Tamashaye Zaat By Fatima Tariq Readelle50126 Last Episode
Rate this Novel
Last Episode
تین سال بعد:
ان تین سالوں میں بہت کچھ بدلا تھا۔ حوریہ اور ازلان کی زندگی میں پیاری سی بیٹی آئی تھی۔ جو کہ اب دو سال کی ہو گئی تھی۔ ازلان کمپنی کا مینیجر بن چکا تھا۔ تین سال پہلے وہ سب کو لے کر اسلام آباد آ گیا تھا۔ یہاں ان سب کی ایک چھوٹی سی اور پرسکون سی زندگی بسر ہو رہی تھی۔ ماجدہ بیگم تو اپنی پوتی کے ساتھ ہی زیادہ وقت گزارتی تھیں۔ کرن اور حامد نے اسلام آباد کی یونی میں مائیگریشن کروائی تھی۔ حامد کی تو ایک سال پہلے ہی گریجویشن پوری ہو گئی۔ وہ ایم فل کے ساتھ ایک یونی میں ٹیچنگ کرتا تھا۔ ان سالوں میں اسکی شخصیت کے اندر ایک ٹھہراؤ سا آگیا تھا۔
“زین مجھے تم سے بات کرنی ہے؟” آج انکے آخری سمسٹر کا لاسٹ ڈے تھا کچھ دنوں میں انکے پیپرز ہونے والے تھے۔ ان سالوں میں زین نے اس دن اپنی محبت کے اقرا کرنے کے بعد ماہم سے دوری بناۓ رکھی وہ اس سے بہت کم بات کرتا تھا۔ اور ماہم کو اسکا یوں اگنور کرنا بہت ہرٹ کرتا تھا پر دوسری طرف وہ سوچتی تو اسے یہ سب ٹھیک بھی لگتا۔ وہ جانتی تھی زین کے ساتھ کوئی شادی نہیں کرنے دے گا۔ پر انجانے میں ہی سہی وہ بھی اس بات کا اقرا اپنے دل میں کر چکی تھی کہ وہ بھی زین جیسے صاف دل کے بندے سے محبت کر بیٹھی ہے۔
“بولو” وہ پلٹ کر بولا۔ سامنے ماہم کھڑی تھی۔
“تم گریجویشن کے بعد کیا کرنے والے ہو؟ مطلب کہاں رہنے والے ہو؟ وہ اپنے ہاتھ مڑورتے ہوۓ سوال کر رہی تھی۔ زین کو اسکا سوال بہت عجیب لگا۔
” ایک جگہ دیکھی ہے وہاں اپنی چھوٹی سی اکیڈمی کھولنے والا ہوں۔ اور وہی ایک کمرے میں رہوں گا”۔ زین نے اسکے جھکے ہوۓ سر کو دیکھ کر کہا۔
“مطلب اب یہ ہماری آخری ملاقات ہے؟” وہ سر اُٹھا کر اسکی انکھوں میں دیکھتے ہوۓ بولی۔ زین کو اسکی اواز میں ایک ڈرسا محسوس ہوا۔ کہی نا کہی وہ اسکی فیلنگز کے بارے میں جان چکا تھا۔
“ہاں! ” وہ بس اتنا ہی بولا۔ ماہم جو کہ کوئی اور جواب سننے کی خواہش مند تھی اسطرح کو جواب سن کر اسکی آنکھیں گھیلی ہونے لگیں۔ لیکن وہ بھلا اسے کیسے اپنی گیلی آنکھیں دیکھاتی اسنے سر جھکایا۔
“تو زین تمہارے ساتھ اس یونی کا پہلا سال بہت مزے سے گزرا مجھے ایک اچھا دوست ملا ہاں وہ دوست تین سالوں سے کھو سا گیا ہے۔ پر کوئی بات نہیں مجھے بہت خوشی ہے تم میرے دوست تھے” وہ ایک دم چہک کر بولی چہرے پر مسکراہٹ سی چھائی تھی۔ جو کہ نکلی تھی۔
“شکریہ ماہی! تم وہ واحد انسان ہو جس نے اتنے برے انسیی ڈینٹ کے باوجود مجھ سے دوستی کی ایک دوست سے بڑھ کر تم نے میرا خیال رکھا۔ میں اس سال میں مکمل بکھر جاتا اگر تم میرے ساتھ نا ہوتی۔ اور ہو سکے تو مجھے معاف کر دینا میں تین سالوں سے تم سے دور رہنے کی کوشش کر رہا ہوں وجہ تم اچھے سے جانتی ہو۔ چونکہ یہ ہماری آخری ملاقات ہے تو میں تمہیں آخری چیز دینا چاہتا ہوں” وہ اسکی طرف دیکھ کر بول رہا تھا۔ تبھی اسنے اپنے بیگ میں ہاتھ ڈالا اور ایک کی چین نکالی۔
“یہ میری فیورٹ کئی چین ہے جب بھی اداس ہوتا ہوں اسے دیکھتا ہوں۔ اسے دیکھ کر چہرے پر مسکراہٹ آجاتی ہے اب سے یہ تمہاری میرا آخری تحفہ۔ کبھی کبھی دیکھ کر یاد کر لینا ایک پاگل لڑکا ایک جھلی لڑکی سے۔۔۔۔ ” ۔ وہ ایک سمائلی بنی کئی چین ماہم کی طرف بڑھاتے ہوۓ آخر میں کہتے کہتے رک گیا۔
“جھلی لڑکی سے کیا؟ ” ماہم نے کی چین پکڑتے ہوۓ کہا۔
“کچھ نہیں ماہی میں چلتا ہوں اپنا خیال رکھنا” وہ بیگ کو کندھے پر صحیح کرتے ہوۓ چہرے پر مسکراہٹ سجا کر بولا۔ اور پلٹ گیا۔ وہ گیٹ کی طرف جا رہا تھا۔ ماہم اس کو جاتے ہوۓ دیکھ رہی تھی۔ اسکی آنکھوں میں نمی کی وجہ سے دھند سی چھانے لگی۔ وہ جانتی تھی آج وہ آخری بار مل رہی تھی۔ وہ گیٹ سے باہر نکل گیا۔ ماہم کی انکھوں سے آنسو نکل کر ہاتھ کی ہتھیلی پر گِڑے۔ اسنے ہاتھ کی طرف دیکھا۔ نظر اس کی چین کی طرف پڑی۔ آنسو لگاتار جاری تھے۔
