Rate this Novel
Episode 6
افرحہ اگلے پریڈ میں ہماری پریزیٹشن ہے۔ تم نے سلائیڈز پڑھ لیں؟ وہ اپنے سامنے پڑے رجسٹر پین کی مدد سے کچھ لکھتے ہوۓ اپنے ساتھ بیٹھی افرحہ سے مخاطب ہوا۔
پڑھ رہی ہوں۔ ایزی ہے۔ وہ لیپ ٹاپ پر اپنی سلیڈذ آگے کرتے ہوۓ بولی۔
ا شیٹ حامد میں نے تمہیں ایک خوشخبری تو سنائی ہی نہیں۔ وہ لیپ ٹاپ سے نظریں ہٹا کر اپنے سر پر ہاتھ مارتے ہوۓ بولی۔ حامد چونکا۔
بولو ایسا کیا بتانا تھا؟ کہی اپنے ابو سے ہمارے پیار کا اقرار تو نہیں کر دیا۔ دیکھ لو پہلے مجھے بتا دینا گھر والوں سے بات بھی تو کرنی ہے۔ وہ ہلکا سا ہنس کر بولا۔
بدتمیز میں پاگل نہیں ہوں جو منہ اُٹھا کر اور وہ بھی ابو سے یہ سب بولوں گئی۔ اصل میں حوریہ کا رشتہ اسد بھائی سے طے ہو گا۔ افرحہ اسکے بے تُکے جوک پر اسکے کندھے پر ہاتھ رسید کرتے ہوۓ بولی۔ حامد جہاں تھا وہی رک گیا۔
کیا کہا تم نے ابھی؟ وہ پورا اسکی طرف مُڑ کر بولا۔ چہرے پر حیرانگی کے تاثرات تھے۔
حوریہ کا رشتہ ہو گیا۔ پہلے جو رشتہ دیکھنے کے لیے آۓ تھے۔ انہوں نے انکار کر دیا۔ بہت باتیں سنائیں۔ اسی وقت نا جانے کہاں سے اسد بھائی اور خا لہ آ گے۔ اور پتہ ہے کیا اسد بھائی نے کافی باتیں سنائیں۔ اور آپی کا رشتہ مانگ لیا۔ میں بہت خوش ہوں۔ شکر ہے حوریہ کا رشتہ ہو گیا۔ ایک ماہ تک اسکی شادی ہو جاۓ گئی۔ وہ کتنی پریشانیوں سے آزاد ہو جاۓ گئی۔ افرحہ کی آواز میں واضع خوشی کے اثار تھے۔ وہ بنا حامد کو دیکھے بولے جا رہی تھی۔ یہ جانے بغیر حامد کے چہرے کا رنگ سفید پر گیا۔
یہ اچھا نہیں ہوا۔ ازلان بھائی وہ ہولے سے بولا۔
کلاس اپنی پریزیٹشن کے لیے ریڈی ہو جائیں۔ سب سے پہلے افرحہ اور حامد پریزیٹشن دیں گے۔ وہ ابھی تک شاک میں تھا۔ جب سر کی آواز گھونجی۔
حامد چلو چلیں۔ افرحہ نے اسکی طرف دیکھ کر کہا۔ جو ابھی تک سکتے میں تھا۔اسکی آواز پر چونکا۔
ہاں چلو وہ کھڑا ہوا۔ افرحہ نے آگے بڑھ کر اپنی یو ایس ابی کلاس کے لیپ ٹاپ پر لگائی۔ لیپ ٹاپ کے کچھ بٹن پریس کیے تو سامنے والی دیوار پر انکی سلائیڈز دیکھیں۔ افرحہ اور حامد نے اپنا انٹروڈیکشن دیا۔ افرحہ نے پریزیٹشن شروع کی۔ حامد بے دھیانی میں دیوار کی طرف دیکھ رہا تھا۔ افرحہ نے اپنا حصہ پورا کر کے حامد کی طرف دیکھا۔ جو خالی نظروں سے اسکی طرف دیکھ رہا تھا۔
حامد تم بولو۔۔ وہ آہستہ اواز میں بولی۔ پر وہ کچھ نا بولا۔ ساری کلاس اسکے بی ہیوریر پر کافی حیران تھی۔
حامد کیا آپ کچھ نہیں بولیں گے۔ سر کی آواز گھونجی۔ تو وہ ہوش میں آیا۔
اہمم سوری سر اپنے ماتھے پر آۓ پیسنے کو ہاتھ کی ہتھیلی سے صاف کرتا وہ بولا۔ اور ہمت کر کے پریزٹیشن دینے لگا۔ وہ ہر دوسری سلائیڈ پر اٹک رہا تھا۔ جو کہنا چاہیے اسکے علاوہ بول رہا تھا۔ الفاظ بھول رہا تھا۔ افرحہ پریشانی سے اسے دیکھ رہی تھی۔ کیونکہ آج تک کبھی اسکی پریزیٹشن اسطرح کی نہیں ہوئی تھی۔وہ کلاس کا ایک قابل اسٹوڈینٹ تھا۔وہ بول رہا تھا۔ جب اسکے موبائل پر بیپ ہوئی۔ کلاس کے رول کے مطابق وہ موبائل کھول نہیں سکتا تھا۔ پر دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر نا جانے کس ڈر سے بنا کسی کی پرواہ کیے اسنے اپنی پوکٹ سے موبائل نکالا اور اس پر آنے والے میسج کو دیکھا۔
حامد جلدی سے ہسپتال پہنچو۔ ابا کو ہاٹ اٹیک ہوا ہے۔ سکرین پر ازلان کا میسج تھا اس ہر لکھے الفاظ پڑھ کر اسکے پاؤں کے نچے سے زمین کھسکی۔وہ ایک دم لڑکھرایا۔ افرحہ اور باقی سب اسکی حالت دیکھ کر پریشان ہو گے۔
کیا ہوا حامد؟ افرحہ بھاگ کر اسکے قریب آئی اور اسکے ہاتھ سے موبائل لیا۔
ابا ! مجھے جانا ہو گا۔ وہ اپنی کرسی کی طرف بڑھا۔اور جلدی سے اپنا بیگ کندھے پر ڈال کر افتحہ سے موبائل کھینچ بنا کسی کا جواب دیے وہ کلاس سے باہر بھاگا۔
سر اسکے ابا کو ہاٹ اٹیک ہواہے۔ افرحہ نے سب کی سوالیہ نظروں کا جواب دیا۔
او اللہ ان کو صحت دے۔ افرحہ اپ کی لسی اور دن پریزیٹشن ہو جاۓ گئی۔ آپ اپنی سیٹ پر بیٹھیں۔ سر بولے۔
سر وہ میرے تایا ہیں کیا مین جا سکتی ہوں۔ افرحہ نے پوچھا۔ انکے ہاں کے جواب میں اگلے ہی پل وہ بھی اپنا سامان لے کر کلاس سے نکلی۔
ازلان خاموشی سے گاڑی چلا رہا تھا۔ رشید صاحب اور ماجدہ بیگم گاڑی کی پچھلی سیٹ پر بیٹھے تھے۔
ماجدہ بیگم یہ میرا سگا بھائی تھا۔ جسکے ساتھ میرا سارا بچپن میری جوانی گزری۔ تم نے دیکھا اسنے کیسے بات کی۔ وہ ہمشہ سے خود کو برا آدمی مانتا تھا۔ ابا کے لاکھ منع کرنے کے باوجود وہ شہر آ گیا۔ اس وقت میں نے اسکی مدد کی۔ ہمیشہ ابا کی ڈانٹ سے اسکو بچایا۔ ہمشہ اپنا چھوٹا بھائی نہیں بیٹا سمجھا۔ کبھی بھی اپنے برے ہونے کا روب نہیں ڈالا۔ ہمیشہ اسکا ساتھ دیا۔ بہت پیار کیا۔ اور دیکھو آج اسنے کیسے مجھے غریب ہونے کا طعنہ دے دیا۔ انکی آواز میں غم غصہ اداسی سب تھا۔ یوں لگ رہا تھا انکی آواز نم ہو ۔ رشید صاحب کے الفاظ سن کر ازلان نے سٹرنگ پر اپنے ہاتھ مضبوط کیے۔ اسکی آنکھیں لال ہو رہیں تھیں۔
دفع کریں آپ کیوں ان باتوں کو سوچ ریے ہیں۔ آپ جانتے تو ہیں امین بھائی کی سوچ کیسی ہے۔ ماجدہ بیگم نے انکی طبعیت بگڑنے کے ڈر سے کہا۔
جانتا ہوں بہت اچھے سے جانتا ہوں۔ پر تم ہی بتاؤ ماجدہ کیا اسکی باتوں سے تمہیں تقلیف نہیں ہوئی۔ جب اسنے بولا نا پیسے چاہیں بتاؤ کتنے چاہیے۔ قسم سے دل رو پڑا۔ میں جس نے آج تک زندگی میں کبھی کسی سے ایک پیسہ نہیں مانگا ہو وہ اپنے چھوٹے بھائی سے بھلا پیسے مانگنے آیا ہو گا۔ میں نے تو ایر سے حوریہ کا رشتہ مانگا۔ پر دیکھو اسنے کیسے انکار کیا۔ جیسے اگر ہم اسے اپنی بہو بنا کر لے جائیں گے تو کھلا پیلا نہیں سکیں گے۔ کیا بھائی ایسے ہوتے ہیں۔ جو اپنے سے غریب بھائیوں کو دوسروں کے سامنے ایسے ذلیل کریں۔ کیا کوئی سگا بھائی ایسے کرتا ہے۔ ماجدہ تم سہی تھی میرا کوئی اپنا نہیں سب پیسے کے پیچھے بھاگتے ہیں۔ اگر اپنے سے غریب دیکھے چاہے وہ سگا بھائی ہی کیوں نا ہو اسکو بھی اسکی ہی نظروں میں گِڑا دیتے ہیں۔ رشید صاحب بولتے بولتے آخر میں رو دیے۔ ماجدہ بیگم ان کی تقلیف کو سمجھتی تھیں۔ وہ کافی بار ان کے چھوٹے بھائی کے حوالے سے باتیں کر چکیں تھیں۔ پر ہمیشہ رشید صاحب انکی نفی کر دیتے تھے۔ پر آج ان کا دل بہت دکھا تھا۔ وہ جی بھر کے روۓ۔ ازلان کو اپنی آنکھیں بھیگتی ہوئی محسوس ہوئیں۔
ازلان یہ تمہارے ابا کو کیا ہو رہا ہے۔ ماجدہ بیگم کی ڈری سہمی اواز گاڑی میں گھونجی۔ ازلان نے جھٹ سے پلٹ کر دیکھا تو رشید صاحب اونچے اونچے سانس لے رہے تھے۔ اور انکا ایک ہاتھ دل پر تھا۔
ابا کیا ہوا؟ وہ اونچی آواز میں پیچھے کی طرف دیکھ کرچلایا۔
ازلان جلدی سے ہسپتال لے چلو۔ ماجدہ بیگم انکی بگڑتی حالت کو دیکھ کر بولیں۔ ازلان نے گاڑی گھومائی۔ اور اسکی سپیڈ حد سے زیادہ تیز کر دی۔ اگلے بیس منٹ میں وہ ہسپتال میں موجود تھے اسنے جلدی سے حامد کو میسج کیا۔ ڈاکٹر رشید صاحب کا مائنع کرنے لگے۔
ازلان بھائی ابا کو کیا ہوا؟ کہاں ہیں؟ حامد بھاگتا ہوا ہسپتال میں داخل ہوا۔ سامنے کوریڈول میں کھڑے ازلان کو دیکھا تو فوراً بولا۔ اسکے پیچھے ہی افرحہ تھی۔
ہاٹ اٹیک ہوا ہے۔ ابھی ڈاکٹر نے ائی سی یو میں شیفٹ کیا ہے۔ حامد دعا کرو وہ ٹھیک ہو جائیں۔ ازلان ٹوٹے ہوۓ لہجے میں بولا۔
میں یوں اچانک ہاٹ اٹیک آپ تو چاچو کے گھر گے تھے۔ تو؟ حامد اپنے اندر اُمڈ آنے والے ہزار سوال کا جواب جاننا چاہتا تھا کہ کہی وہ جو سوچ رہا ہے وہ سچ تو نہیں۔
ازلان نے ایک پل کے لیے حامد کی طرف دیکھا۔ اور اس ایک پل میں حامد نے اسکی آنکھوں میں وہ سب دیکھ لیا جو وہ زبان پر نا لایا تھا۔
تائی جان آپ پریشان نا ہوں سب ٹھیک ہو جاۓ گا۔ میں نے ابو کو فون کر دیا ہے ہو آتے ہی ہوں گے۔ افرحہ پاس پر کرسی پر بیٹھی ماجدہ بیگم کے پاس بیٹھ کر انکے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوۓ بولی۔۔ اسکی بات پر ماجدہ بیگم اور ازلان نے اپنی آنکھیں بھیچیں۔
دور رہو مجھ سے اور خبردار اگر تمہارا باپ یہاں آیا۔ ماجدہ بیگم نے اسے دھکہ دیا۔ وہ حیرانگی سے انہیں دیکھنے لگئی۔ آج تک جس تائی نے لاکھ انکے والد کے اختلاف کے ہمیشہ پیار دیا تھا آج انکے اس رویے کو دیکھ کر وہ کچھ پل تو بول ہی نا پائی۔۔
امی ہسپتال ہے پلیز ایسا ویسا کچھ مت کیجیے گا۔ بس دعا کریں۔ ازلان پاس والی سیٹ پر بیٹھ کر بولا۔
افرحہ تم پلیز گھر جاؤ۔ ہم لوگ دیکھ لیں گے۔ حامد نے اسکی طرف دیکھ کر کہا۔ افرحہ جو پہلے ماجدہ بیگم کے رویے سے ہرٹ تھی۔ اب حامد کا اسکو چلے جانے کے الفاظ اسے چھبے۔ اسکے الفاظوں سے بھی زیادہ اسکے لہنے کا بے گانہ پن چھبا۔ وہ اسے اس وقت پرایا لگا۔ ایک ایسا پرایا جو اسے یہاں سے جانے کا بول رہا تھا۔ جو دو گھنٹے پہلے تک تو اسکا اپنا تھا۔ جسکے ساتھ اسکا تعلق دل کا تھا۔ وہ اُٹھی اور ایک نظر اسے دیکھ کر بیگ کندھے پر ڈالے مڑ گئی۔ حامد نے دور جاتی افرحہ کو دیکھا۔ اور سر جھٹکا۔
ایک گھنٹے کے بعد ڈاکٹر باہر نکلے۔ وہ سب انجانے ڈر کو دل میں دباۓ ڈاکٹر کی طرف متوجہ ہوۓ۔
دیکھیں ہم نے آپکے فادر کو بچانے کی ہر ممکن کوشش کی۔ پر ہاٹ اٹیک اتنا سوئیر تھا۔ کہ وہ مزید سرواؤ نہیں کر پاۓ۔ ڈاکٹر اپنا چشمہ اتار کر افسردہ لہجے میں بولا۔
وہاں پر بیٹھے تینوں نفوس پر قیامت گِڑی۔ حامد لڑ کھڑایا اور وہی زمین پر بیٹھ گیا۔ ابھی صبح ہی تو وہ صحیح سلامت تھے۔ وہ ان سے مل کر یونی گیا تھا۔ اور اب کچھ ہی گھنٹوں میں وہ اسے چھوڑ کر چلے گے۔
ازلان جو کہ ماجدہ بیگم کے ساتھ بیٹھا تھا۔ یہ خبر سنتے ہی اسکا دماغ معائف ہوا۔ ماجدہ بیگم بے ہوش ہو چکی تھیں۔ وہاں پر کھڑے ڈاکٹر کے پاس بھی تسلی کا ایک لفظ نہیں تھا۔اور اس مشکل کھڑی میں وہ بول بھی کیا سکتے تھے۔
آپ میرے ساتھ آئیں کچھ فار میلٹیز پوری کرنی ہے پھر آپ باڈی کو لے جا سکتے ہیں۔ ڈاکٹر بول کر آگے بڑھ گیا۔
باڈی! ازلان نے وہی لفظ دھرایا۔ ابھی کچھ دیر پہلے جسے وہ اسکے والد کہ رہا تھا۔ اب وہ باڈی بن گے تھے۔ صرف ایک باڈی۔ وہ ہمت کر کے اُٹھا اور ڈاکٹر کے پیچھے گیا۔
★
ایک گھنٹے بعد ایمبو لینس میں رشید صاحب کی باڈی کو گھر لایا گیا۔ گھر کے سامنے پورا محلہ جمع تھا۔ کچھ انکے قریی تھے۔ اور کچھ۔۔۔۔ ازلان نے میت گھر کے چھوٹے سے صحن میں رکھوائی۔ ماجدہ بیگم خاموش سی وہیں انکی چارپائی کے قریب بیٹھ گئیں۔وہ زبان سے تو کچھ نا بولیں بس آنکھوں سے آنسوں گڑرہے تھے۔ پاس بیٹھی خواتین انکوا دلاسے دے رہیں تھیں۔کچھ دیر بعد صدف بھی پہنچ گئی۔
کرن کی بس کچھ دور رکی۔ وہ مسکراتی ہوئی اپنے محلے کی دو ستوں کے ساتھ نیچے اتری اور گھر کی اور بڑھی۔ یہ جانے بغیر کے اسکے گھر پر کتنی بری قیامت ٹوٹی ہے۔ وہ ابھی اپنے گھر سے کچھ ہی فاصلے پر تھی۔ جب اپنے گھر کے سامنے بھیر کو دیکھا۔ اندر سے رونے کی آواز یں آرہی۔ تھیں۔ نا سمجھی میں انجانے ڈر میں وہ کانپتے ٹانگوں کے ساتھ گھر میں داخل ہوئی۔ جیسے ہی اسکی نظر چارپائی پر پڑے اپنے باپ پر گئی ہاتھ پر پکڑیں کتابیں فرش پر گِڑیں۔
بیٹے چلو آگے ہو کر اپنے باپ کو دیکھ لو۔ اپنے قریب سے آئی آواز پر بھی اسکا سکتا نا ٹوٹا۔ ایک عورت نے اسے کندھے سے پکڑ کر رشید صاحب کی چارپائی کے قریب بیٹھایا۔
ااااببااااا کانپتے ہاتھوں سے اسنے انکا ماتھا چھوا۔
نہیں ابا کیا ہوا؟ ٹھنڈے ماتھے پر ہاتھ لگتے ہی وہ چلائی
ابا اُٹھیں کیا ہوا؟۔؟؟نہیں آپ ایسا نہیں کر سکتے میں تو آپکی لاڈلی بیٹی ہوں نا پلیز اُٹھیں وہ انکا بازو جھجھوڑتے ہوۓ بولی۔ اسکی چیخ و پکار پر باقی سب نے افسردہ نظروں سے اسے دیکھا۔
کچھ دیر بعد انکو غسل دیا گیا۔
حامد وہی مردوں والی سائیڈ میں ایک طرف زمین پر بکھرا ہوا بیٹھا تھا۔ اسکا دماغ ابھی تک اس بات کو ایکسپٹ نہیں کر پایا تھا۔ وہ ابھی بھی سوچ رہا تھا کہ یہ خواب ہو سکتا ہے ایک ڈراؤنا خواب جسے اگر ابھی کوئی آ کر اسے اُٹھاۓ گا تو سب پہلے جیسا ہو گیا۔
امین صاحب اور انکے گھر والے بھی پہنچ چکے تھے۔ کچھ دیر بعد تدفین کر دی گئی۔ امین صاحب مردوں والی سائیڈپر بیٹھے باقیوں سے بات کر رہے تھے۔ گھر خواتین سے بھرا ہوا تھا۔ اہستہ آہستہ سب اپنے گھر کی اور جا رہے تھے۔
ازلان خاموش سا ایک طرف بیٹھا تھا۔ جب اسکے موبائل پر فون آیا۔ چونک کر اسنے اپنی قمیض کی جیب سے فون نکالا۔
ازلان کرن بے ہوش ہو گئی ہیں کلدی سے ڈاکٹر کو لے کر گھر پہنچو۔ اگے سے صدف کی آواز تھی۔ وہ اگلے ہی پل وہاں سے نکلا۔ حامد اسے نکلتے دیکھ خود بھی پیچھے آ گیا۔ وہ دونوں ڈاکٹر کو لے کر گھر پہنچے۔ چونکہ رات ہو گئی تھی تو گھر میں صرف رشتے دار اور کچھ آس پروس کی عورتیں تھیں۔
ڈاکٹر نے کرن کو چیک کیا۔ ایک ڈریپ لگا دی۔ وہی بیڈپر ایک طرف ماجدہ بیگم بیٹھی رو رہیں تھیں۔ پاس ہی بشرہ بیگم بیٹھیں تھیں۔ حامد سر جھکاۓ ایک طرف کھڑا آنسو بہا رہا تھا۔ افرحہ اسے دیکھتے اسجے قریب آئی۔
حامد! وہ بس اتنا ہی بولی۔ وہ جب گھر پہنچی تو آج ہونے والی ساری بات پتہ چلی۔ تبھی وہ حامد کے ری ایکشن کو سمجھ گئی۔
ازلان ماجدہ بیگم کو دیکھتا انکی طرف آیا۔ اور انکے پاس بیٹھا بشرہ بیگم اُٹھ گئیں۔ ماہم اور حوریہ صدف کے پاس بیٹھیں ہوئیں تھیں۔ کمرے میں کوئی بات نہیں ہو رہی تھی۔ صرف صدف اور ماجدہ بیگم کے رونے کی آواز آرہی تھی۔
امی۔۔۔ وہ بس اتنا ہی بولا۔ اس لفظ میں بھی لڑھراہٹ تھی۔ ماجدہ بیگم کے ضبط کا بندہ ٹوٹا وہ اور ٹوٹ کے رو دیں۔ ازلان نے انہیں سینے سے لگا لیا۔ اسکی انکھوں سے بھی آنسو بہے۔
جاری ہے۔۔۔۔۔ِ۔۔۔۔۔۔
