Tere Ishq Sy Meri Zaat Tak by Ayesha Mughal NovelR50552 Tere Ishq Sy Meri Zaat Tak (Episode 29)
Rate this Novel
Tere Ishq Sy Meri Zaat Tak (Episode 29)
Tere Ishq Sy Meri Zaat Tak by Ayesha Mughal
خان حویلی میں قدم رکھتے ہی زریاب خان زور سے دھاڑا تھا۔۔۔۔
“ھیشم خان۔۔۔۔۔کہاں ہو ؟؟”ھیشم خان حویلی میں ہوتا تو جواب دیتا۔۔۔
“ھیشم خان اب منہ چھپانے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔۔۔۔میں جانتا ہوں تم اس وقت حویلی میں ہی چھپے بیٹھے ہو۔۔۔۔”زریاب خان کی گرجدار آواز ایک مرتبہ پھر پوری حویلی میں گونجی تھی۔۔۔۔کسی کے اتنی زور سے چلانے پر رباب جو بچوں کے ساتھ ان کے کمرے میں تھی وہ گھبرا کر بھاگتی ہوئی باہر آئی تھی۔۔۔
“جی آپ کون ہیں۔۔۔؟؟”اس نے ڈرتے ڈرتے پوچھا۔۔۔
“تم۔۔۔تم تو ولید ملک کی بیٹی ہو نا۔۔۔۔؟؟”زریاب خان نے اس ڈری سہمی سی کھڑی رباب کو غور سے دیکھتے ہوئے عجیب لہجے میں پوچھا۔۔۔
“ج۔۔جی۔۔”ڈر کی وجہ سے اس کی زبان لڑکھڑا رہی تھی۔۔۔
“ھیشم خان کہاں ہے۔۔۔؟؟”زریاب خان نے ہٹ دھرمی سے پوچھا۔۔۔۔
“و۔۔وہ ہ۔۔ہوس۔۔ہوسپٹل گئے ہیں۔۔۔۔”رباب نے گڑبڑاتے ہوئے کہا۔۔۔
“اچھا تو دوسروں کو ہوسپٹل پہنچانے والا خود ہوسپٹل پہنچا ہے۔۔۔۔”زریاب خان نے کمینی ہنسی ہنستے ہوئے مضحکہ خیز خیز لہجے میں کہا۔۔۔۔
“ن۔۔نن۔۔نہیں وہ ز۔۔زویا بھابھی کی ط۔۔طبیعت خراب ہو گئی تھی۔۔۔۔”رباب نے ڈرتے ہوئے کہا اور زریاب خان کو لگا تھا کسی نے اس کے سر پر بم پھوڑ دیا ہو۔۔۔۔
“کیا ہوا ہے میری بیٹی کو۔۔۔؟؟بولو۔۔۔کیا کیا ہے تم لوگوں نے اس کے ساتھ۔۔۔۔؟؟”زریاب خان نے اس کا نازک ہاتھ اپنی مضبوط گرفت میں لیتے ہوئے اپنی سرخ انگارہ برساتی نظریں اس کے چہرے پر گاڑھتے ہوئے کہا۔۔۔وہ درد سے کراہی تھی۔۔زریاب خان کی انگلیاں اس کے بازو میں بےرحمی سے گڑھتی جارہی تھیں۔۔۔۔درد کی وجہ سے اس کی آنکھیں اشکبار ہوئی تھیں۔۔۔۔
“زریاب خان چھوڑو اس کا بازو۔۔۔۔۔۔۔”ھیشم خان کسی کام سے حویلی آیا تھا جب سامنے نظر آتے منظر کو دیکھ کر زور سے گرجا تھا۔۔۔۔زریاب خان نے جھٹکے سے اس کا بازو اپنی مضبوط گرفت سے آزاد کیا تھا ۔۔۔اور غصےسے ھیشم خان کی جانب بڑھا تھا۔۔۔۔
“میری بیٹی کہاں ہے۔۔۔۔؟؟کیا ظلم کیا ہے تم نے اس کے ساتھ۔۔۔۔۔؟؟”زریاب خان غصے سے دھاڑا۔۔
“اپنی آواز نیچی رکھو۔۔۔۔شاید تم بھول رہے ہو کہ تم اس وقت کس سے بات کر رہے ہو۔۔۔۔۔”ھیشم خان نے غراتے ہوئے کہا۔۔۔
“میں اس وقت ایک ایسے انسان سے بات کر رہا ہوں جو لوگوں کے سامنے تو فرشتہ بنا پھرتا ہے لیکن پیٹھ پیچھے کالے کرتوت کرتا پھر رہا ہے۔۔۔”زریاب خان نے زہرخند لہجے میں کہا۔۔۔
“اپنی زبان کو لگام دو زریاب خان۔۔۔۔اس سے پہلے کہ میرا ہاتھ اٹھ جائے۔۔۔۔”ھیشم خان نے اپنی مٹھیاں پھینچتے ہوئے کہا۔۔۔
“تم سے تو میں بعد میں نپٹوں گا۔۔۔میری بیٹی کہاں ہے۔۔۔۔؟؟یہ بتاؤ۔۔۔اور تمہارے بھائی کا تو میں وہ حشر کروں گا کہ اس کی آنے والی سو نسلیں یاد کریں گی۔۔۔۔۔”زریاب خان نے نخوت سے کہتے ھیشم خان کو دھمکایا تھا۔۔۔۔اور پھر ہوسپٹل کا پوچھتا زریاب خان اپنے بھاری قدم اٹھاتا وہاں سے نکلتا چلا گیا۔۔۔۔ھیشم خان جلدی سے رباب کی جانب بڑھا تھا۔۔۔
“رباب تم ٹھیک تو ہو نا۔۔۔؟؟”ھیشم خان نے بمشکل خود کو نارمل کرتے ہوئے دھیمے لہجے میں پوچھا۔۔۔۔
“جی ھیشم بھائی۔۔۔شکر ہے آپ آگئے ورنہ بہت ڈر لگ رہا تھا مجھے۔۔۔۔”رباب نے گھبرائے لہجے میں کہا۔۔۔۔اور رباب کو بچوں کو لے کر آنے کا کہہ کر پورچ میں کھڑی اپنی گاڑی کی جانب بڑھ گیا۔۔۔۔وہ جانتا تھا زریاب خان ہوسپٹل میں بھی چپ نہیں بیٹھے گا۔۔اور رباب اور بچوں کو دوبارہ اکیلے چھوڑنا اسے مناسب نہ لگا۔۔۔اس لئے انہیں ساتھ لے کر وہ ہوسپٹل کی جانب نکل گیا۔۔۔ھیشم خان شاید زریاب خان سے بہت بری طرح پیش آتا لیکن وہ کیونکہ زویا کا باپ تھا اور اس وقت کوئی تماشہ کرنا اس کے لئے اس کے پاس وقت بھی نہیں تھا ۔۔اس لئے آج اس نے بہت مشکل سے خود کے غصے پر قابو کیا تھا۔۔۔ورنہ کس کی اوقات تھی کہ وہ ھیشم خان کے سامنے اس طرح بات کرے۔۔۔۔وہ ھیشم جس نے آج تک کسی کی تیز آواز برداشت نہیں کی تھی آج رشتوں کی وجہ سے زریاب خان کی بدتمیزی برداشت کر گیا تھا۔۔۔














زویا کی حالت کسی طرح قابو میں نہیں آرہی تھی۔۔۔۔ڈاکٹرز اپنی طرف سے پوری کوشش کر رہے تھے لیکن ندارد۔۔۔۔ذیان ڈاکٹر سے مل کر دوبارہ آئی سی یو میں آیا تھا۔۔۔زویا اب تک بے ہوش تھی۔۔۔۔ذیان اس کے پاس پڑی چیئر پر ہی اس کا ہاتھ پکڑ کر بیٹھ گیا۔۔۔۔آنسو پلکوں کی باڑ توڑ کر گالوں پر پھسلے تھے۔۔۔۔اس نے اس کا ہاتھ تھام کر اپنے لبوں سے لگایا۔۔۔۔
“زویا پلیز مجھے معاف کر دو میں جانتا ہوں کہ اس سب کی وجہ میں ہوں۔۔۔لیکن اب مزید برداشت نہیں ہوتا۔۔۔۔جتنی تکلیف میں نے تمہیں دینا چاہی اس سے ذیادہ تکلیف میں میں خود ہوں۔۔۔۔میں نے یہ پانچ سال اذیت میں گزارے ہیں۔۔۔ایک پل چین نہیں ملا مجھے۔۔۔۔پلیز ایسے مت سوئی رہو۔۔۔اٹھو دیکھو نا تمہارا ذیان کس قدر تکلیف میں ہے۔۔۔۔۔”اس کے رونے میں شدت آئی تھی۔۔۔وہ بے خودی میں اس سے گزرے ہوئے پانچ سالوں کی اذیت بیان کر رہا تھا۔۔۔اچانک اس کے ہاتھ میں حرکت ہوئی تھی۔اس کی پلکوں میں لرزش پیدا ہوئی تھی۔۔۔اس کے ہونٹ کچھ بڑبڑا رہے تھے۔۔۔۔ذیان نے اس کے لبوں کے قریب کان کر کے سننے کی کوشش کی تھی اور اس بےہوشی کی حالت میں بھی وہ جو الفاظ بڑبڑا رہی تھی وہ الفاظ اس کو مزید اذیت سے دوچار کر گئے تھے۔۔۔۔وہ اب بھی ذیان کو نہ معاف کرنے کا کہہ رہی تھی۔۔۔۔اچانک ذیان کے ہاتھ میں پکڑے زویا کے ہاتھ نے اب زور سے ذیان کے ہاتھ کو اپنے شکنجے میں لیا تھا۔۔۔پلکیں اب تیزی سے لرزنے لگی تھیں جب اچانک اس نے جھٹکے سے آنکھیں کھولی تھیں۔۔۔۔اور سامنے اس کا ہاتھ پکڑے بیٹھے ذیان کو دیکھ کر وہ تیزی سے بیڈ سے اٹھی تھی اور اپنا ہاتھ اس کی مضبوط گرفت سے چھڑوایا تھا۔۔۔۔
“چھوڑو میرا ہاتھ۔۔۔۔۔”زویا زور سے چلائی تھی۔۔۔۔
“تم ۔۔۔تمہیں میں نے کہا تھا نا کہ چلے جاؤ یہاں سے میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گی۔۔۔تو کیوں نہیں گئے تم۔۔۔۔؟؟بولو اب کون سی اذیت دینا چاہتے ہو۔۔۔؟؟”ہوسپٹل میں چھائے سکوت کو چیرتی اس کی آواز پورے ہوسپٹل میں گونجی تھی۔۔۔۔