“میرب میں نے بولا یہی رک جاؤ رکو یہ دودھ تو پینا پڑے گا میرب” حوریہ دودھ کا گلاس لیے حال میں اسکے پیچھے پیچھے بھاگ رہی تھی۔ پر وہ میرب ہی کون جو اسکی بات سن لے وہ پچھلے آدھے گھنٹے سے اسے اپنے پیچھے بھگا رہی تھی۔
“میرو” وہ غصے سے بولی۔ پر وہ بھاگتی ہوئی گارڈن میں آگئی۔ جہاں ماجدہ بیگم بیٹھیں ہوئیں تھیں۔ وہ بھاگ کر انکی گود میں چڑ کر بیٹھ گئی۔
“کیا ہوا؟” ماجدہ بیگم نے میرب کے سر پر پیار کرتے ہوۓ سامنے کھڑی غصے سے میرب کو گھورتے حوریہ سے پوچھا۔
“تائی جی کب سے اسکے پیچھے بھاگ رہی ہوں دودھ پی لو پہلے ہی دیکھیں کتنی کمزور ہے اوپر سے کچھ کھاتی پیتی نہیں صبح بھی کچھ نہیں کھایا پر یہ سنتی کہاں ہے ” حوریہ پھٹ پڑی۔
“پریشان مت ہو ادھر دو میں پیلا دیتی ہوں” ماجدہ بیگم نے گلاس اسکے ہاتھ سے لیا۔ حوریہ گلاس انہیں دے کر میرب کو گھورتی اندر کی طرف چلی گئی۔
“کیوں اپنے ماما کو تنگ کرتی ہو چلو اچھے بچوں کی طرح دودھ پی لو” ماجدہ بیگم حوریہ کے جاتے ہی میرب کو بولیں جو اب دودھ کے گلاس کو دیکھ کر برے برے منہ بنا رہی تھی۔ پر اب وہ ماجدہ بیگم کے پاس تھی۔ تو دودھ پیے بغیر اسکا جانا نا ممکن تھا۔
کیچن سے فارغ ہو کر وہ اپنے کمرے میں آئی اور بیڈ شیٹ بھیچھانے لگی کمرے میں ادھر اُدھر میرب کے کھلونے تھے اسے سمیٹا۔ اور دوبارہ نیچے آگئی۔ کرن حال میں میرب کے ساتھ کھیل رہی تھی۔
“بابا بابا بابا ” ازلان جیسے ہی گھر میں داخل ہوا میرب بھاگتے ہوۓ اسکے گلے لگی۔ یہ روز کا معمول تھا۔ ازلان اسے گود میں اُٹھا اندر داخل ہوا۔
“میری تاکلیٹ ( چاکیلٹ) وہ اپنی توتلی زبان میں بولی صبح صبح ہی اسنے فرمائیش کی تھی۔
” کوئی چاکلیٹ نہیں دانت خراب ہو جائیں گے” حوریہ ڈائینگ ٹیبل پر کھانے کے برتن رکھتے ہوۓ بولی۔ میرب نے رونے والا منہ بنایا۔
“میں اپنی پرنسس کے لیے بہت ساری چاکلیٹس لایا ہوں پر تھوری دیر بعد دوں گا پہلے کھانا کھاتے ہیں میں فریش ہو کر اتا ہوں۔ وہ اسے صوفے پر بیٹھاتے ہوۓ بولا۔
سب لوگوں نے ڈنر کیا۔ اور حال میں بیٹھ کر چاۓ پی۔ دس بجے کے قریب سب اپنے اپنے کمرے میں سونے کے لیے چلے گے۔ ازلان کمرے میں داخل ہوا تو سامنے بیڈپر حوریہ سوئی ہوئی میرب پر کمبل دے رہی تھی۔
” کیا ہوا بیگم آج موڈ کیوں خراب ہے” وہ اسکے قریب آ کر بولا۔ حوریہ نے اسے فل اگنور کیا۔ اور اپنا موبائل چارجنگ پر لگانے لگی۔ ازلان کو معاملا زیادہ خراب لگا۔
“حور کیا ہوا؟” وہ الماری کی طرف جا رہی تھی جب وہ بولا۔
“اپکو اس سے کیا شکر ہے اتنا تو یاد ہے کہ ایک عدد بیوی بھی ہے” وہ الماری میں کپڑے رکھتے ہوۓ بولی آواز میں واضع غصہ تھا۔
“ہاں لوگوں کی تو دو عدد تین عدد یا چار عدد ہوتیں ہیں میری تو ایک عدد ہی ہے” ازلان اپنی مسکراہٹ دبا کر بولا۔ حوریہ نے وہی سے کُشن پکڑ کر اسکو مارا۔
“جائیں جا کر ایک عدد اور لے آئیں تا کہ آپکا شوق تو پورا ہو” وہ غصے سے کہتی کمرے کی کھڑکھی کھول کر باہر دیکھنے لگی۔ آنکھوں میں آنسوں آگے۔ ازلان نے سارا مزاق سائیڈ پر رکھا۔اور اسکے پاس آیا۔
“مجھے بتائیں کیا ہوا اسطرح رو کر مجھے پریشان تو مت کریں” ازلان نے اسکا چہرا اپنی طرف کرتے ہوۓ کہا۔
“مجھے سمجھ آ گئی ہےاب آپ مجھ سے کوئی پیار ویار نہیں کرتے۔ اگر کرتے تو یوں دو مہینوں سے اگنور نا کر رہے ہوتے۔ آپکو کوئی خیال نہیں ہوتا ایک بیوی بھی ہے اسے بھی وقت دے دوں۔ وہ اسکے سینے پر مُکہ مارتے ہوۓ بولی۔ ازلان کو اب معاملا سمجھ میں آیا وہ دو مہینوں سے ایک پروجیکٹ پر بہت مصروف تھا۔ اور سچ میں اسنے حوریہ کو کافی اگنور کیا تھا اسے وقت نہیں دے پا رہا تھا۔
” ایم سو سوری حور ” وہ اسے اپنے حصار میں لیتے ہوۓ بولا۔
“ازلان میں نہیں کہتی آپ ہر وقت میرا خیال رکھیں پر ایٹ لیسٹ کبھی کبھار بیٹھ کر باتیں ہی کر لیا کریں۔ وہ روتے ہوۓ بولی۔ ازلان کو اپنی بے وقوفی پر غصہ آرہا تھا۔ اسنے اسے صوفے پر بیٹھایا۔ اور پانی پلایا۔ اور پاس ہی بیٹھ گیا۔
