51.6K
29

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 16

چھے ماہ بعد:
یہ چھے ماہ کسی کے لیے خوبصورت تو کسی کے لیے زندگی کے بدصورت مہینوں مین سے ایک تھے۔ آج پورے سات ماہ بعد ازلان دو ہفتے کی چھٹی ملنے کے بعد واپس اپنے گھر آیا تھا۔ ان چھے مہینوں میں اسمے دن رات کمپنی کے لیے کام کیا اور اپنی محنت اور لگن کے ساتھ ایک قابل امپلائی بن کر ابھرا۔ وہ پر امید تھا کہ ایک سال پورا ہوتے ہوتے اسے پرموشن بھی ملے گئی۔ اور پرموشن کے ساتھ ملنے والی سہولیات کی اسے اشد ضرورت تھی۔
بھائی آپکو پتہ ہے کتنا مس کیا۔ آپ تو میرے رزلٹ کی خوشی منانے کے لیے بھی نہیں آۓ۔ کرن منہ پھلا کر بول رہی تھی۔
اب اسکے لیے معافی مانگنی پڑے گئی۔ اور معافی مانگے کے ساتھ جو میں گیفٹ لایا ہوں وہ بھی دینا ہو گا۔ ازلان مسکراہٹ دبا کر بولا۔
گیفٹ! کرن چہکی۔ ماجدہ بیگم اور حامد نے اسکی ایکسائیٹمنٹ کو دیکھے قہقہ بلند کیا۔ وہ جانتے تھے جب ازلان اس دن نہین آیا تھا تو وہ کتنا روئی تھی۔
یہ لو گفٹ ازلان نے ایک گفٹ اسکے سامنے کیا جو کہ فل کور تھا۔ کرن نے جلدی سے اسے کھولا۔
لیپ ٹاپ وہ خوشی سے چیخی۔ تھینک یو بھائی۔ وہ ازلان کے سینے سے لگ کر بولی۔ ازلان اپنی چھوٹی بہن کو اتنا خوش دیکھ کر مسکرایا۔ وہ اب ان تینوں کو کسی چیز کی کمی نہین ہونے دینا چاہتا تھا۔ وہ انکی ساری ضرویات کو پوری کرنا چاہتا تھا۔
ازلان پُتر جلدی آجایا کر اتنے لمبا عرصہ تجھ سے دور نہین رہا جاتا۔ ماجدہ بیگم نے اپنی انکھیں پونچھ کر کہا۔
امی! شروع کے مہینوں چھٹی ملنی مشکل تھی۔ اب ہر مہینے کے آخر میں دو تین دن کے لیے آ جاؤں گا۔ پھر انشااللہ جلد ہی آپ سب کو وہی لے جاؤں گا۔ اسنے ماجدہ بیگم کو اپنے ساتھ لگا کر کہا۔ جو کہ روے جا رہی تھیں۔
ادھر کیسے بھائی کرن تجسس سے بولی۔
گڑیا ایک سال تک کمپنی مجھے گھر دے گئی۔ تو وہی لے کر جاؤں گا۔ وہ مسکرا کر بولا۔
ماشااللہ اللہ تجھے ساری خوشیاں دے۔ ماجدہ بیگم نے اسکا ماتھا چوم کر بولا۔
امی اب اپنے ہاتھ کا کھانا کھلا دیں۔بہت مہینے ہو گے اپنی ماں کے ہاتھ سے کھاۓ ہوۓ وہ بالکل بچوں کی طرح لاڈ سے بولا۔
میں ابھی بناتی ہوں جو جو میرے بچے کو پسند ہے۔ ماجدہ بیگم اُٹھ کر کھڑی ہوئیں اور کیچن میں چلی گئیں کرن اپنا لیپ ٹاپ چارج پر لگانے چلی گئی۔
چل حامد ابا کی قبر پر جانا ہے۔ تب تک امی کھانا بنا لیں گئیں۔ وہ چارپائی سے کھڑا ہو کر بولا۔ حامد نے سر ہلایا اور اسکے ساتھ گھر سے بایر نکل گیا۔
وہ دونوں قبرستان پہنچے۔ ازلان نے قبر پر پھول پھیلاۓ اور وہی سورت یا سین پڑھ کر کافی دیر تک دعا مانگتا رہا حامد بھی اسکے ساتھ پڑھ رہا تھا۔ اتنے مہینوں بعد اپنے باپ کی قبر پر آ کر اسے بہت سکون ملا۔ وہاں سے نکل کر کچھ سامان لے کر گھر واپس ا گے۔ گھر پہنچے تو ماجدہ بیگم نے کھانا بنا لیا تھا۔ سبھی نے ہنسی خوشی کھانا کھایا۔
چونکہ نومبر کا موسم شروع ہو رہا تھا۔ سرد اپنا زور پکڑ رہی تھی۔ ازلان نے کرن سے چاۓ بنوائی وہ حامد کے ساتھ چھت پر ا گیا۔ اور اسکے ساتھ چاۓ پینے لگا۔
کیا ہوا بہت چپ چپ ہے ازلان حامد کی عیر معمولی چپی نوٹ کرتے ہوۓ بولا
نہیں ایسی بات تو نہیں اسنے نظرین چُڑا کر کہا۔ ازلان نے اسکا ایسا کرنا بہت غور سے دیکھا۔
کیا بات ہے؟ سب ٹھیک تو ہے نا کوئی پریشانی یے تو بتا ازلان اب فکر مندی سے اسکی جانب متوجہ ہوا۔ حامد کو اپنے بھائی کا یوں فکر مند ہونے پر بہت پیار آیا۔ وہ اگے بڑھا اور اسکے سینے سے لگا۔
کیا ہوا جگر ؟ ازلان کو اب واقعی فکر ہو گئی۔ حامد ایسا کبھی نہیں کرتا تھا۔
کچھ نہیں بھائی بس اتمے مہینوں بعد آپ آۓ مین اداس ہو گیا تھا۔ وہ معصوم سا منہ بنا کر کسی بچے کی طرح لگا۔
پاگل بولا تو ہے اگے سے مہینے بعد آؤ۔ ازلان نے اسکے بال بِگاڑے۔ اور چاۓ پینے لگا۔ وہ دونوں کافہ دیر چھت پر بیٹھے باتیں کرتے رہے۔ حامد چھے مہینوں کی ساری باتیں بتا رہا تھا۔


زین اس دن کا نکلا واپس نہین گیا تھا۔ رزلٹ کے بعد اسے گورمینٹ یونی مین ایڈمیشن مل گیا۔ جہان ماہم اور کزن بھی تھیں دونوں کو ایک ہی یونی مین ایدمیشن ملا جہاں افرحہ اور حامد پرھتے ہیں۔ ماہم نے کافہ دفع کرن سے بات کرنے کی کوشش کی تھی پر وہ اسے اگنور کر دیتی۔ زین بھی انہی کی کلاس میں تھا۔
السلام علیکم! وہ اپنی اسائیمنٹ بنا رہی تھی۔ جب پاس سے زین کی آواز آئی۔ اسنے سر اُٹھا کر دیکھنا بھی گوارہ نا کیا۔
کیا کر رہی ہو؟ وہ پاس پڑی کرسی پر بیٹھ کر بولا۔
گھاس کھود رہی ہوں دیکھ نہیں رہا کام کر رہی ہوں۔ وہ چڑ کر بولی۔
چڑیل اتنی نظر مت لگا ورنہ اندھی ہو جاۓ گئی۔ نا چاہتے ہوۓ بھی تجھے لے کر سڑک پر نکلنا پڑے گا۔ اللہ کے نام پر میری کزن کو کچھ دے دو۔ بچاری کھانے پینے سے گئی گزری ہے۔ زین نے اسکا عجیب سا نقشہ کھینچا۔
اف زین حد ہے ماہم نے سوچ کر ہی جھرجھری لی۔
تم گھر واپس نہیں جا رہے؟ ماہم نے ٹاپک بدلنا چاہا وہ جانتی تھی زین اسکی جان نہیں چحوڑے گا۔
اپنی زبان سے بولو زین اُٹھو اپنا بوتھا شریف لے کر دفع ہو جاؤ چلا جاتا ہون یوں موڈ آف مت کرو۔ وہ منہ بسور کر ناراضگی بھرے لہجے میں بولا۔
اوو میرے دشمن کو برا لگ گیا۔ سوری وہ کان پکڑ کر معصوم سا چہرا بنا کر بولی۔ زین نے اسکی طرف دیکھا۔
ہاۓ یوں کیوٹ مت بنو دل کے تار چھیرتی ہو وہ دل پر ہاتھ پھیر کر بولا۔
مرو جا کر ماہم نے اسکے سر پر اپنا رجسٹر مار کر کہا۔
آہ ظالم لڑکی کیوں میری جان کی دشمن بنی ہو۔ وہ اپنا سر سہلاتے ہوۓ بولا۔
ایک رجسٹر ہی تو مارا ہے زین تم تو ایسے ری ایکٹ کر رہے ہو جیسے بم تمہارے سر پر پھوڑ دیا ہو۔ ماہم چڑ کر بولی۔ اور خاموش ہو کر دوسری طرف منہ کر لیا۔ زین بھی تھوڑی دیر کے لیے خاموش ہوا پر اس سے بات کیے بنا کیسے رہ سکتا تھا۔ تو اسکی طرف دیکھ کر ہلکی آواز میں بولا۔
اج لنچ میں کیا لائی ہو؟ وہ ایسے رازداری سے بول رہا تھا جیسے کسی نے سن لیا تو اسکا لنچ کھا جاۓ گا۔ اسکی بات سن کر ماہم بھی سیدھی ہوئی اور اپنے بیگ سے ایک دبہ نکالا۔ اور کھول کر اسکے سامنے کیا۔ زین کی آنکھوں میں چمک ابھری۔ کیونکہ سامنے بریانی تھی۔
چل اسے گرم کروا کر کوک کے ساتھ کھاتے ہیں۔ زین نے دبا اُٹھا کر کہا۔ ماہم بھی اسکے پیچھے کینٹین کی طرف بڑھی۔
یہ دونوں کا معمول تھا۔ جب پہلے دن ماہم کلاس میں آئی تھی۔ تب اسے زین ایک کرسی پر بیٹھا دیکھا تھا ۔وہ بھی اسے دیکح چکا تھا پر اپنی بھائی لے کیے گے عمل پر اسے شرمندگی ہوئی۔ ایک ہفتے تک دونوں کے درمیان کوئی بات نا ہوئی۔ ایک دن ماہم نے گھر جاتے وقت ایک ریستورینٹ پر زین کو ویٹر کا کام کرتے دیکھا۔ وہ کافی کنفیوز ہوئی۔ اگلے ایک دو کلاس میٹس سے پوچھنے پر اسے پتہ چلا کہ زین ہاسٹل مین رہتا ہے۔ کیونکہ اسکا اسلے گھر والوں سے جھگڑا ہوا ہے۔ تجس کے مارے ماہم ایک دن اسکے پاس بیٹھی اور بات کرنے لگی۔۔ اسکے پوچھنے پر زین نے سب بتا دیا۔ ماہم کا دل بہت نرم تھا یہی سوچ کر کے وہ اپنے گھر والوں سے دور رہتا ہے۔ وہ اسکے لیے گھر سے کھانا لانے لگی۔ اور یونہی تین مہینوں مین دونوں کے درمیان لڑائی جھگڑے والی لیکن کیوٹ سی دوستی ہو گئی۔ زین ماہم سے بات کر کے کچھ پل کے لیے سب بھول جاتا تھا۔ ماہم تو کرن سے بھی بات کرنا چاہتی تحی پر کرن نے ان دونوں کو ہی اگنور کیا اور اپنا الگ گروپ بنایا۔ ماہم نے اسے اسکے حال پر چھوڑ دیا۔
افرحہ نے کئی دفع زین کو ماہم کے ساتھ ہنستے مسکراتے کھانا کھاتے دیکھا تھا۔ اسنے ماہم سے بات کی تو اسے خوشی ہویی کہ ماہم نے زین کے ساتھ حامد جیسا رویہ نہین رکھا وہ بھی زین سے بات کر لیتی تھی۔ حامد کی پہلے ہی زین سے کافی بنتی تھی وہ بھی اکثر اسکے ساتھ ہوتا اسے گائیڈ کرتا۔ زین نے شکر ادا کیا کم از کم اسکے کزنز نے اسے علحیدہ نہیں کیا۔ مریم بیگم کافی بار اسکے ہاسٹل آئیں اور اسے واپس آنے کا کہا پر اسنے ہمیشہ انکار کیا۔

کچھ ہی مہینوں میں اپنے بیٹے کی شادی کروں گئی۔ پھر تم سب کو دھیر مٹھائی کھلاؤں گی۔ ابھی اتنی کھاؤ۔ مریم بیگم نے مٹھائی کی پلیٹ سامنے بیٹھیں محلے کی عورتوں کو دی۔
شادی میرے خیال میں ازلان کی شادی اس کیا نام تھا اسکا ہاں حوریہ کےساتھ ہی کرو گئی۔ ان میں سے ایک عورت بولی۔
ہاں ماجدہ میں نے سنا ہے۔ اس لڑکی کا ازلان کے ساتھ چکر تھا جسکی وجہ سے اسکے شوہر نے طلاق دے دی۔ دوسری عورت بولی۔ ازلان جو کہ ابھی گھر پہنچا تھا وہ دروازے کی دہلیز پر ہی ٹھہر گیا اندر سے آنے والی آوازیں اسکے سر پر بم کی طرح گِڑیں۔
ارے کیا بات کر رہی ہو۔ کسی اور سے چکر چل رہا ہو گا۔ خا مخوا میرے بیٹے کا نام لے لیا۔ اور میرے ازلان کو کیا لڑکیوں کی کمی ہے جو اس داغی اور بد کردار لڑکی سے شادی کرے گا۔ ماجدہ بیگم نے طنزیہ انداز مین حوریہ کی بے عزتی کی۔ ازلان کی ٹانگیں کانپیں۔ یہ سب وہ کیا سن رکا تھا اسکی ماں کیا بول رہی تھی۔
سچ کہا۔ ایک تو اسکا چہرا خراب یے اوپر سے اب تو وہ طلاق یاقتہ بھی ہے ازلان کو بھلا لڑکیوں کی کیا کمی جو وہ اس لڑکی کے ساتھ شادی کرے گا۔ وہی عورت بولی۔
یہ لو چاۓ پیو ماجدہ بیگم نے انکے سامنے چاۓ کی۔
بہت سے لوگ ایسے ہی کسی کی بھی بچی پر بیٹھ کر تبصرے کرتے ہیں۔ یہ جانے بغیر کہ اصل میں مجرم کون ہے وہ لڑکی یا وہ لڑکا۔ سچ جانے بغیر کہی بھی بیٹھ کر اسکے کردار کی دھجیاں بکھیر دیتے ہیں۔ یہ جانتے ہوۓ کہ انکی خود کی بیٹیاں بھی ہیں پھر بھی وہ کسی کی بیٹی کے بارے میں باتیں کرتے وقت انکا دل نہیں کانپتا کہ خدا نا خاستہ کل کو یہ مقام ان پر بھی آ سکتا کے۔
ازلان سے مزید نا کھڑا ہوا گیا۔ وہ الٹے پیر پلٹا اور اپنی بائیک لے کر محلے سے نکل گیا۔ اسکا دماغ سائیں سائیں کر رہا تھا۔ اب وہ اصل بات جاننا چاہتا تھا اور وہ حامد کے سوا کوئی نہیں بات سکتا تھا گھڑی پر وقت دیکھتے ہوۓ وہ یونی کی طرف موٹر سائیکل گھوما گیا۔ آدھے گھنٹے مین وہ یونی پہنچا وہاں پر شائد چھٹی ہو گئی تھی ازلان نے باییک ایک طرف کھڑی کی اور حامد کو فون ملایا۔
کچھ ہی دیر بعد حامد کرن کے ساتھ اسکے پاس آیا۔
بھائی آپ یہان کیا کر رہے ہیں؟ وہ ازلان کے اہس پہنچ کر مسکرا کر بولا۔ یہ دیکھے بنا کہ ازلان کے چہرے پر غصہ ہے۔
کرن تم وین میں جاؤ حامد میرے ساتھ جاۓ گا۔ ازلان نے لہجہ کو نرم رکھ کر کہا۔
السلام علیکم! ازلان بھائی کیسے ہیں کرن جانے ہی لگی تھی جب ماہم کیاآواز آئی جسکے ساتھ افرحہ اور زین بھی تھے۔
وعلیکم السلام! میں ٹھیک ہوں تم سب کیسے ہو۔ وہ تینوں کی طرف دیکھ کر بولا۔
ہم بھی ٹھیک ایک دن فٹ فاٹ ماہم چہک کر بولی۔
بھائی مین وین میں جا رہی ہوں کرن ان تینوں کو دیکھ کر چڑی تھی تبھی بولی اور وین کے قریب چلی گئی۔
ازلان بھائی اپنا خیال رکھیے گا بعد میں میلں گے۔ افرحہ ہلکا سا مسکر اکر بولی۔ حامد نے اسکی طرف دیکھا اسے یقین نہین تھا کہ وہ اسطرح نارمل اندز میں بولے گئی۔ وہ سمجھ گیا کہ اس دن وہ غصے میں بول رہی تھی۔ ان چھے مہینوں میں افرحہ نے ہر ممکن حد تک اسے اگنور کیا تھا۔ ازلان مسکرایا۔ وہ سب چلے گے۔ اب وہ حامد کو باییک پر بیٹھا کر لے گیا۔ کچھ دور جانے پر ایک جگہ پر اسنے بائیک روکی۔
کیا ہوا بھائی ؟ حامد حیرہت سے بولا۔ اور نیچے اترا۔
حوریہ کی طلاق کب کیسے اور کیوں ہوئی ؟ ازلان سیدھے انداز میں بولا۔ اسکے سوال سن کر حامد کا رنگ اُڑا۔
آپکو کس نے بتایا؟ وہ ہچکچاتے ہوۓ بولا۔
جسے بتانا چاہیے تھا اسنے نہیں بتایا۔ اب طریقے سے سب بتاؤ۔ وہ وارنگ دیتے ہوۓ بولا۔۔حامد نے اپنا بیگ بائیک پر رکھا۔ اور اہستہ آہستہ سب ازلان کو بتانے لگا۔
واٹ اسکا دماغ خراب ہے کس طرح وہ اتنا گھٹیا الزام لگا سکتا ہے۔ وہ تو جیسے سب سن کر آپے سے باہر ہوا۔
میں نے اس لیے نہیں بتایا تھا کہ کہی آپ وہاں پریشان نا ہو جاؤاور سب چھوڑ کر یہاں نا چلے آؤ۔ حامد نے گردن جھکا کر مجرم بن کر کہا۔
میرا دل ایسے ہی بے چین نہین تھا۔ وجہ یہ تھی۔ اسکی زندگی برباد ہو گئی۔ وہ بھی میری وجہ سے ازلان وہی بائیک سے ٹیک لگا کر کھڑا ہوا تھا۔
نہیں بھائی آپکی وجہ سے نہین اس اسد نے جھوٹا الزام لگایا یے۔ حامد نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا۔
جو بھی ہو جس محبت کو اسی لیے چھپا کر رکھا کہ اسکے لیے مشکل نا بنے وہی محبت آج اسکے گلے کا پھندا بن گئی۔ ازلان چہرا ہاتھوں مین دے کر بولا۔
جاری ہے۔