“زویا۔۔۔میں تمہیں کوئی اذیت نہیں دینا چاہتا۔۔۔وہ سب جو میں نے کیا۔۔۔پتا نہیں کیسے ہو گیا۔۔۔؟؟پلیز مجھے معاف کر دو۔۔۔۔”ذیان گڑگڑایا تھا۔۔۔۔آنسو اب بھی اس کی آنکھوں سے بہہ رہے تھے۔۔۔
“کیا تمہیں معاف کر کے میری اذیت ختم ہو جائے گی جو گزرے پانچ سالوں میں میں نے برداشت کی ۔۔۔۔؟؟کیا میری بیٹی جو پچھلے پانچ سال سے باپ کے زندہ ہوتے ہوئے بھی اس کی شفقت سے محروم رہی کیا وہ محرومیت۔۔۔ وہ پل لوٹ آئیں گے۔۔۔۔۔؟؟”اس نے اپنا سر تھامے سوالیہ نظروں سے دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔۔۔اور ذیان تو بیٹی کا سن کر ہی شاکڈ کھڑا تھا۔۔۔
“ک۔۔کی۔کیا۔۔۔۔۔؟؟م۔۔میری ب۔۔۔بیٹی۔۔۔۔؟؟”ذیان نے سکتے کے عالم میں لڑکھڑاتی زبان سے سوال کیا۔۔۔۔۔
“ہاں تمہاری بیٹی۔۔۔۔لیکن میں اسے بتا چکی ہوں کہ اس کا باپ مر چکا ہے۔۔۔”زویا نے نخوت سے کہا۔۔۔۔
“ن۔۔نہ۔۔نہیں اس کا باپ زندہ ہے۔۔۔۔۔”ذیان عجیب سے لہجے میں کہا۔۔۔۔اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ خود پر ہنسے یا روئے۔۔۔۔
“اچھا تو میں کیا کہتی کہ اس کا باپ کہاں ہے۔۔۔۔؟؟یا یہ کہتی کہ اس کا باپ تو ہمیں ریگستان میں کڑکتی دھوپ میں جلنے کے لئے چھوڑ گیا تھا۔۔۔۔؟؟یا یہ کہتی کہ اس کا باپ تو جانتا بھی نہیں کہ اس کی کوئی اولاد بھی ہے ۔۔۔؟؟بتاؤ ذیان کیا کہتی ۔۔۔؟؟کیا کہتی میں اس معصوم سی بچی کو۔۔۔؟؟؟بولو۔۔۔۔؟؟”دھیمے لہجے میں کہتے اچانک وہ زور سے چلائی تھی۔۔۔اور اب ذیان کا گریبان پکڑے اس سے سوال کر رہی تھی۔۔۔۔۔لیکن ذیان تو نظریں جھکائے چپ کھڑا تھا وہ کیا کہتا۔۔۔؟؟کیا جواب دیتا۔۔؟؟صحیح ہی تو کہہ رہی تھی وہ۔۔۔۔
“اب چپ کیوں ہو۔۔؟؟کچھ نہیں ہے نا کہنے کے لئے۔۔۔۔؟؟میرے پاس بھی کچھ نہیں ہوتا تھا جب میری بیٹی تمہارے بارے میں مجھ سے سوال کرتی تھی۔۔۔۔”زویا نے مضحکہ خیز لہجے میں کہا۔۔۔۔ذیان نے ایک لمحے کے لئے نظریں اٹھا کر اس کی جانب دیکھا تھا اور فورا نظریں جھکا گیا۔۔۔
“کیا ہو گیا ذیان۔۔۔یہ ندامت کس بات کی۔۔۔؟؟کس بات کا رنج ہے۔۔۔۔؟؟یہ آنکھیں کیوں جھکی ہوئی ہیں آج۔۔۔۔؟؟تمہیں تو خوش ہونا چائہیے۔۔۔یہ آنسو کیوں۔۔۔۔۔؟؟”زویا نے اس کی آنکھوں سے بہتے آنسوؤں کو پونچھتے ہوئے حیرانی سے پوچھا۔۔۔۔
“نظریں اٹھاؤ ذیان۔۔۔دیکھو میری طرف۔۔۔۔۔مجھے تمہارا یوں مجرموں کی طرح کھڑے رہنا بلکل بھی اچھا نہیں لگ رہا۔۔۔”زویا نے تڑپ کر کہا۔۔۔
“مجھے معاف کر دو بس ایک دفعہ۔۔۔۔”ذیان نے رندھے ہوئے لہجے میں کہا۔۔۔
“لو میں نے تمہیں معاف کیا۔۔۔۔معاف کی ہر وہ اذیت جو تمہاری وجہ سے میں نے سہی۔۔۔معاف کیا تمہارا وہ ظلم جو تم مجھ پر کر گئے تھے۔۔۔۔آزاد کیا تمہیں ہر اذیت سے۔۔۔۔۔لیکن۔۔۔۔۔۔”زویا نے بات کو ادھورا چھوڑا تھا۔۔۔۔
“لیکن۔۔۔؟؟”ذیان نے خوش ہوتے ہوئے اس کی جانب دیکھا تھا۔۔۔لیکن اگلے ہی لمحے اس کے بات ادھورہ چھوڑنے پر اسے اک انجانا سا خوف محسوس ہوا تھا۔۔۔۔
“لیکن مجھے تم سے طلاق چائہیے۔۔۔۔۔”ذیان کو لگا اس کے لفظ نہیں کوئی کمان سے نکلے ہوئے تیر تھے جو اس کے سینے کو بری طرح چھلنی کر گئے تھے۔۔۔۔
“ایسا مت کہو زویا۔۔۔پلیز میں تمہارے ساتھ جینا چاہتا ہوں۔۔۔تم سے محبت کرتا ہوں۔۔۔تمہیں طلاق کیسے دے سکتا ہوں۔۔۔؟؟”ذیان نے بے بسی سے کہا۔۔۔۔
“چھوڑو یہ سر سری وعدے کچھ نہیں ہوتے۔۔۔”
“ذیان”
“ابھی مرجاؤں تو کیا مرجاؤ گے تم۔۔۔؟؟”
زویا نے زخمی لہجے میں شعر پڑھا تھا۔۔۔۔
“ایسی باتیں مت کرو پلیز۔۔۔میں تمہارے بغیر جینے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔۔۔پچھلے پانچ سالوں میں میں نے لاہور کا چپا چپا چھانا ہے لیکن تم مجھے کہیں نہیں ملی۔۔۔۔ایک ایک رات تڑپ کر گزاری ہے۔۔۔۔کسی پل کسی لمحے سکون نہیں ملا مجھے۔۔۔۔اور اب تم کہہ رہی ہو میں تمہیں چھوڑ دوں۔۔۔۔”ذیان نے بھیگے لہجے میں کہا۔۔۔۔
“سچ تو یہ ہے ذیان کوئی کسی کے لئے نہیں مرتا ۔۔سب جینا سیکھ جاتے ہیں۔۔۔اگر کوئی کسی کے لئے مرتا ہوتا نا تو آج پوری دنیا قبرستان بن چکی ہوتی۔۔۔ہر انسان اپنے پیارے کے مرنے پر اپنی جان لے لیتا۔۔۔ایسا نہیں ہوتا ذیان جینا پڑتا ہے ۔۔۔۔کبھی کسی کے ساتھ مجبور میں۔۔۔۔کبھی خوشی سے اور کبھی تنہا۔۔۔۔”زویا کا لہجہ اب نارمل ہو چکاتھا۔۔۔۔
“لیکن تم سے جدا ہونے کا سوچ کر ہی میری روح کانپ اٹھتی ہے۔۔۔دل پھٹنے لگتا ہے۔۔۔۔”ذیان نے تڑپ کر کہا۔۔۔۔
“سیکھ جاؤ گے ذیان۔۔۔۔۔”زویا نے تڑخ کر کہا۔۔۔
“لیکن میں سیکھنا نہیں چاہتا۔۔۔جینا چاہتا ہوں تمہارے ساتھ۔۔۔۔”ذیان نے فورا اس کی بات کاٹی تھی۔۔۔۔
“لیکن میرے پاس وقت نہیں ہے۔۔۔۔۔تم نے بہت دیر کر دی آنے میں۔۔۔”زویا نے بے بسی سے کہا۔۔۔
“نہیں زویا میں ہوں نا۔۔۔میں تمہیں بچالوں گا۔۔۔۔”ذیان نے اسے خود میں بھینچتے ہوئے کہا۔۔۔۔
“اپنی بیٹی سے نہیں ملو گے۔۔۔۔؟؟”زویا نے بات کا رخ بدلا تھا ۔۔اور نامحسوس طریقے سے ذیان سے الگ ہوئی تھی۔۔۔۔کیونکہ زویا کا دل آنے والے وقت کا چیخ چیخ کر بتا رہا تھا۔۔۔
“کہاں ہے میری بیٹی۔۔۔؟؟”ذیان نے فورا سوال کیا تھا۔۔۔۔
“ماما۔۔۔۔ماما۔۔۔۔”اچانک ننھی لیزہ بھاگتی ہوئی زویا کے پاس آئی تھی۔۔۔۔اور آتے ہی اس کی ٹانگوں سے لپٹی تھی۔۔۔۔زویا نے نیچے بیٹھ کر اسے زور سے گلے لگایا تھا اور اب بےآواز آنسو بہا رہی تھی۔۔۔
“کیسی ہے میری جان۔۔۔۔؟؟”زویا نے اس کے ماتھے پر پیار کرتے ہوئے پوچھا۔۔۔
“میں ٹھیک ہوں مما۔۔۔آپ تیوں رو رہی ہیں۔۔۔؟؟”لیزہ نے اس کے آنسو صاف کرتے معصومیت سے پوچھا۔۔۔۔
“کچھ نہیں بیٹا۔۔۔مجھے میری پیاری سی گڑیا کی بہت یاد آرہی تھی نا۔۔۔۔”زویا نے آنسو صاف کرتے ہوئے مسکراتے ہوئے کہا۔۔
“اب مما کی ڈول مما کے پاش آگئی تو بس اب نہیں رونا۔۔۔اوکے۔۔۔۔؟”لیزہ نے گال پھلاتے ہوئے سوال کیا۔۔۔
“اوکے میری کیوٹ ڈول۔۔۔۔”زویا نے اس کے گالوں پر پیار کرتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا تھا۔۔۔
“مما یہ کون ہیں۔۔۔۔؟؟”اب ننھی لیزہ انجان نظروں سے ذیان کی جانب دیکھ رہی تھی۔۔۔اس سے پہلے کہ زویا جواب دیتی ذیان نے ننھی لیزہ کو زور سے گلے لگایا تھا۔۔۔۔اور ننھی لیزہ تو بس اس کے حصار میں مچل رہی تھی۔۔۔
“انکل میلی بونس ٹوٹ جائیں گی۔۔۔۔”لیزہ نے توتلی زبان سے نزاکت سے کہا۔۔۔ذیان کا حصار اس نازک سی لیزہ پر کافی مضبوط تھا۔۔۔۔ذیان نے بے ساختہ اس کے چہرے کو چوما تھا۔۔۔۔ننھی لیزہ کو دیکھ کر اس کی خوشی کی انتہا نہیں تھی۔۔۔اس نے کہاں سوچا تھا کہ اس کی کوئی بیٹی بھی ہوگی۔۔۔کتنا بدقسمت تھا وہ۔۔۔کتنا ظلم کر بیٹھا تھا اس ننھی سی جان پر۔۔۔۔
“نہیں ٹوٹیں گی میری جان۔۔۔۔پاپا ایسا کیسے کر سکتے ہیں۔۔۔۔”ذیان نے اپنے ہاتھوں کے پیالے میں اس کا چہرہ لیتے ہوئے کہا۔۔۔۔وہ اس کا نقش نقش جانچ رہا تھا۔۔۔وہ ہو بہو اس کے جیسے تھی۔۔۔ایک ایک نقش اس کا ذیان سے ملتا تھا۔۔۔۔اور لیزہ تو بس حیرت سے ذیان کو دیکھ رہی تھی۔۔۔
“پاپا۔۔۔آپ میلے پاپا ہیں۔۔۔؟؟”لیزہ نے خوش ہوتے ہوئے پوچھا۔۔۔۔
“جی۔۔۔۔یہ آپکے پاپا ہیں۔۔۔۔”زویا نے اسے یقین دہانی کروائی تھی۔۔۔
“دیکھیں مما۔۔۔میں نے کہا تھا نا پاپا آئیں دے ۔۔دیکھیں آج پاپا آگئے۔۔۔۔”ننھی لیزہ نے تالیاں بجا کر خوش ہوتے ہوئے کہا۔۔۔
“ہاں آگئے آپ کے پاپا۔۔۔۔۔اب آپ کو انہی کے ساتھ ہی رہنا ہے۔۔۔۔”زویا نے زخمی مسکراہٹ چہرے پر سجاتے ہوئے کہا۔۔۔۔
“نہیں مما ۔۔۔مجھے آپ دونوں کے شاتھ رہنا ہے۔۔۔اب میں اشکول میں سب کو بتاؤں گی میلے پاپا آگئے۔۔۔۔”لیزہ نے چہکتے ہوئے کہا۔۔اس کے چہرے کی چمک قابل دید تھی۔۔۔
“اب آپ ہمیں چھوڑ کر تو نہیں جائیں گے نا پاپا۔۔۔۔؟؟”لیزہ کو اچانک یاد آنے پر اس نے منہ بسورتے ہوئے پوچھا۔۔۔۔
“نہیں میری پری۔۔۔پاپا کیوں جائیں گے اب۔۔۔۔اب پاپا ہمیشہ اپنی ننھی پیاری سی پری کے ساتھ رہیں گے۔۔۔”ذیان نے نرمی سے اس کو اپنی بانہوں کے حصار میں لیتے ہوئے کہا۔۔۔۔
“پاپا مما کو بھی ہگ کریں نا ۔۔۔اب ہم تینوں ساتھ رہیں گے۔۔۔۔”لیزہ نے بھولے پن سے کہا۔۔۔ذیان نے جھجکتے ہوئے زویا کو دیکھا تھا۔۔۔اور پھر ایک ہاتھ سے لیزہ کو اٹھاتے اس نے دوسرا ہاتھ زویا کے شانوں پر رکھا تھا۔۔۔
“ہیپی۔۔۔؟؟”ذیان نے لیزہ سے پوچھا۔۔
“پاپا۔۔پاپا۔”لیزہ اچانک سے بولی تھی۔۔ذیان اور زویا نے چونک کر اس کی جانب دیکھا تھا۔۔
“کیا ہوا۔۔؟؟”ذیان نے فکرمندی سے پوچھا۔۔۔
“پاپا شیلفی۔۔۔”لیزہ نے ہنستے ہوئے کہا۔۔۔اس کی بات پر ان دونوں نے زور سے قہقہ لگایا تھا۔۔۔اور تب ہی زویا اور ذیان کی نظریں ملی تھیں۔۔۔زویا کی آنکھوں میں اب بھی شکایتیں تھیں۔۔اور یہ دیکھ کر ذیان کو تکلیف ہوئی تھی۔۔۔اس نے فورا نظریں چرائی تھیں۔۔۔اور پھر ننھی لیزہ ذیان کی پاکٹ سے موبائل نکال کر اس لمحے کو کیمرے میں مقید کیا تھا۔۔۔
“میں شب کو بتا کر آتی ہوں میرے پاپا آگئے۔۔”لیزہ موبائل ہاتھ میں لئے چہکتے ہوئے باہر کی جانب بڑھ گئی۔۔۔۔ذیان کی مسکراتی نظروں نے اس کا پیچھا تب تک کیا تھا جب تک وہ آنکھوں سے اوجھل نہیں ہو گئی۔۔۔۔
“تھینک یو زویا مجھے اتنی پیاری بیٹی دینے کے لئے۔۔۔۔”ذیان کا رخ اب زویا کی جانب تھا۔۔۔اس نے ممنون لہجے میں اس کا شکریہ ادا کیا تھا۔۔لیکن زویا تو بس خاموشی سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔
“زویا ایسے تومت دیکھو۔۔۔تمہارا اس طرح دیکھنا مجھے تکلیف دے رہا ہے۔۔۔”ذیان نے ملتجی لہجے میں کہا۔۔۔۔
“پلیز مجھے معاف کردو۔۔۔دیکھو اللہ بھی تو معاف کر دیتا ہے تم بھی معاف کردو۔۔۔۔۔”ذیان کی نظریں پھر سے جھکی تھیں۔۔
“میں نے کہا نا ذیان اس طرح نظریں مت جھکایا کرو میرے سامنے تکلیف ہوتی ہے مجھے۔۔۔تم جو بھی ہو جیسے بھی ہو میری بیٹی کے باپ ہو۔۔۔۔اور میں اپنی بیٹی کے باپ کو اس طرح شرمندہ نہیں دیکھ سکتی۔۔۔۔”زویا نے آنکھوں میں نمی لئے بے بس لہجے میں کہا۔۔۔
