51.6K
29

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 18

ازقلمفاطمہ طارق
امی یہ ازلان ہمارے گھر کیا لینے آیا تھا۔ بشرہ بیگم کیچن میں کھانا بنا رہی تھیں جب حوریہ غصےسے اندر داخل ہوتے ہوۓ بولی۔
تمہارے ابو نے بلوایا تھا۔ بشرہ بیگم آٹا نکالتے ہوۓ بولیں۔
کیوں؟ حوریہ نے فوراً پوچھا۔
رات کو کھانے پر پتہ چل جاۓ گا۔ دیکھو عطیہ افرحہ کے ساتھ ابھی تک بازار سے واپس کیوں نہیں آئی۔ ابراہیم کو بھی ساتھ لے گئی۔ میرا معصوم سا بچہ بہت پریشان ہو جاۓ۔ بشرہ بیگم بہت آرام سے اپنی بات کو بدل گئیں۔ حوریہ انکی چالاکی سمجھ گئی۔ وہ وہی کیچن سے باہر نکلی اور افرحہ کو فون کرنے لگی۔ تبھی افرحہ اور عطیہ گھر میں داخل ہوئیں۔
آج تو تھک گئی۔ عطیہ اندر داخل ہوتے ہوۓ بولی۔ حوریہ نے اگے بڑھ کرابراہیم کو اپنی گود میں لیا۔
رات کے کھانے پر سب موجود رہنا مجھے ضروری بات کرنی ہے۔ ابھی فل حال مجھے کام ہے تو چلتا ہوں۔ امین صاحب اپنے کمرے سے نکل کر ان سب کے پاس آتے ہوۓ بولے اور باہر کی طرف نکل گے۔
ایسی کیا بات کرنی ہے؟ افرحہ نے سوالیہ نظروں سے حوریہ کی طرف دیکھا۔حوریہ نے کندھے اچکاۓ۔
حوریہ اور افرحہ نے بشرہ بیگم کا بتایا ہوا مینیو تیار کیا۔ شام کے وقت عطیہ کا شوہر آصف بھی آ گیا۔ جسے دیکھ کر اب سبھی کو اصل بات جاننے کا تجسس ہو رہا تھا۔ امین صاحب بھی گھر آگے افرحہ نے ڈینر لگایا۔
اہمم میں نے تم سب کو ایک وقت پر جمع اس لیے کیا ہے کیونکہ ایک اہم فیصلہ کل رات میں نے اور بشرہ نے لیا تھا۔ تو سب کو بتانے کے لیے بلوایا ہے۔ امین صاحب گلاس سے پانی کا گھونٹ بھرتے ہوۓ بولے۔
جی ابو بولیں کیا بات ہے اب تو تجسس ہو رہا ہے۔ علینہ بولی۔باقی سب بھی متوجہ ہوۓ۔امین صاحب نے بشرہ بیگم کی طرف دیکھا جنہوں نے آنکھ کے اشارے سے بات کرنے کا کہا۔
کل ساری رات سوچنے کے بعد صبح میں نے ازلان کو بلوایا تھا۔ اس سے ساری بات ہو گئی۔ میں نے فیصلہ کیا ہے کہ حوریہ کی شادی جلد ازجلد کر دی جاۓ۔ امین صاحب حوریہ کو دیکھتے ہوۓ بولے وہ اسکے چہرے کا اتار چڑھاؤ واضع دیکھ سکتے تھے۔ حوریہ نے نظریں اوپر کر کے سوالیہ نظروں سے بشرہ بیگم اور امین صاحب کو دیکھا۔ جیسے بات کو سمجھنے کی کوشش کر رہی ہو۔
کس سے ؟ افرحہ نے پوچھا۔
ازلان سے امین صاحب نے ازلان کا نام لے کر سب کی طرف دیکھا۔
مجھے کسی سے شادی نہیں کرنی حوریہ فوراً کرسی سے اُٹھ کر کھڑی ہو کر بولی۔ اور اوپر اپنے کمرے میں جانے لگی۔
میں نے پوچھا نہیں ہے اپنا فیصلہ بتایا ہے۔ اور مجھے یقین ہے میرے فیصلے سے کسی کو انکار نہیں ہو گا وہ جا رہی تھی جب پیچھے سے امین صاحب کی سرد آواز گھونجی۔
ابو ایک دفع آپکی مانی ہے۔ اب مجھے شادی نہیں کرنی اور ازلان سے تو بالکل نہیں وہ بول کر اوپر اپنے کمرے کی طرف بھاگی۔افرحہ اور ماہم اسکے پیچھے بھاگیں
آصف تم آج یہی رک جاؤ صبح دوپہر کے وقت ہم لوگ بھابھی کی طرف رشتہ طے کرنے جائیں گے امین صاحب بولتے ہوۓ کرسی دکھیل کر اُٹھے اور اپنے کمرے میں چلے گے۔
امی ماجدہ تائی کیا مان جائیں گئی جو کچھ اس دن ہوا تھا۔اسکو کیا وہ بھول جائیں گی۔ کبھی بھی نہیں۔ علینہ پلیٹ کو پیچھے کھسکا کر بولی۔
ازلان نے بولا لے وہ بات کرے گا رات کو فون پر جواب دے گا دیکھو کیا بنتا ہے۔ بس اللہ میری بچی کے نصیب اچھے کرے۔ پہلے ہی وہ بہت غموں سے گھری ہوئی ہے۔ بشرہ بیگم دل سے دعا مانگتے ہوۓ بولیں۔
چلیں پھر دیکھتے ہیں کیا بنتا پے۔ ویسے اسی لڑکے کے ساتھ شادی کر دینا جس کے ساتھ اسکے پہلے شوہر نے الزام لگا کر چھوڑا تھا۔ کچھ سمجھ نہیں آیا۔آصف بریانی کا چیچ بھر کے منہ میں ڈالتے ہوۓ بولا۔
جو بہتر ہو گا وہی ہو گا۔ مجھے اپنی بچی پر یقین ہے وہ بے قصور ہے۔ بشرہ بیگم سخت لہجے میں بول کر کرسی دکھیل کر اُٹھیں۔اور چلی گئیں۔
آصف کیا کرتے ہیں امی کو برا لگ گیا علینہ بولی۔
میں کیا کرو سچ ہی تو بولا ہے۔ وہ کندھے اچکاتے ہوۓ بولا۔


ازلان امین صاحب کے گھر سے ہو کر گھر تو آ گیا تھا پر اب وہ سوچ رہا تھا کہ کیسے بات کرے۔ وہ جانتا تھا اگر بات چھیری تو گھر میں طوفان آ جاۓ گا۔ پر اب وہ وعدہ بھی کر آیا تھا۔ ابھی چھت پر چکر لگاتے وہ ہزار سوچوں میں گم تھا۔ رات کے نو بج گے تھے پر ابھی تک اس میں ہمت نہیں ہو رہی تھی۔
بھائی اوپر کیا کر رہے ہو امی بلا رہی ہیں۔ وہ کافی غصے مین لگ رہی ہیں سمجھ نہیں آ رہی معاملہ کیا ہے حامد ماجدہ بیگم کے کہنے پر اسے بلانے آیا تھا۔
غصے میں کیوں؟ ازلان فوراً بولا۔۔
آپ نیچے چلو پتہ جاۓ گا مجھے تو سمجھ نہیں آ رہی حامد کافی پریشان ہو گیا تھا ازلان اسکے ساتھ نیچے آیا۔
جی امی وہ صحن میں کھڑی ماجدہ بیگم کو دیکھ کر بولا جو کہ کافی غصے میں اسی کی طرف دیکھ رہیں تھیں۔
تمہیں پتہ ابھی ابھی کس کا فون آیا تھا؟ وہ ماتھے پر بل ڈالے ازلان کو گھور کر بولیں۔
کس کا ؟ازلان نارمل انداز میں بولا۔
تمہارے باپ کے قاتل کا۔ اور پتہ کیا بول رہا تھا۔ کل ہم لوگ آپکے گھر آئیں گے۔ پتہ کیا کرنے؟ ماجدہ بیگم کمر پر ہاتھ رکھ کر غصے سے بولیں۔
کیا کرنے؟ ازلان انجان بنتے ہوۓ بولا۔
اپنی اس طلاق یافتہ لڑکی کا رشتہ لے کر تمہارے لیے۔ وہ تلخ لہجے میں بولیں۔ ازلاننے حوریہ کے لیے ایسے الفاظ سن کر زور آنکھیں میچیں۔
جب میں نے بولا تھا اس گھر میں قدم نہین رکھنا تو کیوں گے۔ ماجدہ بیگم چلائیں۔
امی چاچو نے بلوایا تھا میں ان سے وعدہ کر کے آیا ہوں حوریہ سے شادی کروں گا۔ وہ آگے بڑھ کر بولا۔
ٹھاہ! ماجدہ بیگم کا ہاتھ اُٹھا اور اسکے گال پر نشان چھوڑ گیا۔ ازلان لڑکھڑایا
تم جیسا بیٹا ہو تو اسے شرم سے ڈوب مرنا چاہیے جس انسان کی وجہ سے تمہارا باپ روتے روتے اس دنیا سے چلا گیا تم اسکی لڑکی سے شادی کرنے جا رہے ہو۔ ماجدہ بیگم چلائیں
امی بھائی ہی بات تو سن لیں حامد نے اگے بڑھ کر انکو کندھوں سے پکڑ کر کہا۔
کیا سنو حامد بتاؤ کیا سنو میں اسکی۔ تم دیکھ نہیں رہے کیا کر کے آیا ہے۔ ماجدہ بیگم روتے ہوۓ بولیں۔
امی اگر ابا آج زندہ ہوتے وہ بھی یہی کرتے۔ میں وہی کر رہا ہوں جو سہی ہے۔ حوریہ پورے خاندان میں بدنام ہو گئی ہے کیوں؟ کیونکہ میں نے رشتہ بھیجا تھا۔ اور اسد نے اسی بات کو پکڑ کر جھوٹ بنا رک سب کے سامنے سچ کی طرح پیش کیا۔ اس سب میں بتائیں اس لڑکی کا کیا قصور۔ رشتے سے انکار چاچو نے کیا اس میں میرا کیا قصور۔ الزام لگا کر اسد نے طلاق دے دی اس میں حوریہ کا کیا قصور ہے۔ وہ تو بے چاری میری وجہ سے سر اُٹھا کر چل نہیں سکتی۔ ازلان ان سب میں خود کو قصور وار ٹھہرا رہا تھا۔
تمہاری انکھوں پر محبت کی پٹی بندھی ہوئی ہے۔ آخر اس لڑکی میں ہے ہی کیا نا شکل کی اچھی اور سے طلاق یافتہ ماجدہ بیگم غصے سے بولیں۔ اور اپنے کمرے میں جا کر دروازے کو کُنڈی لگا دی۔ حامد اور کرن انکے دروازے کو کھٹکھٹانے لگے ازلان وہی چارپائی پر بیٹھ گیا اور اپنا سر ہاتھ میں گِڑا لیا۔
بھائی آپکو حوریہ اپی سے بالکل بھی شادی نہیں کرنی چاہیے۔ مجھے آپکا فیصلہ بالکل بھی پسند نہیں آیا۔ کرن وہی سے دروازے کے پاس کھڑی ہو کر بولی۔
ازلان چارپائی سے اُٹھا اور گھر سے باہر نکل گیا۔ حامد اسے روکتا رہ گیا پر وہ چلا گیا۔
وہ بے مقصد گاؤں کی سڑک پر چلتا جا رہا تھا۔اسکے لیے سب بہت مشکل ہو رہا تھا۔ نا وہ ماجدہ بیگم کو ناراض کر سکتا تھا اور نا امین صاحب کو انکار کر سکتا تھا۔ وہ دونوں طرف سے بوری طرح پھنس چکا تھا۔ کچھ سوچ کر اسنے اپنا فون نکالا۔
السلام علیکم! صدف باجی کیسی ہیں؟ فون نکال کر اسنے صدف کو کال ملائی۔
وعلیکم السلام ! میں بالکل ٹھیک تم سناؤں چکر ہی لگا جاتے اتنے دن ہو گے۔اگے سے صدف خوشگوار لہجے میں بولی۔
آؤں گا وہ مجھے اپ سے ایک بات کرنی تھی۔ ازلان بولا۔
کیسی بات؟
اپکی مدد چاہیے ازلان نے کہا اور پھر ساری بات اسکو بتائی۔ جسے سن کر صدف خاموش سی ہو گئی۔
کیا اپ امی کو منانے میں میری مدد کر سکتی ہیں۔ ازلان نے ایک امید بھرے لہجے میں پوچھا تھا۔
میرے بھائی تم پریشان مت ہو میں صبح نو بجے تک آتی ہوں امی کو منانے کی پوری کوشش کروں گئی۔ صدف بولی تو ازلان نے سُکھ کا سانس لیا۔ تھوڑی دیر مزید بات کر کے وہ واپس گھر کی طرف بڑھا۔


حوریہ پچھلے دو گھنٹے سے کمرے میں بند تھی۔ بیڈ پر بیٹھے وہ رونے میں مصروف تھی۔سر اُٹھا کر اسنے سامنے لگی گھڑی کی طرف دیکھا جہاں بارہ بج رہے تھے۔ اسنے کچھ سوچ کر موبائل پکڑا اور ازلان کا نمبر ملایا۔ دوسری بیل پر فون اُٹھایا گیا۔
کون؟ نیند سے بھری آواز آئی وہ کمرے میں سویا ہوا تھا جب فون بجا حالانکہ نام تو سیو تھا پر اسنے دیکھے بنا کال اُٹھائی۔
میری زندگی اجیرن کر کے خود کیسے سو رہے ہیں وہ غصے سے بولی۔ حوریہ کی آواز سن کر وہ ایک پل میں اُٹھ کر بیٹھا اور موبائل کی سکرین دیکھی۔ جہاں حوریہ کا نام جگمگا رہا تھا اور وقت دیکھا جہاں بارہ بج رہے تھے۔
کیا ہوا ؟ اتنی رات کو فون کیا سب کچھ ٹھیک تو یے نا؟ وہ پریشان سا ہو گیا۔
ٹھیک! ہنہہ جو بم میرے ابو نے میرے سر پر پھوڑا ہے اسکے بعد سب ٹھیک کیسے ہو سکتا ہے۔ حوریہ طنزیہ انداز میں بولی۔ ازلان سمجھ گیا امین صاحب نے اسے رشتے کی بات بتا دی ہے۔
کیا مطلب؟ وہ بیڈ سے اُٹھ کر کھڑی کی طرف آ گیا چونکہ بیڈ کی دوسری طرف حامد سو رہا تھا۔ وہ اسکی آواز سے جگ نا جاۓ اسی لیے وہ اُٹھ گیا۔
دیکھیں ازلان مین گھوما پھرا کر بات نہیں کروں گئی میں آپ سے شادی نہیں کرنی۔ وہ لمبا سانس لے کر غصے کو پیتے ہوۓ بولی۔
آپ روتی رہی ہیں؟ ازلان کو اسکی اواز بھاری محسوس ہوئی تو بولا۔ حوریہ سوال کے جواب میں واپس سوال سن کر پاگل سی کو گئی۔
ہاں روتی رہی ہوں۔ آپکو اس سے کیا ابھی کے ابھی ابو کو فون کریں اور رشتے سے انکار کریں وہ غصے سے بولی۔
میں ایسا نہیں کروں گا۔ چاچو کو وعدہ کر چکا ہوں تو وعدہ تو اب پورا کروں گا چاہیے جو مرضعی کرنا پڑے وہ پرسکون لہجے میں بولا۔ اور یہی پرسکون لہجا حوریہ کو تپا گیا۔
او تو سمجھ گئی اپ مجھ سے شادی اسی لیے کرنا چاہیتے ہیں تاکہ تایا ابو کا بدلہ لے سکیں اسی لیے وہ سارے میسجز کیے تھے میں تو آپکو بھولا بھالا سمجھتی تھی پر آپ تو کھیلاڑی نکلے۔ حوریہ غصے میں نا جانے کیا کیا بول رہی تھی۔
حوریہ صرف ایک بات کہوں گا میں اتنا گِڑا ہوا نہیں ہو جو آپ سے بدلے کے لیے شادی کروں۔ اور میرے ابا کی وقت آ چکا تھا بس کوئی بہانا بننا تھا۔ وہ بن گیا۔ اللہ نے انہیں اپنے پاس بلا لیا اب اللہ کے فیصلے پر میں کسی سے لڑ نہیں سکتا۔ آپ فل حال سو جائیں کل چاچو یہاں آئیں گے۔ آپ دعا کریں رشتہ نا ہو اور میں دعا کروں گا رشتہ ہو جاۓ دیکھتے ہیں خدا کس کی سنتا ہے۔ آخر میں وہ مسکرا دیا۔ اور کال بند کر دی۔
حوریہ کو اپنے سخت الفاظوں پر شرمندگی ہوئی۔ پر اس شرمندگی پر دوبارہ غصہ حاوی ہو گیا۔
جس نے میرے کردار کو مشکوک کر دیا میں اس سے کبھی شادی نہیں کروں گئی۔ وہ غصے سے بولی اور بیڈ پر لیٹ گئی۔
“””””””*
صبح نو بجے کے قریب صدف پہنچ گئی۔ وہ ابھی ماجدہ بیگم کے کمرے میں بیٹھی ہوئی ان سے بات کر رہی تھی۔
تم اسکی حمایت کرنے آ گئی ہو میں ایسا کبھی نہیں ہونے دوں گی۔ ماجدہ بیگم نفی میں سر ہلا کر بولیں
امی بات کو سمجھیں یہ فضول سی لڑائی پر رشتے تو خراب مت کریں اگر چاچو اپنا ہاتھ بڑھا رہے ہیں تو ہمیں خوشی خوشی انکا ہاتھ تھامنا چاہیے۔ اور رشتہ جڑنے سے تو رشتوں میں پڑی درار مٹ جاۓ گئی۔ صدف پوری کوشش میں تھی کہ وہ مان جائیں۔
باجی بالکل ٹھیک کہ رہی ہیں۔ ہمیں یوں انکار نہیں کرنا چاہیے حامد اندر داخل ہوتے ہوۓ بولا۔
تو کیا کرو اس حوریہ کو بہو بنا کر لے آؤں اور اسکے باپ کو معاف کر دوں بالکل نہیں ماجدہ بیگم غصے سے بولیں۔
امی معاف کر دیں اپکا دل تو برا لے نا۔ اور ویسے بھی جو معاف کر دیتا ہے اللہ اسکو پسند کرتا ہے۔ اللہ پاک کو معاف کر دینے والے کو بہت ثواب دیتا ہے۔ صدف بالکل بچوں کی طرح سمجھا رہی تھی۔
صدف تم نہیں جانتی اگر اس کو بہو بنا لیا اور امین کو معاف کر دیا تو میرا بیٹا چھین لیں گے۔ وہی تو اس گھر کو چلاتا ہے اسکو باتوں میں لگا لین گے۔ وہ روتے ہوۓ بولیں۔ ازلان کرمے مین داخل ہوتے سب سن چکا تھا وہ چلتا ہوا ماجدہ بیگم کے قریب آیا اور زمین پر انکے قدموں میں بیٹھا۔
میں اتنا پاگل نہیں جو اپنے جان سے پیاری ماں کو چھوڑ کر جاؤں۔ یا کسی کی باتوں میں آؤں۔ امی کیا آپ اپنے بیٹے کی خوشی کے لیے یہ سب مان نہیں سکتیں۔ پلیز میرے لیے ازلان ماجدہ بیگم کا چہرا اپنی طرف کرتے ہوۓ بولا۔ وہ بالکل چپ تھیں۔
امی اب مان بھی جائیں۔ حامد بولا۔
ٹھیک ہے صرف تمہارے لیے میں یہ سب برداشت کرنے کے لیے تیار ہوں۔ پر میری ایک شرط ہے ماجدہ بیگم بولیں۔
کیسی شرط صدف بولی۔
وہ شرط میں انکے سامنے ہی بتاؤں گئی۔ وہ بیڈ سے اُٹھتے ہوۓ بوۓ بولیں۔
شکریہ امی آپ نہیں جانتیں آپنے مجھے کتنی بری خوشی دی ہے۔ ازلان نم لہجے میں بولا۔
میں مان تو گئی ہوں تم ازلان کبھی بھولنا مت تمہاری بیوہ ماں اور بن بیاہی بہن گھر میں ہے۔ انکی ذمہ دار تم پر ہے۔ وہ بول کر کمرے سے نکل گئی۔
یہ کیا بات ہوئی کیا میں اس گھر مین نہیں اور کیا میری ذمہ دار بھائی پر نہیں حامد ناراضگی سے بولا۔
حد ہے حامد وہ ایموشنل ہیں تم ٹانگ مت اڑا۔ صدف نے اسے ڈانٹا۔
مبارک ہو میرے بھائی حامد ازلان کے گلے لگتے ہوۓ بولا۔ صدف نے بھی مبارک دی۔ کرن بنا کچھ بولے کمرےس ے نکل گئی۔
اس چھپکلی کو بعد میں منا لیں گے ابھی امین چاچو کو بولو آجائیں۔ اور ہاں امی کچھ بولیں تو ری ایکٹ مت کریں حامد نے کہا تو ازلان نے ہاں میں سر ہلایا اور موبائل نکالا۔
جاری ہے۔۔۔