Tamashaye Zaat By Fatima Tariq Readelle50126 Last updated: 30 July 2025
Rate this Novel
Tamshaye Zaat By Fatima Tariq
وریہ کب سے بیڈ پر بیٹھی بے مقصد سامنے دیکھے جا رہی تھی۔ وہ ابھی تک ٹرومے میں تھی۔ اچانک جب زندگی کا رخ ہی بدل جاۓ تو ہوش بھی کس کو رہتا ہے۔ اور یہی حال حوریہ کا تھا۔ اگر ازلان سے چکر چلا رہی تھی تو بتا کیوں نہیں تیرا اسی کے ساتھ بیاہ کر دیتے۔ کم بخت زمانے میں ذلیل کر کے رکھ دیا۔ بشرہ بیگم اسکے چہرے پر تھپروں کا بوچھار کرتے ہوۓ بولیں۔ امی کیا کر رہی ہین چھوڑیں اسے افرحہ نے انہیں رُکنا چاہا۔ پیچھے ہٹ جا اج میں اس کا قتل کر دوں گئی۔ سر عزت خاک مین ملا دی۔ اب تک تو پورے خاندان میں اسکی بے غیرتی کے چرچے ہو گے ہوں گے۔ مریم نے اب تک ہر بندے کو بتا دیا ہو گا۔ بشرہ بیگم جوتی اُٹھا کر اسے مار رہیں تھیں۔ امی مت ماریں اپی کو ماہم روتے ہوۓ بولی۔ کیوں نا ماروں اس جیسے اولاد تو ہونے سے پہلے ہی مر جانی چاہیے تھی۔ حوریہ تم نے ایسا کیوں کیا۔ وہ اسے مارتے ہوۓ بولیں۔ حوریہ مار کھا رہی تھی۔ اور خاموش سی آنسوں بہا رہی تھی۔ آہ آہ۔۔۔۔۔۔۔ آہ۔۔۔۔ بس بہت ہو گیا۔۔۔۔۔ میں نے کچھ نہیں کِیا۔ کچھ نہیں کیا۔ حوریہ زور سے چیخ کر بول رہی تھی۔ اسکے یوں ردے عمل پر سب دو قدم پیچھے ہٹے۔ میں نے کچھ نہیں کیا۔ میرا کسی کا ساتھ کوئی چکر نہیں۔۔۔ وہ زور زور سے چیخ کر یہی بول رہی تھی۔ رونے کی وجہ سے اسکی انکھیں لال ہو چکی تھیں۔ بال بکھر چکے تھے۔ اپ تو میری ماں ہین نا۔۔۔ تو اپنی ہی اولاد کی تربعیت پر بھروسہ نہیں۔ میں ازلان کو صرف ایک کزن کی حیثیت کے طور پر جانتی ہوں۔ صرف ایک کزن۔۔۔۔ وہ زور سے چیخ رہی تھی۔ چیخنے سے اسکی گردن کی رگیں پھول رہین تھیں۔ امین صاحب اتنی اواز سن کر کمرے سے نکل کر ان کے کمرے میں پہنچے۔ امی اپ نے بولا تھا نا شوہر مارے تو مارے وہ پیٹے تو پیٹے پر تم اپنے قدم اپنے گھر سے کبھی باہر نا نکالنا۔ میں نے وہی کیا۔۔ میں نے اسکی ساری ماریں سہی امی وہ جب چاہے مجھے مارتا تھا۔ اور جب چاہے ٹھیک ہو جاتا۔ مار کھانے کے باوجود مجھے اف تک کرنے کا حق نہیں تھا۔ مار کھانے کے بعد بھی اسکی جی حضوری کرنی پڑی تھی۔ وہ ایسے مارتا تھا جیسے کوئی بے جان چیز کو پیٹا ہے۔ مجھے صرف ایک گڑیا کی طرح سمجھتا تھا جب چاہے مڑو دیا اور بعد میں ٹھیک کر دیا۔ میں نے سب برداشت کیا۔ کیوں؟ آپ سب کے لیے آپکی کی عزت کے لیے۔ اور آپ بول رہی ہیں میرا چکر چل رہا تھا۔ جب اپنی بائیس سالہ زندگی میں کبھی ایسا کرنے کا سوچا تک نہیں تو اب کیوں کرتی۔۔ کیوں کرتی۔۔۔۔ وہ بیڈ سے اتر کر روتے ہوۓ بول رہی تھی۔ امین صاحب ایک دم لڑکھڑاۓ۔ آج جیسے ان کے سامنے انکا ماضعی کھڑا تھا۔ ایک ایک پل انکی انکھوں کے سامنے سے گزرا۔ کیسے وہ بشرہ بیگم کے ساتھ جیسا سلوک کرےے تھے۔ آج باکل ویسا ہی انکی بیٹی کے ساتھ ہوا تھا۔ بشرہ بیگم حیرانگی سے حوریہ کے منہ سے نکلنے والے الفاظ سن رہی تھی۔ وہ یہ سب تو سوچ بھی نہیں سکتیں تھیں۔ اپی پانی پی لیں ماہم روتے ہوۓ حوریہ کے قریب آئی اپنی بہن کی بکھری حالت دیکھ کر وہ سہم سی گئی تھی۔
