Tamashaye Zaat By Fatima Tariq Readelle50126 Episode 24
Rate this Novel
Episode 24
ازلان نماز پڑھنے گھر سے نکلا تو واپسی آٹھ بجے تک ہوئی۔ گھر آیا تو حال میں ماجدہ بیگم بیٹھی ہوئیں تھیں۔ کیچن سے کھٹ پٹ کی آوازیں آ رہیں تھیں جسکا مطلب حوریہ کیچن میں ناشتہ بنا رہی تھی۔ وہ چلتا ہوا ٹیوی ریک کے قریب آیا وہاں سے تیل کی جھوٹی سی بوتل پکڑ کر چارپائی پر ماجدہ بیگم کے پاس نیچے زمین پر بیٹھا۔
“امی! مالش کر دیں بہت دن ہو گے اپکے ہاتھوں سے مالش نہیں کروائی” وہ تیل کی شیشی ماجدہ بیگم کے ہاتھوں میں پکڑاتے ہوۓ بولا۔
“اپنی بیوی کو بولو وہ کر دے گی” ماجدہ بیگم نے تیل کی بوتل چارپائی پر رکھتے ہوۓ سرد لہجے میں کہا۔
“فل حال تو مجھے میری ماں کے ہاتھوں سے مالش کروانی ہے پلیز کر دیں” وہ چہرے پر معصومیت طاری کرتے ہوۓ بولا۔
“کر تو رہی ہو ہر اسکا مطلب یہ نہیں میں ناراض نہیں ہوں” ماجدہ بیگم بوتل سے تھوڑا سا تیل اپنی ہتھیلی پر ڈالتے ہوۓ بولیں۔ ازلان کے لب بے اختیار پھیلے۔ ماجدہ بیگم کے دل سے کیسے سارے خدشے اور پرانی باتیں مٹانیں ہیں وہ خوب جانتا تھا۔اور اسکی شروعات اسنے آج شروع کر دی تھی۔ حوریہ کیچن کے دروازے کی اُڑھ سے یہ خوبصورت منظر دیکھ کر مسکرا دی۔
“چلو ہو گئی مالش اب جا کر نہا لو” ماجدہ بیگم چارپائی سے کھڑی ہو کر بولیں اور حال میں بنے واشروم میں ہاتھ دھونے چلی گئیں۔
“ابھی تو دس منٹ ہی ہوۓ تھے” ازلان جو برے مزے سے آنکھیں بند کیے مالش کروا رہا تھا ماجدہ بیگم کے یوں اتنی جلدی اُٹھ جانے پر منہ پھلا کر بولا۔ اور اپنے کمرے میں نہانے چلا گیا۔
حوریہ اسے ناشتہ کرنے کے لیے بُلانے آئی وہ وائٹ قمیض شلوار پہلے گیلے بالوں میں برش پھیر رہا تھا۔ حوریہ اندر داخل ہوتے ہوۓ رک گئی۔ ازلان نے اسکا رکنا محسوس کیا۔
“اتنا ہینڈسم لگ رہا ہوں” ؟ وہ آئی برو اچکا کر مسکراہٹ دباتے ہوۓ بولا۔
“ہاہ خوش فہمی ” وہ جلدی سے اپنی نظریں ہٹاتی بیڈ کی بکھری چادر بیچھانے لگی۔
“شوہر ہوں حق رکھتی ہیں جتنا چاہتی ہیں دیکھیں، اگر حکم کریں تو اپکے سامنے بیٹھ جاؤ، جی بھر کے دیکھ لیجیے گا” وہ شرارت بھرے انداز میں بولا۔ اور برش کو ڈریسنگ ٹیبل پر رکھ کر رخ اسکی طرف موڑا۔
“ناشتہ تیار ہے اگر آپکی باتیں ختم ہو گئی ہیں تو چلیں باہر ” وہ پلٹ کر اسکی باتوں کو اگنور کرتے ہوۓ بولی۔
“بیگم کر لیں جتنا اگنور کرنا ہے اسکا بدلہ میں سود سمیت واپس لوں گا” وہ اگے بڑھ کر اسکے قریب کھڑا ہو کر بولا۔
“سود! ازلان آپ مجھ سے پیسے لیں گے” وہ صدمے سے آنکھیں پھیلا کر بولی۔
“واٹ! پیسے ہاہاہا ہاہا” وہ اسکی بات سن کر امڈ آنے والا قہقہ روک نا سکا۔
“کیا ہوا ہٹیں سائڈ پر ” وہ اسکے یوں ہنسنے پر چڑ کر بولی۔
“سود سمیت مطلب اپ ابھی مجھے اگنور کر رہی ہیں مجھے موقع ملا تواس سے بھی برے طریقے سے اگنور کروں گا یہ مطلب تھا میری جھلی بیوی” وہ اسکے سر پر ہلکی سی چت لگاتے ہوۓ بولا۔
“او ہیلو مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا چاہیے جتنا مرضعی اگنور کریں” وہ اپنی چحوٹی سی ناک کو پھلا کر بولی ایسا کرنے سے وہ ازلان کا دل دھڑکا گئی۔ وہ ہلکا سا مسکرایا۔
“یہ تو پتہ چل جاۓ گا دیکھتے ہین خیر یہ سب باتیں تو ہوتی رہیں گی مین سوچ رہا تھا آپ کتنے دنوں سے گھر والوں سے نہیں ملیں تو رات کو تیار رہیے گا میں لے جاؤں گا” وہ بات کو ختم کرتے ہوۓ بولا۔
“نہیں اگر میں دوبارہ سے تائی جی سے جانے کی بات کروں گی تو انہیں برا لگے گا کیا پتہ وہی انکار کر دیں، ماہم اور افرحہ کچھ دنوں سے بول رہی تھیں کہ یہاں آکر رہنا ہے میں نے منع کر دیا تو کیا اب میں انہیں آنے دوں آپ سحنمبال لیجیے گا”
“ہاں بلوا لیں یہ تو اور اچھا ہو جاۓ گا ” ازلان کچھ سوچ کر بولا۔
“ٹھیک ہے میں ابھی فون کرتی ہوں” وہ چہک کر بولی۔ ازلان اسکے ہنستے چہرے کو دیکھ کر دل سے مسکرایا اور کمرے سے باہر نکلا۔
اسنے افرحہ سے ملنے کا پلین کینسل کیا۔ چونکہ وہ اب یہاں رہنے آ رہی تھی تو وہ تب ہی اس سے بات کرنے والا تھا۔
شام کو افرحہ اور ماہم انکے گھر آگئیں ماجدہ بیگم کا موڈ آف ہو گیا۔ کرن تو پہلے ہی ماہم کو بلاتی نہیں تھی وہ اپنے کمرے میں بیٹھ کر پڑھنے لگی۔
“مائی سویٹ بھابھی میں آپکے لیے آئس کریم لے کر آ گیا” حامد حال میں داخل ہو کر بولا۔
“شکریہ! دیور جی اب الٹے پاؤں واپس جائیں اور باقی سب کے لیے بھی آئس کریم لے آئیں ” حوریہ نے اسکے ہاتھ سے آئس کریم کا ڈبہ پکرتے ہوۓ کہا۔
“باقی سب کون” ؟ وہ حیرانگی سے بولا۔
“تمہاری بھابھی جی کی بہنیں” ازلان نے پیچھے سے آ کر اسکے کندھوں پر اپنے دونوں ہاتھ رکھ کر بہنوں پر زور دے کر کہا۔ حامد نے دائیں طرف دیکھا تو سامنے دو کرسیوں پر ماہم اور افرحہ بیٹھیں ہوئیں تھیں۔ افرحہ سپاٹ چہرے کے ساتھ اپنا موبائل استعمال کر رہی تھی۔
“ہیلو حامد بھائی میں بھی آپکے ساتھ آئس کریم لینے چلوں” وہ اپنا مطلب نکالتے ہوۓ بولی۔
“نہیں چھوتے بچوں کو ساتھ کے کر جاؤں گا تو میری پرسنیلٹی خراب ہو جاۓ گی ” حامد کے کہنے پر حوریہ نے اپنی مسکراہٹ دبائی۔
“میں چھوٹی بچی ہوں” ؟ وہ صدمے میں چلی گئی۔
“جی مس ماہم آپ ویٹ کریں آپکا بھائی ابھی واپس آیا” وہ ایک ادا سے اپنے گلاسس پہن کر ایک نظر افرحہ کو دیکھتا پلٹا۔ جو ابھی تک موبائل میں مگن تھی۔
“””*
نو بجے کا وقت ہو رہا تھا۔ سب نے رات کا کھانا کھا لیا تھا۔ ماجدہ بیگم اور کرن سو چکیں تھیں باقی سب چھت پر چلے گے۔ اوپر ہلکی ہلکی سی ہوا چل رہی تھی۔ میز کے گرد کرسیاں لگا کر سب بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔
“ازلان بھائی کل گھومانے لے جائیں نا ” ماہم بولی۔
” بالکل لے جاؤں گا بولو کہاں لے کر جانا ہے” ازلان نے فوراً ہاں کر دی۔۔
“ماہی تمہارا گھومنے پھرنے سے کبھی دل بھر سکتا ہے جب دیکھو گھومنے کی باتیں کرتی رہتی ہو” حوریہ نے اسے ڈانٹا۔
” آپی اتنی کنجوسیاں کیوں مار رہی ہیں لگتا ہے اپنے شوہر کے پیسے بچانے کے لیے یہ سب کہ رہی ہیں “ماہم نے حساب چکتا کیا۔
” ماہم تمہیں میں سچ میں کنجوس لگتی ہوں جاؤ میری طرف سے جہاں مرضعی گھوم آؤ، اور چاہیے تو پورے کا پورا بٹوا خالی کروا دینا ” حوریہ منہ بسورتے ہوۓ بولی۔
“بیگم کس کا بٹوا خالی کروا رہی ہیں” ازلان نے اپنا رخ ساتھ بیٹھی حوریہ کی طرف موڑ کر کہا۔
“آپکا ” وہ تھوڑی کے نیچے ہاتھ ٹکا کر بولی۔
“ہاۓ ایسے مت بولو ورنہ ابھی کے ابھی سارا بٹوا آپکے ہاتھ پر رکھ دوں” وہ حوریہ کی طرف جھک کر ہلکی سی سرگوشی میں بولا۔
“اہممم ایمم ہم ابھی یہی ہیں تو تھوری سی شرم کر لو” حامد نے گلا گھنگال کر کہا۔ افرحہ چپ چپ سی بیٹھی ہوئی مسکرا کر انکی باتیں سن رہی تھی۔ پہلے وہ ایسی نہیں تھی وہ زیادہ بولتی نہیں تھی پر اتنا کم بھی نہیں بولتی تھی۔
” تو کل پھر گھومنے چلتے ہیں کیونکہ اسکے بعد تو دو تین مہینے تک چھٹی ملنی نا ممکن ہے تو کل کا پروگرام ڈن کریں”ازلان نے پروگرام ڈن کیا۔ دو تین مہینے کا سن کر حوریہ کا دل بند سا ہونے لگا۔ وہ جب سے آیا تھا حوریہ نا جانے کیوں خوش خوش سی پھیر رہی تھی۔ اور آج صبح سے وہ ازلان کا بدلا رویہ بھی نوٹ کر رہی تھی۔ نا چاہتے ہوے بھی وہ ان لمحوں کو انجواۓ کر رہی تھی۔
“بھائی دو تین مہینے کیوں؟ آپ نے تو بولا تھا اب ہر مہینے آجائیں گے” حامد اسکی بات سن کر پریشان ہو گیا۔
“یار کمپنی نے اچانک رولز سخت کر دیے ہیں اب بار بار چھٹی نہیں مل سکتی اور ویسے بھی سال کے شروع پر انشااللہ مجھے پرموشن مل جاۓ گی تب تم سب کو وہی لے جاؤں گا” وہ مسکرا کر اگلے پلینز بتا رہا تھا۔
“اچھا ٹھیک ہے پر اپکو پتہ تو ہے نا میں آپکو کتنا مس کرتا ہوں پہلے چھے مہینے بعد آۓ اب دوبارہ سے وہی شروع ہونے والا ہے” حامد اپنی کرسی اسکی کرسی کےساتھ جوڑتا اسکے کندھوں کے گرد بازو ہائل کرتے ہوۓ بولا۔ سب کے ہونٹوں پر حامد کی بات سن کر مسکراہٹ آ گئی سبھی جانتے تھے وہ ازلان سے کتنا اٹیچ ہے۔
“اُور ایکٹینگ بند کر” ازلان نے اسکے سر پر تھپڑ مارتے ہوۓ کہا
“آہ بھائی مجھے مت چھیرو ورنہ آپکی ایک ایک پول کھول دوں گا کیسے ساری ساری رات آپ کسی کی یاد میں جاگتے۔۔۔۔۔ “وہ بول رہا تھا جب ازلان کا مُکہ اسکے کندھے پر پڑا وہ زور سے چلایا۔ سب نے حامد کی بات پر ازلان کی طرف دیکھا۔
“جیجو کس کی یاد میں ساری ساری رات جاگتے تھے؟” ماہم شرارتی انداز میں بولی۔
“میں آئس کریم لے کر آتی ہوں” حوریہ کرسی سے اُٹھ کر بولی اسکے یوں اُٹھنے پر ازلان نے حیرت سے دیکھا اسکے چہرے کے ثاثرات سرد تھے۔ افرحہ اُٹھ کر اسکے پیچھے چلی گئی۔
“یہ پاگل بکواس کر رہا ہے آج تو تو گیا بچو” ازلان نے اپنی چپل اُتاری حامد یہ دیکھتے ہی کرسی سے اُٹھ کر چھت ہر بھاگا۔ ازلان جوتا لیے اسکے پیچھے بھاگا۔
“سوری بھائی میرے منہ سے نکل گیا ایم سوری ” وہ اپنے کانوں کو ہاتھ لگاتے مسلسل بول رہا تھا۔ تبھی افرحہ اور حوریہ آئس کریم کا بول اور پلیٹس لے کر چھت پر آئیں۔
“بھابھی بچاؤ” حامد جلدی سے حوریہ کے ہی پیچھے آ کر کھڑا ہو کر بولا۔
“یہ کیا کر رہے ہیں؟” حوریہ سامنے ازلان کو چپل لیے کھڑا دیکھ کر بولی۔
“حور آپ سائیڈ پر ہو جائیں یہ آج مجھ بچ نہیں پاۓ گا” ازلان نے اسے ہٹنے کا کہا۔
“یہ کون سا طریقہ ہے چھوٹے بھائی کو مار رہے ہیں ؟ حوریہ نے آئس کریم ٹیبل پر رکھی اور ازلان کی طرف مُڑی اور اسکے ہاتھ سے چپل پکڑ کر نیچے رکھی وہ کافی غصے میں لگ رہی تھی ۔ حامد ہنس رہا تھا۔
” حور آپ اس کو نہیں جانتیں پہلے اسنے شروع کیا تھا” وہ بچوں کی طرح بتا رہا تھا۔
“میں آپ دنوں کو بہت اچھے سے جانتی ہوں چلیں آرام سے بیٹھیں “وہ ازلان کو بازو سے پکڑ کر کرسی پر بیٹھاتے ہوۓ بولی ازلان کو خوشگوار حیریت ہوئی۔
“تم بھی اب چپ کر کے بیٹھو “وہ حامد کو ڈانٹ کر بولی وہ چپ کر کے کرسی پر بیٹھ گیا۔ افرحہ آج پہلی بار حوریہ کو غصہ کرتے ہوۓ دیکھ رہی تھی۔ اسے آج پہلی بار ازلان حوریہ کے لیے بالکل پرفیکٹ لگا ازلان آہستہ اہستہ حوریہ میں سے وہ لڑکی باہر نکال رہ تھا جو بچپن سے اسکے اندر چھپ کر بیٹھی تھی۔ سب نے کافی دیر تک باتیں کیں بارہ بجے کے قریب سب نیچے آئے۔
” کیا ہوا؟ موڈ کیوں آف ہے؟” آج ان سب نے گھومنے جانا تھا ازلان صبح کا نوٹ کر رہا تھا حوریہ کا موڈ آف تھا۔
“نہیں تو موڈ کیوں آف ہو گا” وہ بالوں کو کیچڑ میں فولڈ کے کے میسی سا جوڑا بناتے ہوۓ بولی۔
“حور! ادھر دیکھیں” ازلان ڈریسنگ کے ساتھ ٹیک لگا کر کھڑا ہوا اور اسکا رخ اپنی طرف کیا۔
“امی نے دوبارہ کچھ بولا ہے؟ “وہ اسکے دونوں ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوۓ بولا۔حوریہ نے نفی میں سر ہلایا۔
“تو! کیا ہوا ؟” وہ اسکے یوں سر جھکانے پر پریشان سا ہو گیا۔
“آپکو مجھ سے شادی نہیں کرنی چاہیے تھی “وہ اپنے ہاتھ کھینچتے کی کوشش کرتے ہوے بولی
” اور یہ نیک خیال آپکو کیسے آیا ؟” ابکی بار ازلان کے لہجے میں ہلکا سا غصہ تھا
“جب آپ کسی اور سے محبت کرتے تھے تو مجھ سے شادی نہیں کرنی چاہیے تھی میں بلاوجہ درمیان میں آگئی” بولتے ہوۓ ایک آنسو اسکی گال پر پھسلہ۔ اسکی بات سن کر ازلان نے سکون کا سانس لیا وہ شائد رات حامد کی کہی گئی بات کو سوچتی رہی تھی۔
“اور اگر میں کہوں کہ وہ لڑکی پچھلے کئی سالوں سے میرے خیالوں پر چھائی ہوئی ہے جسکا خیال ہر پل میرے ساتھ ہوتا ہے جسے ہر پل دعاؤں میں مانگا تھا، جس کے بارے میں رات کئی گھنٹوں تک میں چاند سے باتیں کیا کرتا تھا وہ اور کوئی نہیں بلکہ آپ ہیں ” اب ازلان کو لگا کہ یہ شائد سہی وقت ہے وہ اپنے دل میں چھپے محبت کے جذبے کا تھوڑا سا حصہ اسکے سامنے بیان کر گیا۔ حوریہ حیرت سے اسکے چہرے کی طرف دیکھنے لگی۔ وہ تو اس شادی کو ایک مجبوری سمجھ رہی تھی وہ سوچتی تھی کہ ازلان نے امین صاحب کے مجبور کرنے پر شادی کی ہے پر ابھی وہ اسکے سامنے کیا بول رہا تھا کچھ پل تو اسے یہ سب سمجھنے میں لگے۔
“میں سچ کہ رہا ہوں میں نے بچپن سے جس لڑکی سے محبت کی ہے وہ آپ ہیں مجھے تو پتہ بھی نہیں کب کیسے محبت کی چھوٹی سی کلی میرے دل میں پھوٹی، آہستہ آہستہ اپکی محبت نے میرے دل میں الگ سی جگہ بنا لی” وہ اسکے چہرے پر آئی بالوں کی لٹ کر انگلیوں کی پوروں سے پکڑ کر کان کے پیچھے کرتے ہوۓ بولا۔ حوریہ منہ کھولے اسکی طرف دیکھ رہی تھی ابھی تک اسکے ہاتھ ازلان کی گرفت میں تھے۔ وہ اسکے ہاتھوں مین تھامے اپنے ہاتھوں کی طرف دیکھ رہی تھی جب نا جانے کہاں سے دماغ میں کسی کے الفاظ گھونجے۔
“حوریہ تم نہیں جانتی میں تم سے کب سے پیار کرتا ہوں۔ اتنا پیار تو شائد میں نے کبھی زندگی میں کسی سے نہیں کیا۔ کیا تم ساری زندگی میرا ساتھ دو گئی” اسد کے کچھ مہینوں پہلے کہے گے الفاظ اسکے کانوں مین گھونجے۔ ازلان بول رہا تھا پر وہ سن کہاں رہی تھی
“جھوٹ! جھوٹ آپ مجھ سے محبت نہیں رکتے محبت وحبت کچھ نہیں ہوتی، اس دنیا میں کسی کو کسی سے محبت نہیں ہے۔ یہ سب دھوکہ ہے تا کہ آپ اپنا مطلب پورا کر کے چھوڑ دو اسد نے بھی یہی کہا تھا اسنے بھی ایسے ہی مجھ سے کہا۔ محبت کرتا ہوں پھر چھوڑ دیا۔ مجھے بالکل یقین نہیں ہے” وہ اپنے ہاتھ کھینچ کر اسے دھکہ دیتی واشروم میں چلی گئی۔ ازلان اسکے یوں ری ایکٹ کرنے کر حیرانگی سے اسے دیکھنے لگا جو اب واشروم میں ہو چکی تھی۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