“کیا اپنے شوہر کوایسے دیکھ سکتی ہو۔۔؟؟”ذیان نے معنی خیزی سے سوال کیا۔۔۔
“فضول باتیں مت کرو۔۔۔”زویا نے تڑخ کر کہا۔۔۔
“یہ فضول بات نہیں تھی زویا۔۔۔۔”ذیان کا لہجہ اب سپاٹ ہو چکا تھا۔۔۔
“چلے جاؤ ذیان تمہاری موجودگی سے مجھے گھٹن ہو رہی ہے۔۔۔۔”زویا نے تلخی سے کہا تھا۔۔۔اور تب ہی اس کے سر میں درد کی لہر اٹھی تھی اس نے اپنے سر کو تھاما تھا۔۔۔۔
“زویا ایسا کیسے ہو سکتا ہے۔۔۔۔کیا ایک موقعے کے قابل بھی نہیں ہوں میں۔۔۔۔؟؟”زویا نے بے ساختہ اس کے کندھوں سے اسے تھاما تھا۔۔۔۔
“ذیان موقع دینے والی میں کون ہوتی ہوں۔۔۔؟؟”زویا نے کندھوں سے اس کے ہاتھ جھٹکے تھے۔۔۔۔
“معاف کردو نا زویا اسے۔۔۔۔”عائشے جو دروازے پر کب سے خاموش کھڑی تھی۔۔۔اس نے چپ رہنا مناسب نہ سمجھا۔۔۔ذیان کی حالت پر اسے ترس آرہا تھا۔۔۔
“عائشے اتنا بڑا ظرف نہیں ہے میرا۔۔۔۔۔”زویا نے ذیان کی طرف سے رخ موڑا تھا۔۔۔
“زویا تمہیں اللہ سے محبت ہے نا۔۔۔تو اس اللہ کے لئے ہی اسے معاف کردو۔۔۔۔موقع دے دو اسے ایک۔۔۔”عائشے نے اس کے ہاتھ تھامتے ہوئے نرمی سے استفسار کیا تھا۔۔۔
“عائشے کیوں اللہ کا واسطہ دیتی ہو۔۔۔۔؟؟”زویا نے سوالیہ نظروں سے دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔۔
“کیونکہ ہم بھی اللہ سے معافی کی امید رکھتے ہیں تو اس کے بندوں کو معاف کیوں نہیں کر سکتے۔۔۔۔۔؟؟اللہ تو معاف کرنے والا ہے اور معافی کو پسند کرتا ہے۔۔۔تو تم اس اللہ کے لئے اپنا ظرف بڑا کر لو۔۔۔۔”عائشے نے دھیمے لہجے میں استفسار کیا۔۔ذیان نے مشکور نظروں سے عائشے کی جانب دیکھا تھا۔۔۔
“ٹھیک ہے عائشے۔۔۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:جب کوئی تمہیں اللہ کا واسطہ دے تو تم اس کا وہ کام کردو۔۔۔جاؤ مسٹر ذیان اسماعیل خان زویا نے تمہیں صرف اور صرف اللہ کے لئے معاف کیا۔۔۔۔آج کے بعد میرے دل میں موجود تمہارے لئے شکایت,خلش سب دم توڑ چکے ہیں۔۔۔پوری کوشش کروں گی کہ تمہارے ساتھ خوشی سے چل سکوں۔۔۔اگر میں پانچ سال پہلے والی زویا ہوتی تو شاید تمہیں کبھی معاف نہ کرتی لیکن اب یہ زویا رب سے دل لگا چکی ہے۔۔۔رب کی ہو چکی ہے۔۔۔اسے اپنے رب سے محبت نہیں عشق ہو چکا ہے ۔۔۔۔اس کی محبت میں وہ تمہیں معاف تو کیا اپنی جان بھی دے سکتی ہے۔۔۔۔۔”اپنے رب سے محبت اس کے لہجے سے پھوٹ رہی تھی۔۔۔اللہ کا ذکر کرتے ہوئے اس کے چہرے پر جو چمک تھی ذیان اسے دیکھ کر ہی حیران رہ گیا۔۔۔۔وقت اس حد تک پلٹ سکتا ہے حالات انسان کو اس حد تک بھی بدل سکتے ہیں یہ تو اس نے سوچا بھی نہیں تھا۔۔۔۔۔اس کے گمان تک میں یہ بات نہیں تھی۔۔۔
“تھینک یو زویا ۔۔۔۔تھینک یو ویری مچ۔۔۔۔۔آج تم نے مجھے اندر تک پر سکون کر دیا۔۔۔۔آج تم نے مجھے میری زندگی لوٹا دی۔۔۔۔۔”ذیان بے خودی میں اس کے گلے لگا تھا۔۔۔۔اسے سمجھ نہیں آرہا تھا وہ کیسے اپنی خوشی بیان کرے۔۔۔
“شکر کرنا ہے تو اللہ کا کرو۔۔۔۔”زویا نے دھیمے لہجے میں کہا۔۔۔۔
“کیا وہ مجھے معاف کردے گا۔۔؟؟”ذیان نے اس سے الگ ہوتے ہوئے تشنگی سے پوچھا تھا۔۔۔۔
