Tamashaye Zaat By Fatima Tariq Readelle50126 Episode 26
Rate this Novel
Episode 26
دن خاموشی سے بیت گے۔ ماہم اور افرحہ اگلے دن ہی گھر چلی گئیں۔ آج شام چار بجے ازلان کی بس کا وقت تھا۔ وہ صبح حوریہ کے ساتھ امین صاحب کے گھر سے ہو کر آیا تھا۔ ابھی کمرے میں حوریہ اسکی پیکنگ کر رہی تھی۔ اسکے نکلنے میں ایک گھنٹہ تھا۔ وہ تیار ہو کر اپنے کمرے سے نکلا اور صحن میں سبزی بنا رہی ماجدہ بیگم کے پاس جا کر بیٹھ گیا۔
“امی! اب میں تین مہینے تک نہیں آ پاؤں گا” وہ تھوڑی دیر بعد بولا۔ ماجدہ بیگم یہ پہلے جانتی تھیں پر شائد ازلان جو باتیں کرنا چاہتا تھا اسکے لیے یہی سے شروعات کرنا بہتر تھا۔
“اللہ تمہیں کامیاب کرے “
“میں نے ہمیشہ آپکی شفقت دیکھی ہے، چاہے وہ اپنے بچوں کے لیے ہو، یا کسی اور کے بچوں کے لیے، آپ نے ہمیشہ سب کو بہت پیار اور محبت دی ہے، میں جانتا ہوں میری یہ شادی اپکی مرضعی سے نہیں ہوئی، پر کیا آپ اپنا دل برا کر کے سب کچھ بھلا نہیں سکتیں۔ ازلان پچھلے کافی دنوں سے بات کرنے کی سوچ رہا تھا پر ہمیشہ ناجانے کیوں رک جاتا ۔
” ازلان میرے ایک سوال کا جواب دو تمہیں اپنی بیوی زیادہ اہم ہے یا ماں بہنیں” ماجدہ بیگم چڑ گئیں ازلان کو اسکی توقع تو تھی ہی۔
“امی زندگی میں ہر رشتے کا ایک مقام ہوتا ہے آپ میری ماں ہیں، اور ماں کا درجہ بہت برا ہوتا ہے، میں نے ہمیشہ اپنی بہنوں کو وہ سب دینے کی کوشش کی ہے جو میرے پاس ہے، اور جہاں تک بات حوریہ کی ہے تو وہ میری بیوی ہے میرا فرض بنتا ہے اسکا خیال رکھوں۔ آپ سب میری زندگی کا بہت برا حصہ ہیں کسی ایک کو بھی کم نہیں سمجھ سکتا” ازلان نے بہت سمجھداری سے جواب دینے کی کوشش کی۔
“ہنہ وہ طنزیہ انداز میں ہنسیں ازلان کو برا لگا وہ اپنی جگہ سے اُٹھا اور انکے سامنے زمین پر بیٹھا اور انکے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے۔
” امی! کبھی ٹھنڈے دماغ سے بیٹھ کر سوچیے گا ضرور کہ آپ جس طرح کا رویہ حوریہ کے ساتھ رکھ رہی ہیں، کیا وہ صحیح ہے؟ امی جو ہم بوتے ہیں وہی کاٹتے ہیں اس بات کا مفہوم آپکو بہت اچھےسے سمجھ آ گیا ہو گا۔ میں نہیں چاہتا کل کو مجھے شرمندہ ہونا پڑے کے میری ماں نے غلط کیا۔ ایک دفع آنکھوں سے نفرت کی پٹی اتار کر دیکھیں، آپکو اپنے بیٹے کی پسند پر ناز ہو گا، اپکے ناخوش ہونے سے اپکا بیٹا خوش کیسے ہو سکتا ہے، اگر مجھے خوش دیکھنا چاہتی ہیں تو خود دل سے رہ نفرت مٹا دیں جس دن آپ نے ایسا کیا دیکھیے گا خود کو بہت ہلکا محسوس کریں گئیں۔ کچھ دیر میں اسلااباد کے لیے نکلنا ہے اپنے ہاتھوں کی اچھی سی چاۓ پلا دیں وہاں اپکے ہاتھ کی چاۓ کی بہت یاد آتی ہے” ازلان نرم لہجے مین سب بول رہا تھا۔ ماجدہ بیگم کافی دیر ازلان کے کہے گے جملوں کو سمجھتیں رہیں۔ وہ سچ میں بہت گہری باتیں کر گیا تھا۔ وہ انکو سوچوں کے سمندر میں اکیلا چھوڑتا خود اُٹھا اور اپنے کمرے میں چلا گیا۔
“
حوریہ کب سے پیگنگ کر رہی تھی اب جا کر مکمل ہوئی۔ آج صبح سے نا جانے کیوں اسکی آنکھیں نم ہو رہی تھیں دل اداس سا ہو رہا تھا۔ وہ وجہ سمجھنے کی کوشش بھی نہیں کر رہی تھی کیونکہ دل ہی دل میں وہ وجہ جانتی تھی ابھی بھی وہ ڈوپٹے سے اپنی آنکھیں صاف کر رہی تھی۔
“پیکنگ ہو گئی؟” کمرے میں داخل ہوتا وہ بولا تھا۔
“ہمم ہو گئی” حوریہ نے سر اثبات میں ہلا کر کہا۔ ازلان نے اسکی بھاری آواز کو اچھےسے سنا تھا۔
“کیا ہوا؟” وہ چل کر اسکے قریب آیا۔
“کچھ نہیں” اسنے نفی میں سر ہلایا پر اسکی بھیگیں پلکیں سب عیاں کر رہیں تھیں۔
“حور کیا ہوا؟” اسنے اسکی تھوڑی کو پکڑ کر اسکا رخ اپنی طرف کیا۔
“پتہ نہیں صبح سے دل اداس ہو رہا ہے آنسوں نکلی جا رہے ہیں” وہ ڈوپٹے کو انگلیوں پر مڑورتے ہوۓ بولی۔ ازلان اسکے یوں کہنے پر ہنسا تھا۔
“میرے چلے جانے کی وجہ سے رو رہیں ہیں؟” ازلان نے مسکراہٹ دبا کر کہا۔
“نہیں تو لگتا ہے امی لوگوں سے مل کر آئی اسی لیے ہو رہا ہے” وہ نظریں چُرا کر بولی۔ ایسا کرنا ازلان کی نظروں سے پوشیدہ نا رہ سکا۔
“ان سے مل کر آئیں تب تو خوش ہونا چاہیے یوں اداس ہونے کا لوجک کچھ سمجھ نہیں آ رہا ” وہ اب چھیڑنے کے موڈ میں تھا۔
“مجھے نہیں پتہ ” وہ اسکے سوال جواب سے تنگ ا کر بولی اور چہرا موڑ لیا۔ ازلان اگے بڑھا اور پیچھے سے اسے اپنے حصار میں لیا۔ حوریہ کو اس سب کی توقع نہیں تھی اسکی سانس ایک پل کو رکی۔
“تین مہینے کی بات ہے میں آجاؤں گا، زیادہ مس کریں گئی تو موبائل پر بات کر لیجیے گا میرا تو آپکو پتہ ہی ہے میسج اور کالز تو کروں گا،الٹ پلٹ باتیں مت سوچیے گا، اپنا اور گھر والوں کو خیال رکھیے گا۔ انشااللہ تین مہینے چٹکی بجاتے گزر جائیں گے۔ وہ ہلکے سے مسکرا کر بول رہا تھا۔ وہ چونکا تب جب اسکی کلائی پر ایک آنسو گڑا۔ اسنے حوریہ کا رخ اپنی طرف کیا۔
” ایسے کیسے چلے گا ایسے تو میں جا نہیں پاؤں گا “وہ اسکے چہرے پر پھیلے آنسوں کو صاف کرتے ہوۓ بولا۔ حوریہ کے ایسے ری ایکشن پر وہ کہی نا کہی خوش تھا کہ اب وہ بھی اسکے متعلق سوچ رہی تھی۔ وہ جانتا تھا وہ اپنی محبت سے اسکے سارے غم بھلا دے گا۔
” رک نہیں رہے میں کیا کروں “وہ اپنے چہرے کو دونوں ہاتھوں میں چھپا کر بولی۔
” چلیں پھر جانا کینسل کر دیتا ہوں نوکری چھوڑ دیتا ہوں لوگ کہیں گے بیوی کے لیے اتنا پاگل ہو گیا نوکری کو لات مار دی پھر ہم یہی کونے میں چاۓ کا سٹال لگائیں گے۔ کیسی لگی میری پلینگ وہ اسکا موڈ ٹھیک کرنے کے لیے یہ سب بول رہا تھا۔ حوریہ ایک دم ہنس دی۔
“چلیں پھر کیا مجھے آجازت ہے میں جا سکتا ہوں” وہ تھوڑا سا جھک کر بولا۔ حوریہ نےاثبات میں سر ہلایا۔
“اللہ حافظ” وہ دو قدم حوریہ کی طرف بڑھا اور اسکے ماتھے پر اپنی محبت کی پہلی مہر ثبت کر گیا حوریہ اس سب کی توقع بلکل نہیں کر رہی تھی وہ ایک پل کے لیے شاک ہو گئی۔ ازلان اسکے چہرے کے بدلے ثاثرات کو انجواے کیا اور بیڈ سے اپنا بیگ پکڑ کر کمرے سے باہر نکلا۔ حوریہ بھی اسکے پیچھے آئی۔ کرن اور ماجدہ بیگم سے مل کر وہ حامد کے ساتھ بائیک پر بیٹھ گیا۔ اور اگلے ہی پل بائیک انکے گھت کی گلی سے نکل گئی۔ حوریہ دروازے میں ہی کھڑی تھی وہ کئی پل دور جاتی بائیک کو دیکھتی رہی۔ جب وہ نظروں سے مکمل اوجھل ہوا تب وہ دروازہ بند کرتی واپس مُڑی۔ اپنے کمرے کے واشروم میں آ کر وہ دوبارہ سے رونے لگی۔ اور ان سات دنوں کو یاد کرنے لگی جب وہ یہاں تھا۔ یہ سات دن اسنے بہت خوشی سے گزارے وہ چھوٹی چھوٹی بات ہر اس سے مزاق کرتا تھا۔
وہ آسلام آباد پہنچا کیپ کروا کر وہ اپنی بیلڈنگ کے پاس پینچا جہاں پچھلے مہینے اسنے ایک چھوٹا سا فلیٹ کراۓ پر لیا تھا۔ وہ سیڑیوں سے اوپر آیا اور اپنے فلیٹ کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا۔ لائیٹ آن کی۔ یہ فلیٹ ایک کمرے، کیچن اور چھوٹے سے حال کا تھا جہاں دو صوفے اور سامنے ایل سی ڈی لگی ہوئی تھی۔ ارسم اسے کافی بار کہ چکا تھا کہ حوریہ کو یہاں بلوا لے پر وہ انکار کر دیتا کیونکہ وہ اسے اس چھوٹے سے گھر میں نہیں لانا چاہتا تھا وہ اپنی پرموشن کا ویٹ کر رہا تھا تاکہ ایک اچھے گھر میں سب کو لے کر آسکے۔
وہ بے حد تھکا ہوا تھا، تبھی آتے ہی کمرے میں چلا گیا اور فریش ہو کر سونے کے لیے لیٹ گیا اتنا تھکے ہونے کے باوجود نیند کوسوں دور تھی بیڈ کی سائیڈ ٹیبل سے موبائل پکڑا اور لاک کھولا سامنے وال پیپر پر حوریہ کی تصویر جگمگائی اسکے لب خود باخود مسکراۓ اور آنکھوں کے سامنے آج کے سارے پل لہراۓ اسکا یوں رونا یاد آیا تو واٹس اپ کھول کر اسکے نمبر پر کال ملا دی۔
اس وقت حوریہ اپنے کمرے میں لیٹی سونے کی ناکام کوشش کر رہی تھی جب پاس پڑے موبائل پر کال آنا شروع ہوئی۔ ازلان کا نمبر دیکھ کر اسے سکون سا ملا وہ کب سے اسکے میسج یا کال کا ویٹ کر رہی تھی کہ ایا وہ ٹھیک سے پہنچا کہ نہیں۔ کال اُٹھا کر اسنے موبائل کان سے لگا لیا۔
السلام علیکم! اسنے ہولے سے کہا۔
وعلیکم السلام! ازلان کا لہجہ ہشاش بشاش تھا۔
“آپ ٹھیک سے پہنچ گے؟” حوریہ بولی۔
جی ابھی پہنچا ہوں ابھی تک سوئی کیوں نہیں؟” ازلان وقت دیکھتے ہوۓ بولا۔
“ویسے ہی نیند نہیں ا رہی تھی”
“کیوں کیا میری یاد آ رہی تھی “وہ اپنی مسکراہٹ دبا کر بولا۔
” ازلان بہت دیر ہو گئی ہے آپ سو جائیں صبح آفس بھی تو جانا یے” وہ جلدی سے بولی اور فون رکھ دیا۔ ازلان ارے ارے کرتا رہ گیا۔ حوریہ اب سکون سے بیڈ پر لیٹی اسکی آواز جو سن لی تھی اب نیند تو آہی جانی تھی اسکے لب خود باخود مسکرا اُٹھے۔
اسے اسلام آباد آۓ دو مہینے ہو چکے تھے وہ پچھلے ایک ہفتے سے ایک پروجیکٹ کے سلسلے میں بہت مصروف تھا۔ اج اس کمپنی کے مینیجر اور کمپنی کے مالک نے انکے افس آنا تھا۔ ازلان نے پریزنٹیشن دینی تھی۔ وہ صبح سے اس سب میں بے حد مصروف تھا۔ وہ سب میٹنگ روم میں بیٹھے ہوۓ تھے دوسری کمپنی کے مالک اور مینیجر کمرے میں داخل ہوۓ۔
ازلان اپنے موبائل کو آف کر رہا تھا جب کسی کی آواز کانوں میں پڑی۔
“ہیلو ایوری ون میں اسد ہوں کمپنی کا مینیجر ” ازلان کو ایک پل نا لگا آواز پہنچاننے میں اسے ایک پل نا لگا اسنے سر اُٹھا کر سامنے دیکھا تو واقع اسد کھڑا تھا۔ وہ اپنی کرسی سے کھڑا ہو گیا۔
اسد بھی اسے دیکھ چکا تھا پر اسنے اسے مکمل اگنور کیا اور چہرے پر مسکراہٹ سجا کر کرسی کھینچ کر بیٹھ گیا۔
ہمیں بہت خوشی ہے ہم آپ کی اتنی بری کمپنی کے ساتھ ہرجیکٹ کرنے جا رہے ہیں ہمارے بہت ہی قابل اپملائی کچھ دیر میں پریزنٹیشن دیں گے۔ فاروق صاحب جو کہ اسکمپنی کے اونر تھے وہ بولے۔
“سر یہ تو پریزٹیشن دیکھنے کے بعد ہی پتہ چلے گا اپکی کمپنی اس قابل بھی یے جو ہماری کمپنی کے ساتھ کان کر سکے اسد سنجیدہ انداز میں بولا۔ ازلان جان چکا تھا وہ یہ سب کیوں بول رہا ہے۔
” جی بالکل ہم اپنا ہنڈرڈ پرسنٹ دیں گے پہلے پریزٹیشن دیکھ لیں اسکے بعد ہی بات کرتے ہیں”ازلان اپنی جگہ سے کھڑا ہوا اور پریزٹیشن دینے کے لیے وہاں ہر بنی جگہ پر جا کر کھڑا ہوا۔ کمرے کی لائیٹ آف ہوئیں اور سامنے سکرین پر ازلان کی بنائی گئی سلائیڈز چلنے لگیں۔ وہ بہت ہی اچھے طریقے سے سب کو پریزینٹ کر رہا تھا آخر میں اسد نے کافی سوالات کیے جسکا اسنے بہت ہی تحمل سے جواب دیا۔
پروجیکٹ بہت ہی اچھا ہے مجھے یقین ہے ہم دونوں کمپنیز مل کر اسکو بہت اچھے سے انجام دے پائیں گئیں۔ حمدان صاحب کھڑے ہو کر فاروق صاحب سے ہاتھ ملاتے ہوۓ بولے۔
“مجھے خوشی ہے آپ نے ہمیں اس قابل سمجھا کہ ہم(ایم ایس ) کمپنی کے ساتھ مل کر اس پروجیکٹ کو پورا کریں” فاروق صاحب چہرے پر مسکراہٹ سجا کر بولے۔
” ایک منٹ ہم نے ابھی تک بس اپنا پوائینٹ آف یو دیا ہے کیا اپ لوگ ہمیں متمعین کرنے کے لیے کچھ نہیں کریں گے اپنے آئیڈیا بتائیں آپ اس پروجیکٹ کو کیسے اور کتنے بجٹ میں پورا کریں گے ۔ ازلان ان سب کو باتیں کرتا دیکھ آگے بڑھ کر بولا۔ اسکی بات فاروق صاحب کو صحیح لگی حمدان صاحب جبراً مسکراۓ اور اسد کے ماتھے پر بل پڑ گے۔
“جی بالکل اسد انکو اپنا آئیڈیا بتاؤ” حمدان صاحب نے اسد کو کہا جو اپنا غصہ ضبط کرنے کی کوشش کر رہا تھا پر آگے برھا اور جلدی جلدی اپنا آئیڈیا بتانے لگا۔
“ایک منٹ اسد صاحب ہم دونوں جب مل کر یہ پروجیکٹ کر رہے ہیں تو ہماری کمپنی 70٪ اور اپکی کمپنی 30٪ انویسٹ کیوں کرے گئی مجھے یہ لوجک کچھ سمجھ نہیں آیا” ازلان نےا سکی بات پورا ہونے کے بعد کہا۔
“تو ازلان صاحب آپ کیا چاہتے ہیں؟” اسد جبراً مسکرا کر بولا۔ فاروق صاحب کو بھی ازلان کی بات ٹھیک لگی۔
“میں 50٪ 50٪ پر بلیو رکھتا ہوں اگر ہم 50٪ انویسٹ کر رہے ہیں تو آپ بھی 50٪ انویسٹ کریں” وہ ٹیبل پر کہنی رکھتے ہوۓ بولا۔
“اگر آپکی خوشی اسی میں ہے تو ٹھیک کے حمدان صاحب مسکرا کر بولے۔
” تو کانٹریٹ سائین کریں؟” اسد نے کہتے ہوۓ فائل ٹینل پر کھولی۔
“ارے اسد صاحب اتنی بھی کیا جلدی ہے دو ہفتے بعد ہمارے سر لی اینی ورسری کی بہت بری پارٹی ہے اسی دن یہ کانٹریکٹ سائن کر لیں گے” ازلان نے فائیل بند کرتے ہوۓ کہا۔
“یہ بالکل ٹھیک رہے گا ہم اسی دن سائین کریں گے حمدان صاحب کرسی سے کھڑے ہو کر بولے۔
” چلیں پھر اسی دن ملاقات ہو گی “فاروق صاحب نے ہاتھ ملاتے ہوے کہا جاتے ہوۓ اسد ازلان کو گھورنا نہیں بھولا۔
” یہ سب کیا تھا؟ جب پہلے ہی طے تھا کہ آج کانٹریکٹ سائن ہو جاۓ گا تو یہ سب کرنے کی وجہ؟ ” انکے جاتے ہی فاروق صاحب ازلان پر بھڑکے۔
“سر مجھے وہ لوگ کچھ ٹھیک نہیں لگے میں بس انکی کمپنی کے متعلق کچھ جاننے کے بعد ہی اپکو سائین کرنے کے لیے کہ سکتا ہوں یوں جلد بازی میں لیا گیا فیصلہ کئی دفع بہت بھاری پڑتا ہے۔ دو ہفتے کا وقت ہے میں اپنی تسلی کے لیے کچھ پوچھ تاج کر لوں پھر آپ پارٹی پر سائین کر لیجیے گا ” ازلان نے انہیں اپنے خدشے بتاۓ۔
“تم بہت کم وقت میں مجھے اپنی قابلیت لی وجہ سے مجھے امپریس کر پاۓ ہو میں ایک چانس دیتا ہوں ان دو ہفتوں میں جو پتہ کرنا ہے کر لو ورنہ میں پارٹی پر سائین کر دوں گا ” فاروق صاحب بول کر میٹنگ روم سے نکل گے۔انکے جاتے ہی ازلان نے پاس پڑا پانی کا گلاس پیا۔
جاری ہے۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔
