51.6K
29

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 3

کالی ہُڈی پہنے چہرے کو کور کیے کوئی دیوار کو پھاند کر گھر میں داخل ہوا۔ وہ وجود آہستہ آہستہ چلتے ہوۓ میں گیٹ کی طرف بڑھا۔۔۔
پانچ فٹ کی دیوار کو پھاند کر وہ گھر کے گارڈن میں داخل ہوا۔ ہرطرف اندھیرا تھا۔ اوپر کے ایک کمرے کی لایٹ جل رہی تھی۔ وہ چلتا ہوا داخلی دروازے کی طرف بڑھا۔ جیسے ہی وہ دروازے کے قریب پہنچا۔ اندر سے چٹکی کھلنے کی آواز آئی۔ اگلے ہی پل دروازہ کھل گیا۔
ہاۓ! وہ اندر داخل ہوتے ہوۓ بولا۔
ہاۓ کے بچے یہ وقت ہے گھر آنے کا اگر بھائی جاگ گے تو پٹو گے۔ اسنے اسکے کندھے پر تھپر مارتے ہوۓ کہا۔
اُو مائی ڈیر سسٹر تم کس لیے ہو۔ یہی سب سھنمبالنے کے لیے تو تمہیں اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں بھیجا ہے۔ جاؤ جا کر اپنے بھائی کی حفاظت کرو۔ وہ اسکے بال بگارتے ہوۓ بولا۔
آہ زین اگر اب دوبارہ اگر تم نے میرے بال بِگارے تو قسم سے اگلی دفع دروازہ نہیں کھولوں گئی پتہ ہے کب سے انتظار کر رہی تھی۔ اج شادی کی وجہ سے کتنی تھک گئی تھی ۔ وہ منہ بسورتے ہوۓ بولی۔
سوری سحر آپی وہ اصل میں دوست کے فام ہاؤس پر پارٹی تھی تو اسی لیے دیر ہو گئی۔
او ہیلو آئندہ مجھے اپی نا کہنا تم سے تھوری سی ہی بری ہوں۔ اور اب تم بھی یہ چوروں کی طرح آنا بند کرو اور پڑھائی پر فوکس کرو۔ سیکنڈ ایر کے پیپرز سر پر ہیں۔ گورمنٹ یونی میں ایڈمیشن نہیں ملے گا۔
یار یہ لیکچر بعد مین دے دینا ابھی ایک کپ کافی بنا دو۔ میں فریش ہوتا ہوں۔ وہ ہُڈی کو اتار کر اسکے منہ پر پھینکتے ہوۓ بولا اور اگے بڑھ گیا۔ سحر نے دانت پیسے۔ وہ تقربیاً روز ہی رات کو دیر سے واپس اتا تھا۔ اور سحر بیچاری ایموشنل بلیک میل میں ا جاتی اور روز اسکے میسج ملنے کے بعد فوراٍ مین دروازہ کھولتی۔ ابھی بھی نا چاہتے ہوے وہ کیچن میں گئی اور کافی بنانے لگی۔
مریم بیگم کے شوہر کی دیتھ دس سال قبل پہلے ہو چکی تھی۔ تب تینوں بچے چھوٹے ہی تھے۔ مریم بیگم بشرہ بیگم کی چھوٹی بہن تھیں۔ ان کے تین بچے ہیں۔ اسد جو کہ ملٹی نیشنل کمپنی میں جاب کرتا تھا۔ سحر بی بی اے کی اسٹوڈینٹ تھی اور زین ابھی سیکنڈ ایر میں پرھاتا تھا۔


کبھی تو وقت پر ناشتہ دے دیا کرو۔ ہر کام میں نکمی ہو۔ پتہ نہیں کس منحوس وقت میں تم سے شادی ہو گئی۔ جب سے زندگی میں آئی ہو۔ ساری قسمت میں کالک ہی جم گئی۔ وہ ڈائینگ ٹیبل پر بیٹھے اونچی اونچی اواز میں بول رہے تھے۔
ماجدہ بیگم نے کانپتے ہاتھوں سے ان کے اگے پڑاٹھا رکھا۔
ابو یہ چاۓ حوریہ نے کپ ٹیبل پر رکھنے لگی۔ انجانے میں کپ سے چاے ٹیبل اور امین صاحب کے کپڑوں پر گڑ گئی۔
پاگل بے وقوف لڑکی تمہیں عقل نہیں اندھون کی طرح کام کرتی ہوں۔ امین صاحب نے اسکے چہرے پر تھپڑ مارتے ہوۓ کہا۔ حوریہ گال پر ہاتھ رکھتے ہوۓ چہرہ جھکا گئی۔ ابھی وہ اگر کچھ بھی بولتی تو اور مار پڑتی۔ ماہم اور افرحہ نے سیڑیوں سے اترتے ہوۓ یہ منظر دیکھا۔
سب کی سب اپنی ماں پر چلی گئیں ہیں۔ کوئی کام ڈھنگ کا نہیں کرتیں۔ عیشوں آرام جو مل گیا ہے۔ ہر وقت بستر پر پڑی رہتی ہو ان کو کوئی کام سیکھاؤ۔ اگلے گھر جا کر ناک ہی کٹوائیں گئی۔ امین صاحب کرسی کو لات مار کر کھرے ہوتے ہوۓ بولے۔ حوریہ ایک دم ڈر کر پیچھے ہوئی۔ ماجدہ بیگم نے گردن جھکا دی۔
ایک لڑکا تو پیدا کر نہیں پائی یہ نکمی چار بوجھ پیدا کر دیے۔ جلدی سے اسکا رشتہ دیکھو۔ اسکو تو بیاہوں۔ ناجانے اور کتنے رشتے ریجیکٹ ہوں گے۔ شکل جو کسی کام کی نہیں۔ نکمی بوجھ کہیں کی۔ وہ بولتے ہوۓ اپنے کمرے کی طرف بڑھے۔
آپی ماہم بھاگ کر حوریہ کے گلے لگی۔ حوریہ بالکل بھی نا روئی۔ تھوری دیر بعد امین صاحب واپس آۓ افرحہ اور ماہم ان کے ساتھ چلی گئیں۔ حوریہ اپنے کمرے میں بند ہو گئی۔
امین صاحب کا ان کے ساتھ ایسا ہی رویہ تھا۔ وہ بالکل بھی پیار نہیں کرتے تھے۔ ہر وقت ماجدہ بیگم کو بیٹے کے طعنے دیتے رہتے۔ حوریہ کے کیے اب تک کئی رشتہ ا چکے تھے۔ پر اسکے چہرے پر پڑے داغ کی وجہ سے سبھی نے ریجکٹ کر دیا تھا۔ اس ریجکشن نے اسکے دماغ پر بہت برا اثر چھوڑا تھا۔ بچپن سے ہر جگہ سے ملنے والے طعنوں نے اس کے اندر سے پر اعتمادی کو جڑ سے پکڑ کر ختم ہی کر دیا تھا۔ وہ اب بہت ڈری ڈری سمہی سمہی رہتی تھی۔ جیسے کوئی اسے کچھ بول نا دے۔ ہر ایسا ہی ہوتا تھا اسی چکر میں اس نے سیکنڈ ایر کے بعد ایڈمیشن لینے سے انکار کر دیا تھا۔ ۔ حالنکہ اسکے نقش بہت ہی خوبصورت تھے۔ اسکے چہرے میں بہت اٹریکش تھی۔ پر اسکی یہ ساری چیزیں ایک داغ کے پیچھے کہی چھپ سی جاتی تھیں۔

پچھلے دو سالوں سے جتنے بھی پیسے جوڑے تھے۔ سب شادی پر ختم ہو گے۔ اب تو گھر کا خرچہ چلنا بھی بند ہونے کے قریب ہے۔ دکان سے بھی کوئی خاص کمائی نہیں ہو رہی تم بتاؤ نوکری کا کیا بنا؟ ملے گئی یا نہیں؟ رشید صاحب حال میں رکھی چارپائی پر بیٹھتے ہوۓ بولے۔
ابا اسلام آباد کی ایک کمپنی میں انٹر ویو ہے۔ بس نکلنے لگا ہوں۔ انشااللہ بہت پر امید ہوں نوکری مل جاۓ گئی۔ وہ اپنے ڈاکومینٹس فائل میں لگاتے ہوے بولا۔
نہہ مل جاۓ گئی۔ پتر پچھلے دو سالوں میں تو ملی نہیں اب کہاں سے مل جاے گئی۔ میں جانتا ہوں بری بری کمپنوں میں صرف شفارشوں سے کام ہوتاہے۔ وہ طنزیہ انداز میں بولے۔
ابو نا امید کیوں ہوتے ہیں انشااللہ ضرور ملے گئی۔ اور دیکھیے گا بہت اچھی پوسٹ پر نوکری ملے گئی۔ وہ مسکرا کر بولا۔
کرن کو اتنے برے کالج میں داخل کروانے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ اسکے کالج سے صبح فون آیا تھا۔ فیس مانگ رہے ہیں بولو کہاں سے دوں۔ میں تو کہتا ہوں اُٹھوا لو۔ کوئی ضرورت نہیں اتنا پڑھانے کی۔ وہ بہت پریشان تھے۔
ابا کیوں ایسی باتیں کر رہے ہیں۔سالوں پہلے ایک بہن کے ساتھ زیادتی ہو چکی ہے۔ صدف باجی کو سکول سے اُٹھوا دیا تھا۔ پر اب کرن کے ساتھ ایسا بالکل نہیں ہونے دوں گا۔ اور ویسے بھی سیکنڈ ایر ہے۔ کچھ مہنوں بعد پیپرز ہونے ہیں۔ اور یاد نہیں گیارویں میں کتنے اچھے نمبر لیے تھے۔ میں وعدہ کرتا ہوں۔ تین چار دن تک اسکے پیسے دے دوں گا۔ جہاں ٹیوشن پڑھاتا ہوں وہاں سے پیسے ملنے والے ہیں۔ وہ چارپائی سے اُٹھ کر بولا۔
ٹھیک ہے ابا اب میں چلتا ہوں دعا کیجیے گا۔ نوکری مل جاۓ۔ شام پانچ بجے انٹرویو ہے۔ پہلے ہی دیر ہو چکی ہے۔ آپ دعا کیجیے گا۔ وہ ان سے گلے ملتا گھر سے باہر نکل گیا۔رشید صاحب اُٹھ کر اپنی دکان پر چلے گے۔
ازلان پچھلے دو سال سے مسلسل نوکری کی تلاش میں تھا۔ پر وہ ہمشہ ریجکٹ ہو جاتا۔ گھر کا خرچ کریانے کی دکان کی کمائی سے کہاں چلنے والا تھا۔ اس نے ایم بی اے تو سکالر شپ سے کیا تھا۔ وہ ایک ذہین اور محنتی اسٹوڈینٹ تھا۔ اسکا ریذلٹ بہت اچھا تھا۔ان سب کے باوجود اسے نوکری ملنے میں پریشانی ہو رہی تھی۔۔ فل حال وہ ٹویشن پڑھا کر ہی گزارا کر رہا تھا۔


کیا ہوا ایسے منہ کیوں بنا کر بیٹھی ہو؟ حامد اپنا بیگ اسکے ساتھ پڑی کرسی پر رکھتے ہوۓ بولا۔ وہ جو گہری سوچ میں ڈوبی ہوئی تھی۔ اپنے پاس سے حامد کی آواز پر چونکی۔
کہی نہیں بس ایسے ہی اسنے بات کو ٹالنا چاہا۔
افرحہ بتاؤ کیا ہوا اتنا پریشان اور اداس کیوں ہو کہی چاچو نے تو کچھ نہیں کہا۔
ابا نے آج پھر سے حوریہ پر ہاتھ اُٹھایا۔ وہ سانس خارج کرتے ہوۓ بولی۔
حد ہو گئی۔ انہیں ایسا نہیں کرنا چاہے پتہ نہیں وہ کب سمجھیں گے۔ حامد افسردہ لہجے میں بولا۔
انہیں ہم بہنوں کی زندگی سے کوئی لینا دینا نہیں۔ وہ تو بس بیٹے کے نا ہونے کے غم میں مبتلا رہتے ہیں۔ امی کو تو ایسے طعنے دیتے ہیں۔ جیسے بیٹا بیٹی ان کے ہاتھ میں ہو۔ آنکھ کا کنارہ صاف کرتے ہوۓ بولی۔
یہ تو سوسائٹی کا المیہ ہے۔ سمجھ دار لوگ ان سب سے بچ جاتے ہیں۔ اور باقی پھنس جاتے ہیں۔ اور اپنی ساری زندگی اسی سوچ سے گزار دیتے ہیں۔ حامد اسکی طرف دیکھتے ہوۓ بولا۔
حوریہ کا رشتہ بھی تو نہیں ہو رہا وہ ہی ہو جاۓ تو اسکی ان باتوں اور طعنوں سے جان تو چھوٹے۔ کل پھر سے کچھ لوگ آنے والے ہیں۔ اللہ کرے اسے پسند کر جائیں۔ وہ اسے بتانے لگی۔
انشااللہ رشتہ ہو جاۓ گا۔ اور دیکھا بہت اچھی جگہ ہو گا۔ تم فکر مت کرو۔ اور چلو لنچ کرتے ہیں بہت بھوک لگی ہے۔ مجھے پورا یقین ہے تم نے ناشتہ بھی نہیں کیا ہو گا۔ چلو اُٹھو وہ اسکا ہاتھ پکڑ کر کینٹین میں لے آیا۔
“””
وہ چار بجے اسلام آباد پہنچا۔ وہاں اسکا دوست ارسم پہنچا۔ اسکے ساتھ وہ اپنے انٹرویو کے لیے پہنچا۔
پانچ بجے انٹرویو تھا۔ چھے بجے کے قریب اسکی باری آئی۔اپنی طرف دے اسنے بہت اچھا انٹرویو دیا۔ فارغ ہو کر وہ باہر نکلا۔ تو اسکا دوست ارسم باہر موٹرسائیکل پر کھڑا تھا۔
ہاں کیسا ہوا؟ ارسم نے اسے آتے دیکھ کر پوچھا۔
اچھا ہوا ہے انشااللہ نوکری مل جاۓ گئی۔وہ ہلکا سا مسکرا کر بولا۔
اتنا بھی پر امید نا ہو۔ اس ملک میں نوکری ملنا سب سے بری بات ہے۔ ہم جیسے تو رلتے ہی رہتے ہین۔ دو سال ہو گے۔ سالا ایک نوکری نہیں۔ اور گھر میں اماں ابا طعنے مار مار کر ختم کر رہے ہیں۔ اتنے سال تیری پڑھائی پر پیسے لگاۓ اور ابھی تک ایک نوکری نہیں ملی۔ اپنے سے نیچے گڑیڈ والا مینجر لگے ہوۓ ہین اور ہم در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔ کاش ایک شفارش میرے پاس ہوتی آج مین بھی کسی بری سی کمپنی کا میجیجر لگا ہوتا۔ ارسم جو کہ کافی بھرا ہوا تھا۔ پھٹ پڑا۔
زیادہ سینٹی مت ہو۔ مل جاۓ گئی۔ ازلان اسکی فیلنز کو سمجھتے ہوۓ بولا۔۔
دفع کر چل جگر پھر کچھ کھانے چلتے ہیں۔ تجھے اپنے شہر کا بہترین کھانا کھیلاتا ہوں۔ ارسم بائیک کو سٹاٹ کرتے ہوۓ بولا۔ دونوں قریبی چھوٹے سے ریسٹورینٹ میں پہنچے۔ کھانا آڈر کیا۔
انکل آنٹی کیسے ہیں۔ ارسم اسکی طرف متوجہ ہو کر بولا۔۔
سب ٹھیک ہیں۔ باجی کی شادی ہو گیی۔ تجھے کتنا بولا تھا آ جا مگر تم۔۔۔ وہ تھوڑے رُوٹھےہوۓ لہجے میں بولا۔
یار اماں کو ہسپتال لے کر جانا تھا۔ اسی لیے نہیں آ پایا۔ پرائیویٹ ہسپتال اتنے مہینگے ہیں۔ کاش میں امیر ہوتا تو اپنی اماں کا علاج کسی اچھے سے ہسپتال سے کرواتا۔ وہ دکھی ہوتے ہوۓ بولا اسکی آنکھیں نم ہو گئی۔ ۔
اتنا نا امید نا ہو آنٹی ٹھیک ہو جائیں گئی۔ وہ جانتا تھا۔ یہ نا ممکن ہے۔ وہ کینسر کی لاسٹ سٹیج پر تھیں۔۔۔۔پھر بھی وہ اسے حوصلہ ہی دینا چاہتا تھا۔
ایک بات بتا تو اتنا پازیٹو کیسے رہ سکتا ہے۔ تجھے کیا غصہ نہیں آتا تیری حالت بھی میری جیسی ہی ہے۔ کالج یونی میں بھی ہمشہ ایسے پازیٹو ہی رہا۔ مجھے بھی اسکا نسخہ بتا دے۔ ارسم ہلکا سا ہنسا۔ ویٹر نے کھانا لا کر آگے رکھا۔
ہممم غصہ! نہیں غصہ نہیں آتا۔ میری سوچ ان سب معاملات میں تھوڑی سی مختلف ہے۔ مجھے ایسا لگتا ہے۔ جیسے ہر کالی رات کے بعد دن کا خوبصورت اجالا ہوتا ہے۔ ویسے ہی مشکلوں کے بعد آسانیاں آتی ہی ہیں۔ میرے خیال کے مطابق یہی تو وہ وقت ہوتا ہے۔ جس میں اللہ ہمارا صبر تحمل،اور برداشت کے لیول کو دیکھتا ہے۔ کہ میرا یہ بندہ کتنا برداشت کر سکتا ہے۔ مجھے میرے اللہ پر پورا یقین ہے اسنے میرے حق میں کچھ نا کچھ بہتر لکھا ہی ہو گا۔ بس اس منزل تک پہنچنے کے لیے ان مشکلوں کو ہمت سے اور مسکرا کر جھیلنا ہو گا۔ میری کوشش ہوتی ہے میں ہر چیز میں نیگیٹو کی جگہ پوزیٹو ڈھنڈوں۔ وہ مسکرا کر بول رہا تھا۔
کیسے ہر چیز میں پازیٹو؟ ارسم اسکی باتوں کو سن کر بولا۔۔
ہممم کیسے؟ سوچ اگر یہ نوکری بھی نا ملے تو ہمارے مطابق یہ نیگٹو بات ہے۔ پر دوسری طرف ہم سوچیں کیا پتہ اس سے بہتر جگہ ہمارا انتظار کر رہی ہو۔ وہ سوچ کر بولا۔
ہاہ یار مجھے تو تیرے لوجکس کی سمجھ نہیں آتی۔ کچھ اور بات کرتے ہیں۔ بتا کب میری ہونے والی بھابھی کے گھر رشتہ بھیج رہے ہو۔ ارسم نے بات بدلی۔
جب صحیح موقع آۓ گا۔ وہ جوس کا گلاس ہونٹوں سے لگاتے ہوۓ بولا۔اسکے خیال سے ہی اسکے چہرے پر مسکراہٹ چھائی۔ جسے ارسم نے بہت غور سے دیکھا۔
صحیح وقت اور وہ کب آۓ گا۔ میری مان تو رشتہ بھیج دے یہ نا ہو کوئی اور اُڑا لے جاۓ۔ ارسم اگے ہو کر بولا۔
میں نے امی سے بات تو کی ہے وہ مان چکی ہیں۔ پر یار تو میرے چاچو کو جانتا تو ہے۔ انہیں پیسے سے بہت پیار ہے۔ اور میں ایک بے روزگار بندہ ہوں۔ کیسے وہ رشتہ دے دیں گے۔ وہ سانس خارج کرتے ہوۓ بولا۔
یہ تو بنا رشتہ بھیجے کیسے بول سکتا ہے۔ ایک دفع بھیج تو سہی کیا پتہ سب اچھا ہو جاۓ۔
جا کر بات کرتا ہوں۔ وہ بولا۔ وہ جانتا تھا۔ یہ سب اتنا آسان نہیں ورنہ وہ کئی سال قبل ہی رشتہ بھیج دیتا۔ اپنے چاچو کی نظر میں اسنے اپنے گھر والوں کے لیے مقام دیکھا ہوا تھا۔ وہ جانتا تھا۔ یہ بہت مشکل کام ہے۔


آپی آپ بہت پیاری لگ رہی ہیں۔ دیکھنا آج جو رشتے والے آۓ ہیں۔ وہ پہلی نظر میں ہی رشتہ طے کر جائیں گے۔ ماہم اسکے سر پردوپٹہ ڈالتے ہوۓ بولی۔حوریہ پھیکا سا مسکرائی۔
وہ لوگ آ چکے ہیں۔ اور تجھے پتہ ہے۔ لڑکا کافی اچھا لگ رہا ہے۔ امی نے حوریہ کو نیچے لانے کے لیے بولا ہے۔ چلیں حوریہ۔ افرحہ مسکراتے ہوۓ بولی۔ اور حوریہ کو ساتھ لے کر سیڑیوں کی طرف بڑھی۔
افرحہ نے حوریہ کو بشرہ بیگم کے ساتھ صوفے پر بیٹھایا۔
ماشااللہ آپکی ساری بیٹیاں بہت پیاری ہیں۔ سامنے اپنے بیٹے کے ساتھ بیٹھی عورت بولی۔
جی شکریہ۔ آپ چاۓ پیں نا بشرہ بیگم کو کچھ پازیٹو سائن نظر آیا۔ تو وہ دل سے مسکرائیں۔
اور بیٹی کہاں تک پڑھی ہو؟ وہ عورت حوریہ سے مخاطب ہوئی جو کہ سر جھکاۓ انگلیوں کو مڑور رہی تھی۔ ان کے سوال پر ایک دم گڑبرائی۔
جی باریویں تک پڑھا ہے۔ اپنی گھبڑاہٹ پر قابو پاتے ہوۓ وہ ہولے سے بولی۔ لڑکے کے ماتھے پر بل پڑے۔
او۔۔ ویسے ہمارے خاندان میں تو کوئی ڈاکٹر ہے تو کوئی وکیل۔ ماشااللہ میرا بیٹا جانا مانا وکیل ہے۔ وہ گردن اکڑاتے ہوۓ بولی۔ بشرہ بیگم نے امین صاحب کی طرف دیکھا۔
جی وہ بس پڑھائی میں تھوڑی ڈھیلی تھی۔ اسی لیے نہیں پڑھایا۔ بشرہ بیگم شرمندہ ہوتے ہوۓ بولیں۔
ارے بیٹا یہ تم نے چہرے کے ایک طرف ڈوپٹہ کیوں کیا ہوا ہے؟ وہ بہت عور سے دیکھتے ہوۓ بولیں۔ حوریہ ایک دم ڈر گئی۔
ہٹاو اسے وہ دوبارہ بولیں۔ حوریہ نے ڈرتے ہوۓ بشرہ بیگم کی طرف دیکھا۔ جو کہ اپنا سر جھکا چکیں تھیں۔ اس نے دھیرے سے ڈوپٹہ ہٹا دیا۔
غضب خدا کا یہ تمہارے چہرے پر کیا ہے؟ اتنا گہرا داغ؟ وہ اسکا چہرہ دیکھتے ہوۓ فوراً دل پر ہاتھ رکھ کر بولیں۔
بہن جی بس یہ بچپن کا نشان ہے۔ امین صاحب بولے۔
بھائی صاحب بچپن کا نشان ہے ۔ ہم دوسری باتوں پر توجہ دیں۔ وہ بات کو سھنمبالتے ہوۓ بولے۔
ارے بس بہت ہوا۔ ایک تو لڑکی کو پڑھایا نہیں اوپر سے اتنا برا داغ۔ غضب خدا کا شکر ہے پہلے ہی دیکھ لیا میرے ہیرے جیسے بیٹے پر اپنی داغی بیٹی تھوپنا چاہتیں تھیں۔ وہ فوراً صوفے سے کھڑی ہو کر بولیں۔
آنٹی اپ ایسے میری بہن کے متعلق بات نہیں کر سکتیں۔ افرحہ اگے ہو کر بولی۔
ارے بس بہت ہوا۔ یہ داغی ہی رہ گئی۔ میرے بیٹے کے لیے۔ میرا بیٹا چاند سا ہے۔ اسکے لیے تو خوبصورت بیوی ڈھونڈ رہی تھی۔ یہ داغی نہیں۔ دیکھنا بہن اسکا رشتہ کسی کے ساتھ نہیں ہو گا۔ کوئی اچھا خاندان تو کبھی نہیں لے گا۔ ہاں کسی شادی شدہ سے کر دو ورنہ ساری زندگی یہی پڑی رہے گئی۔ وہ عورت بولے جا رہی تھی۔ حوریہ چہرہ جھکاۓ بس آنسوں بہا رہی تھی۔
آنٹی جی آپکو اسکی ٹینشن لینے کی ضروت نہیں۔ یہ بہت اچھے اور اونچے گھرانے میں جاۓ گئی۔ تبھی پیچھے سے اسد کی اواز آئی۔ جو کہ مریم بیگم اور سحر کے ساتھ آیا تھا۔
اسد بھائی یہ کب آۓ ماہم اگے ہو کر ہولے سے بولی۔
ہنہہ وہ تو دیکھ ہی رہا ہے۔ کوئی پاگل ہی یو گا جو اس سے شادی کرے گا۔خیر بہن جی آجاذت دیں۔ وہ عورت بول کر اپنے بیٹے کے ساتھ باہر کی طرف جانے لگی۔
تو وہ پاگل میں ہوں۔ میں حوریہ سے شادی کرنے والا ہوں۔ اسد انہیں جاتے ہوۓ دیکھ کر بولا۔ وہ ایک دم ٹھہر گئیں۔ پھر سر جھٹک کر اپنے بیٹے کے ساتھ باہر نکل گئیں۔ باقی سب نے اسد کی بات سن کر حیرانگی سے اسکی طرف دیکھا۔وہ تینوں صوفے پر ان کر بیٹھے۔
دیکھیں بھائی صاحب میں صاف لفظوں میں آپ سے حوریہ کا ہاتھ مانگتی ہوں۔ اپنے اسد کے لیے۔ مریم بیگم امین صاحب کو دیکھ کر بولیں۔
مریم کیا تمم سچ میں میری حوریہ کو اپنی بہو بنانا چاہتی ہو۔ بشرہ بیگم حیرانگی سے بولیں۔
ہاں بالکل ہماری حوریہ اتنی پیاری ہے۔ اسے تو کوئی بھی اپنی بہو بنا لے۔ تم ان فالتو لوگوں کی طرف توجہ مت دو۔ ان میں عقل نام کی چیز تو ہوتی نہیں۔ ہیرے کو پہچانے ہی طاقت ہر کسی میں نہیں ہوتی۔ مریم بیگم حوریہ کے پاس آکر بیٹھیں۔
انکل میں وعدہ کرتا ہوں۔ حوریہ کو بہت خوش رکھوں گا۔ اسد امین صاحب کی طرف ہو کر بولا۔
تو بھایی صاحب رشتہ پکہ سمجھیں؟ مریم بیگم مسکرا کر بولیں۔ امین صاحب نے سب کی طرف دیکھا۔ اور مسکرا کر ہاں مین سر ہلایا۔ سبھی بہت خوش تھے۔۔
اسد ان کے ہاں کہنے کے بعد صوفے پر ایک دم ریلکس ہو کر بیٹھا۔ اور کچھ سوچ کر مسکرایا۔ اسکی آنکھوں کی چمک ایک دم گہری ہوئی۔
حوریہ کو ابھی تک اپنی سمائتوں پر یقین نہیں ہو رہا تھا۔ کچھ دیر پہلے وہ عورت اسے باتیں سنا کر گئی۔ اور اب اسکا رشتہ بھی طے ہو گیا۔ وہ ابھی تک شاک میں تھی۔
جاری ہے۔