Tamashaye Zaat By Fatima Tariq Readelle50126 Episode 25
Rate this Novel
Episode 25
وہ سب تیار ہو کر حال میں کھڑے تھے ازلان اپنا موبائل جیب میں ڈالتا انکے پاس آیا۔
“بھائی بھابھی کہاں ہیں ؟ تیار نہیں ہوئیں” ؟ حامد کمرے کی اُور دیکھتے ہوۓ بولا۔
“آ رہی ہیں، تم سب ریڈی ہو” ؟ ازلان اپنے آپ کو کچھ حد تک سھنمبال چکا تھا۔سب نے اثبات میں سر ہلایا۔
“امی آپ نہیں چل رہیں میں نے صبح بولا تو تھا آپ اور کرن تیار رہیں” ازلان کیچن سے نکلتیں ماجدہ بیگم کی طرف دیکھتے ہوۓ بولا۔
“تم اپنی بیوی اور سالیوں کے ساتھ جاؤ” ماجدہ بیگم پاس پڑی چارپائی پر بیٹھتے ہوۓ بولیں۔
چلو انکا پھر شروع ہو گیا، افرحہ ایک طرف پڑی کرسی پر بیٹھتے ہوۓ بڑبرائی، وہ کل سے انکی کوئی نا کوئی بات اگنور کر رہی تھی۔ پاس کھڑے حامد نے اسکی بات سن لی۔
” آپ نہیں جانا چاہتیں تو ٹھیک ہے بھائی لیٹ ہو رہے ہیں باہر کیپ والا انتظار کر رہا ہے” حامد کا موڈ ایک دم بگڑا۔ تبھی حوریہ کالی چادر لیتے ہوۓ کمرے سے باہر آئی۔
“ایک منٹ! ازلان کہتا ہوا ماجدہ بیگم کے کمرے کی طرف گیا۔ جہاں بیڈ پر ہمیشہ کی طرح کتابیں پھیلا کر کرن بیٹھی ہوئی تھی۔
” تو کیا اب میری گڑیا بھی نہیں جانا چاہتی؟” ازلان اسکے سامنے بیڈ پر بیٹھتے ہوۓ بولا۔
“میرا دل نہیں کر رہا” وہ پینسل سے رجسٹر پر کچھ لکھتے ہوۓ بولی۔
“کیا اپنے بھائی کی بات نہیں مانو گی چلو باہر نکلو گئی تو موڈ اچھا ہو جاۓ گا” ازلان کھڑا ہوا اور الماری سے اسکی چادر نکالتے ہوۓ بولا۔
“آپ اجنبی بنے رہیں تو اچھا ہے دوبارہ سے میرے بھائی بننے کی ضرورت نہیں ” وہ اپنی آنکھیں صاف کرتے ہوۓ بول رہی تھی۔
“اجنبی! ” وہ کتنی ہی دیر اس لفظ کی گہرائی ک سمجھنے کی کوشش میں رہا۔
“ہاں اجنبی حوریہ سے شادی کر لی خوش ہیں نا ، اب آپکو میری یا امی کی کیا ضرورت ہے، جب سے شادی ہوئی ہے نا آپ مجھ سے بات کرتے ہیں، نا اسلام آباد سے فون کرتے ہیں، نا آپکو ابا کے جانے کا دکھ ہے جس کے ابو کی وجہ سے ابا اس دنیا سے چلے گے اسی سے شادی کر لی۔ آپکو اب حوریہ زیادہ اہم وہ گئی ہے اسی لیے اب میں اور امی آپ سے دور ہی رہیں گے تا کہ آپ اپنی زندگی سکون سے گزاریں ” وہ اپنے ہاتھ میں پکڑے پین کو دور اچھالتے ہوۓ بولی۔ اسکی آواز باہر تک آ رہی تھی پورے گھر میں خاموشی کا ماحول چھا گیا۔ ازلان حیرانگی سے اسکے کہے گے الفاظوں کو سن رہا تھا۔ وہ کتنی بری غلط فہمی کا شکار تھی۔ اور یہی غلط فہمی اسکے اندر انچاہی نفرت کو جنم دے رہی تھی جسکا ذمے دار کہی نا کہی ازلان اب خود کو سمجھنےگا تھا۔ وہ ہاتھ میں اسکی کالی چادر لیے قدم قدم چلتا اسکے قریب آیا۔ جو اب بیڈ سے نیچے اتر چکی تھی۔
“کرن! تم ایسے کیسے سوچ سکتی ہو، میں تمہارا وہی بھائی ہوں، جس سے تم اپنی ہر فرمائیش پوری کرواتی تھی، جس نے تمہارے ہر لاڈ اُٹھاۓ، تم غلط سوچ رہی ہو مجھے تمہاری اور امی کی بہت پرواہ ہے حوریہ اگر میری بیوی ہے تو تم میری بہن ہو، کچھ حد تک میری غطی ہے میں اسلام آباد سے تمہیں فون نہیں کرتا تھا کیونکہ میں بہت مصروف تھا” پر میری گڑیا اپنے بھائی سے اتنی بدگمان مت ہو، ازلان اسکا چہرا اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوۓ بول رہا تھا۔ وہ روۓ جا رہی تھی۔ ازلان جانتا تھا وہ کتنی بری اٹینشن سیکر ہے وہ ہمیشہ سے اس سے بہت اٹیچ رہی تھی یوں اچانک اسکا اٹینشن بٹتے ہوۓ دیکھ کر وہ ایسے ری ایکٹ کر رہی تھی۔ اسے بس گائیڈنس اور توجہ کی ضرورت تھی۔ اپنی غلطی اب ازلان کو سمجھ آئی ۔
( کچھ بچے ایسے ہوتے ہیں جب انہیں بھرپور توجہ نا دی جاۓ تو وہ اپنا غصہ غلط کاموں میں پڑ کر ظاہر کرتے ہیں۔ کرن بھی انہی میں سے ایک تھی۔ وہ اپنے غصے کو اب غلط طریوں سے ظاہر کر رہی تھی جو کہ بعد میں جا کر کافی خطرناک ہو سکتا ہے)
“ایم سوری” ازلان اسکے جھکے سر کی طرف دیکھ کر بولا۔
“ائی ہیٹ یو بھائی، آپ بہت برے ہو، وہ روتے ہویۓ بولی ازلان نے اسے اپنے حصار میں لیا۔
” تو کیا اب ناراضگی ختم گڑیا”
“اگر آئندہ آپ نے یہ سب دوبارہ کیا تو میں کبھی بات نہیں کروں گی وہ وارنگ دیتے ہوۓ بولی۔
” چلیں پھر گھومنے” ازلان نے چادر اسے اُڑاتے ہوۓ کہا۔
“پہلے وعدہ کریں مجھے ایک ڈریس دلائیں گے میرا فنگشن آ رہا ہے” وہ بیڈ پر پڑے لیپ ٹاپ کو بند کرتے ہوۓ بولی ازلان اسکے پہلے جیسے بات کرنے پر ہلکا سا مسکرایا۔ وہ دونوں باہر آ گے۔
“روٹھی ہوئی ملکہ جی مان گئیں” ؟ حامد بائیک کی چابی کو انگلی پر گھوماتے ہوۓ بولا۔
“میری گڑیا ہے اپنے بھائی سے ناراض ہونے کا پورا حق ہے” ازلان نے کرن کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوۓ پیار سے کہا۔ حوریہ کو اسکا یہ روپ بہت پیارا لگا۔
“امی کیا ابھی بھی آپ نہیں جائیں گئی” ازلان اب ماجدہ بیگم کی طرف متوجہ ہوا جنکی آنکھیں بھیگی ہوئیں تھیں۔
“مجھے دوسرے محلے میں جانا ہے وہاں ایک فوتگی ہو گئی ہے تم سب چلے جاؤ زیادہ الٹا پُلٹا مت کھانا اور جلدی واپس آ جانا ماجدہ بیگم بولیں تو اب نا تو انکے لہجے میں طنز تھا اور نا ہی سرد پن، وہ بہت عام سے لہجے میں بولیں۔ سب مسکراتے ہوۓ گھر سے نکلے۔ ۔۔۔۔۔
وہ سب پہلے میوزیم گے، پھر سینما میں مووی دیکھی شام چاربجے کے قریب وہ پارک میں پہنچے جھولے وغیرہ لے کر سب فارغ ہوۓ تو ایک جگہ گھاس پر بیٹھ گے آس پاس کافی فیملیزی بیٹھی ہوئیں تھیں۔
” افرحہ میرے ساتھ چلو مجھے کچھ بات کرنی ہے اور کچھ کھانے کے لیے لے کر آتے ہیں”ازلان اپنی جگہ سے کھڑا ہو کر بولا۔ حوریہ کب کی نوٹ کر رہی تھی وہ اسے اگنور کر رہا تھا۔ اپنی صبح والی حرکت پر بار بار اسے شرمندگی ہو رہی تھی۔ اسے اب احساس ہو رہا تھا وہ ان دنوں میں دو بار ازلان کے سامنے اسد کا نام لے چکی تھی۔ وہ کیا سوچتا ہو گا یہی سب اسکے دماغ میں گھوم رہا تھا۔
“ازلان بھائی کیا بات کرنی تھی آپ نے پہلے ملنے کا بھی کہا تھا” افرحہ اب پریشان ہو گئی۔ وہ دونوں اس وقت برگرز کا آڈر دے کر ایک طرف کھڑے تھے۔
“کیا تم مجھے اس ایک مہینے کی باتیں بتا سکتی ہو اسد کا حوریہ کے ساتھ کیسا رویہ تھا؟، اور طلاق کے بعد حوریہ نے کیسے سب سہا؟ اور گھر میں سب کا کیسا رویہ تھا؟
” جب شادی ہو رہی تھی تب حوریہ بہت خوش تھی۔ اسد نے کبھی انہیں گھر آنے نہیں دیا جس دن سب کے سامنے طلاق دی اسی دن وہ گھر آۓ تھے۔ حوریہ نے زیادہ تو نہیں بتایا بس اتنا کہا کہ وہ اسے مارتا تھا بلاوجہ مارتا تھا اسنے بس گھر بچانے کے لیے سب سہا۔ طلاق کے بعد وہ زیادہ تر اپنے کمرے میں بند رہتی تھی کبھی کسی سے کچھ کہا ہی نہیں جو کچھ اس ایک مہینے میں ہوا وہ سب اسکے اندر ہی دفن ہے جسے وہ خود بھی گریدنا نہیں چاہتی ” افرحہ کو جتنا معلوم تھا اسنے سب بتا دیا۔
“مارتا تھا” ازلان نے سامنے اس دن والا واقع آیا جب حوریہ نے اتنا عجیب برتاؤ کیا تھا۔
“شکریہ اتنا بتانے کے لیے ” وہ زبردستی مسکراتے ہوۓ بولا۔ برگرز تیار ہو چکے تھے دو شاپرز پکڑے وہ واپس ان سب کی طرف آ گے۔
ازلان کے دماغ میں سب چل رہا تھا۔ وہ بے دھیانی میں برگر کھا رہا تھا۔
“او ہیلو بھائی کیا ہوا زیادہ بھوک لگ گئی ہے یہ تیسرا برگر ہے” حامد اسے تیسرا برگر اُٹھاتے دیکھ کر بولا۔
“تیسرا” وہ صدمے سے بولا اور برگر واپس رکھ دیا۔
“کیا ہوا؟” حوریہ جو اسکے قریب ہی بیٹھی ہوئی تھی آہستہ آواز میں بولی۔
“کچھ نہیں ” اسنے نفی میں سر ہلایا۔
“اور کھانا ہے یہ لو” حامد پاس بیٹھی افرحہ کو دیکھتے ہوۓ بولا جو برگر کے ختم ہو جانے پر منہ بنا رہی تھی۔ وہ جانتا تھا ایک سے اسکا کچھ نہیں بنتا تھا۔
“حامد صاحب اگر کل کو میں مر بھی رہی ہوں تب بھی آپکے ہاتھ سے کچھ لے کر نہیں کھاؤں گئی۔ وہ تلخ لہجے میں بولی۔ آج پہلی بار حامد کو اسکا لہجہ جھبا تھا۔
سب نو بجے تک واپس آ گے۔ سب اتنا تھکے ہوۓ تھے کہ جاتے ہی سو گے۔ ازلان کو نیند نہیں آ رہی تھی وہ صحن میں آ گیا وہاں ایک طرف کرسیاں لگی ہوئیں تھیں۔ وہ وہی ایک کرسی کو گھسیٹ کر وہاں بیٹھ گیا۔ دماغ حوریہ کے گرد گھوم رہا تھا۔ وہ اتنا تو سمجھ چکا تھا وہ ٹھیک نہیں ہے اس لیے اسمے کل اپنے کالج فرینڈ جو کہ اب ایک مشہور سائیکی ٹرسٹ تھا اس سے ملنے کا پروگرام طے کر لیا تھ۔ وہ جانتا تھا اگر حوریہ کو ساتھ چلنے کا کہا تو وہ بھرک جاۓ گئی اس لیے وہ خود اکیلے جانا چاہتا تھا۔ انہی سوچوں میں گم وہ کب سے وہاں بیٹھا ہوا تھا۔ جب سامنے ٹیبل پر ایک کپ رکھا گیا اسنے نظریں اُٹھا کر دیکھا تو سامنے حوریہ اپنے یاتھ میں ایک کپ لیے کھڑی تھی۔
“میں نے دیکھا آپ یہاں بیٹھے ہیں تو چاۓ بنا کر کے آئی” وہ پاس پڑی کرسی پر بیٹھتے ہوۓ بولی۔
“شکریہ” ازلان نے چاۓ کا کپ پکڑتے ہوۓ کہا۔
“آپ کرن کی باتوں کے بارے میں سوچ رہے ہیں؟” وہ چاۓ جا گھونٹ بھر کر بولی۔
“مجھے تو خبر ہی نہیں تھی میری بہن اتنی بری غلط فہمی کا شکار ہو رہی ہے اسکی باتیں سن کر کچھ پل کے لیے مجھے لگا وہ میری گڑیا نہیں ہے”
“یہ تو اچھا ہوا نا اسنے اپنے دل کی بات بتا دی اس سے آپ اب ان باتوں پر توجہ دے سکتے ہیں”
“حوریہ آپ اس سے دوستی کرنے کی کوشش کرو تھوڑی سی کوشش کے بعد دیکھنا وہ آپ سے کھل کر باتیں کرنے لگ جاۓ گئی۔ ازلان کرن کو لے کر کافی پریشان تھا۔
” ہمم مین کروں گی”وہ اثبات میں سر ہلا کر بولی۔
“مجھے لگتا ہے جو پل تقلیف دیتے یوں یا جن کو آپ بھول نا سکو انہیں کسی کے ساتھ باٹنا چاہیے اپنی فیلنگز کو ایکسپریس کرنا چاہیے ازلان بولتے بولتے کبھی کبھی اسے دیکھتا جس کے چہرے کے اتار چڑھاؤ بتا رہے تھے کہ وہ اسکی بات کو سمجھ گئی۔
” ماہم اور افرحہ کل صبح واپس جا رہی ہیں ” اسنے بات کو گھوما دیا۔
“صبح میں نے اُور وی ایکٹ کر دیا تھا اسکے لیے ایم سوری” وہ اپنے ہاتھوں کو مڑورتے ہوۓ بولی۔ ازلان اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
“کیا آپکو سچ میں لگتا ہے میں جھوٹ بول رہا تھا” ؟ ازلان نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھتے ہوۓ کہا۔
” شائد آپکو میری بات بری لگے پر سچ میں مجھے اب ان چیزوں پر یقین ہی نہیں ہوتا میں نے کئی دفع خود کو یقین دلانے کی کوشش کی پر ایسا لگتا ہے اگر یقین کر لیا تو ۔۔”۔ وہ بولتے بولتے ایک دم چپ ہو گئی
“تو کیا؟” وہ جو اسے ہم تن سن رہا تھا اسکے یوں چپ ہو جانے پر ایک دم بولا۔
“ڈر لگتا ہے اگر یقین کر لیا تو کہی ایک بار پھر میرا یقین ٹوٹ نا جاۓ، اور اگر اس دفع یقین ٹوٹا تو میں مکمل طور پر ٹوٹ کر بکھر جاؤں گی۔ تب شائد میں خود کو بھی سمیٹ نا پاؤں گی۔ وہ سر جھکاۓ بول رہی تھی۔ اور بنا اسکا جواب سنے وہ کھڑی ہوئی اور اند رکی طرف بڑھی ازلان نے بھی اسے رُکنے کی کوشش نہیں کی۔
جاری ہے۔
