51.6K
29

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 27

“پیپر کیسا ہوا؟” وہ اس وقت اپنا دوسرا پیپر دے کر یونی کے گارڈن میں بیٹھی ہوئی تھی جب حاند اسکے قریب بیٹھتے ہوۓ بولا۔
“ٹھیک ہوا” وہ بس اتنا ہی بولی۔ کچھ پل کے لیے خاموشی چھائی رہی حامد اسکے چہرے کی طرف دیکھ رہا تھا، یہ بات تو وہ کافی عرصے سے نوٹ کر رہا تھا کہ وہ بہت چپ چپ سی ہو گئی ہے، اسکی آنکھوں کے گرد حلقے پڑے دیکھ کر اسکو اپنا دل کٹتا ہوا محسوس ہوا۔
“وقت سے سوتی نہیں ہو جو آنکھوں کے گرد حلقے پڑے ہیں؟” حامد کی آواز نے خاموشی کو توڑا۔
“پڑھتی ہو اسی لیے نیند پوری نہیں ہو رہی اور کچھ ” وہ اپنے موبائل سے نظریں ہٹا کر سرد انداز میں بولی۔
“افرحہ ایم سوری یار پلیز معاف کر دو اور یک سب ختم کرو اب مزید مجھ سے تمہاری بے رخی سہی نہیں جاتی ایک دفع پلیز اس ٹاپک پر بات تو کر کے دیکھو” حامد منت بھرے انداز میں بولا۔
“صحیح کہا ایک دفع بات کر کے ختم کر دینی چاہیے بولو کیا بات کرنی ہے ؟” وہ اپنا موبائل بند کر کے اب مکمل اسکی جانب متوجہ ہوئی۔جیسے آج سب ختم کرنا چاہتی ہو۔
“کیا تم وہ سب بھول نہیں سکتی” وہ بس اتنا ہی بولا۔
“بھول جاؤ! ہممم تم کہ سکتے ہو تمہیں لگتا ہے تم کہو گے افرحہ سب بھول جاؤ، میں نے جو کیا مجھے اسکے لیے معاف کر دو، اور افرحہ تو پاگل ہے نا وہ سب بھول کر تمہیں معاف کر دے گئی اور بولے گئی چلو اب اچھے سے رہتے ہیں ” وہ ہنستے ہوۓ بولی اسکی ہنسی میں چھپی ازیت حامد نے محسوس کی۔
“تو تم معاف نہیں کرو گئی” ؟ ایک ڈر اسکی آواز میں واضع تھا۔
“مسٹر حامد آج تم مجھے بتا ہی دو کیا کیا معاف کرو، تمہارا یوں بنا وجہ بتاۓ مجھ سے بات نا کرنا وہ معاف کروں ، یا طنزیہ کے جو تم نے تیر چلاۓ انکو بھولوں، یا وہاں کوڑیڈور میں کھڑے ہو کر تمہارا اپنی زندگی سے مجھے نکالنا وہ بھولوں، یا اپنی ذات کو تمہاری نظروں مین دو کوڑی کا ہوتے ہوۓ دیکھا اسکو بھولوں ، تم نے کہا تھا نا افرحہ تمہاری سب سے بری غلطی ہے تم اس باپ کی بیٹی ہو جسکی وجہ سے میرا باپ مرا، تو اب بھول گے میں ابھی بھی اسی باپ کی بیٹی ہوں، تم شائد ان دنوں کو بھول سکتے ہو پر میں نہیں میں وہ اذیت نہیں بھول سکتی جو تم نے مجھے دی تھی” وہ اپنی آواز کو زیادہ اونچا نا کرتے ہوۓ نم لہنے میں بول رہی تھی اسکی آواز میں واضع دکھ ،غم غصہ تھا۔
“پلیز ایک دفع معاف کر دو تمہیں کیا لگتا ہے وہ سب کر کے میں بہت خوش تھا، تمہیں اپنی زندگی سے نکالنا میرے لیے بھی کوئی آسان کام نہیں تھا، اگر تمہیں یہ اذیت ہوئی ہے تو تم سے ڈبل اذیت سے میں گزرا ہوں، اس وقت میرے دماغ میں جو آیا میں نے کر دیا”
“واؤ حامد تمہارے دماغ میں جو آیا تم نے کیا اور اذیت ہنہہہ اگر اذیت میں ہوتے تو ایسا کبھی نہیں کرتے۔ اور اس بات کی کیا گرینٹی ہے کل کو دوبارہ سے تم مجھے نہیں چھوڑو گے، کل دوبارہ سے اگر ویسی سچویشن آ گئی تب بھی تم وہی کرو گے اس لیے اس بات کو یہی ختم کرتے ہیں اپنی زندگی خوشی سے جیو اور مجھے بھی جینے دو بار بار میسج کرنے کی کوئی ضرورت نہیں” وہ اپنا بیگ کندھے پر ڈالے کھڑی ہوئی ۔اور بنا اسکی بات سنے وہاں سے نکل گئی۔ وہ کتنی ہی دیر اسے جاتے ہوۓ دیکھتا رہا۔


“کیا تم اس لڑکے کو پہلے سے جانتے ہو” ؟حمدان صاحب گاڑی میں بیٹھتے ہوۓ اسد سے مخاطب ہوۓ۔ وہ دونوں ابھی ابھی فاروق صاحب کی کمپنی سے باہر نکلے تھے۔
“نہیں تو” وہ ہکلاتے ہوۓ بولا۔
“تم بھروسے مند بندے ہو اسی لیے اتنے اہم پروجیکٹ میں تجھے ساتھ لیا ہوں اگر میرے ہاتھوں سے یہ نکلا تو اپنا دیوالہ نکلوانے کے لیے تیار رہیو” حمدان صاحب سخت لہجے میں بولے۔
کیا بات کر رہے ہیں آپ میرے مالک ہی نہیں بلکہ ہونے والے سسر ہیں تو کیا بھلا میں اپنے سُسر کو نیچے گڑنےبدوں گا اور آپ تو ٹیشن ہی مت لو یہ پروجیکٹ تو فاروق کی کمپنی کے ساتھ ہو کر رہے گا۔ اسکے لیے مجھے جو کرنا پڑے گا میں وہ کروں گا۔ وہ انہیں یقین دیلانے لگا۔
“یہ تو دیکھ لوں گا تم کتنے پانی میں ہو اگر یہ پروجیکٹ گیا تو میری بیٹی کو بھی بھول جانا اور اب 50٪ حصہ ہی ڈالو میں نہیں چاہتا جو 50٪ ہمیں منافع ہونے والا ہےو ہ بھی ہاتھ سے نکلے۔ حمدان صاحب سگڑیٹ جلاتے ہوۓ بولے اسد نے ہاں میں سر ہلایا۔
” ازلان اگر تو میرے رستے میں آیا تو ایسا توڑ کر پھینکو گا ساری زندگی اُٹھ نہیں پاۓ گا، سالے اپنے تین سالوں کی محنت کو ایسے ہاتھ سے نہیں جانے دو گا”اسد شیشے سے باہر دیکھتے ہوۓ سوچ رہا تھا۔


وہ پرسوں بشرہ بیگم کے بہت کہنے کے بعد ماجد بیگم سے آجاذت لے کر رہنے آئی تھی اور ساتھ کرن بھی آئی تھی۔ کرن اس دن کے بعد سے کافی بدل گئی تھی حوریہ نے بھی اس سے آہستہ اہستہ دوستی کر لی تھی اور اب وہ دنوں کافی اچھی طرح بات کرتیں تھیں۔ اور جہاں تک بات ماجدہ بیگم کی تھی وہ نا تو زیادہ اچحے سے بات کرتیں نا پہلے لی طرح برے طریقے سے اور نا طنز کے تیر چلاتیں۔ اب وہ کافی چپ چپ رہتیں حوریہ ان سے بات کرنے کی کوشش کرتی پر وہ چپ ہی رہتیں۔
کھانا کھانے کے بعد وہ فارغ ہوۓ اور اوپر کمرے میں بیٹھ کر باتیں کرنے لگ گئیں۔
افرحہ اس دن کا حامد سے بات کرنے کے بعد سے ناجانے کیوں زیادہ اداس ہو گئی تھی۔ اسکے بعد سے حامد نے اسے ایک بحی میسج یا کال نہیں کی تھی ۔
