51.6K
29

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 5

واہ بھائی واہ آج تو بے حد خوبصورت لگ رہے ہو۔ سفید سوٹ ،ہاتھ میں اپنی لکی گھڑی، اور بالوں کو جیل سے سیٹ کیا ہے۔ واہ مطلب اپنے ہونے والے سسرال کو امپریس کرنے کا فل پروگرام بنایا ہے۔ حامد کمرے سے نکلتے ازلان کے اردگرد چکر لگاتے ہوۓ بولا۔
ہو گیا تمہارا اب میں جاؤں۔ ازلان نے جان چھڑانے والے انداز میں کہا۔
ازلان بھائی حامد کو بولیں مجھے کالج چھوڑ آۓ۔ میری وین چھوٹ گئی۔ کرن اپنے کندھے پر کالج بیگ ڈالے ان دنوں کے پاس آکر بولی۔
مجھے خود دیر ہو رہی ہے۔ اور تمہیں کس نے بولا تھا۔ لیٹ اُٹھو۔ حامد اپنی گھڑی کو دیکھتے ہوۓ بولا۔
حامد تم یہ موٹرسائیکل کی چابی پکڑو۔ کرن کو کالج چھوڑ کر خود یونی چلے جانا۔ ہم لوگ تو میرے دوست کی گاڑی پر جائیں گے۔ ابھی کچھ چیزیں لانی ہیں۔ میں اسی کے ساتھ جا رہا ہوں۔ تم لوگ جاؤ لیٹ ہو رہی ہے۔ ازلان نے اپنی جیب سے چابی نکال کر اسکے ہاتھ میں دی۔
ٹھیک ہے۔ چلیں بھائی آل دی بیسٹ حامد ازلان کے گلے لگتے ہوۓ بولا۔ ازلان ہولے سے مسکرا دیا۔
★***
حامد کرن کو اسکے کالج چھوڑ کر خود یونی آ گیا۔ آج آخری پریڈ میں اسکی پریزٹیشن تھی۔ وہ اپنا بیگ کندھے پر ڈالے ہنستا مسکراتا یونی میں داخل ہوا۔ سامنے ہی اسے اسکے دوست مل گے۔ جن سے وہ باتیں کرنے لگ گیا۔
افرحہ کچھ دیر پہلے ہی پہنچ گئی تھی۔ حامد کو دوستوں کے پاس کھڑے دیکھ وہ بھی اس تک آئی۔
حامد تم نے پریزیٹیشن تیار کی؟ وہ اپنی پریزٹیشن فائل ہاتھ میں پکڑے کھڑی تھی۔
ہاں کر لی یہ رہی یو ایس بی ایک دفع تم بھی پڑھ لینا۔ وہ مسکرا کر اسکے ہاتھ میں یو ایس بی رکھتے ہوۓ بولا۔
نائیس! پریزٹیشن تو آخری لیکچر میں ہے۔ سر کلاس میں آ چکے ہوں گے۔ چلیں گائیز وہ باقی سب کی طرف دیکھ کر بولی۔ سبھی نے ہاں میں سر ہلایا اور اسکے ساتھ کلاس روم میں داخل ہوۓ۔


ازلان اپنے دوست سے گاڑی لے کر گھر آگیا۔ رشید صاحب اور ماجدہ بیگم تیار ہو چکے تھے۔ گھر کو تالا لگا کر وہ باہر نکلے۔
ازلان یہ کار کس کی ہے؟ رشید صاحب سامنے کھڑی گاڑی کو دیکھتے ہوۓ بولے۔
ابا میرے دوست کی ہے میں نے سوچا سب آرام سے چلے جائیں گے۔ موٹر سائیکل پر جانا تو آسان نہیں تھا۔ وہ گاڑی کا فرنٹ ڈور کھولتے ہوۓ بولا۔ رشید صاحب ہاں میں سر ہلا کر گاڑی میں بیٹھ گے۔ ازلان نے گاڑی سٹاٹ کر دی۔
سفر ایک گھنٹے کا تھا۔ رستے سے فروٹس خریدے۔ بارہ بجے کے قریب وہ امین صاحب کے گھر پہنچے۔ تینوں گاڑی سے باہر نکلے۔
یا اللہ میرے بچے کی خواہش پوری کرنا۔ ماجدہ بیگم نے گھر میں داخل ہونے سے پہلے بے اختیار دعا کی۔
ازلان فروٹس کے شاپر اُٹھا کر انکے پیچھے چلنے لگا۔ اسکے چہرے پر ایک انجانی سی خوشی اور ایکسائیٹمنٹ تھی۔ آنکھوں میں سالوں سے پلنے والی خواہش پوری ہونی کی امید نظر آرہی تھی۔ اگر کوئی اس وقت اسے دیکھتا تو یقیناً اسکے دل کی کیفیت جان جاتا۔ وہ اندر داخل ہوۓ۔
انکل بس کچھ دیر میں میٹگ کے لیے جانا ہے۔ امی فورس کر رہی تھیں۔ اسے ساتھ لے کر ہی شاپنگ کرنی ہے۔ تو بس میں امی کو لے آیا۔ حال میں صوفے پر بیٹھا اسد مریم بیگم کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ بولا۔
مجھے کوئی اعتراض۔۔۔ امین صاحب ابھی بول رہے تھے۔ جب انکی نظر حال سے اندر داخل ہوتے ہوۓ رشید صاحب داور انکے پیچھے ماجدہ بیگم نظر آئیں۔
یہ یہاں کیا کر رہے ہیں وہ بھی یوں اچانک امین صاحب صوفے سے کھڑے ہو کر آگے برھے۔
کیسے ہیں رشید بھائی؟ وہ انکے گلے لگتے ہوۓ بولے۔ رشید صاحب کو بہت عجیب لگا یوں کبھی بھی امین صاحب انکے گلے نہیں لگے تھے۔
میں ٹھیک ہوں۔ تم کیسے ہو؟ رشید صاحب مسکرا کر بولے۔ مریم بیگم اور بشرہ بیگم اور علینہ اگے بڑھ کر ماجدہ بیگم سے ملیں۔( علینہ جو ابھی کچھ دیر پہلے ہی آئی تھی) وہ انکو لے کر صوفے پر بیٹھے۔
یہ بہت اچھی بات ہے کہ تم سب یہی موجود ہو۔ مجھے تم سب کچھ ضروری بات کرنی تھی۔ رشید صاحب صوفے پر سیدھا ہو کر بیٹھتے ہوۓ بولے۔
بات کیسی بات؟ اسد کو کچھ گڑبر نظر آئی۔
تایا جی جوس حوریہ ٹرے میں سب کے لیے جوس کے گلاس لے کر آئی تھی۔۔
مہرمانی جیتی رہو بیٹی۔ شید صاحب نے جوس کا گلاس پکڑتے ہوۓ حوریہ کے سر پر شفقت سے ہاتھ پھیرتے ہوۓ کہا۔ سب کو سرو کر کے وہ ٹرے لے کر کیچن کی طرف جانے لگی۔ جب ازلان ہاتھ میں دو شاپر اُٹھاۓ اندر داخل ہوا۔ حال میں قدم رکھتے ہی اسکی نظر اُٹھی اور سیدھی کیچن کی طرف جاتی حوریہ پر پڑی۔ وہ جو کیچن میں جا رہی تھی۔ ازلان کو دیکھ کر رک گئی۔ اسکے ہاتھ میں پکڑے سامان کو دیکھ کر وہ اسکی طرف آئی۔ اسکے یوں اپنی طرف آتے دیکھ کر ازلان نے جھٹ سے نظریں جھکائیں۔
السلام علیکم! یہ مجھے دے دیجیے۔ حوریہ اسکے پاس آکر رکی اور مسکرا کر اسکے ہاتھ کی طرف اشارہ کیا۔
وعلیکم السلام! جی جی یہ لیں۔ وہ نظریں جھکاۓ بولا۔ اورشاپر اسکے حوالے کیا۔ بنا کوئی اور بات کیے باقی سب کی طرف بڑھا۔ سب کو سلام کر کے وہ پاس پڑی کرسی پر بیٹھ گیا۔
اور کسی نے تو نا سہی پر ازلان کا یوں اسے تکنا، اور اسکا یوں مسکرا کر سلام کرنا اسد نے ضرور دیکھا۔
ہاں جی بھائی صاحب کیا بات کرنی تھی۔ جو یوں بنا بتاۓ آ گے۔ آپ بتا دیتے تو اچھا سا انتظام کرتا۔ امین صاحب ہلکا سا ہنستے ہوۓ بولے۔ رشید صاحب نے ماجدہ بیگم کی طرف دیکھا۔ جنہوں نے سر کے اشارے سے انہیں بات کرنے کا کہا۔
وہ دراصل میں یہاں پر تم سے تمہاری عزیز چیز مانگنے آیا ہوں۔ رشید صاحب نے بات کا آغاز کیا۔
کیا ہوا بھائی صاحب پیسوں کی ضرورت ہے۔ بتائیں کتنے پیسے چاہیں۔ میں دے دیتا ہوں۔ امین صاحب نے اپنی جیب میں ہاتھ ڈال کر کہا۔ اسد ہلکا سا ہنسا پھر جلدی سے اپنے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ لیا۔ ازلان نے اسکی طرف دیکھا۔ رشید صاحب نے شرمندگی سے سر جھکایا۔
کیسی باتیں کر رہے ہو میں پیسے لینے نہیں آیا۔ اللہ کا شکر ہے۔ اس ذات نے اس قابل بنایا ہے کبھی زندگی میں کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلانے پڑیں گے۔ میں یہاں پر تمہاری بیٹی حوریہ کا رشتہ مانگنے اپنے برے بیٹے ازلان کے لیے مانگنے آیا ہوں۔ رشید صاحب نے پہلے سخت لہجے میں اور آخر میں اپنے لہنے کو نرم کرتے ہوۓ کہا۔
اسد نے ساری بات سنی تو اسے سبب سمجھ آ گیا۔ اپنے سامنے کرسی پر بیٹھے ازلان کو دیکھا۔ جسکے چہرے ہر ہلکی سی پرکشش مسکراہٹ اسے بہت کچھ سمجھا رہی تھی۔ کیچن کے دروازے میں کھڑی حوریہ نے سب سن لیا تھا۔ اسے ابھی تک یقین نہیں آرہا تھا۔ پہلے جس لڑکی کے لیے ایک رشتہ آنا مشکل ہو رہا تھا۔ آج اسی کے خاندان سے دو دو رشتے آۓ تھے۔ ایک جسکے ساتھ اسکی بات طے ہو چکی تھی۔
ہاہ ہاہا کیا کہا معاف کیجیے گا میں نے شائد ٹھیک سے سنا نہیں۔ آپ نے ابھی ابھی کیا کہا؟ امین صاحب ہنس کر بولے۔
بھائی صاحب ہم حوریہ کو اپنے ازلان کی دلہن بنانا چاہتے ہیں۔ ماجدہ بیگم کو گا شائد انہوں نے ٹھیک سے سنا نہیں تو وہ دوبارہ سے بولیں۔
ہاہا کیسی باتیں کر رہی ہیں۔ ایسا ممکن نہیں۔ میں آپ کو اپنی بیٹی کا رشتہ نہیں دے سکتا۔ وہ ہنس کر بولے۔ ان کے منہ سے نکلنے والے الفاظ ازلان پر اُولوں کی طرح گڑ رہے تھے۔
کیوں؟ ازلان کے منہ سے بے اختیار نکلا۔ وہ حو با حو سر جھکاۓ بیٹھا ہوا تھا۔کسی خوف کے تحت اسکا دل ایک دم دھڑکا۔
کیوں ؟ یہ تم پوچھ رہے ہو؟ پہلے خود کو دیکھو پھر مجھ سے پوچھنا کیوں؟ رشید صاحب طنزیہ انداز میں بولے۔ اسد کے چہرے پر مسکراہٹ پھیلی۔
کیا مطلب؟ مجھ میں کیا کمی ہے؟ وہ چہرہ اُٹھا کر انکی طرف دیکھ کر سوالیہ انداز میں بولا۔ یوں جیسے وہ آج اپنا کیس خود لڑنا چاہتا تھا۔
ہنہہہ کمی! سب سے بری کمی تمہاری بے روزگاری ہے۔تم ایک بے روزگار انسان ہو۔ دوسری کمی تمہارا گھر ہے۔ تمہارا گھر ایک پھٹیچر محلے میں ہے۔ اس محلے میں اپنی بیٹی کو سڑنے کے لیے بھیجھ دوں۔ وہ طنزیہ انداز میں اسکی طرف دیکھتے ہوۓ بولے۔
میں اسکا خیال رکھوں گا۔ دن رات محنت کروں گا۔ اسے اچھی زندگی ۔۔۔۔۔ وہ جیسے اپنے حق میں دلائل دے رہا تھا۔
اتنا انتظار کرنے سے بہتر ہے نا کہ میں کسی ایسے لڑکے کے ہاتھ میں اپنی بیٹی کا ہاتھ دوں جسکا سوسائٹی میں ایک مقام ہے۔ جو اپنی محنت کے بل آج اس مقام پر پہنچا ہے کہ سر اُٹھا کر مجھ سے میری بیٹی کا ہاتھ مانگ سکے۔ تمہاری طرح سر جھکا کر نہیں۔ وہ اسکے یوں ادب سے بیٹھنے پر چوٹ کر کے بولے حوریہ کیچن سے نکل کے حال کے ایک کونے میں کھڑی ہو گئی۔
رشید تم ایک دفع سوچ لو میرا بیٹا بہت شریف لائق ہے۔ وہ نوکری کے لیے دن رات ایک رک رہا ہے۔ اسکی محنت ضرور رنگ لاگ گئی۔ بہت جلدی اسے نوکری مل جاۓ گئی۔ ہم لوگ گھر بھی۔۔۔۔۔ رشید صاحب آگے ہو کر بیٹھے۔ اور انہیں سمجھانے لگے۔
بس کریں بھائی صاحب! بہت ہو گیا آپ کا آپ سب کی اطلاع کے لیے بتا دوں میں نے کل ہی اپنی بیٹی کا رشتہ طے کر دیا ہے۔ امین صاحب گردن اکڑا کر بولے۔ ازلان کا سر ایک دم چکرایا۔
رشتہ طے کر دیا۔ کس کے ساتھ۔ ماجدہ بیگم بولیں۔
ایسے لڑکے کے ساتھ جسکی اس سوسائٹی میں ایک حیثیت ہے۔ جسکا ایک اچھے جگہ پر اپنا گھر ہے۔ جو ایک ہونہار قابل، اور شریف انسان ہے۔ بالکل آپکے سامنے بیٹھا ہوا ہے۔ میں نے کل اسد سے حوریہ کا رشتہ طے کر دیا۔ امین صاحب کے منہ سے نکلنے والے الفاظ وہاں پر بیٹھے تین نفوس پر بم کی صورت میں گِڑے۔اسد ان کے چہرے دیکھ کر ایک ادا سے مسکرایا۔
تم نے ہمیں بتایا بھی نہیں۔ رشید صاحب کو اپنی آواز بھاری سی محسوس ہوئی۔
کیوں آپکو کیوں بتاتا۔ آگے نا آج میری بیٹی کی خوشیوں میں روڑے اٹکانے کے لیے۔ اگر بتا دیتا تب کیا کرتے؟ میری بات مانے اپنے بیٹے کو اسد جہاں کام کرتا ہے اس کمپنی میں جاب پر لگوا لیں۔ ورنہ یوں ہی آوارہ گردی کرتے ہوۓ ساری زندگی گزار دے گا۔ ہو سکے تو اس بار میری بات مان لیں۔ ورنہ اسکا بھی حال آپ کی ہی طرح ہو گا۔ سر اُٹھا کر باقی کی زندگی گزار نہیں سکے گا۔ بالکل آپکی طرح۔ سالوں پہلے بھی میں نے آپکو وہ محلہ چھوڑنے کا کہا تھا۔ تب بھی آپ اپنی ضد پر آڑے رہے۔ اور دیکھیں آج آپ کہاں ہیں اور میں کہاں ہوں۔ امین صاحب گردن اکڑا کر اپنی برائی بیان کر رہے تھے۔
صحیح کہا ابو نے۔ تایا جی آپ خود ہی ازلان اور اسد کا موازنہ کر لیں۔ کہاں اسد اور کہاں ازلان اگر ان دونوں میں سے کسی ایک کو چننا پڑے تو آپ خود اسد جیسا لڑکا چنیں گے۔ علینہ جو کب سے چپ بیٹھی تھی۔ وہ بولی۔ اسد نے اسکی طرف دیکھا۔ بہت کچھ اسکی آنکھوں کے سامنے آیا۔اسنے اپنا سر جھٹکا۔ رشید صاحب نے اپنا سر جھکا لیا۔ ماجدہ بیگم نے اپنی آنکھ کا کنارہ صاف کیا۔
آج میں اپنے چھوٹے بھائی کے گھر آیا تھا۔ مجھے بری خوشی ہو رہی تھی۔ میں تو یہ سوچ کر آیا تھا۔ میرا چھوٹا بھائی ہے مجھے کہاں منع کرے گا۔ پر تم تو یہاں امیری غریبی کے رونے لے کر بیٹھ گے۔ امین میری بات یاد رکھنا رشتے امیری غریبی پر نہیں چاہت اور عزت پر ٹکتے ہیں۔ میں نے اپنا محلہ نہیں چھوڑا کیونکہ میرے ماں باپ کی ساری زندگی وہاں گزری تھی۔ مرتے دم تک میں نے وہی رہنے کا فیصلہ کیا۔ اس گھر سے مجھے انکی خوشبو آتی ہے۔ پر تم یہ نہیں سمجھو گے۔ تم تو امیری کے کھیل کو سمجھتے ہو۔علینہ بیٹے مانا میرا بیٹا اتنا امیر نہیں ہے۔ پر آج تک میں نے اسے حق حلال کی کمائی کھیلائی یے۔ میں اسے یہی سیکھایا ہے چاہے گھر میں پانچ روپے لاؤ یا پانچ سو لانا پر حق حلال کا۔ آج جتنی بے عزتی تم لوگوں نے کر دی۔ ساری زندگی نہیں بھلا پاؤں گا۔ معاف کرنا اگر کچھ غلط بول دیا ہو۔ رشید صاحب اپنے ہاتھ جوڑ کر بولے۔ اور کھڑے ہو گے۔ ماجدہ بیگم بھی انکے ساتھ کھڑی ہو گئیں۔
بھابھی یہ سمجھیے آج ہمارا اس گھر میں آخری چکر تھا۔ آج کے بعد ہم کبھی نہیں آئیں گے۔ اللہ حوریہ کے نصیب اچھے کرے ماجدہ بیگم بشرہ بیگم کی طرف دیکھ کر بولیں جو کافی شرمندہ تھیں۔
ازلان چلو۔ رشید صاحب اسکے پاس آکر بولے اور خود آگے بڑھ گے۔
ازلان کو کب سے اپنے آس پاس سب سائیں سائیں محسوس ہو رہا تھا۔ جیسے بہت سی آوازیں چل رہی ہوں پر اسے کچھ سمجھ نا آ رہا ہو۔ رشید صاحب کی آواز پر وہ چونکا اور خالی نظروں ست انکی طرف دیکھ کر کھڑا ہوا۔ بنا کسی کو مخاطب کیے وہ آگے بڑھا۔ جب اسکی کلائی پر بندھی گھڑی کلائی سے نکل کر زمین پر گِڑی۔ وہ زمین پر جھکا اور کانپتے ہاتھوں سے گھڑی پکڑی۔ جیسے ہی وہ کھڑا ہوا اسکی نظر حوریہ پر پڑی۔ وہ اسے ہی دیکھ رہی تھی۔ دو پل کے لیے وہ اسکی آنکھوں میں دیکھتا رہا۔ ایک بے معانی سا آنسوں اسکی گال پر گڑا۔ اور وہی وہ بنا دیر کیے پلٹا اور ماجدہ بیگم کے پیچھے گھر سے باہر نکلا۔۔
حوریہ جو کہ اسکو دیکھ رہی تھی۔ آج پہلی بار اسنے ازلان کو خود کو نظر اُٹھا کر دیکھتے ہوۓ دیکھا۔ اسکو اسکی آنکھوں میں نا جانے کیا محسوس ہوا۔ جیسے وہ خود سمجھنے سے عاری تھی۔ اور اسکی آنکھ سے نکلنے والا آنسو اسے اپنے والد کے گڑے لفظوں کی تقلیف کا چھوٹا سا حصہ محسوس ہوا۔ وہ جیسے ہی نکل گیا۔ حوریہ نے نظریں پھیریں۔ تبھی اسکی نظر اسد سے ملیں جو کہ جانچتی نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔ وہ نظریں پھیر کر کچن میں گھس گئی۔
جاری ہے