Tere Ishq Sy Meri Zaat Tak by Ayesha Mughal NovelR50552 Tere Ishq Sy Meri Zaat Tak (Episode 28)
Rate this Novel
Tere Ishq Sy Meri Zaat Tak (Episode 28)
Tere Ishq Sy Meri Zaat Tak by Ayesha Mughal
“ڈاکٹر آپ لوگ کر کیا رہے ہیں۔۔۔۔؟؟ اب تک آپ نے پیشنٹ کا ٹریٹمنٹ اسٹارٹ نہیں کیا۔۔۔”ہسپتال کے عملے کو کافی دیر سے یہاں وہاں بھاگتے دیکھ کر ھیشم خان غصے سے غرایا تھا۔۔۔عائشے نے فکرمندی سے ھیشم خان کی جانب دیکھا تھا۔۔۔وہ اس وقت بہت غصہ میں تھا۔۔۔اور عائشے جانتی تھی کہ وہ غصے میں کچھ بھی کر سکتا ہے۔۔
“مسٹر خان بس ایک گھنٹے تک رپورٹس آجائیں گی۔۔۔اور ہم آپکو پہلے بھی بتا چکے ہیں کہ ڈاکٹر کو فون کر دیا گیا ہے وہ بھی بس آتے ہی ہونگے۔۔۔۔”نرس نے دھیمے لہجے میں کہا۔۔۔
“لیکن یہ کیسا ہوسپٹل ہے۔۔۔؟؟صبح سے شام ہو گئی لیکن اب تک آپ لوگ ایسے ہی گھوم رہے ہیں۔۔۔”ھیشم خان کی گرجدار آواز ایک اور دفعہ کوریڈور میں گونجی تھی۔۔۔۔
“مسٹر خان اب اس میں ہمارا کیا قصور ہے۔۔بلڈ ٹیسٹ کے لئے لیبارٹری میں بھیج دیا گیا ہے۔۔۔۔اب رپورٹس کا اب تک نہ آنا اس میں ہم کیا کر سکتے ہیں۔۔۔۔؟؟”نرس نے بگڑے تیوروں سے جواب دیا تھا شاید وہ بھول چکی تھی کہ وہ اس وقت کس سے مخاطب ہے۔۔۔ھیشم کا یوں چلا کر بات کرنا اسے اندر تک سلگا گیا تھا۔۔۔۔
“آپ ہم سے بدتمیزی کر رہی ہیں۔۔۔۔”ھیشم خان نے تڑخ کر کہا۔۔۔
“سوری سر۔۔۔یہ ابھی نئی آئی ہیں شاید آپ کو جانتی نہیں ہیں۔۔”اس سے پہلے کہ نرس پھر کچھ کہتی وہاں سے گزرتا ڈاکٹر اسے یوں ھیشم خان سے بحث کرتے دیکھ چکا تھا۔۔۔اس لئے فورا سے آگے بڑھ کر اس نے بات کو سنبھالا۔۔
“ڈاکٹر آپ نے ایسے کون سے ڈاکٹر کو بلایا ہے جو اب تک نہیں آیا۔۔؟کیا آپ کے ہوسپٹل کا عملہ اس حد تک سست ہے۔۔۔؟؟”ھیشم خان نے اپنے غصے کو ضبط کرتے ہوئے پوچھا۔۔۔۔
“سوری سر۔۔۔وہ ابھ۔۔۔۔۔”اس سے پہلے ڈاکٹر بات پوری کرتا دوسری نرس کی آواز پر اس کی جانب متوجہ ہوا تھا۔۔۔۔
“ڈاکٹر رپورٹس آچکی ہیں۔۔۔۔”نرس کی بات سنتے ہی وہ ھیشم خان سے ایکسکیوز کرتاوہاں سے چلاگیا۔۔۔۔ھیشم خان پھر سے بےچین دل کے ساتھ وہاں رکھی چیئرز میں سے ایک پر آبیٹھا۔۔۔۔عائشے بھی بھاری قدم اٹھاتی اس کے ساتھ والی چیئر پر آبیٹھی۔۔۔۔اس کی آنکھیں بھی اشکبار تھی زویا کی یہ حالت اسے بہت تکلیف دے رہی تھی۔۔وہ جانتی تھی کہ زویا نے بچپن سے کیا کچھ سہا ہے ۔۔۔وہ ہمیشہ سے محبت سے محروم رہی ہے۔۔۔اور یہ محرومی ہی اس کو بگاڑنے کا سبب بنی تھی۔۔۔یہ انسان کی فطرت ہے جب اسے کوئی من چاہی چیز نہیں ملتی تو وہ اس کو پانے کے لئے کسی بھی حد تک جاتا ہے ۔۔اس کے لئے چاہے اسے کتنا بھی نقصان اٹھانا پڑے۔۔۔کسی بھی حد تک جانا پڑے۔۔۔۔حازم فلحال کسی کام سے باہر گیا ہوا تھا۔۔۔۔ابھی انہیں بیٹھے کچھ ہی دیر ہوئی تھی۔۔۔جب ایک زور دار چیخ پورے ہوسپٹل میں گونجی تھی۔۔۔اس چیخ نے ہوسپٹل میں چھائی خاموشی کو بری طرح چیرا تھا۔۔۔کوئی پورے کرب سے چیخا تھا۔اس چیخ نے ہوسپٹل کے درودیوار ہلا کر رکھ دئیے تھے۔۔۔۔ھیشم خان اور عائشے جلدی سے آئی سی یو کے دروازے کی جانب بڑھے تھے۔۔۔ اور اس شیشے اس پار نظر آتے زویا کے وجود کو دیکھ کر عائشے کو زوردار جھٹکا لگا تھا۔۔۔اندر بیڈ پر لیٹا وہ وجود اب زور زور سے چلا رہا تھا۔تڑپ رہا تھا۔۔۔۔۔۔دونوں ہاتھوں سے اس نے اپنا سر تھام رکھا۔۔۔شاید درد کی شدت تھی جو زویا برداشت نہیں کر پارہی تھی۔۔۔وہ تڑپ رہی تھی۔۔۔۔زور زور سے اپنا سر بیڈ پر پٹخنے لگی تھی لیکن کسی پل سکون نہیں مل رہا تھا۔۔۔اس کے چیخنے کی آوازیں پورے ہوسپٹل میں گونج رہی تھیں۔۔۔۔۔ڈاکٹرز اب تیزی سے اپنا کام کر رہے تھے۔۔اسے جلدی سے بےہوشی کا انجکشن لگایا گیا تھا۔۔۔تب جاکر اس کی چیخنے میں کمی آئی تھی اور پھر آواز ہلکی ہوتی گئی آخر کار وہ وجود ایک دفعہ پھر دنیاومافیہا سے بےخبر ہوسپٹل کے بیڈ پر بے سدھ پڑاتھا۔۔۔زویا کی یہ حالت دیکھ کر عائشے کے آنسو مزید تیزی سے بہنے لگے تھے۔۔اتنی تکلیف میں عائشے کسی کو کہاں دیکھ سکتی تھی۔۔۔۔اس نے آنسوؤں سے لبالب آنکھوں سے ھیشم کی جانب دیکھا تھا۔۔۔۔ھیشم خان خود کو اس وقت بلکل بے بس محسوس کر رہا تھا اس نے عائشے کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر اسے تسلی دی تھی۔۔۔۔
“عائشے فکر مت کیجیے۔۔۔آپ خود تو کہتی ہیں کہ ہمیں اللہ سے مایوس نہیں ہونا چائہیے۔۔۔۔تو پھر آپ کیوں اس طرح رو کر خود کو ہلکان کر رہی ہیں۔۔۔۔؟؟آپ بیٹھیں میں ذرا ڈاکٹر سے مل کر آتا ہوں۔۔۔۔۔”ھیشم خان نے نرمی سےاسے کہتے اپنے قدم ڈاکٹر کے کیبن کی طرف بڑھا دئیے۔۔۔۔
“السلام علیکم ڈاکٹر۔۔۔۔”ھیشم خان نے روم میں داخل ہوتے ہی اپنی عادت کے مطابق سلام کیا تھا۔۔۔
“وعلیکم السلام۔۔۔بیٹھیے مسٹر خان۔۔۔۔۔”ڈاکٹر نے سلام کا جواب دیتے ہوئے اسے سامنے رکھی چیئر پر بیٹھنے کا اشارہ کیا تھا۔۔۔۔
“تھینک یو۔۔۔کیا آپ مجھے بتا سکتے ہیں کہ زویا کی اس حالت کی کیا وجہ ہے۔۔۔؟؟”ھیشم خان نے دھیمے لہجے میں پوچھا۔۔۔
