51.6K
29

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 9

وہ رات کے گیارہ بجے کے قریب اسلام آباد پہنچا۔ بس سٹین پر اسکو اسکا دوست ارسم وہاں لینے پہنچ گیا۔ ارسم اسے اپنے گھر لے آیا۔ سب سے مل کر وہ دونوں چھت پر سونے کے لیے چلے گے۔
یار تیرا بہت بہت شکریہ تو نے مجھے اپنے گھر رہنے کی آجاذت دے دی۔
جگر یہ بھی تیرا اپنا گھر ہے۔ تو جب چاہے یہاں رہ سکتا ہے۔ ارسم مسکرا کر بولا۔
یہ تو تیرا برپن ہے۔ لیکن مین ہر مہینے یہاں رہنے کا کرایہ دوں گا۔ ازلان اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بولا۔
اب اتنا پرایا کرے گا۔ تجھ سے کرایہ لوں گا۔ ارسم افسردگی سے بولا۔
اب یہ بات تو تجھے ماننی پرے گی ورنہ مین ابھی کے ابھی چلا جاؤں گا۔ ازلان سنجیدگی سے بولا۔ وہ جانتا تھا ارسم کبھی اس سے کرایہ نہیں لے گا پر وہ کسی ہر بوجھ بن کر نہین رہنا چاہتا تھا۔ اسے لیے اسنے کرایے کی بات کی۔ اسکی بات پر ارسم کا چہرا اتر گیا۔
اس پر ہم بعد میں بات کریں گے۔ پہلے یہ بتا تو اتنی اچانک کیسے آ گیا۔ ابھی کل ہی تو بات ہوئی تھی تیرا تو دور دور تک آنے کا کوئی پلین نہیں تھا۔ ارسم اپنے ذہین میں آے والے سوالات کو زبان پر لاتے ہوۓ بولا۔
بس یار بار بار انٹرویو دینے انا کافی مشکل تھا۔ تو سوچا یہی آ جاؤ۔ وہ اپنے ماتھے پر بکھرے بالوں کو ہاتھ سے پیچھے کرتے ہوۓ بولا۔
نہیں یہ بات نہیں ہو سکتی میں نے کئی دفع تجھے یہاں آکر رہنے کا بولا تھا ہر تو ہر بار نفی کر دیتا تھا اب یوں اچانک آ جانا نہیں۔۔۔۔ اصل وجہ بتا۔ وہ اسکا رخ اپنی طرف کرتے ہوۓ بولا
نہیں یار ابا یوں چلے گے نا تو جانتا ہے ساری ذمہ داری مجھ پر آ گئی۔ بس اب جی جان لگا جر اچھی سی نوکری ڈھونڈ لوں۔ کچھ مہینوں بعد کرن کو یونی مین داجل کروانا ہے۔ وہ ہلکا سا مسکرا کر بولا۔
بس یہی وجہ ہے؟ ارسم کھوجتے ہوۓ بولا۔ ازلان نے چہرا موڑ لیا۔
تو اور کیا وجہ ہو سکتی ہے؟ وہ دیوار پر اپنے دونوں ہاتھ رکھ کر سامنے دیکھتے ہوۓ بولا۔
اس دن تو نے مجھے بتایا تھا۔ کہ تو حوریہ کے گھر رشتہ لے کر جا رہا ہے۔ اسکے بعد تو نے کچھ بتایا نہین اس رشتے کا کیا بنا؟ ارسم کہی نا کہی جانتا تھا کہ وہ کچھ چھپا رہا ہے۔اسکے سوال پر کچھ پل کے لیے ازلان ٹھہر گیا۔
آج اسکی شادی تھی۔ وہ بس اتنا ہی بولا۔اسکےلہجے میں کیا کچھ نہیں تھا۔
کیا ؟ شادی؟ مطلب؟ کیسے ؟ کیوں؟ ارسم چیخا۔
اہستہ بول سارا محلہ اکھٹا کرنا ہے ؟ وہ تھوڑا سا ہنس کر بولا۔ ارسم کو اسکی ہنسی بہت کھولی لگی۔
ازلان تو ٹھیک ہے؟ ارسم اسکے ہنستے چہرے کو دیکھ کر بولا۔
ٹھیکک! پتہ نہیں۔ شائد۔۔ وہ کھوۓ ہوۓ لہجے میں بولا۔ ارسم کو اسکا لہجہ ٹوٹا بکھرا محسوس ہوا۔
اسی لیے یہاں آگیا؟
پتہ نہیں! اتنا سا جواب آیا۔
مجھے شروع سے بتا کیا ہوا تھا؟ ارسم یہ سب سن کر کافی شاک مین تھا۔ وہ ازلان کی محبت کا واحد گواہ تھا۔ وہ اسکا درد کا لیول سائد محسوس کر سکتا تھا۔
چاچو کو امیر داماد چاہے تھا۔ میں نے تیرے کہنے کے بعد فوراً جا کر رشتے کی بات کی۔ ابا نے بول بھی تھا۔ کہ چاچو نہیں مانے گے۔ پر میں نادان انہیں منا کر لے ہی گیا۔ وہاں چاچو نے کافی بری باتیں کہیں۔ اور رشتے سے انکار کر دیا۔ ابا نے اسی بات کو دل پر لے لیا۔ اور ہمیں تنہا چھوڑ کر چلے گے۔ ازلان نم لہنے مین سب بتا رہا تھا۔
ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا۔
ارسم اگر میں ابا کو منا کر نا لے جاتا اور وہ اتنا کچھ نا برداشت کرتے۔ اور اس دنیا سے نا جاتے۔ شائد آج بھی یہی ہوتے۔ ہے نا ایسا ہو سکتا تھا؟ مجحے خود غرض نہین ہونا چاہیے تھا۔ مین اس لمحے خود غرض وہ گیا تھا۔ وہ بول رہا تھا۔ اور اسکی انکھوں کے رستے آنسوں گالوں پر بہ رہے تھے۔ جو شائد اسکے اندر کے درد کا ایک پرسٹ تھے۔
نا میرے یار ایسی بات نا بول۔ تو نے کچھ غلط نہیں کیا۔ انکل کی زندگی اتنی ہی تھی۔ بس کوئی جواز بننا تھا۔ تو نے رشتہ بھیج کر بالکل بھی غلط نہیں کیا۔ وہ ہی نا سمجھ ہین جنہوں نے تیرے جیسے ہیرے کو انکار کیا۔ ارسم اسکے کندھے پر تھپکی دیتے ہوۓ بولا۔
ہیرا۔۔۔ ہنہ۔ ان سب باتوں کو چھوڑ کل میرا انٹرویو ہے۔ پتہ نہیں نوکری ملے گئی یا نہیں۔ مجھے یہاں ٹویشن اکیڈی کا بتا۔ وہاں پڑھانا شروع کردوں۔ اسلام باد جیسے شہر میں رہنا ہے تو خالی جیب کے ساتھ تو رہا نہین جاۓ گا۔ وہ اس ٹاپک کو ٹالتے ہوے بولا۔ ارسم نے بھی مزید بات کرنا مناسب نا سمجھی۔ اور اسے کچھ اکیڈمیز کا بتانے لگا۔


اج اسکا ولیمہ تھا۔ وہ بہت خوش تھی۔ آہینے کے سامنے کھڑی وہ اپنے آپ کو نہا رہی تھی۔ جب اسد کمرے میں داخل ہوا۔ ولیمے کی مصروفیت کی وجہ سے کافی تھک گیا تھا۔
ویسے تم ہو تو بلا کی خوبصورت کوئی پاگل ہی ایسا ہو گا جو تمہاری خوبصورتی پر فدا نہیں ہو گا۔ ازلان بھی اسی لیے تم پر مر مٹا ہو گا۔ حوریہ کو اپنے پیچھے اسد کا عکس نظر آیا۔ اسکے الفاظ سن کر اسکے چوریاں اتارتے ہاتھ رک گے۔
اسد اسے دیکھتے دو قدم ڈرینسگ کی طرف برھا اور ٹیشو پکڑکر اسکی دائیں طرف کھڑا ہو گیا۔ حوریہ اسکی بات وک اگنور کر کے اپنے کام میں مگن تھی۔
خوبصورتی بھی تب تک دل کو بھاتی ہے جب تک اس پر کوئی داغ نا ہو۔ وہ اس ٹیشو سے اسکا گال صاف کرتے ہوۓ بولا۔ ٹیشو پر بیس لگ رہی تھی۔ بیوٹیشن نے مہارت سے جو اسکا داغ چھپا دیا تھا۔ اب اسے اسد بے دردی سے صاف کر کے ظاہر کر دیا تھا۔ وہ نا سمجھی سی اسد کو دیکھ رہی تھی۔
وہ دیکھو شیشے میں اب تمہین اپنی اصلیت معلوم ہو رہی ہو گئی۔ اسد اسکے چہرے کو ہاتھ میں دبوچ کر اسکا رخ سامنے آئینے کی طرف کرتے ہوۓ بولا۔ حوریہ نے سامنے دیکھا تو اسکا داغ اب نظر آ رہا تھا۔ اسکی انکھیں نم ہو گئیں۔
اس داغ مین میرا کیا قصور ہے یہ تو پچپن کا ہے۔ وہ نظریں نیچیں کرتے ہوۓ بولی۔
میرے سامنے زبان درازی کرو گیی۔ وہ غصے سے اسکا بازو مرور کر کمر لگاتے ہوۓ بولا۔
آہ چھوڑیں! وہ چیخی۔ ہاتھ کو مڑورنےسے اسکی چوڑیاں توٹیں تھیں۔
امین کی بیٹی ہو تو زبان تو تیز ہو گئی۔ وہ اسے بالوں سے پکڑ کر اپنی طرف رخ مورتے ہوۓ بولا۔
اہ مجھے درد ہو رہی ہے چھوڑیں۔ وہ روتے ہوۓ بولی۔
آئیدہ میرے سامنے یوں اونچی آواز مین بات مت کرنا۔ تمہارا عاشق نہیں ہوں جو سب سن لوں گا۔ اوقات میں رہو گئی تو اچھا ہو گا۔ وہ اسے ایک جھٹکے مین چھوڑتے ہوۓ بولا۔ حوریہ اپنا توازن برقرار نا رکھ پائی اور زمین پر گِڑی۔اسد اسکے ہاتھ پر پاؤں رکھ کر آگے بڑھ کر کمرے سے باہر نکل گیا۔
آہ امی۔۔۔ وہ اپنے ہاتھ کو صوف کرتے ہوۓ بولی۔ وہ یون اسد کا رویہ ایک دم بدل جانے پر شاک مین تھی۔ ابھی کل ہی تو وہ اس سے محبت کا اظہار کر رہا تھا۔ اور اب یہ سب کیا ہو گیا۔ وہ معاوف دماغ کے ساتھ کافی دیر وہی بیٹھی رہی۔ کچھ دیر بعد خود کو سھنمبال کر وہ چینج کرنے واشروم میں گھسی۔
*
افرحہ آج تین دن کی چھٹیوں کے بعد آج یونی آئی تھی۔ ہاتھ مین فائل پکڑے اور کندحے پر بیگ ڈالے وہ کلاس میں داخل ہوئی۔ پوری کلاس میں نظر دورائی۔ پر وہ کہی نا دیکھا۔ وہ بے دلی سے اپنی دوست کے ساتھ آ کر بیٹھ گئی۔ حامد نے اس سے بات کرنا بند کر دیا تھا۔ کافی بار کوشش کرنے پر بھی افرحہ اس سے بات نا کر پائی۔ لیکن اب اسکے صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا تھا۔ وہ اب اس سے دو ٹوک بات کرنا چاہتی تھی۔ پر شائد وہ آج بھی نہیں آیا تھا۔وہ مایوسی سے سر جھکاۓ بیٹھی تھی۔ تبھی سر کے ساتھ وہ کمرے میں داخل ہوا۔
وہ چلتا ہوا دوسری رو میں آیا اور اپنے دوستوں کے ساتھ بیٹھا۔ افرحہ نے مڑ کر اسے دیکھا۔ پر وہ اپنے دوست سے بات کرنے میں مصروف ہو گیا۔
سر نے لیکچر مکمل کیا۔ اور کلاس سے باہر چلے گے۔ افرحہ اپنی سیٹ سے اُٹھ کر اسکے قریب ا کر کھڑی ہوئی۔
مجھے تم سے بات کرنی ہے۔ وہ اسکی دائیں طرف کھڑی ہو کر بولی۔وہ اسے اگنور کرتا اپنے دوست کے ساتھ مصروف رہا
تم نے سنا نہیں مجھے تم سے بات کرنی ہے۔ اسکے رجسٹر کو پکڑ کر ڈیکس پر پٹھتے ہوۓ وہ دوبارہ بولی۔ پر اس دفعہ لہجہ تیز تھا۔ اسکی اس حرکت پر حامد نے سخت نظروں سے اسکی طرف دیکھا۔ پھر اپنے اس پاس دیکھا کافی سٹوڈینٹس انکی طرف متوجہ ہو گے تھے۔
چلو ! وہ سرد لہجے میں بول کر اُٹھا۔ افرحہ شکر کرتی اسکے پیچھے چل دی۔
کاریڈور کے آخری حصے پر جا کر وہ رُکا۔ اور اسکی طرف مُڑا۔
بولو کیا بات کرنی ہے؟ وہ سرد لہجے میں بولا۔ اسکے اس انداز پر افرحہ نے اپنا حلق تر کیا۔ اور بولنے کی کوشش کی۔
تم اسطرح کیوں بی ہیو کر رہے ہو؟ میرے فون کالز بھی نہیں اُٹھاتے کیوں؟ وہ اپنے سوال زبان پر لے ہی آئی۔
بری بھولی بن رہی ہو جیسے تمہین تو کچھ معلوم ہی نہیں ہنہ واہ ہ وہ طنزیہ انداز میں ہنستے ہوۓ بولا۔اسکے انداز پر افرحہ کے اندر کچھ ٹوٹا
ہان مجھے نہیں پتہ تم بتاؤ وجہ کیا ہے؟ وہ خود کو سحنمبالتے ہوۓ بولی۔
دیکھو افرحہ مجھ سے دور رہو۔ آج کے بعد مجھے فون مت کرنا کیون میں اُٹھانے والا نہیں۔ اس طرح بلا وجہ مجھ سے بات کرنے کی کوشش مت کرو۔ تمہارے باپ لو پتہ چل گیا۔ تو گھر بیٹھا دے گا۔ وہ تیز لہجے میں کہ کر آگے بڑھ گیا۔
ازلان بھائی کو اگر حوریہ سے محبت تھی۔ اور ابا نے رشتہ نہیں دیا تو اس سب میں میری کیا غلطی ہے؟ وہ جا رہا تھا جب پیچھے سے افرحہ کی نم آواز سنائی دی۔ وہ ایک دم پلٹا۔
تمہاری یہ غلطی ہے تم اس باپ کی بیٹی ہو جسے صرف پیسوں کے علاوہ کچھ نظر نہیں آتا۔ تم تو اسکی بیٹی ہو تو ہو سکتا ہے تم بھی اسکی طرح کی کم ظرف نکلو۔ مجھے اپنی زندگی برباد نہیں کرنی۔ وہ بھر پور طنزیہ انداز میں بولا۔ بنا یہ احساس کیے کہ اسکے الفاظ سامنے کھڑی لڑکی پر کتنا برا اثر ڈال رہے ہیں۔
اتنے بھی برے الفاظ مت بولو کہ کل کو پچھتانے سے بھی کوئی فائدہ نا ہو۔ اگر ایک دفعہ میں ٹوٹ گئی نا حامد تم چاہ کر بھی نہیں جوڑ پاؤ گے۔ کسی اور کی غلطی کی سزا مجھے مت دو وہ روتے ہوۓ بولی۔ اسکے یوں رو دینے پر حامد نے چہرا پھیر لیا۔
معاف کرنا تمہارا اتنا وقت برباد کر دیا۔ مجھے لگا تم مجھ سے محبت کرتے ہو۔ پر شائد میں غلط تھی۔ سوری وہ اپنا چہرا صاف کرتی وہاں سے نکل گئی۔اسکے جانے کے بعد کافی دیر وہ وہی کھڑا رہا تھا۔ غصے میں اسنے وہی زمین پر پڑے کین کو پاؤں سے ٹھوکڑ مار کر ہوا میں اُڑایا۔


پھر تم نے کیا سوچا۔ اگے کیا کرنا ہے۔ مریم بیگم اسد کے سٹدی روم میں داخل ہو کر بولیں۔
بس ایک مہینا اسکے بعد میں چھوڑ دوں گا۔ جب ایک مہنے بعد ہی وہ طلاق لے کر جاۓ گئی۔ تب امین کی ساری اکڑ ٹھکانے لگ جاۓ گئی۔ ساری امیری نکل جاۓ گئی۔ وہ سرد لہجے میں بولا۔
ایک مہینا کچھ زیادہ نہین اگر ایک دو ہفتے بعد چھوڑ دو تو زیادہ اثر ہو گا۔ سارے زمانے مین بے عزتی ہو گئی بیٹی دو ہفتے بعد ہی طلاق لے کر آ گئی۔ مزہ ا جاۓ گا۔ مریم بیگم ہنستے ہوۓ بولیں۔
دیکھوں گا۔ جب مناسب لگے گا تب چھوڑ دوں گا۔ چھوڑنے کا الزام بھی پتہ ہی کیا لگاؤں گا۔ وہ فائل بند کرتے ہوۓ بولا۔
کیا؟ مریم بیگم فوراً بولیں۔
ابھی کیوں بتاؤ سارا مزہ خراب ہو جاۓ گا۔ اسی دن معلوم ہو گا۔ وہ ہنستا ہوا بولا۔ مریم بیگم بھی ہنس دیں۔ وہ دونوں کسی کی زندگی برباد کرنے کی پلینگ پر یوں ہنس رہے تھے جیسے انہیں اعزازی سند سے نوازا جاۓ گا۔


تم یہاں منہ اُٹھا کر کیوں کھڑی ہو؟ زین اپنی بائیک پر کالج سے واپس جا رہا تھا۔ جب رستے میں درخت کے نیچے ماہم کو دیکھا تو فوراً وہان پہنچا۔
بس ابھی تک نہیں آئی۔ اسی لیے کھڑی ہوں۔ اور کیا مجھے شوق نہیں اتنی گرمی میں یہاں کھڑے ہونے کا۔ وہ غصے سے بولی۔
تو میڈیم رکشہ لے کر گھر چلی جاتی۔ یوں پاگلوں کی طرح سنسان جگہ پر کھڑی ہو۔ زین کو اسکی بے وقوفی پر غصہ آیا۔ وہ جگہ تقریباً اکیلی کھڑی تھی۔
اتنی بے وقوف نہیں ہوں پیسے ہوتے تو کب کی چلی جاتی۔ اتنی گرمی کیں سر نا رہی ہوتی۔ وہ بولتے بولتے رو دینے کو تھی۔ وہ خود وہان اکیلا ہونے کی وجہ سے کافی ڈر رہی تھی۔
بیٹھو مین چھوڑ دیتا ہوں؟ وہ بائیک کو سٹارٹ کرتے ہوۓ بولا۔
۔میں انجان لوگوں کے ساتھ نہین جاتی۔ ماہم چہرا موڑ کر بولی۔
ہاہ میں انجان ہوں؟ وہ حیرانگی سے بولا۔ ماہم نے چہرا موڑے رکھا۔
چلو ٹھیک ہے جب اپنا کوئی دیکھ جاۓ تو اسکے ساتب چلی جانا وہ غصے سے بولتا بائیک کو آگے بڑھانے لگا۔
ارے ارے غصہ کیوں کر گے میں تو مزاق کر رہی تھی۔ تم سے زیادہ اپنا کون ہو سکتا ہے۔ میری بہن کے دیور رُکو۔ وہ جھٹ سے بائیک کے پچھلے اسٹینڈ کو پکڑتے ہوۓ بولی۔ زین مسکرا دیا۔
بیٹھو جلدی سے گرمی بہت زیادہ ہے۔ وہ اپنے ماتھے سے پسینہ صاف کرتے ہوۓ بولا۔ ماہم شکر ادا کرتی جھٹ سے اسکے پیچھے بیٹھی۔ بائیک آگے بڑھی۔
بہن کے دیور بہت گرمی ہے اوپر سے مین کنگال ہوں۔ آئس کرم تو کھیلا دو۔ وہ بے چارگی سے اونچی اواز میں بولی۔
بھابھی کی بہنا مین خود اس وقت کنگال ہوں گھر جا کر اپنے ابا حضور سے منگوا کر آئس کریم کھا لینا۔ وہ بھی اسی کے انداز مین بولا
کنجوس کہی کے۔ ابا حضود تو آئس کریم کی جگہ چھتر ہی ماریں گے۔ وہ منہ بسور کر بولی۔ زین کا قہقہ بلند ہوا۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