51.6K
29

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 22

وہ تیار ہو کر کمرے سے باہر نکلی۔ سامنے حال میں محلے کی کافی خواتین موجود تھیں۔ وہ سر پر ڈوپٹہ ٹھیک کر کے ان سب کے قریب آئی۔
” السلام علیکم! وہ ہلکا سا مسکرا کر بولی۔ سبھی خواتین اسکی طرف متوجہ ہوئیں۔
وعلیکم السلام! ان میں سے ایک عورت نے سلام کا جواب دیا۔
“حوریہ جاو سب کے لیے کچھ کھانے کے لیے لے آؤ” ماجدہ بیگم سنجیدہ انداز میں بولیں۔ وہ سر ہلاتی کیچن میں چلی گئی۔
“او تو یہ تمہاری بہو ہے۔ ویسے ماجدہ سنا ہے اسکی پہلے ہی طلاق ہو چکی ہے” ایک عورت ماجدہ بیگم کی طرف متوجہ ہو کر بولی۔
“ہاں ہو چکی ہے اسکی خالہ کے بیٹے سے شادی ہوئی تھی بنی نہیں تو طلاق ہو گئی” ماجدہ بیگم بولیں۔ حوریہ کیچن سے سب سن رہی تھی۔
“تو ماجدہ تمہیں کیا پڑی تھی ایک طلاق یافتہ لڑکی سے شادی کروانے کی اور اوپر سے چہرے پر اتنا برا داغ بھی تو ہے ہیرے جیسے بیٹے پر ایسی نحوست کیوں پھیلا دی” وہی بیٹھی ایک عورت بولی۔
“آہ” حوریہ جو کہ چاۓ کپوں ڈال رہی تھی جب تھوڑی سی چاۓ چھلک کر اسکے ہاتھ پر گڑی۔ اسکے منہ سے ہلکی سی چیخ نکلی۔ اسنے جلدی سے آس پاس دیکھا کسی نے نہیں دیکھا تھا۔ وہ اپنے ہاتھ کو دھو کر جلدی سے چاۓ کپوں میں ڈال کر ٹرے میں رکھتی باہر لے آئی۔
“بس جب بچے اپنی من مانی کرنے لگ جائیں تو والدین کو کون پوچھتا ہے “اسے اتا دیکھ ماجدہ بیگم بولیں۔
وہ چہرے پر زبردستی کی مسکراہٹ سجاۓ سب کو چاۓ دینے لگی۔ اور ایک طرف پری کرسی پر بیٹھ گئی۔
” کتنا پرھی ہوئی ہو”؟ ایک عورت نے پوچھا۔ حوریہ نے اپنا جھکا ہوا سر اُٹھایا۔
“جی انٹر کیا ہے” وہ ہلکی آواز میں بولی۔
“ارے ہمارے ازلان تو اونچی کمپنی میں کام کرتا ہے اور تم نے صرف انٹر کیا ہے آگے پڑھا کیوں نہیں”؟ وہی عورت چاے کی چسکی لیتے ہوۓ بولی۔ حوریہ کا سر مزید جھک گیا۔
” دفع کرو ان باتوں کو تم لوگ چاۓ پیو”وہی ایک سمجھدار عورت بیٹھی ہوئی تھی جو کب سے ان سب کا رویہ دیکھ رہی تھی۔ اب وہ حوریہ کا جھکا ہوا سر دیکھ کر بولی۔ سبھی آپس میں باتیں کرنے لگ گئیں۔ اور ایک گھنٹے بعد چلی گئیں
حوریہ کب سے اپنے کمرے میں ٹہل رہی تھی۔ اب وہ ماجدہ بیگم کے کمرے میں جا کر ان سے گھر جانے کی آجاذت مانگنے میں گھبڑا رہی تھی۔ وہ کب سے ازلان کا انتظار کر رہی تھی تا کہ وہ آۓ اور جا کر بات کرے۔
“اتنی دیر سے کہاں تھے” ؟ ازلان کمرے میں داخل ہو رہا تھا جب حوریہ کمر پر دونوں ہاتھ رکھ کر غصے سے بولی۔
“یہی تھا کیوں کیا ہوا”؟ وہ دو تین شاپر بیڈ پر رکھتے ہوۓ بولا۔
“آپ خود جا کر تائی جی سے بات کر لیں مجھے ڈر ہے وہ مجھے اجازت نہیں دیں گئی” وہ اپنی بات پر آئی۔
“ایک دفع پیار سے بات کر کے دیکھیں میری امی اتنی ظالم نہیں جو آپکو جانے سے روکیں” وہ الماری سے اپنے کپڑے نکالتے ہوۓ بولا۔
“ولیمہ والے دن روکا تو تھا” وہ منہ پھلا کر بولی۔
“جائیں ایک دفع بات کریں اگر نا مانیں تو میں بات کروں گا” وہ ہلکا سا مسکرا کر کہتا واشروم میں چلا گیا۔
یہی میری پرانی تائی جی ہوتیں تو کتنا اچھا تھا اب تو انہیں پتہ نہیں کیا ہو گیا ہے وہ خود سے باتیں کرتی ہمت کرتے کمرے سے نکلی اور ساتھ والے کمرے میں داخل ہوئی جہاں ماجدہ بیگم بیٹھیں تسبی پڑھ رہیں تھیں۔ اور ساتھ ہی کرن اپنا یونی کا کام کر رہی تھی۔۔ انہوں نے اسکا آنا نوٹ کر لیا تھا۔
“تائی جی مجھے آپ سے بات کرنی تھی وہ میں دو تین دن کے لیے امی کی طرف رہنے جانا چاہتی ہوں ازلان اسلام آباد جا رہے ہیں تو وہ پہلے مجھے چھوڑ آئیں گے”۔ وہ جلدی جلدی سب بول گئی۔ ماجدہ بیگم کے تسبی پر چلتی انگلیں رک گئیں۔
” صرف دو دنوں میں ہی اپنی امی کی یاد آ گئی۔ تمہاری یہی عادتیں ہو گئیں اسی لیے پہلا گھر نہیں بسا” ماجدہ بیگم طنزیہ انداز میں بولیں حوریہ نے زور سے اپنی مٹھیاں بند کیں۔ کرن ہنس دی۔
“اگر آپ جانے کی اجاذت نہیں دیں گئی تو میں نہیں جاؤں گی” وہ نرم لہجے میں بولی۔
“تم کتنے دن تک میری بات مان سکتی ہو آج نا گئی تو کل میرے بیٹے کو میرے ہی خلاف کر دو گئی کہ تائی تو مجھے گھر ہی جانے نہیں دے رہی” وہ ایک بار پھر بولیں۔
میرے نا جانے سے کیا آپکی ناراضغی ختم ہو جاۓ گئی؟ وہ سوالیہ انداز میں بولی۔
ہاں! ماجدہ بیگم نے بس اتنا کہا۔
تو ٹھیک ہے جب تک آپ مجھے جانے کے لیے نہیں کہیں گئی تب تک نہیں جاؤں گی وہ بول کر بنا انکا جواب سنے کمرے سے نکلنے لگی۔
روکو! چلی جاؤ پر دو دن بعد آ جانا ماجدہ بیگم کی اواز آئی۔ وہ ایک دم پلٹی۔
شکریہ تائی جی وہ کھل کر مسکراتے ہوۓ بولی۔ اور پلٹ کر اپنے کمرے میں آئی۔ ازلان شیشے کے سامنے کھڑا اپبے اوپر پرفیوم لگا رہا تھا۔
“بولا تھا نا میری امی اتنی بھی سخت دل کی نہیں” وہ برش پکڑکر بالوں میں پھیرتے ہوۓ بولا۔
“آپکو کیسے پتہ چلا وہ مان گئی آپ ہماری باتیں سن رہے تھے” وہ اسکے پاس آ کر بھورے اچکاتے ہوۓ بولی۔
آپکے چہرے پر چھاۓ رنگوں سے پتہ چلا۔ وہ اسکی ناک دباتے ہوۓ بولا۔ اور بیڈ پر بیٹھ کر پاوں میں جوتے پہنے لگا۔
یہ میں کچھ کپڑے لایا ہوں ان میں سے کچھ جوڑے ساتھ لے جائیں وہ بیڈ پر پڑے شاپر کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ بولا۔ حوریہ نے شاپر کھولے اور کپڑے دیکھنے لگی۔ان میں سے دو سوٹ اسنے ایک طرف نکالے خود تو وہ پہلے ہی تیار تھی اپنی چادر نکال کر خود پر اُڑھی۔
چلیں! ازلان اسے دیکھتے ہوۓ بولا اسنے ہاں میں سر ہلایا۔
“او شٹ ایک منٹ سوری میں بھول گیا تھا۔ وہ الماری کی طرف بڑھا اور ایک ڈبی نکال کر حوریہ کی طرف پلٹا جو اسے سوالیہ نظروں سے دیکھ رہی تھی۔
یہ آپکی منہ دیکھائی تھی میں دینا بھول گیا اگر کسی نے پوچھا تو دیکھا دیجیے گا۔ وہ ڈبی اسکی طرف بڑھاتے ہوۓ بولا۔ حوریہ نے حیرت کے عالم میں ڈبی پکڑی وہ تو بھول ہی چکی تھی۔ اور کھولی اندر ایک خوبصورت سی سونے کی رنگ تھی۔ حوریہ نے نکال کر اپنی انگلی میں پہنی۔
اتنی مہنگی نہیں ہے ابھی فل حال اتنے ہی پیسے تھے۔ جلد ہی مہنگی رنگ خرید کر دوں گا۔ وہ اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوۓ بولا۔
یہ پیاری ہے۔ حوریہ اپنی انگلی میں پہنی انگھوٹی کو دیکھتے ہوۓ کھوۓ ہوۓ لہجے میں بولی۔ پہلی بار کسی نے اسے گفٹ دیا تھا۔
چلیں لیٹ ہو رہی ہے اپکو چھوڑکر مجھے بس واپس آ کر اسلام آباد کے لیے نکلانا ہے وہ سائیڈ ٹیبل سے وائلٹ پکڑ کر اپنی جیب میں ڈالٹے ہوۓ بولا۔
دونوں کمرے سے باہر نکلے ماجدہ بیگم کے کمرے کی طرف دیکھا تو وہ بند تھا۔ ازلان چلتا ہوا دروازے کے قریب آیا اور دو تین دفع کھٹکھٹایا۔ جب دروازہ نا کھلا تو وہ بولا۔
امی میں حوریہ کو چھوڑنے جا رہا ہوں تھوڑی دیر میں واپس آتا ہوں وہ بول کر ایک سیکنڈ کے لیے روکا جب دروازے نا کھلا تو وہ واپس حوریہ کی طرف پلٹا اور اسے چلنے کے لیے کہا۔ اسنے قدم بڑھاۓ۔
“اُو ہو نیوری میریڈ کپل کہاں جا رہے ہو ہنی مون پر یا ڈیٹ مارنے” حامد گھر میں داخل ہوا تو اسکی نظر دونوں پر پڑی تو شرارتی انداز میں بولا۔
چاچو کے گھر جا رہے ہیں چلے گا ازلان اسکے منہ پھاڑ کر کہنے پر فوراً بولا۔ حوریہ اگے برھ گئی۔
“ہاۓ اب چاچو کے گھر جانے کا کیا فائدہ ہمارا کون سا وہاں کوئی انتظار کر رہا ہو گا” وہ آہیں بڑھتے ہوۓ بولا۔
“کیا پتہ کوئی بری بے چینی سے انتظار کر رہا ہو” ازلان نے اسکی ٹانگ کھینچی حامد ایک دم الرٹ ہوا۔
بھابھی باہر انتظار کر رہی ہیں جاؤ وہ اپنی پھسلتی زبان کو کوس کر بولا۔
بچے اسلام آباد سے واپس آ کر اس معاملے پر تفصیل سے بات ہو گئی۔ وہ اسکا کندھا تھپتھپا کر بولا اور آگے بڑھا۔
لو جی میں تو گیا پہلے بھابھی کی بہن مان نہیں رہی اب یہ بھابھی کی بہن کے جیجو نے میری موت کی سنوائی جلد ہی سنا دینی ہے وہ اپنا سر پکڑ کر بولا۔ وہ جانتا تھا اگر ازلان کو اسکی حرکت کا معلوم ہو گیا تو وہ بہت برا پیش آۓ گا۔


امی آپ کو اسے جانے کی اجاذت نہیں دینی چاہیے تھی کرن اپنی کتابیں بند کرتی ماجدہ بیگم کی طرف متوجہ ہوئی۔
“میں نے پہلے ہی اسکے ماں باپ کو گھر آنے سے روکا ہے اور ولیمے پر بھی جانے نہیں دیا اس سے زیادہ میں نہیں کر سکتی ماجدہ بیگم لمبا سانس کھینچ کر بولیں۔
” اسکا مطلب اپنے معاف کر دیا”
نہیں معاف نہیں کیا بس تھوڑی سی ڈھیل دی ہے ایک دم سے رسی کو کھینچوں گی۔ وہ کچھ سوچ کر بولیں۔
“امی انکو معاف مت کیجیے گا انکی وجہ سے ابا چلے گے جب بھی حوریہ کی شکل دیکھتی ہوں اپنے ابا کا مردہ وجود سامنے آتا ہے کرن نم لہجے میں بولی۔
میں سمجھ سکتی ہوں میرے ساتھ بھی یہی ہوتا ہے ماجدہ بیگم اسے گلے لگاتے ہوۓ بولیں۔
” امی بھائی کیسے یہ سب بھول سکتے ہیں انکو شادی نہیں کرنی چاہیے تھی انکو تو بس اپنی پڑی ہے ” کرن روتے ہوۓ بولا۔
“یہی تو مسلہ ہے وہ اگر سب نا بھولتا تو یہ سب نا ہوتا” وہ کرن کو چپ کرواتے ہوۓ بولیں۔
**
ازلان نے موٹرسائیکل حوریہ کے گھر کے باہر کھڑی کی۔
آپ اندر نہیں آئیں گے؟ حوریہ اسے واپس موٹر سائیکل سٹاٹ کرتے دیکھ کر بولی۔
“میں ضرور آتا پر بس نکل جاۓ گی۔ پہلے ہی دیر ہو چکی ہے۔ میں چاچو کو فون پر بتا دوں گا۔ وہ اپنا ہیلمٹ واپس پہنتے ہوۓ بولا۔ حوریہ ہاں میں سر ہلا کر پلٹی اور بیل بجائی۔ جب پیچھے سے ازلان کی آوازآئی۔
حور! اسکے یوں پکارنے پر ایک دم اسکا دل دھڑکا وہ خود کو سھنمبالتی اسکی طرف پلٹی۔
اپنا خیال رکھیے گا۔میں پہنچ کر فون کروں گا۔ وہ ہلکا سا مسکرا کر بولا۔ اسکی مسکراہٹ پر اسکا دل ایک بار پھر دھڑکا۔ تبھی دروازہ کھل گیا۔ وہ دروازے کو دکھیل کر اندر داخل ہوئی اور دروازہ بند کیا۔ ازلان نے موٹرسائیکل آگے بڑھائی۔
وہ اپنے آنے کا پہلے ہی بتا چکی تھی۔ اندر داخل ہوئی اور سب سے ملی۔
تم اکیلی آئی ہو ازلان کہاں ہے؟ علینہ نے دروازے کی طرف دیکھ کر کہا۔
وہ آپی ازلان کو کچھ دیر میں اسلام آباد نکلنا تھا اسی لیے وہ دروازے پر چھوڑکر چلے گے۔ وہ نرم لہجے میں بول رہی تھی جو اسکی شخصیت کا حصہ تھا۔
“شکر یے مجھے لگا یہ شادی مہینے کی بجاۓ دو دن ہی چلی علینہ طنزیہ لہجے میں بول کر واپس پلٹی۔ کچھ پل کے لیے خاموشی چھا گئی۔
” حوریہ ازلان بھائی نے منہ دیکھائی میں کیا دیا”؟ افرحہ ماحول کو ٹھنڈا کرنے کے لیے بولی اور اسے لیے صوفے پر بیٹھی۔
وہ کنگال کیا دے سکتا ہے؟ ایک بار پھر علینہ بولی۔
یہ رنگ دی حوریہ نے ہاتھ افرحہ کی طرف کرتے ہوۓ کہا۔ ابھی اسے احساس ہو رہا تھا ازلان نے کیسے اسکی عزت بجائی اگر آج وہ آنگھوٹی پہن کر نا آتی تو سب کو جواب دینے پڑتے ۔
واؤ ویسے بھائی کی چوائس تو بہت اچھی ہے ماہم صوفے کے پیچھےکھڑی ہو کر بولی۔
جس نے حوریہ جیسی لڑکی کو پسند کیا ہو اسکی چوائس تو آلا ہو گئی ہی افرحہ حوریہ کو چھیرتے ہوۓ بولی۔
ویسے آصف نے مجھے ڈائمنڈ کی رنگ دی تھی علینہ اپنی انگھوٹھی فیلش کرتے ہوۓ بولی۔
سستی یا مہنگی چیز سے کچھ نہیں ہوتا دینے والے کا پیار میٹر کرتا ہے۔ کیا پتہ ازلان بھائی نے کتنے دل سے یہ رنگ خریدی ہو افرحہ حوریہ کا اترتا چہرا دیکھتے ہوۓ بولی۔
چلو کھانا لگا دیا ہے چل کر کھا لو وہ سب اور باتیں کرتیں جب بشرہ بیگم کی آواز آئی۔ سب ڈائینگ ٹیبل پر چلے گے ۔
جاری ہے