“Look, Mr. Khan … Miss Zoya has had a brain tumor for a long time … We don’t know why she didn’t tell you now … Her brain cells have been badly affected and her chances of survival are slim.” Yes … because now this tumor has reached the last stage … we can’t control this disease even if we want to … just now with the help of God, you pray … besides, doctors have come. Now maybe they can do something … I hope Allah Almighty will do better … “
(“دیکھئے مسٹر خان۔۔۔مس زویا کو کافی عرصے سے برین ٹیومر ہے۔۔۔اب ہم نہیں جانتے انہوں نے آپکو کیوں نہیں بتایا۔۔۔انکے دماغ کے خلیے بری طرح متاثر ہو چکے ہیں اب ان کے بچنے کے چانسز بہت کم ہیں ۔۔کیونکہ اب یہ ٹیومر لاسٹ اسٹیج پر پہنچ چکا ہ ۔۔۔ہم چاہ کر بھی اس بیماری پر قابو نہیں کر پارہے۔۔۔۔بس اب رب کریم کا سہارا ہے آپ دعا کریں۔۔۔اس کے علاوہ ڈاکٹر آچکے ہیں اب شاید وہ کچھ کر سکیں۔۔۔۔امید ہے اللہ تعالی جو کرے گا بہتر کرے گا۔۔۔۔۔۔”)ڈاکٹر نے ھیشم خان کو پوری ڈیٹیل بتائی تھی۔۔اور ڈاکٹر کی بات سن کر ھیشم خان کو لگا جیسے کسی نے اس کے پاوؤں کے نیچے سے زمین کھینچ لی ہو۔۔۔
“تھینک یو ڈاکٹر۔۔۔”ڈاکٹر کا شکریہ ادا کرتا وہ بمشکل خود کو گھسیٹتا کوریڈور تک لایا تھا ۔۔۔ھیشم کو آتا دیکھ کر حازم اور عائشے جلدی سے اس کی جانب بڑھے تھے۔۔۔۔اس کے چہرے پر پریشانی دیکھ کر عائشے کو اپنا دل ڈوبتا ہوا محسوس ہوا۔۔۔
“ھیشم کیا کہا ڈاکٹر نے۔۔۔۔؟؟”عائشے ڈوبتے ہوئے دل سے سوال کیا تھا۔۔۔
“و۔۔وہ ڈاکٹر ن۔۔نے۔۔”آج زندگی میں پہلی دفعہ ھیشم خان کی زبان لڑکھڑائی تھی۔۔۔اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ ان دونوں کو کیسے بتائے۔۔۔
“بتائیں بھائی کیا ہوا۔۔۔۔؟؟”حازم نے اسے کسی سوچ میں گم دیکھ کر پھر سے پوچھا۔۔۔
“زویا کو برین ٹیومر ہے۔۔۔اور اب وہ لاسٹ اسٹیج پر پہنچ چکا ہے جس کی وجہ سے اس کے بچنے کے چانسز بہت کم ہیں۔۔۔۔”ھیشم خان نے آنکھیں بند کر کے بمشکل پوری بات بتائی تھی۔۔۔
“کیا ۔۔۔۔؟؟یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں ھیشم۔۔۔؟؟”عائشے کو اپنی سماعت پر یقین نہیں آرہا تھا اسے لگا اسے سننے میں غلطی ہوئی ہے۔۔۔۔لیکن سامنے کھڑے ھیشم کے چہرے کے تاثرات دیکھ کر اس کی بےیقینی یقین میں بدلی تھی۔۔۔۔وہ سکتے کے عالم میں کھڑی خالی خالی نظروں سے ھیشم کو دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