” حور میری جان ایم سوری مجھے پتہ ہی میں وقت نہیں دے پا رہا پر اپ بھی تو جانتی ہو آفس میں کتنا کام ہوتا ہے” وہ اسکے ہاتھوں کو پکڑتے ہوۓ بولا۔۔
“ازلان آپ ہم سب کے لیے پیسے کما رہے ہیں پر ایسے پیسے کا کیا فائدہ جس کی وجہ سے اپنی فیملی کو وقت ہی نا دے پائیں، مجھے نہیں چاہیں ایسے پیسے وہ دوبارہ سے رونے کا پرگرام بنا رہی تھی۔ ازلان اسکے یوں ری ایکٹ کرنے کی وجہ سے کافی پریشان ہو گیا تھا۔ پچھلے دو مہینوں کی وہ بھری پڑی تھی اور اب یوں خود ہی رو کر سب نکال رہی تھی۔ وہ دو تین دن سے نوٹ تو کر رہا تھا وہ کچھ چڑ چڑی ہو گئی تھی۔ پر اسکی وجہ آب معلوم ہو رہی تھی۔
” ایم سوری میں وعدہ کرتا ہوں۔ افس کا کام آج سے آفس میں چھوڑ کر آؤں گا اور گھر میں سارا وقت اپ سب کو دوں گا اوکے تو کیا آخری دفع معافی مل سکتی ہے وہ اسے اپنے حصار میں لیتے ہوۓ بولا۔
“ٹھیک ہے بس آخری دفع اگر دوبارہ ایسا ہوا میں بات نہیں کروں گی۔ حوریہ اسے وارنگ دیتے ہوۓ بولا۔
” ویسے مجھے معلوم نہیں تھا میری اٹینشن نا ملنے کی وجہ سے میری بیگم اتنی اداس ہو جاتیں ہیں ورنہ میڈیم اپنا سارا وقت آپکو ہی دے دوں۔ وہ اسکے سلکی بالوں کو سہلاتے ہوۓ بولا۔
“میرا کیا قصور ہے آپ نے ہی عادت ڈال دی ہے۔ پہلے اگر اتنی اٹینشن نا دیتے تو آج میں بھی ایسے ری ایکٹ نا کرتی۔ وہ اسکے سینے پر تھوڑی رکھ کر اسکی انکھوں میں دیکھتے ہوۓ بولی۔ وہ ہلکے سے مسکرایا۔ اور اگے بڑھ کر اسکے ماتھے پر بوسہ دیا۔ جس میں محبت بھرا احساس تھا۔ حوریہ کو اپنے اندر تک سکون اترتا ہوا محسوس ہوا۔
” اگے سے کبھی ایسا نہیں کروں گا” وہ مسکرا کر بولا۔ کچھ دیر وہ دونوں اپس میں باتیں کرتے رہے حوریہ کو موڈ بہتر ہو گیا تھا۔ ۔
“وہ امی کا بہت بار فون آ چکا ہے پچھلے کئی مہینوں سے وہاں نہیں گئی تو امی بول رہی ہیں کچھ دن رہنے ا جاؤ” وہ دونوں پاؤں صوفے پر رکھتے ہوۓ بولی۔
“ابھی کچھ دیر پہلے میری اٹنشن نا ملنے کی وجہ سے رو رہیں تھیں اور اب آپکو لاہور جانا ہے وہ بھی کچھ دنوں کے لیے، تو بیگم جی ان دنوں میں میرا کیا بنے گا، میں میرب اور اپکے بغیر کیسے رہوں گا” ازلان تو اسکے جانے کی بات سن کر بگڑ ہی گیا۔ وہ پہلے بھی انہیں کم ہی جانے دیتا جب کبھی وہ دونوں چلی جاتیں وہ دن اسکی زندگی کے سب سے لمبے دن ہوتے تھے۔
“تو اچھی بات ہے نا اپکو سزا ملے گی جیسے مجھے اگنور کیا ویسے کچھ دن رہیں میرے اور میری بیٹی ہے بغیر وہ کندھے اچکا کر بولی۔
” حور اپ اب ایسا کریں گی” ازلان صدمے سے بولا۔ حوریہ کا قہقہ بلند ہوا۔
” میرے جھلے شوہر جی افرحہ کے لیے رشتے ا رہے ہیں وہ شادی کے لیے مان نہیں رہی امی کافی پریشان ہیں وجہ وہ بتا نہیں رہی بس اسے سمجھانا ہے اسی لیے جانا ہے” حوریہ نے اسکے گال کھینچتے ہوۓ اصل مقصد بتایا۔
“افرحہ تو نہیں مانے گی چاہے جو مرضعی کر لو” ازلان وہی صوفے پر اسکی گود میں سر رکھ کر لیٹ گیا۔
” کیوں” حوریہ کو اسکی بات بیت عجیب لگی۔
“کیونکہ حامد اور افرحہ ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں۔ ابا کی دیتھ کے بعد حامد کی بے وقوفی کی وجہ سے وہ ناراض ہے” ازلان نے گول مول سا جواب دیا۔
“ازلان مجھے سب بتائیں ” حوریہ کو یہ سب معلوم نہیں تھا وہ شاک میں تھی۔ ازلان نے اسے سب بتا دیا۔
” او تو یہ وجہ ہے اب کیا کریں؟” سب سن کر حوریہ بولی۔
“کرنا کیا ہے میں صبح سب سے بات کرتا ہوں پھر آپ چچی کو فون کر کے بتانا کہ ہم حامد اور افرحہ کا رشتہ لے کر آرہے ہیں۔ جب رشتہ طے ہو جاۓ گا سب ٹھیک ہو جاۓ گا۔ وہ آنکھیں بند کرتے ہوۓ بولا۔
” افرحہ کی بچی نے یہ سب مجھ سے چھپایا اب تو چھوڑوں گی نہیں” حوریہ دانت پیس کر بولی۔
“اس پر جا کر غصہ کیجیے گا فل حال میرا سر دبا دیں بہت درد ہو رہا ہے” ازلان نے اسکا ہاتھ پکڑ کر ماتھے پر رکھا اور آنکھیں بند کر لیں۔
“پہلے بتانا تھا نا میں دوائی لا دوں” وہ اسکا سر دباتے ہوۓ پریشانی سے بولی۔
“نہیں رہنے دیں بس اپنے پیارے سے ہاتھوں سے دبا دیں۔ ٹھیک ہو جاۓ گا۔ وہ ہلکا سا مسکرا کر بولا۔ حوریہ اسکا سر دبانے لگی۔ ازلان ساتھ ساتھ باتیں کرتا رہا۔
★*
سب سے بات کر کے وہ سب جمعے کے دن امین صاحب کے گھر پہنچے تھے سب کو آنے کا مقصد پتہ تھا۔ افرحہ نے سن کر بھی کچھ نا بولا وہ اب کچھ بولنا ہی نہیں چاہتی تھی وہ خود بھی اتنی لمبی سزا سے آزادی چاہتی تھی۔ ان سالوں میں وہ خود بھی بہت ٹوٹی تھی اور حامد کو تو اسنے اپنی آنکھوں کے سامنے کئی بار ٹوٹتے دیکھا تھا۔ سبھی حال میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔
تو چاچو بتائیں کس دن بارات لے کر آئیں؟ ازلان مٹھائی کا پیس پکڑتے ہوۓ بولا
بیٹے جس دن چاہو لے آؤ۔ وہ ہنس کر بولے۔
چاچو تو پھر اس مہینے کی بائیس کیسی رہے گی۔ دیکھیں چاچو کچھ خریدنے کی ضرورت نہیں۔ وہ ہلکے سے بولا۔ امین صاحب اسکی بات سمجھ گے۔
تو اس مہینے کی بائیس کو مہندی اور تئیس کو بارات اور چوبیس کو ولیمہ ہو گا وہ اونچی آواز میں بولے سبھی ایک دوسرے کو مبارک دینے لگے۔
افرحہ اور مایم کیچن سے کھانے کی ڈیشز لا کر ٹیبل پر لگانے لگیں۔ سبھی نے مل کر ڈنر کیا۔ وہ سب سمیٹ کر اب گارڈن میں آئی جہاں حوریہ ازلان، میرب، حامد، کرن اور ماہم بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔ وہ سب نیچے گھاس پر ہی بیٹھے تھے۔ وہ انکے پاس آ کر بیٹھی۔
کرن ماہم کو یونی کے آخری دن کی باتیں بتا رہی تھی کہ کیسے انہوں نے آخری دن منایا۔ ماہم کے کانوں میں زین کی باتیں گھونج رہیں تھیں۔ وہ ایک دم اداس ہو گئی۔
ایک طرف ازلان میرب اور حوریہ کے ساتھ باتیں کر رہا تھا۔ وہ دونوں میرب کی انوکھی باتوں ہر ہنس رہے تھے۔
افرحہ وہی حامد کے پاس آکر بیٹھی تھی۔ حامد جو موبائل یوز کر رہا تھا اسے یوں پاس بیٹھا دیکھ کر موبائل کو بند کر کے اسکی طرف متوجہ ہوا۔
تم اس رشتے سے خوش تو ہو نا کہی کسی دباؤ کی وجہ سے تو شادی نہیں کر رہی حامد کے دل میں ابھی تک اسکے یوں آسانی سے مان جانا اٹکا ہوا تھا۔
حامد ایم سوری میں نے خوامخو اس بات کو اتنے سالوں تک دل میں رکھا۔ میں بہت پہلے ہی تم سے بات کرنا چاہتی تھی پر ہر دفع رک جاتی تھی۔ اور اب یہ شادی میری مرضعی سے ہی ہو رہی ہے۔ وہ ہلکے سے مسکرا کر بولی۔ حامد کے کندھوں سے مانو ایک بوجھ سا اترا۔
شکریہ! وہ کھل کر مسکرایا۔
اہممم اہممم! شرم کرو ابھی شادی نہیں ہوئی اور سب کے سامنے ہی پیار بھری باتیں کر رہے ہو۔ ماہم نے دونوں کو گھور کر کہا۔
ماہم شرم کرو کرنے دو انکو باتیں حوریہ نے اسے ڈانٹا۔
اچھا تو آپی کل بازار چلیں پرسوں تو آپس سب جا رہے ہو مجھے میرو کے لیے ایک گفٹ لینا ہے جو بہت پہلے دیکھا تھا ماہم میرب کو پکڑتے ہوۓ بولی
لے جائیں گے۔ حوریہ نے ازلان کی طرف دیکھ کر سوالیہ انداز میں کہا۔
میڈیم جو اپکا حکم آپکا خادم آپ کی خدمت کے لیے حاضر ہے وہ سینے ہر ہاتھ رکھ کر جھک کر بولا۔ سب کا قہقہا بلند ہوا۔
میرب کیا لو گی؟ماہم میرب کو اُٹھا کر کھلونوں والی دکان پر گئی۔
حامد مجھے کچھ بکس لینی ہیں کچھ دن پہلے پتہ کیا تھا انکل نے بولا دو دن میں ا جائیں گئی۔ سائد آگئی ہوں۔ افرحہ مال میں بنی ایک کتابوں والی دکان کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ بولی۔
چلو لے لیتے ہیں ازلان بھائی ہم اتے ہیں حامد ایک طرف کھڑے ازلان اور حوریہ کو دیکھتے ہوۓ بولا۔ ازلان نے ہاں میں سر ہلایا۔
حور اپکو کچھ نہیں لینا؟ ازلان نے اسکی طرف دیکھ کر کہا جو کہ اپنی چادر ٹھیک کر رہی تھی۔
نہیں میرے پاس سب کچھ ہے۔ وہ مسکرا کر بولی۔ اسنے کبھی کچھ زیادہ نہیں مانگا تھا۔ ازلان خود ہی لا کر دے دیتا یا خود ہی شاپنگ پر لے جاتا۔
اور کسی کے لیے نہیں لینا؟ ازلان نے اپنی کالر اوپر کرتے ہوۓ خود کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ کہا۔
ہاہاہا زیادہ تیز مت بنو اپ کی ابھی کچھ دن پہلے ہی تو میں نے شاپنگ کی تھی۔ حوریہ ہنستے ہوۓ بولی۔
