Tamashaye Zaat By Fatima Tariq Readelle50126 Episode 19
Rate this Novel
Episode 19
وہ تقربیاً ساری رات سو نا سکی۔ ازلان نے دس بجے کے قریب فون کر دیا تھا۔ ابھی اسکے گھر جانے کی تیاری ہو رہی تھی۔ حوریہ نے دروازہ تو کھول دیا تھا پر وہ کسی سے بات نہیں کر رہی تھی۔
آپی ناشتہ کر لیں کل رات سے آپنے کچھ نہیں کھایا۔ ماہم ٹرے میں انڈا پڑاٹھا لے کر کمرے میں داخل ہوتے ہوۓ بولی۔
مجھے کچھ نہیں کھانا تم جاؤ وہ چہرہ موڑ کر خفا لہجے میں بولی۔
آپی پلیز ایسا مت کریں۔ ابو نے کچھ سوچ کر ہی یہ فیصلہ کیا ہو گا۔ ماہم ٹرے کو ٹیبل پر رکھ کر اسکے پاس زمین پر بیٹھتے ہوۓ بولی۔ وہ خاموش ہی رہی۔
حوریہ اب فیصلہ ہو چکا ہے۔ اچھا ہو گا تم اسے قبول کر لو۔ یہ بے فضول کے ںاٹک کرنے بند کرو۔ ویسے تمہیں تو خوش ہونا چاہیے جو چاہتی تھی مل رہا ہے عطیہ کمرے میں داخل ہوتے ہوۓ طنزیہ انداز میں بولی۔
آپ سب نے فیصلہ منظور کر لیا نا اب پلیز کمرے سے جائیں۔ وہ آونچی آواز سے بولی۔ کمرے کے سامنے سے گزرتے امین صاحب رُکے۔ حوریہ کی آواز سن کر وہ کمرے میں داخل ہوۓ۔
تم دونوں نیچے جاؤ مجھے حوریہ سے اکیلے میں بات کرنی ہے۔ وہ ان دونوں کو اشارہ کرتے ہوۓ بولے۔ وہ دنوں کمرے سے چلی گئیں۔ اب کمرے میں صرف حوریہ اور امین صاحب تھے۔ حوریہ زمین پر گھٹنوں پر سر دیے بیٹھی تھی۔
حوریہ بیٹے بیڈ پر بیٹھو۔ وہ بیڈ پر بیٹھتے ہوۓ بولے۔ حوریہ بنا کچھ بولے اُٹھی اور انکے پاس بیٹھی۔
میں مانتا ہوں شروع دن سے میں نے اپنی بیٹیوں کے ساتھ نہایت غلط برتاؤ رکھا۔ مجھے ایسا بالکل نہیں کرنا چاہیے تھا۔ تم چاروں کو ہمیشہ نظرانداز کرتا رہا۔ میں یہ بھی ماناتا ہوں اسد کے ساتھ تمہاری شادی کرنا میری زندگی کا سب سے برا فیصلہ تھا۔ میں شائد ایک باپ کے فرائض ادا کرنے میں بری طرح فیل ہو گیا۔ امین صاحب نیچے زمین کو دیکھتے ہوۓ بول رہے تھے۔
ایسا مت بولیں ابو آپ اس دنیا کے سب سے اچھے والد ہیں۔ حوریہ آج پہلی بار اپنے باپ کے منہ سے ایسی باتیں سن کر فوراً بولی۔ وہ کہاں یہ سب سن سکتی تھی۔
حوریہ تمہیں پتہ ہے میں نے ہر پہلو پر سوچ سمجھ کر تمہاری دوسری شادی کا فیصلہ کیا ہے۔ جس طریقے سے اسد نے الزام تراشی کر کے تمہیں چھوڑا ہے۔ اسکے بعد جو بھی باہر سے رشتہ آۓ گا۔ وہ کبھی یہ سب قبول نہیں کریں گے۔ امین صاحب نے بولتے ہوۓ حوریہ کی طرف دیکھا۔
ابو! کیا آپکو بھی لگتا ہے میں بدکر۔۔۔۔۔۔ اسکے آگے حوریہ سے بولا بھی نا گیا۔
نہیں حوریہ مجھے اپنی بیٹی پر پورا یقین ہے۔ میری بیٹی ایسی نہیں وہ سکتی۔ وہ اسکے سر پر شفقت سے ہاتھ پھیرتے ہوۓ بولے۔
تو آپنے ازلان کو ہی کیوں چنا۔ آپ جانتے پہلے ہی سارے خاندان میں باتیں ہو رہی ہیں۔ اوپر سے اگر ازلان سے ہی شادی کر لوں گئی تو سارے الزام سچ ثابت ہو جائیں گے۔ وہ اپنے خدشہ بیان کر گئی۔ جو رات سے اسکے دماغ میں گھوم رہا تھا۔
حوریہ! جس لڑکے کے ساتھ میں تمہاری شادی کروا رہا ہوں۔ وہ اس قابل ہے کہ تمہارے کردار پر لگا ہر داغ مٹاۓ گا۔ دیکھنا ایک دن تم خود آ کر مجھے بولو گئی۔ کہ ابو آپنے بہت اچھا فیصلہ کیا تھا۔ تو کیا تم اپنے ابو پر بھروسہ کر کے اپنی ذات کے حوالے سے میرا آخری فیصلہ قبول کر سکتی ہو؟ وہ پر امید نظروں سے اسکی طرف دیکھ کر بولے۔ حوریہ نے آنکھیں بند کر کے لمبا سانس لیا اور ہاں میں گردن ہلائی۔
شکریہ میری بچی امین صاحب بول کر کھڑے ہوۓ اور اسکے سر پر دوبارہ ہاتھ پھیر کے اپنی انکھیں صاف کرتے کمرے سے نکل گے۔ حوریہ کی ایک ہاں نے انکے دل سے بہت برا بوجھ اتار دیا تھا۔
اس وقت امین صاحب بشرہ بیگم آصف اور عطیہ رشید صاحب کے گھر پہنچ چکے تھے۔ ازلان نے انہیں حال میں بیٹھایا۔
وہ چاروں کرسیوں پر بیٹھے ہوۓ تھے۔ ماجدہ بیگم بھی پاس ہی کرسی پر بیٹھ گئیں۔ صدف نے انہیں پانی دیا۔ ازلان وہی پاس پڑی چارپائی پر بیٹھا ہوا تھا۔ صدف بھی وہی آ گئی۔
آپ سب جانتےہیں ہم یہاں پر کس حوالے سے بات کرنے کے لیے اکھٹے ہوۓ ہیں۔ امین صاحب نے بات کا آغاز کرنا چاہا۔
جی جانتے ہیں بہت اچھے سے جانتے ہیں۔ کل سے ہمارے گھر میں یہی تماشا لگا ہوا ہے۔ تو مزید وقت ضائع کرنے سے بہتر ہے ہم تاریخ طے کر لیں۔ ماجدہ بیگم سنجیدہ لہجے میں بولیں۔ بشرہ بیگم نے امین صاحب کو دیکھا۔
دیکھیں بھابھی میں مانتا ہوں کہ مجھ سے غلطی۔۔۔۔ امین صاحب ابھی بول ہی رہے تھے کہ ماجدہ بیگم نے ٹوک دیا۔
دیکھیں آپ سب جو بات کرنے آۓ ہیں وہی کریں۔ آپ معافی طلافی کریں گے۔ پھر میں کچھ بولوں گی۔ بات بگڑ جاۓ گئی۔ تو اچھا ہے ان باتوں کو ایک سائڈ پر رکھ کر رشتے کی تاریخ طے کرلیں۔ ہمارا پاس اتنے پیسے نہیں ہیں جو لمبی چوڑی شادی کریں۔ تو اچھا ہو گا اگر اس جمعے کو چھوٹا سا فنگشن ہو جاۓ۔ ماجدہ بیگم انہیں ٹوکٹے ہوۓ بولیں۔ سب نے ایک دوسرے کی طرف حیرانگی سے دیکھا۔
پر اتنی جلدی کیسے سب ہو گا؟ آج تو بدھ ہے۔ بشرہ بیگم بولیں۔
اگر اپنی بیٹی کی میرے بیٹے سے شادی کرنی ہے تو جمعے کو ہی ہو گئی۔ ورنہ نہیں ہو گئی۔ ماجدہ بیگم سخت لہجے میں بولیں۔
پر امی! ازلان اُٹھ کر انکے پاس آتے ہوۓ بولا۔
ٹھیک ہے تو طے ہوا جمعے کو ہی شادی ہو گی۔ امین صاحب بولے۔ کچھ پل کے لیے ماجدہ بیگم چپ ہو گئیں کچھ سوچ کر وہ دوبارہ بولیں۔
میری کچھ شرطیں ہیں۔
کیسی شرطیں۔ پہلے ہی شادی ایک دن بعد رکھ کر آپکی شرط مان تو لی عطیہ تیز لہجے مین بولی۔
اگر آپ لوگ چاہتے ہیں یہ شادی ہو تو میری پہلی شرط ہے ہمیں آپکے گھر کا ایک بھی پیسا نہیں چاہیے اپنی بیٹی کو دو جوڑوں میں روانہ کریں گے۔ دوسری شرط شادی کے بعد امین صاحب اور بشرہ بیگم میرے گھر میں تا عمر تک قدم نہیں رکھیں گے۔ اپکی بچیاں آ سکتی ہیں پر آپ دنوں کا آنا منع ہے۔ انہوں نے ایک اور پاسہ پھینکا تھا۔ کیا پتہ اب انکار کر دیں۔
تائی آپکو نہیں لگتا اب کچھ زیادہ ہو رہا ہے؟ عطیہ غصے سے بولی۔
امی یہ سب کیا بول رہی ہیں صدف انکے پاس آ کر انکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بولی۔ ماجدہ بیگم نے اسے گھورا۔
مجھے منظور ہے امین صاحب جو کہ کافی دیر سے ماجدہ بیگم کی عجیب سی شرطوں کو سن رہے تھے وہ سمجھ گے کہ یہ سب وہ کیوں کر رہی ہیں وہ بات بڑھنے سے پہلے ہی بولے۔
ابو! عطیہ حیرانگی سے بولی۔
مجھے اپکی ساری شرطیں منظور ہیں۔ مبارک ہو رشتہ طے ہو گیا ہے۔ آپ بارات لے کر جمعے والے دن آ جائیے گا۔ امین صاحب ہلکا سا مسکرا کر بولے۔ ماجدہ بیگم اب کیا بولتیں وہ چپ سی ہو گئیں۔
میں مٹھائی لے کر آتی ہوں۔ صدف خوشی سے بولتی کیچن کی طرف پلٹی۔ وہاں پر اب ماحول خوشگوار ہو گیا تھا۔ سب کافی دیر تک وہاں بیٹھے چیزیں ڈسکس کرتے رہے۔ پھر اجاذت لے کر چلےگے۔
امی یہ سب کیا تھا؟ ازلان انکے جاتے ہی ماجدہ بیگم سے مخاطب ہوا۔
میں نے وہی کیا جو مجھے صحیح لگا۔ اور تم خوش ہو جاؤ تمہاری خواہش پوری ہو گئی۔ اب تیاری کرو۔ وہ بول کر اُٹھیں اور اپنے کمرے میں چلی گئیں۔
ازلان تم پریشان مت ہو سب ٹھیک ہو جاۓ گا۔ صدف ماجدہ بیگم کو جاتے دیکھ کر بولی۔ ازلان نے لمبا سانس لے کر ہوا کے سپرد کیا اور ہاں میں گردن ہلائی۔
جمعے کا دن:
وہ اپنے کمرے میں تیار ہو رہا تھا جب حامد ارسم کو لیے کمرے مین داخل ہوا۔ ازلان نے جیسے ہی اسے فون کیا وہ اگلی ہی بس کی ٹکٹ لے کر صبح یہاں پہنچا۔
او ہو۔۔۔ حامد دیکھ زرا آج اسکے چہرے کی مسکراہٹ ہی بدلی ہوئی ہے۔ آنکھوں کی چمک بتا رہی ہے۔ بچپن کی محبت کو بل آخر اپنے نام کرنے کی کتنی خوشی ہوتی ہے۔ ارسم کمرے میں داخل ہوتے ہوۓ بولا۔ ازلان نے برش پکڑ کر اپنے بال سیٹ کیے۔
او نہیں تو کیا ارسم بھائی آپنے کبھی بھائی کو یوں اپنے بال سیٹ کرتے دیکھا تھا۔ دیکھو کتنی دیر سے وہ لگے ہیں پر بال ہیں کے سیٹ ہونے کا نام ہی نہیں لے رہے۔ حامد نے بھی حصہ ڈالا۔
تم دونوں میرا سر کھانے کی بجاۓ جا کر باقی سب کو دیکھو تیار ہوۓ۔ ازلان نے برش ڈریسنگ پر رکھتے ہوۓ کہا۔
وہ تو سب تیار ہیں بس ہمارے دلہے کی ہی تیاریاں ختم نہیں ہو رہی۔ جگر تم جتنا مرضعی تیار ہو جاؤ۔ مجھے یقین ہے بھابھی کے سامنے پھیکے ہی لگو گے۔ ارسم اسکے کندھے پر تھپکی دیتے ہوۓ بولا۔
اسکے سامنے خوبصورت دیِکھنا کون چاہتا ہے۔ جانتا ہوں اسکے سامنے تو پھیکا ہی لوں گا۔ وہ ایک ادا سے کہتا مسکرایا تھا
اُو ہو۔۔۔۔۔ اتنی محبت حامد اور ارسم دونوں ساتھ میں بولے۔
بھائی! امی بول رہی ہیں اگر باتیں ختم ہو گئی ہو تو آ جائیں۔ کرن کمرے میں داخل ہوتے ہوۓ بولی۔
تمہیں کیا ہوا؟ منہ کیوں بنایا ہوا ہے؟ حامد کل سے اسکے لہجے کو نوٹ کر رہا تھا۔
کیونکہ میرا منہ ایسا ہی ہے۔ اب آ جائیں وہ بدتمیزی سے کہتی باہر نکل گئی۔
یہ الگ ہی نمونہ ہے حامد اسکے جاتے ہی بولا۔
حامد! ازلان نے اسے ٹوکا۔ تینوں ایک ساتھ باہر آۓ کچھ رسموں کے بعد وہ لوگ امین صاحب کے گھر کی طرف روانہ ہو گے۔
وہ اس وقت دلہن کے لباس میں تیار اپنے کمرے میں بیٹھی ہوئی تھی وہ اپنی جگہ سے اُٹھی کر آئینے کے سامنے آ کر کھڑی ہوئی۔ اسکا عکس آئینے میں دیکھا۔ وہ اج بھی بے انتہا خوبصورت لگ رہی تھی۔ خود کو دیکھ کر اسکی انکھوں میں کچھ مہینے پہلا کا منظر لہرایا۔ وہ تب کتنی خوش تھی کتنی امیدیں لگا کر اسنے شادی کی تھی۔ آج اسے سب بے معنی سا لگ رہا تھا۔ یہ کپڑے جیولری اتنا میک اپ سب دیکھ کر اسے گھٹن سی ہونے لگی وہ پلٹی اور بیڈ پر آ کر بیٹھ گئی۔ آنکھوں میں آئی ہلکی سی نمی کو اسنے صاف کیا۔
آپی ازلان بھائی کے گھر والے آ گے ہیں۔ ماہم کمرے میں داخل ہوتے ہوۓ بولی۔
اچھا! وہ بس اتنا ہی بولی۔ اور اپنے ہاتھوں کو دیکھنے لگی۔ جن پر افرحہ نے زبردستی مہندی لگائی تھی۔
ماہم اسکے پاس بیٹھ کر باتیں کرنے لگی۔ جس کا جواب وہ ہاں نا میں ہی دے رہی تھی۔
کچھ دیر بعد کمرے میں امین صاحب نکاح خواں کو لے کر آۓ انکے پیچھے افرحہ اور بشرہ بیگم تھیں۔
نکاح خواہ نے نکاح پڑھانا شروع کیا۔ جب اسنے کہا۔ کیا آپکو یہ نکاح قبول ہے۔ حوریہ کی انکھیں دھندلی ہوئیں۔ انکھوں کے سامنے پھر سے وہ دن آیا جب اسنے نکاح قبول کیا تھا۔
حوریہ بیٹے بولو۔ جو وہ کچھ پل کے لیے نا بولی تو امین صاحب نے اسکے سر پر ہاتھ رکھ کر کہا۔ وہ جیسے ان بری یادوں کے حصار سے باہر نکلی۔ اور پلکیں جھپکائیں۔ آنکھوں سے آنسوں نکل کر اسکی مہندی لگی ہتھیلوں کو بھگو گے۔
قبول ہے! اسنے گردن ہاں میں ہلا کر کہا۔ نکاح خواہ نے دو مرتبہ مزید پوچھا اسنے پھر سے قبول ہے کہا۔ کانپتے ہاتھوں سے اسنے سائین کیے۔
اللہ پاک تمہاری جھولی کو خوشیوں سے بھر دے۔ اسکے سائین کرتے ہی امین صاحب نے اسکے سر پر بوسہ دیتے ہوۓ کہا۔امین صاحب نکاح خواہ کے ساتھ نیچے آ گے۔ انکے جاتے ہی وہ بشرہ بیگم کے گلے لگ کر خوب روئی۔
اب نکاح خواہ ازلان کے پاس بیٹھا نکاح پڑھا رہا تھا۔ جب اسنے ( کیا اپکو یہ نکاح قبول ہے) کے کلمات کہے۔ تو ازلان کچھ پل کے لیے چپ ہو گیا۔ اسکا دل ایک دم دھڑکا۔ یہی لمحات وہ کئی بار خواب میں دیکھ چکا تھا۔ آج جب وہ سب سچ ہو رہے تھے تو اسے یقین نہیں آرہا تھا۔ بے اختیار اسکی آنکھیں ہلکی سی نم ہوئیں۔ اور اسنے اسی کیفیت کے حصار میں قبول ہے کے الفاظ بولے۔ تیسری دفع بولتے ہی ایک آنسوں اسکی آنکھ سے بہا۔
آج اسنے اپنی بچپن کی محبت کو اپنے نکاح میں لیا تھا۔ وہ ان سالوں میں کس کس کیفیت سے گزرا یہ صرف وہی جانتا تھا۔ اسنے کتنی دفع خود کو بے بس پایا تھا۔ کتنی ہی دفع وہ اپنے رب کے حضور جھک کر اپنی محبت کو مانگتا تھا۔ اور آج اسکے رب نے اسکی محبت کو نکاح کے مظبوط بندھن میں جوڑ کر اسے دے دیا تھا۔ نکاح کے بعد وہ سب کے گلے لگ کر مبارکیں وصول کر رہا تھا۔ نکاح کے بعد کھانا لگایا گیا۔ کیونکہ یہ ایک چھوٹا سا فنگشن تھا تو حوریہ کو سٹیج پر نا لایا گیا۔
ماجدہ بیگم نے وہاں کسی سے بات نہیں کی تھی۔ اور کرن انکے ساتھ ہی تھی۔
بہن کی شادی مبارک ہو۔ وہ مٹھائی کا ٹکڑا پکڑتے ہوۓ افرحہ کو بولا جو سب کو مٹھائی بانٹ رہی تھی۔
آپکو بھی اپکے بھائی کی شادی مبارک ہو۔ وہ سنجیدگی سے بولی۔
اچھی لگ رہی ہو۔ حامد بولا۔
حامد صاحب آپ اب میری بہن کے دیور ہیں۔ تو اچھا کے اپنی حد میں رہیں۔ مجھ سے زیادہ فری ہونے کی ضرورت نہیں۔ ہٹیں۔ وہ بول کر آگے بڑھی۔ حامد بس اسے جاتے دیکھتا رہا۔ کئی مہینوں سے وہ اس سے بات کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ پر وہ ہر بار کی طرح اسے اگنور کر کے چلی جاتی۔
کچھ دیر بعد حوریہ کی رخصتی ہو گئی۔ وہ سب آٹھ بجے کے قریب گھر پہنچے۔
جاری ہے۔۔۔۔۔