“یہی سچ ہے عائشے۔۔۔”ھیشم خان نے بے بسی سے کہا۔۔۔
“لیکن بھائی۔۔۔کیا پتا رپورٹس میں کوئی مس انڈراسٹینڈنگ ہو گئ ہو۔۔۔۔”حازم نے کسی امید کے تحت کہا۔۔۔۔حازم کو تو لگ رہا تھا کسی نے اس کے کانوں میں پگھلا ہوا سیسہ انڈیلا تھا۔۔۔
“حازم تم شاید بھول رہے ہو کہ تم اس وقت شہر کے اس ہوسپٹل میں کھڑے ہو جہاں اس غلطی کا سوال ہی نہیں اٹھتا۔۔۔۔ان کے رولز کہاں ایسی غلطیاں افورڈ کر سکتے ہیں۔۔۔۔”ھیشم نے اس کے بے معنی بات پر تھوڑے سخت لہجے میں کہا۔۔۔
“ھیشم۔۔۔زویا کو کچھ ہو گا تو نہیں نا۔۔۔؟؟”عائشے نے کسی انجانے احساس کے تحت آس بھری نظروں سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔۔
“عائشے اس اللہ پر یقین رکھیں۔۔۔ہم اس کے محتاج ہیں وہ کسی کا محتاج نہیں ہے۔۔۔یہ تو وہ رب جانتا ہے کہ کس نے کتنا وقت اس فانی دنیا میں گزارنا ہے ہمیں زویا کے لئے اللہ سے بہتری کی دعا کرنی چائہیے۔۔۔”ھیشم نے تسلی آمیز لہجے میں اسے سمجھایا۔۔۔۔وہ اثبات میں سر ہلاتی نماز کےلئے ہوسپٹل میں بنے روم میں چلی گئی۔۔۔۔ان لوگوں نے صبح سے اب تک کچھ نہیں کھایا تھا۔۔۔ھیشم نے حازم کی جانب دیکھا جو آنکھوں میں نمی لئے کھڑا تھا۔۔۔
“حازم تم رو رہے ہو؟؟رونے سے کیا ہو گا یار۔۔۔۔چلو میرے ساتھ کچھ کھالو۔۔۔۔۔”ھیشم خان اس کے آنسو صاف کرتا اسے لئے ہوسپٹل میں کینٹین کی جانب بڑھ گیا۔۔۔












“یا اللہ پلیز زویا کو صحت عطا فرما۔۔۔۔اس کو لمبی عمر دے۔۔۔پہلے ہی وہ جو وقت گزار چکی ہے اس میں اسے اذیتوں کے سوا کچھ نہیں ملا۔۔۔۔”عائشے جائے نماز پر بیٹھی بارگاہ الہی میں ہاتھ بلند لئے ہچکیوں سے زویا کے لئے دعا مانگ رہی تھی۔۔۔جب پھر سے اس کے کانوں نے ایک دلدوز چیخ سنی تھی۔۔۔اس چیخ میں اتنا درد اور کرب تھا کہ اس کے رونگٹے تک کھڑے ہوگئے۔۔۔۔وہ جلدی سے وہاں سے اٹھتی باہر بھاگی تھی۔۔اس کے قدم تیزی سے آئی سی یو کی جانب بڑھ رہے تھے۔۔۔آئی سی یو تک پہنچ کر اس نے وہاں لگے شیشے سے اندر جھانکا تھا۔۔اور سامنے نظر آتا منظر دیکھ کر اسے حیرت کا شدید جھٹکا لگا تھا۔۔۔۔۔ھیشم اور حازم بھی چیخنے کی آواز سن کر وہیں بھاگے چلے آئے تھے۔۔۔۔
“آااااااا۔۔۔۔۔میرا سر پھٹ رہا ہے۔۔۔۔۔ڈاکٹر۔۔۔۔”وہ درد کی شدت سے اپنا سر پکڑے زور زور سے چلا رہی تھی۔۔۔۔۔۔درد کی شدت نے اسے پاگل کر کے رکھ دیا تھا۔۔۔وہ مسلسل چلا رہی تھی۔۔۔جب سر کو پکڑے ایک لمحے کے لئے اس کی نظریں ڈاکٹر کی جانب اٹھی تھیں اور سامنے کھڑے سرجن ماسک لگائے ذیان کو دیکھ کر وہ وہیں ساکت رہ گئی۔۔۔لیکن اس کے سر میں اٹھتی درد کی ٹیسیں اسے فورا ہوش میں لے آئی تھیں۔۔۔ایک جھٹکے اس نے اپنے ہاتھ میں لگا کینولا پوری قوت سے کھینچ اتارا تھا۔۔۔۔اور بیڈ سے اٹھ کر باہر کی جانب بھاگی تھی۔۔۔۔لیکن ذیان نے جلدی سے اس کا ہاتھ تھام کر اسے روکا تھا۔۔۔۔
“مجھے جانا ہے۔۔۔۔چھوڑو مجھے ۔۔۔مجھے تم سے نفرت ہے سخت قسم کی۔۔۔اتنی ذیادہ کہ تم سوچ بھی نہیں سکتے۔۔۔۔”وہ پوری شدت سے چلائی تھی۔۔۔لیکن اس وقت ذیان کو اس کے الفاظ سے ذیادہ اس کی یہ حالت زخمی کر رہی تھی۔۔۔۔
“تم کیوں آئے ہو یہاں۔۔۔چلے جاؤ۔۔۔۔چلے جاؤ یہاں سے۔۔۔”وہ ایک دفعہ پھر چلائی تھی۔۔۔۔۔
“زویا۔۔۔۔”ذیان نے ابھی کچھ بولنے کے لئے منہ کھولا ہی تھا جب زویا نے ایک زوردار تھپڑ اس کے منہ پر مارا تھا۔۔۔تب ہی نرسیں اسے پکڑنے کے لئے آگے بڑھی تھیں لیکن ذیان نے ہاتھ کے اشارے سے انہیں وہیں روک دیا۔۔۔
“اپنے منہ سے میرا نام مت لو۔۔۔۔اور جاؤ یہاں سے ورنہ میں اپنی جان لے لوں گی مارلوں گی خود کی اسی وقت۔۔۔۔۔۔”اس نے سامنے پڑی آپریشن سیزر کو ہاتھ میں لیتے ہوئے اپنی کلائی پر رکھتے ہوئے کہا۔۔۔لیکن اگلے ہی لمحے اس کا سر گھوما تھا سیزر پر اس کےہاتھ کی گرفت ڈھیلی ہوئی تھی۔۔۔۔اور تب ہی سیزر اسکے ہاتھ سے چھوٹتی زمین بوس ہو چکی تھی۔۔۔اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھایا تھا اس سے پہلے کہ وہ نیچے گرتی ذیان نے اسے تھاما تھا اور اپنے بازوؤں میں اٹھاتا بیڈ پر لٹا دیا۔۔۔۔اس کی یہ حالت دیکھ کر ذیان کا دل خون کے آنسو رو رہا تھا۔۔۔وہ جس وقت آئی سی یو میں داخل ہوا سامنے بیڈ پر پڑے وجود کو دیکھ کر اس کی ہمت جواب دے گئ تھی۔۔۔دل ٹکڑے ٹکڑے تو اسی وقت ہو گیا تھا۔۔۔اور اب اس کی یہ حالت دیکھ کر ذیان کو لگ رہا تھا جیسے کوئی اس کے دل پر خنجر چلا رہا ہو۔۔۔اتنی دعاؤں کے بعد وہ ملی بھی تو اس حال میں۔۔۔موت سے لڑتی ہوئی۔۔۔اس کا دل کیا وہ خود کو ہی مار دے۔۔۔اسی وقت خود کی جان لے لے۔۔۔۔کتنی اذیت دے چکا تھا وہ اسے۔۔۔۔کس تکلیف سے وہ گزر رہی تھی۔۔۔۔اور وہ تو بس بے بس کھڑا دیکھ رہا تھا۔۔۔لیکن یہ وقت رونے کا نہیں تھا۔۔اس وقت اس نے خود کو سنبھالنا تھا۔۔۔اسے زویا کی جان بچانی تھی۔۔۔۔وہ زویا کو کھونا نہیں چاہتا تھا اسے کھونے کے خیال سے ہی اس کا دل کانپ اٹھا تھا۔۔اسے لگ رہا تھا جیسے کسی نے اسے گہری کھائی میں پھینک دیا ہو جہاں سے نکلنا بھی ناممکن ہو اور وہاں رہنا بھی موت سے ذیادہ اذیت ناک ہو۔۔۔۔اس نے جلدی سے آگے بڑھ کر زویا کونیند کا انجکشن لگایا تھا۔۔۔۔۔اس کے دماغ کو سکون میں رکھنے کے لئے یہ ازحد ضروری تھا۔۔۔۔اس کا ٹریٹمنٹ اسٹارٹ کر دیا گیا تھا۔۔۔۔۔ذیان کے ہاتھ فل تیزی سے کام کر رہے تھے۔۔۔۔اب مزید ٹریٹمنٹ کے لئے اس کا ہوش میں آنا ضروری تھا۔۔۔اب وہ سرجن ماسک اتارتا لمبی سانس خارج کرتا وہیں رکھی کرسی پر بیٹھ گیا۔۔۔۔اس کے ماسک اتارتے ہی باہر کھڑے شیشے سے اندر جھانکتے ھیشم حازم اور عائشے کو شدید قسم کا جھٹکا لگا تھا۔۔۔۔ذیان کو ڈاکٹر کے حلیے میں وہ پہچان نہیں پائے تھے۔۔۔۔وہ تو سمجھے زویا ڈاکٹر کو ذیان سمجھ رہی ہے اس لئے ایسا کر رہی ہے۔۔۔لیکن سچ میں سامنے کھڑے ذیان کو دیکھ کر حازم کی حیرت نفرت میں بدلی تھی۔۔۔۔ھیشم خان نے غصے سے اپنی مٹھیاں بھینچی تھیں۔۔۔اگر وہ ہوسپٹل میں نہیں ہوتے تو شاید وہ اب تک ذیان کو قتل کر چکا ہوتا۔۔۔۔۔
ذیان زویا کا ہاتھ تھامے بیٹھا رو رہا تھا۔۔۔۔سسک رہا تھا۔۔۔۔اس کا دل پھٹ رہا تھا۔۔۔کسی کو کھودینے کا درد کیا ہوتا ہے یہ اس وقت ذیان اچھے سے جان چکا تھا۔۔۔ایسے لگتا ہے جیسے کوئی ہماری روح کو جسم سے الگ کررہا ہو۔۔۔۔ایسے لگتا ہے دنیا ختم ہو گئی ہے۔۔۔اتنی بھیڑ میں بھی وہ انسان تنہا رہ جاتا ہے۔۔۔
“زویا اتنی نفرت مت کرو مجھ سے۔۔میں یہ برداشت نہیں کر پاؤں گا۔۔۔۔میری سانسیں تمہیں ایسے دیکھ کر رک رہی ہیں۔۔۔۔بہت اذیت دی ہے نامیں نے تمہیں۔۔۔بہت ظالم ہوں نا میں۔۔۔مارلو مجھے۔۔۔جان لے لو میری لیکن اس طرح آنکھیں مت پھیرو۔۔۔۔تمہاری نفرت کی شدت میری جان لے لے گی۔۔۔۔”ذیان بے بسی سے رورہا تھا۔۔زویا کی نفرت اسے دردناک اذیت میں دھکیل رہی تھی۔۔۔۔اس کا دل کر رہا تھا وہ جھنجھوڑ کر زویا کے وجود کو جگائے۔۔۔۔”ڈاکٹر ذیان آپ کو ڈاکٹر راحیل اپنے کیبن میں بلا رہے ہیں۔۔۔۔”وہ رو ہی رہا تھا جب ایک نرس نے آکر اسے میسج دیا تھا۔۔۔۔وہ جلدی سے آنسو صاف کرتا زویا کے ہاتھوں کے اپنے لبوں سے لگاتا اور پھر اسکے ماتھے پر مہر محبت ثبت کئے وہاں سے نکل گیا۔۔۔جیسے ہی اس نے قدم روم سے باہر نکالا تھا سامنے کھڑے ان تینوں کو دیکھ کر اس نے نظریں چرائیں تھیں۔۔۔اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کیسے ان سے آنکھیں ملائیں۔۔۔۔
“کیا ہوا ذیان۔۔۔؟؟تمہاری آنکھیں کیوں جھکی ہوئی ہیں۔۔۔؟؟”ھیشم خان نے مضحکہ خیز لہجے میں پوچھا۔۔۔۔
“بھائی وہ۔۔۔ز۔۔و۔۔”اس نے بولنے کے لئے منہ کھولا ہی تھا جب ھیشم کا بھاری ہاتھ فضا میں اٹھا تھا اور ذیان کے منہ پر نشان چھوڑتا چلا گیا۔۔۔۔ہونٹ پھٹنے کی وجہ سے اس کے ہونٹ سے خون بہنے لگا تھا۔۔۔
“بھائی مت کہو ہمیں ذیان ۔۔ہمار تم سے کوئی رشتہ نہیں ہے۔۔۔۔تمہیں کیا لگا تم اتنا سب کرو گے اور ہمیں خبر تک نہیں ہوگی۔۔۔زویا کی حالت کے ذمےدار صرف اور صرف تم ہو۔۔۔۔۔”ھیشم خان نے غصے سے دھاڑا تھا۔۔۔۔وہ ھیشم خان کے غصے کو اگنور کر کے زور سے اس کے گلے لگا تھا۔۔۔اور تب ہی ضبط کے سارے بندھن ٹوٹے تھے۔۔۔وہ زور زور سے رورہا تھا۔۔پورے کوریڈور میں اس کی ہچکیوں کی آواز گونج رہی تھی۔۔۔۔ھیشم خان نے اب تک اس کے گرد حصار نہیں باندھا تھا۔۔۔۔لیکن ہاں ذیان کو ایسے دیکھ کر ھیشم خان کے دل کو کچھ ہوا تھا۔۔۔۔
“پیچھے ہٹو ذیان۔۔۔۔ہم نے کہا نا ہمارا تم سے کوئی رشتہ نہیں ہے۔۔۔”ھیشم خان نے جھٹکے سے اس پیچھے کیا تھا۔۔۔۔
“بھائی میں یہ تو نہیں کہوں گا کہ آپ مجھے معاف کر دیں کیونکہ میں جانتا ہوں میں معافی کے قابل نہیں ہوں۔۔لیکن پلیز بھائی ایسے خود سے دور مت کریں۔۔۔۔”ذیان نے تڑپ کر کہا۔۔۔
“دور ہم نے نہیں تم نے خود کیا ہے۔۔۔تم خود ہمیں چھوڑ کر گئے تھے ۔۔۔ہم سے رشتہ تم نے خود توڑا تھا۔۔۔۔”ھیشم خان نے اسے اس کی غلطی باور کروائی تھی۔۔۔۔
“ذیان تمہارے لئے بہتر ہے کہ یہاں سے ہماری نظروں کے سامنے سے ہٹ جاؤ۔۔۔اب میں مزید خود پر کنٹرول نہیں کر سکتا اس سے پہلے میرا بھی ہاتھ اٹھے چلے جاؤ یہاں سے۔۔۔”حازم کی آنکھیں غصے سے سرخ ہو رہی تھیں۔۔۔
“حازم میرے بھائی۔۔۔۔تو۔۔۔”ذیان تڑپ کر حازم کی جانب بڑھا تھا۔۔۔اس کی نظریں اب بھی جھکی ہوئی تھیں۔۔۔
“وہیں رک جاؤ ذیان۔۔۔۔اور جاؤ جا کر خوشیاں مناؤ۔۔۔جو تم چاہتے تھے وہ ہو گیا ہے۔۔۔اور کیا چاہتے ہو اب۔۔۔؟؟”حازم نے آنکھیں پھیرتے ہوئے حقارت سے کہا تھا۔۔۔اب ذیان نے نظریں اٹھا کر عائشے کی جانب دیکھا تھا جو نظریں اس پر ٹکائے یک ٹک اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔عائشے کو اس وقت سامنے کھڑا ذیان قابل رحم لگ رہا تھا۔۔۔یہ وہ ذیان تو نہیں تھا جو اس نے اپنی شادی کے بعد دیکھا تھا۔۔۔یہ تو اس انسان کی مانند لگ رہا تھا جو جوئے میں اپنا سب کچھ ہار گیا ہو۔۔اور اب لٹا پٹا کسی کے سہارے کی تلاش میں ہو۔۔۔لیکن آج کے نفسا نفسی کے دور میں کون کسی کا سہارا بنتا ہے۔۔۔۔لوگ ہنسنے والوں کے ساتھ ہنسنا تو جانتے ہیں لیکن رونے والے کے ساتھ اس رونا نہیں جانتے۔۔۔۔عائشے کو وہ آج دنیا کا سب سے بے بس انسان محسوس ہورہا تھا۔۔۔عائشے کو اپنی طرف اس طرح دیکھتے پاکر وہ نظریں جھکا گیا۔۔۔اور اب ان تینوں کہ سامنے کسی مجرم کی مانند کھڑا تھا۔۔اور جیسے بس اب اپنی سزا کا منتظر تھا۔۔۔۔