کیا یار کیوں کنجوسی کر رہی ہیں شوہر کے پیسے ہیں جتنے مرضعی اُڑاؤ۔ ازلان ہمشہ یہی کہتا تھا۔
تو شوہر محنت سے کماتا ہے اسکا مطلب یہ تو نہیں میں فضول خرچی کروں۔ اور ویسے بھی جس چیز کی ضرورت ہوتی ہے میں لے تو لیتی ہوں۔ بری باتیں ہوں گئیں چلیں ماہی اور میرب کو دیکھتے ہین کیا لیا ہے آپکی صاحبزادی نے کہی خالہ کو کنگال ہی نا کر دیا ہو۔ وہ اسکا ہاتھ پکڑ کر دکان کی طرف بڑھی۔
یقیناً میری صاحبزادی میرے پر ہی گئی ہے دیکھنا ماہم تو اج کنگال ہو کر ہی رہے گئی۔ وہ اسکے ساتھ چلتے ہوۓ ہنس کر بولا۔ دونوں دکان کے اندر داخل ہوۓ سامنے میرب اور ماہم ایک رینک میں رکھے برے سے ڈول ہاؤس کو دیکھ رکے تھے۔
تحالہ ما یہ لینا ہے۔ وہ ڈول ہاؤس پر ہاتھ رکھتے ہوۓ بولی۔
اوکے مائی پرنسس چلو پے منٹ کریں ماہم اسکے گال کو چومتے ہوۓ بولی۔ اور کانٹر کی طرف بڑھی۔ میرب حوریہ کو دیکھ کر اسکی طرف بڑھی اور اسے ڈول ہاؤس کا بتانے لگی۔ ماہم پے منٹ کر رہی تھی حوریہ اور ازلان میرب کو لے کر ایک طرف کھڑے تھے جب پیچھے سے آواز آئی۔
حوریہ! انہوں نے چونک کر مڑ کر دیکھا تو سامنے سحر دو سالہ بیٹی گود میں لیے کھڑی تھی۔ حوریہ نے حیرانگی سے اسکی طرف دیکھا۔ یہ وہ سحر نہیں تھی۔جو آج سے تین سال پہلے تھی۔ عام پرانا سا سوٹ پہنے، بری سی کالی چادر کو اُڑھے وہ اپنے بچے کے ساتھ کھڑی تھی چہرا میک اپ سے پاک اور کمزور تھا جیسے وہ کچھ کھاتی نا ہو۔
حور چلیں۔ ازلان نے میرب کو اپنی گود میں لیا اور حوریہ کا ہاتھ پکڑ کر دکان سے باہر لے آیا۔
حوریہ میری ایک دفع بات سن لو تمہیں خدا کا واسطہ ہے پیچھے سے سحر کی نم آواز گھونجی۔ حوریہ کے قدم تھمے ماہم گفٹ پکڑ کر باہر ا چکی تھی۔ وہ بھی حیرانگی سے سحر کو دیکھ رہی تھی۔
چلو حور! ازلان دوبارہ بولا۔ پر وہ مُڑی اور سحر کو بولنے کا کہا
تمہارا دل تو برا ہے نا مجھے معاف کر دو۔ اتنے سالوں میں مجھے پتہ چل گیا ہے میں نے کتنے برے برے گناہ کیے۔ تمہارے کردار پر تہمت لگائی۔ تمہیں پتہ ہے اسد کو بھی اللہ نے سزا دے دی۔ اسکا سڑک پر ایکسیڈینٹ ہوا ۔ وہ بالکل پیرالائیز ہو گیا ہے۔ اور میری زندگی میری زندگی اسان نہیں ہے۔ میری ایک ایسے شخص سے شادی ہوئی جسکا کردار بہت خراب ہے۔ وہ شراب پے کے گھر آتا کے مجھے روز مارتا ہے۔ کھانے کو کچھ نہیں ملتا پہنے کو کچھ نہیں ملتا بہت مشکل سے بچے کو پال رہی ہوں۔ اج اسکی برتھ ڈے تھے اس نے بولا امی کھلونا لے دو میں وہی لینے آئی۔ بہت مہینوں کے پیسے بچاۓ تھے۔ میرا حال بہت برا کر دیا اللہ نے میں نے ازلان کو پانے کے لیے تمہارے کردار کو خراب کرنے کی کوشش کی اللہ نے مجھے بدکردار شوہر اور اتنی بدتر زندگی دے دی میں ہاتھ جوڑ کر تم سے معافی مانگتی ہوں مجھے معاف کر دو۔ وہ روتے روتے ناجانے کیا کیا بول رہی تھی۔ حوریہ حیرانگی سے اسکی باتیں سن رہی تھی۔ اپنے اوپر بیتے دکھ بتا رہی تھی۔ حوریہ کو اسکی حالت دیکھ کر اس پر ترس آیا۔ وہ اگے بڑھی ازلان نے اسے جانے دیا۔
تم ہاتھ مت جوڑو میرے دل میں تمہارے یا کسی اور کے خلاف کچھ نہیں۔ میں بہت پہلے تمہیں معاف کر چکی ہوں۔ تم اللہ سے معافی مانگو وہ بھی تمہیں معاف کر دے گا۔ اور اپنی زندگی کو بہتر بناؤ پرھی لکھی ہو اپنی اور اپنی بیٹی کی حالت دیکھو۔ وہ اگے بڑھ کر اسکے ہاتھ پر ہاتھ رکھتے ہوۓ بولی۔ سحر روتی رہی۔
حور چلیں! ازلان دوبارہ بولا اسے سحر پر بالکل یقین نا تھا ہوسکتا تھا وہ دوبارہ ویسی حرکت کر دے وہ اسی لیے حوریہ کو جلد سے جلد مال سے باہر لے کر جانا چاہتا تھا
میں چلتی ہوں خوش رہو وہ ہلکا سا مسکر اکر بولی۔ سحر نے ہاں میں سر ہلایا۔ وہ چاروں مال سے باہر نکل آۓ حامد اور افرحہ بھی ا چکے تھے۔ سب خاموشی سے گھر اگے۔
