Tere Ishq Sy Meri Zaat Tak by Ayesha Mughal NovelR50552
Last updated: 27 February 2026
Tere Ishq Sy Meri Zaat Tak (Episode 01)Tere Ishq Sy Meri Zaat Tak (Episode 02)Tere Ishq Sy Meri Zaat Tak (Episode 03)Tere Ishq Sy Meri Zaat Tak (Episode 04)Tere Ishq Sy Meri Zaat Tak (Episode 05)Tere Ishq Sy Meri Zaat Tak (Episode 06)Tere Ishq Sy Meri Zaat Tak (Episode 07)Tere Ishq Sy Meri Zaat Tak (Episode 08)Tere Ishq Sy Meri Zaat Tak (Episode 09)Tere Ishq Sy Meri Zaat Tak (Episode 10)Tere Ishq Sy Meri Zaat Tak (Episode 11)Tere Ishq Sy Meri Zaat Tak (Episode 12)Tere Ishq Sy Meri Zaat Tak (Episode 13)Tere Ishq Sy Meri Zaat Tak (Episode 14)Tere Ishq Sy Meri Zaat Tak (Episode 15)
Tere Ishq Sy Meri Zaat Tak by Ayesha Mughal
عائشے گل یونیورسٹی کے گراؤنڈ میں نرم گرم گھاس پر بیٹھی اپنی ہی سوچوں میں غلطاں تھی چہرے پر پریشانی واضح تھی۔۔ وہ ایسی ہی تھی چھوٹی چھوٹی باتوں پر پریشان ہو جانے والی۔۔۔ اب بھی اس کی پریشانی کی وجہ آج یونیورسٹی لیٹ آنے کی وجہ سے سر راحیل کی کلاس مس ہونا تھی ۔۔۔۔ اسی لئے وہ گراؤنڈ پریشان بیٹھی تھی کہ اب وہ کس سے کلاس میں ہونے والے لیکچر کے بارے میں پوچھے گی ۔۔۔؟؟
"ایکسکیوز می۔۔۔کین آئی ہیلپ یو؟؟؟ کسی اجنبی آواز پر وہ چونک گئی تھی۔۔۔ اور سوچوں کا تسلسل ٹوٹا تھا۔۔۔ اس نے آواز کے تعاقب میں نظریں گھمائیں تھی۔۔۔سامنے ہی ایک حسین طرح دار سی لڑکی کھڑی جس کی بلیک آنکھوں میں اس کے لئے اپنائیت ہی اپنائیت تھی۔۔۔۔وہ اس وقت اورنج ٹاپ اور بلیک جینز پہنے گلے میں مفلر ڈالے وہ اسی سے مخاطب تھی ۔۔۔ جب کچھ دیر تک عائشے کچھ نہ بولی تو وہ لڑکی خود اس کی طرف بڑھی تھی ۔۔۔۔
"مجھے آپ چہرے سے کافی ٹینس دکھائی دے رہی تھیں ۔۔۔ کیا کوئی پریشانی ہے ۔۔۔؟؟؟ آپ مجھ سے شیئر کر سکتی ہیں۔۔۔ ہو سکتا ہے میں کچھ ہیلپ کر سکوں ۔۔۔" وہ جو اب تک ہونقوں کی طرح اس لڑکی کو دیکھے جارہی تھی اسی لئے اس لڑکی کے دوبارہ بولنے پر مکمل ھوش میں آئی تھی ۔۔۔۔اس لڑکی کے لہجے میں عائشے کے لئے اپنائیت ہی اپنائیت تھی ۔۔۔۔۔تبھی عائشے کو اس سے اپنی شیئر کرنے میں کوئی قباحت نظر نہیں آرہی تھی ۔۔۔ اسے اس لڑکی کی ڈریسنگ دیکھ کر تعجب تو ہو رہا تھا لیکن اسے اندازہ بھی تھا کہ آج کل زیادہ تر لڑکیاں ہر جگہ اسی طرح کے نا مناسب لباس میں نظر آتی ہیں۔۔۔ اسی لئے سب خیالات کو جھٹکتے ہوئے وہ اس کی طرف متوجہ ہوگئی تھی ۔۔۔
"جی بس میں پریشان تھی آج یونیورسٹی لیٹ آنے کی وجہ سے سر راحیل کی کلاس مس ہو گئی اور اب سمجھ نہیں آرہا کس سے ان کے لیکچر کے نوٹس لوں ۔۔۔ " عائشے اپنی پریشانی بیان کی ۔۔۔
"بس اتنی سی بات تو تم میرے نوٹس لے لو۔۔۔۔" اس لڑکی نے اپنے نوٹس عائشے کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا ۔۔۔
"اوہ تھینکس۔۔۔ لیکن تم کون ہو ۔۔۔؟؟؟ اور میری مدد کیوں کر رہی ہو ۔۔۔؟؟ عائشے نے حیرت اور تعجب کے ملے جلے تاثر اپنی خوبصورت آنکھوں میں سمائے اس کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا ۔۔
"ارے ہاں سب سے پہلے میں میں اپنا تعارف کرواتی ہوں ۔۔۔ میرا نام ایشل یزدانی ہے اور جہاں تک مجھے جاننے کا سوال ہے تو تم مجھے جانتی بھی کیسے ۔۔۔؟؟ تمہیں تو ان کتابوں سے ہی فرصت نہیں ملتی اور حیرانگی کی بات تو یہ ہے میں نے آج تک تمہیں کسی کے ساتھ تو کیا کسی سے بات کرتے ہوئے بھی نہیں دیکھا ۔۔۔۔" ایشل نے حیرانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا ۔۔۔۔
"ہاں بس مجھے پسند نہیں ہے ذیادہ کسی سے ملنا جلنا ۔۔ میرے نزدیک تعلیم کی بہت اہمیت ہے اور میں ایک قابل اسٹوڈنٹ بن کر دکھانا چاہتی ہوں ۔۔۔" عائشے نے اپنی کتابوں سے دوستی کی وجہ بتائی تھی ۔۔۔۔ وہ ایسی ہی تھی بے تحاشا دولت اور حسن ہونے کے باوجود اس نے خود اپنی ذات کے لئے چند اصول بنائے ہوئے تھے اس میں پہلا اصول تعلیم کو فوقیت دینا تھا۔۔۔وہ تو کتابوں کی دیوانی تھی ۔۔۔
"او اچھا جی۔۔ تو کیا ہم دوست بن سکتے ہیں عائشے گل۔۔۔؟؟ ایشل نے اس کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہوئے کہا ۔۔۔
"ہاں کیوں نہیں ۔۔؟؟ مگر تمہیں میرا نام کیسے پتا۔۔؟؟؟عائشے حیرت سے پوچھے بنا نہیں رہ سکی۔۔۔۔
"لڑکی یہ مت بھولو کہ ہم ایک ہی کلاس میں پڑھتے ہیں ۔۔۔۔تم ضرور ان کتابوں سے عشق کرتی ہو اور ان کو تھام کر دنیا سے بیگانہ ہو جاتی ہو لیکن میں پوری دنیا کی خبر رکھتی ہوں کہ کون کیا کررہا ہے۔۔۔؟؟ " ایشل نے اس کے بیوقوفانہ سوال پر مسکراتے ہوئے کہا تگا ۔۔۔اور اسکے جواب پر عائشے جھینپ سی گئی تھی ۔۔
"اچھا اب میں نوٹس بنا لوں ۔۔۔۔؟؟ " عائشے نے ایشل کی طرف دیکھتے ہوئے سوال کیا۔۔۔۔
"ہاں ہاں بنا لو ۔۔ میں تب تک کینٹین سے کچھ لے کر آتی ہوں ۔۔۔۔" ایشل نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا لیکن اس کے چہرے پر موجود معنی خیز تاثرات دیکھ کر عائشے ٹھٹکی تھی۔۔۔ اسے کچھ غلط ہونے کا شدت سے احساس ہوا تھا مگر اس سے پہلے کہ وہ ایشل کے تاثرات سے کچھ اندازہ لگا پاتی ایشل وہاں سے جا چکی تھی اور عائشے سارے خیالات ذہین سے جھٹکتی پھر سے کتابوں میں گم ہو گئی جو اس کے نزدیک اسکا قیمتی اثاثہ تھیں ۔۔۔۔۔