“بھائی آپ۔۔۔۔۔؟؟”رحاب جو کب سے کھڑی سب کچھ دیکھ رہی تھی اب اس نے حیرانگی سے سامنے کھڑے ذیان کو دیکھ کر دھیمے لہجے میں پکارا تھا۔۔۔۔ذیان نے نظریں اٹھا کر سامنے کھڑی رحاب کو دیکھا تھا۔۔۔۔
“میری گڑیا کیسی ہو تم۔۔۔۔؟؟”ذیان نے کسی امید کے تحت رحاب سے پوچھا تھا۔۔۔۔
“میں ٹھیک ہوں بھائی۔۔۔یہ کیا حالت بنا رکھی ہے آپ نے اپنی۔۔۔۔۔؟؟”رحاب بھاگ کر ذیان کے گلے لگی تھی۔۔اور تب ذیان نے جانا تھا کہ بہن کیا ہوتی ہے۔۔۔۔بہن لفظ کا مطلب کیا ہوتا ہے۔۔۔۔؟؟بہن تو وہ ہوتی ہے اگر بھائی کچھ بھی کر لے۔۔۔اگر کسی کا قتل تک کر آئے۔۔۔بہن سے نفرت کرے لیکن بہن کبھی اسے دکھ میں نہیں دیکھ سکتی وہ ہمیشہ شانہ بشانہ اپنے بھائی کے ساتھ ہر حالات میں کھڑی رہتی ہے۔۔۔۔اور پھر یہاں تو رحاب تھی صاف دل کی مالک وہ نازک سی لڑکی۔۔۔۔جو کسی کو غم میں دیکھ کر ہی تڑپ اٹھتی تھی تو وہ ذیان کو دیکھ کر کیوں نے تڑپتی۔۔۔؟؟
“گڑیا جس انسان نے اپنے ہاتھوں سے خود کو تباہ کیا ہو وہ ایسے ہی ہوتے ہیں۔۔۔۔”ذیان نے زخمی لہجے میں کہا۔۔۔۔ھیشم کو رحاب کا یوں ذیان سے ملنا ناگوار گزرا تھا۔۔۔۔
“بھائی کیا کہہ رہے ہیں آپ ؟؟بھابھی کیسی ہیں۔۔۔۔؟؟”رحاب نے تڑپ کر کہا۔۔۔اس کے سوال پر ذیان کی آنکھوں سے آنسو مزید روانگی سے بہنے لگے تھے۔۔۔۔
“رحاب چھوڑ دو اس کو اس کے حال پر وہ جانتا ہے کہ اسے کیا اور کیسےکرنا ہے۔۔۔۔۔؟؟”ھیشم خان نے بے رخی سے کہا۔۔۔۔رحاب رخصت ہو کر فلحال مسٹر لغاری کے لاہور والے بنگلے میں ہی گئی تھی۔۔۔۔حازم نے کال کر اسے زویا کا بتایا تھا تو وہ بغیر لمحے کی دیر کئے دانیال کے ساتھ بھاگی بھاگی ہوسپٹل چلی آئی۔۔۔۔۔
“ڈاکٹر ذیان ڈاکٹر راحیل کافی دیر سے آپ کا ویٹ کررہے ہیں۔۔۔”نرس جو کب سے خاموش کھڑی تھی اس نے ذیان کو یاد دلایا۔۔۔
“اوکے چلئے سسٹر۔۔۔۔”ذیان نرس سے کہتا ان سب پر ایک بے بس نظر ڈالتا آگے بڑھ گیا۔۔وہ ان کو بعد میں بھی راضی کر سکتا تھا لیکن اس وقت اس کے لئے سب سے ذیادہ زویا کی جان امپورٹنٹ تھی۔۔۔۔جبکہ اب وہ سب ایک دوسرے سے نظریں چرا رہے تھے۔۔۔۔۔کسے معلوم تھا کہ ابھی ان پر ایک بڑی قیامت ٹوٹنی تھی۔۔۔رحاب اب عائشے کے گلے لگے سسک رہی تھی۔۔۔۔عائشے نے اس کی کمر تھپتھپاتے تسلی دی تھی۔۔۔۔
