Tamashaye Zaat By Fatima Tariq Readelle50126 Episode 13
Rate this Novel
Episode 13
وہ پچھلے دنوں سے کافی بے چین سا رہا تھا۔ عجیب سے احساسات محسوس ہو رہے تھے۔ وہ آج بھی ساری رات سو نہیں پایا تھا۔ صبح کی اذن پر وہ اپنی چارپائی سے اُٹھا۔ وضو کر کے وہ جاۓ نماز چھت پر ایک طرف بیچھا کر نماز ادا کرنے لگ گیا۔
وہ جب بھی اداس بے چین، یا خود کو بے بس محسوس کرتا وہ ہمیشہ خدا کے حضور جھکتا۔ ہمیشہ اس ذات کے آگے اپنی دلی کیفیت کو بیان کرتا۔ اور رو کر اسے دعا مانگتا۔ابھی بھی وہ وہی کر رہا تھا نماز ادا کر کے اب وہ ہاتھوں کو اُٹھاۓ دعا مانگ رہا تھا۔
یا اللہ میرے دل کو سکون دے۔ اس بلاوجہ کی بے چینی کا حل یا وجہ دے۔۔ یا اللہ میرے اپنوں کو ہمیشہ اپنی حفاظت میں رکھنا۔ اسکی زندگی خوشیوں سے بھرے رکھنا۔ آج ایک بار پھر اپنی قسمت کا دروازہ کھولنے کی کوشش کرنے جا رہا ہوں۔ یا رب صحیح چابی ہی دلوانا۔ اے اللہ مجھے صرف اپنا محتاج رکھنا تیرے بندوں کا محتاج مت رکھنا۔ میں ہمیشہ تیرے سے مانگوں مجھے کسی اور کے سامنے ہاتھ پھیلانے کی ضرورت نا نہیں۔ اس حال پر نا پہنچوں کہ کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے پڑیں۔ میرے پاس کم سے کم ہو چلے گا۔ بس کبھی کسی سے مانگنا نا پڑے۔ وہ ہاتھ پھیلاۓ اپنے رب کے حضور مانگ رہا تھا۔
ارسم اسے نماز پڑھتے دیکھ اُٹھ گیا تھا۔ اور اب وہ بھی اسکے ساتھ جاۓ نماز بھیچاۓ نماز ادا کر رہا تھا۔ ازلان نے جاۓ نماز اُٹھایا۔ اور اسے تہ لگا کر چھت پر بنے کمرے میں رکھا۔ جہاں اور بھی کافی سامان رکھا تھا۔ اور اب وہ صبح کی کھلی فضا میں آنکھیں بند کر کے تازہ ہوا کو اپنے اندر اتار رہا تھا۔ ارسم نماز سے فارغ ہو کر اسکے برابر آکر کھڑا ہوا۔۔
پچھلے ایک ہفتے سے دیکھ رہا ہوں۔ تو کافی کھویا کھویا ہے۔ کیا بات ہے طبعیت تو ٹھیک ہے؟ارسم کافی دنوں سے اسے نوٹ کر رہا تھا۔
ہاں ٹھیک ہوں۔ بس بے چینی ختم نہیں ہو رہی۔ وجہ بھی معلوم نہیں اسکے لہجے میں بے بسی واضع تھی۔
کہی اسکی وجہ حو۔۔۔ ارسم بول رہا تھا جب ازلان بول پڑا۔
ہو سکتی ہے۔ ارسم تو کیا کہتا ہے کیا مجھے اسے کال کرنی چاہیے اسکا حال تو پوچھ سکتا ہوں۔ وہ بولا تو ارسم کا دل اسکی آواز پر ایک دم ڈوبا۔
ازلان اسکی شادی ہو گئی۔ کیا تجھے اچھا لگے گا کہ تیری وجہ سے اسکی زندگی میں مشکل آۓ ارسم اسکا ہاتھ دبا کر بولا۔
اسکی زندگی خراب نا ہو اسی وجہ سے تو ہمیشہ اپنی محبت کو چھپا کر رکھا۔ کبھی اس پر واضع بھی نہیں ہونے دیا۔ اس پر تو کیا کسی پر واضع نہیں ہونے دیا۔ وہ سامنے دیکھتے ہوۓ بولا۔
اگر تب چھپایا ہے تو اب بھی چھپا وہ تیری محبت کے بارے میں نہیں جانتی۔ اور نا جاننا ہی ضروری ہے۔ اسکی نئی زندگی شروع ہو گئی ہے۔ اور اب تو بھی آگے بڑھ اسکا خیال چھوڑ دے۔ ارسم اسکے کندھے کو تھپتھپا کر بولا۔ وہ یہ نہیں جانتا تھا جس محبت کو اسنے ساری زندگی چھپایا تھا آج وہی محبت کس طریقے سے حوریہ کے کردار پر سوالیہ نشان چھوڑ گئی۔
ارسم ایسا مت بول تو کیا چاہتا ہے میں جینا چھوڑ دو۔ میں اسے سوچتا نہیں ہوں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے وہ میری ذات کا ایک اہم حصہ ہے۔ اگراس حصے کو الگ کر دیا تو سانس لینا مشکل ہو جاۓ گا۔ یوں سمجھو وہ میری روح ہے۔ اگر روح کو نکال دوں تو مر جاؤں گا۔ وہ ٹھرے ہوۓ انداز میں بولا۔ اسکے لہجے میں بے بسی جھلک رہی تھی۔
ارسم نے اپنی انگلی سے آنکھ کا کنارہ صاف کیا۔۔
یہ سب چھوڑ چل نیچے چلیں آج تیرا انٹرویو ہے۔ مجھے گٹ فیلنگ آ رہی ہے آج میرا بھائی میدان مار ہی لے گا۔ دیکھنا آج تو تجھے پکا نوکری ملے گئی۔ وہ ہنس کر بولا۔ ازلان سمجھ گیا کہ وہ اسکا دھیان بھٹانا چاہتا ہے۔ اسے اپنے اس مخلص دوست پر پیار آیا۔ آج کے دور میں ارسم جیسا صاف دل دوست ملنا بہت مشکل ہے۔ وہ آگے بڑھ کر اسکے گلے لگا۔ ارسم اسکے یوں گلے لگنے پر چپ سا ہو گیا۔دونوں خاموش تھے۔ کبھی کبھی الفاظ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ خاموشی بھی بہت کچھ بیاں کر دیتی ہے۔
★★★**★
کیا مجھے بھائی کو بتانا چاہیے نہیں یار وہ اتنی دور ہیں پریشان ہو جائیں گے۔ حامد کلاس میں بیٹھا خود سے ہی باتیں کر رہا تھا۔
آپ سب گروپس میں پریزٹیشن دیں گے۔ میں نے گروپس بنا دیے ہیں لسٹ آپکے گروپ مین بھیج دی ہے۔ کلاس میں سر کی اواز گھونج رہی تھی۔ سب نے اپنے موبائل اوپن کر کے لسٹ چیک کی۔
سر مجھے گروپ چینج کرنا ہے۔ افرحہ کی آواز گھونجی حامد نے اسکی طرف دیکھا جو کہ کرسی سے کھڑی ہو کر بول رہی تھی۔
کیوں ؟ آپکو کیا مسلہ ہے؟ سر کافی غصے میں تھے۔ وہ بہت سخت ٹیچر تھے۔ بلاوجہ وہ سٹوڈینٹس کے نخرے برداشت نہیں کرتے تھے وہی انکی بے عزتی کر دیتے۔
سر مجھے یہ گروپ پسند نہیں مجھے کسی اور گروپ میں شیفٹ کر دیں افرحہ سیدھے انداز میں بولی۔
میڈیم کلاس کا ٹیچر میں ہوں آپ نہیں اپنی پسند نا پسند گھر پر رکھ کر آیا کریں۔ وہ کافی غصے میں بولے۔
سر ایٹس اوکے اصل میں میری گروہ کی ممبر تھوڑی سر پھری ہے۔ میں ٹھیک کر لوں گا۔ ہم لوگ مل کر پریزٹیشن دیں گے۔ حامد فوراً کھڑے ہو کر بولا۔
گڈ ! حامد اچھا ہو گا۔ پریزٹیشن اچھی ہو۔ اس دفعہ جو کلاس میں ٹاپ کر گا۔ اسکے اگلے سمسٹر کی ساری فی معاف ہو جاۓ گئی۔ سر بول رہے تھے۔ افرحہ نے حامد کے کھڑے ہونے پر اسے گھورا تھا۔
اصل میں افرحہ، ہادی اور جاوید یہ تینوں حامد کے گروپ میں تھے۔ یہ پریزٹیشن کافی بری ہونی تھی۔ کافی ٹیچرز اسے کنڈکٹ کرنے والے تھے۔
سب اچھے سے تیاری کرنا۔ مجھے کلاس کی بسٹ پرفامنس چاہیے۔ سر کڑک لہجے میں بولے۔ اور خداحافظ بول کر کلاس سے نکل گے۔
کچھ لوگوں کو بلاوجہ تماشا کرنے کا بہت شوق ہے۔ حامد افرحہ پر طنز مار کر اپنے جگہ پر بیٹھا۔
اور کچھ لوگ اپنے کام سے کام نہیں رکھتے ہر وقت دوسروں کے کام میں ٹانگ اڑاتے رہتے ہیں۔ وہ بھی اسی کے انداز میں بولی۔ حامد کے چہرے پر مسکراہٹ ابھری۔ وہ اگے بڑھ کر کچھ بولنے ہی والا تھا جب افرحہ بولی۔
ہادی چلو کینٹین میں کچھ کھا لیتے ہیں۔ وہ ہادی کی طرف مڑ کر مسکرا کر بولی۔ حامد کو اسکی مسکراہٹ جلی پر تیل کا کام کرتی ہوئی محسوس ہوئی۔ اپنے غصے کو روکنے کے لیے اسنے جاوید کا ہاتھ پکڑکر مڑورا۔ افرحہ ہادی کےساتھ باہر نکل گئی۔
آہ سالے چھوڑ۔ جاوید زور سے چِلایا۔ اسکے چلانے پر حامد کو ہوش آیا۔ تو پلٹکر دیکھا وہ جاوید کا ہاتھ کافی مڑو چکا تھا۔ اسنے جلدی سے چھوڑا۔
آہ سالے غلطی تیری اپنی ہے میرا ہاتھ مڑورنے کی بجاۓ خود کا مڑورنے کی بجاۓ توڑ ہی دینا چاہیے۔ وہ چلا کر بولا۔
کیوں اپنا کیوں توڑوں۔ وہ ماتھےپر ہزاروں بل ڈالے جاوید کی طرف متوجہ ہوا۔
تو نے اسے چھوڑا تھا میں نے نہیں جو سزا مجھے دی۔ وہ اپنے ہاتھ کو دباتے ہوۓ بولا۔ اسکے کہنے پر حامد نے اپنا سر ہاتھوں پر گِڑا دیا۔
کیوں چھوڑا تھا؟ جاوید کی آواز آئی۔
میں نے غلط نہیں کیا۔ بعد میں ہرٹ ہونے سے بہتر ہے ابھی ہو جاؤ۔ وہ لمبی سانس لے کر بولا۔ جیسے کافی تھک چکا ہو۔
کیا مطلب؟ جاوید نا سمجھی سے بولا۔
کچھ نہیں بس چپ رہ۔ وہ اپنی کرسی پر ریلکس ہو کر بیٹھا اورآنکھیں بند کر لیں۔ یہ سگنل تھا کہ اب کچھ مت بولنا۔ جاوید نے نفی میں سر ہلایا۔ اسے اپنا یہ دوست کبھی کبھی پاگل لگتا تھا۔
حوریہ آج کمرے سے نکل کر باہر گارڈن میں آ کر ایک طرف لگے جھولے پر بیٹھی تھی۔ جھولے جو ہلکا ہلکا جھولا کر وی نا معلوم نقطے کو گھورے جا رہی تھی۔ بشرہ بیگم کیچن کی کھڑی جو کہ باہر گارڈن میں کھولتی تھی وہی سے حوریہ کو دیکھ رہیں تھی۔
آجکل انکے گھر کا ماحول بیت بدل گیا تھا۔ بس بہت خاموش خاموش سے ہو گے تھے۔ ہر کوئی بس ایک دوسرے سے نظریں چڑاتا تھا۔ کوئی بھی اس دن کے بعد حوریہ کی طلاق کے بارے میں بات نہیں کرتا تھا۔ ہر روز بشرہ بیگم کو خاندان سے کافی فون اتے تھے۔ جو بات بات پر حوریہ کی بات چھیر دیتے تھے۔ اور بشرہ بیگم فون رکھ دیتیں تھیں۔
آپی! وہ کافی دیر سے ویسے ہی بیٹھی تھی جب آچانک ماہم کی آواز آئی۔ حوریہ نے سر اُٹھا کر اسے دیکھا جو کافی خوش لگ رہی تھی۔
ہمم وہ اسے دیکھ کر بس اتنا ہی بولی۔ ماہم جو صبح سفید یونی فام پہن کر گئی تھی۔ اب وہ رنگ بھرنگے رنگوں سے بھرا ہوا تھا۔ اور جگہ جگہ پر سگنیچر تھے۔
آپکو تو پتہ ہے آج سیکنڈ ایر کا لاسٹ ڈے تھا۔ اتنا مزا آیا ہم لوگوں نے ایک دوسرے پر اتنے رنگ پھینکے۔ اور ایک دوسرے قمیضوں پر سائین کیے۔ وہ گھوم کر حوریہ کو دیکھا رہی تھی۔ حوریہ اسکی خوشی دیکھ کر ہلکا سا مسکرأئی۔
مزا آیا۔ وہ اتنا ہی بولی۔
ہاں بہت زیادہ مزا آیا۔ گانے بھی لگے تھے میں نے ڈانس بھی کیا وہ چہک چہک کر بتا رہی تھی۔ وہ بھی اس دن کے بعد آج ہنستی دیکھائی دی تھی۔
جاؤ جا کر کپڑے تبدیل کر لو ۔ امی نے دیکھ لیا تو ڈانٹیں گئی۔ حوریہ مسکرا کر بولی۔
اوکے آپی ماہم بھاگ کر اسکے گلے لگی۔ اور اوکے بول کر اپنا بیگ پکڑ کر کمرے میں چلی گئی۔
حوریہ اسکے جاتے ہی واپس سے اپنا جھولا جھولنے لگی۔ وہ بچپن سے ایسا ہی کرتی۔ جب بھی دل اداس ہوتا اسی جھولے پر بیٹھتی۔ یہ جھولا اسنے بشرہ بیگم کی خوب منت کر کے لگوایا تھا۔ جھولتے جھولتے اسکے پاؤں ایک دم رُکے۔ اگلے ہی پل وہ اس جھولے سے اُٹھی اور اندر کی طرف بڑھی۔
وہ بہت خوش تھا۔ اسے نوکری مل گئی تھی۔ یہ ایک ملٹی نیشنل کمپنی تھی۔ جس میں اسے نوکری ملی تھی۔ کمپنی اچھی سیلری دے رہی تھی۔
وہ راستے میں آتی مٹھائی کی دکان سے مٹھائی لے آیا تھا۔ اور ابھی وہ ارسم کی فیملی کے ساتھ اپنی خوشی بانٹ رہا تھا۔
دو سالوں کی محنت کے بعد اسے آج اپنی محنت کا پھل ملا تھا۔ وہ ان سالوں میں کبھی مایوس نہین ہوا تھا۔ اسے ہمیشہ سے یقین تھا اسکی قسمت میں رب نے کچھ اچھا ہی لکھا ہو گا۔ وہ بس ہر انٹرویو میں اپنا سو فیصد دیتا۔ اور اج اسکی یہ محنت رنگ لائی تھی۔
موبائل نکال کر وہ ایک طرف ہوا اور حامد کو ویڈیو کال ملائی۔ حامد جو کہ اپنے کمرے میں بیٹھا پڑھ رہا تھا۔ ازلان کی کال پر ایک دم چونکا۔
السلام علیکم! بھائی کیسے ہو کال اُٹھاتے ہی وہ اپنے بالوں کو سنوار کر بولا۔
میں بالکل ٹھیک ہوں۔ اور بہت خوش ہوں۔ اسکی اواز میں ایک خوشی کی جھلک تھی۔
کیا بات ہے اج بہت خوش دیکھائی دے رہے ہیں۔ حامد اپنی بکس بند کر کے اسکی طرف فل متوجہ ہوا۔
تم پہلے امی اور کرن کے پاس جاؤپھر بتاتا ہوں۔ وہ مسکرا کر بولا۔ حامد سر ہلا کر اُٹھا اور صحن میں بیٹھی کرن اور ماجدہ بیگم کے پاس آیا۔ جن کے پاس اور بھی دو تین محلے کی عورتیں بیٹھیں ہوئیں تھیں۔
امی یہ بھائی سے بات کر لیں۔ حامد نے موبائل ماجدہ بیگم کو پکڑایا۔ سامنے سکرین پر ازلان کا مسکراتا ہوا چہرا تھا۔
ازلان پتر کیا حال ہے؟ وہ موبائل پکڑ کر بولیں۔
میں بالکل ٹھیک ہوں آپ بتائیں دوائی وقت پر کھا رہی ہیں۔ وہ بولا۔
ہاں کھا رہی ہوں۔ بتا کب آ رہا ہے کتنے دن ہو گے۔ ماجدہ بیگم اداس لہجے میں بولیں۔
امی ابھی چار پانچ ماہ تک آنا ممکن نہیں۔ وہ سنجیدہ انداز میں بولا۔
کیوں بھائی؟ کزن اگے ہو کر اداس لہجے میں بولی۔
کیونکہ گڑیا۔ اب میری نوکری لگ گئی ہے۔ وہاں پر پہلے تین چار ماہ کافی محنت سے کام کرنا پڑۓ گا۔ تاکہ وہ کام سے نا نکالیں۔ اگر تم لوگوں کے پاس آؤں گا تو چھٹیاں کرنی پڑیں گئی۔ وہ مسکراتے ہوۓ بولا۔
کیا نوکری لگ گئی۔ حامد حیرانگی سے بولا۔اسکی اواز میں واضع خوشی تھی۔
ہاں لگ گئی۔ ازلان ہنس کر بولا۔
اللہ تیرا شکر ہے۔ میرے بچے کو اللہ نے بہت دینا ہے یہ تو ابھی شرواعت ہے۔ کاش تیرے ابا زندہ ہوتے بہت خوش ہوتے۔ تیرا چچا نے نوکری پیسے کی وجہ سے میرے بیٹے کو انکار کیا تھا نا دیکھنا اللہ نے اتنا دینا ہے ۔ تیرا چچا تیرے رشتے کے انکار پر پچھتاۓ گا۔ اور ابھی بھی پچھتا ہی رہا ہو گا۔ وہ اپنی انکھیں پونچھتیں ہوئی بولیں انکی بات پر سبھی ایک پل کے لیے چپ کر گے ازلان کے چہرے سے مسکراہٹ سمٹی
امی بس کریں ادھر دیں۔ حامد نے جھت سے فون لے لیا۔ وہ جانتا تھا اگر دو منٹ ماجدہ بیگم نے مزید بات کی تو حوریہ کی طلاق کی بات بھی بتا دیں گئی۔ اسی لیے اسنے فون پکڑ لیا۔
بھائی کہاں جاب ملی۔ وہ بات کو پلٹ گیا۔ اور اندر کی طرف بڑھا۔
ازلان اسے سب بتانے لگا۔ اور اسے گھر والوں کا خیال رکھنے کا بول کر کال کٹ کر دی۔
باہر ماجدہ بیگم اب محلے ہی عورتوں کو امین صاحب کے رویے کے بارے میں بتا رہیں تھیں۔
جاری ہے