“کیوں معاف نہیں کرے گا ذیان۔۔؟؟اسے تو معافی مانگنے والے اپنے گناہ پر نادم ہونے والے بہت پسند ہیں۔۔۔تم اس سے اچھا گمان رکھو۔۔۔۔اللہ تعالی فرماتا ہے کہ میں اپنے بندے کے گمان کے ساتھ ہوں۔۔۔جب وہ مجھے دل میں یاد کرتا ہے تو میں بھی اسے دل میں یاد کرتا ہوں۔۔۔جب وہ مجھے مجلس میں یاد کرتا ہے تو میں بھی اسے اس سے بہتر فرشتوں کی مجلس میں یاد کرتا ہوں۔۔۔۔اگر وہ ایک بالشت میرے قریب آتا ہے تو میں ایک ہاتھ اس کے قریب جاتا ہوں اور اگروہ ایک ہاتھ میرے قریب آتا ہے تو میں دو ہاتھ اس کے قریب آتا ہوں۔۔۔اور اگر وہ چل کر میرے پاس آتا ہےتو میں دوڑ کر اس کے قریب آتاہوں۔۔۔”زویا نے دھیمی مسکراہٹ لبوں پر سجاتے ہوئے اسے سمجھایا تھا۔۔۔اور ذیان تو مسحور سا اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔کس حد تک وہ بدل گئی تھی۔۔۔۔
“ایسے کیوں دیکھ رہے ہو۔۔۔۔؟؟”زویا نے اسے اپنی جانب اس طرح دیکھتے پاکر پوچھا۔۔۔
“میں دیکھ رہا ہوں کہ میری بیوی کتنی سمجھ دار ہو گئی ہے۔۔۔۔”ذیان نے معنی خیزی سے کہا۔۔۔اچانک زویا کے مسکراتے لب سمٹے تھے اور چہرے پر کربناک تاثر پھیلے تھے درد سے اس نے اپنی آنکھیں میچی تھیں جیسے برداشت کرنے کی کوشش کررہی ہو۔۔۔۔
“زویا لیٹو ادھر۔۔۔۔تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔۔۔درد بڑھ جائے گا اس طرح۔۔۔۔”ذیان نے فکر مندی سے کہتے اس کے شانوں سے اسے تھام کر بیڈ کی جانب بڑھا تھا۔۔۔اور اس کو وہاں لٹایا تھا۔۔۔اور فورا اسے درد کا انجکشن لگایا تھا۔۔۔عائشے بھی پریشان نظروں سے اس کی جانب دیکھ رہی تھی۔۔۔۔لیکن اب درد بڑھتا چلا جارہا تھا۔۔۔انجکشن کوئی فائدہ نہیں دے رہا تھا۔۔درد کی شدت سے اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے تھے۔۔۔۔
“ذیان میرا سر پھٹ جائے گا۔۔۔۔ذیان بہت درد ہو رہا ہے۔۔۔۔”زویا مٹھیاں بھینچتی ہوئی گڑگڑائی تھی۔۔
“بس تھوڑا سا صبر کرو زویا سب ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔۔”ذیان نے اس کاہاتھ پر ہاتھ رکھتے ہوئے اسے تسلی دی تھی ۔۔لیکن اس کی حالت کسی طرح کنٹرول نہیں ہو رہی تھی۔۔۔۔
“ذیان برداشت نہیں ہوتا۔۔۔میرا سر ۔۔۔۔۔”زویا اپنا سر زور زور سے پٹخ رہی تھی ۔۔۔۔درد کی شدت بڑھتی جارہی تھی۔۔۔۔ذیان نے نرسز کو فورا بلایا تھا۔۔۔۔اب زویا کا وجود مشینوں میں جکڑا ہوا تھا وہ چلا رہی تھی۔۔۔چیخ رہی تھی۔۔۔اب درد مزید برداشت کرنا اسے ناممکن لگ رہا تھا۔۔۔۔
“زویا میں ہوں نا۔۔۔۔فکر مت کرو۔۔۔۔۔”ذیان نے اسے پھر سے تسلی دی تھی۔۔۔جب کہ زویا کی حالت اسے خطرے کا الارم دے رہی تھی۔۔۔۔
“ذ۔۔ذیان۔۔۔۔”اس نے ٹوٹے پھوٹے لہجے میں اسے پکارا تھا اور ہاتھ سے اسے اپنے قریب ہونے کے لئے کہا تھا۔۔۔۔ذیان فورا اس کے کان کے قریب جھکا تھا۔۔۔۔
“ذ۔۔ذی۔۔ذیان۔۔۔ش۔۔شاید ۔ہ۔ہم۔۔ن۔۔نے ا۔۔ایک د۔۔دوس۔۔دوسرے کک۔کو س۔سمجھنے م۔۔میں بہت وقت ۔۔ل۔لگا دیا۔۔۔۔ل۔۔لیکن اگر ہم سا۔ساتھ م۔۔میں جی۔۔۔۔ن۔۔نہیں سکتے تو ک۔۔کیا ہوا۔۔۔۔ہم ا۔۔ایک دوسرے کے ۔۔د۔۔دل میں ہیں نا۔۔۔۔یہی بہت ہے۔۔۔ا۔۔گر میں ۔۔مر۔۔گئی ن۔۔نا تو ی۔۔یہ س۔۔سوچ کک۔کر مت رونا۔۔۔کہ مجھے ت۔۔تم۔۔تمہارے آن۔۔۔آنسو تکلیف دیں گے۔۔۔۔جب ۔۔ب۔۔بھی میری ۔۔ی۔۔یاد آئے نا ۔ت۔ت۔۔تو م۔۔میرے رب سے باتیں کر لینا۔۔۔۔۔ا۔۔اس سے ۔مم۔۔میرے ل۔۔۔لئے دعا کر لینا۔۔۔۔۔اور م۔۔میری لیزہ ۔کک کو ہمم۔۔ہمیشہ خوش رکھنا۔۔۔اس۔۔۔کا ۔۔خیال ر۔رکھنا۔۔۔اس۔۔اسے میری کمی محسوس مت ہونے دینا۔۔۔۔”زویا نے لڑکھڑاتی زبان سے کہا۔۔۔۔درد کی وجہ سے اس سے بولا بھی نہیں جا رہا تھا۔۔۔ذیان کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے تھے ۔۔۔وہ خود ڈاکٹر تھا اور زویا کی حالت دیکھ کر وہ جان چکا تھا۔۔۔کہ اب زویا کا بچنا ممکن نہیں ہے۔۔۔لیکن وہ حیران تھا کہ کچھ دیر پہلے تو زویا بلکل نارمل ہو چکی تھی تو اچانک یہ سب۔۔۔۔یہ بات اس کی سمجھ سے بالاتر تھی۔۔۔۔
“لیکن زویا تمہاری جدائی مجھے مار دے گی۔۔۔۔”ذیان نے بے بسی سے کہا۔۔۔۔اور اسے پھر سے اپنے قریب ہونے کا اشارہ کیا تھا۔۔۔اور اپنے پوروں پر اس کے آنسو چنے تھے۔۔۔۔
“نہیں۔۔۔ذیان۔۔۔ر۔۔رو۔۔مت۔۔۔و۔۔وعدہ ک۔۔کرو مجھ سے سے ۔۔ک۔۔کہ تم۔۔م۔مم۔۔میرے جا۔۔۔جانے کے بعد۔۔۔ب۔۔بکھرو ۔۔گے ن۔۔نہیں ۔۔۔رو گے ن۔۔نہیں۔۔۔وعدہ ک۔۔کرو مجھ سے ۔۔تم۔۔تمہارا یہ وعدہ مجھے ۔۔۔۔سکون ۔۔کی۔موت دے گا۔۔۔۔”زویا نے التجاء کرتے ہوئے کہا۔۔۔ذیان نے اب مضبوطی سے اس کا ہاتھ تھاما تھا جیسے اسے روک لینا چاہتا ہو۔۔۔۔عائشے بھی ایک کونے میں کھڑی زاروقطار رو رہی تھی۔۔۔اب زویا کی سانسیں اکھڑ رہی تھیں درد حد سے بڑھ چکا تھا۔۔۔اور تب ہی اس نے ایک دلدوز چیخ ماری تھی۔۔۔۔۔اگلے ہی لمحے جیسے اس کی چیخ سے سب ساکت ہو گیا ہو۔۔۔باہر کھڑے حازم اور روحی آئی سی یو کے دروازے کی جانب لپکے تھے۔۔۔۔زریاب خان اور ھیشم اور رباب جو ہوسپٹل کے دروازے سے اندر داخل ہوئے ہی تھے کسی کی چیخنے پر لمحے کے لئے اس کے قدم تھمے تھے۔۔اور پھر فورا وہ دونوں تیزی سے آئی سی یو کی جانب بھاگے تھے۔۔ایک مرتبہ پھر زویا نے دلخراش چیخ ماری تھی۔۔۔جو وہاں موجود اس کے اپنوں کے دل دہلا چکی تھی۔۔۔اور پھر زویا کے چہرے پر پھیلے کرب کے تاثرات سکون میں بدلے تھے۔۔۔۔ذیان کا ہاتھ جو وہ سختی سے تھامے ہوئے تھی اس کی گرفت ذیان کے ہاتھ پر ڈھیلی ہوئی تھی اور پھر اس کا ہاتھ نیچے ڈھلکتا چلا گیا۔۔۔۔اس کی آنکھیں ساکت ہو چکی تھیں۔۔۔سانسیں تھم چکی تھیں۔۔۔اس کی روح اس کا جسم چھوڑ کر جاچکی تھی۔۔۔اب وہ بے جان سا وجود بیڈ پر پڑا تھا۔۔۔اور اب ذیان زور سے چلایا تھا۔۔۔اس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا تھا۔۔۔وہ ہچکیوں سے رو رہا تھا ۔۔۔عائشے نے آگے بڑھ کر زویا کی آنکھیں بند کی تھیں۔۔۔
“بھابھی ابھی تو زویا بلکل ٹھیک ہوچکی تھی نا۔۔۔پھر کیوں۔۔۔کیوں یہ سب ہوگیا۔۔۔۔”وہ پاس پڑی چیئر پر بیٹھتا روتے ہوئے عائشے سے پوچھ رہا تھا۔۔۔
“ذیان وہ اللہ کا وعدہ تھا۔۔۔اللہ نے وعدہ کیا ہے کہ وہ ہر انسان کو موت سے پہلے اس کی ٹھیک حالت میں لائے گا۔۔۔۔”عائشے نے تحمل سے اسے سمجھایا۔۔۔آنسو عائشے کے بھی بہہ رہے تھے ۔۔۔لیکن وہ کمزور نہیں پڑنا چاہتی تھی۔۔۔۔ذیان نے آگے بڑھ کر زویا کے بےجان وجود کو زور سے خود میں بھینچا تھا اور زاروقطار روتا چلا گیا۔۔۔