( ہر جرم کی سزا یہی دنیا مین ہی مل جاتی ہے۔ اللہ پاک نے بس انسان کی رسی دراز کی ہوتی ہے، کہ انسان تو کر جو کرنا چاہتا ہے، وہ دیکھتا ہے میرا بندہ کتنا کچھ کرتا ہے، پر جب اللہ اس رسی کو کھینچتا ہے تو برے برے غرور ،اکڑ والے لوگ منہ کے بل گڑتے ہیں۔ کچھ تو تب سحنمبل جاتے ہیں اور کچھ تب بھی اسی اکڑ میں رہتے ہیں)
وہ لوگ گھر پہنچے۔ کل صبح حوریہ لوگوں کو نکلنا تھا وہ چیزیں رکھ کر باہر گارڈن میں آئی جہاں کرسی پر ازلان بیٹھا کسی سے بات کر رہا تھا۔ حوریہ گارڈن میں داخل ہوتے رکی۔ امین صاحب باہر کہی جا رہے تھے جب حوریہ کو یوں رکتے دیکھ وہ اسکے پاس آۓ۔
حوریہ کیا ہوا؟ انہوں نے سوال کیا۔
کچھ نہیں۔ بس ایسے ہی اپکی ایک بات یاد آ گئی۔ وہ ہلکا سا مسکرا کر بولی۔
کون سی بات امین صاحب نا سمجھی سے بولے۔
اپکو یاد ہے ، جس روز آپ مجھے ازلان سے شادی کرنے کے لیے منانے آۓ تھے اپ نے ایک بات بولی تھی۔ اپنے کہا تھا حوریہ دیکھنا ایک دن تم ا کر بولو گی ابو اپنے ازلان سے شادی کروانے کا فیصلہ بہت اچھا کیا۔ وہ انکی طرف دیکھ کر بولی۔ امین صاحب کو یاد آیا۔
ہاں بولا تھا۔ وہ ہاں مین سر ہلاتے ہوۓ بولے۔
میں آج اپکا شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں اپ نے ازلان کو میرے لیے چن کر میری زندگی کا سب سے اچھا فیصلہ کیا۔ آپ یقین نہیں کریں گے ازلان نے مجھے پلکوں پر بیٹھا کر رکھا ہے کبھی کبھی سوچتی ہوں مجھ پر بہت سارے داغ تھے چاہے وہ چہرے کا ہو یا طلاق کا پھر بھی وہ شخص مجھے اتنی عزت دیتا ہے مجھے خود پر رشک ہوتا ہے میں ازلان کی بیوی ہوں۔ جہاں پہلے میں ہر بات پر اللہ سے شکوہ کرتی تھی آج میں ہر چیز پر اللہ کا شکر ادا کرتی ہوں۔ اگر میری زندگی میں وہ سب نا ہوا ہوتا تو شاید آج میں یوں مظبوط نا ہوتی۔ ازلان نے مجھ میں خود اعتمادی پیدا کی ہے آج میں لوگوں کے سامنے اپنے چہرے پر میک اپ کی طے لگا کر نہین جاتی تا کہ وہ باتیں نا کر کریں۔ میں سر جھکا کر نہیں سر اُٹھا کر انکے قدم سے قدم ملاتی ہوں۔ اب میری نظروں میں خوف نہیں خوشی ہوتی یے اور یہ سب ازلان کی وجہ سے ہے اور آپ نے جو فیصلہ کیا اسکی بدولت ہے وہ نم لہنے میں بولی۔
بچے میں تو اپنی بیٹی کے اچھے کے لیے یہ فیصلہ کیا تھا اور مجھے خوشی ہے ازلان میرے امیدوں پر پورا اترا اور میری بچی کو اتنا خوش رکھا ہوا ہے۔ وہ بھی نم لہجے میں بولے۔ حوریہ مسکرا دی۔ امین صاحب اسے تھوری دیر میں آنے کا کہ کر چلے گے۔ وہ چل کر ازلان کے پاس کرسی کھینچ کر بیٹھ گئی۔
آپی ازلان بھائی مجھے آپ دونوں سے بات کرنی ہے۔ ماہم ان دونوں کے پاس آ کر بیٹھتے ہوۓ بولی۔
کیا ہوا؟ حوریہ کو وہ کافی سیریس لگی۔
کیا آپ نے اسد اور سحر کو سچ میں معاف کر دیا۔ وہ اتنا ہی بولی۔
ہاں کیوں؟ حوریہ نے ناسمجھی سے کہا۔
اب جو میں بولنے والی ہوں شائد آپ دونوں کو شاک لگے پر مجھے اب بولنا پڑے گا۔ اگر اب نا بولا تو دیر ہو جاۓ گی۔ وہ ہاتھ مرورتے ہوۓ بولی۔
ماہم کیا بات ہے؟ ازلان بھی اب پریشان ہوا۔
میں زین سے محبت کرتی ہوں اور وہ بھی۔ وہ اپنی امی کے ساتھ نہین رہتا وہ اکیلا رہتا یے، اسنے اکیڈی کھولنی ہے۔ اسکی امی نے کافی دفع اسے ساتھ چلنے کا کہا پر وہ نہین گیا۔ وہ انکھیں بند کر کے جلدی جلدی بولتی گئی۔
کیا بول رہی ہو؟ حوریہ نے غصے سے کہا۔
سچ بول رہی ہوں زندگی مین ایک دفو محبت ہوئی اور وہ بھی اس زین سے جس نے تین سال پہلے ہی مجھ سے بات کرنا بند کر دی۔ کیونکہ وہ جانتا تھا اپ سب نہیں مانے گے وہ سر جھکا کر بولی۔
امی ابو نہیں مانے گے۔ حوریہ بولی۔ ماہم کی انکھوں سے انسون نکلنے لگے۔
ماہم چاچو اتے ہیں تو میں بات کرتا ہوں وہ مان جائیں گے۔ تم مجھے زین ایڈریس دو مین کل اس سے ملتا ہوں۔ ازلان نے حل نکالا۔
سچ میں؟ ماہم ایک دم کرسی سے اُٹھ کر بولی۔
ہاں سچ میں ازلان مسکرا کر بولا۔
شکریہ ازلان بھائی مین ابھی زین کا ایڈریس سینڈ کرتی ہوں۔ وہ بھاگ کر اپنے کمرے کی طرف گئی۔
ابو نہیں مانے گے حوریہ پریشانی سے بولی۔
مان جائیں گے اور ویسے بھی وہ اکیلا رہتا ہے مین کل اس سے مل لوں گا۔ اور کون سا ابھی شادی کرنی ہے دو سال کا وقت دیتے ہیں۔ اسکے اندر اندر وہ پیروں پر کھڑا ہو جاۓ گا۔ وہ اسد سے مختلف ہے پچھلی سردیوں میں میری ملاقات ہوئی تھی۔ ازلان اسے ریلکس کر رہا تھا۔
امین صاحب کے اتے ہی ازلان نے ان سے بات کی۔ جسے سن کر پہلے تو وہ پریشان ہو گے پر ازلان کے سمجھانے پر وہ کچھ سمجھ گے۔ انہوں نے زین سے ملنے کا کہا اور اسے گھر بلانے کا کہا۔ ماہم سے نمبر لے کر ازلان نے خود زین سے بات کی اور اسے صبح کے ناشتے پر ہی گھر انے کا کہا۔ زین تو کچھ پل سمجھ ہی نا پایا۔ اسے تو یقین ہی نا ہوا۔ پر ماہم کی بہادری پر وہ حیران ضرور ہوا تھا۔۔
اگلی صبح سب ناشتے پر اسکا انتظار کر رہے تھے۔ وہ گھبڑایا سا گھر میں داخل ہوا۔ سب نے اچھے سے اسکا استقبال کیا۔
ناشتہ کرنے کے بعد امین صاحب ازلان، ماجدہ بیگم اور بشرہ بیگم حال میں رکھے صوفوں پر بیٹھے ہوۓ تھے۔
دیکھو ہمیں اس سے کوئی اعتراض نہیں تم بس اپنے پیروں ہر کھڑے ہو جاؤ اسکے بعد ہم شادی کی تاریخ رکھ دیں گے۔ پر تمہیں نہیں لگتا تمہیں اپنی امی کے پاس رہنا چاہیے تھا۔ امین صاحب نے بہت سوچ سمجھ کر سوال کیا۔
انکل اس گھر سے اور گھر میں رہنے والے لوگوں سے تو اسی دن تعلق توڑ دیا تھا جس دن میں نکلا تھا۔ اور دیکھیں میرا اللہ نے میرا ساتھ دیا اور آج میں پڑھا لکھا ہوں انشااللہ بہت جلد اکیڈمی کی اوپنگ ہو جاۓ گی۔ اور بہت جلد ایک گھر بھی لے لوں گا۔ وہ ایک عزم سے بولا۔ ازلان کو اسکے اندر اپنی جھلک دیکھائی دی۔ وہ بھی تو ایسے ہی زیرو سے شروع ہوا تھا اور آج اسکے پاس سب کچھ تھا۔
انشااللہ تو حامد اور افرحہ کی مہندی پر ان دونوں کا نکاح رکھ لیتے ہیں امین صاحب بولے۔ سب نے انکے فیصلے پر سر ہلایا۔ زین کو ابھی تک یقین نہیں آ رہا تھا۔ سب اتنی آسانی سے ہو گیا۔ کبھی کبھی ہم کسی کام کو بہت مشکل سمجھ کر کرتے نہیں اس سے دور بھاگتے ہیں پر یون اچانک وہ کام ہو جاتا ہے اور ہم سوچتے ہیں ارے یہ تو کتنا اسان تھا۔ زین نے بھی امید چھوڑ دی تھی پر ماہم کی ہمت نے سب ٹھیک کر دیا۔
★★\*
یونہی دن تیزی سے بیتتے گے۔ افرحہ اور حامد کی مہندی پر زین اور ماہم کا نکاح ہو گیا۔ اور آج انکی بارات تھی۔ ازلان لوگ اپنے پرانے گھر مین رہنے کے لیے ایک ہفتے پہلے آۓ تھے وہی سے حامد کی برات نکلی۔اور میرج حال پہنچی میرج حال میں سب کا بہت اچھے سے استقبال ہوا۔ حامد اس وقت سٹیج پر بیٹھا ہوا تھا۔ وہ بہت خوش دیکھائی دے رہا تھا۔ نکاح ہوا اور افرحہ کو اسکے ساتھ لا کر بیٹھایا گیا۔
دیکھیں حامد بھائی میں تو پچاس ہزار ہی لوں گی۔ ورنہ یہاں سے نہین اُٹھوں گی۔۔ کرن اپنا لہنگا سحنمبال کر وہی سٹیج پر بیٹحتے ہوۓ بولی۔
سالی صاحبہ یہ کچھ زیادہ نہیں میں غریب بندہ ہوں۔ حامد نے معصومیت سے کہا۔
حامد بھئی اپکی غریبی تو بہت اچھے سے جانتی یوں پچاس ہزار سے ایک روپیہ کم نہیں یو گا وہ موبائل کے کیمرے سے اپنا ٹیکا صحیح کرتے ہوۓ بولی۔ سب انکی نوک جھوک سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔
بھائی اس دفع تو میں بھی ماہی کے ساتھ ہوں دل برا کرو اور نکالوں پیسے کرن بھی ماہم کے پاس بیتھتے ہوۓ بولی۔
یس ماہم نے چلا کر کرن کے ہاتھ پر ہاتھ مارا۔
حامد دے دے ماجدہ بیگم نے کہا۔
لو جی سالی صاحبہ حامد نے پیسے نکال کر ماہم کی طرف بڑھاۓ ماہم نے خوشی سے چلاتے ہوۓ پیسے تھامے۔ اور سٹیج سے نیچے اتری۔ وہی بشرہ بیگم نے اسے روک لیا اور اسکی کلاس لگائی۔ بیس ہزار دے کر باقی کے تیس ہزار لیے اور اوپر سٹیج پر آ کر واپس کیے۔
حد ہو گئی وہاں ہھر لینے کیوں دیے جب واپس ہی کرنے تھے وہ منہ بسورتے ہوۓ خالی ٹیبل پر آ کر بیٹھ گئی۔
مجھ سے لے لو جتنے لینے ہیں اپنے قریب سے زین کی آواز آئی۔
تم سے کیوں لوں۔ وہ منہ بسور کر بولی۔ زین نے کرسی گھسیٹی اور اسکے پاس بیٹھا۔ نکاح ہونے کے باوجود ماہم نے اسکا فون نہیں اُٹھایا تھا وہ اس دن سے ایک دفع بھی اس سے بات نہیں کی تھی۔
ویسے سنا ہے کسی نے اپنی آپی اور جیجو کے سامنے کسی کے لیے محبت کا اظہار کیا تھا۔ ویسے جس کے لیے کیا تھا اس بیچارے نے تو ابھی تک سنا نہیں۔ وہ انکھوں میں شرارت لیے بولا۔ ماہم وہاں سے اُٹھی اور بنا کچھ بولے جانے لگی جب زین نے اسکا ہاتھ پکڑا۔
آئی لو یو ماہم میری زندگی میں آنے کے لیے اور اسے خوبصورت بنانے کے لیے شکریہ۔ میں تو ڈرپوک بندہ تھا تم نے جو سٹیپ لیا اسکے لیے بھی شکریہ۔ وہ اسکے کان کے قریب جھک کر بولا۔ زین کا یوں اقرار کرنے سے وہ ایک پل کے لیے ٹھر گئی۔
تو معافی مل سکتی یے۔ وہ ہولے سے بولا۔
ایک شرط پر وہ پلٹ کر بولی۔
بولو ! زین نے کہا۔
پرسوں مجھے پارک لے کر جائیں گے اور مجھے ڈسکوری ہر بیٹھنے سے روکیں گے نہیں وہ اپنے مطلب پر آئی۔ وہ جب بھی گھر والوں کے ساتھ گئی تھی کسی نے اسے بیٹھنے نہیں دیا تھا۔
وہ کافی اونچا ہوتا یے اور گول گول گھومتا ہے تمہاری طبعیت خراب ہو جاۓ گی زین نے اسے منع کرنا چاہا۔
پلیز پلیز وہ منمنائی۔
اوکے لے جاؤں گا ابھی چلو تصویریں بنوائیں وہ فوٹوگرافر کو اشارہ کرتے ہوۓ بولا۔ اور کافی ساری تصویریں بنوائیں۔ دور کھڑے امین صاحب نے اپنی بچوں کو یوں خوش دیکھ کر خدا کا شکر ادا کیا۔ وہ ہمشہ بیٹے کی کمی کے طعنے دیتے تھے۔ آج انہیں اپنے کہے الفاظوں پر شرم محسوس ہوتی تھی۔ فنگشن بہت ہی خوبصورتی سے مکمل ہوا۔ رخصتی کروا کر سب گھر پہنچے۔ حوریہ اور کرن نے بہت اچھے سے استقبال کیا۔
★*★★
وہ بہت تھکی ہوئی الماری سے کپڑے نکالنے ہی لگی جب کمرے کی لائیٹ بجھی۔
یہ کیا ہوا؟ حوریہ نے حیرانگی سے ادھر اُدھر دیکھا۔ جب دروازہ کھول کر ازلان اندر داخل ہوا اسکے ہاتھ میں ایک چاکلیٹ کیک تھا جس پر ہیپی برتھ ڈے حور لکھا ہوا تھا۔ اس پر تین موبتیاں لگی ہوئیں تھی۔ سامنے بیڈپر میرب سو رہی تھی۔
ہیپی برتھ دے مائی وائف ازلان ہولے ہولے بولتا اسکے قریب آیا۔
یہ سب اپکو یاد تھا؟ وہ حیرانگی سے بولی۔وہ خود بھولی بیٹھی تھی۔
پہلے کبھی بھولا ہوں جو اب بھولتا۔ کاٹیں۔ اسنے کیک ٹیبل پر رکھا اور نائیف اسکو پکڑائی۔
حوریہ نے کیک کاٹا۔ ازلان پیچھے ہیپی برتھ دے تو یو گا رہا تھا۔ حوریہ نے کیک کا پیس پکڑا اور اسے کھیلایا۔ اور پھر خود کھایا۔
شکریہ ! وہ مسکرا کر بولی۔
ابھی کہاں ابھی تو گفٹ بھی ہے ازلان نے ایک باکس اسکی طرف دیتے ہوۓ کہا۔ حوریہ نے باکس پکڑا اور اسے کھولا۔ اندر سونے کی ایک خوبصورت سی چین تھی۔ جس ہر حوریہ ازلان لکھا تھا۔ ازلان نےا سے چین پہنائی۔
شکریہ بیگم میری زندگی میں آکر اسے اتنا خوبصورت بنانے کے لیے۔ آج بھی اگر زندگی کو اپکے بغیر سوچوں تو سانس نہیں لی جاتی۔ وہ اس اپنے حصار میں لیتے ہوۓ بولا۔۔
یہ لائینز میری ہونی چاہیے تھی۔ حوریہ منہ بنا کر بولی۔
میں بولو آپ بولیں ایک ہی بات ہے۔ وہ ہنس کر بولا۔۔۔ حوریہ بھی ہنس دی۔
دونوں نے اپنی زندگی میں اونچ نیچ دیکھی تھی۔ ازلان نے حوریہ سے محبت کی تو اسے اپنے رب سے مانگا اسنے غلط رستے کو چننے کی بجاۓ صحیح راستہ چنا۔ اور حوریہ اپنی زندگی میں اتنے غم دیکھنے کے بعد آج ازلان کی بے پناہ محبت کے آگے خود جھک گئی تھی۔ وہ جو اللہ سے شکوے کیا کرتی تھی آج وہ اسکا شکر ادا کرتے نا تھکتی تھی۔
پتہ کیا جب ہم اپنے دل کو صاف رکھیں نا اور کسی کے لیے برا نا سوچیں تو دنیا چاہیے اپکو جتنا مرضعی گِڑانے کی کوشش کر لے وہ ہار جاتی ہے اور آپ جیت جاتے ہو۔ کیونکہ سچے اور صاف دل والے انسان کے ساتھ اللہ ہوتا ہے اور جسکے ساتھ اللہ ہو اسے دنیا سے ڈرنے کی کیا ضرورت۔ وہ اللہ کی دی ہوئی آزمائیشوں کو بھی خوشی خوشی سہ جاتا ہے۔ کیونکہ وہ جانتا ہے آج اگر دکھ ہے تو کل کو خوشی بھی ملی گی اور اتنی ملے گی کہ آپ سے سھنمبالنے نہیں سحنمبلے گی۔ تو زندگی میں نا امید ہونے کی بجاۓ رب کی ذات پر بھروسہ رکھیں، اگر کچھ چھوٹتا ہے تو جانے دیں اسکے بدلے ہزار درجہ بہتر ملے گا۔
ختم شدہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
