51.6K
29

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 12

وہ دونوں رات ایک بجے گھر پہنچے۔ ارسم اپنی نوکری ملنے کی وجہ سے بہت خوش تھا۔ چونکہ دیر بہت ہو چکی تھی۔ دنوں چھت پر بیچھیں چارپائیوں پر سونے کے لیے لیٹ گے۔
اب ساری مشکلیں دور ہو جائیں گئی۔ امی کا اچھے ہسپتال سے ٹریٹ مینٹ کرواؤں گا۔ ارسم کی آواز مین واضع خوشی محسوس ہو رہی تھی۔
انشااللہ سب اچھا ہی ہو گا۔ ازلان ایک ہاتھ سینے پر ٹکاۓ اور دوسرے کو تکیے کی صورت میں اپنے سر کے نیچے دیے لیٹا ہوا تھا۔
میں پورے دل سے کام کروں گا۔ اتنی محنت سے نوکری ملی ہے۔ اب دیکھنا ترقی ہی ہو گئی۔ ارسم اپنے آنے والے کے لیے خود کو تیار کر رہا تھا۔ وہ فل جوش میں لگ رہا تھا۔ ازلان اوپر آسمان کی طرف کھوۓ ہوۓ انداز میں دیکھ رہا تھا۔
کیا ہوا کس سوچ میں گم ہے؟ جب کافی دیر تک اسکی طرف سے کوئی جواب نا آیا تو ارسم نے کروٹ بدل کر اسکی طرف رخ کر کے پوچھا۔ جو نا جانے آسمان میں کیا تلاش کر رہا تھا۔ یا آسمان کو دیکھتے وہ کسی اور ہی دنیا میں تھا۔ ارسم کی آواز پر وہ چونکا۔
پتہ نہیں ارسم دل ایک دم سے بے چین سا ہو رہا ہے۔ وہ چارپائی پر اُٹھ کر بیٹھتے ہوۓ بولا۔
کیوں کیا ہوا طبعیت تو ٹھیک ہے؟ ارسم فوراً پریشان ہو گیا۔ وہ اپنی چارپائی سے اُٹھ کر ازلان کے پاس آکر بیٹھتے فکرمندی سے گویا ہوا۔
ہاں طبعیت ٹھیک ہے۔ پتہ نہیں بے چینی سی ہو رہی ہے۔ ایسا لگ رہا ہے۔ کہی کچھ غلط ہو رہا ہے۔ شائد کوئی میرا اپنا ٹھیک نہیں۔ پتہ نہیں۔۔۔ وہ اپنا سر ہاتھوں میں گِرا کر بولا۔
تو زیادہ سوچ رہا ہے۔ اگر اتنی پریشانی یے تو گھر فون کر کے پوچھ لے۔ ارسم نے اسکا اترا ہو چہرا دیکھا تو فوراً بولا۔
پر رات کا ایک بج رہا ہے۔ ازلان نے نفی مین سر ہلایا۔
ارے کچھ نہیں ہوتا۔ حامد کو فون کر کے سب کی خیریت معلوم کر لے۔ ارسم نے اسکا فون پکڑکر حامد کا نمبر ڈائل کیا۔ دوسری بیل پر حامد کی نیند سے ڈوبی آواز گھونجی۔ ارسم نے ازلان کو فون پکڑایا۔۔
حامد کیسے ہو؟ ازلان نے فون کان سے لگاتے ہی پوچھا۔
بھائی خیریت رات کے اس وقت فون کیا اسکی نیند ایک پل میں بھاگی۔ یوں اچانک رات کے اس وقت کبھی ازلان نے فون نہیں کیا تھا۔ وہ پریشان ہو گیا۔
ہاں میں ٹھیک ہوں۔ تم سناؤں گھر پر سب ٹھیک ہے نا؟ ازلان نے سب گھر والوں کا پوچھا۔
ہاں سب ٹھیک ہیں۔ کیوں؟
کچھ نہیں بس ایسے ہی پوچھا۔ تم سو جاؤ بلاوجہ نیند خراب کر دی۔ میں صبح فون کروں گا۔ ازلان نے کہ کر فون بند کر دیا۔
چل گھر تو سب ٹھیک ہے اب تو بھی ریلکس ہو جا۔ ارسم اسکے کندھا تھپتپا کر بولا اور اسکی چارپائی سے کھڑا ہو گیا۔
ارسم کہی وہ تو کسی مصیبت میں نہیں۔ کافی دنوں سے برے عجیب عجیب سے خیال آ رہے ہیں۔ وہ اپنا ماتھا مسلتے ہوۓ بولا۔
میرا بھائی زیادہ مت سوچ سب ٹھیک ہی وہ گا۔ ورنہ حامد بتا دیتا۔ سو جا۔ ارسم بول کر اپنی چارپائی پر لیٹ گیا۔ ازلان بھی سر جھٹک کر لیٹ گیا۔
یا اللہ دل برا عجیب ہو رہا ہے۔ ایسا لگ رہا ہے کہی اس پر کوئی مصبعت تو نہیں آ گئی۔ نہیں نہیں اللہ اسکو اپنی حفاظت میں رکھنا۔ ہر مصعبت سے دور رکھنا۔ وہ دل ہی دل میں رب سے مخاطب ہوا۔ آنکھیں بند کر کے سونے کی کوشش کرنے لگا۔


اسد تو کب کا جا چکا تھا۔ حوریہ دو گھنٹے کی بے ہوشی کے بعد اب جاگی تھی۔ امین صاحب تب کے اپنے کمرے میں دروازہ بند کر کے بیٹھے تھے۔ ماہم اور افرحہ حوریہ کے پاس بیٹھیں تھیں۔ بشرہ بیگم اپنا سر باندھے وہی ان کے کمرے میں صوفے پر بیٹھیں تھیں۔
حوریہ کب سے بیڈ پر بیٹھی بے مقصد سامنے دیکھے جا رہی تھی۔ وہ ابھی تک ٹرومے میں تھی۔ اچانک جب زندگی کا رخ ہی بدل جاۓ تو ہوش بھی کس کو رہتا ہے۔ اور یہی حال حوریہ کا تھا۔
اگر ازلان سے چکر چلا رہی تھی تو بتا کیوں نہیں تیرا اسی کے ساتھ بیاہ کر دیتے۔ کم بخت زمانے میں ذلیل کر کے رکھ دیا۔ بشرہ بیگم اسکے چہرے پر تھپروں کا بوچھار کرتے ہوۓ بولیں۔
امی کیا کر رہی ہین چھوڑیں اسے افرحہ نے انہیں رُکنا چاہا۔
پیچھے ہٹ جا اج میں اس کا قتل کر دوں گئی۔ سر عزت خاک مین ملا دی۔ اب تک تو پورے خاندان میں اسکی بے غیرتی کے چرچے ہو گے ہوں گے۔ مریم نے اب تک ہر بندے کو بتا دیا ہو گا۔ بشرہ بیگم جوتی اُٹھا کر اسے مار رہیں تھیں۔
امی مت ماریں اپی کو ماہم روتے ہوۓ بولی۔
کیوں نا ماروں اس جیسے اولاد تو ہونے سے پہلے ہی مر جانی چاہیے تھی۔ حوریہ تم نے ایسا کیوں کیا۔ وہ اسے مارتے ہوۓ بولیں۔ حوریہ مار کھا رہی تھی۔ اور خاموش سی آنسوں بہا رہی تھی۔
آہ آہ۔۔۔۔۔۔۔ آہ۔۔۔۔ بس بہت ہو گیا۔۔۔۔۔ میں نے کچھ نہیں کِیا۔ کچھ نہیں کیا۔ حوریہ زور سے چیخ کر بول رہی تھی۔ اسکے یوں ردے عمل پر سب دو قدم پیچھے ہٹے۔
میں نے کچھ نہیں کیا۔ میرا کسی کا ساتھ کوئی چکر نہیں۔۔۔ وہ زور زور سے چیخ کر یہی بول رہی تھی۔ رونے کی وجہ سے اسکی انکھیں لال ہو چکی تھیں۔ بال بکھر چکے تھے۔
اپ تو میری ماں ہین نا۔۔۔ تو اپنی ہی اولاد کی تربعیت پر بھروسہ نہیں۔ میں ازلان کو صرف ایک کزن کی حیثیت کے طور پر جانتی ہوں۔ صرف ایک کزن۔۔۔۔ وہ زور سے چیخ رہی تھی۔ چیخنے سے اسکی گردن کی رگیں پھول رہین تھیں۔ امین صاحب اتنی اواز سن کر کمرے سے نکل کر ان کے کمرے میں پہنچے۔
امی اپ نے بولا تھا نا شوہر مارے تو مارے وہ پیٹے تو پیٹے پر تم اپنے قدم اپنے گھر سے کبھی باہر نا نکالنا۔ میں نے وہی کیا۔۔ میں نے اسکی ساری ماریں سہی امی وہ جب چاہے مجھے مارتا تھا۔ اور جب چاہے ٹھیک ہو جاتا۔ مار کھانے کے باوجود مجھے اف تک کرنے کا حق نہیں تھا۔ مار کھانے کے بعد بھی اسکی جی حضوری کرنی پڑی تھی۔ وہ ایسے مارتا تھا جیسے کوئی بے جان چیز کو پیٹا ہے۔ مجھے صرف ایک گڑیا کی طرح سمجھتا تھا جب چاہے مڑو دیا اور بعد میں ٹھیک کر دیا۔ میں نے سب برداشت کیا۔ کیوں؟ آپ سب کے لیے آپکی کی عزت کے لیے۔ اور آپ بول رہی ہیں میرا چکر چل رہا تھا۔ جب اپنی بائیس سالہ زندگی میں کبھی ایسا کرنے کا سوچا تک نہیں تو اب کیوں کرتی۔۔ کیوں کرتی۔۔۔۔ وہ بیڈ سے اتر کر روتے ہوۓ بول رہی تھی۔
امین صاحب ایک دم لڑکھڑاۓ۔ آج جیسے ان کے سامنے انکا ماضعی کھڑا تھا۔ ایک ایک پل انکی انکھوں کے سامنے سے گزرا۔ کیسے وہ بشرہ بیگم کے ساتھ جیسا سلوک کرےے تھے۔ آج باکل ویسا ہی انکی بیٹی کے ساتھ ہوا تھا۔ بشرہ بیگم حیرانگی سے حوریہ کے منہ سے نکلنے والے الفاظ سن رہی تھی۔ وہ یہ سب تو سوچ بھی نہیں سکتیں تھیں۔
اپی پانی پی لیں ماہم روتے ہوۓ حوریہ کے قریب آئی اپنی بہن کی بکھری حالت دیکھ کر وہ سہم سی گئی تھی۔
یقین نہیں آ رہا نا یہ دیکھیں۔ حوریہ بشرہ بیگم کو دیکھتے ہوۓ روتے ہوۓ اپنی آستینیں اوپر کرتے ہوۓ بولیں۔ جہاں کلائیوں پر نیلے رنگ کے نشان پڑے ہوۓ تھے۔ بشرہ بیگم نے اپنی آنکھیں میچیں۔ انکی بیٹی کتنی عزیت میں تھی۔ اسکا انہیں علم تک نا تھا۔ اور وہ اسے مار رہیں تھیں۔
میں نے اپنے گھر کو بچانے کی ہر ممکن کوشش کی۔ اسکی ساری مارین سہی۔ سارے طنز برداشت کیے۔ ہر وہ کام کیا جو اسے پسند تھا۔ اپنی زبان پر تالا لگا کر رکھا۔ امی۔۔۔ پر اسے میرے ہی کردار کو مشکوک کر دیا۔ میرے کردار کی دھجیاں اُڑا کر رکھ دیں۔ مجھے اپنے ہی گھر والوں کے سامنے ملزم بنا کر کھڑا کر دیا۔ میں بے قصور ہونے کے باوجود صفائیاں دے رہی ہو۔ میرا کسی کے ساتھ کوئی چکر نہیں۔ میں بے قصور ہوں۔ وہ روتے روتے نیچے زمین پر بیٹھتی چلی گئی۔ وہ اتنا ٹوٹ کے روئی کہ اسکی ہچکی بندھ گئی۔ بشرہ بیگم بھی اسکے پاس زمین پر بیٹھ گئیں۔
مجھے معاف کر دے میری بچی۔۔انہوں نے اسے سینے سے لگا کر کہا۔ حوریہ اور زیادہ رو دی۔
میں بے قصور ہوں۔۔ میں بےبے قصور ہوں۔۔ روتے ہوۓ مسلسل یہی بول رہی تھی۔
حوریہ بس کرو۔ یہ پانی پی لو۔ افرحہ اپنے چہرے پر پھلیے انسوں صاف کرتے ہوۓ نیچے بیٹھ کر پانی کا گلاس حوریہ کے منہ سے لگا کر بولی۔۔
حوریہ۔۔۔حوریہ۔۔۔ آپی۔ بشرہ بیگم نے جب اسکی طرف دیکھا تو اسکا جسم ڈھیلا پرچکا تھا وہ بے ہوش ہو چکی تھی۔
آپی اُٹھیں! ماہم اسکا چہرا تھپتھپا کر بولی۔ پر وہ سنتی کہاں وہ تو بے ہوش ہو چکی تھی۔
ابو اپی کو دیکھی۔ کیا ہو گیا۔ چلین ہسپتال لے کر چلیں جلدی۔۔ماہم ساکت کھڑے امین صاحب کے قریب ا کر بولی۔ تو وہ اپنی سوچوں سے باہرنکلے۔ اور حوریہ کی طرف بڑھے۔ اسے اُٹھا کر گاڑی مین ڈالا بشرہ بیگم کے ساتھ ہسپتال کے لیے نکلے۔
ایک گھنٹے کےا نتظار کے بعد ڈاکٹر انکی طرف آۓ۔
دیکھیں آپکی بیٹی نے شائد کافی ٹینشن لے کی ہے انہی کسی چیز کا صدمہ لگا ہے۔ اسی لیے بے ہوش ہو گئیں۔ فکر کرنے کی کوئی بات نہیں۔ بس انکی خوراک کا خیال رکھیں کافی کمزور لگ رہی ہیں۔ اور ہاں انکی باڈی پر کافی نشان بھی دیکھے ہیں۔ کچھ پرانے ہیں اور کچھ دو تین دن پہلے کے۔ بشرہ چونکہ مین تمہیں جانتی ہوں۔ تو یہ معاملہ مزید آگے نہین بڑھاؤں گئی۔ پر اگر ایسی ویسی بات ہے تو چپ رہنے کی بجاۓ بولو۔ دو گھنٹے تک ڈریپ ختم ہو جاۓ گئی۔ پھر اپ لے کر جا سکتے ہیں۔ لیڈی ڈاکٹر بول کر اگے بڑھ گئی۔
بشرہ بیگم چلتی ہوئی حوریہ کے پاس آ کر بیٹھیں۔ ایک ہاتھ پر ڈرپ لگی ہوئی تھی۔ وہ آنکھیں بند کیے لیٹی تھی۔ ابھی انہوں نے دھیان سے دیکھا تو وہ سچ مین بہت کمزور لگ رہی تھی۔۔ آنکھوں کے نیچے ہلکے بھی گہرے نظر آ رہے تھے۔ چہرا تو پیلا پرا ہوا تھا۔ امین صاحب بھی وہی آ کر بیٹھ گے۔
میری بچی نے اتنی سی عمر میں نا جانے کون کون سے غم برداشت کرنے ہیں۔ بشرہ بیگم روتے ہوۓ بولیں۔ امین صاحب کے پاس تو کہنے کے لیے الفاظ بھی نا تھے۔ وہ شروع سے انہیں کوستے ہی رہے تھے۔ پر تھی تو ان کی ہی اولاد۔ درد تو انہیں بھی حوریہ کی حالت کو دیکھ کر ہو رہا تھا۔ کتنا غافل رہے تھے۔

ایک ہفتے بعد:
اس رات کو گزرے ایک ہفتہ ہو گیا تھا۔ حوریہ کی طلاق کی خبر مریم بیگم نے لا لگا کر پورے خاندان میں پھیلا دی تھی۔ ازلان کے ساتھ جھوٹے قصے پورے خاندان میں مشہور ہو رہے تھے۔ بہت رشتے داروں کی فون کالز آ رہیں تھیں۔ حوریہ ہر وقت اپنے کمرے میں بند رہتی وہ بہت گم سُم اور چپ سی ہو گئی تھی۔
ایک ہفتہ ہو گیا اتنے دنوں سے نہیں آئی۔ حامد پریشان سا کلاس مین بیٹھا افرحہ کی اتنی لمبی چھٹیوں کی وجہ سے پریشان تھا اسکے گھر میں بھی حوریہ کی طلاق کا علم تھا۔ حامد کو اصل وجہ جاننی تھی۔ جو وہ سن رہا تحا وہ تو مکمل جھوٹ تھا۔ وہ انہی سوچوں مین گم تھا۔ جب افرحہ کلاس روم مین داخل ہوئی۔ وہ چل کر اپنی جگہ پر آ کر بیٹھ گئی۔
تم اتنے دن کیوں نہیں آئی۔ فاریہ اسکا اترا ہوا چہرا دیکھ کر بولی۔ دوسری رو میں بیٹھے حامد کی ساری توجہ اسکی طرف تھی۔
کچھ نہیں بس فیملی ایشو تھا۔ وہ اپنی انکھوں انگلیوں سے دبا کر بولی۔ جیسے کافی تھکی ہوئی ہو۔ حامد نے اسکی طرف دیکھا۔
سر کا لیکچر ختم ہوا اگلا پریڈ فارغ تھا۔ کلاس کے کافی سٹوڈینٹ باہر نکل گے۔
افرحہ چلو کینٹین سے کچھ کھا لیتے ہیں۔ ہادی اور فاریہ بولے۔
ہاں چلو ناشتہ بھی نہیں کیا۔ وہ کھڑی ہو کر بولی۔ تینوں کلاس سے باہر نکلے۔ حامد بھی انکے پیچھے نکلا۔
افرحہ! وہ ابھی تھوڑی ہی دور آئی تھی جب پیچھے سے حامد کی آواز کی آواز آئی۔ وہ رک گئی۔
مجھے تم سے بات کرنی ہے۔ وہ اسکے پیچھے کھڑا ہو کر بولا۔
حامد مجھ میں اتنی ہمت نہیں مجھے بات نہیں کرنی۔ وہ پلٹ کر تھکے ہوے لہجے میں بولی۔ حامد نے اسکی طرف دیکھا۔ کچھ پل کے لیے دونوں کی نظریں ملیں افرحہ نے نظریں پھیر لیں۔ اور پلٹی۔
مجھے بات کرنی ہے۔ کچھ پوچھنا ہے پھر چلی جانا۔ وہ اسکی کلائی پکڑتے ہوۓ بولا۔
حامد تجھے سمجھ نہین آ رہی جب وہ بول رہی ہے اسے بات نہیں کرنی تو زبردستی کیوں کر رہا ہے۔ ہادی غصے سے بولا۔ حامد نے اسکے یوں غصہ کرنے پر افرحہ کو دیکھا۔
اوکے فائن۔ فاریہ تم دونوں جاؤ۔ میں پانچ منٹ میں آتی ہوں۔ افرحہ حامد کے ہاتھ سے اپنی کلائی چھرواتے ہوۓ بولی۔
تم کہ رہی ہو اسی لیے جا رہےہیں۔ ہادی حامد کو گھور کے دیکھتے ہوۓ بولا۔ اور فاریہ کے ساتھ آگے بڑھ گیا۔
اس ہیرو کی تو میں آنکھیں نکال دوں گا۔ حامد ہادی کو جاتے ہوۓ دیکھ کر بولا۔
کیا پوچھنا ہے؟ افرحہ بولی۔
حوریہ باجی کی طلاق کی وجہ کیا تھی۔ وہ سیدھے انداز میں بولا۔
کیوں تم انجان ہو؟ افرحہ اپنے بازو باندھ کر اسکی طرف دیکھ کر بولی۔
مجھے سچ جاننا ہے وہ دو ٹوک بولا۔
سچ یہی ہے تمہارے بھائی کی محبت نے میری بہن کا گھر اجاڑ دیا۔ تمہارے بھائی کی محبت میری بہن کے گلے کا طوق بن گئی۔ اسکی محبت نے میری بہن کو سارے زمانے کے سامنے رسوا ذلیل کر دیا۔ وہ ٹھرے ہوۓ انداز میں بولی۔
تم جانتی ہو یہ سب سچ نہیں ہے۔ میرے بھائی کا اس سب میں کوئی ہاتھ نہیں۔ حامد اپنے بھایی کے حق میں بولا۔
اچھا انکا ہاتھ نہیں تو اسکے نمبر سے میسج کیسے آۓ۔ بولو۔ میری بہن تو بے قصور ہے۔ پر معاشرہ اسے بے قصور نہیں مانے گا۔ حامد عورت کی عزت پر ایک کالا نقطہ بھی لگ جاۓ نا وہ اسکی عزت کو داغ دار کر دیتا ہے۔ باتیں کرنے والوں کو سچ نہین جاننا ہوتا وہ بس دیکھ رہی اور سن رہی باتوں پر یقین کرتے ہیں۔ افرحہ نم لہنے میں بولی۔
افرحہ مجھے باقی سب کا نہیں پتہ پر میرا بھائی مرتا مر جاۓ گا پر اپنی محبت کی عزت پر آنچ نہیں آنے دے گا۔ حامد یقین بھرے لہجے میں بولا۔
واہ عزت پر انچ نہیں آنے دے گا۔ اتنے بھی یقین سے مت بولو۔ کیا پتہ اپنے باپ کا بدلہ لینے کے لیے یہ سب گندے ہتھ کنڈے اپناۓ ہوں۔ آخر کو میرا ابو کی وجہ سے تایا کو ہاٹ اٹیک آیا تھا۔ تم نے بھی تو بدلے کے لیے مجھ سے سارے رشتے ختم کر دیے وہ بھرپور انداز میں طنز کا تیر چلاتے ہوۓ بولی۔
بس افرحہ اب مزید نہیں۔ اپنے بھائی کی گواہی مین دیتا ہوں دنیا میں کچھ بھی ہو سکتا ہے پر میرا بھائی اتنا گڑ نہیں سکتا۔ تم بھی اپنے دماغ سے یہ سارا گندہ نکال دو۔ آئیندہ میرے بھائی کے خلاف کچھ مت کہنا۔ وہ غصے سے انگلی اُٹھا کر وارنگ دیتے ہوۓ بولا۔ اور وہاں سے نکل گیا۔ افرحہ نے اپنی آنکھیں صاف کیں۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