Tamashaye Zaat By Fatima Tariq Readelle50126 Episode 28
Rate this Novel
Episode 28
“سر میرا دوست پولیس میں ہے میں نے اسے ہی تھوڑی سی چھان بین کرنے کا کہا تھا۔ پر اسنے جب چھان بین کرنا شروع کی تو اسے ہماری سوچ سے بھی زیادہ خطرناک باتیں پتہ چلیں” ایک ہفتے کے اندر اندر ازلان نے ساری چھان بین کر لی تھی۔ابھی وہ ایک فائل ہاتھ میں لیے ہمدان صاحب کے افس میں کھڑا تھا
“کیا مطلب! کیسی بتاتیں؟” حمدان صاحب نے نا سمجھی سے کہا۔
“یہ دیکھیں سر” وہ فائل کو حمدان صاحب کے سامنے ٹیبل پر رکھتے ہوۓ انکے ایک طرف کھڑا ہو کر بتانے لگا۔
“سر ایم ایس کمپنی چار سال پہلے شروع کی گئی تھی، ایم ایس کمپنی کے اونر فاروق ایک جیب کترا تھا۔ اسنے چار سال پہلے یہ کمپنی شروع کی اور آہستہ آہستہ اپنے جیسے لوگوں کو اکٹھا کرنا شروع کیا۔اور اسد بھی انہی لوگوں میں سے تھا۔ اسد اور فاروق کی کافی جمتی ہے جس کی وجہ فاروق کی بیٹی ہے وہ اسد سے محبت کرتی ہے اور جلد دونوں شادی کرنے والے ہیں،انہوں نے کافی ویب سائیٹ پر اپنا بزنس پھیلایا ہے وہاں پر کام اچھا کرتے ہیں تاکہ کوئی انکی کمپنی کو غلط نا کہے عہی دوسری طرف ہماری جیسی کمپنیوں کے ساتھ پروجیکٹ سائن کر کے پیسے لیتے ہیں اور رو پوش ہو جاتے ہیں ، سال میں دو دفع یہ کمپنوں کو لوٹتے ہیں اور راتوں رات غائب ہو جاتے ہیں، اور پھر دوسرے شہر جا کر اپنا نام بدل لیتے ہیں کچھ مہینے صاف کام کر کے لوگوں کی نظر میں آتے ہیں اور پھر اپنا ٹارگٹ ڈھونڈتے ہیں، پچھلے تین سال سے اسد اور فاروق دونوں مل کر یہی کام کر رہے ہیں، ازلان کو جو کچھ پتہ تھا وہ سب بتا رہا تھا اور حمدان صاحب حیرانگی سے یہ سب سن رہے تھے۔
“شکر ہے ہمیں پہلے پتہ چل گیا اگر وہ اتنے خطرناک ہیں تو اب ہمیں کیا کرنا چاہیے؟” حمدان صاحب اب پریشان ہو رہے تھے۔
“جس نے یہ سب پتہ کروایا ہے وہ پولیس میں ہے تو اسنے بولا تھا کہ جس دن کانٹریکٹ سائن کرو گے اس دن چھاپا مار کر انہیں گرفتار کر لیں گے” ازلان نے ساری کنورسیشن بتائی۔
“یہی سب سے بہتر رہے گا شکریہ تم اگر اس دن نا روکتے تو ہم بھی انکے سکنجے میں آ جاتے” حمدان صاحب مسکرا کر بولے۔
“سر یہ تو میرا فرض تھا مجھے جو چیز کھٹکے گی میں تو بولوں گا” وہ سر کو جمبش دیتے ہوۓ بولا۔۔
“سر کافی” وہ دونوں بات کر رہے تھے جب پیون ٹرے میں دو کافی کے کپ لے کر اندر آیا اور ٹیبل پر رکھ کر چلا گیا۔
“چلو اب تم اپنا کام کرو ابھی دو دن ہیں، پھر دیکھتے ہیں” حمدان صاحب کافی پکڑتے ہوۓ بولا۔ ازلان اوکے کہتا کمرے سے نکل گیا۔ اور اپنی ڈکس پر بیٹھ کر کام کرنے لگا۔ آج وہ خود کو بہت ہلکا پھکا محسوس کر رہا تھا۔
“پانچ بجے کا وقت تھا، آفس سے چھٹی ملتے ہی وہ موٹر سائیکل کو چلاتے گھر کی اور روانہ ہوا۔ بلینڈنگ کے نچیے پہنچتے ہی اسنے اپنی بائیک ایک طرف پرانگنگ میں کھڑی کی، اور اپنا بیگ ہاتھ میں پکڑ سیرھیوں کی طرف بڑھنے لگا
” آہ! جب پیچھے سے کسی نے دھکہ دیا وہ لڑکھڑا کر زمین پر گِڑا۔ اسکا سینہ زمین پر لگا۔ اپنے اپ کو سھنمبال کر وہ کھڑا ہونے کی کوشش کرنے لگا جب ایک طرف کھڑے آدمی نے اسکے پیٹ پر لات ماری۔
“تم لوگ کون ہو؟ کیا چاہیے؟” وہ کھڑاہا تھا۔
“میرے اور کمپنی کے خلاف جو ثبوت ہیں ابھی کے ابھی واپس کرو،ورنہ” تبھی اسے اپنی دائیں طرف سے اسد کی آواز آئی۔ وہ ایک منٹ میں سارا کھیل سمجھ گیا۔ زمین پر دونوں ہاتھوں کا دباؤ دے کر وہ کھڑا ہوا۔
“اچھا اگر نا دوں تو ” وہ اپنے ہاتھ جھاڑتے ہوۓ بولا۔
“ازلان! تو ابھی بچہ ہے میرے پنگوں میں مت پڑ ورنہ تجھے رستے سے ہٹانے کے لیے دو منٹ نہیں لگیں گے” اسد اسکے قریب آ کر سخت لہجے میں بولا۔ جیسے اسے آخری وارنگ دے رہا ہو۔
“وہ ثبوت تو اب عدالت کو ہی ملیں گے، پھر جن معصوموں کو تم نے بے وقوف بنا کر پیسے لیے ہیں، ان جرائیم کی سزا کوٹ دے گئی” ازلان چہرے پر پراسرا مسکراہٹ سجا کر بولا جو کپ اسد کو تپانے کے لیے کافی تھی۔ اسنے غصے سے اسکا مُکہ مارا۔
“سالے تجھے اتنا پیٹوں گا تو اپنی شکل تک پہبچان نہیں پاۓ گا ثبوت دے دے ورنہ لاہور میں بیٹھی تیری ماں بہن بھائی اور ہاں تیری وہ حور بیوی ان سب کو تیرے کیے کا بگھتنا پڑے گا، تجھے مار کر تیری بیوی سے دوبارہ شادی کروں گا اور اسے نوکرانی بنا کر رکھوں گا کیا کہتا ہے منظور ہے یا ثبوت دے گا؟ ” اسد ازلان کو پیٹتے ہوۓ مسلسل بول رہا تھا۔ اورازلان کے ضبط کی اب انتہا ہو رہی تھی۔ وہ اس سے لڑنا نہیں چاہتا تھا پر اب شائد لڑنا ضروری ہو گیا تھا۔ اب وہ بھی جوابی کاروائی کرنے لگا۔دونوں ایک دوسرے کو بری طرح سے پیٹ رہے تھے اس پاس بیلڈنگ کے کافی لوگ جمع ہو گے تھے۔ اگر کوئی چھڑوانے کے لیے آگے بڑھتا تو اسد کا ایک آدمی اسے مار کر پیچھے کر دیتا۔
“بتا دے وہ سب ثبوت کہاں ہیں ورنہ یہ گولی چلا دوں گا” اسد اسے پیچھے پھینکتے کر بولا اور پسٹل نکال کر اس پر تانی۔
“بوس اسکے بیگ میں بھی سواۓ لیپ ٹاپ کے کچھ نہیں ہے ” ایہ ادمی پاس پڑ ازلان کا بیگ چیک کرتے ہوۓ بولا
“ہاہا تو مجھے مار بھی دے تب بھی نہیں بتاؤں گا، جو حرام کام کرتا ہے اسکے ثبوت تو میرے مرنے کے بعد بھی نہیں ملیں گے اب تو اگر تو پاتال میں بھی جا کر چھپ جا پھر بھی پولیس تجھے ڈھونڈ لے گئی” ازلان اپنے ماتھے اور ہونٹ کے کنارے سے خون صاف کرتے ہوۓ بولا۔
“تو لے پھر کھا گولی” اسد ٹریگر پر دباؤ برھاتے ہوۓ بولا۔ ایک پل کے لیے ازلان کے چہرے کا رنگ اُڑا۔ دور سے پولیس کے سائرن کی اواز سنائی دی۔ بلڈگ کے۔ گاڈ نے فون کیا تھا۔ ازلان کے چہرے پر مسکراہٹ پھیلی۔
“نکلو جلدی سے” اسد چلایا۔ سبھی ادمی بلڈنگ کی دیوار کو پھاندنے لگے۔ ازلان نے جھک کر اپنا بیگ اُٹھانا چاہا جب ٹھاہ! ٹھاہ کی آواز گھونجی۔سب نے حیرانگی سے پہلے ازلان اور پھر اسد کو دیکھا۔ جسنے بھاگتے ہوۓ ازلان پر دو گولیاں چلائیں تھیں۔
“آہ ” اسکی چیخ بلند ہوئی، دور اسد ہنستے ہوۓ دیوار کو پھاند گیا
“ازلان بیٹے تم ٹھیک ہو” گارڈ بھاگ کر اسکے پاس آیا جو کہ اب زمین پر گڑ چکا تھا۔ سفید شرٹ خون سے بھیگ چکی تھی گولی سیدھی چسٹ پر لگی تھی، دوسری گولی ٹانگ پر لگی تھی اسکے سفید کپڑے مکمل خون میں بھیگ رہے تھے۔ پاس کھڑے ایک ادمی نے جلدی سے گاڑی نکالی اور ازلان کو اسکے اندر لٹایا اور ہسپتال کی طرف گاڑی بھگا دی۔ بلیڈگ کا گارڈبھی اسکے ساتھ تھا۔
“آہ۔۔ درد کی وجہ سے اسکی انکھیں بند ہو رہیں تھیں۔ آج صبح ہی تو وہ کتنا خوش تھا اپنی کمپنی کو اسنے بچا لیا تھا پر اب ۔۔۔۔۔
اگلے دس منٹ میں وہ لوگ ہسپتال پہنچے، اسے آئی سی یو شیفٹ کیا گیا۔
” یہ پیشنٹ کا موبایل اور وائلٹ ہے “ایک نرس نے اسکا موبائل اور وائلٹ لا کر اسی گارڈ کو پکڑایا۔
“اسکے گھر والوں کو فون کرنا چاہیے؟ وہ ادمی بولا۔ جو گاڑی میں ڈال کر لایا تھا۔
” ہاں کر دو”گارڈ وہی ایک کرسی پر بیٹھ گیا۔
“اسنے ازلان کا موبائل کھولا اس پر لاک نہیں تھا کونٹکٹ میں جا کر سب سے پہلا نمبر امین صاحب کا تھا اسے پر کلک کیا۔
” بھابھی پلیز چاۓ بنا دیں” حوریہ کیچن میں رات کے کھانے کی تیاری کر رہی تھی جب حامد آ کر بولا وہ ہاں میں سر ہلا کر دوبارہ کام میں لگ گئی۔ پچھلے کافی دنوں سے اسکی ازلان کے ساتھ بات نہیں ہوئی تھی۔اسنے میسج بھی کیے ہر جواب نہیں ایا تھا پہلے تو کافی غصہ ہوئی پر اب وہ پریشان بھی ہو رہی تھی۔۔
ماجدہ بیگم نماز پڑھ کر فارغ ہوئیں اور باہر صحن میں جا کر بیٹھ گئیں۔جب دروازہ کھول کر کوئی اندر ایا۔ آنے والی ہستی کو دیکھ کر انکا میٹر گھوم گیا۔
“تمہاری ہمت کیسے ہوئی میرے گھر میں قدم رکھنے کی” وہ اپنی جگہ سے کھڑی ہو کر غصے سے بولیں۔ امین صاحب کے قدم وہی تھم گے۔ حوریہ اتنی اونچی اواز سن کر باہر نکلی تو صحن میں اپنے والد کو دیکھ کر وہ آگے برھنے لگی پر رک گئی۔ امین صاحب بہت پریشان نظر آ رہے تھے۔
“چاچو آپ خیریت تو ہے؟” حامد انکے یوں اڑے ہوۓ چہرے کو دیکھ کر بولا۔۔
“بھابھی میں جو کہنے والا ہوں اسے حوصلے سے سننا ابھی کچھ دیر پہلے مجھے ایک کال رسیو ہوئی ہے ازلان کے نمبر سے وہ بولتے بولتے رکے” حوریہ کا دل ایک دم ڈوبا۔ ایک انجانے خوف کے تحت وہ امین صاحب کی طرف آئی۔
ابو اگے بولیں” وہ ہمت جمع کرتے ہوۓ بولی۔
“اسکو کسی نے دو گولیاں ماری ہیں وہ اس وقت اسلام آباد کے ہسپتال لے ائی سی یو میں ہے ہمیں فوراً وہاں جانا ہوگا امین صاحب بولے تو وہاں کھڑے ہر انسان کے قدموں تلے سے زمین کھس گئی۔
” کیا بول رہے ہیں ایسا نہیں ہو سکتا میرا بچہ تو کچھ دن میں واپس انے والا تھا اسکی تو کسی سے دشمنی نہیں تھی کس نے گولیاں ماریں”ماجدہ بیگم صدمے سے بولیں انہیں بالکل یقین نہیں آ رہا تھا۔
“ہمیں چلنا ہو گا حامد تم کرن کو لے کر چچی کے پاس پہنچو میں بھابھی اور حوریہ کو لے کر اسلام اباد جا رہا ہوں” امین صاحب نے شاک چہرا لیے کھڑے حامد کو کہا۔ جو ابھی تک انکے الفاظوں پر غور کر رہا تھا۔
“حوریہ بچے ” امین صاحب نے حوریہ کی طرف دیکھ کر اسے پکارا جو بے یقنی سے امین صاحب کو دیکھ رہی تھی۔ انکو اپنا دل کٹتا ہوا محسوس ہوا اپنے انکھوں کو صاف کر کےوہ حوریہ کے گرد بازو لپیٹتے ہوۓ اسے لیے گھر کے دروازے سے باہر نکلے ماجدہ بیگم بھی ر وتے ہوۓ انکے پیچھے نکلیں۔
اتنا لمبا سفر امین صاحب نے گاڑی کی سپیڈ بڑھا کر چار گھنٹوں میں طے کیا۔ وہ سارے رستے خالی نظروں سے شیشے سے باہر دیکھتی رہی ماجدہ بیگم سارا رستہ روتی رہیں۔ وہ تینوں کوڑیڈو میں کھڑے ان دونوں کے پاس پہنچے۔
“ازلان کہاں ہے” ماجدہ بیگم بولیں۔
“اسکا اپریشن ہو رہا ہے” گارڈ صرف اتنا بولا اور اپنا سر ہاتھوں پر گِڑا دیا۔ حوریہ وہی ایک کرسی پر بیٹھ گئی۔ اسکا جسم ہلکے ہلکے کانپ رہا تھا۔ اسنے اپنے ہاتھوں کو جھولی میں رکھا ہوا تھا جب اسکی نظر ہاتھ کی انگلی میں پڑی انگھوٹی پر پڑی۔ بہت سی یادیں اسکی یادوں کے پردوں پر لہرائیں۔ اب تک اسنے ایک آنسوں گڑنے نہیں دیا تھا۔
“انکل ازلان کو کیا ہوا مجھے ابھی پتہ چلا” ارسم بھگاتا ہوا انکے قریب پہنچ کر بولا۔ امین صاحب نے سب بتایا۔
“انٹی چپ ہو جائیں اسے کچھ نہیں ہو گا” ارسم ماجدہ بیگم کے پاس بیٹھ کر بولا۔ دو گھنٹے بعد ڈاکٹر اپریشن ٹھٹر سے نکلے اور اسکے خطرے سے باہر ہونے کی خوشخبری سنائی۔ جسے سن کر سبھی کے چہرے پر طمانت پھیلی۔
اسے روم میں شفٹ کر دیا گیا تھا۔ ڈاکٹرز کے مطابق اسے کچھ دیر میں ہوش آ جاۓ گی۔ ماجدہ بیگم پاس پڑے سٹول پر بیٹھ کر سورتیں پڑھ کر اس پر پھونک رہیں تھی۔ امین صاحب باہر سارے بلز بھڑ رہے تھے۔ ارسم ماجدہ بیگم اور حوریہ کے لیے سینڈوچ اور چاۓ لے کر آیا۔ حوریہ یک ٹک اسے تک رہی تھی۔ ان چھے سات گھنٹوں میں اسکی انکھ سے ایک بھی آنسو نہیں بہا تھا۔ وہ چپ چاپ بیٹھی سامنے بیڈپر پڑے اپنے شوہر کو دیکھ رہی تھے۔ ناجانے وہ کب اسکے دل کے اتنے قرہب ہو گیا تھا۔
دو گھنٹے بعد اسے ہوش آیا اپنے سامنے ماجدہ بیگم کو دیکھ کر وہ کچھ پل کے نا سمجھی سے دیکھتا رہا ایک ایک کر کے ساری باتیں اسکے ذہن میں چلنے لگیں۔ خود کو زندہ پا کر اسنے شکر ادا کیا۔
“ازلان ! میرے بچے ” ماجدہ بیگم روتے ہوۓ اسکے ماتھے کو چوم رہی تھیں۔ ان چند گھنٹوں میں وہ کئی دفع مرئی تھی یہی سوچ کر کے اگر انکے لاڈلے کو کچھ ہو گیا تو وہ کیا کریں گئی۔
“امی میں ٹھیک۔۔۔ ہوں۔۔۔۔۔” وہ اٹک اٹک کر بول رہا تھا۔ تبھی امین صاحب اور ارسم بھی وہاں آگے۔ ڈاکٹر نے آکر اسکا چیک اپ کیااور سب ٹھیک ہے کا کہ کر باہر چلے گے۔
“امین صاحب کے بار بار پوچھنے پر ازلان نے اسد والی ساری بات بتائی جسے سن کر سبھی حیران ہوۓ۔ پولیس اسے اس وقت کی ڈھونڈ رہی تھی ازلان نے تھوڑی دیر پہلے پولیس کو بھی بیان دیا تھا۔ وہ اب نارملی سب سے باتیں کر رہا تھا۔ حمدان صاحب بھی اسکا حال احوال پوچھ کر گے تھے۔ ازلان نے انہیں ثبوت سحنمبال کر رکھنے کا کہا تھا۔ اور جلد از جلد پولیس کو دینے کا بھی کہا۔ وہ جانتا تھا حوریہ ایک کونے میں بیٹھی ہوئی ہے وہ اسے کئی دفع دیکھ بھی چکا تھا۔ پر حوریہ نے ایک بار بھی اسکے قریب ا کر اسکا حال احوال نہیں پوچھا تھا۔ اور یہی بات ازلان کو بری لگ رہی تھی۔
وہ سب رات وہی ٹھہرے تھے ازلان کو تو بار بار درد سے راحت کے لیے انجکشن لگ رہے تھے جن سے اسے نیند ا جاتی تھی۔ اگلی صبح دوپہر کو اسے چھٹی ملی سبھی اکسے اپاٹمنٹ پر پہنچے اسے اسکے کمرے میں لٹایا ۔ امین صاحب نے واپس جانے کا بتایا۔ ماجدہ بیگم وہی رکنا چاہتی تھیں پر ازلان نےا نہیں سمجھایا کہ انکی طبعیت خراب ہو جاۓ گی اور اب وہ بالکل ٹھیک ہے ڈاکترز کے مطابق وہ ابھی اتنا لمبا فاصلہ طے کرنے کے قابل نہیں تھا اتنے لمبے سفر سے اسکی طبعیت خراب ہو سکتی تھی۔ اسی لیے وہ یہیں کچھ ہفتے رہ کر مکمل ٹھیک ہو کر واپس جا سکتا تھا۔ ۔ حوریہ اپنے سر پر ڈوپٹہ صحیح کرتی کھڑی ہو گئی۔ ازلان نے اسکی طرف دیکھا جو سر جھکاۓ کھڑی تھی۔
“چلو ٹھیک ہے میں چلی جاتی ہوں ویسے بھی میرا بچہ بہت بہادر ہے اور انشااللہ بہت جلد اور بھلا چنگا ہو جاۓ گا” ماجدہ بیگم اسکے سر پر شفقت سے ہاتھ پھیرتے ہوۓ بولیں۔
“امی! اپنا خیال رکھیے گا”
“چلیں بھابھی، حوریہ ” امین صاحب بولے تو سر جھکاۓ کھڑی حوریہ نے ہاں میں سر ہلایا اور ازلان کی طرف دیکھا جو پہلے ہی اسے دیکھ رہا تھا اسکے دیکھنے سے ازلان نے ناراضگی کے اظہار کے لیے نظریں ہٹالیں۔
“حوریہ! تم یہی روکو، ازلان اکیلا ہو جاۓ گا، اور اتنے زخموں کے ساتھ تو اس سے ہلا تک نہیں جا رہا تم اسکا خیال رکھو” ماجدہ بیگم نے پلٹ کر حوریہ کو کہا۔
“امی! رہنے دیں ارسم ہے آپ حوریہ کو ساتھ لے جائیں ” وہ ہلکا سا مسکرا کر بولا پر اسکی آواز میں چھپی ناراضگی حوریہ نے خوب اچھے سے نوٹ کی۔
“بھائی صاحب چلیں! حوریہ دھیان رکھنا ضروری ہو تو فون کر لینا” ماجدہ بیگم ازلان کی بات اگنور کرتے ہوۓ بولیں۔ اور ان سے مل کر چلیں گئیں۔ حوریہ انکو بھیج کر دروازہ بند کر کے کیچن میں آئی۔ اور ہلکا پھلکا دلیہ بنایا۔ اسے ایک بول میں ڈال کر کمرے میں لائی سامنے بیڈ پر وہ اپنی انکھوں پر بازو رکھ کر لیٹا ہوا تھا حوریہ نے اسکی طرف دیکھا کالی شلوار قمیض پہنے، سر پر سفید پٹی لگائی بازو پر خراشیں تھیں۔ قیمض کے اوپر دو بٹن کھلے ہونے کی وجہ سے سینے پر لگی پٹی صاف نظر آ رہی تھی۔ اپنی انکھوں میں بھر آنے والے پانی کو اسنے بامشکل اندر بھیجا۔
“ازلان! کچھ کھا لیں پھر دوا کھانی ہے” وہ سائیڈ ٹیبل پر رکھتے ہوۓ بولی پر وہ ویسا ہی لیٹا رہا۔
“ازلان!” اسنے اسکا کندھا ہلایا۔ اگلے ہی پل ازلان نے آنکھوں سے بازو ہٹایا اور بیٹھنے کی کوشش کی جس میں ناکام رہا کیونکہ زور لگانے سے اسکے سینے پر درد ہو رہا تھا۔ حوریہ نے اسکو کندھے سے سہارا دے کر اسکے پیچھے تکیہ رکھا جس سے بیٹھنے میں آسانی ہوئی۔ پاس پڑی کرسی کو گھسیٹا اور اس پر بیٹھی، بول سے چمپ بڑھ کر اسکے منہ کی طرف کیا۔
” ٹانگ پر گولی لگی ہے ہاتھ پر نہیں جو کھا نا سکوں، وہ اسکے ہاتھ سے باول چھین کر خود کھانے لگا۔ حوریہ کو اسکے الفاظ نہیں بلکہ لہجہ برا لگا۔
وہ مگن سا کھانے میں مصروف تھا جب پاس سے ہچکی کی آواز سنائی دی باؤل کو سائیڈ ٹیبل پر رکھ کر اسنے حوریہ کی طرف دیکھا جو سر جھکاۓ آنسو بہانےیں مصروف تھی۔
“اب کیوں رو رہی ہیں؟” وہ تھوڑے سخت لہجے میں بولا حوریہ کے رونے میں تیزی آئی۔
“حوریہ کیا ہوا کیا اب میں اتنا سا ناراض بھی نہیں ہو سکتا ؟ ” وہ چرتے ہوۓ بولا پر وہ روۓ جا رہی تھی۔ ازلان ہمت کر کے ٹھیک سے بیڈ پر بیٹھا اور حوریہ کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے سامنے بیڈ پر بیٹھایا۔
“حور” وہ بہت محبت سے بولا۔ اتنے دنوں بعد اسکے منہ سے یوں حور سن کر وہ مزید رونے لگی۔ ایسا لگ رہا تھا وہ کل سے جو اپنے اندر سب لیے بیٹھی تھی اب اسکا یوں سہارا ملنے پر سب نکال رہی تھی۔ ازلان اب پریشان ہو رہا تھا ایسا کیا ہو گیا جو وہ یوں رو رہی تھی
“حور کیا واقع مجھے اتنا حق بھی نہیں جو میں تھوڑی دیر اپنی ناراضگی دیکھا سکوں” وہ اسکی طرف دیکھتے ہوۓ سوالیہ انداز میں بولا۔
“نہیں” حوریہ اپنا ہاتھ چھڑاتے ہوۓ بولی ازلان کو اپنا دل کٹتا ہوا محسوس ہوا۔ کیا اسنے ابھی تک اسے اپنایا نہیں تھا؟ اور کئی سوال اسکے دماغ میں چلنے لگے۔
“بالکل حق نہیں ہے، وعدہ کریں کبھی ناراض نہیں ہوں گے، میں روٹھوں گی اور آپ منائیں گے، اپکو پتہ بھی ہے کل کا دم کیسے کٹا کتنی اذیت میں تھی، ایسا لگ رہا تھا ابھی کے ابھی سانس بند ہو جاۓ گی۔ بار بار اپریش ٹھیٹر کو دیکھتی تھی وہ لال بتی بھج ہی نہیں رہی تھی، پھر سوچتی اگر بجھ گئی اور بری خبر ہوئی تو کیا کروں گی۔ دل میں اللہ سے دعائیں مانگ رہی تھی پلیز اپکو کچھ نا ہو ورنہ میں بھی مر جاؤں گی، وہ ہچکیاں لیتے ہوۓ بول رہی تھی۔ اسکی باتیں ازلان کے اندر تک سکون پیدا لر رہیں تھیں۔ وہ نا صرف اسے اپنا چکی تھی بلکہ اس سے محبت بھی کرنے لگ گئی تھی۔
“تو میرے ہوش میں آنے کے بعد بھی آپ نے بات کیوں نہیں کی میں انتظار کر رہا تھا؟” وہ اسکے چہرے پر پھیلے انسوں کو اپنے ہاتھ کے پوروں سے صاف کرتے ہوۓ بولا۔
“اپکو بلانا چاہیے تھا میں کیوں آتی؟ اپ نے پچھلے کتنے دنوں سے میری کالز میسجز کا جواب نہیں دیا؟ ناراض تھی میں، ” وہ اسکا ہاتھ جھٹکتے ہوۓ بولی۔ ازلان کے چہرے پر مسکراہٹ ہھیلی۔
“او تو اس میں بھی میرا قصور ہے” وہ مسکراہٹ دبا کر بولا۔ حوریہ نے اپنی گھنی پلکیں اٹھا کر اسکی طرف دیکھا اور ہاں میں سر ہلایا، ازلان کا قہقہ بلند ہوا۔ حوریہ اسے یوں ہنسےء دیکھ غصے میں آئی اور اسکے سینے پر بے اختیار مُکہ مار دیا۔
“آہ ” وہ چیخا۔
“ایم سوری ایم سو سوری مجھے یاد نہیں رہا ایم سوری” وہ فوراً نم لہجے میں بولی۔ ازلان نے اسکی طرف دیکھا وہ کافی پریشان ہو گئی تھی۔
“ادھر آئیں ریلکس کریں میں بالکل ٹھیک ہوں ” وہ اسکا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے حصار میں لیتے ہوۓ بولا۔ حوریہ اسکے سینے سے لگی دوبارہ رونے تیاری میں تھی۔
“اگر اب روئیں نا تو گھر سے باہر پھینک دوں گا مجھے روتلے لوگ بالکل پسند نہیں” وہ اسے چھیرتےہوۓ بولا۔ حوریہ نے غصے سے اسے گھورا۔
“حور میں ایک مریض ہوں، سینے پر گولی لگی ہے اگر اپکی آجاذت ہو تو لیٹ جاؤں” وہ مسکراہٹ دبا کر بولا حوریہ پیچھے ہوۓ اور اسے دوائی کھلا کر لٹایا۔ کچھ دیر بعد وہ سو گیا حوریہ نے گھر کی ساری صفائی کی۔ اور ازلان کے لیے یخنی بنانے لگ گئی۔
جاری یے۔۔۔۔۔۔۔۔