“چلو یار بور ہو رہا ہے لُڈو کھیلتے ہیں” ماہم اُٹھی اور الماری کے اوپر سے لڈو اتار لائی۔
“اس دفع بھی ہر بار کی طرح میں ہی جیتوں گی” کرن لال رنگ چنتے ہوۓ بولی۔
“تم بھی زین کی طرح اُور کانفیڈینٹ مت بنو وہ بھی اس دن یونی میں یار ا تھا پہلے ایسے ہی بول رہا تھا میں ہی جیتوں گا پر ہار گیا” ماہم اپنے بال پہچھے کی طرف کیچڑ لگاتے ہوۓ بولی ۔
” وہ ابھی تک گھر نہیں گیا مجھے تو لگا واپس چلا گیا یو گا” افرحہ نے پوچھا
” اس میں غیرت کوٹ کوٹ کر بھری ہے گھر جانا نہین چاہتا اور مجھے ویسے بھی لگتا ہے وہ ایک دن کافی اونچا ادمی بنے لگا “ماہم مسکرا کر بولی۔ اسے جیسے یقین ہو۔ چاروں کھیلنے لگیں۔
” یار آپی دھیان سے کھیلو نا ہار جاؤ گی”ماہم حوریہ کو گھور کر بولی جسکا زیادہ دھیان گیم پر ہونے کی بجاۓ فون پر تھا۔
“نا تو میسج آیا نا ہی کال” وہ موبائل کی بند سکرین کو گھور کر دل ہی دل میں بولی۔ اپنا سر جھٹک کر اسنے گیم کی طرف دھیان دینے کی کوشش کی۔
“ویسے تو بولتے ہیں پیار کرتا ہوں اور اب دیکھو دو دن ہو گے ایک کال تو کیا میسج تک نہیں کرتے، میں بھی اب کال نہیں اُٹھاؤں گی” وہ اپنے نمبر چلاتے ہوۓ دل ہی دل میں سوچ رہی تھی۔
“لو جی یہ ایک اور گوٹی مر گئی یا ہو ” کرن حوریہ کی ایک گوٹی اُڑاتے ہوۓ بولی۔ وہ ہلکے سے مسکرائی۔
”اف مجھ سے نہیں کھیلی جاتی “وہ چڑتے ہوۓ بولی اور بیڈ سے اُٹھ گئی۔
” کیا ہوا؟ اب ہار رہی ہیں تو چھوڑ کر بھاگیں گی؟” ماہم اپنی کمر پر دونوں ہاتھ رکھ کر غصے سے بولی۔
“میرا موڈ نہیں ہے تم لوگ کھیلو میں آتی ہوں” وہ اپنا موبائل وہی سائیڈ ٹیبل پر رکھ کر کمرے سے نکل گئی۔
“دو دن ہو گے بھائی کی کوئی کال میسج نہیں ایا اسی لیے پریشان ہیں” ماہم بولی۔
“تمہیں کیسے پتہ؟” افرحہ نے گھور کر پوچھا۔
“یار کل دو دن سے نوٹ کر رہی ہوں ہزار دفع موبائل کو دیکھتی ہیں پھر مایوس ہو کر موبایل ساییڈ پر رکھ دیتی ہیں” وہ اپنے دو دن کی ابزرویشن بتا رہی تھی۔
“لو تمہاری ایک گوٹی مر گئی” کرن ہنستے ہوۓ بولی ماہم حیرانگی سے لوڈو کو دیکھتی رہ گئی وہ باتوں میں مصروف تھی جب کرن کو نمبر آۓ اور اسنے کرن کہ اُڑا دی۔۔۔ افرحہ اور کرن کا قہمقہ بلند ہوا۔
وہ نیچے آئی تو حال میں بشرہ بیگم ٹیوی پر ہم ٹیوی کا ڈرامہ لگا کر دیکھ رہیں تھیں۔ وہ چلتی ہوئی انکے پاس آئی اور صوفے پر انکی گود میں سر رکھ کر لیٹ گئی۔
“کیا ہوا طبعیت ٹھیک ہے” ؟ بشرہ بیگم شفقت سے اسکے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوۓ بولیں۔
“ہاں ٹھیک ہوں” وہ بے دلی سے بولی۔
“تو اداس کیوں ہے میری بچی کہی ازلان سے جھگڑا تو نہیں ہوا؟ حوریہ وہ تمہارے ساتھ ٹھیک تو ہے نا؟ اوربھابھی کا رویہ کیسا ہے؟ ایک پر ایک انہوں نے سوال کیا ماں تھیں دل میں ہزاروں وسوسے آتے تھے پہلے بھی کئی دفع وہ یہ سب پوچھنا چاہتی تھیں پر ہر بار رک جاتیں۔
” امی سب ٹھیک ہیں ، تائی جی بھی بہت اچھی ہیں اہستہ اہستہ انکا غصہ ختم ہو رہا یے، کرن تو اپکے سامنے ہے کتنی عزت کرتی ہے، حامد بھی اچھا ہے، وہ مسکرا کر بولی بشرہ بیگم کو تسلی ہوئی۔
“اور ازلان وہ کیسا ہے اسکا رویہ تمہارے ساتھ کیسا ہے” ؟
“ازلان! سچ بتاؤں۔ ” وہ انکی طرف دیکھتے ہوۓ بولی بشرہ بیگم نے ہاں میں سر ہلایا۔
“امی! ازلان جیسا شوہر قسمت والی کو ملتا ہے۔ وہ بہت اچھے ہیں، مجھے پہلے ان سے کافی شکوے تھے پر اب ایسا لگتا ہے بن بولے انہوں نے اپنے عمل سے میری سوچوں پر لگے سارے بندھ توڑ دیے ہیں اور میرے دل میں ایک الگ جگہ بنا لی ہے مجھ جیسی طلاق یافتہ لڑکی سے شادی کرنا اوپر سے اتنی عزت دینا کہ کبھی کبھی مجھے خود کو اپنے کہے گے الفاظوں پر شرمندگی ہوتی ہے وہ جذب کے عالم میں بولے جا رہی تھی۔ پر ابھی پتہ دو دن ہو گے نا تو کوئی فون کیا اور نا ہی میسج۔ بشرہ بیگم کے اندر ڈھیرو ڈھیر سکون اتر رہا تھا انہون نے چپکے سے اپنی آنکھیں صاف کیں اور اپنی بچی کو اتنی تقلیفوں کے بعد پرسکون دیکھ کر وہ بہت خوش تھیں۔
” اپی ازلان بھائی کی کال ہے”ماہم جو تھوڑی دیر پہلے حال مین آئی تھی حوریہ تب ازلان کے بارے میں بول رہی تھی وہی ازلان فون کے دوسری طرف سب سن رہا تھا۔
“تم کب کی کھڑی ہو؟” وہ ازلان کا نام سن کر ایک دم کھڑی ہوئی
“جب اپ ازلان بھائی کی شان میں خوبصورت سے الفاظ بول رہین تھیں تبھی آئی۔ وہ موبائل اسکی طرف کرتے ہوۓ بولی حوریہ نے اسے گھورا۔ اور موبایل پکڑ کر باہر گارڈن کی طرف چلی گئی۔


وہ اپنے اپاٹمینٹ آیا اسکے دماغ میں دو دن پہلے ہوئی میٹگ کی باتیں گھوم رہی تھی پچھلے دو دن سے وہ کافی پریشان تھا اسنے کمپنی کی دیٹیلز چیک کروائیں پر کچھ خاص ملا نہیں۔ دو ہفتوں کے اندر اسے سب پتہ کرنا تھا۔ نہا کر فریش ہو کر وہ کیچن میں آیا اپنے لیے باہر سے کھانا لایا تھا وہی پلیٹوں میں ڈال کر ڈرائینگ روم میں لے آیا۔ سامنے ٹیبل پر کھانا رکھ کر صوفے پر بیٹھا۔ بے دلی سے کھانا کھا کر فارغ ہوا۔ برتن واپس کیچن مین رکھ کر وہ اپنے کمرے میں آیا۔ چونکہ سردیاں شروع کو رہی تھیں موسم بدل رہا تھا اسے ہلکا ہلکا فلو سا ہونے لگا۔ بیڈ پر لیٹتے دو دن کی تھکان اور سے فلو اسے اپنا سر بھاری سا محسوس ہونے لگا آنکھیں بند کیں بہت کوشش کے باوجود جب نیند نا آئی۔ پاس ہی پڑا موبایل پکڑا اور حوریہ کے نمبر پر کال ملائی پچھلے دو دن سے وہ کافی مصروف رہنے کی وجہ سے فون نہیں کر پایا وہ اسکی اواز سننا چاہتا تھا۔ جب کال کی تو فون ماہم نے اُٹھایا۔ حوریہ سے بات کروانے کا کہا تو سب سن لیا۔ جسے سن کر اسکی آدھی تھکن اتر گئی۔
السلام علیکم! حوریہ موبائل کو کان سے لگا کر ہولے سے بولی۔
” وعلیکم السلام ! میں نے سنا آپ مجھ سے ناراض ہیں؟” وہ اپنی مسکراہٹ دبا کر بولا۔ اتنے دنوں بعد اسکی آواز سن کر اسے سکون سا محسوس ہوا۔
“نہین تو آپ نے غلط سن لیا ہو گا” حوریہ نے زبان دانتوں تلے دبا کر کہا۔ وہ گارڈن میں چلتے چلتے بات کر رہی تھی۔
“کیا ہو رہا ہے؟”
“کچھ نہیں بس کھانا کھا کر فارغ ہوۓ تو لُڈو کھیل لی ویسے اپ دو دن سے کہاں تھے ” خود کو رکنے کے باوجود وہ پوچھ بیٹھی ازلان کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھری۔
“کیا بات ہے کہی محبت وحبت کے جراثیم تو نہیں آگے جو میری اتنی فکر ہو رہی ہے” وہ اسے چھیرتے ہوۓ بولا۔
“پتہ نہیں مجھے تو بس اپنے شوہر کی فکر ہو رہی تھی کہی مجھے بھول تو نہیں گے” وہ مسکرا کر بولی۔
“اپکو بھولنے سے پہلے مر نا جاؤں بس بہت زیادہ مصروف تھا اسی لیے بات نہین ہو پائی” وہ اپنے بالوں مین ہاتھ پھیرتے ہوۓ بولا۔
“اتنے مصروف تھے کہ ایک میسج بھی نہیں کر سکتے تھے ” اسکے یوں شکوے پر ازلان کو حیرت ہوئی وہ کہاں اپنے دل کی باتیں ایسے رکھتی تھی۔
“کیوں؟ مجھے مس کیا؟” وہ بس اتنا ہی بولا حوریہ وہی رک گئی۔ واقعی اسنے ان دو دنوں مین اسکی آواز اسکے میسج اسکی باتیں ہر چیز کو مس کیا تھا۔
“بولیں”
“شائد” وہ بس اتنا بولی۔ دوسری طرف ازلان کا قہقہ بلند ہوا۔
“حور” ازلان نے اسے پکارا تو ایک پل کے لیے اسکا دل رک گیا وہ جب بھی اسے حور کہ کر پکارتا تو رک سی جاتی۔
“ہمم” وہ وہی جھولے پر بیٹھ کر بولی۔
“کچھ نہین پھر کبھی” وہ بولا ۔ وہ نا جانے کیا کہنا چاہتا تھا جو وہ ہمیشہ حور پکار کر کچھ نہیں پھر کبھی بول دیتا۔ حور ہمیشہ سوچتی وہ کیا کہے گا اسکےا س جواب پر وہ تپ سی جاتی۔
“میری بات سنیں دو تین ہفتے میں کافی مصروف رہوں گا تو کال تو نہین کر۔ پاؤں گا پر میسج ضرور کروں گا” وہ اسے بتا رہا تھا۔
“اپکو فلو ہے” وہ کب سے اسکی اواز کو نوٹ کر رہی تھی۔
“ہاں ہلکا سا سر بھی بھاری ہو رہا ہے ہلکا ہلکا بخار ہے شائد خود ہی اتر جاے گا” وہ لاپرواہی سے بولا۔
“خود کیسے اترے گا میڈیسن لیں گے تو اترے گا ” وہ ڈانٹتے ہوۓ بولی۔ دونوں کافی دیر تک باتین کرتے رہے۔ حوریہ نے اسے آرام کرنے کا کہ کا فون بند کیا اور کمرے مین آگئی۔ ابھی اسے اپنا آپ کافی ہلکا محسوس ہو رہا تھا۔ وہ اندر سے خوش بھی تھی۔
جاری ہے۔۔۔۔۔