ نے اسے پوری رات یہاں پر روکے رکھا ۔۔۔۔؟؟؟ آپ نے ٹھیک نہیں کیا عائشے۔۔۔۔ ہمیں آپ سے یہ امید نہیں تھی کہ آپ ہمارے سامنے ہی ہماری مخالفت کریں گی۔۔۔ اسے یہاں سے جلد سے جلد دفع کریں ورنہ ہم اس کو زندہ نہیں چھوڑیں سمجھیں آپ۔۔۔۔؟؟ اب یہ شخص دوبارہ یہاں نہیں آنا چاہیئے۔۔۔۔ ” ھیشم خان نے اپنی انگارہ برساتی نظروں سے عائشے کی جانب دیکھ کر کہا تھا۔۔ وہ اپنے غصے میں یہ تک بھول چکا تھا کہ سامنے کھڑی لڑکی کوئی اور نہیں اسکی بیوی عائشے ہے جس سے وہ ٹوٹ کر محبت کرتا تھا اور کل رات ہی وہ اس کو اچھی طرح یہ باور کروا چکا تھا کہ وہ اسے کتنی شدتوں کے ساتھ چاہتا تھا ۔۔۔ وہ کل رات اس پر اپنی جان تک لٹا دینے کو تیار تھا ۔۔۔ مگر اس وقت کیسے اجنبی بنا ہوا تھا اور عائشے کے ساتھ اس طرح پیش آرہا تھا جیسے وہ ھیشم کی خریدی ہوئی کوئی کنیز ہے اور جس کے ساتھ کسی غیر شخص کے سامنے یہ توہین آمیز سلوک کرتے ہوئے بھی ھیشم کو ذرا سی ہچکچاہٹ محسوس نہیں ہو رہی تھی اور اسے تو یہ اندازہ بھی نہیں تھا کہ وہ اپنے رویئے سے عائشے کو کس بری طرح ہرٹ کر چکا تھا۔۔۔۔ عائشے کو اس کا انداز بہت تکلیف دے رہا تھا۔۔۔ تکلیف سے زیادہ شرمندگی سے اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے تھے ۔۔کل ھیشم خان کی محبت اسے دور کہیں آسمانوں کی سیر کروا کر لائی تھی اور اب اسی محبت کرنے والے شخص نے اسے اتنی بری طرح زمین پر پٹخا گیا تھا کہ وہ ٹوٹ کر رہ گئی تھی ۔۔۔ ھیشم نے اسے عادل جیسے انسان کے سامنے ذلیل کیا تھا جس کے سامنے وہ کتنے دھڑلے سے خوش ہونے کا دعوہ کرچکی تھی۔۔۔ کتنا مان تھا اسے ھیشم خان کی محبت پر لیکن ھیشم نے اسے عادل کے سامنے ہی رسوا کردیا تھا۔۔۔ آج وہ بری طرح اس کے دل کو توڑ چکا تھا۔۔۔۔

میں کیا کہہ رہا ہوں آپ سے سنائی دے رہا ہے آپ کو۔۔۔؟؟؟” ھیشم کی دھاڑتی آواز پر قہ زور سے وہ اپنی جگہ سے اچھل پڑی تھی۔۔۔

“ج۔۔جی۔۔ ٹھیک ہے اب ایسا نہیں ہوگا ۔۔۔ “عائشے نے ڈبڈباتی آنکھوں سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے صرف اتنا ہی کہا تھا۔۔۔

“اگر یہ انسان دوبارہ ہمیں اس حویلی میں نظر آیا تو ہم اسے اس علاقے تو دور دنیا میں بھی رہنے نہیں دیں گے ۔۔۔۔اگر یہ اپنی سلامتی چاہتا ہے تو اسے کہئیے کہ دوبارہ اس علاقے میں آس پاس بھی نظر نہ آئے ورنہ ہم سے برا کوئی نہیں ہوگا۔۔۔۔”

ھیشم خان عائشے کو تنبیہہ کرتے ہوئے قہر بھری نظروں سے عادل کو دیکھ کر لمبے لمبے ڈگ بھرتا وہاں سے نکلتا چلاگیا اور عائشے کی شکوہ کناں نظروں نے دور تک اسکا پیچھاکیا تھا۔۔۔

عادل خان جو کب سے چپ کھڑا پوری کارروائی دیکھ رہا تھا ھیشم کے جاتے ہی وہ عائشے کی طرف مضحکہ خیز نظروں سے دیکھ کر مسکرایا۔۔۔

” آپ کوسمجھ نہیں آتی نا میری بات۔۔۔؟؟جب میں نے آپ سے کہا تھا صبح ہوتے ہی یہاں سے چلے جائیے گا تو کیوں نہیں گئے آپ۔۔۔۔؟؟” عائشے نے غصے سے اپنے سامنے کھڑے عادل کو دیکھا اور چلاتے ہوئے بولی۔۔۔

“کیونکہ میں تم سے محبت کرتا ہوں اور تمھیں اس جہنم میں چھوڑ کر نہیں جانا چاہتا۔۔۔” عادل نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے نرمی سے کہا۔۔۔

“اپنی زبان کو لگام دیں۔۔۔ یہ بکواس کرنے سے پہلے اپنے ذہن میں یہ بات اچھے سے بٹھا لیں کہ میں ھیشم خان کی بیوی ہوں ۔۔۔ یہ گھر جسے آپ جہنم کہہ رہے ہیں یہ میرے لئے کسی جنت سے کم نہیں ہے ۔۔۔ اور الحمد للہ میں اپنی اس جنت میں بہت خوش ہوں۔۔۔ آپکو کس نے کہا ہے میری فکر کرنے کے لئے۔۔۔۔؟؟” عائشے نے تڑخ کر کہا۔۔۔

“لگامیں تو میں ڈال ہی لوں گا عائشے ۔۔ اور جس جنت میں خوش رہنے کی تم بات کر رہی ہو وہ تو میں ابھی دیکھ ہی چکا ہوں۔۔۔۔”عادل خان کے طنزیہ مسکراتے ہوئے کہا تھا۔۔۔

“کیا دیکھ چکے ہیں آپ۔۔؟؟ ابھی یہاں جو سب ڈرامہ ہوا ہے اس کے ذمہ دار بھی آپ ہیں ۔۔۔ ورنہ غصہ تو دور میرے ھیشم تو کبھی مجھ سے اونچی آواز میں بھی بات نہیں کرتے ۔۔ وہ مجھ سے بہت محبت کرتے ہیں۔۔ اور میں بھی ھیشم کی سنگت میں بہت خوش ہوں ۔۔ کیونکہ ھیشم خان ہی وہ انسان ہیں جس نے مجھے عزت کی زندگی دی ہے۔۔ مجھے ذلیل و خوار ہونے اور موت سے بھی بدتر زندگی گزارنے سے بچایا ہے ۔۔۔ اس کوٹھے سے لانے کے بعد بھی ھیشم مجھے بہت عزت دیتے ہیں ۔۔۔ الٹا آپ کے والد صاحب مجھے گھٹیا اور گرا ہوا سمجھتے ہیں اور اب آپ آگئے ہیں جو میری زندگی کو عذاب بنانے پر تلے ہوئے ہیں۔۔۔۔ “عائشے نے تلخی سے کہا۔۔۔۔

“جھوٹ مت بولو عائشے میں جانتا ہوں تم خوش نہیں ہو۔۔ میں پھر سے کہہ رہا ہوں اس کے احسان کے لئے اپنی زندگی داؤ پر مت لگاؤ چلو میرے ساتھ ۔۔۔۔ میں تمھیں ہمیشہ خوش رکھوں گا۔۔۔” عادل نے اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے کہا مگر عائشے اس کے ہاتھ تھامنے پر یوں اچھلی جیسے اسے بچھو نے ڈنک مار دیا ہو۔۔۔ اس نے جھٹکے سے عادل سے اپنا ہاتھ چھڑوایا تھا اور پھر اس کا ہاتھ اٹھا تھا اور عادل کے چہرے پر نشان چھوڑتا چلا گیا۔۔۔

“اگر دوبارہ مجھے ہاتھ لگانے کی کوشش بھی کی تو ہاتھ توڑ کر رکھ دوں گی۔۔۔ایک بات ہمیشہ یاد رکھئیے گا کہ اب میں عائشے ھیشم خان بن چکی ہوں اور اس وقت آپ جس سے مخاطب ہیں وہ کوئی عام لڑکی نہیں بلکہ ھیشم خان کی بیوی ہے۔۔۔ سو بی کیئر فل ۔۔۔” عائشے نے اسے اپنے اور ھیشم کے مابین موجود پاکیزہ رشتے سے آگاہ کرتے ہوئے کہا جبکہ عادل اس ڈری سہمی سی عائشے کی ہمت دیکھ کر ہی شاکڈ رہ گیا تھا۔۔۔۔۔کتنا بدل گئی تھی وہ۔۔۔کہاں وہ دبو سی چپ چپ سی رہنی والی عائشے اور کہاں یہ سامنے کھڑی پر اعتماد لڑکی۔۔۔

“اب ایک احسان کریں مجھ پر ۔۔۔ یہاں سے چلے جائیں اور دوبارہ کبھی پلٹ کرغلطی سے بھی یہاں مت آئیے گا۔۔۔” عائشے اس کے سامنے غصے سے ہاتھ جوڑ کر بولی تھی ۔۔۔

“تمھیں میرا ہونا ہی پڑے گا عائشے ۔۔۔ تم میرے جذبات کا اس طرح قتل نہیں کرسکتی میں تمہیں اپنا بنا کر ہی رہوں گا یہ میرا تم سے وعدہ ہے۔۔۔۔۔” عادل اپنے سرخ ہوتے گال پر ہاتھ رکھ کر بڑبڑایا جہاں اب بھی عائشے کے مارے گئے تھپڑ سے اسے جلن محسوس ہو رہی تھی۔۔۔

🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹

عادل صبح کے ہنگامے کے بعد حویلی سے جا چکا تھا ۔۔اس کے جانے کے بعد عائشے بھی کچھ پرسکون ہوئی تھی مگر ساتھ ہی ھیشم کا سلوک یاد کرکے وہ صبح سے ملول و دلگرفتہ سی تھی ۔۔۔ پھر رات کا کھانا کھائے بنا وہ اپنے روم میں بند ہوگئی تھی ۔۔۔ ھیشم بھی صبح سے گھر سے لاپتہ تھا۔۔ حجاب نے کئی بار عائشے کو کھانا کھانے کے لئے فورس کیا تھا مگر وہ طبیعت کی خرابی کا بہانہ بنا کر اسے ٹالتے ہوئے اپنے بیڈروم میں چلی آئی تھی اور کمرے میں آتے ہی ایک بار پھر اس کا ضبط ٹوٹ گیا تھا۔۔ تبھی اس نے چینج کرکے بیڈ پر لیٹتے ہوئے سر سے پیر تک خود کو کمفرٹر میں چھپایا تھا اور تکیے میں منہ چھپاتے ہوئے گھٹ گھٹ کر رونے لگی تھی ۔۔ کم مائیگی کے احساس کے ساتھ ساتھ دل میں اٹھتا درد بھی اس کے لئے ناقابل برداشت تھا۔۔ وہ آنکھیں موندے اس ستم گر کے صبح کے رویئے کو سوچ سوچ کر روتی جا رہی تھی پھر پتہ نہیں کب روتے روتے اس کی آنکھ لگی تھی اور پھر کچھ ہی دیر بعد اس کی نیند کسی احساس کے تحت خراب ہوئی تھی۔۔۔ اسے لگا کوئی اسے بہت دھیمی آواز میں پکار رہا ہے۔۔۔اس کا دماغ دھیرے دھیرے بے دار ہو رہا تھا۔۔۔۔ عائشے نے سخت بے چینی محسوس کرتے ہوئے اپنی آنکھیں کھولی تھیں۔۔۔ ھیشم اس کے قریب کھڑا اسے بہت محبت سے پکار رہا تھا۔۔۔

تبھی عائشے ایک جھٹکے سے اٹھ بیٹھی تھی بلکہ جلدی سے بیڈ سے بھی اتر کر اٹھ کھڑی ہوئی تھی ۔۔۔ ھیشم نے چونک کر اس کا یہ گریز دیکھا تھا۔۔۔

“عائشے کیسی طبیعت ہے اب آپ کی۔۔۔؟؟؟رحاب نے ہمیں بتایا تھا کہ آپ کی طبیعت خراب ہے۔۔۔” ھیشم بولتا ہوا اس کے پاس چلا آیا۔۔۔

“میں ٹھیک ہوں خان ۔۔۔ آپ کے لئے کھانا لے کر آتی ہوں۔۔۔” عائشے بنا اس کی طرف دیکھے بولی تھی۔۔۔ اور اس کی زبانی “ھیشم” کی جگہ “خان” سن کر ھیشم کو اندازہ ہوگیا تھا کہ عائشے اس سے کس حد تک خفا ہے۔۔۔

“عائشے ہم صبح کے رویئے کے لئے آپ سے معذرت کرنا چاہتے ہیں۔۔۔ غصے میں ہم آپ سے کچھ زیادہ ہی لاؤڈ ہوگئے تھے۔۔۔” اب غصہ اترا تھا تو اسے اپنا صبح والا سلوک بھی یاد آیا تھا۔۔ تبھی جب وہ بولا تو اس کا لہجہ بہت نرم اور دھیما تھا۔۔۔

“کوئی بات نہیں خان ۔۔۔ خریدی ہوئی عورتوں کے ساتھ ایسا ہی سلوک کیا جاتا ہے۔۔۔ میں کونسا آپ کی زندگی میں عزت کے ساتھ داخل ہوئی ہوں ۔۔۔ کوٹھے سے خرید کر لائے تھے آپ مجھے ۔۔۔ یہ شادی آپ کے لئے مجبوری کا سودا تھی تو میرے لئے عزت کے ساتھ جینے کا واحد حل ۔۔۔ اسی لئے آپ شرمندہ مت ہوں۔۔۔” عائشے کے الفاظ نہیں وہ نوکیلے تیر تھے جو لمحوں میں ھیشم کا سینہ چھلنی کر گئے تھے تبھی وہ تڑپ کر رہ گیا تھا ۔۔۔

“عائشے یہ۔۔۔ یہ سب کیا کہہ رہی ہیں۔۔؟؟؟ آپ ہماری بیوی ہیں ۔۔۔ ھیشم خان کی بیوی۔۔۔ پھر خود کے لئے اتنے گرے ہوئے الفاظ استعمال کرنے کی ہمت کیسے ہوئی آپ کی۔۔۔؟؟؟” ھیشم نے اسے کندھوں سے پکڑ کر جھنجھوڑ ڈالا تھا۔۔۔

“ہاں یہی میں آپ کو سمجھانا چاہتی ہوں کہ میں بیوی ہوں آپ کی جس کے ساتھ آپ نے کسی تیسرے بندے کی موجودگی میں یہ سلوک کیا ۔۔۔ ” عائشے نے اپنی زخمی کلائی ھیشم کے سامنے کی تھی ۔۔۔ ھیشم نے چونک کر اس کی کلائیوں کو دیکھا تھا۔۔ بائیں ہاتھ کی کلائی پر چوڑیاں ٹوٹنے کی وجہ سے کئی سارے زخم بنے ہوئے تھے ۔۔۔۔ دن میں سب کی موجودگی کی وجہ سے عائشے نے اپنے زخمی ہاتھ کو دوسرے ہاتھ کی چوڑیاں اتار پورا کور کر لیا تھا تاکہ اس کے زخموں پر کسی کی نظر نا پڑے مگر ابھی سونے سے پہلے اس نے اپنے ہاتھوں کو چوڑیوں سے آزاد کر لیا تھا اور اب اس کی بائیں زخمی پڑی بائیں کلائی دیکھ کر ھیشم کو خود پر جی بھر کر غصہ آیا تھا۔۔۔ اس نے عائشے کی بائیں کلائی کو نرمی سے تھاما مگر تبھی عائشے نے تڑپ کر اس سے اپنا ہاتھ چھڑایا تھا۔۔۔

“اس سب کی ضروت نہیں خان میں کھانا لے کر آتی ہوں ۔۔۔ ” وہ کترا کر بولتی ہوئی بیڈروم سے باہر جانے لگی تھی مگر ھیشم نے ایک بار پھر اس کا ہاتھ تھام کر اسے روکا تھا اور اسے لئے بیڈ پر آ بیٹھا تھا ۔۔۔ پھر فرسٹ ایڈ باکس نکال کر اس کے ہاتھ کی بینڈیج کرنے لگا۔۔۔ مگر عائشے کو اب اس شخص کی مسیحائی کی ضرورت نہیں تھی جس نے صبح اسے زخم دینے سے پہلے ایک بار بھی نہیں سوچا تھا۔۔۔ تبھی بینڈیج کے بعد وہ خاموشی سے اٹھ کر ھیشم کے لئے کھانا لینے چلی گئی تھی۔۔۔ پھر کھانے کی ٹرے لئے وہ جب واپس بیڈروم میں آئی تھی تب تک ھیشم بھی چینج کر چکا تھا اور اس کے انتظار میں ہی بیٹھا تھا ۔۔۔ عائشے نے کھانا لاکر ٹیبل پر رکھ دیا تھا۔۔۔

“آپ بھی ہمارے ساتھ کھانا کھائیں عائشے۔۔۔” ھیشم صوفے کی طرف بڑھتا ہوا بولا مگر عائشے کو نفی میں سر ہلاتے دیکھ کر وہ اس کا ہاتھ کھینچ کر اسے زبردستی اپنے ساتھ لئے صوفے پر چلا آیا تھا اور اپنے ہاتھ سے عائشے کو کھانا کھلانے لگا تھا۔۔۔

“مجھے بھوک نہیں ہے خان۔۔۔” عائشے نے دو نوالے کھانے کے بعد کہا تھا۔۔

“مگر ہمیں بہت تیز بھوک لگی ہے اور اگر آپ چاہتی ہیں کہ ہم کھانا کھائیں تو چپ چاپ آپ ہمارے ساتھ کھاتی جائیں۔۔۔” ھیشم نے اس کی نم ہوتی آنکھوں کو دیکھ کر کہا تھا۔۔۔ پھر اس نے عائشے کو کھلا کر خود نام کے لئے ہی کھایا تھا ۔۔۔ اس دوران عائشے آنسوں بھری آنکھوں سے دیکھتی رہی تھی۔۔ پھر وہ سارے برتن سمیٹ کر جب کچن میں گئی تھی تو اس کے لئے دودھ کا گلاس لئے چلی آئی تھی کیونکہ اسے کھلانے کے چکر میں ھیشم خود بھوکا رہ گیا تھا۔۔۔

“آپ نے کھانا نہیں کھایا اس لئے یہ دودھ پی لیں۔۔۔” وہ گلاس بیڈ کی سائیڈ ٹیبل پر رکھتی ہوئی بولی تبھی ھیشم نے اس کی کمر میں ہاتھ ڈالتے ہوئے اسے پیچھے سے اپنی بانہوں کے حصار میں قید کر لیا تھا۔۔

“آئی ایم ریئلی ویری سوری ۔۔ کب تک خفا رہیں گی۔۔؟؟؟” وہ اس کا چہرہ اپنی جانب موڑتا ہوا بولا۔۔۔

“مجھے آپ سے خفا ہونے کا کوئی حق نہیں خان۔۔۔۔” وہ خفگی سے بولی تھی۔۔۔

“پھر کسے حق ہے خان کی جان ۔۔۔؟؟؟”

ھیشم نے اس کا چہرہ ہاتھوں میں قید کر کے محبت سے پوچھا۔۔

“مجھے نہیں پتہ۔۔۔ اور چھوڑیں مجھے کیوں اتنا پیار آ رہا ہے اب ۔۔۔ صبح تو ایسے بی ہیو کر رہے تھے جیسے مجھے جانتے بھی نا ہو ۔۔ ” عائشے نے اسکے حصار سے خود کو آزاد کروا کر منہ موڑتے ہوئے کہا ۔۔

اس کا روایتی بیویوں جیسا انداز اور لہجہ دیکھ کر ھیشم محظوظ سے انداز میں مسکرا دیا تھا۔۔۔

“صبح کا غصہ یاد ہے رات کا پیار بھول گئیں ۔۔۔ ” ھیشم شرارتی مسکراہٹ لبوں پر سجاتے ہوئے بولا تھا جبکہ اس کی بات سن کر عائشے کا چہرہ شرم سے سرخ پڑ گیا تھا۔۔۔

“ھیشم پلیزززز۔۔۔ ” اس سے بچنے کے لئے عائشے نے وہی صبح والے انداز میں منمناتے ہوئے کہا تھا۔۔۔

“عائشے پلیزززز۔۔۔” ھیشم نے عائشے کے انداز میں کہا۔۔۔ اب وہ دوبارہ “خان” سے “ھیشم” بن چکا تھا اور یہی لفظ ھیشم کو سمجھانے کو کافی تھے کہ وہ اپنی عائشے کی ناراضگی دور کرنے میں کامیاب ہو چکا ہے ۔۔۔

“آئندہ اگر آپ نے ایسا کیا تو میں کبھی معاف نہیں کروں گی آپکو۔۔۔۔”اس نے ھیشم خان کو وارن کیا۔۔۔

“اوکے جان ھیشم ۔۔۔۔جو آپکا حکم۔۔۔۔”ھیشم نے اسکے سامنے سر خم کرتے ہوئے کہا جیسے وہ کہیں کی شہزادی ہو۔۔۔۔۔ہیشم خان کے اس انداز پر اس نے قہقہ لگایا ۔۔۔اور ہیشم خان کے کشادہ سینے سے لگ گئی۔۔۔اور ہیشمخان کو تو ایسا لگ رہا تھا جیسے کوئی خزانہ مل گیا ہو۔۔وہ عائشے کو خود سے خفا کیسے دیکھ سکتا تھا۔۔۔

اب اسے عائشے کو یہ یقین بھی دلانا تھا کہ ھیشم خان کا وہ لمحاتی غصہ اس محبت سے زیادہ برتر نہیں تھا جو ھیشم خان کے دل میں اپنی بیوی کے لئے موجود تھی۔۔

🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹

ذیان اور زویا کا آمنا سامنا اب کم ہی ہوتا تھا یا شاید زویا ہی ذیان کے سامنے آنے سے گریز کرنے لگی تھی۔۔۔۔اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں تھا کہ زویا سب کچھ بھول چکی تھی بلکہ اس خاموشی کے پیچھے بھی بہت بڑا طوفان تھا۔۔۔ جسکی لپیٹ میں ذیان کو آنے سے کوئی نہیں روک سکتا تھا۔۔۔۔کہتے ہیں کہ محبت اندھی ہوتی ہے اسی طرح یہ نفرت بھی انسان کو اندھی کھائی میں پھینک دیتی ہے اور اس کھائی کے خوفناک اندھیرے میں انسان اس حد تک گم ہو جاتا ہے کہ وہ صحیح اور غلط کی تمیز ہی نہیں کر پاتا۔۔۔۔اس کے اندر نفرت کی آگ اس حد تک بھڑک چکی ہوتی ہے کہ وہ اس انسان کو جلا کر راکھ کر دیتی ہے اور اس آگ میں وہ انسان تنہا نہیں جلتا بلکہ اس کی تپش میں بہت سے لوگ آتے ہیں۔۔۔۔اس وقت زویا کا بھی یہی حال تھا شاید اسے خود اندازہ نہیں تھا کہ جو کھیل وہ کھیلنے جا رہی ہے وہ خود اسے کس طرح تباہ کر سکتا ہے۔۔۔اس وقت تو زویا کے ذہن پر بس ایک ہی چیز حاوی تھی اور وہ تھی ذیان سے بدلہ لینا۔۔۔۔زویا نے مسلسل ذیان پر نظر رکھی ہوئی تھی۔۔۔ذیان کا رخ لائبریری کی جانب تھا۔۔۔ابھی وہ جا ہی رہا تھا جب کسی احساس کے تحت اس نے مڑ کر پیچھے دیکھا لیکن تب تک زویا چھپ چکی تھی۔۔۔ذیان اسے اپنا وہم سمجھتا پھر سے چلنے لگا زویا پھر سے اس کا تعاقب کرنے لگی۔۔۔۔ذیان جب لائبریری پہنچا تو لائبریری بلکل خالی پڑی تھی۔۔اس وقت لائبریری میں کم وبیش ہی اسٹوڈنٹس ہوتے تھے ۔۔ابھی وہ لائبریری میں داخل ہوا ہی تھا جب کلک کی آواز پر ذیان نے مڑ کر دروازے کی سمت دیکھا۔۔۔اور سامنے کھڑی زویاکو دیکھ کر اسے حیرانی کا شدید جھٹکا لگا اور اس کے دروازہ بند کرنے والی حرکت پر اسے سخت غصہ آیااس کا دل کررہا تھا سامنے کھڑی لڑکی کا منہ ہی توڑ دے۔۔۔زویا ذیان کے لائبریری میں داخل ہوتے ہی دروازہ بند کر چکی تھی اور اب دروازے پر ہی ہاتھ باندھ کر کھڑی اسکی طرف دیکھ کر شاطرانہ ہنسی ہنس رہی تھی۔۔۔ذیان کو کچھ غلط ہونے کااحساس گھیر چکا تھا۔۔۔

“تم نے دروازہ کیوں بند کیاہے؟؟”ذیان نے اس کے مقابل آتے ہوئے چلاتے ہوئے کہا۔۔۔

“کیا ہوا ۔۔۔؟؟ڈر لگ رہا ہے ۔۔۔؟؟مسٹر ذیان بند دروازے سے ہی ڈرگئے۔۔؟؟”زویا نے طنزیہ ہنسی ہنستے ہوئے کہا۔۔۔۔

“تم کرنا کیا چاہتی ہو ۔اور یہ دروازہ بند کرنے کا کیا مقصد ہے۔۔۔؟؟تمہیں اندازہ بھی ایسے کوئی کیا سوچ سکتا ہے ہمارے بارے میں۔۔۔۔؟؟ذیان نے تڑخ کر پوچھا۔۔۔۔۔

“ذیادہ کچھ نہیں۔۔۔بس میں تم سے بدلہ لینا چاہتی ہوں اپنی ہر بےعزتی کا بدلہ۔۔۔سمجھے تم ۔۔۔۔؟؟اور کوئی کیا سوچے گا اس بات کی ٹینشن زویا نے کبھی نہیں لی کیونکہ لوگوں کا کام ہی بھونکنا ہوتا ہے”زویا نے چلاتے ہوئے بدتمیزی سے کہا۔۔۔۔ آنکھوں میں نفرت کی آگ واضح تھی۔۔۔۔

“یہ تم بہت غلط کر رہی ہو ۔۔۔اس میں سراسر تمہارا نقصان ہے۔۔۔۔مجھے پتا نہیں تھا کہ تم اس حد تک گر سکتی ہو کہ اپنی عزت تک داؤ پہ لگا دو گی۔۔۔۔اگر تھوڑی سی بھی شرم باقی ہے تم میں تو یہ دروازہ کھول دو۔۔۔۔”ذیان نے اسے اس کی غلطی کی سنگینی کا احساس دلانا چاہا۔۔۔۔۔

“اس وقت تم اپنی عزت کی فکر کرو مسٹر ذیان۔۔۔۔”زویا نے مضحکہ خیز ہنسی ہنستے ہوئے کہا۔۔۔۔

“مجھے کوئی فکر نہیں ہے ۔۔مجھے اپنے رب پر بھروسہ ہے تم جیسی بے حیا لڑکی میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔۔۔میرا رب میری پاکیزگی ثابت کرے گا۔۔۔تم کون ہوتی ہو مجھے ذلیل کرنے والی وہ اللہ ہے جسے چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ذلیل کر کے رکھ دیتا ہے۔۔۔۔”ذیان نے پر یقین لہجے میں کہا۔۔اور دروازے کی طرف ہاتھ بڑھایا لیکن زویا نے اس کا بڑھا ہوا ہاتھ روک لیا۔۔۔۔

“کہاں بھاگے جارہے ہیں مسٹر ذیان ۔۔۔۔اتنی بھی جلدی کیا ہے۔۔۔۔؟؟”زویا نے اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے کہا۔۔۔

“ہٹو سامنے سے ورنہ اچھا نہیں ہوگا۔۔۔۔تم مجھے کچھ ایسا کرنے پر مجبور مت کرو جو میں نہیں کرنا چاہتا۔۔۔۔”ذیان نے اسے وارننگ دی ۔۔۔

“کرو ۔۔جو کرنا ہے کر لو لیکن جو جال میں نے بچھایا ہے تم چاہ کر بھی اس میں سے نہیں نکل سکتے۔۔۔”زویا نے کمینی ہنسی اپنی لبوں پر سجاتے ہوئے کہا۔۔۔

“تمہیں لگتا ہے کہ تمہارے اس جال میں تم مجھے جکڑ چکی ہو لیکن شاید تمہیں خود بھی اس بات کا اندازہ نہیں کہ تم نے نفرت کی آگ میں جو یہ جال بچھایا ہے تم خود اس سے کتنا بڑا نقصان اٹھا سکتی ہو۔۔۔۔”ذیان نے ایک دفعہ پھر اسے آگاہ کیا لیکن اس وقت زویا ہمیشہ کی طرح کسی کی سن کہاں رہی تھی وہ تو ہمیشہ سے من مرضی کرنے کی عادی تھی۔۔۔اب بھی اس پر ذیان کی باتوں کا ذرہ برابر بھی اثر نہیں ہوا تھا۔۔۔۔

“مجھے پرواہ نہیں ۔۔۔زویا خان اگر کسی سے بدلہ لینے کا سوچ لے تو پھر وہ کبھی اپنے ارادے سے پیچھے نہیں ہٹتی چاہے اسے بڑے سے بڑا نقصان کیوں نہ اٹھانا پڑے ۔۔۔۔سمجھے تم ۔۔۔۔”زویا نے نخوت سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا جبکہ ذیان اس وقت اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔اس کا دل کر رہا تھا سامنے کھڑی اس لڑکی کو گولیوں سے اڑا دے۔۔۔۔

“میں تمہیں جان سے مار دونگا۔۔ہٹ جاؤ دروازے کے سامنے سے۔۔”اس نے چلاتے ہوئےکہا۔۔۔ذیان کی نظروں میں اس کے لئے حقارت ہی حقارت تھی جبکہ چہرے پر نفرت پورے حق سے ڈیرہ ڈالے بیٹھی تھی۔۔۔۔

“ہاہاہاہا۔۔۔غصہ آرہا ہے نا ۔۔۔ابھی اور بھی آئے گا ۔۔۔صبر رکھو۔۔۔مجھے کیا مارو گے ۔۔ابھی جو ہونے والا ہے نا تمہارے ساتھ اس کے بعد تمہارا خودکہیں ڈوب مرنے کا دل کرے گا۔۔”زویا نے قہقہ لگاتے ہوئے کہا۔۔۔۔اس کی بات پر ذیان کو مزید طیش آیا تھا اب اسکا خون کھولنے لگا تھا۔۔۔

” اگر تم نے ایسا ویسا کچھ کیاتو یقین جانو میں تمہارا وہ حشر کروں گا کہ تمہاری روح تک کانپ جائے گی۔۔۔”ذیان نے اس کا بازو دبوچ کر اسے دروازے سے ہٹا کر زور سے دھکا دیا جسکی وجہ سے وہ زمین بوس ہو گئی۔۔۔

“یو بلڈی باسٹرڈ۔۔تم نے مجھے دھکا دیا اب بس تماشہ دیکھو۔۔۔”اس کی طرف غصے سے دیکھ کر زویا نے زورزور سے چلانا شروع کیا اور ساتھ ہی اپنا حلیہ بگاڑنا شروع کردیا۔۔۔

“چھوڑ دو مجھے۔۔۔پلیز ایسا مت کرو میرے ساتھ۔۔۔ میں نے تمہارا کیا بگاڑا ہے ۔۔۔؟؟کیوں تم میری زندگی برباد کرنا چاہتے ہو۔۔۔؟؟ پلیز مجھے جانے دو۔۔۔”ذیان نے ٹھٹک کر اسے دیکھا جو زمین پر بیٹھی زور زور سے چلا رہی تھی۔۔۔ذیان کو اس کی اداکاری پر حیرانی ہوئی تھی۔۔۔کتنی مہارت سے وہ اداکاری کر رہی تھی۔۔۔ذیان نے اس کے پاس آکر اس کے منہ پر ہاتھ رکھ کر اسے خاموش کروانا چاہا لیکن وہ اس کا ہاتھ جھٹک کر جلدی سے دروازے کی جانب لپکی اور زور زور سے دروازہ بجاتے ہوئے چلانے لگی۔۔۔۔ اس سے پہلے کہ کوئی آتا ذیان نےاسکے منہ پر ہاتھ رکھ کر اسے روکنے کی کوشش کی۔۔۔۔لیکن وہ کہاں باز آنے والی تھی۔۔اب تو باہر سے بھی دروازہ پیٹا جا رہا تھ۔۔۔۔ذیان کو سخت پریشانی نے گھیر لیا تھا۔۔اس عالم میں اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کرے۔۔۔۔اس نے زویا کا بازو پکڑ کر اسے روکنے کی کوشش کی لیکن اتنے میں وہ دروازے کا لاک کھول چکی تھی۔۔۔اور سامنے اتنے سارے اسٹوڈنٹس اور سر حمزہ کو دیکھ کر ذیان کے چہرے کا رنگ اڑا تھا۔۔۔۔زویا کا بازو اب بھی ذیان کی مضبوط گرفت میں تھا ۔۔۔۔ اور موقع کا فائدہ اٹھا کر زویا نے زور سے اس کا ہاتھ جھٹکا اور جلدی سے باہر کی جانب لپکی۔۔۔اور مس زرینہ کے گلے لگ کر زور زورسے رونے لگی۔۔۔ذیان تو بس ساکت کھڑا اس کو یہ سب ڈرامہ کرتا ہوا دیکھ رہا تھا۔۔۔اسے یقین نہیں آرہا تھا کہ کوئی اتنا کیسے گر سکتا ہے کہ اپنی عزت کی بھی پرواہ نہ کرے۔۔۔۔

“چپ ہو جاؤ بیٹا کیا ہوا ۔۔۔؟؟کیا ہوابتاؤ ہمیں۔۔۔؟؟”مس زرینہ نے زویا کو تسلی دیتے ہوئے کہا۔۔

“اس۔۔نن۔۔نے م۔۔میری عزت ک۔۔ک۔کے ۔سسس۔ساتھ۔۔۔”رک رک اتنا کہہ کر وہ پھر سے زورزور سے رونے لگی اور ذیان تو اس کے الفاظ سن کر ہی ہکا بکا رہ گیا۔۔۔جبکہ اب سب اسے عجیب نظروں سے دیکھ رہے تھے۔۔۔سب کی آنکھوں میں اس کے لئے بے یقینی تھی ۔۔وہ لڑکی سب کی نظر میں اس کے کردار کو مشکوک کر چکی تھی۔۔۔

“یہ جھوٹ بول رہی ہے سر ۔۔۔میں نے اس کے ساتھ ایسا کچھ نہیں کیا۔۔۔یہ سب اس کی پلاننگ ہے۔۔۔۔”ذیان نے اس کی بات کو مسترد کرتے ہوئے کہا۔۔۔

“نہیں ۔۔سس۔سر میں سچ کک۔کہہ رہی ہوں یہ سب اس نے مجھ سے بدلہ لینے کے لئے کیا ہے۔۔۔”زویا جلدی سے بولی کہ کہیں سر اس کی باتوں کا یقین نہ کر لیں۔۔۔۔ذیان کیونکہ شروع سے ایک بہترین اسٹوڈنٹ کی لسٹ میں شامل تھا۔۔کسی کے ساتھ یہ سب کرنا تو دور وہ کسی کو آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتا تھا۔۔۔۔لیکن اس وقت زویا کی حالت دیکھ کر سب اس پر یقین کرنے پر مجبور تھے۔۔۔

“ہمیں تم سے یہ امید نہیں تھی ذیان۔۔۔ہم نہیں جانتے تھے تمہارے اس معصوم چہرے کے پیچھے ایسے ارادے ہیں۔۔”سر حمزہ نے تاسف سے کہا۔۔۔

“سر میں نے ایسا کچھ نہیں کیا ہے ۔۔۔آپ لوگوں کو جو نظر آرہا ہے وہ بلکل بھی سچ نہیں ہے۔۔۔آپ لوگ میری بات کا یقین کیوں نہیں کر رہے۔۔۔؟؟”اس نے بے بسی سے کہا اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کیسے اپنی پاکیزگی کا یقین دلائے۔۔۔

“اسٹوڈنٹس آپ سب جائیں اپنی اپنی ورکنگ کریں۔۔۔اور مس آپ زویا کو اسٹاف روم میں لے جائیں اسے حوصلہ دیں اسکا حال درست کروائیں۔۔۔۔اور تم ۔۔۔چلو میرے ساتھ۔۔۔”اسٹوڈنٹس اور ٹیچرزکو تاکید کرتے انہوں نے ذیان کو اپنے ساتھ چلنے کو کہا۔۔۔اس سے پہلے کہ وہ جاتا زویا اسے دیکھ کر خباثت سے مسکرائی اور فاتح نظروں سے اس کی طرف دیکھا۔۔۔۔۔اور ذیان کو آج پہلی مرتبہ کسی سے اتنی نفرت محسوس ہوئی تھی۔۔۔۔اس نے نخوت سے آنکھیں پھیر لیں اور سر حمزہ کے تعاقب میں چلنے لگا جنکا رخ اب ہیڈ آفس کی طرف تھا۔۔۔۔

کچھ ہی دیر میں وہ پرنسپل کے سامنے سر جھکائے کھڑا تھا۔۔چاہنے کے باوجود وہ سچ ثابت نہیں کر پارہاتھا۔۔۔۔۔

“آج جو تم نے کیا ہے ذیان تم نے ہمارا سر شرم سے جھکا دیا۔۔۔اتنا گھٹیا کام تم کر سکتے ہو ہم نے یہ سوچا بھی نہیں تھا۔۔۔خیر اب ہم ھیشم خان کے سامنے ہی بات کریں گے۔۔۔۔”پرنسپل نے غصے سے کہتے ہوئے ھیشم خان کو کال کی اور اسے یونی آنے کا کہا اور کچھ ہی دیر میں ھیشم خان اپنی تمام مصروفیات کو بالائے طاق رکھ کر ان کے سامنے موجود تھا۔۔۔پرنسپل صاحب اس سے بہت مؤدب انداز سے ملے ۔۔۔اور بیٹھنے کا اشارہ کیا۔۔۔اور اپنی بات کا آغاز کیا۔۔۔۔ھیشم خان جیسے جیسے ان کی بات سن رہا تھا غصے کی شدت مزید بڑھ رہی تھی۔۔غصے سے اس نے مٹھیاں بھینچیں چہرہ غصے کی شدت کی وجہ سے سرخ ہو چکا تھا۔۔۔۔اس نے بے یقین نظروں سے ذیان کی طرف دیکھا۔۔۔۔جو پوری امید سے اسی کی طرف دیکھ رہا تھا کہ کوئی یقین کرے نہ کرے ھیشم خان کبھی میرے کردار پر کوئی شک نہیں کرے گا۔۔۔۔

“سوری ھیشم خان۔۔۔اب ہم ذیان اسماعیل خان کو مزید یہاں نہیں رکھ سکتے۔۔۔کیونکہ یہ ہماری یونیورسٹی کے لئے اچھا ثابت نہیں ہوگا اس طرح ہماری یونیورسٹی کا نام خراب ہو سکتا ہے۔۔۔۔”پرنسپل نے ھیشم خان سے معذرت کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔

“چلو ذیان۔۔۔۔”ھیشم خان غصے سے کھڑے ہوتے ہوئے اسے اپنے ساتھ آنے کا کہہ کر آفس سے نکلتا چلا گیا۔۔۔۔ذیان جلدی سے اس کے پیچھے بھاگا۔۔۔

“بھائی ایسی کوئی بات نہیں ہے ۔۔۔وہ لڑکی جھوٹ بول رہی ہے ۔۔۔میں نے اس کے ساتھ کچھ نہیں کیا بلکہ سب کی نظروں میں مجھے گرانے کے لئے اس نےیہ سب کیا ہے۔۔۔۔”ذیان نے ھیشم خان کا بازو تھامتے ہوئے کہا۔۔۔۔

“ذیان آج تک ھیشم خان جو ہمیشہ سر اٹھا کر چلتا تھا آج تم نے اسے سر جھکانے پر مجبور کر دیا۔۔۔۔۔”ھیشم خان نے تاسف سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا اور اپنے بازو پر رکھا اس کا ہاتھ جھٹک دیا۔۔۔۔اس کے اس عمل پر ذیان کو شدید قسم کا جھٹکا لگا تھا۔۔۔ھیشم خان کی آنکھوں میں اپنے لئے بے یقینی دیکھ کر اسکی بچی کچی ہمت بھی ختم ہو چکی تھی۔۔۔۔آنکھوں سے آنسو باہر آنے کو بےتاب تھے لیکن اس نے سختی سے آنکھیں میچیں اور سر جھکا کر خاموشی سے گاڑی میں بیٹھ گیا جیسے اپنی ہار تسلیم کر چکا ہو۔۔۔۔

اور اب وہ دونوں گاڑی میں بیٹھے گھرکی جانب گامزن تھے۔۔۔۔۔

🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹

“رباب بیٹا۔۔۔کیا بات ہے آج کل میری بچی بہت خوش نظر آرہی ہے۔۔۔۔؟؟” ہاجرہ نے اس کے خوشی سے ٹمٹماتے چہرے کی جانب دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔۔۔

“کچھ نہیں اماں ۔۔۔۔کیا آپکی بیٹی خوش نہیں ہو سکتی۔۔؟؟”اس نے ان کے جواب میں الٹا سوال داغا۔۔۔

“کیوں نہیں ہو سکتی۔۔۔رب سوہنا میری بچی کو ہمیشہ خوش رکھے اور نظر بد سے بچائے۔۔۔۔آمین۔۔”ہاجرہ بیگم نے اسے دعا دیتے ہوئے کہا جبکہ چہرے پر الجھن واضح تھی انہیں سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کیسے اسے یہ خبر سنائیں ۔۔۔انکے چہرے پرموجود پریشانی رباب بھانپ چکی تھی۔۔۔تب ہی فکرمندی سے گویا ہوئی۔۔

“کیا ہوا اماں ۔۔کوئی بات ہے کیا۔۔۔۔؟؟”

“ہاں بیٹا بات تو ہے لیکن میں سمجھ نہیں پارہی کہ کیسے بتاؤں تجھے۔۔۔؟؟”انہوں نے پریشانی سے کہا۔۔۔

“اماں آپ کو مجھ سے بات کرنے کے لئے تمہید باندھنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔آپ مجھے بتائیں ہوا کیا ہے۔۔۔؟؟”اس نے ان کے پاس بیٹھتے ہوئے نرمی سے کہا۔۔۔

“بیٹا وہ تمہارے ابا نے اس مہینے کے آخری ہفتے میں تمہاری شادی کی تاریخ فکس کر دی ہے۔۔۔”انہوں نے نظریں چراتے ہوئے کہا۔۔۔

“یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں اماں ۔۔؟؟ایسے کیسے۔۔؟؟وہ بھی اتنی جلدی۔۔؟؟”زویا کو لگا جیسے کسی نے اس کے کانوں میں پگھلا ہوا سیسہ ڈال دیا ہو ۔۔۔۔

“بیٹا میں خود بہت پریشان ہوں کوئی راستہ دکھائی نہیں دیتا کیا کروں۔۔۔؟؟”ہاجرہ بیگم نے بے بسی سے اس کی طرف دیکھا۔۔۔

“اماں آپ کیوں پریشان ہوتی ہیں یہ تو نصیب کے کھیل ہیں ۔۔۔کیا آپکو اپنے رب سوہنے پر یقین نہیں ۔۔۔۔اگر وہ شخص میرے نصیب میں ہے تو ضرور کچھ بہتری رکھی ہوگی اللہ نے میرے لئے۔۔اور مجھے پورا بھروسہ ہے اگر وہ شخص میرے نصیب میں نہ ہوا تو ابا جو مرضی کر لیں وہ میرا نصیب کبھی نہیں بن سکتا ۔۔۔”رباب نے ان کو تسلی دیتے ہوئے سمجھایا۔۔۔۔

“تو ٹھیک کہتی ہے بیٹا اپنے رب سے دعا مانگنے کے سوا ہم کیا ک سکتے ہیں۔۔۔؟؟”ہاجرہ بیگم کی آنکھوں میں نمی اور چہرے پر بے بسی واضح تھی۔۔۔

“تو میری پیاری اماں ہمیں اس کے سوا کچھ کرنے کی ضرورت بھی کیا ہے۔۔۔۔؟؟بس ہمیں کامل یقین سے دعا مانگنی ہے۔۔۔اور دیکھیں اماں آپ میری ماں ہیں اتنی محبت کرتی ہیں مجھ سے اور مجھے دکھی نہیں دیکھ سکتیں تو وہ رب جو مجھے ستر ماؤں سے ذیادہ پیار کرتا ہے وہ کیسے مجھے تنہا یا دکھی چھوڑ سکتا ہے۔۔۔؟؟”رباب نے خود کو نارمل کرتے ہوئےکہا ۔۔۔وہ ہاجرہ بیگم کو مزید پریشان نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔۔اس لئے خود کو مضبوط ظاہر کرنے کی کوشش کررہی تھی۔۔۔جبکہ اس کے اندر ایک طوفان برپا تھا۔۔۔۔

“تو ٹھیک کہہ رہی ہے بیٹا۔۔۔کتنی سمجھدار ہو گئی ہے میری بچی کبھی کبھی تو مجھے ایسا لگتا ہے تو میری ماں ہے میں تیری ماں نہیں ہوں۔۔۔۔”ہاجرہ بیگم نے دھیمی مسکراہٹ لبوں پر سجاتے ہوئے کہا۔۔۔۔ان کی بات پر اس نے زور سے قہقہ لگایا تھا۔۔۔۔۔جبکہ آنسوؤں کہ چند قطروں نے پلکوں کی باڑ توڑی تھی مگر وہ بہت ہی مہارت سے انہیں اپنی پوروں پر چن گئی۔۔۔۔۔اس کی نظروں میں حازم کا مسکراتا چہرہ گھوم رہا تھا۔۔۔۔وہ اسے کیسے بتائے گی یہ سوچ اسے مزید پریشان کر گئی۔۔۔۔

🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹

“حازم سنو میں کبھی کبھی سوچتی ہوں کہ۔۔۔۔”

“میں جانتا ہوں رحاب تم کبھی کبھی ہی سوچتی ہو۔۔”حازم نے اس کی بات کو اچکتے ہوئے اس کی طرف شرارت سے دیکھا۔۔۔

“تو تم کونسا مفکر پاکستان ہو۔۔اگر میں ان پڑھ جاہل ہوں۔۔؟؟”رحاب اسکی طرف خونخوار نظروں سے دیکھتی چڑ کر بولی۔۔۔

“تھینک گاڈ ۔۔۔۔مجھے لگا اب مجھے ہی تمہیں تمہاری حقیقت سے روشناس کروانا پڑے گا۔۔۔مگر میں متعرف ہوں تم اپنے بارے میں کتنے اچھے سے جانتی ہو۔۔۔واہ بھئی۔۔۔”اس نے دونوں ہاتھ اوپر اٹھا کر شکر کرتے ہوئے کہا۔۔

“اچھا اگر مجھ میں اتنی خامیاں ہیں تو تم کونسا خوبیوں کی مورت ہو۔۔۔؟؟”روحی نے تپتے ہوئے کہا۔۔۔

“الحمدللہ بس اللہ کسی چڑیل کی نظر بد سے بچائے۔۔۔”حازم نے فرضی کالر جھاڑتے ہوئے چڑیل پر زور دیتے ہوئے کہا۔۔۔وہ دونوں اس وقت کالج کے گراؤنڈ میں کھڑے ایک دوسرے کو آئینہ دکھا رہے تھے۔۔۔ پاس سے گزرتے اسٹوڈنٹس بس انہیں ایک نظر تعجب سے دیکھتے اور گزر جاتے کیونکہ یہ انکا معمول کا ہی کام تھا۔۔۔۔اس کی بات سن کر روحی نے غصے سے ہاتھ میں پکڑا رجسٹر زور سے اس کے کندھے پر مارا۔۔۔

“ہائے اللہ میں مرگیا۔۔۔ظالم لڑکی۔کیسی بہن ہو تم۔۔”وہ اپنے کندھے کو پکڑ کر زور زور سے چیخنے لگا۔۔۔

“چلاتے رہو اور زور سے چلاؤ۔۔۔میں جارہی ہوں۔۔۔”اسکے واویلے کی پرواہ کئے بغیراس نے قدم آگے بڑھا دئیے۔۔۔۔

“ہائے میری کندھے کی ہڈی توڑ دی ۔۔۔میرا بازو کام نہیں کر رہا۔۔۔”سامنے سے رباب کو آتا دیکھ کر اس نے اور زور سے واویلاکرنا شروع کردیا اور تب ہی رحاب نے اس کی طرف فکرمندی سے دیکھا جو بھی تھا وہ اس کا بھائی تھا۔۔روحی کو لگا کہ شاید اس نے ذیادہ ہی زور سے ماردیا ہے۔۔۔۔۔قریب پہنچ کر رباب نے اس کے یوں رونے دھونے پر حیرانگی سے اس کی طرف دیکھا۔۔۔۔اور رحاب سے گویا ہوئی۔۔۔

“اسے کیا ہوا۔۔؟؟؟”

“اس لڑکی نے تمہیں آج بیوہ کرنے کا ٹھان لیا تھا لیکن وہ تو میں ہی جان بچاکر نکل گیا۔۔۔”روحی جو اپنے مارنے پر شرمندہ تھی حازم کی بات پر اس کی شرمندگی لمحے میں غائب ہوئی تھی۔۔۔لیکن رباب نے اس کی بات پر کوئی رسپانس نہیں دیا تھا بلکہ چپ چاپ نظریں جھکا گئی۔۔۔

“شرم کر لو تھوڑی سی ۔۔کیسے کیسے الفاظ منہ سے نکال رہے ہو۔۔۔۔”رحاب تڑخ کر کہتی رباب کی جانب متوجہ ہوئی۔۔۔اور اس کی متورم آنکھیں دیکھ کر اسے پریشانی نے گھیر لیا۔۔

“کیا ہو گیا رباب ۔۔۔تمہاری آنکھیں کیوں سوجی ہوئی ہیں۔۔۔۔؟؟تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے نا۔۔۔”رحاب نے فکر مندی سے اس کی پیشانی پر ہاتھ رکھ کر چیک کرتے ہوئے کہا۔۔۔

“ہاں میں ٹھیک ہوں۔۔بس ایسے ہی رات دیر تک پڑھائی کرتی رہی تو شاید اس لئے تمہیں لگ رہا ہے۔۔۔۔”رباب نے جھوٹا بہانہ گھڑا۔۔۔لیکن نظریں چراگئی۔۔۔حازم کو تو وہ بلکل نظرانداز کررہی تھی۔۔۔اور حازم نے اس کی اگنورنس کو شدت سے فیل کیا تھا۔۔۔اسے کچھ گڑ بڑ کا احساس ہوا تھا۔۔وہ خاموش کھڑا اس کے چہرے کے اتار چڑھاؤ کو نوٹ کرنے لگا۔۔۔۔

“رباب اگر تمہیں لگتا ہے کہ تم جھوٹ بول کر اپنی جان چھڑوا لو گی تو یہ تمہاری غلط فہمی ہے تمہارا چہرہ بتا رہا ہے کہ تم ہم سے کچھ چھپا رہی ہو۔۔۔۔”رحاب نے نرمی سے کہا۔۔۔

“ہاں رباب روحی ٹھیک کہہ رہی ہے بتاؤ کیا پریشانی ہے ۔۔؟؟ہم تینوں مل کر اس کا حل ڈھونڈیں گے۔۔۔۔”حازم نے بھی رحاب کی بات سے اتفاق کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔انکی محبت کے آگے رباب ذیاد دیر تک خود کو نہیں روک پائی۔۔۔۔اس نے نظریں اٹھا کر ان دونوں کی طرف دیکھا جو فکرمندی سے اسی کی طرف متوجہ تھے اور اب اس کے بولنے کے منتظر تھے۔۔۔۔ان کو اپنے لئے اتنا متفکر دیکھ کر اس آنکھیں نم ہونے لگیں۔۔۔اور اس کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر تو جیسے حازم کی جان پر ہی بن آئی۔۔۔

“رباب کیوں رو رہی ہو ۔۔۔؟؟کچھ تو بتاؤ۔۔۔۔؟؟”حازم کو اس کی خاموشی پر اب غصہ آنے لگا تھا۔۔

“ادھر آؤ۔۔۔۔ادھر بیٹھو۔۔اور بتاؤ کیا بات ہے ۔۔۔؟؟کون سی بات میری پیاری سی دوست کو تنگ کر رہی ہے۔۔۔۔؟؟”رحاب نے اسے سامنے پڑے بینچ پر بٹھاتے ہوئے اس کے چہرے پر بہتے آنسوؤں کو صاف کرتے ہوئے محبت سے پوچھا۔۔رباب نے ایک نظر حازم کے متفکر چہرے کی طرف دیکھا اور پھر رحاب کی جانب متوجہ ہوئی۔۔۔

“و۔۔وہ۔۔ابا نے میری شادی کی ڈیٹ فکس کر دی ہے اس منتھ کے لاسٹ میں۔۔۔۔”اسے سمجھ نہیں آرہا تھا وہ کیسے بتائے لیکن بتانا تو تھا ہی اس لئے نظریں جھکا کر جلدی سے بولی۔۔۔اور اپنی بات ختم کر کے اس نے نظریں اٹھا کر رحاب کی طرف دیکھا جو مورت بنی ساکت نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔نظر کے ٹکراؤپر رحاب ہوش میں آئی۔۔جبکی حازم اب بھی شاکڈ میں تھا۔۔۔۔

“یہ تم کیا کہہ رہی ہو ۔۔۔؟؟ایسے اچانک کیسے کر سکتے ہیں تمہارے اب۔۔۔؟؟”رحاب نے متفکر لہجے میں کہا۔۔۔

“میں خود نہیں جانتی کہ ابا نے ایسا کیوں کیا۔۔۔۔؟؟”رباب نے بے بسی سے کہا۔۔۔

“تو تم نے کیا فیصلہ کیا ہے۔۔۔۔؟؟”حازم نے اس کی طرف دیکھ کر سنجیدہ لہجے میں پوچھا۔۔۔اسکے سوال پر رباب نے خاموشی سے نظریں چرا لیں۔۔جب وہ کافی دیر تک کچھ نہ بولی تو حازم دوبارہ گویا ہوا۔۔

“تو تمہاری خاموشی کا مطلب میں یہ سمجھوں کہ تم کچھ نہیں کر سکتی اور چپ چاپ تم اس گھٹیا انسان کی زندگی میں شامل ہونے کے لئے تیار ہو۔۔۔”حازم نے سخت لہجے میں کہا۔۔۔رحاب تو بس منہ کھولے حازم کو دیکھ رہی تھی۔۔۔۔اسے یقین نہیں آرہا تھا کہ حازم اتنا سیریس بھی ہو سکتا ہے۔۔۔۔

“جی۔۔۔میں کیا کر سکتی ہوں اگر میں نے انکار کیا تو ابا مجھے جان سے مار دیں گے۔۔۔پلیز آپ میری بات کو سمجھنے کی کوشش کریں اور خود کو مشکل میں مت ڈالیں۔۔۔۔”رباب نے بے بسی سے کہا جبکہ آنسوں اب بھی بہہ رہے تھے۔۔۔

“تو ٹھیک ہے تم کچھ مت کرو۔۔۔۔تم ضرور اپنے ابا کے سامنےمجبور بے بس ہو لیکن میں مجبور نہیں ہوں۔۔۔۔میں تمہیں پانے کے لئے آخری حد تک جاؤں گا۔۔۔۔میں نے تم سے سچی محبت کی ہے مذاق نہیں کیا۔۔۔۔اور اپنی محبت کو تکمیل تک میں ضرور پہنچاؤں گا۔۔۔۔”حازم نے اپنے ارادوں سے اسے آگاہ کرتے ہوئے کہا۔۔۔

“تم کیا کروگے۔۔؟؟پلیز خود کو مصیبت میں مت ڈالو ۔۔۔”رباب کو اس کے مضبوط ارادوں سے خوف محسوس ہوا تھا۔۔۔۔اس لئے جلدی سے بولی۔۔۔

“یہ میرا مسئلہ ہے۔۔۔تو رباب ڈئیر تمہیں فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔بس مجھ پر بھروسہ رکھو۔۔۔اور اپنا خیال رکھو ۔۔۔اور اب ان آنکھوں میں آنسو نہیں آنے چائہیں ۔۔۔۔شاباش جلدی سے ہنس کر دکھاؤ۔۔۔”حازم نے اس کی جانب ٹشو بڑھاتے ہوئے کہا۔۔۔اس کی اتنی محبت پر رباب دھیما سا مسکرادی۔۔۔اب حازم رحاب کی جانب متوجہ ہوا تھا اور اسکے سامنے چٹکی بجائی۔۔۔۔اس کے چٹکی بجانے پر وہ ہوش میں آئی۔۔۔

“او لڑکی ہوش میں تو ہو ۔۔۔کیوں ہونقوں کی طرح دیکھ رہی ہو۔۔۔۔””حازم نے اس کے اس طرح دیکھنے پر چوٹ کی۔۔۔۔

“میں تو یہ دیکھ رہی تھی میرا تھرڈ کلاس جوکر بھائی فلم کا ہیرو کیسے بن گیا۔۔۔۔”رحاب نے حیران ہونے کی بھر پور ایکٹنگ کرتے ہوئے کہا۔۔۔

“او بس کردے ۔۔چڑیل میں شروع سے ہی ہیرو ہوں۔۔۔”حازم نے اتراتے ہوئے کہا۔۔۔۔

“چڑیل کسے کہا تم نے۔۔۔۔؟؟”روحی نے پاؤں پٹختے ہوئے کہا۔۔۔

“اب بس تم دونوں شروع مت ہو جانا پھر سے ۔۔۔۔روحی چلو دیر ہو رہی ہے پہلے ہی کافی ٹائم ویسٹ ہو گیا ہے۔۔۔۔”رباب نے کلائی پر بندھی واچ کی جنب دیکھتے ہوئے اسے آگاہ کیا۔۔۔۔

“ہاں چلو ۔۔اس نمونے سے تو میں چھٹی میں نمٹوں گی۔۔۔”روحی نے حازم کو دیکھتے ہوئے غصے سے کہا اور رباب کے ساتھ کلاس کی جانب بڑھ گئی۔۔۔۔حازم کی نظروں نے دور تک ان دونوں کا پیچھا کیا تھا۔۔۔انکے جاتے ہی اسکو مختلف سوچوں نے گھیر لیا رباب کو تو وہ تسلی دے چکا تھا لیکن خود پریشان ہوگیا تھا کہ وہ کیا کرے گا ۔۔۔کیسے اس شادی کو روکے گا۔۔۔۔تب ہی کلاس کی بیل بجی تھی وہ سب سوچوں کو جھٹکتا کلاس کی جانب بڑھ گیا۔۔۔۔

🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹
🌹

بھائی ۔۔رکیں میری بات تو سنیں ۔۔۔۔بھائی۔۔۔”ھیشم خان گاڑی سے اتر کر تیزی سے حویلی کے اندرونی دروازے کی جانب قدم بڑھا رہا تھا۔۔۔اور ذیان اس کو آوازیں دیتا اس کے پیچھے آرہا تھا۔۔لیکن ھیشم خان کا غصہ اس وقت ساتویں آسمان پر تھا وہ ذیان کی بات سننا تو دور دیکھنے کا بھی رواداد نہیں تھا۔۔۔لاونج میں پہنچ کر ذیان نے اس کا بازو پکڑ کر اسے روکا۔۔۔

“بھائی وہ سب جھوٹ ہے ۔۔۔وہ لڑکی بہتان باندھ رہی ہے میں نے ایسا کچھ نہیں کیا۔۔۔۔”ذیان نے اسے رکتے دیکھ کر جلدی سے کہا۔۔۔

“ذیان ہمارا بازو چھوڑو۔۔۔۔”ھیشم غرایا۔۔۔

“بھائ پلیز۔۔۔”

“ذیام ہم نے کہا ہمارا بازو چھوڑو۔۔۔”ھیشم غصے سے غرایا۔۔۔

“بھائی میں سچ کہہ رہا ہوں اس گھٹیا لڑکی نے یہ سب مجھ سے بدلہ لینے کے لئے کیا ہے آپ نہیں جانتے کہ وہ کتنی گری ہوئی لڑکی ہے۔۔۔۔”اسکی بات پر ھیشم نے جھٹکے سے اپنا بازو چھڑوایا اور ایک زوردار تھپڑ اس کے منہ پر مارا۔۔

“کسی لڑکی کے لئے اتنے گرے ہوئے الفاظ استعمال کرنے سے پہلے یہ یاد رکھا کرو کہ تمہاری بھی ایک بہن ہے۔۔۔۔”ھیشم خان نے غصے سے تیز آواز سے کہا۔۔۔لاؤنج سے کسی کے تیز تیز بولنے پر عائشے بھی لاؤنج میں بھاگتی ہوئی آئی کہ ناجانے کیا ہوا ہے ۔۔لیکن سامنے کا منظر دیکھ کر اس کی آنکھیں کھلی رہ گئیں۔۔۔۔ذیان اپنے گال پر ہاتھ رکھے کھڑا تھا اور آ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *