Tamashaye Zaat By Fatima Tariq Readelle50126 Episode 23
Rate this Novel
Episode 23
“یہاں اکیلی کیا کر رہی ہو” ؟حوریہ رات کے بارہ بجے باہر گارڈن میں آسمان کے ساۓ تلے بیٹھی تھی جب افرحہ ہاتھ میں کافی کے دو مگ لیے اسکے پاس آ کر بیٹھی۔
“کچھ نہیں بس یہاں بیٹھنا اچھا لگ رہا تھا تو بیٹھ گی” وہ اسکے ہاتھ سے مگ پکڑتے ہوۓ بولی۔
“ازلان بھائی کا رویہ کیسا ہے” افرحہ نے کچھ پل خاموش رہ کر پوچھا۔ حوریہ کے سامنے ان دو دنوں کی ہر بات ایک پل میں آئی۔
“دو دنوں میں تو سب اچھے ہی ہوتے ہیں پتہ تو کچھ دنوں کے بعد لگتا ہے کہ وہ اپنے فعل میں اپنی باتوں میں کتنے کو سچے ہیں کچھ تو سچائی کی مورت بن کر آہستہ آہستہ کر کے آپکو بچھو کی طرح ڈستے ہیں” حوریہ کافی کا ایک گھونٹ بھر کر بولی۔
“مجھے نہیں لگتا ازلان بھائی اسد کی طرح نکلیں گے” افرحہ نے نا چاہتے ہوۓ بھی اسد کا ذکر کر دیا۔
“پہلے پہلے تو اسد بھی سچا اور اچھا لگتا تھا، اسنے اپنا رنگ آہستہ اہستہ دیکھایا ازلان بھی دیکھا دیں گے” حوریہ اپنے اندر کے تلخ احساسات بیان کر رہی تھی۔
“اگر اچھے کی امید رکھو گی تو اچھا ہی ہو گا”
“میں نے اچھے کی امید کرنا چھوڑ دی ہے آخر میں جب امیدوں پر پانی ہی پھرنا ہے تو کیا فائدہ چھوٹی امیدیوں کا اس سے اچھا ہے جو ہو رہا ہے ہونے دو” وہ کافی کا آخری گھونٹ بھرتے ہوۓ بولی۔ افرحہ کچھ پل حوریہ کو دیکھتی رہ گی یہی وہ لڑکی تھی جو بچپن سے اتنی باتیں سننے کے باجود کبھی منہ سے نا امیدی کی باتیں نہیں کرتی تھی اور آج وہ یہ سب بول رہی تھی جسکا مطلب تھا وہ بہت بری طرح ٹوٹی تھی۔
“خیر یہ سب باتیں چھوڑو اندر چلو چل کر آرام کر لو” افرحہ اسکے ہاتھ سے کافی کا مگ پکڑتے ہوۓ بولی۔
“تم جاو مجھے یہاں اچھا لگ رہا ہے میں تھوڑی دیر میں آجاؤں گی” وہ ہلکا سا مسکرا کر بولی۔ افرحہ ہاں میں سر ہلا کر اندر چلی گئی۔ اسکے جانے کے بعد حوریہ وہی گارڈن کے نرم گھاس پر لیٹ گئی اور اوپر کھلے آسمان کو دیکھنے لگی۔ جس پر ہزاروں تارے خوبصورتی سی چمک رہے تھے وہی دور چاند اپنی روشنی بکھیر رہا تھا۔ وہ کتنے ہی پل اس خوبصورت منظر کو بے خود ہو کر دیکھتی رہی۔ اسکا طلسم تب ٹوٹا جب پاس پڑے فون کی گھنٹی بجی۔ اسنے فون کو پکڑ کر اپنی نظروں کے سامنے کیا تو اسکے اوپر ازلان کا نمبر جگمگا رہا تھا۔ اسنے کال اُٹھائی اور فون کان سے لگا لیا۔
السلام علیکم! آگے سے ازلان کی دلکش آواز گھونجی۔
وعلیکم السلام! حوریہ نے سلام کا جواب دیا۔
“ابھی تک آپ سوئی کیوں نہیں” ؟ ازلان اپنے ہاتھ پر بندھی گھڑی سے وقت دیکھتے ہوۓ بولا۔
“بس ایسے ہی نیند نہیں آ رہی تھی تو باہر گارڈن میں بیٹھی تھی” وہ اُٹھ کر بیٹھی۔
“میں بس ابھی ابھی پہنچا تھا تو سوچا آپکو بتا دوں کہی آپ پریشان نا ہو رہی ہوں” ازلان نے جان بوجھ کر آخری جملہ بولا۔
“میں کیوں پریشان ہونے لگی گھر سے نکلے تھے تو وہاں پھنچنا تو تھا” وہ فوراً بولی۔
“اپکی غلط فہمی ہے گھر سے نکلا ہر شخص سہی سلامت نہیں پہنچتا رستے میں ایکسیڈنٹ بھی ہو سکتا ہے وہ مر بھی سکتا ہے” وہ سنجیدگی سے بولا۔
“اللہ نا کرے کیسی باتیں کر رہے ہیں میں فون رکھ رہی ہوں” وہ ناراضگی بھرے لہجے میں بولی۔
“حور” وہ فون رکھنے لگی تھی جب ازلان کی دھیمی سی آواز موبائل کے سپکیر سے گھونجی حوریہ کا دل ایک پل کے لیے دھڑکا اسنےد وبارہ فون کان سے لگایا۔
“ہمم”وہ بس اتنا ہی بولی۔
” کچھ نہیں اندر جا کر سو جائیں اپنا خیال رکھیے گا میں پھر فون کروں گا خدا حافظ ” وہ جیسے کچھ اور بولنے والا تھا پر اپنا ارادہ ترک کر کے خدا حافظ کہ گیا۔ حوریہ کتنی دیر تک خالی سکرین کو دیکھتی رہی۔ پھر اُٹھ کر اندر چلی گئی۔
دو دن وہ بہت مزے سے رہی پھرسب کے روکنے کے باوجود وہ واپس گھر ا گئی۔ گھر میں آۓ اسے تین ہفتے ہو چکے تھے ماجدہ بیگم درمیان درمیان میں طنز مارتی رہتیں کرن ویسے ہی اسے نہیں بلاتی تھی۔ گھر میں صرف حامد ہی تھا جو اچھےسے بات کرتا اس دن کے بعد ازلان نے کال تو نا کی البتہ میسج پر وہ بات کرتا رہتا۔
ازلان جس دن کا اسلام آباد آیا وہ آفس کے کاموں میں حد سے زیادہ مصروف ہو گیا۔ آج بھی وہ حد سے زیادہ مصروف تھا وہ اپنے ڈیکس پر بیٹھا لیپ ٹاپ پر تیز تیز انگلیاں چلاتا اپنا کام کر رہا تھا جب پاس سے کسی کی آواز آئی۔
السلام علیکم! کیسے ہیں؟ اسنے گردن موڑی تو سامنے سحر کھڑی تھی۔ وہ اپنی جگہ سے کھڑا ہو گیا۔
وعلیکم السلام! تم یہاں؟ وہ تھوڑا سا حیران تھا۔
ہاں وہ کل ہی یہاں پر جاب ملی ہے۔ لنچ اکھٹے کریں۔ سحر اپنے کام کی بات پر آئی۔ ازلان نے ہاں میں گردن ہلائی۔ وہ واپس اپنے ڈیکس پر چلی گئی۔ ایک گھنٹے بعد دنوں کمپنی کے کیفے ٹیریا میں موجود تھے۔
” تو لائف کیسی گزر رہی ہے”؟ سحر اپنی پلٹ میں کھانا نکالتے ہوۓ بولی۔
“الحمداللہ بہت پرسکون” ازلان ہلکی سی مسکراہٹ چہرے پر سجا کر بولا۔ سحر کو اسکی مسکراہٹ تپا گئی۔
“مجھے کچھ دن پہلے ہی پتہ چلا آپ نے شادی کر لی وہ بھی حوریہ سے ” سحر پر سکون لہجے میں بولی۔
“ہاں اب تو مہینہ ہونے والا ہے، وہ جوس کا گلاس لبوں سے لگاتے ہوۓ بولا۔ سحر نے ٹیبل کے نیچے اپنی ہاتھوں کی مٹھیاں بھینچیں۔
” بہت اچھا کیا جتنا دکھ میرا بھائی حوریہ کو دے چکا ہے اسکے بدلے آپ جیسے انسان کا اسکی زندگی میں آنا یقینِاً بہت خوشی کی بات ہے وہ چہرے پر جبراً مسکراہٹ سجا کر بولی۔ تبھی ٹیبل پر پڑے ازلان کے موبائل پر میسج کی بیپ ہوئی سکرین روشن ہوئی سحر کی نظر موبائل کی روشن سکرین پر پڑی جہاں حوریہ کی تصویر لگی ہوئی تھی۔ اسکی انکھیں ایک پل میں سرخ ہوئیں۔
“بالکل ٹھیک کہا تمہارے بھائی نے ایک لڑکی کی زندگی برباد کرنے میں واقعی کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔ خیر یہ سب باتیں کرنے کا کوئی فائدہ نہیں، اگر میری کسی مدد کی ضرورت ہو تو ضرور بتانا مجھے کافی کام ہے میں چلتا ہوں وہ ٹیبل سے اپنا موبائل اُٹھا کر وہاں سے نکل گیا۔
” بہت اُڑ رہے ہو نا بس انتظار کرو حوریہ تمہارے گھر سے خود نکلے گئی۔ وہ اسکو جاتے ہوۓ دیکھ کر بولی۔
وہ صبح کی کچن میں گھسی ماجدہ بیگم کی فرمائش پر کھانا بنا رہی تھی۔ کیونکہ کچھ دیر میں ازلان نے آنا تھا۔ وہ ڈیڈھ مہینے بعد گھر آ رہا تھا۔ آفس سے چھٹی مشکل سے ملی تھی۔ چونکہ وہ صبح کی کیچن میں تھی اوپر سے اتنی گرمی اب اسکی حالت خراب ہونے لگی بریانی کو دم دے کر وہ کیچن سے باہر حال میں لگے پنکھے کے نیچے آئی۔
کرن تمہارے ہاتھوں پر مہندی لگی ہے جو کیچن میں نہیں جا سکتی صبح کا دیکھ رہا ہوں بھابھی بچاری اکیلی کیچن میں لگی کھانا بنا رہی ہیں۔ حامد جو کہ حال میں بیٹھا تھا کب سے نوٹ کر رہا تھا اخر بول ہی پڑا۔
اگر دو گھنٹے کیچن میں کام کر لے گی تو کون سی موت پڑ جاۓ گی۔ مجھے پڑھنا ہے کرن بدتمیزی سے بولی۔ حوریہ نے حیرانگی سے اسے دیکھا۔
ٹھاہ! حامد نے اُٹھ کر اسکے چہرے پر تھپڑ مارا۔
حامد پاگل ہو حوریہ نے اسے دور کیا۔
یہ کیا ہو رہا ہے؟ ماجدہ بیگم جو کہ پروس میں گئی تھیں ابھی گھر میں داخل ہوئیں تو کرن کو روتے دیکھ کر بولیں۔
امی! حامد نے مارا ہے وہ بھی حوریہ کی وجہ سے میرا کل ٹیسٹ ہے میں نے اسی لیے کیچن میں جانے سے انکار کیا صبح بھی حوریہ کو بتایا تھا اسنے تب بھی مجھے کام چور کہا۔۔۔۔ وہ روتے ہوۓ آدھا جھوٹ بول رہی تھی۔
“میں نے بولا تھا نا یہ استین کا سانپ ہے ایک نا ایک دن ڈھسے گی۔ میرے بچوں میں جھگڑا کروا دیا ماجدہ بیگم اگے بڑھ کر حوریہ کو بالوں سے پکڑتے ہوۓ بولیں۔
امی بھابھی کو چھوڑیں کیا کر رہی ہیں حامد جلدی سے اگے برھا اور ماجدہ بیگم کو پیچھے کرنا چاہا پر انکی پکڑ بہت سخت تھی۔ حامد نے زور لگا کر چھڑوا لیا۔ وہ دوبارہ اسکی طرف لپکیں حوریہ ڈر کر ایک طرف ہو گی۔
یہ منحوس ماری اپنی منحوسیت لے کر ہمارے گھر ا گی جس دن کی آئی ہے میرے گھر کی خوشیاں برباد ہو گئیں۔خبردار اگر آئندہ میری بیٹی کو کچھ بولا تمہاری زبان گدی سے کھینچ لوں گی وہ میری بیٹی ہے اسکا جو دل کرے گا وہی کرے گی۔ ماجدہ بیگم کی آواز پورے حال میں پھیل رہی تھی حوریہ اپنے سر پر ڈوپٹہ لیتے ایک طرف سر جھکاۓ رو رہی تھی وہ تو اپنے دفاع میں کچھ بول بھی نہیں سکتی تھی اسکے منہ سے نکلے الفاظوں پر کسی نے یقین تھوڑی کرنا تھا یہی سوچ کر وہ چپ ہو گی۔
یہ سب کیا ہو رہا ہے؟ تبھی حال کے اندر داخل ہوتا ازلان ماجدہ بیگم کے آخری کچھ الفاظ سن چکا تھا اسکی اواز سن کر سبھی نے اسکی طرف دیکھا۔ کرن ایک دم ماجدہ بیگم کے پاس چلی گئی۔
تمہاری بیوی کو دو گھڑی کام کرنے میں موت پڑ رہی تھی اسی لیے یہ سب تماشا لگا رکھا تھا۔ اور بی بی کھانا اپنے شوہر کے لیے ہی بنا رہی تھی اس میں بھی ڈرامے۔۔۔ ماجدہ بیگم غصے سے کہ کر اپنے کمرے میں چلی گئیں کرن بھی پیچھے ہی بھاگ گئی اور دروازہ بند کر لیا۔
حامد کیا ہوا تھا؟ ازلان نے اپنے غصہ ضبط کرتے ہوۓ کہا۔ حوریہ اسکا سخت لہجہ سن کر اگلے ہی پل بنا کسی کو دیکھے کیچن میں گئی۔ اور بریانی کے نیچے سے آگ بند کر کے وہ واپس پلٹی اور بھاگ کر کمرے میں چلی گئی وہ سیدھی واشروم میں بند ہوئی ۔
وہ انکی بہن ہے وہ میرا یقین نہیں کریں گے۔ کہی وہ مجھے طلاق۔۔ نہیں ایک بار پھر سے طلا۔۔۔ کہی وہ مجھے ماریں گے تو نہیں وہ خوف ذدہ ہوتی وہی واشروم میں بیٹھ گئی۔ وہ ہلکا ہلکا کانپ رہی تھی۔
حامد نے سارا واقع ازلان کو بتایا۔جسے سن کر وہ کھڑا ہوا۔
میں آتا ہوں وہ بول کر اپنے کمرے کی طرف بڑھنے لگا جب حامد بولا۔
اس میں بھابھی کی کوئی غلطی نہیں۔ حامد بولا
اسے اسکی سوچ سے بھی زیادہ جانتا ہوں۔ جانتا ہوں وہ بے قصور ہے۔ ازلان کہتا ہوا کمرے میں داخل ہوا اور دروازہ بند کیا۔
ازلان نے اگے بڑھ کر واشروم کھول کر دیکھا حوریہ وہاں نہیں تھی اسنے کمرے میں دیکھا پر وہ وہاں بھی نہیں تھی۔ وہ پریشان ہو گیا۔ تبھی ایک سسکی کی آواز ائی۔ وہ ایک دم پلٹا وہی پاس پڑے سنگل صوفے کے پیچھے وہ چھپ کر بیٹھی ہوئی تھی ازلان آرام سے چلتا اسکے قریب بیٹھا۔
حوریہ ! وہ آہستہ آواز میں بولا اور اپنا ہاتھ اگے کیا۔
پلیز پلیز اسد مجھے مت مارنا میں نے کچھ نہیں کیا میں نے کسی کو کچھ نہیں بولا۔ وہ روتے ہوۓ بول رہی تھی۔ ازلان اسکے منہ سے اسد اور مارنے والے الفاظ سن کر پریشان ہو گیا۔ حوریہ فل پسینے سے بھیگی ہوئی کانپ رہی تھی اسکی انکھیں سرخ ہو رہی تھیں جیسے بہت تیز بخار ہو۔
حور! ریلکس میں ہوں ازلان میں تمہیں کچھ نہیں بولوں گا باہر آئیں۔ وہ آگے بڑھا اور اپنے ہاتھ اسکے چہرے کے گرد رکھتے ہوۓ بولا۔
دور دور۔۔۔ رہو۔۔۔۔ مجھے مت مارو۔۔ وہ اسکے ہاتھ پیچھے دکھیلتے ہوۓ بولی۔۔
حور میں ہوں ازلان میں آپکو کچھ نہیں کہوں گا ریلکس میری جان ازلان اسکی حالت دیکھ کر پریشان ہو گیا اسے کچھ سمجھ نہیں ا رہا تھا۔ وہ اسے اسد سمجھ رہی تھی۔ وہ اسکی کسی بات کو نا سنتے اسکے چہرے پر تھپڑ مارتے اور ساتھ میں دھکے دینے لگی
حور ہوش میں آؤ وہ اسے کندھوں سے پکڑ کر جھنجھوڑتے ہوۓ بولا ۔ وہ جیسے ہوش میں آئی۔ اپنے ارد گرد دیکھا وہ کیسے یہاں پہنچی وہ کچھ نہیں جانتی تھی۔ وہ خالی نظروں سے کتنی ہی دیر ازلان کو دیکھتی رہی۔ازلان کو اپنا دل کٹتا ہوا محسوس ہوا وہ اگے بڑھا اور اسے اپنے حصار میں لیا۔ حوریہ ایک کندھا ملتے ہی بہت بری طرح سے رو دی۔ ازلان نے اسے ایک بار بھی نہیں روکا۔ جب اسکا دل بھر گیا تب وہ دور ہوئی۔
اب اچھا محسوس کر رہی ہیں؟ ازلان اپنی جیب سے رومال نکال کر اسکے چہرے پر آۓ پسینے اور آنسوں کو صاف کرتے ہوۓ بولا۔ حوریہ نے ہاں میں گردن ہلائی۔
ایم سوری مجھے پتہ نہیں کیا ہو گیا تھا وہ جب کچھ سھنمبلی تواپنی حرکت پر شرمندہ ہوتے ہوۓ بولی۔
کوئی بات نہیں اپ کے ہاتھ سے ایک کی بجاۓ سو تھپر بھی کھانے کو تیار ہوں وہ اسکے چہرے پر آۓ بالوں کو اسکے کان کے پیچھے کرتے ہوۓ بولا۔ حوریہ ایک دم کھڑی ہوئی اور بیڈ پر آکر بیٹھی۔
ازلان میں نے کرن اور تائی جی کو کچھ نہیں۔۔۔ وہ ابھی بول ہی رہی تھی جو ازلان اسکی بات کاٹتے ہوۓ بولا۔
حور مجھے خود سے زیادہ آپ پر یقین ہے اپ کبھی ایسی حرکت نہیں کر سکتیں۔ امی نے جو آپکے ساتھ کیا میں اسکے لیے معافی مانگتا ہوں۔ میں کل امی سے بات کروں گا۔
حوریہ حیران نظروں سے اپنے سامنے کھڑے اس شخص کو دیکھنے لگی جو اسکی صفائی سنے بغیر ہی اس کو ہر الزام سے بری کر رہا تھا۔ وہ تو سوچ رہی تھی آج وہ اسے مارے گا یا طلاق دے گا پر یہاں تو وہ اس سے معافی مانگ رہا تھا۔
ازلان اتنے لمبے سفر کے بعد تھک چکا تھا وہ فریش ہو کر کمرے میں آیا تو بیڈ سے ٹیک لگاٹ حوریہ بیٹھے بیٹھے سو رہی تھی۔
حور! صحیح سے لیٹ جائیں۔ وہ اسکے کندھے پر تھپتھپا کر بولا اسکی ابھی آنکھ لگی تھی وہ بیڈپر لیٹ گئی۔ ازلان صوفے پر بیٹھ کر اپنا لیپ ٹاپ آن کر کے اس پر کام کرنے لگا۔ وہ کام تو کر رہا تھا پر اسکے دماغ کی ساری سوچیں حوریہ کے کچھ دیر پہلے والے رویے پر ہی اٹکی ہوئیں تھیں ۔ گھر میں کسی نے کھانا نہیں کھایا تھا سبھی اپنے اپنے کمرے میں بند تھے۔
اس رویے کے پیچھے کچھ اور وجہ ہے مجھے افرحہ سے مل کر حوریہ کی ان مہینوں کی ہر بات پوچھنی ہو گی۔ ازلان کچھ سوچ کر موبائل آن کرتا افرحہ کو کل کافی شاپ میں ملنے کا کہ کر موبائل اور لیپ ٹاپ بند کرتا بیڈ پر آ کر اسکے برابر لیٹ گیا۔
جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔
